ایک کامیاب نابینا بزنس مین کی دلچسپ اور حیرت انگیز روداد

بزنس
بزنس

کامیابی کا تعلق انسان کی لگن، جستجو اور محنت کے ساتھ ہے۔ زندگی ایک جہدِ مسلسل کا نام ہے اور اس جدوجہد میں مشکلات، حالات کی ناسازگاری اور اونچ نیچ آتے ہیں، زندگی کے راستے خمدار ہونے کے ساتھ ساتھ کانٹوں سے لیس بھی ہوتے ہیں مگر ان راستوں کو وہی لوگ کامیابی کے ساتھ طے کر پاتے ہیں جو خود پر بھروسہ رکھتے ہیں اور منزلوں کے لیے پرامید رہتے ہیں۔ امید کی یہ طاقت جن لوگوں کی کمزوروں اور معذوریوں پر حاوی ہوتی ہے انہیں کامیاب ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ آج کلچربکلیٹ کے پلیٹ فارم سے ایک ایسے ہی باصلاحیت انسان کی زندگی کا سفر آپ کے ساتھ شیئر کرنے جا رہے ہیں جس نے زندگی کے راستے میں آنے والی مشکلات کا بڑی بہادری ، حوصلہ مندی اور دل جمعی کے ساتھ مقابلہ کیا اور کامیابیاں و کامرانیاں اپنے نام کروا لیں۔


اس کا نام بولا ہے۔ جب یہ پیدا ہوا اس کا باپ بیس ہزار روپے سالانہ کماتا تھا۔ نابینا بچہ دیکھ کر لوگوں نے مشورہ دیا کہ اس سے جان چھڑا لو اسے کہیں ادارے میں چھوڑ آو لیکن باپ نہ مانا۔

دسویں کلاس میں نوے فیصد نمبرز حاصل کرنے کے باوجود اسے بارہویں کلاس میں سائنس مضامین نہ لینے دیے گئے۔ اس نے ریاستی حکومت کو عدالت میں گھسیٹا اور چھے ماہ کیس لڑا وہ کیس جیت گیا اور بارہویں میں سائنس کے ساتھ اٹھانوے فیصد نمبرز لیے۔

جب بھارت میں بڑی بڑی یونیورسٹیز نے اسے داخلہ دینے سے انکار کیا تو اس نے بیرون ملک اپلائی کرنے کا سوچا اور روئے زمین کی چار بہترین یونیورسٹیز“ایم آئی ٹی، سٹینفورڈ، بارکلے اور کارنیج “ نے نا صرف اسے داخلہ دیا بلکہ سکالرشپ بھی دی اس نے ایم آئی ٹی کو منتخب کیا یوں وہ ایم آئی ٹی کا سب سے پہلا نابینا طالب علم بنا۔دو ہزار بارہ میں یو ایس سے واپسی پر اس نے بولانٹ انڈسٹریز کے نام سے سیٹ اپ بنایاآج اس سیٹ اپ میں ساٹھ فیصد لوگ یا تو غریب ہیں یا معذور ہیں۔اور ان غریب اور معذوروں کے باوجود یہ سیٹ اپ ساٹھ کروڑ کا بن چکا ہے۔سرکانت بولا کے مطابق“میں دنیا کی نظر میں اندھا ہوں اور جب ان سب نے کہا کہ یہ کچھ نہیں کر سکتا اس وقت میں نے ان سب کو دیکھ کر کہا تھا ۔ میں سب کچھ کر سکتا ہوں۔”

کامیاب بزنس اور کامیاب بزنس مین Successful Businessman بننے کے متعلق جاننے کے لیے کلک کریں۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں