نولکھی کوٹھی تعمیر میں مضمر خرابیاں

مضمون نگار : محمد عباس

, نولکھی کوٹھی تعمیر میں مضمر خرابیاں

اردو میں ناول کی صنف کو بہت آسان سمجھ لیا گیا ہے۔ مدرسین اپنے موٹے شیشوں کی عینک کے عقب سے اپنے کوڑھ مغز طلباء و طالبات پر نظرِ شفقت فرماتے ہوئے کرم خوردہ نوٹسز سے یوں سنہری الفاظ لکھواتے ہیں :’’پیارے بچو! ناول افسانوی ادب کی بہت معروف صنف ہے جس میں زندگی کے حقیقی واقعات کا عکس پیش کیا جاتا ہے۔ یہ اپنی اصل میں افسانے سے ہی مماثل ہے۔ دونوں میں صرف طوالت کا فرق ہے۔ افسانہ کی طوالت 3سے دس صفحات ہو سکتی ہے اور ناول 200صفحات سے بھی زیادہ پر محیط ہوتا ہے۔ افسانے میں جن جزئیات سے صرفِ نظر کیا ہے ، ناول میں انہیں پوری تفصیل سے بتایا جاتا ہے۔افسانے میں زندگی کے ایک پہلو کا اور ناول میں پوری زندگی کا عکس نظر آتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ افسانہ زندگی کی ایک قاش ہوتا ہے اور ناول پوری زندگی ہوتا ہے۔‘‘


گزشتہ ستر سال سے یہ تعریف اس قدر راسخ ہو چکی ہے کہ اب ہمارا ناول نگار بھی اس پر ایمان لے آیا ہے۔ ناول نگار یہی سمجھتا ہے کہ افسانے کی کہانی کو دس گنا زیادہ طوالت دے دی جائے تو وہ ناول بن جاتا ہے۔ ہرضروری اور غیر ضروری چیز کی جزئیات لکھ دی، موقع بے موقع ہر جگہ کا منظر تفصیل سے درج کرتے گئے، سبھی کرداروں کی ہڈ بیتی پر صفحات کالے کرتے گئے، جا بے جا مکالموں کی صفیں کھڑی کر دیں تو ایک عدد معرکۃ الآراء ناول معرضِ وجود میں آ جائے گا۔


ناول کیا ہے، ناول کی حقیقت کیا ہے، یہ کیا جانیں ، بے چارے دو رکعت کے امام۔وہ جو ناول نے اپنے ذمے انسانی زندگی کی سب سے بڑی ذمہ داری لی تھی،انسانی شخصیت کے ان پہلوئوں کی دریافت جہاں دنیا کا کوئی مذہب ، کوئی علم نہیں پہنچ سکتا، انسانی شخصیت کی ان گتھیوں کو سلجھانا جو خود انسان کی اپنی سمجھ میں بھی نہیں آتیں ،نازک جذبات اور خفیف احساسات کی انوکھی تصاویر کو فن کے ذریعے قرطاس پر ابھارنا، یہ سبھی فرائض اردو کے ناول نگار کے حصے میں آئے ہی نہیں ۔ بیشتر ناول نگار تو محض کہانی کی طوالت (خواہ جتنی بھی عامیانہ اور گھسی ہوئی ہو) اور جزئیات نگاری (خواہ کتنی غیر ضروری ہو)کو ناول کی بنیادسمجھے بیٹھے ہیں ۔ ان کا ملجا و ماویٰ ان دو پہلوئوں سے آگے جاتا ہی نہیں ۔ناول کی اصل روح انسانی زندگی کے درونی معاملات کی باز یافت ہے، انسانی نفسیات کے ان چھوئے گوشوں تک رسائی ہے، اس طرف ناول نگار کی توجہ ہی نہیں ۔پھر اس محنت اور ریاضت کابھی یارا نہیں ، جو ناول کی صنف کے ساتھ مخصوص ہے۔ناول کو لشٹم پشٹم ایک قابل قبول طوالت دی، کتابت کروائی اور میدان میں پھینک دیا۔چاہے کتابت کی ہی غلطیوں کی بھرمار ہو۔وہ جو ناول پر برسوں تک عرق ریزی کی جاتی ہے، وہ ناپید ہے۔ بار بار نظرِ ثانی سے ناول کو حشو و زوائد سے پاک کیا جانا چاہیے، یہ کوئی سوچتا ہی نہیں ۔پلاٹ کیا ہوتا ہے، اس کی خوبصورت تعمیر ناول پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے، کسی کو اس کا اندازہ ہی نہیں ۔ کہا نی میں نیا پن ہی اصل چیز ہوتی ہے، کسی کو اس کا احساس ہی نہیں ۔ کرداروں کواس مہارت سے پیش کیا جانا چاہیے کہ وہ حقیقت سے زیادہ حقیقی محسوس ہوں ، ان کے دکھ سکھ قاری کو اپنے محسوس ہوں اور ان کی اندرونی کیفیات کا علم خود ان سے بھی زیادہ قاری کو ہو،یہ خبر ہی نہیں ۔ مکالمے لکھتے وقت کرداروں کے خاندانی پس منظر ، ذاتی طبیعت ، ذہنی رجحان اور علمی حوالہ مدِ نظر رکھنا ہوتا ہے، اس کا علم ہی نہیں ۔حتیٰ کہ ہمارا ناول نگار بیانیے کی بنیادی بُنت سے بھی نابلد ہوتاہے۔ پڑھتے وقت یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ کہانی کی زبان ہے یا مضمون کی زبان ہے۔پیراگراف کا پیراگراف اخباری کالم کی طرح گھسیٹ دیا جاتا ہے۔ ناول میں ماحول اورفضا اس طرح پینٹ کرنے ہوتے ہیں کہ ناول کی دنیاصفحات سے ٹھوس شکل میں ابھر کر مجسم نظر آنے لگتی ہے لیکن افسوس یہ اردو کے ناول، آنکھوں میں جن کی نور ، نہ باتوں میں تازگی۔ تِس پر بھی دعویٰ ہوتا ہے، ناول کی تاریخ کا دھارا موڑنے کا۔


تحریر میں عبقریت کا مجھے احساس ہے لیکن حال ہی میں اردو کے دو عدد معرکۃ الآراء ناولوں نے جس قدر بیزار کیا ہے، اس سے مزاج کی تلخی برداشت سے باہر ہو ئی جاتی ہے۔ یہ خیال دل و دماغ کی رگیں نچوڑتا دکھائی دیتا ہے کہ جس زبان میں ڈیڑھ سوسال سے ناول لکھا جا رہا ہو،’’امرائو جان ادا‘‘،’’گئو دان‘‘، ’’آگ کا دریا‘‘، ’’اداس نسلیں ‘‘، ’’بستی‘‘، ’’بہائو‘‘، ’’غلام باغ‘‘ اور ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ جیسے ناول ظہور پذیرہو چکے ہوں ، وہاں رحمٰن عباس کے ’’روحزن‘‘ اور علی اکبر ناطق کے ’’نولکھی کوٹھی‘‘ جیسے ناولوں کی اس قدر توصیف کی کیا وجہ ہے۔ بونے بونے نقاد اٹھتے ہیں اور کچرا قسم کے ناول کو صدی کا بہترین ناول قرار دے دیتے ہیں اور حیرت ہے کہ بولنے اور سننے والوں کو شرم تک نہیں آتی۔ اس پر ناول نگار بھی ایسے خود پسند ہیں کہ ناول پر محنت کرنے کی بجائے جیسے تیسے ناول چھپوا کر ناقدین کے آستانوں پر جبہ سائی کو چل نکلتے ہیں اور ہزار جبیں فرسائی کے بعد تعریف و توصیف کے چند چمکتے سکے کاسۂ گدائی میں پا کر خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ عبداللہ حسین اور پریم چند جیسی لگن اور فنکاری تو ایک طرف، ان جیسا درویشانہ مزاج بھی انہیں نصیب نہ ہوا۔ ایک وہ لوگ تھے کہ اپنے عہد کا شاہکار صفحۂ ہستی کی زینت بنا کر خود ایک سچے درویش کی مانند سماج کی آخری صف میں دبکے رہے اور اِدھر یہ ہیں کہ ایک کچا سا ناول دے کر کڑک مرغی کی طرح کڑکڑاتے پھرتے ہیں ۔ وہ لوگ تھے کہ ناول لکھ گئے اور کسی نقاد کی تعریف کے محتاج نہ ہوئے ، آج بھی ’’گئو دان‘‘ اور ’’اداس نسلیں ‘‘ پر گنتی کے چند مضامین ملتے ہیں ۔ لیکن یہ دو ناول ہیں کہ ادھر چھپے ہیں ، ادھر دھڑا دھڑ تبصرے، جائزے اور نعرے لگ رہے ہیں ۔اتنے ناقدین کو اس قدر بولتے دیکھ کر سوچتا ہوں کہ کیا کوئی ایسا نقاد نہیں ہے جو سچی بات بھی کر ڈالے۔ کیا سب نے مکھن لگانے اور مصنف کی بھٹئی کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔


ناول کے اچھے قاری کا اصول ہوتا ہے کہ جو ناول آغاز میں ہی بور کرنا شروع کر دے، اسے اٹھا کر ایسی جگہ پھینک دیتا ہے جہاں سے خود اسے بھی اپنی خبر نہ ملے۔ ’’نولکھی کوٹھی‘‘ پڑھتے ہوئے مجھ پر بھی یہی واجب تھا لیکن ایک تو میں خود کو ناول کا اچھا قاری نہیں سمجھتا اور دوسرے طبیعت میں شوقِ فضول کا عنصر بھی حد درجہ پایا ہے، سو اس بوریت کا بھی مزا لیتا رہا اور پڑھتا گیا۔ہر ہر صفحے اور جملے پر یہی خیال آتا تھا کہ جن ناقدین نے اس کی تعریف کی ہے، ضرور ان کا مطالعہ اسی ایک ناول پر محدود رہا ہو گا ورنہ غلطیوں اور کوتاہیوں کے پھٹتے جوبن سے صرف نظر کرنے والا نقاد ان کی تعریف کر کے محض اپنی رائے کا اعتبار گنوانے کے سوا کچھ نہیں پاتا۔معلوم نہیں ہمارے فنکار اور ناقدین کیوں یہ بات نہیں سمجھتے کہ وہ ناول جس پر فن کار نے خونِ جگر صرف نہیں کیا، اس کے رخسار پر نقاد کے مصنوعی غازے سے سرخی نہیں آ سکتی۔ جس ناول کی ماں کے پیٹ میں ہی موت واقع ہو جائے ، اس کے بدن میں نقاد اپنی مسیحائی نہیں پھونک سکتا۔


کہا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں ادب کوئی نہیں پڑھتا۔ یہ غلط ہے، بہت پڑھا جاتا ہے لیکن سب باذوق لوگ غیر ملکی ادب پڑھتے ہیں ۔ اپنا ادب کم پڑھتے ہیں ۔ اس میں قصور قاری کا نہیں ، ادیبوں اور چورن فروش قسم کے نقادوں کا ہے۔ قاری دنیا بھر کے ناول کسی ثقہ بند نقاد کی رائے کے استناد کے بغیر ہی پڑھ ڈالتا ہے کیوں کہ وہ خوداپنے اندر دلچسپی کے تمام عنصر رکھتے ہیں جو پڑھتے چلے جانے پر مجبور کرتے ہیں ۔ لیکن اردو کے افسانوی ادب کو فنکاروں کی سہل پسندی اور نقادوں کی چرب زبانی نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔لکھنے والوں نے جو الم بلم لکھ دیا، نقاد اپنی علمیت کا اظہار فرمانے کے لیے اس کی تعریفوں کے انبار لگا دیے جاتے ہیں ۔اگر ناول کے اندر کوئی معنی خیز بات نہیں تو بھی ہمارے نقاداس قدر درباری ذہنیت رکھتے ہیں کہ ناول کے باہر سے تاریخ، سماجیات، فلسفہ، مابعد جدیدیت وغیرہ کے لیکچر جھاڑ کر ناول کو ایک شاہکار ثابت کر دیتے ہیں ۔ جو معنی لکھنے والے نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچے، وہ بھی فن پارے میں سے کشید کر کے دفتر کے دفتر بنادیے جاتے ہیں ۔اسی بددیانتی کا یہ انجام ہے کہ ناول کا قاری ان ناقدین کے اس قدر شور شرابے کے باوجود اردو کے ناول پر اب کوئی توجہ نہیں کرتا۔
آمدم برسرِ مطلب، علی اکبر ناطق ایک ابھرتے ہوئے فنکار ہیں ۔ اردو کے افسانوی ادب میں ان کا نام خاصا معروف ہو چکا ہے۔ وہ خودبھی اپنے آپ کو اردو کا سرِ فہرست افسانہ نگار ، ناول نگار سمجھتے ہیں ۔ ان کے اس دعوے پرکسی کو کوئی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، آدمی کی اپنی مرضی ہے ، خود کو جو جی چاہے، سمجھے لیکن اس غرورکا نقصان انہیں خود یہ ہوا کہ انہوں نے لکھنے پر محنت کرنا چھوڑ دیا۔ناول لکھنے بیٹھے تویہ سمجھ لیا کہ افسانے لکھنے کی مشق اور افسانے کی تکنیک کی بنیاد پر ہی ناول کے ساتھ نبھ جائے گی۔اس تن آسانی سے ان کا ناول کہانی کے حساب سے سپاٹ اور پلاٹ کے حوالے سے یک رُخا بن گیا۔نتیجتاً ’’ نولکھی کوٹھی‘‘ کسی بھی باذوق قاری کو بیزار کرنے کی بے انتہا صلاحیت رکھتا ہے۔اگر وہ لکھتے وقت ناول کی بابت تھوڑا سا بھی سوچ لیتے تو شاید ناول موجودہ حالت سے بہتر ہوتا اور اگر تھوڑا زیادہ سوچ لیتے تو شاید یہ ناول لکھنے سے باز ہی رہتے۔


ناول نگار کو ناول کے متعلق بعض ایسی بنیادی باتوں کا بھی شعور نہیں ہے جن کے بغیر ناول کی تعمیر میں ہی خرابی مضمر رہتی ہے۔ سب سے پہلے کہانی کو دیکھ لیں ۔ کہانی ہی ناول کا بنیادی عنصر ہے۔ دنیا کے ہر اچھے ناول کی پہلی خوبی اس کی کہانی ہوتی ہے ، اگر اس کے پاس نئی اور متاثر کن کہانی ہے تو ناول نہ صرف قبولیت کی سند پاتا ہے بلکہ دنیا کے ہر گوشے میں قدردانی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ دنیا کے تقریباً سبھی ناول ترجمے کی وجہ سے دوسرے ممالک میں پہنچتے ہیں ۔اس سفر میں زبان کا عنصر تو بالکل ہی ختم ہو جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ عصری صورتحال، سیاسی مسائل اور سماجی حالات(یہ سبھی عناصر اردو کے نقاد کو ناول کی تعریف کرتے وقت بہت مرغوب ہیں ) وغیرہ بھی ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں ۔دیارِ غیرمیں اپنی حیثیت اور فنکاری منوانے کے لیے غریب الوطن ناول کے پاس صرف کہانی کا سہارا ہی بچتا ہے۔ یہ کہانی اگر مضبوط ہو تو ناول کا حلقۂ قرأت سرحدیں پھلانگتا چلا جاتا ہے اور اگر کہانی مضبوط نہ ہو تو پھر اسے دوسری زبان میں ترجمہ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا ۔’’فردوسِ بریں ‘‘، ’’فسانۂ آزاد‘‘، ’’امرائو جان ادا‘‘،’’گئو دان‘‘، ’’ٹیڑھی لکیر‘‘‘، ’’اک چادر میلی سی‘‘، ’’بستی‘‘، ’’بہائو‘‘اور’’غلام باغ‘‘سبھی اپنی کہانی کی وجہ سے اردو میں زندہ و جاوید ہیں ۔ سبھی کہانی کی وجہ سے ہمیں پسند ہیں نہ کہ دوسرے کسی ثانوی عنصر کی بنیاد پر۔ کہانی کا یہی بنیادی عنصر علی اکبر ناطق کے ہاں انتہائی بچگانہ اور لا پروا انداز میں سامنے آتا ہے۔ بنیادی کہانی ولیم کی ہے۔تمام واقعات کو بظاہر اسی کے گرد بُننے کی کوشش کی گئی ہے اور اختتام تک یہی کردار ناول پر حاوی ہے۔ اس کردار کی مرکزی حیثیت کے باوجود سب سے زیادہ اسی کردار کو نظر انداز کیا گیا۔ ولیم کا کردار ہمیں ناول میں جہاں نظر آیا، وہ اول تو اس کی جلال آباد میں انتظامی مصروفیات ہیں جن کا دائرۂ کار 1935ء تک ہی محدود ہے ۔ اس پہلے سال کی روداد ناول کے تین چوتھائی تک حاوی رہتی ہے اور اس کے بعد 1935ء سے لے کر 1981ء تک کا دور وصل کے مہینوں کی طرح اڑتا چلا جاتا ہے۔ تین سال، چار سال، پندرہ سال وغیرہ گزرنے کا ذکر جس طرح آتا ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ ناول نگار کے پاس کہانی کے واقعات گھڑنے کے لیے نادرہ کار تخیل موجود نہیں ہے اوروہ کسی خاص انجام تک پہنچنے کے لیے بے چینی سے بیانیے میں جست بھرتے جا رہے ہیں ۔ ولیم کے علاوہ دو اور ٹریک ہیں ، جن میں غلام حیدر اور مولوی کرامت کے کردار ہیں ۔ غلام حیدر کی کہانی تو کسی بھی گھٹیا پنجابی فلم کی کہانی سے اوپر کی چیز نہیں ہے۔ ولن ہیرو سے پنگا لیتا ہے۔ ہیرو برداشت کرنے کی آخری حد تک پہنچ کر ایک دن پھٹ جاتا ہے اور ولن سے انتقا م لے لیتا ہے ۔ اس حصے کے اکثر مکالمے بھی گجر ٹائپ فلموں کا انداز لیے ہوئے ہیں ۔ غلام حیدر کی کہانی اس ناول میں اضافی نظر آتی ہے اور محض ولیم کی کہانی کو سنسنی دینے کے لیے شامل کی گئی ہے۔ تعلق صرف اس طرح جوڑا گیا کہ ولیم جہاں پہلی دفعہ پوسٹ ہوا، وہاں غلام حیدر رہتا تھا۔ اس بنیاد پر اس کہانی کو اتنی اہمیت دی گئی کہ بظاہر یہی حصہ حاوی نظر آتا ہے اور ولیم اس کے نیچے دب جاتا ہے۔ پھریہ سنسنی بھی اتنی سطحی ہے کہ لطف کی بجائے ناول نگار کی کہانی کہنے کی صلاحیت پر شک ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ تیسرا کردار مولوی کرامت ہے۔ یہ بھی ناول میں اضافی ہے۔ پورے ناول میں اس کا مرکزی کردار کے ساتھ تعلق کا جواز نہیں بن پایا ۔ محض کھینچ کھینچ کر مولوی کرامت اور فضل دین کو ایک ایک بار ولیم کے سامنے لایا گیا۔ اس کے علاوہ دونوں باپ بیٹا ناول میں ایک آزاد حیثیت سے موجود ہیں ۔اس قدر غیر ضروری کہ کرامت جب مرتا ہے تو بیانیے کو خبر ہوئے بغیر آرام سے مر جاتا ہے ۔ فضل دین کی موت بھی ایسے ہی دو جملوں میں بھگتا دی جاتی ہے۔ آخرپر جا کر مولوی کرامت کا پوتا جب ولیم کو نو لکھی کوٹھی سے بے دخل کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ تین نسلوں سے جاری مولوی کرامت کی کہانی کا مقصد صرف یہ سنسنی خیزڈرامائی انجام تھا۔ ناطق صاحب نے پہلے یہ انجام سوچا، کہ ولیم جسے اختیار دے گا، وہی ولیم کے ساتھ احسان فراموشی کرے گا اور پھر اس انجام تک پہنچنے کے لیے مولوی کرامت کی کہانی شامل کرتے گئے اور یہ بھی نہ دھیان کیا کہ کہانی کے اندر اتنا بڑا حصہ یوں بلاجواز کیسے ٹھہر سکتا ہے۔


ناول سب اصناف سے زیادہ متوازن صنف ہے۔کسی ایک پیچیدہ خیال کو ابھارنے کے لیے کہانی کا تانا بانا بنا جاتا ہے جس کے تمام حصے، اجزا اور عناصر متوازن ہوتے ہیں ۔ متوازن سے مراد یہ نہیں کہ سب چیزیں برابر ہوتی ہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ہر حصے کو اس کی اہمیت کے حساب سے جگہ دی جائے۔ یہ نہیں کہ جو بھی چیز سامنے آئی، اس کی تفصیل بتانی شروع کرد ی۔ کھیت میں گئے تو ایک ایک ڈھیم کی تفصیل دینے لگے۔ باغ میں گئے تو سبھی درختوں کا تعارف شروع کر دیا گیا۔ ناول میں کوئی بھی چیز غیر ضروری نہیں ہوتی اور جو بھی جزئیات بتائی جاتی ہیں ان کا کوئی مقصد بھی ہوتا ہے۔ ناطق صاحب کے ناول میں اصل کہانی ولیم کی ہے اور ولیم ان کے سایۂ عاطفت سے بہت حد تک محروم رہا۔غلام حیدر ، سودھا اور کرامت ذیلی کردار ہیں ، انہیں نسبتاً بہت زیادہ وقت دیا گیا لیکن انہوں نے مرکزی کردار کے خدو خال ابھارنے میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی یہ مرکزی کہانی کے لیے ناگزیر کردار ہیں ۔ ان کی جگہ ہزار دوسری قسم کے کردار بھی رکھ دیے جائیں تو کہانی ایسے ہی رہے گی۔ان کو دیا گیا وقت ضائع ہوا اور ناول کے توازن کو پوری طرح توڑ گیا۔
ناول بیانیے کا دوسرا نام ہے اور بیانیہ ترتیب پر کھڑا ہوتا ہے۔ ایک واقعے کے بعد دوسرا واقعہ اور ہر نیا واقعہ پچھلے واقعات کے ساتھ منطقی طور پر مربوط ہو کر آتا ہے۔ایک چیز کے متعلق جو تفصیل بتا دی گئی ہو، اس سے رو گردانی نہیں کی جا سکتی۔ اچھے ناول نگار کبھی بھی اس ترتیب کو خراب نہیں ہونے دیتے۔ علی اکبر ناطق صاحب ناول لکھنے تو بیٹھ گئے لیکن ناول کے اس اہم ترین عنصر کا انہیں شعور ہی نہیں ہے۔انہیں یہ یاد نہیں رہتا کہ پہلے کیا بتا کے آئے ہیں اور آگے چل کر اسی سے مختلف اور بعض اوقات متضاد بیان دے جاتے ہیں ۔ ناول میں بہت سی جگہوں پر ترتیب کی یہ خرابی تعمیر میں خرابی کی صورت ظاہر ہوتی ہے:


۱۔ص:18۔ پیراگراف کے شروع میں بتایا گیا کہ غلام حیدر کو لینے کے لیے رفیق پاولی موجود تھا اور چراغ تیلی اور جانی چھینبا بھی پاس کھڑے تھے۔یعنی کُل تین لوگ۔ سات سطر کے بعد غلام حیدر کے ارد گرد بیس لوگ گھیرا ڈال لیتے ہیں ۔بگھی بھی پہلے ایک تھی، اب تین ہو گئیں ۔ ان بیس لوگوں اور تین بگھیوں کا پہلے کوئی ذکر نہیں آیا۔ شاید ع ٹپکے ہیں یہ آسماں سے


۲۔ ص:52۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ چراغ دین کے قتل کے بعد غلام حیدر چوتھے دن چراغ دین کے گھر پہنچا۔ اور آگے ص:56پر تھانے میں جا کر کہہ رہا ہے کہ جلدی کرو، وقت بالکل نہیں ہے۔ چار دن کی تاخیر سے تھانے پہنچنے والا آدمی کس طرح کہہ سکتا ہے کہ وقت بہت کم ہے۔اتنا ہی وقت کی کمی کا احساس تھا تو اسی دن ہی کیوں نہ پہنچا۔ اور پھر ہمیں ناول نگار نے یہ بھی اطلاع نہیں دی کہ دوسرے اور تیسرے دن غلام حیدر کیا کرتا رہا جو نہ موقع پر پہنچ سکا اور نہ ہی تھانے پہنچا۔


۳۔ چراغ دین کے قتل کا سن کر راج محمد جلال آباد سے سیدھا قصور کے لیے نکل گیا تا کہ شریفاں کو چراغ دین کے قتل کا بتا سکے۔ وہ پہلے دن نکلا اور چوتھے دن قصور پہنچا۔ ادھرغلام حیدر نے چراغ دین کی بیوہ کے لیے پہلے دن پانچ سو بھجوایا(ص: 40، سطر14)، پھر جب چوتھے دن وہاں پہنچا تو مزید پانچ سو اسے دیا(ص: 53، سطر 6)، یہ دونوں رقوم ملا کر ایک ہزار بنتی ہیں ۔ وقت کے حساب سے جب غلام حیدر چراغ دین کی بیوہ کو دوسرے پانچ سو روپے دے رہا تھا، اس وقت راج محمد قصور میں شریفاں کو بتا رہا تھا کہ ’’غلام حیدر نے چراغ دین کے قتل کا سنتے ہی دس ایکڑ زمین دینے کا اعلان کر دیا ہے اور اس کے ساتھ پورے ایک ہزار روپے تو پہلے ہی دے دیے ہیں ۔ ‘‘ ص:61۔سوال یہ بنتا ہے کہ اسے یہ دوسری رقم کا علم کیسے ہوا۔


۴۔ ص:88، سطر:13پر ولیم موڑھے سے اٹھتا ہے اور سودھا سنگھ کی چارپائی پر پائنتی کی طرف بیٹھ جاتا ہے۔ آگے ص:90، سطر 16 پر لکھا ہے:’’اس کے بعد ولیم موڑھے سے اٹھ کھڑا ہو گیا ۔‘‘ ایک دفعہ اٹھنے کے بعد وہ دوبارہ موڑھے پر بیٹھا ہی نہیں ، تو ایک بار پھر اس کے اٹھنے کا سوال کیسے پیدا ہوا؟


۵۔ص:103، سطر:12پر مولوی کرامت کے متعلق لکھا ہے کہ ’’اول تو اسے کل ہر حالت تحصیل جانا تھا۔ ‘‘ اس جملے کے بعد مکالمہ شروع ہوتا ہے۔ اگلے صفحے تک مکالمہ جاری رہتا ہے اور مکالمہ ختم ہوتے ہی اسی دِن بلکہ اُسی وقت مولوی کرامت خیر دین تانگے والے کے ساتھ تحصیل کو چل نکلتا ہے۔ ص:105،سطر:1۔


۶۔ص:130،سطر:1پر بتایا جا چکا ہے کہ چراغ دین کے ساتے کو دو دن گزر چکے ہیں ۔ چراغ دین مرا تھا شیر حیدر کے مرنے کے تین دن بعد۔ یعنی کُل ملا کر12دن گزر چکے ہیں ۔ آگے چل کر غلام حیدر شہر جاتا ہے ۔ اس کے اِس جانے کا تذکرہ ص:103پر مولوی کرامت کر بھی چکا ہے جس سے تصدیق ہوتی ہے کہ یہ وہی بارہواں دن ہے۔ لیکن غلام حیدر اپنے دوست شیخ نجم کے پوچھنے پر بتاتا ہے کہ شیر حیدر کو مرے آج چھٹا دن ہے ۔ ص:120، سطر:3۔ یہ کیسا بیٹا ہے جسے معلوم ہی نہیں کہ اس کے باپ کو مرے ہوئے کتنے دن گزر چکے ہیں ۔


۷۔ غلام حیدر کے گائوں شاہ پور پر حملے کے دوران سودھا سنگھ کا ایک خاص آدمی مارا گیا تھا۔ پہلی دفعہ ص:168، سطر :10پر بتایا گیا ہے کہ یہ آدمی دَما سنگھ تھا ۔ آگے ص: 184، سطر:11پر اِس آدمی کا نام بدل کر متھا سنگھ بن جاتا ہے۔ تیسری دفعہ ص:261، سطر:15پر اس آدمی کا نام رنگا بن جاتاہے۔ شاید کردار کے مرنے کے بعد ناطق صاحب اخبار میں اشتہاربرائے تبدیلی نام دے کر اس کا نام تبدیل کرواتے رہے ہیں ۔


۸۔ ص: 188پر ملک بہزاد کا پہلی بار ذکر آتا ہے۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ شیر حیدر کی وفات کے وقت ’’ملک بہزاد نے غلام حیدر کو بار بار یہ بات باور کرائی تھی، پتر میرے لائق کوئی کام ہو تو ضرور بتانا۔‘‘ حالانکہ ناول میں اس سے قبل کہیں بھی ملک بہزاد کا ذکر تک نہیں آیا تھا۔ اگراتنا اہم کردار تھا، اس کا ذکر پہلے ضرور کرنا چاہیے تھا۔


۹۔ص: 203پر ولیم اپنے افسر سے کہتا ہے:’’سر ایک کافی کا کپ مزید مل جائے گا۔‘‘ مزیدسے ظاہر ہے کہ پہلے ایک کپ پیا جا چکا ہے۔لیکن اس پورے منظر میں پہلے کوئی کپ نہ تو پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ولیم نے نوش فرمایا ہے۔ ناطق صاحب ایک سیانے ڈائریکٹر کی مانند کافی کے ایک کپ کے پیسے بچا لے گئے ہیں ۔


۱۰۔ ص:196،سطر:10پر لکھا ہے:’’میرے بھائی کے بیٹے! یہ رشوت کا خون ان کے منہ کو بھی لگ چکا ہے۔ ہاں ایک بات ضرور ہے ، جہاں دیسی دلا دس لیتا ہے، یہ گورا بیس لیتا ہے۔ ‘‘ اور ص:309سطر:21پر لکھا ہے :’’ان سفارشوں کے عوض مولوی صاحب نے کسی سے پیسے تو نہیں پکڑے تھے، جس کا اُس وقت رواج بھی کم تھا۔‘‘


۱۲۔ ص:221پر ولیم کہتا ہے : ’’مجھے یہاں آئے چھٹا مہینہ ہے ۔‘‘ ولیم دسمبر کی سخت سردی میں آیا تھا، اس حساب سے جون کامہینہ بنتا ہے۔ 2صفحے آگے ص:223پردوسری سطر میں لکھا ہے کہ ہفتہ پہلے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے بندوں کی گرفتاری اور مال کی ضبطی ہوئی۔ یہ واقعات فروری میں ہوئے تھے۔ ص:234پر لکھا ہے کہ ’’مارچ کا آغاز تھا۔‘‘(اس حساب سے ولیم کو جلال آباد تعینات ہوئے تین مہینے ہوئے ہیں ۔ جب کہ وہ فروری میں کہہ رہا ہے کہ اسے چھ مہینے ہوئے ہیں ۔ اگر فروری سے چھ مہینے پیچھے دیکھا جائے تو اگست بنتا ہے اور اگست میں دھند اور کہر نہیں ہو سکتے۔ یہاں صاف ظاہر ہے کہ ناطق صاحب خود بھی حساب گردشِ لیل و نہار بھول گئے ہیں ۔)


۱۳۔ ص: 262پر سب سکھ صلاح کر رہے ہیں کہ اگلے مہینے کی چار تاریخ کو پیشی ہے اور فیروز پور عدالت میں کیسے جانا ہے۔ اگلے باب کی پہلی سطرمیں بتایا گیا کہ جون کا آغاز ہو گیا ہے۔ ص:265۔ یعنی پیشی جون کی چار تاریخ کو تھی۔ لیکن ص:279پر جولائی کا مہینہ ہے اور ابھی تک پیشی پر نہیں گئے۔


۱۴۔ ولیم کئی دفعہ کہہ چکا کہ جلال آباد میں کوئی کلب نہیں ہے اور ہو بھی نہیں سکتا کیوں کہ وہاں ولیم اکیلا انگریز ہے۔ لیکن ص:312پر لکھا ہے کہ :’’نہ ہی کیتھی کو یہ بات منظور تھی کہ ولیم ڈیوٹی کے وقت کے علاوہ کسی کلب میں اس کے بغیر جائے ۔‘‘ جب کلب ہی نہیں تو پھر ولیم کا کلب میں جانے کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے اور ’کسی کلب ‘ کے الفاظ تو یوں ظاہر کرتے ہیں جیسے وہاں ایک سے زیادہ کلب ہوں ۔


۱۵۔نواز الحق کی اسٹنٹ کمشنری کے آرڈر جاری ہوئے :’’انہیں پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ جھنگ شہر کی افسری کا پروانہ دے دیا گیا جہاں دیگر کاموں کے ساتھ بعض مسالک اور ان کے عقائد کے خلاف کام کرنے والوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنا تھیں ۔ ‘‘ ص:401۔ یہاں نواز الحق کا باب ختم ہوتا ہے اور پانچ صفحے بعد دوبارہ شروع ہوتا ہے۔ یہاں پہلی ہی سطر پر لکھا ہے۔ ’’اوکاڑہ تحصیل میں نئے اسسٹنٹ کمشنر کے آتے ہی کمپلیکس میں تبدیلیاں رونما ہونے لگیں ۔ یہ شہر منٹگمری کی سب سے بڑی تحصیل تھی۔ ‘‘ص:406۔ (ناطق صاحب شاید بہتر جانتے ہوں کہ جھنگ جانے والا افسر اوکاڑہ کیسے جا پہنچتا ہے۔ )


ناول نگار کو خاص دھیان دینا پڑتا ہے کہ ناول کے بیانیے کا زمانہ کون سا ہے اور پھر اس زمانے اور ماحول کے سماجی ، معاشی، تاریخی حالات کو اپنے شعور کا حصہ بنانا پڑتا ہے تب جا کر ناول کے صفحات پر وہ زمانہ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ جلوہ نما ہوتا ہے۔جیسا کہ ’’بہائو‘‘میں قبل از تاریخ کا زمانہ اور ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ میں انیسویں صدی کا دلی اپنی تمام تہذیبی جزئیات کے ساتھ متحرک نظر آتے ہیں اور جو پہلو آتا ہے، کسی قسم کی تشنگی نہیں رکھتا۔ اُس زمانے کے حالات پر عبور حاصل کیے بغیر لکھا گیا ناول پھسپھسا ہوتا ہے اور کسی بھی زمانے کے تعین کے بغیر زمانی خلا میں معلق رہ جاتا ہے۔ ایسے ناول کی فضا اور ماحول دھندلے ہوتے ہیں اور ناول کے بیانیے کو زندگی کی حرارت نہیں بخش پاتے۔ ناطق صاحب نے زمانہ1935ء کا منتخب کیا ہے اور ماحول فیروز پور کی تحصیل جلال آباد کا۔ لیکن ان سے ناول کے اندر یہ زمانہ اور ماحول پوری طرح زندہ نہیں ہو سکے۔ بظاہر تو انہوں نے جزئیات نگاری کا خاصا خیال رکھا ہے لیکن وہ جو1935ء کی فضا ہے وہ کہیں بھی ناول کے صفحات پر جلوہ نما نظر نہیں آتی۔ کاغذی بیان ، کاغذی ہی رہتا ہے۔ ان جزئیات کی حقیقت بس اتنی ہے کہ ناطق صاحب نے بغیر کسی گہرے مطالعے کے (جو ایسے ہی موضوعات پر لکھنے والی قرۃ العین حیدر کا خاصہ ہے)محض ذاتی علم پر بھروسہ کیا اور اس کے نتیجے میں بہت سی جگہوں پر بری طرح ٹھوکر کھائی۔
مثال کے طور پر انہوں نے ایک جگہ کیتھی کے حوالے سے لکھا ہے کہ کیتھی نے ولیم کو اس لیے پسند کیا :’’ولیم سے شادی کرنا کیتھی کے لیے کسی پرنس کا ہاتھ آ جانے سے کم نہ تھا…انگلستان میں رہنے والی نو عمر لڑکیاں اس تاک میں رہتیں کہ کسی طرح سی ایس ایس کرنے والے لڑکے کو پھانس لیا جائے۔ ‘‘ ناطق صاحب کو یہ کون بتائے کہ CSSکا امتحان پاکستان بننے کے بعد شروع ہوا۔ برٹش دور میں اس امتحان کو آئی سی ایس کہا جاتا تھا۔


ایک سیدھی اور سامنے کی فاش غلطی یہ کی کہ دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی اور روس کو اتحادی دکھا دیا۔ روس خود مشرقی یورپ کا حصہ ہے لیکن مصنف نے انہیں دو الگ خطے دکھا دیا۔ ’’ہٹلر کی حکومت نے مشرقی یورپ میں ایک وسیع اور جدید سلطنت ’’لونگ اسپیس ‘‘ (لیبن سروم) کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔ اس نے یہ خیال اپنے لوگوں پر واضح کیا تو جرمن لیڈروں نے یورپ پر جرمنی کے تسلط کے لیے جنگ کو ضروری قرار دے دیا۔ سویت یونین کی غیر جانبداری حاصل کرنے کے بعد جرمنی نے یکم ستمبر انیس سو انتالیس میں پولینڈ پر حملہ کر کے دوسری جنگِ عظیم کا آغاز کر دیا…ادھر ایک ماہ کے اندر جرمن نے سویت فوجوں کے اتحاد سے پولینڈ کو شکست دے دی۔پولینڈ جرمنی اور سویت یونین کے درمیان تقسیم ہو گیا۔‘‘


جیپ 1941میں ایجاد ہوئی تھی،سول مقاصد کے لیے 1945ء میں متعارف کروائی گئی لیکن ناول کے صفحات میں اپنی ایجاد سے قبل 1935ء میں ہی فراٹے بھرتی نظر آتی ہے۔(ص:33)
The original Jeep was the prototype Bantam BRC. Willys MB Jeeps went into production in 1941[1] specifically for the military. The first civilian models were produced in 1945. (https://en.wikipedia.org/wiki/Jeep(
خبر نہیں کہ یہ جادو ناطق صاحب کے ہاتھ کیسے لگا۔
کِنو 1935ء میں کیلیفورنیا میں ایجاد ہوا تھا، اور ہندوستان میں پہلی بار 1940میں کاشت کیا گیا۔
After evaluation, the kinno was released as a new variety for commercial cultivation in 1935. In 1940, Punjab Agriculture College and Research Institute, Lyallpur (Pakistan) introduced the kinno. In India this variety was introduced by J. C. Bakhshi in 1954 at the Punjab Agricultural University, Regional Fruit Research Station, Abohar. It has become an important variety in the Punjab provinces of both India and Pakistan. )http://www.pakistaneconomist.com/pagesearch/Search-Engine2011/S.E483.php(


ناول میں یہ کِنو 1935ء میں کھایا جا رہا ہے(ص:108) اور کھانے والوں کے انداز سے پتا چلتا ہے جیسے بہت مدت سے کِنو متعارف ہو چکا ہے۔ایک جگہ مسجد کے ریڈی میڈ مینار (ص:58)دیکھ کر بھی یوں لگا جیسے آج کے زمانے کی مسجد دیکھ رہے ہوں ۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں :’’احاطے کی دیواریں پکی اینٹ سے چن کر بیس فٹ تک اونچی کی گئیں تھیں لیکن ان پر کسی وجہ سے پلستر نہیں کیا گیا تھا۔‘‘(ص:20) حالانکہ1935ء کے زمانے کی جو تعمیرات دیکھی گئی ہیں ان کی دیواروں پر پلستر کا رواج نہیں تھا اور خاص طور پر گائوں دیہات میں تو پلستر کانام ہی نہیں ہوتا تھا اور وہ بھی احاطے کی اتنی بڑی دیوار کو کس نے پلسترکرنا تھا۔ یہ بھی مان لیا کیا کہ پلستر نہ ہونا ایک عیب ہوتا ہو گا لیکن کیا کریں کہ خود ناطق صاحب کا قلم دو ہی سطروں کے بعد خودان کے خلاف گواہی دینے آ پہنچتا ہے ۔لکھتے ہیں :’’ویسے بھی دیواروں کو آرائش یا پلستر کرنا عموماً دیہاتوں میں ضروری نہیں سمجھا جاتا۔‘‘ اس جملے کا صیغہ بتاتا ہے کہ ناطق صاحب نے آج کے زمانے کی بات لکھی ہے۔ اور اگر آج پلستر کا رواج نہیں ہے تو پھر 80سال پہلے اس کے نہ ہونے کا کیا سوال ہے۔اسی طرح انہیں خط اور تار کے فرق کا احساس بھی نہیں ۔ ولیم کیتھی کو ایک لمبا چوڑا خط لکھتا ہے اور نجیب شاہ کے حوالے کر کے بذریعہ تار کیتھی کو روانہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ تار کے ذریعے اتنا طویل خط اور وہ بھی محبت نامہ! تصور کرتے ہوئے الجھن ہوتی ہے۔


تاریخی لحاظ سے ان مسائل کے ساتھ ماحول کے متعلق بھی کئی جگہ پر ناطق صاحب ٹھوکر کھاتے ہیں ۔ اردو افسانے میں پریم چند، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر، بلونت سنگھ، سید رفیق حسین، ابو الفضل صدیقی،احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد جیسے افسانہ نگاروں کی ، دیہی معاشرت پر بے مثال تخلیقات کی وجہ سے ہر نئے افسانہ نگار کو یہ ترغیب ملتی ہے کہ وہ دیہی ماحول کے متعلق افسانے لکھ کر اپنا نام اردو افسانے کی تاریخ میں اُن افسانہ نگاروں کے ساتھ سنہری حروف میں رقم کروا لے۔ اس ضمن میں پہلا قصور اردو کے ان شہری قارئین کا ہے جن کا دیہی معاشر ت سے کوئی تعلق تو ہوتا نہیں لیکن جب کوئی افسانہ دیہی معاشرت پر لکھا جائے، یہ قارئین اس کی بے تحاشا تعریف کرتے چلے جاتے ہیں ۔ خواہ وہ افسانہ دیہی ماحول کو پوری خوبصورتی سے پیش کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔دوسری غلطی ان افسانہ نگاروں کی ہے جن کا اپنا سماجی پس منظر دیہاتی ہے۔ ایسے افسانہ نگار بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اگر افسانہ نگار کا اپنا اور افسانے کا پس منظر دیہی ہو تو افسانے کو فن پارہ بنانے کے لیے یہی بہت ہے ۔ کہانی کی ندرت ضروری نہیں اورنہ ہی اس کی فنی باریکیوں پر توجہ کرنا کوئی معنی رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ یہ افسانہ نگار اپنے ارد گرد کے معاشرے کا بھی صحیح طرح سے مشاہدہ نہیں کرتے ۔ بس لکھ دیا کہ گائوں ہے اور فصلوں ، جانوروں کا ذکر کر دیا، کرداروں کے نام ماجھا گاما رکھ دیے اور سمجھ لیا کہ دیہی معاشرت کی عکاسی ہوگئی ۔ کہانی، پلاٹ،زبان، مکالمے، کردار اور جزئیات نگاری وغیرہ کا شعور تک نہ ہوتو بھی اپنی اسی خوبی پر پھولے نہیں سماتے۔ ناطق صاحب کا شمار بھی ایسے ہی فنکاروں میں ہوتا ہے جو دیہی معاشرت کے متعلق لکھنے بیٹھے ہیں لیکن خود انہوں نے اپنے دیہات کا گہرامشاہدہ نہیں کیا ہوا۔ انہیں یہ تک نہیں معلوم کہ ماحول کی پیش کش میں ایسا کوئی عمل یا منظر نہیں پیش کرنا چاہیے جو اس ماحول کے جغرافیے ، موسم یا عام عادات کے مطابق نہ ہو۔ اگر ایسی کوئی چیز بیانیے کا حصہ بنے گی تو یہ ایک فاش غلطی تصور کی جاتی ہے۔ ان کے افسانوی پس منظر کی دنیا عام طور پر دیہاتی ہوتی ہے اور توقع یہ کی جاتی ہے کہ ان کا دیہاتی ماحول کا علم بہت وسیع ہو گا لیکن انہوں نے دو جگہ ایسی فاش غلطیاں کی ہیں جو زمیندار گھرانے کا بچہ بھی پکڑ سکتا ہے۔ ناول کے آغاز پر سخت سردی اور دھند کا موسم دکھایا گیا ہے۔ جس رات کو سودھا سنگھ کے آدمیوں نے غلام حیدر کے کھیت پر حملہ کیا، اس رات نیاز حسین کے بیان کے مطابق سخت دھند اور کہر تھی۔(ص:39)اس رات کو غلام حیدر کی مونگی کی20ایکڑ فصل ویران کر دی گئی۔ یہ سب بیان درست ہے۔ بس اگر یہ معلوم نہ ہو کہ مونگی کی فصل ساونی ہے جو جولائی میں کاشت ہوتی ہے اور ستمبر میں کاٹی جاتی ہے۔ اس دوران سخت کہر اور دھند ناول کے پروڈیوسر صاحب کہاں سے لے آئے، یہ ہمیں خبر نہیں یا پھرانہوں نے سخت سردی میں مونگی کیسے اگا لی، یہ ہمیں معلوم نہیں ۔ دوسری جگہ زمانی ترتیب کے اعتبار سے یہ طے ہے کہ فروری کا مہینہ ہے ،وہاں لکھتے ہیں :’’اکا دکا لوگ جاگ اٹھے تھے، جوادھرادھر کام میں اور اپنی فصلوں میں ہل وغیرہ جوتنے کے لیے نکل رہے تھے۔‘‘ص:205۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ ناطق صاحب نے اتنا تو سن رکھا ہے کہ ہل نام کی کوئی چیز ہوتی ہے ، جسے جوتابھی جاتا ہے،اور جوتنے کے لیے صبح صبح بیل لے کر کسان گھر سے نکلتے ہیں لیکن انہیں یہ نہیں معلوم کہ وہ کب اور کہاں جوتا جاتا ہے ۔زمین اور گائوں سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص بتا سکتا ہے کہ فروری شریف میں حضرت ہل صاحب کو جوتنے کا سوال مبارک پیداہی نہیں ہوتا اور دوم؛ کھیتوں میں ہل جوتنے کا تو سنا ہوا ہے، یہ فصلوں میں ہل جوتنے کا کام تو شاید کسی مخبوط الحواس کو بھی نہ سوجھے۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ دیہی زندگی کے متعلق ناطق کا مشاہدہ ذرا بھی نہیں ہے، بس فیشن کے طور پر گائوں کی زندگی پیش کرناپوز کرتے ہیں ۔
انہیں آئی سی ایس کا مزاج بھی بالکل نہیں معلوم۔ بہت طویل مثالیں دینے سے مضمون کی کوفت ہی بڑھے گی۔ بہت سی جگہوں پر یہ ناگوار احساس ہوتا ہے کہ ناطق صاحب کو ایک آئی سی ایس کے مزاج کے متعلق ذرا سا بھی شعور نہیں ہے۔ مثال کے طور پر درج ذیل بیان دیکھیے:’’کچھ ہی دیر بعد ولیم نے محسوس کیا کہ کام کرنے والے کچھ لوگوں کی نظر ان پر پڑ چکی ہے اور وہ اسے اپنا کام چھوڑ کر بغور دیکھنا شروع ہو گئے ہیں ۔ ولیم کو ان کی یہ عادت بری لگی۔ خاص کر ہندوستانیوں کی، چاہے وہ مسلمان ہوں یا سکھ، ان کی اس مشترکہ عادت سے اسے سخت نفرت تھی۔ (اس جملے کے حسن پر بھی غور کیا جائے۔)وہ کسی بھی چیز کو عجوبے کی طرح دیکھنے کے عادی ہیں ۔ پھر اس کے بارے میں انتہائی بے ہودہ اور غلط مگر حتمی تاویلیں کرنے کے ماہر بھی ۔‘‘ص:83۔قاری دیکھ سکتا ہے کہ یہ سوچ آئی سی ایس افسر کی نہیں ہوسکتی جو مقامی لوگوں کی نظروں کی چبھن محسوس کر رہی ہے ۔ یہ کمال خیال مقامی مصنف کا ہے۔اسی طرح ص:88پر ولیم جب سودھا سنگھ کی چارپائی کے پائینتی بیٹھتا ہے تو سودھا سنگھ کو غصہ آتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اتنی جرأت جھنڈو والا میں خدا ہی کرسکتا تھا۔ حالانکہ پنجابی کلچر میں کم مرتبہ آدمی پائینتی کی طرف بیٹھتا ہے۔ اگر و لیم خود کو کم مرتبہ ثابت کر رہا ہے تو سودھا سنگھ کیوں چراغ پا ہورہا ہے۔ اس پر تو اعتراض بنتا ہے کہ آئی سی ایس افسرپائنتی بیٹھے گاہی کیوں ۔ اس کے بیٹھنے پر تو سودھا سنگھ کو اُٹھ جانا چاہیے تھا۔ یہ بھی یاد رہے کہ اسی ناول میں اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ سودھا سنگھ اور اس کے سب ساتھی حقیر سے تھانے دار سے ڈرنے والے لوگ ہیں ۔ جب یہ اتنا چھوٹا طبقہ ہے اور ان کے درمیان انگریز اسسٹنٹ کمشنر (یعنی صحیح معنی میں خدا)آ کر بیٹھا ہوا ہے اور ناطق صاحب سودھا سنگھ کو اس پر غصہ کرتے دکھا رہے ہیں ۔ واہ رے ہمت!!


ماحول کے متعلق ایک غلطی ایسی ہے کہ تصور کر کے عجیب قسم کی ابکائی آ جاتی ہے۔گڑ بنانے والے لوگوں کے پاس ولیم اور اس کے سپاہی پہنچے ہیں ۔ آگے یوں لکھا ہے:’’ایک آدمی چونبے کے کنارے بیٹھا کُڈھن سے اُ س میں پیڑھ پھینک رہا تھا جس کی تیز آگ کڑاہے میں پڑی ہوئی پت کو پکا رہی تھی۔ چھاننی اور کڑچھے سے اسے بار بار ہلایا بھی جا رہا تھا۔ گنڈ میں پکی ہوئی راب سے ایک سِکھڑا رنبی کی مدد سے گُڑ کی ڈلیاں کاٹ کاٹ کر بنانے لگا۔ یہ پورا منظر ولیم کے لیے انتہائی پُر کشش تھا۔ دونوں سنتری بیٹھے لسی پینے کے ساتھ گُڑ بھی کھانے لگے۔‘‘ ص:180۔(گرم گرم گُڑ کے ساتھ ٹھنڈی ٹھنڈی لسی پینے کا تصور ایسا ہے کہ کسی بھی معقول آدمی کو ابکائی آ سکتی ہے۔ ناطق صاحب دیہاتی کلچر پر کہانی لکھنے کے ماہر کہلوانا پسند کرتے ہیں لیکن ہزاروں دیگر باریک باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی نہیں جانتے کہ لسی میٹھی چیزوں کے ساتھ نہیں پی جاتی۔ کڑوی یا کھٹی چیز کے ساتھ پی جاتی ہے۔ گڑ کے ساتھ لسی نہ کہیں رائج ہے نہ ہی پی جاسکتی ہے۔معاشرتی رواج کے ساتھ ساتھ دیسی حکمت بھی اس کے حق میں نہیں ہے۔)


ماحول کے متعلق ایک اور بہت ہی فاش غلطی ہے بلکہ میں تو اسے فحش غلطی کہوں گا۔ اس غلطی سے واضح معلوم ہو تا ہے کہ ناطق صاحب کا گائوں کے ماحول سے دور کا بھی واسطہ نہیں ، وہ بس فیشن کے طور پر گائوں کی زندگی کو اپنی کہانی میں پیش کرتے ہیں ۔ گائوں میں زمیندارہ زندگی کا بہت اہم حصہ ہے۔اس زمیندارے کے لیے مقامی کلچر میں کچھ خاص قومیتیں اور ذاتیں پیدائشی طور پر ماہر گِنی جاتی ہیں اور کچھ خاص طور پر زمیندارے کے لیے نامناسب شمار کی جاتی ہیں ۔ ان ذاتوں میں بھی سب سے نامناسب ذات پاولی سمجھی جاتی ہے۔ عام طور پر اگر زمیندار گھرانے کا کوئی لڑکا حد درجہ پھوہڑ نکلے تو اسے پاولی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ یعنی زمیندارہ سنبھالنے کے لیے غیر موزونیت کے لحاظ سے پاولی مثالی حیثیت رکھتا ہے۔اور ادھر اس بات سے بے خبر ناطق صاحب اپنے لاعلمی کے شاہکار بکھیرتے چلے جاتے ہیں ۔’’غلام حیدر کو ان معاملات میں کچھ تجربہ نہیں تھا۔اس کی زندگی کسی اور ہی تربیت کا نتیجہ تھی ۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ سب کاروبار رفیق پاولی کو سونپ کر چند دنوں بعد لاہور چلا جائے گا۔ رفیق خود ہی مزارعوں کے ساتھ حساب کتاب کر تا رہے گا۔ ویسے بھی شیر حیدر کی زندگی میں نوے فیصد کام رفیق پاولی نے اپنے ہی ذمے لے رکھے تھے۔‘‘ص:35۔ جس زمیندار کو ایک پاولی زمیندارہ سنبھالنے کے لیے سب سے مناسب آدمی لگتا ہو، وہ اس کلچر سے نہیں ہو سکتا۔ غلام حیدر تو پڑھا لکھا ہے، زمیندارہ سے عدم واقفیت اس کا عذر بن سکتی ہے لیکن خود شیر حیدر تو خالص زمیندار تھا۔ اسے کوئی اور کاشت کار طبقے کا آدمی چھوڑ، باقی گیارہ ذاتوں میں سے بھی کوئی ایسا نہیں ملا تھا جو یہ کام سنبھال لے۔ پھر یہاں تک بھی ٹھیک ہے لیکن غلام حیدر کے ارد گرد اس کے اپنے آدمیوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ملتا جو کاشت کار گھرانے کا ہو۔ سب ماچھی، پاولی وغیرہ ہی ملتے ہیں ۔تو کیااس کی زمینوں پر ہل بھی ایسے ہی لوگ چلاتے تھے۔اور اگر کاشت کار ذاتیں ہل چلاتی تھیں تو سماجی مقام و مرتبے میں وہ غلام حیدر کے زیادہ قریب کیوں نہیں ، غیر کاشت کار ہی کیوں قریب ہیں ۔


بیانیے میں کسی بھی ناول نگار کے لیے غیر جانبدار رہنا امتحان ہوتا ہے۔ ناول میں اچھے برے سبھی کردار پیش ہوتے ہیں ، سبھی ناول نگار کی اپنی تخلیق ہوتے ہیں اور کسی خاص کردار کی طرف جھکائو یا طرف داری ناول کو تخلیق کے درجے سے گرا کر پروپیگنڈا کی سطح پر لے آتی ہے۔ کوئی بھی مصنف جب اپنے کچھ کرداروں کی حمایت کرتا ہے اور دوسروں کی مخالفت تو وہ بیانیہ ایک ایسا یک طرفہ بیان بن جاتا ہے جو کسی خاص گروہ کے نمائندے نے اپنے مفادات یا تاریخ کے تحفظ کے لیے تعمیرکیا ہوتا ہے۔نسیم حجازی قسم کے تاریخی ناول اسی کی مثال ہیں ۔ ناطق صاحب کو اس بات کا ذرا بھی شعور نہیں کہ انہیں کرداروں کے مذہبی پس منظر سے الگ رہنا چاہیے۔ وہ خود مسلمان ہیں ، ٹھیک ہے لیکن ناول کے اندر ان کو مذہب ایک طرف رکھ کر فن کے ساتھ وفاداری نبھانی چاہیے اورفن کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ کسی کی طرف داری نہیں کی جانی چاہیے۔ اگر وہ بھیشم سا ہنی کا ’’تَمَس ‘‘ ہی پڑھ لیتے تو انہیں سلیقہ آ جاتا کہ تقسیم کے وقت دونوں قوموں کے جذبات کیسے پیش کرنے ہیں ۔فنکار کا کام قوموں ، قبیلوں اور مذاہب سے بالاتر ہو کر پوری انسانیت کی نمائندگی کرنا ہے اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ انسانی رشتے کی بنیاد پر جوڑنا ہے۔ اگر فنکار ہی انسانوں کے درمیان تعصب کو ہوا دینے لگے تو پھر انسانوں کے درمیان نفرت، کینہ پروری اور بغض و عناد جیسی صفات فخر کی علامت بن کربرتری کا معیار قرار پائیں گی۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ناطق صاحب نے کس کس جگہ اپنے اس تعصب کو صفحات کی زینت بنایا ہے۔ ان کا یہ ناول اور اقبال کا مصرعہ ’’کاٹ کر رکھ دیے کفار کے لشکر ہم نے‘‘ دونوں ایک ہی جیسے تعصب انگیز نظر آتے ہیں ۔


۱۔ ہیلے اپنے جونئیر ولیم کو مقامی لوگوں کا مزاج سمجھا رہا ہے۔’’ان کے سینے دریائوں کی طرح چوڑے اور مزاج اس کے بہائو کی طرح تیز ہیں …پنجابی مسلمان معقول اور بات کو جلد سمجھ لینے والے ہیں ۔ جب کہ سکھ احمق اور ہر وقت اپنے ہی نقصان کے درپے رہتے ہیں ۔‘‘ص:32


۲۔ ایک اور جگہ سردار سودھا سنگھ کی بیوی اسے روک رہی ہے اور دیکھ لیجیے کہ ناطق صاحب اپنے مذہب والوں کی حمایت کے لیے کس طرح اس کے منہ میں اپنے الفاظ ٹھونس رہے ہیں :’’یہ مُسلے مرجانے بڑے بُرے اور چیر پھاڑ کر کھاجانے والے کتے ہوتے ہیں ۔ سنا ہے دشمنی اور لڑائی بھڑائی میں اِن کا کوئی مقابلہ نہیں ۔‘‘ص:264


۳۔ سردار سودھا سنگھ اپنے دشمن کے سامنے ہے ۔ غلام حیدر کو بندوق ہاتھ میں لیے دیکھتا ہے تو یوں سوچتا ہے:’’ بنتو سچ کہتی تھی۔ یہ مُسلے بڑے بگھیاڑ ہوتے ہیں ۔ ان کے بچے بھی بگھیاڑ ہوتے ہیں ۔ آخر یہ غلام حیدر مجھے کھا ہی گیا۔ ‘‘ص:286۔ (مسلمانوں کی بالواسطہ تعریف اپنی جگہ، یہ بات بنتو نے کبھی ناول کے اندر کہی ہی نہیں تھی۔)


۴۔جودھا پور میں کل پچاسی مرد ہیں جن کے پاس گنے چنے ہتھیار ہیں ۔ ادھر سردار شمشیر سنگھ دو سو مسلح بندے لے کر جودھا پور پر حملہ آور ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی شمشیر سنگھ کی سوچ دیکھیں :’’شمشیر سنگھ جانتا تھا، حالات جتنے بھی سکھوں کے حق میں ہوں ، مُسلے بہر حال ایسے بچھو تھے جو کسی نئے طریقے سے بھی ڈنک مار سکتے تھے۔‘‘ص:366۔(صاف نظر آتا ہے کہ یہ جملہ اس مصنف نے لکھا ہے جس کا ایمان ہے کہ ایک سچا مومن، دس کفار پر بھاری ہوتا ہے۔ )


۵۔ ایک جگہ پر بیانیے نے ایسی نہج پکڑی کہ ناول نگار پسِ پردہ پشت پناہی کرنے کی بجائے کھُل کر مسلمانوں کی حمایت پر اُتر آیا۔ لکھتے ہیں :’’اب چھت پر بیٹھے ہوئے بندوق والوں کو کھُل کر فائر کرنے کا موقع مل گیا۔ لیکن کارتوس کم ہو گئے تھے۔ مگر اُس کا اندازہ خدا کا شکر ہے، شمشیر سنگھ کو نہیں تھا۔‘‘ص:369۔(یہاں خدا کا شکر ناطق صاحب نے ادا کیا ہے اور کھُل کر بتا دیا ہے کہ مصنف مسلمانوں کی صف میں ہی کھڑا ہے اور سکھوں کے مقابلے میں مسلمانوں کو فتح دلوانے کا پوری طرح خواہش مند ہے۔قاری اساس تنقید کے حساب سے کہا جائے تو بیانیے کے اس حصے میں مرا ہوامصنف بھی بولنے لگا ہے۔)


۶۔ اگلے ہی صفحے میں اس تعصب نے ایک اور عجوبہ دکھایا ہے:’’کاہنا سئیو نے تاک کر ایک گولی ماری کہ سیدھی آ کر رفیق پاولی کے دل پر لگی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ اِس گولی کا لگنا تھا ، مسلمانوں نے نعرے بازی بلند کر دی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ مر تو جانا ہے، کیوں نہ زیادہ سے زیادہ سکھوں کو لے کر مریں ۔ ‘‘چھ سطروں کے بعد لکھتے ہیں :’’اسی وقت چھت پر سے ایک گولی شمشیر سنگھ کے ماتھے پر آ کر لگی اور وہ گھوڑے سے سیدھا زمین پر آ پڑا۔ یہ دیکھ سکھوں کے حوصلے پست ہوگئے۔ انہوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ ‘‘ص:370۔(ایک فریق کا سربراہ ملا تو انہیں تقویت ملی، دوسرے کا سربراہ مرا تو وہ بزدل ہو گئے۔ خدا قسم، نسیم حجازی کے ناول محمد بن قاسم کی وہ تقریر یاد آ گئی جہاں قاسم کہتا ہے کہ ہم لوگ سالاروں کے لیے نہیں ، خدا کے لیے لڑتے ہیں ، اس لیے سالار مر بھی جائے تو ہم لڑتے رہتے ہیں اور کافر اپنے سالار کے لیے لڑتے ہیں ، ان کا سالار مر جائے تو وہ بھاگنے لگتے ہیں ۔ و ما علینا الا البلاغ المبین)


اس ناول کو A Love Letter to RAJکہا گیا ہے اور مندرجہ بالا قسم کے جملے دیکھ کر یقین آجاتا ہے کہ یہ اس دھرتی کی بجائے برٹش راج کو ہی ایک سیلوٹ ہے اور یہ ناول تعصب اور نفرت کو بڑھاوا دینے کے لیے وہی خدمت انجام دے رہا ہے جو انگریز بہادر نے دی تھی۔ اگر بات انڈیا پاکستان کی تعصب پر مبنی تھرڈ ریٹ فلموں کی ہو تو دوسرے گروہ کی اتنی تحقیر قبولیت کی سند پاتی ہے لیکن ناول کا فن اس جانبداری کو کبھی بھی قبول نہیں کر پاتا اور بیانیے کو فن کے اعلیٰ مقام سے گرا کر گروہی اور فرقہ وارانہ ادب کی نچلی تہہ تک لے جاتا ہے۔


بیانیے کے اس سارے تجزیے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ناطق صاحب نے ناول کا بیانیہ تعمیر کرتے وقت پیچھے مُڑ کر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ ورنہ درج بالابہت سی غلطیاں تو ایک دفعہ کی نظرِ ثانی میں ہی رفع ہو سکتی تھیں ۔ لوگوں کے نام بھول جانا، تعداد بھول جانا، وقت اور جگہ کا شعور ختم ہو جاناایسی غلطیاں ہیں جو ذرا سی توجہ کی طالب ہوتی ہیں ۔


ان کے علاوہ بیانیے کی تعمیر میں کچھ ایسی کج روی ہے کہ مسیحائی کے لیے خضر درکار ہے۔بیانیے میں پورا ڈھانچہ ایک ہی انداز میں تعمیر نہیں ہوتا۔فنکار کو جب نئے انداز کی تحریر لکھنی ہو تو ہر دفعہ اس کا بنیادی مزاج ہی الگ رکھنا پڑتا ہے۔ ناطق صاحب کے اس ناول میں بیانیے کے اندر یہ پانچ انداز موجود ہیں : بیانیہ، وضاحتیہ،مکالمہ، رپورٹ ، تقریر۔لیکن فاضل مصنف کو کسی جگہ بھی یہ احساس تک نہیں ہواکہ انہیں انداز بدلنا چاہیے۔ جس زبان میں مکالمے لکھے ہیں ، اسی زبان میں رپورٹ بھی درج کر دی ہے۔ جو انداز Narrationکا ہے، وہی Descriptionکے وقت نظر آتا ہے۔ کردار کوئی بھی ہو، ایک ہی جیسا طرزِ تکلم اپنائے رکھتے ہیں ۔ حتیٰ کہ انگریز، مسلمان اور سکھ بھی ایک ہی طرح کا محاورہ بولتے ہیں ۔ناطق صاحب کو زبان کے مختلف انداز اور لہجوں کا شعور تک نہیں ہے اور اپنے ناتواں کندھوں پر ناول جیسی ذمہ داری کا بوجھ لے لیا ہے جو صبرِ صمیم کے ساتھ ساتھ زبان پر استادانہ گرفت کا بھی متقاضی ہے۔پورے بیانیے کا جائزہ لیا جائے تو تحریر جذبے سے بالکل خالی نظر آتی ہے۔ رواروی میں اور تیزی سے لکھی گئی ایک ایسی تحریر ہے جسے نپٹانے ، انجام تک لانے اور چھپوانے تک ہر کام میں مصنف کو جلدی تھی اوراسی جلدی نے انہیں محنت بھی نہیں کرنے دی ۔ناول کا موضوع جو بھی ہو، ناول نگار کے لیے انتہا درجے کے مطالعے کے ساتھ ساتھ بھرپور تجربہ بھی ضروری ہوتا ہے ۔ اِس ناول میں ان دونوں چیزوں کی عدم موجودگی نظر آتی ہے۔ ناطق صاحب نے 80سال پرانے زمانے کا تجربہ حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں  کی اوراس کے متوازی مطالعے کا بھی بہت فقدان ہے۔تن آسانی حاوی تھی اور فاضل مصنف نے پیچھے مڑ کر دوبارہ دیکھنے کی بجائے آگے لکھتے چلے جانے کو ترجیح دی۔ تحریر اتنی کمزور ہے کہ تخیل کا کچا پن ہر ہر بیان میں ٹھاٹھیں مارتا ہے۔ نتیجتاً انہوں نے غلطیوں کا یہ شاہکار تخلیق کیا۔ ان سب خامیوں کے باوجود کوئی اگر انہیں ناول نگار مانتا ہے تو پھر اردو ناول اور اردو ناول کے نقادوں پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہاں صرف مثال کے طور پر صلاح الدین درویش اور حیدر سید کے ایک ایک کمنٹ کا ذکر کرنا چاہوں گا، جو انہوں نے ناطق صاحب کی ایک پوسٹ پر کیا تھا۔ ادبی طرف داری اور دوست پروری کی عظیم مثالیں ہیں ۔ ورنہ ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ جیسے لسانی اور تہذیبی شاہکار کے ساتھ ’’نولکھی کوٹھی‘‘ جیسی بچگانہ کاوش کا نام لینا ہی گناہ ہے۔


nolakhi kothi is better than…kai chand thy sary asmaan….geo serzameeny okara…..love you natiq.
22.11.2015) کو ناطق صاحب کی پوسٹ پرصلاح الدین درویش کا کمنٹ۔ (
’’اردو زبان کا سب سے بڑا افسانہ نگار ناول نگار ادیب اور نقاد شمس الرحمن فاروقی نہیں ہے۔ یہ الفاظ علی اکبر ناطق کے لیے ہی زیبا ہیں ۔‘‘
(01.11.2015 کو ناطق صاحب کی پوسٹ پرحیدر سید کا کمنٹ۔)


ادبی بد دیانتی اور جانب داری کی اس سے بہترین مثالیں شاید ہی روئے زمین ہر مل سکیں ۔
ناول میں کہانی اور بیانیے کے بعد اہم چیز زبان ہوتی ہے۔کہانی اہم ہے لیکن اس کہانی کی پیش کش کیوں کہ زبان کے ذریعے ہی ہوتی ہے تو یہ زبان بنیادی عنصرہے۔ لفظ ناول کی اکائی ہیں اور ان اکائیوں کا استعمال اگر درست ہو گا تو ناول نگار کا ابلاغ ہو گا۔ اگر زبان فصیح و بلیغ نہ ہو، اپنی خوبصورتی قائم نہ رکھے تو اس بیانیے کا معیار انتہائی پست ہو گا۔ زبان ہی ناول نگار کا میڈیم ہے اور اگر اپنے میڈیم کا شعور ہی نہ ہو تو پھر اس نے لکھنا خاک ہے ۔ موسیقار کو سُروں کی پہچان نہ ہو، مصور کو رنگوں کے استعمال پر عبور نہ ہو تو ان سے فنکاری کی توقع رکھنا ہی فضول ہے۔ ناطق صاحب لکھتے وقت قلم برداشتہ لکھتے ہیں اور اگر بیدی کے لفظ مستعار لیے جائیں تو ’نہ لکھنے سے پہلے سوچتے ہیں ، نہ لکھتے وقت سوچتے ہیں اورنہ ہی لکھنے کے بعد سوچتے ہیں ۔‘ نظرِ ثانی شاید کی ہی نہیں گئی۔ پروف کی بے شمار غلطیوں کے ساتھ ساتھ تمام ناول کے مکالموں میں واوین کا عدم استعمال واضح بتاتا ہے کہ کسی بھی معقول آدمی کو مسودہ دکھانے کی بھی زحمت نہیں کی گئی۔پورے ناول میں مکالمہ اور بیانیہ آپس میں دست و پا ہیں ۔ اکثر جگہوں پر یہ سمجھنے میں دقت ہوتی ہے کہ کہاں مکالمہ ختم ہو گیا اور کس جگہ سے بیانیہ شروع ہو گیا۔آج تک کسی زبان کا کوئی ناول واوین سے مبرا نہیں دیکھا گیا اور ناطق صاحب کو اپنا شاہکار چھپوانے میں اتنی جلدی تھی کہ واوین ڈالنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی۔ خیر یہ تو پروف کی غلطی ہے، ناطق صاحب نے زبان کی اتنی غلطیاں کی ہیں کہ مجھ جیسے غیر اہلِ زبان کے لیے بھی شمارکرنا دشوار ہو گیا تھا ۔ کوئی اہلِ زبان ہوتا تو شاید ان جملوں کو نشان زد کرنے میں نسبتاسہولت محسوس کرتا جہاں زبان مناسب برتی گئی ہے۔ خیر فہرست سازی کی بجائے چند اقسام کی غلطیوں کی نشاندہی کیے دیتا ہوں ۔


زبان کو برتنے میں علی اکبر ناطق صاحب بہت واضح قسم کی غلطیاں کر جاتے ہیں اور بعض اوقات تو ایسی کہ بیانیے کے اندرسخت ناگوار گزرتی ہیں ۔ درج ذیل جملے ملاحظہ کیجیے اور ناطق صاحب کی لسانی مہارت کی داد دیجیے:


۱۔ ولیم نے چاروں طرف غائر نظر ماری۔ ص:25۔(غائر نظر غور سے دیکھنے کو کہتے ہیں اور نظر مارنا سرسری دیکھنے کو کہتے ہیں ۔ یوں ’غائرنظر ماری ‘شترگربہ بنا ہوا ہے۔)


۲۔ ولیم کو سرسری نظر میں ان کی باہر نکلی ہوئی توندیں اور بغیر بالوں کی چندھیائیں دِکھنے سے باز نہ رہ سکیں ۔ ص:27(اللہ بخشے۔ چھٹی جماعت میں انگلش کے استاد کے پڑھائے گئےPassive voiceکے جملے یاد آگئے۔ وہ اردو میں اسی طرح لکھواتے تھے۔ مالی کی طرف سے پودوں کو پانی دیا گیا۔ جاوید میاں داد کی طرف سے ایک شاندار سنچری بنائی گئی۔)


۳۔ ہیلے نے کچھ دیر ولیم کی نیلی آنکھوں میں ، جن میں ہلکا سبز رنگ بھی گھلا تھا، دیکھتے ہوئے ایک بھرپور خاموشی کا سوال کیا۔ ص:29۔(’بھرپور خاموشی کا سوال‘ قابلِ دا د ہے۔)


۴۔ وہ کچھ دیر ضرور باہر کی ہوا دیکھتا مگر سفر کی تھکاوٹ نے اسے اس بات پر آمادہ نہ ہونے دیا۔ ص:25۔ (ہوا دیکھنے کا محاورہ کمال ہے)


۵۔ باقی تمام اضلاع میں اتنی نفری کسی بھی علاقے سے نہیں مل سکی تھی۔ ص:330(کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ اتنی نفری کسی اور ضلعے سے نہیں مل سکی تھی۔)


۶۔ یہ شان و شوکت تو واقعی غلام حیدر کی ذات کو نوابوں سے کم نہیں دکھاتی تھی اور ان سب سے بڑھ کر وہ رائفل جو اپنے کارنامے بھری دنیا کی انگریزی سرکار میں دکھا چکی تھی۔ ص: 343(بھری دنیا کی انگریزی سرکار؟؟؟)


۷۔بیر سنگھ بولا:’’ سودھا سنگھ کو اس کی حویلی میں گرفتار کر کے لائوں گا۔‘‘ ص:114(حالانکہ کہنا یہ ہے کہ حویلی میں سے گرفتار کر کے لائوں گا۔)


۸۔ حویلی کے دروازے کی بلیّوں کے بند کرنےن کے حوالے سے انہوں نے دو جگہ پر بالکل متضاد محاورہ استعمال کیا ہے۔ پہلے لکھا تھا :
’’حویلی کے سب دروازوں کی بلیّاں چڑھا دی گئیں ۔ ‘‘ ص:20
پھر دو ہی صفحوں کے بعد ان بلیّوں کے متعلق محاورہ یوں بدل گیا۔
’’پیت سنگھ نے اٹھ کر پھر دروازے کی بلّی گرا دی ‘‘۔ ص:23
دروازہ بند کرنا ہو تو یابّلی چڑھانے کا محاورہ استعمال ہو یابّلی گرانے کا محاورہ استعمال ہو۔ایک دوسرے کے متضاد محاورے استعمال کر کے زبان کا ستیا ناس کر دیاگیا۔


۹۔ غلام حیدر نے جہاں سے بندوق حاصل کی، وہاں سب لوگ پڑھے لکھے تھے۔ وہاں جب بندوق کا ذکر آیا تو اس کے لیے بندوق کا لفظ استعمال ہوا۔ ص:34۔ جب کہ گائوں میں جب گائوں کے ان پڑھ دیہاتی اس بندوق کو دیکھتے ہیں تو وہاں ان کے نقطۂ نظر سے بتاتے ہوئے ہر دفعہ رائفل کا لفظ استعمال ہوا۔ ص:52


۱۰۔ سب سے مزے کے جملے تو وہ ہیں جہاں حرفِ ندائیہ پنجابیوں کی بجائے اہلِ زبان کا سا ہے۔۔ ایک جگہ شریفاں اپنے بیٹے فضل دین کو یوں جھڑکتی ہے۔’’کیوں بے۔ اتنی دیر کیوں لگا دیتا ہے۔ ‘‘ ص: 16۔دوسری جگہ ملک رفیق پائولی یوں کہتا ہے:’’ اچھا میاں بہزاد،میں بھی چلتا ہوں ۔‘‘ص:194۔( یوں لگتا ہے جیسے فیروز پور کے دیہی علاقے کی بجائے دہلی کی گلی قاسم جان میں پہنچ گئے ہوں ۔ )


زبان کی ان بنیادی غلطیوں کے علاوہ جملوں میں کئی غلطیوں سے محسوس ہوتا ہے، انہوں نے بہت محنت سے زبان کا یہ خراب تاثر پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ زبان کو سنوارنے میں شاید اس سے کم محنت کرنا پڑتی جتنی اس طرح بگاڑنے میں کی جا سکتی ہے۔ اکثر جگہوں پر ناطق صاحب نے جملہ ایسے لکھا ہے کہ جی چاہتا ہے انہیں اردو سکھانے کے لیے دو تین مہینے کا ابتدائی کورس کروانے کے لیے کہیں یورپ یا جاپان وغیرہ میں داخلہ دلوا کر اردو بطور ثانوی زبان کا کورس کروا دیا جائے تا کہ ایسی بنیادی غلطیوں پر انہیں ثانوی زبان کی رعایت دی جا سکے۔ واضح ہے کہ لکھتے وقت بھی دھیان نہیں دیاگیا اور بعد میں انہیں پڑھنے کی بھی زحمت نہیں کی گئی۔ ذیل میں صرف چنیدہ جملے دیے جارہے ہیں ورنہ اس طرح کی مثالیں انہوں نے پورے ناول میں جا بجا بکھیری ہوئی ہیں ۔


۱۔ ’’یہ منظر لورین اور میرے لیے محظوظ کیفیت پیدا کر دیتا۔‘‘ ص:10
۲۔’’فضل دین اس سب کچھ میں کوئی تکلیف محسوس نہ کرتا بلکہ گھر گھر کے طرح طرح کے کھانے شاید ہی کسی کو نصیب ہوں ، کہ فضل دین کے لیے نعمت سے کم نہیں تھے۔ ‘‘ص:14
۳۔ ’’گول پاجامے سے پیٹ ڈھولکی کی طرح اتنا باہر نکلا تھا کہ اس میں پاجامے کی بیلٹ چھپ گئی تھی۔‘‘ ص:32(اس جملے میں غلطی تین سطح کی ہے۔ اول پاجامے میں بیلٹ کہاں سے آ گیا۔ دوسرے پاجامے سے پیٹ باہر نہیں آ سکتا، ((خطا معاف !!کچھ اور ہی باہر آ سکتا ہے)) اور اگر پیٹ باہر آ ہی گیا ہے تو پھر پاجامے سے نکلے پیٹ میں پاجامے کی بیلٹ تو زیادہ واضح ہونی چاہیے نہ کہ چھپنی چاہیے۔)
۴۔ ’’میں اور چراغ دین روز کی طرح رات وہیں رک گئے۔ چار بانس زمین میں گاڑ کر ہم نے اس پر لکڑیاں باندھیں اور اس کے اوپر پرالی پھینک کر چھ فٹ اونچا چھپر بنا لیا۔ اس پر چڑھ کر رکھوالی کے لیے لیٹ جاتے۔ ‘‘ص:38(شروع میں ماضی مطلق کا صیغہ چل جا رہا تھا ، آخر پر اسے ماضی استمراری کا بنا دیا گیا۔ )
۵۔’’دونوں نے ہاتھ سے بُنے ہوئے کھدر کے کھیس اوڑھ رکھے تھے جن کے کناروں پر سرخ اور سوت ہی کے دھاگے کی نیلی ڈوریاں بندھی تھیں ۔‘‘ص:75(سرخ رنگ کی نیلی ڈوریاں ۔ واہ۔ مصنف کو سات فرشی سلام سے نوازا جائے۔ )
۶۔ ولیم نے سودھا سنگھ کی حویلی میں سودھا سنگھ سے ملتے وقت کہا:’’ سودھا سنگھ ہم آپ کے جھنڈو والا میں آئے ہیں براستہ جودھا پور۔ کیا آپ کو ہمارا اس راستے سے بغیر اطلاع دیے آنا پسند آیا؟‘‘ص:86(ایک تو اسسٹنٹ کمشنر یوں پوچھ رہا ہے جیسے اسسٹنٹ کمشنر نہ ہو،علاقے کا میراثی ہو۔دوسرے سمجھ نہیں آتا کہ ولیم کس بات کی پسندیدگی کا پوچھ رہا ہے۔ بغیر اطلاع آنے کا یا جودھا پور کے راستے آنے کا۔ )
۷۔اس کے علاوہ پوری کوٹھی اوپر سے لے کر پائوں کی اینٹوں تک سفید چونے اور ابرق میں نہلا دی گئی کہ دیکھنے والے کی آنکھیں سفید روشنی میں بہہ جاتیں ۔ ص:118(پھر مطلق اور استمراری کو ایک جملے میں ملا دیا گیا۔)
۸۔ کبھی کبھی دور سے کوئی واہگرو یا ست سری اکال کا نعرہ بلند کرتا تو سردار صاحب ہاتھ ہلا کر یا اسی طرح نعرے کے ساتھ اس کا جواب دے کر بغیر ٹھہرے آگے چلتا گیا۔ ص:125(یہاں بھی ایک ہی جملے میں دو صیغے مستعمل ہیں ۔ )
۹۔’’ اکا دکا لوگ جاگ اٹھے تھے جو ادھر ادھر کام میں اور اپنی فصلوں میں ہل وغیرہ جوتنے کے لیے نکل رہے تھے۔ ‘‘ ص:205(معلوم نہیں دنیا کے کون سے حصے میں فصلوں میں ہل چلایا جاتا ہے۔ پنجاب میں تو کھیتوں میں ہل چلتا ہے۔)
۱۔ ’’اللہ کا دیا بڑا فضل ہے۔‘‘ ص:233
۱۱۔’’ادھر فضل دین کا لاہور کے کالج میں پڑھنے سے فضل دین اب بچپن میں ہی مولانافضل دین بن چکا تھا۔ ‘‘ ص: 310(جملے کی قواعدی لایعنیت اپنی جگہ۔ یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ جو لڑکا تیرہ سال کی عمر میں سکول داخل ہوا تھا، وہ کالج پڑھنے کے بعد بھی بچپن کی عمر میں کس عدالت کے سٹے آرڈر کے تحت رکا ہوا ہے۔ )
۱۲۔ ’’ لوگ اللہ اکبر اور یا علی کے نعرے مارتے اپنی ڈانگیں اور برچھیاں لے کر چند لمحوں میں جمع ہو جاتے ۔ وہ برچھیاں جو انہوں نے رات اپنے سرہانوں کے ساتھ رکھی تھیں ۔ ‘‘ ص:361(صیغے پھر ملا دیے گئے۔ )
۱۳۔ اسی طرح غلام حیدرکی مفروری کے دوران یہ جملے لکھے گئے۔’’سچ پوچھیں تو اس تنگی کے پورے عرصے غلام حیدر کی دوستی کا نواب ممدوٹ نے حق ادا کردیا تھا۔ خرچے پانی کے علاوہ کسی چڑیا کو بھی پتا نہیں چلنے دیا کہ غلام حیدر کہاں ہے۔(یہ جملہ یقینافصاحت کے اعلی ترین اصولوں پر ایسا پورا اترتا ہے کہ کسی الہامی کلام کا شائبہ ہوتا ہے۔) اس بات کا غلام حیدر کو دل ہی دل میں احساس تھا اور وہ چاہتا تھا کسی طرح اس احسان کا بدلہ اتارے مگر وہ دن بھی نواب کی کوششوں کے بغیر نہیں آ سکتا تھا۔‘‘ ص:334۔ (اس آخری سطر کا مطلب سر توڑ کوشش کے باوجود سمجھ نہیں آتا۔ کون ایسا شخص ہو سکتا ہے جو احسان اتروانے کے لیےباقاعدہ کوشش کیا کرے۔)
۱۴۔ شاعر کو تلازمے کا تو ضرور علم ہوتا ہے۔ ناطق صاحب ایسے شاعر ہیں جنہیں یہ بھی خبر نہیں کہ جس جملے میں جو تلازمہ شروع کیا جائے، اس جملے کی حد تک اُسی تلازمے کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ ناطق صاحب کی مہارت ملاحظہ کیجیے:’’ہندوستان ایسی مرغی نہیں جو کُڑک ہو اور ہمیں انڈا دینے سے انکار کر دے۔ ہمارا سابقہ تجربہ بتاتا ہے، جس نے اس کی مٹی کے حلق میں پانی کے چند قطرے انڈیلے، اِس کے پستانوں نے اس کے کٹورے میٹھے دودھ سے بھر دیے۔ ‘‘ص:142۔( ناطق صاحب جہاں رہتے ہیں ، وہاں شاید ایسی مرغی بھی پائی جاتی ہو جس کے پستان مبارک بھی ہوتے ہوں اور ان میں سے میٹھا دودھ بھی برآمد ہوتا ہو۔)
مندرجہ بالا تمام جملوں میں تو غلطی جملے کے بنیادی ڈھانچے کی تھی۔ اب ہم علی اکبر ناطق صاحب کا ایک اور کمال دیکھتے ہیں ۔ لفظ ایک ایسی چیز ہے کہ اگر اسے مناسب جگہ استعمال نہ کیا جائے تو پورے مفہوم کو بگاڑ کے رکھ دیتا ہے۔ اچھا فنکار وہی ہے جسے لفظ کے استعمال کا شعور بھی ہو اور اس پر عبور بھی ہو۔ ایک ایک لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں اورایک لفظ کے کئی متبادل ہوتے ہیں ۔ فنکار نے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کون سا لفظ کہاں درست بیٹھتا ہے اور کس جگہ پر کون سا متبادل مناسب رہے گا۔ اگر اس احتیاط کے بغیر لفظ برتے جائیں تو پھر مصنف کہنا کچھ چاہتا ہو گا اور جملے کا مطلب کچھ اور بن جائےگا۔ علی اکبر ناطق صاحب کی زبان میں مناسبت کا یہ احساس ذرا بھی نہیں ہے اور پہلی فرصت میں جو بھی لفظ انہیں ملتا ہے، پھوہڑ طریقے سے وہی لکھ کر آگے چلتے جاتے ہیں ۔ احتیاط کے دامن کو چھونا تو کیا، اس کی ہوا بھی پاس سے نہیں گزرنے دیتے ۔ لفظ وہاں مناسب ہے یا نہیں ، اس کا مفہوم پوری طرح ادا ہوتا ہے یا نہیں ، اس بات سے انہیں کوئی غرض نہیں ۔ خیر لفظ سے زیادہ نمک حرام (بلکہ حرامی کہیں تو زیادہ مناسب ہے!!!)آج تک کوئی جنما ہی نہیں کہ جس کے ہاتھوں تخلیق پاتا ہے، اسی کے خلاف گواہی دینے کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔ کاغذی چولا پہن کے فریادی نقش بنا بیٹھا رہتا ہےتا کہ جو بھی اسے تحریر میں دیکھے ، گوشِ نصیحت نیوش ہو ۔ ذیل میں ہم علی اکبر ناطق صاحب کے کچھ جملے دیکھتے ہیں جہاں لفظ لفظ فریادی ہے ان کی اپنی ہی شوخیِ تحریر کا۔


۱۔’’اس نے شیر حیدر کے مرنے کی خبر سنی تو باغ باغ ہو گیا۔‘‘ ص:20(اصل قصور میٹرک کے اردو استاد کا ہے جنہوں نے ناول نگار کو محاوروں کو جملے میں استعمال کرنے والا سوال تیار نہیں کرایا ہو گا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اتنا عظیم مصنف ایسا عام سا محاورہ استعمال کرنے میں کیسے ٹھوکر کھا سکتا تھا۔ )


۲۔ ایک جگہ فوجا ، پیت سنگھ کو کہنا یہ چاہ رہا ہے کہ تمہیں بُوٹی اور دارو کے سوا کسی چیز سے تعلق نہیں لیکن وہاں لفظ نا مناسب استعمال کر کے پورا جملہ ہی خراب کر دیا گیا ہے۔ ’’تو نے اپنے پِتا کی عزت نہیں کی، میری کیا کرے گا…تجھے تو دارو اور بُوٹی کے سوا کوئی لہنا نہیں ۔‘‘ص:23(یہاں کہنا یہ مقصود ہے کہ بوٹی کے سوا کچھ لینا نہیں ، جبکہ لہنا کے معنی قسمت، نصیب، بھاگ ، مقدر وغیرہ ہوتے ہیں ۔)


۳۔’’ اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی گیدڑوں کی ہائو ہو اور کتوں کے بھونکنے کی آوازوں نے اس کا استقبال کیا۔ ان کریہہ آوازوں نے ڈسٹرکٹ کمپلیکس تک اس کو آزار پہنچایا۔‘‘ص:24۔(آزار لفظ کا استعمال بہت شاندار اور قابل داد ہے۔مرزانوشہ ہوتے تو کہتے کہ یہ جملہ مجھے دے دیں اور مجھ سے میری نثر کا تمام سرمایہ لے لیں ۔ )


۴۔’’ نوکروں سے لے کر متعلقین تک کے قدموں میں بوجھل پن کی کیفیت تھی جو ان کے دلوں پر وزن بڑھا رہی تھی۔ ‘‘ ص:40۔(بوجھ اور وزن ایک دوسرے کے متبادل نہیں ہو سکتے۔ مادی چیز کا بھاروزن کہلاتا ہے ۔ کسی قسم کے بھارکا احساس بوجھ ہوتا ہے۔)


۵۔ ایک جگہ سردار سودھا سنگھ کہتا ہے :’’چوہدری عبدل سوچنے کا وقت نہیں ، پربھو کا نام لے کر آج ہی کام شروع کر دو۔‘‘ص:67۔(پربھو کا لفظ ایک ہندو تو بول سکتا ہے، سِکھ نہیں ۔سِکھ رب بولتے ہیں اور پورے ناول میں ناطق صاحب نے سِکھ کے منہ سے یہ لفظ نہیں بلوایا۔)


۶۔ سودھا سنگھ غصے میں ہے اور اس کے متعلق یوں لکھا گیا ہے :’’آخر سودھا سنگھ نے ہمت کر کے اپنے اوسان مجتمع کیے، مونچھوں پر ہاتھ کی انگلیاں سرکائیں اور بولا…‘‘ ص:87(غصے میں اوسان خطا ہو جاتے ہیں ، یہ پہلی بار انکشاف ہوا ہے۔ورنہ اب تک تو ان کا خطا ہونا بد حواسی یا خوف سے مشروط تھا۔ مونچھوں پر ہاتھ کی انگلیاں سرکانے والا حصہ بھی تعریف سے مبرا نہیں ۔)


۷۔ ایک جگہ سودھا سنگھ وقت کا بیان یوں کرتا ہے:’’ ہرے سنگھ کو آوازدے کر سودھے نے پاس بلایا اور اسے فوراً شاہ پور جانے کے لیے کہا کہ جا کر عشاء تک فضلو کو لے آئے۔‘‘ ص: 102۔پھر ایک اور جگہ ولیم کے وقت بتانے کا انداز یوں ہی ہے:’’مالیکم دورے کو مختصر کرو اور ہیڈ سے ہو کر آج عصر تک جلال آباد پہنچو۔‘‘ص:181( سِکھ اور انگریز اپنی زبان میں نماز کے اوقات کو محاورہ میں جس خوب صورتی سے استعمال کرتے ہیں ، لگتا ہے کہ ناول کے اگلے صفحات میں ضرور اسلام کے حلقہ بگوش ہو جائیں گے۔)


۸۔ دو جگہ پر انہوں نے صاحب کا لفظ بھونڈے طریقے سے استعمال کیا ہے۔ پہلی جگہ جہاں جانسن جو کہ انڈین سول سروس کا ایک بہت بڑا افسر ہے، ایک تحصیل دار کوجانے کا حکم دیتا ہے ۔یہاں بیانیہ کچھ یوں ہے۔ ’’حکم دینے کے بعد جانسن پھر حنّا کی طرف متوجہ ہو گیا… اس کا مطلب تھا کہ تحصیل دار صاحب جا سکتا ہے۔ ‘‘ ص:239۔ دوسری جگہ پر مولوی کے لیے یہی لفظ یوں استعمال ہو ا ہے:’’سکول سے چھٹی کے بعد مولوی صاحب فارغ ہوتا۔‘‘
۹۔’’ دوپہر کا یہ کھانا دودھ، مکھن، جیم، اچار ، پلائو، روغنی روٹیاں ، کھیر اور دو تین قسم کے گوشت پر منحصر تھا۔‘‘ ص:243۔ (یقینا یہاں منحصرکی جگہ، مشتمل کا لفظ زیادہ موزوں تھا۔)


۱۰۔ ایک جگہ سکھوں کی بہادری کا تذکرہ ہے۔ ایک سکھ یوں ڈینگ مارتا ہے: ’’سرداروں کے سینے بھی مجھوں کے جگرے لے کے پیدا ہوتے ہیں ۔‘‘ص:262۔ (بہادری کے لیے مَجھ(بھینس) کی مثال پنجاب میں کہیں نہیں دی جاتی ہو گی۔ یہ ناطق صاحب کی اختراع ہے۔مَجھ کو زیادہ کھانے ، قوتِ ہاضمہ رکھنے یا زیادہ مار کھانے کے حوالے سے مثال سمجھا جاتا ہے۔البتہ تھوڑا آگے چل کر اتنی بہادری کا دعویٰ کر نے والا وہی سردار ، سودھا سنگھ کو کچہری پہنچانے کی اتنی لمبی بزدلانہ منصوبہ بندی کرتا ہے کہ قاری مصنف کا ہم نوا ہو جاتا ہے کہ شاید ایسی ’بہادری‘ کوہی مَجھ کا جگرا کہتے ہیں ۔)


۱۱۔ ولیم کی نوکری جلال آباد ہے ۔ اس نے کچھ دن اوکاڑہ رہنا ہے۔ رہنے کا انتظام کر رہا ہے اور ناطق صاحب یوں خامہ فرسائی کرتے ہیں :’’اس بات کا بھی خیال رکھا کہ اگر اسے چھٹیوں کے بعد جلال آباد منتقل ہونا پڑے تو اس لحاظ سے بنگلے کی بھی درستی کر دی جائے۔ص:271۔( یہاں ہونا پڑے کا صیغہ کھَلتا ہے۔ کیوں کہ اس کی وہاں نوکری ہے اور اس نے ضرور جانا ہے۔ )


۱۲۔’’بچاروں کی لاشیں خراب ہو رہی ہیں ۔ جتنی جلدی ہو سکے، ان کی ہوا کو آگ دے دینی چاہیے۔‘‘ ص:292۔ (لاشوں کے لیے مٹی کا لفظ سنتے آئے تھے۔ ہوا کا استعمال ناطق صاحب کے ساتھ مخصوص ہے۔)


۱۳۔دولت کو ٹھکانے لگا دینے کا محاورہ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب دولت کو بے رحمی سے لُٹا دیا جائے۔ لیکن ناطق صاحب نے یہ محاورہ دولت سنبھالنے کے مفہوم میں استعمال کیا۔ ’’کچھ نواب صاحب کا خرچہ، کچھ اپنی بچی کھچی دولت کو احتیاط سے برت رہا تھا، جو پانچ چھ کلو سونے اور ایک لاکھ چاندی کے روپوں کی شکل میں تھی۔یہ دولت غلام حیدر نے سودھا سنگھ کے قتل سے پہلے ٹھکانے لگا دی تھی۔‘‘ ص:333۔


۱۴۔ ’’یہ جگہ، جہاں غلام حیدر روپوش تھا، پنجاب سے باہر کشمیر کے دور دراز کے علاقے میں تھی۔ ‘‘ ص:333۔(یقینا اس جملے میں پنجاب سے باہر کے الفاظ فالتو ہیں ۔ ورنہ کشمیر لکھ دینے سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ جگہ پنجاب سے باہر ہے۔)


۱۵۔’’ یہ سردیوں کے عظیم اور مصروف دن تھے۔‘‘ص:336۔(سردیوں کے دنوں کو عظمت بخشنے کا سہرا علی اکبر ناطق کے سر ہی جاتا ہے۔)


۱۶۔ایک جگہ ملازمت کے آغاز میں ولیم کا آفیسر اسے ملازمت کے آداب سکھانے لگا ہے۔ اب اس کے مکالمے سن کر کہیں سے نہیں لگتا کہ وہ کوئی سول آفیسر ہے۔’’ولیم ، اسٹیج پر آنے کے بعد اسٹیج سے باعزت اترنا زیادہ اہم ہے۔ آپ ایک ایسے ناٹک کی طرف جا رہے ہیں جس میں ایک سین ایک ہی بار شوٹ ہوتا ہے۔ ری ایکٹ کرنے کی گنجائش نہیں ۔ چنانچہ پہلی ہی بار پرفیکٹ ہونا ضروری ہے۔ جہاں اسٹیج کے اصولوں کی خلاف ورزی کی، وہیں ذلت اٹھائو گے۔ ‘‘ص:30۔(اداکاری کے تلازمے کا استعمال ہیلے کی طبیعت سے کیا تعلق رکھتا ہے، اس کا کوئی جواز نہیں ۔ دوم؛ ناٹک میں سین شوٹ کہاں ہوتے ہیں ۔شوٹ کالفظ فلم یا ٹی وی کی ٹرم ہے۔ سوم؛یہ بات ایسے لگتی ہے جیسے بالی ووڈ کی انڈر ورلڈ فلموں کے کسی کردار کی زبانی سنی ہوئی ہے۔)


۱۷۔ ولیم کی بیوی کیتھی اس کے ساتھ بحث کرتی ہے کہ انڈیا آزادہونے کے بعد انگلستان واپس جانا ہے۔ ولیم آمادہ نہیں ہوتا۔ اس موقع پر کیتھی کہتی ہے۔ ’’ولیم اگر تم اپنی حماقت پر قائم رہے تو میں اپنے بچوں کو اس جلا دینے والی زمین سے نکال کر لے جائوں گی۔‘‘ص:358۔ (کیتھی کا یہ کہنا عجیب محسوس ہوتا ہے۔ وہ 1935ء سے لے کر 1947ء تک اسی زمین پر رہی ہے۔ اگر ملک آزاد نہ ہوتا تو اور بھی رہ لیتی ۔ لیکن اس جملے کا انداز یوں ظاہر کرتا ہے جیسے اس کے لیے اس گرم خطے پر دو دن رہنا بھی دشوار ہے۔ )


۱۸۔’’غلام حیدر نے غصے سے شدیدنفرت پیدا کرتے ہوئے کہا۔ ‘‘ ص:40۔


۱۹۔’’مولوی کرامت نے ایڑیوں کے بل کھڑے ہو کر ٹینکی میں نظر ماری تو وہ بالکل صاف تھی، پانی کا ایک قطرہ تک نہ تھا۔ ‘‘ص:60۔ (حالانکہ ٹینکی کبھی بھی ، کہیں بھی اتنی خالی نہیں ہو سکتی کہ اس میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہ رہے۔)


۲۰۔آخر پر دو مثالیں انتہائی شاہکار قسم کی ہیں ۔ 1947ء کے فسادات کا وقت ہے۔ایک جگہ پر منظر نگاری یوں کی گئی ہے:’’واہگرو کی جَے، ست سری اکال اور اللہ اکبر کا آوازہ بلند چوراہوں ، راہوں ، نہر کی پٹڑیوں اور ہر اس جگہ پر گونجنے لگا جہاں کوئی بے دست و پا نظر آیا۔ انگریزی نظام کی تمام کڑیاں ایک ہی ہلے میں کٹ کر گر گئیں ۔ پولیس معطل اور نظام ثقہ کا سکہ رائج ہو گیا۔‘‘ ص:362(اس کوتاہی پر داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ ایک تو لفظ سقہ کی املا غلط ہے۔ دوسرے نظام سقہ کا سکہ رائج ہونے کا محاورہ افراطِ زر اور کساد بازاری کے لیے استعمال ہوتا ہے، سیاسی ابتری اور خونی فسادات کے لیے اس کا استعمال نظام سقہ سے عدم واقفیت کی دلیل ہے۔ )


۲۱۔دوسری مثال بھی فسادات کی ہے۔ غلام حیدر اپنے قافلے کے ساتھ پاکستان کی طرف جا رہا ہے۔ایک جگہ پر اس کا حال یوں لکھا گیا ہے۔ ’’چلتے چلتے ایک جگہ سے قافلہ گزرا تو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ نہر بنگلہ ، جسے ولیم کے نہری عملے نے بنایا تھا، کی پٹڑی پر چار کلومیٹر تک لاش کے ساتھ لاش جوڑ کر اس طرح رکھی ہوئی تھی کہ ایک مرد کی لاش، اس کے بعد عورت کی لاش پھر مرد کی لاش تھی۔‘‘ ص:374۔ (تقریباً چار ہزار لاشیں ، کہ ایک لاش زیادہ سے زیادہ ایک میٹر جگہ ہی گھیر سکتی ہے، دیکھ کر قافلے کا ردِ عمل جو تھا، اس کے لیے ناطق صاحب کے ذخیرۂ الفاظ میں سے صرف ’حیران‘ کا لفظ برآمد ہوا۔ سفاکی اور بربریت کی انتہا دیکھ کربھی قافلے کے مردوں ،عورتوں اور بچوں کو صرف حیرت ہوئی ۔ جو اسی ناول کے شروع میں محض ایک انگریز افسر کو اپنے گائوں میں کھڑا دیکھ کر ہو جاتی تھی۔کم از کم ان دونوں واقعات کے فرق کو تو سمجھ جاتے۔ ناطق صاحب کو، اردو کے کئی ناول نگاروں کی طرح فسادات دکھانے کا شوق تو ہے لیکن اس المیے کے لیے ان کے پاس مناسب الفاظ کی اس قدر کمی ہے کہ ہزاروں افراد کی موت دکھا کر بھی صرف حیرت کا احساس پیدا کرسکے۔ )


بیان میں یہ بھی ملحوظ رکھا جانا چاہیے کہ جس زمانے کے متعلق بات ہو رہی ہے اس زمانے سے آگے کے حالات نہ بتائے جائیں اور نہ ہی ان کے متعلق کوئی اشارہ دیا جائے۔ یعنی اگر صلاح الدین ایوبی کے متعلق ناول لکھا جارہا ہو تو یہ کہنا مطلق بے معنی ہے کہ اگر اس کے پاس جنگی طیارے ہوتے تو یروشلم دو دن میں فتح ہو سکتا تھا۔ اس طرح کے جملے ناول کے ناول ہونے کا احساس ختم کر دیتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ کوئی وقائع نگار کسی گزرے دور کے حالات تحریر کر رہا ہے۔ دوم؛ گزشتہ زمانے کے متعلق لکھتے وقت ، ان کے ماحول کی جزئیات بتاتے وقت یہ انداز بہت ہی بچگانہ سا لگتا ہے کہ وہاں اتنی ہی چیزیں تھیں ، جتنی اُس دور میں ہوتی تھیں ۔ یا اس نے وہی کپڑے پہنے تھے، جو اُس دور میں پہنے جاتے تھے وغیرہ وغیرہ۔اگر مصنف کو ان چیزوں پر عبور نہیں ہے تو پھر اس ماحول پر لکھنے کا تکلف ہی نہ کرے۔ علی اکبر ناطق صاحب یہ نزاکت نہیں سمجھتے۔بہت سی جگہوں پر انہوں نے ایسی ہی ٹھوکر کھائی ہے۔ میں یہاں وہ جملے پیش کرتا ہوں ، قاری خود دیکھ سکتا ہے کہ ان جملوں کی کسی بیانیے میں کیا حیثیت بنتی ہے:


۱۔ اتنے سال پڑے رہنے کے بعد کپڑوں کی تہیں اتنی جم گئیں اور سلوٹیں اتنی سخت ہو گئی تھیں جو کسی استری سے بھی جلد نہیں نکل سکتی تھیں ۔ جس کا وجود ویسے بھی وہاں نہیں تھا بلکہ مولوی کرامت نے تو ابھی تک استری کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ ص:213


۲۔ امیر سبحانی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اکیلے ہی چلتا جا رہا تھا۔ اس کی جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہ تھی اور نہ دور نزدیک کوئی رشتہ دار تھا، نہ پرسانِ حال… اس کے علاوہ امیر سبحانی نہ کسی پٹواری کو جانتا تھا اور نہ اس کا ربط ضبط کسی تحصیل دار یا قانون گو کے ساتھ تھا جو اس کو مہاجر تسلیم کر کے اس کے نام چار ایکڑ زمین ہی لگا دے۔ اسے تو یہ بھی خبر نہیں تھی کہ جس غیر ملک میں وہ آیا ہے، اس میں اس طرح کے محکمے بھی موجود ہیں ۔ ص:379


۳۔ پنجاب کے چھوٹے دیہاتوں میں جو مسجدوں کی حالت ہوتی ہے، یہ مسجد بھی ان سے مختلف نہ تھی۔ ص:58


۴۔ چرخے پر کاتے گئے دھاگے سے بُنا ہوا کھدر کا کھیس کاندھے پر تھا جس کا ایک پلو اس نے دائیں بغل سے نکال کر بائیں کاندھے پر ڈال لیا تھا۔ اس طرح کھیس کاندھے پر رکھنے کا رواج پنجاب کے اکثر بڈھوں میں تھا۔ص:165


۵۔ ہندوستان اور اس میں بھی خاص کر پنجاب میں خیال رکھا جاتا ہے کہ مقصد کی بات کرنے کے لیے کچھ آداب ملحوظ رکھے جائیں اور ملتے ہی اپنا رونا نہ رو دیا جائے۔


۶۔پنجاب کے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ گھروں میں جھاڑے پیشاب کے لیے جگہ بنائی جائے۔ ص:251


نہ جانے اس بیانیے کا راوی ہے کون اور کس کے لیے بیان کر رہا ہے۔
ناطق صاحب کو واحد جمع اور مذکر مونث کی بھی سمجھ نہیں ہے جو شاید ہائی اسکول کی سطح پر ہی سکھا دی جاتی ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔
۱۔ ’’ان دنوں چیف سیکرٹری صاحب کے موڈ اچھے نہیں تھے۔‘‘ص:24


۲۔’’برآمدے کے عین درمیان مسجد کے صحن میں داخل ہونے کے لیے لکڑی کے تختوں کا دروازہ تھا، جس پر لوہے کا زنجیر لٹکا رہتا۔‘‘ص:59
ناطق صاحب نے مکالمے کے اندر خطابیہ الفاظ استعمال کرنے میں کئی جگہ پر ٹھوکر کھائی ہے۔ مخاطب کو کبھی آپ، کبھی تم اور کبھی تُو کہا جانے لگتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے۔ مثلاً


۱۔ غلام حیدر رفیق پاولی سے کہتا ہے کہ سودھا سنگھ کو میرا پیغام دے دو۔ آگے لکھا ہے:’’یہی کہ سکھڑے اب واہگرو سے جو مدد مانگنا ہے ، مانگ لے کیوں موت اسے زیادہ مہلت نہیں دے گی۔ ‘‘غلام حیدر نے غصے سے شدید نفرت پیدا کرتے ہوئے کہا جیسے کہہ رہا ہو کہ میں تیرے واہگرو کو بھی دیکھ لوں گا۔ص:39۔(اس سے تم پر آ گیا)


۲۔ملک بہزاد غلام حیدر سے مخاطب ہے:’’بھتیجے مجھے آپ سے کچھ باتوں کے جواب سیدھے سیدھے چاہییں ۔ اس کے بعد میں اپنی رائے دوں گا کہ اس قضیے میں کیا کرنا ہے۔ میری طبیعت سے تو اچھی طرح واقف ہے۔ اگر تیرا باپ بہشتی زندہ ہوتا تو اس سے یہ باتیں کرنے کی نوبت نہ آتی…‘‘ ص:194


۳۔پیشیاں ہوں گی، کبھی تم نہیں جا سکو گے، کبھی ملزموں کی طرف سے حاضری نہیں ہوگی… کبھی ان کا پلڑا بھاری، کبھی آپ کا پلڑا بھاری۔‘‘ص:195


۴۔ تیرے تین آدمی قتل ہو چکے ہیں ، دو گائوں پر حملہ ہوا ہے۔ تیری فصلیں تباہ کی جاچکی ہیں اور مزید کی تجھے توقع رکھنی چاہیے کہ ابھی تو ابتدا تھی۔ اب رہی بات ملزموں کی تو جن ملزموں کو پرچے میں آپ نے نام زد کیا ہے۔ وہ گرفتار تو ہو سکتے ہیں ، لیکن ان کو سزا نہیں ہو سکتی ۔‘‘ ص:195
ان تینوں مذکورہ بالا جگہوں پر ملک بہزاد اور علی اکبر ناطق دونوں کویہ واضح نہیں ہے کہ غلام حیدر کو مخاطب کیسے کرنا ہے۔چلیں ، مزید آگے دیکھتے ہیں :


۵۔ جانسن صاحب تمہارے بارے میں بہت فکر مند ہیں ۔ وہ کہہ رہے تھے فیروز پور سے بھی ان کی رپورٹس اچھی نہیں آ رہیں اور یہ کہ ولیم گورنمنٹ سے زیادہ رعایا کا وفادار ہے۔ اس بات کے اثرات اس کی ملازمت پر برے پڑیں گے۔ ‘‘ ص:241


۶۔ ایک اور جگہ ولیم کیتھی سے یوں مخاطب ہے:’’میں نے تمہیں پہلے کہا ہے، مجھے نہ کسی اور زمین سے غرض ہے ، نہ میں نے کبھی دہلی، لکھنٔو یاکلکتے کو پسند کیا…‘‘ اور پھر 7سطروں کے بعد کہتا ہے:’’دیکھو اب مجھے نہ سمجھانے کی کوشش کرنا، نہ نصیحتوں کی انجیل پڑھانا اور نہ ہی مجھے میرے اور اپنے بچوں کے واسطے دینا ، یہ بچے جو میں نے اور آپ نے مل کر پیدا کیے ہیں ۔‘‘ص:357


ناطق صاحب کو یہ واضح ہی نہیں ہوتا کہ کس کردار نے کن الفاظ میں دوسروں کو مخاطب کرنا ہے اور اگر یہ طے ہو بھی جائے تو اگلا مرحلہ ناطق صاحب کی ان بے احتیاطیوں کا ہے جو انہوں نے ایک پھوہڑ عورت کی طرح جا بجا بکھیری ہوئی ہیں ۔ مثلاً:


۱۔’’نیاز حسین نے جب سودھا سنگھ کے حملے والا واقعہ غلام حیدر کو سنایا تو اس میں دو جملے ایسے ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں بنتا ۔
’’رات کے دو پہر نکلے تھے۔ دھند نے چاندنی ختم کر دی تھی… بس ایک دو پل میں ہی رت کے پرنالے بہہ گئے۔ ص:39۔(رات کا وقت ہے، اتنی دھند ہے، نیاز حسین چھپ کر دیکھ رہا ہے اور اسے خون بہتا دکھائی دے رہا ہے۔)


۲۔غلام حیدر نے یہ واقعہ سن کر دو جملے ایسے بولے جو خاندانی دشمنی کا پروردہ کوئی بھی آدمی سمجھ سکتا ہے کہ ایک آدمی کبھی نہیں بول سکتا ۔ دونوں جملے متخالف مزاج کے حامل ہیں ۔


’’میں تحصیل جا کر کمشنر سے بات کرتا ہوں ۔‘‘
’’سکھڑے اب واہگرو سے جو مدد مانگنا ہے، مانگ لے کیوں موت تجھے زیادہ مہلت نہیں دے گی۔‘‘ کمشنر سے بات کرنا اور موت کی دھمکی دینا دو متضاد دعوے ہیں جو دشمنی کی روایت میں ایک آدمی کے منہ سے ادا ہونے ناممکن ہیں ۔


۳۔اس وقوعے کے بعد رفیق پاولی شام چار بجے آدمیوں سمیت پیدل جودھا پور روانہ ہوا جو جلال آباد سے بارہ میل دور ہے، صبح سات بجے وہاں سے آدمیوں سمیت واپس بھی آ گیا۔ اگر یہ آدمی بہت تیز بھی چلے تو بارہ میل تین گھنٹوں میں طے کیا ہوگا۔ سردیوں کا موسم ہے۔ رات سات بجے وہاں پہنچے ہوں اور اسی رفتار کو دیکھا جائے توواپسی کے لیے صبح چار بجے وہاں سے چلے ہوں گے۔ صبح سات بجے واپس پہنچ کر رفیق پاولی نے بتایاکہ کھوجیوں نے کھرے دیکھے ہیں ۔ وقت کے حساب سے معلوم ہوتا ہے کہ کھوجیوں نے عشاء کے بعد اور فجر سے پہلے کھرے دیکھے ہیں ۔ ان کھوجیوں کو قدرت نے ضرور اعلیٰ درجے کی نورانی آنکھیں ودیعت فرمائی ہوں گی جو اتنے اندھیرے اور دھند میں بھی دیکھ سکتی ہوں ۔


۴۔ علی اکبر ناطق صاحب نے دیگوں کا ذکر بڑی فیاضی سے کیا لیکن یہ حساب انہیں نہیں معلوم کہ ایک دیگ کتنے لوگوں کے لیے پکتی ہے۔ شیر حیدر کے مرنے پر سینکڑوں لوگ جمع تھے۔ سینکڑوں کے لفظ سے تعداد کا صحیح تعین نہیں ہو سکتا لیکن آگے چل کر چراغ دین کے قتل کا سن کر لوگ دگنا ہو گئے تو بتایا گیا کہ اب مہمانوں کی تعداد چھ سو ہو گئی۔ (ص:42 سطر:5)اب یہ تصدیق ہو تی ہے کہ ماقبل مہمان 300تھے۔ اور اندازہ کریں کہ ان تین سو مہمانوں کے لیے پچاس کے قریب دیگیں چڑھائی گئی تھیں ۔ (ص:36) یعنی چھ مہمانوں کے لیے ایک دیگ۔ شاید ناطق صاحب کو کبھی دیگ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا یا پھر گھر میں کبھی مہمانوں کی تواضع کے لیے دیگ پکوانے کا اتفاق ہی نہیں ہوا۔یا شاید غلام حیدر کے مہمان جنات کے پیٹو قبیلے سے تھے۔ دیگوں کا یہی تناسب انہوں نے ص:341پر دوبارہ اسی بے احتیاطی کے ساتھ پیش کیا جہاں سینکڑوں لوگ مبارک سلامت کے لیے جمع ہیں اور ان کے لیے سینکڑوں دیگیں چڑھی ہوئی ہیں ۔ سینکڑوں سے تعداد تو واضح نہیں ہوئی لیکن اندازاً فی دیگ کم از کم 1مہمان اور زیادہ سے زیادہ 10مہمان بنتے ہیں اور دونوں ہی ناممکن ہیں ۔


۵۔جس وقت سودھا سنگھ کے آدمیوں کے کھرے پکڑے جاتے ہیں تو رفیق پاولی یوں اطلاع دیتا ہے۔:’’وہ خاص سودھا سنگھ کے ہی بندے ہیں ۔ دمّا سنگھ، ہاسو وٹو، رنگا اور متھا سنگھ۔ متھا سنگھ مّنا پرونّا بدمعاش ہے، جس کے کھُرے کھوجی نہیں بھول سکتے ۔ یہ خاص سودھا سنگھ کا بندہ، علاقے کا سب سے بڑا غنڈہ ہے۔ پولیس اس پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتی ہے۔ سودھا سنگھ ہر مشکل کام اسی سے لیتا ہے۔ سنا ہے کئی بندوں کا قاتل ہے۔ ڈانگ سوٹے اور کرپان چلانے کا اتنا ماہر کہ اکیلے ہی دس دس بندوں کو پھٹڑ کر کے صاف نکل جاتا ہے۔ باقی کے تین بھی بہت خطرناک ہیں ۔ ‘‘ص:43-44۔ اس بیان سے احساس ہوتا ہے کہ سودھا سنگھ کا سب سے اہم آدمی متھا سنگھ ہے جب کہ باقی تین اوسط درجے کے غنڈے ہیں ۔ لیکن آگے ص:260پر ایک ایسا بیان ہے جو اِس احساس پر پانی پھیر دیتا ہے۔ لکھتے ہیں :’’رنگا کے مارے جانے کی وجہ سے سودھا سنگھ کی طاقت آدھی رہ گئی تھی۔‘‘اب یہاں مسئلے دو ہیں ، ایک تو رنگا سنگھ مرا ہی نہیں ، دمّا سنگھ مرا تھا ۔ دوسرے جو بھی مرا ہو، اگر خطرناک متھا سنگھ باقی ہے تو کسی اور کے مرنے سے طاقت آدھی کیسے رہ سکتی ہے۔
ناطق صاحب کے پاس الفاظ کا ذخیرہ تو بہت ہے لیکن وقت پر وہ ذخیرہ ان کا ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ اگر کوئی شاعر شعر لکھتے وقت کہہ دے کہ ’میرا محبوب اس قدر حسین ہے کہ میں بتا نہیں سکتا‘ تو یہ اس کا عجزِ بیان تصور ہو گا۔ عجزِ بیان بہت سی صورتوں میں سامنے آتا ہے لیکن اس کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ لکھنے والا اصل کیفیت کی بجائے غیر واضح ، مبہم اور غیر متعلق جملے لکھتاہے۔ بتا نہیں سکتا، آپ خود اندازہ کر لیں ،آپ سوچ نہیں سکتے، کوئی تصور نہیں کر سکتا، بیان محال ہے، تصویر نہیں کھینچی جا سکتی، کوئی شاعر ہو تو بیان کر پائے، آپ دیکھیں تو حیران رہ جائیں وغیرہ وغیرہ۔علی اکبر ناطق صاحب جو کہ شاعر بھی ہیں ، الفاظ کا بحرِ ذخار ہیں ، ان کا عجزِبیان صورتیں بدل بدل کر یوں بار بار ہمارے سامنے آتا ہے۔


۱۔ ’’کمرہ بیس فٹ چوڑا اور تیس فٹ لمبا تھا اور آرائش کے اعتبار سے اس قدر شاندار تھا کہ آنکھیں دیکھتے ہی دنگ رہ جائیں ۔‘‘ص:190
۲۔’’ عورتیں ایسے ایسے بین کر رہی تھیں کہ خدا کی پناہ۔‘‘ص:290
۳۔’’بارش ایسی شدید تھی کہ خدا کی پناہ۔‘‘ص:365
۴۔ اگر کسی نے گرمی اور دھوپ کے بارے میں اندازہ لگانے میں غلطی کی ہو اور اسے یقین نہ آ رہا ہو کہ گرمی کا دوسرا نام ذلت ہے جس کے بعد سوچنے سمجھنے کی تمام قوتیں سلب ہو جاتی ہیں تو اسے لا کر فیروز پور کے جیٹھ ہاڑ میں ڈبو دینا چاہیے۔‘‘ ص:359(یہ تمام بیان خاصا مضحکہ خیز ہے۔ ایک تو ناطق صاحب کا عجزِ بیان ہے کہ گرمی کی شدت بتا نہیں پائے اوراس ناکامی کے غصے میں قاری کو فیروز پور کی گرمی میں ڈبونے پر کمربستہ ہیں ۔ یہ ایسے ہی ہے ، جیسے ناول نگار لکھے کہ ہیرو کے کولہے پر گولی لگی اور بہت درد ہوا اور اگر آپ کو اس کے درد کا احساس نہیں ہو رہا تو آپ کے کولہے پرگولی ماردینی چاہیے تا کہ آپ کو اس کے درد کا احساس ہو۔ اس مضحکہ خیزی سے آگے یہ دیکھیں کہ گرمی اور ذلت کا آپس میں کیا تعلق ہے اور اگر ان دونوں کا کوئی تعلق ہے بھی تو ذلت کا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے کیا تعلق ہے؟)
۵۔’’ جودھا پوروالے اس بے جگری سے لڑ رہے تھے کہ شمشیر سنگھ حیران رہ گیا۔‘‘ ص:368
۶۔’’ اس ٹھہرے ہوئے موسم میں اداس کر دینے والی ایسی خاموش کیفیت تھی جس کو بیان کرنے کی کوئی قدرت نہیں ۔‘‘ص:402
محولہ بالا جملوں میں بیان کا عجز پوری طرح سامنے آ رہا ہے۔ ناول نگار کی لغت ختم ہو چکی ہے اور وہ ان جملوں کے ہوائی فائر کر کے کیفیت بتانا چاہ رہے ہیں ۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ اس طرح کیفیت تو بتائی نہیں جا سکتی ، الٹا اپنی قابلیت کی قلعی کھول رہے ہیں ۔ ان جملوں سے آگے چل کر ذیل کے جملے دیکھیے ، اس طرح کا اندازِ بیان فکشن کی تاریخ میں آج تک نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی یہ فکشن کی زبان ہے۔


۱۔ الغرض ولیم نے مولوی کرامت کی حالت بدلنے سے لے کر فیروز پور کی تحصیل جلال آباد کو اتنی ترقی دے دی کہ اسے محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا…‘‘ ص:311
۲۔ ’’کمرے میں بے شمار کانسی اور تانبے کے چھوٹے چھوٹے برتن تھے جن میں پراتیں ، دیگچے، ڈونگے، چھنے، پلیٹیں ، گلاس غرض ہر ایک کانسی اور تانبے کا برتن جو اس وقت پنجاب کے عام یا خاص بازار میں پایا جاتا تھا ، اس کمرے میں جمع تھا۔(یہاں پوری تفصیل بتا کر کہتے ہیں ) الغرض یہ کمرہ ایک اچھا خاصا نگار خانہ تھا جس میں پورے پنجاب کا گھریلو کلچر ایک ہی جگہ جمع تھا۔‘‘ص: 191
۳۔’’صبح کے آٹھ بج رہے تھے جس کا مطلب تھا کہ وہ پورے نو گھنٹے سویا ۔ اس قدر سکون کی نیند اسے شاید ہی کبھی آئی تھی۔ مختصر یہ کہ ناشتہ کرنے اور پوری طرح سے تیار ہونے کے بعد دس بجے کمرے سے نکلا۔ ‘‘ص:26
۴۔’’ مختصر یہ کہ ہم بیٹھے وہاں ندی کے پانی میں پائوں ڈالے آئس کریم کھا رہے تھے کہ اچانک مجھے وہی انگریز بڈھا نظر آگیا۔‘‘ص:423
فکشن میں الغرض، قصہ مختصروغیرہ جیسے الفاظ لکھنے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ آپ جو لکھتے چلے جارہے تھے، وہ آپ کو فضول لگا اور آپ نے مختصر کر دیا۔ جبکہ فکشن کا تقاضا ہے کہ اگر جملہ فضول ہے تو اسے قلم زد کرنا کیوں مناسب نہ سمجھا گیا۔
فکشن اور مضمون / کالم نگاری کے لکھنے میں ایک فرق یہ ہے کہ فکشن کا طرزِ تحریر بیانیہ ہوتا ہے، وضاحتی نہیں ۔ یہاں ہر جملے کے ساتھ اگلا جملہ ناگزیر طور پر جڑا ہوتا ہے۔ کڑی سے کڑی جڑتی ہے اور بیانیہ تشکیل پاتا ہے ، اگر کڑیوں کا سلسلہ غیر مربوط ہو یا پہلی کے بعد دوسری کڑی نہ ہو اور وہ دس کڑیوں کے بعد آئے تو یہ بیانیے کی کمزوری بن جاتا ہے۔علی اکبر ناطق صاحب کو یہ فرق نہیں معلوم اور وہ نہیں جانتے کہ کون سی بات کہاں بتانی ہے ۔ مثال کے طور پر درج ذیل اقتباسات ملاحظہ کیجیے:


۱۔ایک باب کا آغاز یوں ہوتا ہے:’’ ولیم کو جلال آباد میں آج چار سال ہو چکے تھے۔ وہ بنگلے سے نکل کر پیدل ہی کمپلیکس کی طرف چلنے لگا۔‘‘ ص:307۔(ان دونوں جملوں کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں اور پہلا جملہ تو ناول نگار نے یقینا بعد میں اضافہ کیا ہے جس سے الگ لگا ہوا ٹانکا نظر آتا ہے۔ )
۲۔غلام حیدر کے روپوش ہونے کے بعد اس کے گزشتہ دس سال کے حالاتِ زندگی کا خلاصہ بیان ہو رہا ہے۔ لکھتے ہیں :’’اس نے اپنی والدہ کو بھی پاس بلا لیا تھا جس کے اصرار پر وہیں شادی بھی کر لی۔‘‘ ص:333۔ اور پھرادھر ادھر کی بہت سی باتیں بتانے کے بعد اگلے صفحے میں جا سناتے ہیں :’’ اس عرصے میں غلام حیدر کے دو بیٹے بھی پیدا ہو چکے تھے جن میں سے ایک کی عمر چار سال تھی اور ایک دو سال کا تھا۔‘‘ منطقی طور پر دونوں کا ذکر اکٹھے ہی بنتا تھا۔
۳۔ ص:126پر لکھا ہے :’’اتنی دیر میں چھماں نے دور تک پھیلے ہوئے صحن کے ایک کونے میں جہاں دھوپ خوب نکل کر سفید ہو گئی تھی، چارپائی لگا دی۔ ‘‘یہاں تک ہمیں نہیں معلوم کہ یہ چھماں کون ہے، پھر اگلے صفحے پر ناطق صاحب لکھتے ہیں :’’چھماں جو گھر کی ملازمہ تھی، گھر کے بقیہ کام نمٹانے لگی۔‘‘ص:127۔(چھماں کی اس حیثیت کی اطلاع پہلی بار ذکر کرنے پر دی جانی چاہیے تھی۔)
بہت سی جگہوں پر ناطق صاحب خود بھی اپنا لکھا ہوا بھول کر تھوڑی ہی دیر بعد کچھ اور لکھ ڈالتے ہیں ۔ ایک ناول نگار کو اتنی بنیادی بات بتاتے ہوئے نقاد کو بھی شرم سی آئے گی کہ اپنا لکھا ہوا یاد رکھنا چاہیے۔ مثلاً


۱۔ ص: 311پر ولیم کے بچے کا پہلی دفعہ ذکر یوں کیا گیا:’’اب تو ان کا ایک بچہ بھی تھا جس کی عمر ڈیڑھ سال ہو چکی تھی۔‘‘اس بیان سے لگتا ہے کہ وہ لڑکا ہے لیکن اگلے ہی صفحے پر یوں لکھا ہے:’’کیتھی نے اپنی بیٹی کے لیے بنگلے کے صحن میں ایک نوابی قسم کا جھولا بھی بنوا لیا تھا۔‘‘ص:312
۲۔ چار بجے رفیق پاولی شیدے ، جانی چھینبے، سلام علی اور گامے کے ساتھ جودھا پور روانہ ہو گیا تا کہ معاملے کی پوری جانچ لے کر آئے اور چراغ دین کی بیوی کو غلام حیدر کی طرف سے پرسہ بھی دے۔ ادھر رفیق جودھا پورکی طرف روانہ ہوا، ادھر غلام حیدر زنانے کی طرف چلا گیا کیوں کہ پانچ بج چکے تھے اور یہ تحصیل کا دفتری وقت نہیں تھا۔‘‘ص:42۔ (نسیان کا مرض اتنا شدید ہے کہ دو سطر کے اندر ہی وقت کا اندازہ نہیں رہا۔)
۳۔ص:252پر لکھا ہے :’’منڈی میں جن اجناس کا لین دین تھا، وہ بھی مخصوص تھیں جیسا کہ جو، باجرہ، چنے اور گندم۔ ان کے علاوہ نہ ہی جلال آباد میں کوئی فصل تھی اور نہ بڑے پیمانے پر کسی اور شے کا کاروبار تھا۔‘‘(اس بیان کے متوازی یہ دھیان میں رکھنا چاہیے کہ سکھوں نے غلام حیدر کی 20ایکڑ مونگی کی فصل اجاڑی ہے اور دوم مصنف نے خود بھی کئی جگہ پر مکئی کا ذکر کیا ہے۔اس پہ مستزادمذکورہ فصلوں میں سے چنے اور گندم کی فصل کا کہیں ایک دفعہ بھی ذکر نہیں آیا جب کہ ربیع کا موسم ہے اور ان دونوں فصلوں کی تو پورے لینڈ اسکیپ میں بہتات ہونی چاہیے۔)
۴۔ایک پیرا گراف مثال کے طور پر پیش کرتا ہوں ، خرابی اس میں زیادہ نازک ہے۔ ولیم اپنے دفتر میں بیٹھا ہے اور یوں سوچ رہا ہے:’’پچھلے ڈیڑھ مہینے میں اسے کسی شادابی کا سامنا نہیں ہوا تھا۔ مسلسل چھوٹے بڑے چوہدریوں ، جمعداروں اور ذیلداروں کی ملاقاتیں اور ان کی بیہودہ گفتگوئیں محض بیزاری میں اضافہ کرتی چلی جاتی تھیں ، جو بغیر کسی کام کے اپنی مونچھوں کی چوڑائی اور پگڑیوں کا کلف دکھانے چلے آتے …اسے لمبی اور گھنی داڑھیوں سے آنے والی چھاچھ کی بو بہت ناگوار محسوس ہوتی اور اس سے بھی بڑھ کر ان کی بغلوں کے نیچے سے کپڑے کی تہہ پر جما ہوا گاڑھا زرد پسینہ اکثر ابکائی کا باعث بنتا…غلام حیدر کمرے میں داخل ہوا تو… ولیم میں تحیر کی ہلکی سی لہر دوڑ گئی۔ اسے امید نہیں تھی کہ یہ چھوٹا چوہدری اس قدر نفیس ہو گا۔ یہ تو شکل سے پڑھا لکھا لگ رہا تھا۔ سفید بوسکی کی قمیض اور لٹھے کی تنگ گھیرے والی شلوار ، پائوں میں کھُسے کی بجائے کلکتہ شو کمپنی کے لیدر والے بند جوتے، نہ سر پر پگڑی نہ کاندھے پر صافہ۔ ولیم نے سوچا، یہ تو بالکل الٹ ہوا۔ اسے اس طرح کے چھوٹے چوہدری سے پہلا واسطہ پڑا تھا جس کے لباس کی وضع قطع سے لے کر کمرے میں داخل ہونے کے عمل تک میں نفاست کا طور موجود تھا۔ ولیم کو جب اپنے قائم کردہ تصور کے ٹوٹنے کا صدمہ ہوا تو اس نے احتجاجاً غلام حیدر کے ساتھ وہی سلوک کرنے کا فیصلہ کر لیا جو وہ پہلے سوچے بیٹھا تھا، اس کا پہلا اظہار اس نے یہ کیا کہ کرسی سے اٹھے بغیر ہی بے دلی سے مصافحے کو ہاتھ بڑھا دیا جسے دیکھ کر غلام حیدر کو تعجب تو ہوا مگر فی الحال وہ اسے نظر انداز کر گیا۔‘‘ ص:46-47(سمجھ نہیں آتی کہ اگر گندے ہندوستانی سامنے آتے ہیں توو ہ ان سے کراہت محسوس کرتا ہے، اگر صاف ستھرا ہندوستانی سامنے آئے تب بھی وہی ردِ عمل دکھاتا ہے تو یہ سارا بیان آخر کس لیے ہے۔ سیدھا بتا دینا چاہیے کہ ہندوستانی جس طرح کا بھی آئے ، اسے کراہت ہی آتی ہے۔ اس پر اس نقاد کے جملے یاد آ جاتے ہیں جو اس ناول کو Love Letter to RAJکہہ رہے تھے۔ )
۵۔ص:60پر شریفاں مولوی کرامت کو بتا رہی ہے :’’میرا اکیلا بھائی مار دیا دشمنوں نے۔‘‘ اور اگلے صفحے پر مولوی کرامت سوچ رہا ہے کہ ’’راج محمد جودھا پور سے چراغ دین کی موت کی خبر لایا ہے مگر مولوی کرامت کے لیے یہ اچنبھے کی بات تھی کیوں کہ چراغ دین نہ تو بیمار تھا اور نہ ہی اس کی کسی سے دشمنی تھی۔‘‘ ص:61۔(جب یہ واضح ہو گیا کہ قتل ہوا ہے تو پھر بیماری کے متعلق سوچنے کی کیا ضرورت ہے۔)
۶۔’’اسے (ولیم کو) اپنے اور ایشلے کے ساتھ گزرے ہوئے ایسے وقت کی جھلکیاں یاد آنے لگیں جنہیں یاد کر کے وہ کچھ شرما سا گیا لیکن وہی جھلکیاں اسے مزید لطف اندوز کرنے لگیں اور وہ ایشلے کی ملاقات کے لیے بے چین ہو گیا۔ ‘‘ ص: 244۔ (اس بیان کا واضح مطلب ہم جنس پرستی کی طرف ہے لیکن اس کے علاوہ پورے ناول میں کہیں اس طرف اشارہ نہیں ہے ۔ ایشلے جب آتا ہے تو ولیم کی بہن لورین پر فریفتہ ہو رہا ہے، ولیم پر نہیں ۔ ایشلے اور ولیم کے آپسی تعلق پر اس سے قبل صرف ایک بیان ملتا ہے ۔ ص:8پر۔ لکھا ہے :’’اسے نہری کوٹھیوں میں گزرے ہوئے دن یاد آنے لگے۔ اس وقت وہ ابھی چھ سال کا تھا۔ اکثر اپنے دوست ایشلے کے ساتھ کھیلتے کھیلتے لڑ پڑتا پھر آپ ہی آپ صلح بھی ہو جاتی۔ پھر وہ اکٹھے ہی سکول بھی جانے لگے تھے اور ایک دوسرے کے بغیر اداس بھی ہو جاتے لیکن اب اس نے کتنے برس ایشلے کے بغیر نکال لیے تھے‘‘ اس پورے بیان میں کہیں بھی ہم جنس پرستی کی چھایا تک نہیں ہے اور چھ سال کی عمر میں آخر ان دونوں نے ایسے کون سے افعال سر انجام دے لیے تھے جنہیں یاد کر کے ولیم شرما رہا ہے۔)
۷۔ ’’ہندوستانیوں کی جہالت کا علاج مشکل ہے ورنہ تو چھ ماہ میں خربوزوں کے کھیت اور آموں کے باغ لہلہا اٹھیں ۔‘‘ ص:220۔(خربوزے اور آم میں کوئی مناسبت نہیں ۔ خربوزے کے کھیت ایک مہینے میں اور آم کے باغ برسوں میں تیار ہوتے ہیں ۔ )
۸۔ ’’ملک بہزاد کو خوف تھا کہ نواب صاحب (غلام حیدر کی مدد سے ) کہیں انکار نہ کر دیں ۔ لیکن جو قیمت ملک بہزاد نے غلام حیدر کو اس کام کے عوض ادا کرنے کا کہا تھا، اس پر اسے یقین تھا کہ نواب صاحب ضرور مان جائیں گے۔‘‘ ص:273۔( اس قیمت کا ذکر کہیں اور نہیں ملتا۔ بلکہ اس کے برعکس ہر جگہ یہی تاثر ملتا ہے کہ نواب نے دوستی کا حق ادا کیا ہے۔)
۹۔ ’’بینت کور نے سودھا سنگھ کو اپنے ہاتھ سے پانچوں ہتھیار باندھے۔ ‘‘ ص:280۔(شاید وہ پانچ ککے ذہن میں رکھے ہوئے تھے اور لاعلمی میں پانچ ہتھیار سمجھ بیٹھے۔)
۱۰۔بیان کے حوالے سے ایک جملہ تو شاہکار ہے۔ مولوی کرامت کے متعلق فرمایا گیا ہے:’’ تھوڑے بہت کتابی علم نے اسے معاملہ فہمی کا ادراک (معاملہ فہمی کا ادراک پر تین صاد)دے دیا تھا۔ اسی لیے وہ پچھلی تین پشتوں سے قصور میں اپنی امامت بچائے ہوئے تھا۔‘‘ص:77۔ (اس جملے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ مولوی کرامت معاملہ فہم تھا اس لیے اس کا باپ اور دادا اس گائوں میں کامیابی کے ساتھ امامت کر گئے۔ بھلا کرامت کی معاملہ فہمی کے ساتھ پچھلی دو پشتوں کی بقا کا کیا تعلق ہے۔)


زبان کے اس سارے تجزیے سے صاف نظر آتا ہے کہ ناطق صاحب کو زبان کے استعمال کاابتدائی شعور بھی نہیں ہے اور نہ ہی وہ زبان کے حوالے سے کوئی محنت کرتے ہیں ۔ بس جس طرح ذہن میں جملہ نازل ہوا،لکھ دیا۔ پھر اس لکھے کو مستند سمجھ کر چھپوا دیا جاتا ہے۔ نہ زبان کی صحت دیکھی جاتی ہے نہ بیان کی مناسبت پر دھیان دیا جاتا ہے۔ جملے کے جملے بے احتیاطی کا شاہکار ہیں ، پیرا گراف کے پیراگراف فالتو لکھے گئے ہیں اور اس کے باوجود جناب اپنے دوستوں سے اپنے قصیدے لکھوا لکھوا کر نہیں تھکتے۔’’ کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ کے ساتھ تقابل کا سُن کر حضرت کے ماتھے پر عرقِ ندامت بھی نمودار نہیں ہوتا۔ دعویٰ نبوت کا ہے اور ثبوت کے طور پر الفیل، ماالفیل لکھ کے پیش کی جا رہی ہے۔ ناول کی بنیاد ی اکائی کا شعور تک نہیں ہے اور پورا ناول تعمیر کرنے چل دیے ہیں ۔ انہیں دعویٰ ہے دیہی معاشرت پیش کرنے کا لیکن ان کی زبان سے دیہی ماحول کی جھلک تک نظر نہیں آتی۔ محض دو چار کرداروں کے نام پینڈو سٹائل رکھ کر، کہیں ایک آدھ لفظ پنجابی کا ٹھونس کر یہ جھلک نہیں پیدا ہو سکتی۔ اس کے لیے پورے بیانیے کو ، زبان کے سارے مزاج کو اسی ماحول میں گوندھ کر تعمیر کرنا پڑتا ہے۔ جیسے شوکت صدیقی صاحب کا’’جانگلوس‘‘ہے۔ناطق کے ہاں تو بعض جگہوں پر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک اجنبی آدمی، کسی اجنبی ماحول کی کہانی سنا رہا ہے۔ بالکل اسی رویے سے جیسے نو آبادیاتی نظام کے نمائندے مقامی کلچر کو مربیانہ انداز میں بیان کرتے ہیں ۔ ناطق صاحب نے بہت سی جگہوں پر مقامی کلچر کے ساتھ یہ رویہ اپنایا ہے۔


ناطق صاحب جس رفتار سے لکھتے ہیں ، اس سے صاف نظر آتا ہے کہ یہ الفاظ کے موتی بے دردی سے لٹانے کے عادی ہیں ۔ لیکن ایک بات ان کے سمجھنے کی ہے کہ آرٹ کے اندر سُچے موتی ہی چلتے ہیں ۔ جھوٹے موتی خود اپنی زبانی پکار پکار کر فنکار کے لیے جگ ہنسائی کا باعث بنتے ہیں ۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے آرٹ سے لوگ حظ اٹھائیں تو خدارا اپنے نقاد دوستوں سے اپنی تعریفوں کے پہاڑ کھڑے کروانے کی بجائے اپنے فن پاروں پر زیادہ سے زیادہ محنت کر لیں اور اگر محنت نہیں کریں گے تو یہ کھوٹے سکے ناقدین کی چرب زبانی کی بنیاد پر نہیں چل پائیں گے۔


ابھی ’’نولکھی کوٹھی‘‘ کے بیانیے اور زبان پر بات ہوئی ہے۔ اس ناول کے پلاٹ اور کرداروں پر بحث ابھی باقی ہے(جو اتنی ہی طویل ہوسکتی ہے) لیکن جس ناول کی بنیادی چیز ہی اتنی لغو ہو، اس کی اگلی چیزیں کس قدر فضول ہو سکتی ہیں ، اس کا اندازہ کرنا کسی بھی اچھے قاری کے لیے مشکل نہیں ۔ جس ناول کو لکھتے وقت فن کار نے اتنی محنت نہیں کی، اسے وقت نے خود ہی دو چار دہائیوں میں گرد بنا کے اڑا دینا ہے۔ کسی نقاد کو اسے رد کرنے کے لیے تردد کی ضرورت ہی نہیں ۔ البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر کسی کو اس ناول کے پہلے چند صفحات سے ہی اس کی لغویت نظرآجائے تو مصنف کے برے نام کی بجائے یہ سمجھ لے کہ اس کی پرکھ درست ہے اور یہ ایک عدد پھیکا پکوان ہے۔قاری کو چاہیے


اب آخر پرمعذرت چاہوں گا کہ آپ کو میرے اس آرٹیکل کی زبان انتہائی یبوست زدہ نظر آئے گی ۔ لکھتے وقت میں خود حیران تھا کہ اس قدر بیزار کن زبان میرے قلم سے کس طرح برآمد ہو رہی ہے۔ لیکن میں بھی کیا کروں ، پچھلے دس دن سے اس ناول کے ساتھ جھوجھ رہا ہوں جس کی زبان صفحہ ٔ اول سے لے کر آخر تک ایک ہی طرح سے بیزاری کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔ اگر آپ کو میرا یہ آرٹیکل پڑھنا عذاب لگ رہا ہو تو آپ ذرا خود سوچیں ، میں نے کس صبر کے ساتھ ناطق صاحب کو432صفحات تک برداشت کیا۔ میری اس بیزاری میں جتنا قصور ناطق صاحب کا ہے، اس سے زیادہ ناقدین کا ہے۔ نہ وہ اتنی تعریفیں کرتے اور نہ مجھے یہ ناول پڑھنے کی اتنی شدید ترغیب پیدا ہوتی۔ ناقدین خود تو کچھ اور پڑھتے نہیں اور عامیانہ اور سطحی قسم کے ادب کی بے جا تعریفیں کرتے رہتے ہیں ۔ سزا مجھ جیسے لوگوں کو بھگتنی پڑ جاتی ہے جو ادب سے کچھ سنجیدہ تقاضے رکھتے ہیں ۔اور جب ایسا کوئی قاری وہ ادب پڑھ لیتا ہے تو دوسری دفعہ ان ناقدین کے منہ سے ٹالسٹائی اور شیکسپئیر کی تعریف سن کر بھی ہول آتا ہے۔یہ نقادناول کو فن کے درجے پر پرکھنے کی بجائے اُس میں سے معاشرتی، سیاسی، تاریخی شعور کی بوری بند لاشیں برآمد کرتے رہتے ہیں ۔ جب کہ اِن علوم کے لیے اہلِ نظر نے علم کی پوری پوری شاخیں الگ قائم کر رکھی ہیں ۔ اگر کسی کو معاشرت، سیاست اور تاریخ سمجھنے کا شوق ہے تو وہ ان علوم سے استفادہ کر سکتا ہے۔ناول کی پہلی شرط آرٹ ہے۔ناول کو سب سے پہلے آرٹ ہی ہونا چاہیے، آرٹ کی شرط پوری کرنے کے بعد اگر ناول اِن چیزوں کا شعور بخشتا ہے تو وہ قابلِ قدرشمار کی جاسکتی ہیں ۔ آرٹ کی قیمت پر ہم سیاسی ، تاریخی اور سماجی شعور خریدنے والے نہیں ہیں ۔ہمارے نقاد یہ نہیں دیکھتے کہ فن پارہ فن کے معیار پر پورا بھی اترا ہے یا نہیں ، پہلا صفحہ پڑھتے ہی شور مچا دیتے ہیں کہ اس میں فلاں زمانے کی بات ہے اور عصری شعور ہے، سماجی حالات ہیں ، سیاسی آگاہی ہے، فلسفیانہ مباحث ہیں ، تاریخ کا گہرا مطالعہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ اب اگر پڑھنے والا مجھ جیسا جذباتی آدمی ہو تو پھر ادھار باقی نہیں رکھتا۔ موقع پر ہی ناقدین کو لوٹا کر حساب برابر کردیتا ہے۔ اور کچھ نہیں تو آئندہ انہیں ایسے فضول فن پارے کی بے جا تعریف کرتے ہوئے دس بار خود سے شرم تو آئے گی۔
٭٭٭٭٭٭

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

کمنٹ کریں