نادار لوگ

مضمون نگار : محمد عباس

, نادار لوگ

’’نادار لوگ‘‘ پر بہت کم لکھا گیا ہے ۔گو کہ’’ اداس نسلیں ‘‘ موضوع کی وسعت کی بنا پر بلاشبہ ایک بڑا ناول ہے اور ’’نادار لوگ‘‘ اس کے مقابلے تک نہیں پہنچتا، یہ عبداللہ حسین کا ’دوسرا بڑا ناول‘ ہی رہے گا، اس کے باوجود ’’نادار لوگ‘‘ میں دلچسپی کے پہلو زیادہ ہیں ۔ اس ناول کی قسمت خراب ہے کہ یہ اس ناول نگار نے لکھا جو پہلے ’’اداس نسلیں ‘‘ زیبِ قرطاس کر چکا تھا ورنہ یہ ناول کسی اور نے لکھا ہوتا تو وہ بھی اس ناول کی بنا پر ایک اچھا ناول نگار قرار پاتا۔ ’’نادار لوگ‘‘ وہ توانا ناول ہے جو ’’اداس نسلیں ‘‘ کے سائے میں ہونے کی وجہ سے اپنی حیثیت نہیں منوا سکا ورنہ ’’نادار لوگ‘‘ میں عبداللہ حسین کی قوتِ قصہ گوئی زیادہ نکھر کر سامنے آئی ہے۔ قاری جو ’’اداس نسلیں ‘‘ کے 512صفحات پڑھتے ہوے کئی دفعہ بیانیے کی سنجیدگی سے بوجھل ہوتا ہے، یہاں ’’نادار لوگ‘‘ میں کہیں بھی اس کی توجہ سست نہیں پڑتی۔


دونوں ناولوں کی توجہ ایک خاص خطے کے سیاسی حالات پر ہے اور دونوں ایک سی چابک دستی سے پیش کرتے ہیں البتہ ’’نادار لوگ‘‘ مکالمے پر توجہ کی وجہ سے زیادہ معنی خیز طریقے سے ان حالات کو پیش کرتا ہے اور ان خارجی حالات کی پیش کش کے ساتھ ساتھ انسانی اور سماجی صورتحال پرا ن کے اثرات بھی دکھاتا ہے۔اس کے علاوہ دونوں کی تکنیک میں بھی ایک فرق یہ ہے کہ ’’اداس نسلیں ‘‘ میں زیادہ تر کام راوی غائب بیانیے سے لیا گیا ہے جبکہ ’’نادار لوگ‘‘ مکالمے پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ’’نادار لوگ‘‘ خارجی حالات اور داخلی واردات کی پیش کش کو زیادہ خوبی سےبامعنی بنالیتا ہے اور اس حوالے سے زیادہ بہتر ناول ہے۔


’’نادار لوگ‘‘ کا موضوع بظاہر پنجاب کی سرزمین پر1897ء سے لے کر1974ء تک رونما ہونے والے واقعات ہیں لیکن درحقیقت کتنے ہی لاتعداد موضوعات ہیں جو اس چھتنار ناول سے امڈتے پڑتے ہیں ۔ تقسیم سے قبل مسلم سکھ معاشرے کا باہمی میل جول، فسادات اور دو قومی نظریہ ، ملکی انتظام میں بد عنوانی، مہاجرین کی بحالی، کسان مزدور یونین اور خواہشِ انقلاب، بھٹہ مزدوروں کی نسل در نسل غلامی، پاکستان کی پہلی چوتھائی صدی کی سیاسی تاریخ، فوج کا انتظامی معاملات میں بے جا اختیار، صنعت کاروں کا ملکی منظرنامے میں بڑھتا ہوا کردار، صحافتی اقدار کا زوال، نچلے طبقے کا استحصال، مزدور یونینوں کا استحصالی رویہ، منتخب نمائندگان کا منافقانہ رویہ، پیپلز پارٹی کا ارتقائی سفراور عوامی ذہن میں نفوذ، اس پہلی عوامی حکومت کے کھوکھلے اقدامات سبھی موضوعات سے یہ ناول پوری طرح انصاف کرتا ہے۔البتہ یہ سب بھی ذیلی موضوعات ہیں ، اس ناول کا اصل موضوع اس ارضِ پاک کے ساتھ محبت ہے اور اس محبت کے تحت پل پل اسے سنوارنے کا جذبہ ہے۔ ایک ایسی فصلِ گل اگانے کی لگن ہے جسے کبھی اندیشۂ زوال نہ ہو۔ اعجاز کے سینے میں بسی وطن کی محبت دیکھی جائے اور اس کے دل میں موجزن اپنی دھرتی کا پیار دیکھا جائےتو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کردار کے تخلیق کارکے دل میں یہ جذبۂ حب الوطنی کس شدت کے ساتھ بستا ہے۔


ان موضوعات کے علاوہ اس ناول کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ناول کی بنیاد جن انسانی رشتوں پر رکھی گئی اور آغاز میں ان سب رشتوں کے درمیان جو باہمی اعتماد دکھایا گیا، وہ ناول کے آخر تک قائم رہتا ہے۔صرف کنیز اور نسرین ایک مرد کو چھوڑ کر دوسرے کے پاس ٹھہرتی ہیں ، جو بظاہر معیوب لگتا ہے لیکن ان کرداروں کی مدافعتی قوت کو مدِ نظر رکھا جائے تو یہ عمل مظہر ہے کہ دونوں عورت کی آزادی انتخاب پر عمل پیرا ہیں ۔ان رشتوں کے باہمی اعتماد نے اس ناول میں دلنشینی اور چاشنی پیدا کی ہے ۔یہاں اعجاز کا اعتماد اپنی بیوی پر آخر تک بڑھتا ہی گیا ہے، چاچے احمد کی اپنے داماد سے محبت ویسی ہی رہی حالانکہ سرفراز کا جمیلہ سے شادی نہ کرنا اس کے لیے باعثِ فساد ہو سکتا تھا،ملک جہانگیر جو ساری عمر اعجاز کے ساتھ اپنی سیاسی غرض یا مالی فائدے کے لیے تعلق بناتا رہا، آخر پر اسی تعلق پر اعتماد کرتے ہوے اسے اپنے بھائی کا درجہ دینے لگتا ہے۔ اعجاز اور سرفراز کے درمیان جو باہمی محبت ہے وہ آخر تک کمزور نہیں پڑتی۔ اعجاز کے پہلے تعارف سے لے کر جہاں سرفراز ریچھ کے نرغے میں جاتے ہوے یہی سوچتا ہے کہ ’’ایک ہاتھ لپک کراسے اٹھا لے گا اور اس کو ڈر سے دور لے جائے گا‘‘ آخر تک اعجاز اپنے بھائی کے ساتھ اسی طرح والہانہ محبت کرتا ہے۔ آخر پر جب سرفراز کے ایک سوال کے جواب میں اعجاز کہتا ہے:


’’دیکھ سرفراز!…تیرا میرا خون کا بندھن ہے۔ ہم ایک ہی ماں اور باپ کی نشانیاں ہیں مگر اپنے اپنے کاموں میں ہم مرضی کے مالک ہیں اور نتیجوں کے ذمہ دار ہیں ۔ ہم ایک کا بوجھ دوسرے پرنہیں ڈال سکتے ۔ ہمارا کام ایک دوسرے کو سہارا دینے کا ہے۔ حالات جو بھی پیش آئیں ،تیرے پیچھے میں اورمیرے پیچھے تو کھڑا ہو گا۔ صرف یہ اعتماد ہی زندگی گزارنے کے لیے بہت ہے۔ ‘‘٭۱
تو ان کا یہ رشتہ بھائی کے مقدس ترین رشتے کی توقیر بڑھاتا ہوا نظر آتا ہے۔ رشتوں کے تقدس کے اس احساس نے عبداللہ حسین کے اس ناول کو اپنی سرزمین کے ساتھ قربت عطا کر دی ہے اور ’’اداس نسلیں ‘‘ کاروشن محل ، قرۃ العین کے ٹائپ کردار اور ان کی پھیکی رومانٹک گفتگو کا سا بیزار کن ماحول (جس کا عبداللہ حسین کو براہ راست تجربہ بھی نہ تھا۔)یہاں نظر نہیں آتے۔ یہاں زمین کی قربت ہے اور سب کے جذبوں میں وہ وسعت اور فراخی ہے جو پنجاب کے کسانوں کی خاصیت ہے۔ اس لیے اعجاز کے سکینہ سے اور سرفراز کے نسرین سے مکالمے پوری شہوانی حسیت رکھتے ہیں ۔ اس ناول میں اجنبیت بالکل نہیں ہے۔ اپنا ماحول ہے، اپنے لوگ ہیں ۔ نادار سہی مگر تہی دامن نہیں ہیں ، تنگ دست سہی، تنگ دل نہیں ہیں ۔
اس ناول کا عنوان بہت موزوں ہے۔ ان سیاسی حالات میں کوئی بھی قوم ترقی کے راستے پر نہیں چل سکتی۔ ایسی قوم کے افراد رفتہ رفتہ بھوک اور مفلسی کے ہاتھوں اخلاقی گراوٹ کاشکار ہوتے جائیں گے اور یہ اخلاقی گراوٹ ہی حقیقی ناداری ہے۔ غربت بجائے خود کوئی بیمار ی نہیں ہے، افلاس کوئی عیب نہیں ہے۔ یہ اپنے ساتھ جو اخلاقی کمزوری لے کر آتے ہیں ، اصل بیماری وہ ہے۔ غریب لوگ بھی دل کے امیر ہو سکتے ہیں لیکن جب یہ افلاس اخلاقی اقدار کا دشمن بن جائے توصحیح معنوں میں ناداری کا سامنا ہوتا ہے۔ عبداللہ حسین کو اس معاشرے میں ہر ادارہ کرپشن کا شکار نظر آرہا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ رفتہ رفتہ یہ تمام معاشرہ اپنی اخلاقی اقدار کھو بیٹھے گا۔وہ خود اپنے ایک انٹرویو میں ناول کے عنوان کی وجہ یوں بتاتے ہیں :


’’ دراصل میرا نقطہ نظریہ ہے کہ ادیب کو ہر اس پہلو کی نشاندہی کر دینی چاہیے اور ہر اس ادارے کو تنقید کا نشانہ بنانا چاہیے جو کرپٹ ہو۔ جو لکھنے والا کرپشن اور ناانصافی کے خلاف برسر پیکار نہ ہو ، اسے ادیب نہیں کہنا چاہیے اگر پاکستان کے حالات کا جائزہ لیں تو کوئی شعبہ یا ادارہ ایسا نہیں ہے جہاں کرپشن نہ ہو اس افراتفری کی وجہ سے سب سے زیادہ غریب اورمفلوک الحال لوگ متاثر ہو رہے ہیں ۔ اسی لیے میں نے اس ناول کا نام ’’ نادار لوگ ‘‘ رکھا ہے ۔‘‘٭۲
نادار لوگ میں سیاسی واقعات محض سیاسی واقعات نہیں اور نہ ہی انہیں ناول کے اندر ایک الگ اکائی کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔پیپلز پارٹی کا سیاسی عروج، انتخابی مہم، انتخابی فتح، سقوطِ بنگال، سبھی واقعات کرداروں کی جذباتی زندگی میں شامل بھی ہیں اور ان کے باطن پر پوری طاقت سے اثر انداز بھی ہوتے ہیں ۔ ہم ’’اداس نسلیں ‘‘ کی طرح اس ناول پر حرف نہیں رکھ سکتے کہ اس ناول میں یہ واقعا ت بے جا ہیں یا بلا جوازہیں ۔ یہ سبھی کرداروں کی زندگی کا ناگزیر حصہ بن کر آئے ہیں اور ان کے بغیر ان کرداروں کی داخلی زندگی کا اتنا بھرپور عکس بھی نہ پیش کیا جا سکتا۔
ناول میں ایک اہم ترین واقعے کاجوازبہت کمزور ہے ۔یہ واقعہ اتفاق پر کھڑا ہے اور کسی ناول میں اتفاق سے ایسا واقعہ پیش آ جانا جو آگے ناول کو کسی نئی سمت کی طرف لے جائے، ناول نگار کا عجز ہوتا ہے۔ ناول میں حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ راہ چلتے اعجاز کے ہاتھ لگ جاتی ہے۔۔اتنی خفیہ دستاویز جو دہائیوں سے چھپا کے رکھی گئی ہے، اتفاق سے اعجاز کے سامنے آ جانے کا کوئی جواز نہیں بنایا گیا۔ اس بنیاد پر آگےاعجازپر بیتنے والے حوادث کا تاثر کھوکھلا ہو جاتا ہے۔


ناول کے آخر پر ایک چھوٹا سا واقعہ ایسا ہے جو ناول کے پورے مزاج سے لگا نہیں کھاتا۔ جب میجر اشرف سرفراز پر کیے گئے تشدد کا بدلہ لینے کے لیے میجر نواز کھوکھر کو پیٹتا ہے۔ یہاں عبداللہ حسین ناول کا توازن کھو بیٹھے اور ان پر پنجابی فلم کا اثر نظر آنے لگا ہے جہاں ولن کے تمام مظالم کا بدلہ فلم کے آخر پر ولن کواتنے ہی گھونسے مار مار کر لیا جاتا ہے۔
سیاسی حوالے سے عبداللہ حسین کا شعور اس وقت ابھر کر سامنے آتا ہے جب وہ اپنے زمانے کے محبوب ترین لیڈر کا نقشہ پیش کرتے ہیں ۔ نام انہوں نے نہیں ظاہر کیا ، معلوم نہیں کیا مصلحت آڑے آئی ، ورنہ یہ تو واضح ہے کہ یہ کس شخصیت کا عکس ہے۔(عبداللہ حسین کی اس نامعلوم مصلحت کو مقدم جانتے ہوے ہم بھی لیڈر کا نام نہیں ظاہر کرتے)اس محبوب لیڈر کے متعلق ملک جہانگیر جیسے سیاسی آدمی اور بریگیڈئیر کرار حسین جیسے فوجی آدمی ایک جیسی رائے رکھتے ہیں ۔ جہانگیر کہتا ہے:
’’واہ واہ، بڑے بھاری جلسے ہو رہے ہیں مگر تمہیں پتا ہے کہ لوگ کیا دیکھنے جاتے ہیں ؟ لوگ عورتوں کے ڈانس دیکھنے جاتے ہیں ۔ جب ووٹ پڑیں گے تو دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘‘(نادار لوگ،ص:380)


دوسری جگہ بریگیڈئیر صاحب کو ان کی بیٹی نسیمہ اس لیڈر اور اس کی پارٹی کے متعلق بتا رہی ہے:
’’سب سے پہلے تو یہ غریبوں کے حق میں ہیں ۔ دوسرے یہ لبرل لوگ ہیں ، سوسائٹی کی گھٹن کو دور کرنے والے ہیں ۔ آپ کبھی چل کر دیکھیں ، ایسے ایسے حیرت ناک واقعات ہوتے ہیں ، میں آپ کو بتائوں ، آج کے جلسے میں بڑے بڑے گھروں کی عورتیں اپنی اپنی مائیوں کے ساتھ جن کو وہ عام طور پر چھونا بھی پسند نہیں کرتیں ، ہاتھ میں ہاتھ دے کر ناچ رہی تھیں ۔‘‘
’’اسی لیے تو لوگ آپ کے لیڈر کو شعبدہ باز کہتے ہیں ۔‘‘(نادار لوگ،ص:400)
ہمیں نہیں معلوم کہ اُس لیڈر کے جلسوں میں کیا ہوتا رہا مگر یوں لگتا ہے کہ یہ ہمارے ہی عہد کے کسی سیاست دان کی طرف اشارے ہیں ، جس کے متعلق لوگ یوں طعنہ زن ہوتے ہیں کہ اس کے جلسوں میں لوگ لڑکیوں کا ڈانس دیکھنے جاتے ہیں ۔ جو سوسائٹی کی گھٹن دور کرنے کا عہد رکھتا ہے۔ یہ ہمارے ہی عہد کا کوئی سیاست دان ہے جو عوام کی امنگوں اور خوابوں کو نعروں کی شکل دے کر میدان میں اترا ہے اور بے بنیاد دعووں اور کھوکھلے نعروں کی مدد سے عوام کو اپنے ساتھ ملا کر اسی کھیل کو دہرانا چاہتا ہے جوعبداللہ حسین کے اس ناول کے منظر نامے میں دکھایا گیا اور جس کی تفصیل ہماری تاریخ میں درج ہے۔ عبداللہ حسین اس محبوب ترین لیڈر کی تصویر اس زاویے سے پیش کرتے ہیں کہ لیڈر کی چالبازی کے ساتھ ساتھ جلسوں میں کی جانے والی تقریروں کی معنویت اور ہمہ تن گوش عوام کی ذہنی سطح سبھی آشکار ہو جاتی ہیں :


’’سٹیج کے پیچھے ہلچل مچی ، نعرے بلند ہوے اور اچانک ڈائس پر ان کا لیڈر نمودار ہوا۔ وہی عام سا شلوار قمیص کا لباس، پائوں میں چپلی، قمیص کے کف کھلے۔ اس نے اپنے مخصوص انداز میں دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کر کے تالی بجائی، پھر بازو کھول دیے جیسے سارے جہاں کو خوش آمدید کہہ رہا ہو ۔ قمیص کی آستینیں ڈھلک گئیں اور کہنیوں تک بازو ننگے ہوگئے ۔ ہجوم میں ایک غلغلہ بلند ہوا۔ نعرے بند ہوے تو تالیاں بجنے لگیں ۔ تالیاں رکیں تو پھر نعرے شروع ہو گئے۔ کئی منٹ تک اسی طرح شور مچا رہا۔ پھر لیڈر نے ہاتھ اٹھا کر مجمعے کو خاموش ہو جانے کا اشارہ کیا۔ غل اس طور سے تھما جیسے ایک مہیب الجثہ جانور کے آخری دم نکلتے ہوں ۔ ہجوم آخری بار جھرجھرایا اور خاموش ہو گیا۔ لیڈر نے دو ہی چار لفظ کہے ہوں گے کہ مائیکروفون بند ہو گیا ۔لیڈر بولتا چلا گیا،مجمعے میں سے آوازیں اٹھیں ’’آواز… آواز…‘‘ مگر جب دیکھا کہ لیڈر اپنی روانی میں بولتا جا رہا ہے تو خاموشی چھا گئی۔
لفظوں کی کوئی حقیقت نہ تھی۔ سن سینتالیس کے بعد یہ پہلا لیڈر آیا تھا جو خواہ کسی زبان میں بولتا، لوگ صرف اس کی آواز سننے اور شکل دیکھنے کی خاطر منہ کھولے کھڑے ہو جاتے تھے۔اس کے وجود کو اپنے مقابل پا کر لوگوں کی غربت کے داغ ان کے دل سے دھل جاتے اور ان کے اندر توقعات کا طوفان اٹھ کھڑاہوتا تھا۔ یہ لوگ اس شخص سے ہر لحظہ کسی ایسے معجزے ، کسی کرامت کی توقع رکھتے تھے جس کی رونمائی سے ان کی زندگیاں بدل جائیں گی۔ اس شخص کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اتنا بڑ ا جاگیر دار ہو کر غریبوں کی جھونپڑیوں میں جا کر ان کے ساتھ کھاتا پیتا اور زمین پر سوتا رہا تھا۔ ان باتوں نے اسے اس قوم کے اندر فقیری کا درجہ دے دیا تھا۔ اعجاز بھی مسحور کھڑا ، اس کے لفظوں سے بے نیاز اس کے ہاتھوں کے اشارے ، اس کی تقریر کے انداز کو دیکھ رہا تھا اور وقت وقت پہ نعرے لگاتا جا رہا تھا… اس کربل کربل کرتے مجمعے میں زندگی کی توانائی دوڑتی پھر رہی تھی۔


پھر اچانک مائیکروفون کا نقص دور ہو گیااور آواز صاف ہو گئی۔’’یہ ایک مداری ہے۔ ‘‘ لیڈر کہہ رہا تھا:’’اس کے پاس مداریوں کی کئی ٹوپیاں ہیں ۔ ایک ٹوپی پریذیڈنٹ کی ہے۔ پھر اسے اتار کر چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی ٹوپی پہن لیتا ہے۔ جب ضرورت محسوس کرتا ہے تو اسے اتار کر پھینک دیتا ہے اور کمانڈرا نچیف کی ٹوپی پہن لیتا ہے۔اس کے پاس ایک سیاست دان کی ٹوپی بھی ہے۔ جب اسے پہنتا ہے تو انتقالِ اقتدار کی ٹال مٹول کرنے لگتا ہے۔ جب یہ سیاست دان بنتا ہے تو پھر کیا کہتا ہے ؟ پھر کہتا ہے انتقالِ اقتدار، ٹال مٹول۔‘‘ یکدم لیڈر نے دونوں ہاتھوں سے تالی بجائی اور لے میں گھومنا شروع کیا۔’’اِنت… قال… اق… تدار…ٹال… ‘‘ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے پائوں پہ چاروں طرف گھوم گیا، جیسے کوئی مست قلندر ہو۔
دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں نے الفاظ اس کے منہ سے اچک لیے اور اس کی نقل میں گھوم گھوم کر گانے لگے:’’اِنت… قالِ…اِق…تدار… اِنت…قالِ…اِق… تدار…‘‘ ڈھول جو خاموش ہوچکے تھے، دھما دھم بج اٹھے۔ مجمعے میں لوگوں نے تالیاں بجا کر گھومتے اور یہ گردان کرتے ہوے کئی چکر کاٹے جیسے کسی لمبی چوڑی مشین میں نصب ہزاروں پھرکیاں ایک ساتھ چل رہی ہوں ۔ کسی کو یہ علم نہیں تھا کہ لیڈر نے یہ الفاظ کس ضمن میں بولے تھے کہ وہ ایک دوسرے شخص کے الفاظ کو دہرا کر اس کا مذاق اڑا رہا تھا۔ مگر ہجوم اپنے تئیں ایک مطالبے کی صورت میں یہ الفاظ پکار رہا تھا۔ کچھ دیرکے بعد جب لیڈر نے محسوس کیا کہ لوگ منتقلیِ اقتدار کا مطالبہ کر رہے تھے تو وہ بھی پلٹ کر ہجوم کے ساتھ شامل ہو گیا، گو اس کا پلٹنا کسی نے نہ دیکھا اور نہ محسوس کیا، کہ الفاظ وہی تھے، حرکات بھی وہی اورسُر اور لے بھی وہی تھی۔ اعجاز گو اس سارے عمل میں شامل تھا، مگر ایک خیال کو وہ اپنے دل سے نہ روک سکا، کہ کیا سیاست انہی غلط فہم خطوط پر استوار ہوتی ہے؟‘‘٭۳


ہماری تاریخ کے اتنے بڑے لیڈر کو اس زاویے سے دکھا کر عبداللہ حسین نے ثابت کیا کہ وہ یہاں کے مقامی حالات اور لیڈروں کی نفسیات کے متعلق بہترین شعور رکھتے ہیں ۔ یہی سیاسی پارٹی جب آگے چل کر عوام کی امنگوں اور امیدوں پر پورا نہیں اترتی اور عوام کے منتخب نمائندے عوام سے ہی کترانے لگتے ہیں تو صورتحال کھلتی ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی ہو، کوئی بھی سیاسی نظریہ رکھنے والا آدمی ہو، ان سب کا پہلا اور بنیادی مقصد صرف اور صرف اپنے اور اپنے طبقے کے مفادات کا خیال رکھنا ہوتا ہے، باقی کسی سے غرض نہیں ہوتی۔یہاں عبداللہ حسین جارج آرویل کے ’’اینمل فارم ‘‘کے انداز میں بتاتے ہیں کہ جب لوگ اقتدار میں پہنچ جاتے ہیں تو پھر کس طرح اپنے ماقبل بیانیے کی نئی تعبیرات گھڑنے لگتے ہیں ۔ پہلے سب لوگ برابر ہوتے ہیں ، پھر حصولِ اقتدار کے بعد کچھ لوگ زیادہ برابری کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں ۔ بشیر احمد جوغریب طبقوں کی حمایت کرنے والا فرد نظر آتا ہے، اپنی پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد اس کی سوچ بدل جاتی ہے اور وہ استحصال زدہ طبقوں کو کسی اور زاویۂ نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ اعجاز نے پارٹی کی حکومت آنے کے بعد عوام کی حالت سدھرتے نہ دیکھی تو بھرے جلسے میں اس حکومت کے خلاف تقریر کر دی۔ اعجاز کی اس تقریر پر حکومت کی طرف سے جو ردِعمل سامنے آتا ہے ، اس کے آخری سرے پر بشیر احمد ہی بیٹھا ہوتا ہے جو اعجاز کی طرف سے پارٹی کے سابقہ نعروں کے تذکرے پر جواب دیتا ہے:
’’وہ تب کی بات تھی اور یہ اب کی بات ہے۔ اس وقت پارٹی اقتدار حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی تھی۔ اب پارٹی حکومت میں ہے، یہ دو مختلف باتیں ہیں ۔ ان دو مواقع کی ضروریات مختلف ہیں … اپنے ملک کی تاریخ پر نظر ڈالو۔ پہلی بار کسی کو عوام کے نام پر حکومت ملی ہے ۔ لیڈر نے عوام کا نام لیا تو لوگ اٹھ کھڑے ہوے۔ عوام کے نام پر لوگوں نے ووٹ دیے۔ عوام کے نام پر لوگوں نے بڑے بڑے وڈیروں اور سیاسی ساہوکاروں کو ہرایا۔ عوام کے نام پہ لوگوں کا جذبہ جاگا۔ جمہوریت کا اتنا بڑا انقلاب یہاں پہلی بار آیا ہے۔ اور تم عوام کے نام کا تصور ہی مٹا دینا چاہتے ہو؟ اگر عوام کا لفظ مٹ گیا تو سب کچھ مٹ جائے گا … تم نے عوام کے نعرے کو جس کے بل پر قوم ہمارے ساتھ چلی ہے، بے عزت کیا ہے۔ تم نے جمہوریت کی جڑ پر وار کیا ہے۔ زبان کے ساتھ گڑبڑ کرنے کی کوشش کی ہے جو سب سے بڑی قوت ہے اور سب سے بڑی شرارت کی جڑ بھی ہو سکتی ہے۔ اگریہ شرارت پھیل جائے تو نہ غریب کے پاس کچھ رہے گا نہ امیر کے پاس۔‘‘٭۴


اس سیاسی صورت حال کے ساتھ ساتھ عبداللہ حسین کی نظر اپنے ملک کے انتظامی محکموں میں پروان چڑھنے والی بدعنوانی پر بھی ہے۔ شروع دن سے ہی الاٹمنٹ اور مہاجرین بحالی کے حوالے سے بدعنوانی کا کاروبار چمک اٹھا تھا۔اپنی عزتِ نفس کو بے داغ رکھنے والے اشراف اندیشۂ تر دامنی سے ڈرتے رہے اور خوار ہوئے۔ جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں او رر کسی کے سنگِ آستاں پہ جبہ سائی کر کے خود اپنے آستانے قائم کر لیے۔ جن میں خدا ترسی تھی، سچ بولنے اور اپنے حق سے زیادہ نہ مانگنے کی بیماری تھی، وہ تہی دامن رہے اور جنہیں مل بانٹ کے کھانا آتا تھا، انہوں نے پورے ملک کے حصے بخرے کر لیے اور نجیب الطرفین بھی کہلائے۔ بدعنوانی کا یہ عمل اپنی انتہا پر جا پہنچتا ہے جب انتظامیہ کی بجائے عدلیہ تک بھی اس بدعنوانی کے شبہ میں آ جاتی ہے۔ انتظامیہ بہرحال دنیا کے کسی بھی ملک میں بدعنوانی سے سوفیصد پاک نہیں قرار دی جا سکتی لیکن عدلیہ ریاست کا ایسا ستون ہے جس پر پوری ریاست کی ساکھ قائم ہوتی ہے، اگر اسی ستون پر بھروسہ قائم نہ رہے تو پھر پوری ریاست ہی اپنا اعتبار کھو بیٹھتی ہے۔ اس ملک کے وجود میں آنے کے فوراً بعد اس ادارے پر عوام کا اعتبار اٹھنے لگتا ہے۔ ایک الاٹمنٹ کے مقدمے کی تفصیل بتاتے وقت عبداللہ حسین لکھتے ہیں :


’’ملک کی مختصر تاریخ میں پہلی بار ایک ایسا موقع آیا جس کا دورِ غلامی میں خیال تک بھی نہ کیا جا سکتا تھایعنی عدالتِ عالیہ کے ایک رکن پر طرفداری کا شبہ کیا جانے لگا تھا۔ ہتکِ عدالت کے خوف سے کسی وکیل کی جرأت نہ تھی کہ کھل کر بات کرے مگر بھاری پتھر کی تعمیر شدہ ہائی کورٹ میں ان دیکھی دراڑیں نمودار ہونا شروع ہو گئیں اور خلقتِ خدا کا ایمان جو بٹوارے کے طوفان کے اندر پہلے ہی گو مگو کی حالت میں تھا، ڈگمگا اٹھا۔‘‘٭۵
بعد ازاں ازمیر گھی لمیٹڈ کی طرف سے ’’ببانگِ دہل‘‘ پر کئے گئے ازالہ حیثیت عرفی کے مقدمے میں عدالت کا جج واضح طور پر طرفدار نظر آتا ہے۔ عدلیہ کے ادارے کا زوال معاشرے کے عام لوگوں کو احساسِ عدم تحفظ، احساسِ رائگانی اور احساسِ محرومی دیتا ہے ۔ لوگ ریاست اور ریاستی اداروں پر اعتبار کھو بیٹھتے ہیں اور معاشرہ دھیرے دھیرے جنگل سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔جن پر تکیہ ہو، وہی آگ کو بڑھاوا دیں تو آخر عوام بے چاری کس سے داد چاہے گی۔ ایسے حالات میں اِس طرح کے جوشیلے لیڈر ہی پنپتے ہیں جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر چلنے کے دعوے کرتے ہیں ۔


’’نادار لوگ‘‘ میں قصہ گوئی کی قوت بہت ابھر کر سامنے آئی ہے اور یہاں اس قصہ گوئی کو اعتبار بخشنے کے لیے عبداللہ حسین نے ہیئت بھی الگ طرح سے بنائی ہے۔’’اداس نسلیں ‘‘ پورے کا پورا ہمہ دان راوی کی ہیئت میں لکھا گیا ہے جو کہ سبھی کرداروں کے متعلق سب کچھ جانتا ہے ۔ محض جلیانوالہ باغ کی رپورٹنگ ایک مچھیرے سے کی گئی جب کہ باقی سب ایک ہی ہیئت میں چلتا ہے۔’’نادار لوگ‘‘ میں بیانیہ اپنی ہیئت بدلتا رہتا ہے۔ کبھی تو ہمہ دان راوی ہی بیانیہ آگے بڑھاتا ہے لیکن بہت سارا حصہ ایسا ہے جو کرداروں کی یادداشت ، فلیش بیک، خطوط اور خود کلامی کی صورت میں تشکیل پاتا ہے۔ ناول کا آغاز ہی فلیش بیک سے کیا گیا ہے اور پہلا باب ناول کے بالکل آخری حصے سے اٹھایا گیا ہے۔ اس پہلے باب میں ہی قاری کئی ایسے سوالات سے دو چار ہو جاتا ہے جن کا جواب پانے کی لِلک میں قاری ناول کو آخر تک دلچسپی کے ساتھ پڑھتا جاتا ہے۔ اس ناول میں عبداللہ حسین یہ گُر بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ کہانی اگر سیدھی رَو سے ہٹ کر چلے تو زیادہ حسن رکھتی ہے۔ قاری کو اگر کہانی کا آخری حصہ تھوڑا سا دکھا کر کہانی شروع کی جائے تو وہ کہانی پوری ہونے تک جم کر بیٹھا رہے گا۔ اس ناول میں انہوں نے ’’اداس نسلیں ‘‘ کی طرح طول طویل منظرنامے لکھنے میں وقت ضائع نہیں کیا اور نہ ہی ناول کے پہلے حصے کو تعارفی حیثیت دینے کی کوشش کی۔ ناول کی ابتداء وہاں سے ہوتی ہے جو دراصل کہانی کے اختتام کے قریب کے واقعات ہیں اور یہی اس کا تعارفی حصہ بھی ہے۔اس کے بعد تو کہانی اپنی پوری رفتار اورپھیلائو کے ساتھ چل پڑتی ہے۔ اس قدر براہِ راست آغاز ایک کامیاب قصہ کہنے کی طرف پہلا قدم ہے۔ اس کے بعد عبداللہ حسین ناول میں دریافت، تحیر ، سسپنس اور تجسس کے عناصر بہت خوبصورتی سے استعمال کرتے ہیں ۔ انہی عناصر کی بنا پر یہ ناول ’’اداس نسلیں ‘‘ کے متین بیانیے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مزا دیتا ہے۔ دریافت اس وقت جب سرفراز کے خیالات سے یعقوب اعوان کی جوانی کی طرف گریز کیا گیا ہے۔تجسس کا عنصر اس وقت بیدار کیا جاتا ہے جب حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ اعجاز کو مل چکی ہے اور قاری کو بتایانہیں جا رہا کہ اسے کیا ملا ہے۔ پہلے تو عبداللہ حسین اسے یوں فراموش کر ڈالتے ہیں جیسے وہ ہے ہی نہیں ۔ یہ تجسس کو بڑھانے کا ایک کامیاب طریقہ ہے۔پھر جب اعجاز اسے دراز سے نکال کے پڑھنا شروع کرتا ہے تو بیانیہ تجسس کے عنصر کو اپنی انتہا پر لے جاتا ہے۔ اشارے مل رہے ہیں کہ کوئی بہت ہی اہم دستاویز ہے، کوئی ملکی سطح کا راز اعجاز کے ہتھے لگ گیا ہے مگر ناول نگار قاری کو بتا نہیں رہا۔ قاری کا دل تجسس سے لرزنے لگتا ہے اور ناول نگار پورے تحمل سے اس کے تجسس کو ہوا دیے جا رہا ہے۔ تب تک قاری جھنجھلا کر عہد کر چکا ہوتا ہے کہ اگر اتنے سسپنس کے بعد اگر یہ راز اتنے سسپنس کے شایان نہ ہوا تو ناول اٹھا کر دیوار پر دے مارے گا لیکن جب اس پر حقیقت آشکار ہوتی ہے تو تجسس کا حق ادا ہو جاتا ہے۔تجسس کا دوسرا موقع وہ ہے جہاں اعجاز کو بھٹے کے مزدوروں میں ایک مانوس عورت نظر آتی ہے لیکن وہ پہچان نہیں پاتا کہ یہ عورت کون ہے۔بہت آگے جا کر اس کے بارے میں اعجاز کو یاد آتا ہے کہ وہ کون ہے لیکن پھر بھی کھل کر کہانی کا سرا نہیں بتایا گیا۔ بہت کچھ سمجھنا قاری کی اپنی تفہیم پہ چھوڑ دیاگیا ہے۔چونکانے کی تکنیک بھی انہوں نے ناول میں بخوبی استعمال کی ہے ۔مثلاً سرفراز کی یادداشت میں محفوظ وہ منظر جب اس کا باپ اور ماسی خلوت کا فائدہ اٹھا رہے تھے۔ دو مواقع پر تو قاری اپنی جگہ سے اچھل پڑتا ہے، ایک جب بی اے چودھری کے پردے سے بشیر احمد ارائیں ظاہر ہوتا ہے اور اس کے ساتھ کنیز ہوتی ہے اور دوسرے جب سرفراز شعیب کے آفس میں کھڑا ہوتا ہے اور ملحقہ واش روم سے نسرین نمودار ہوجاتی ہے۔


حذف کی تکنیک اگر سلیقے سے استعمال کی جائے تو فن پارے کی شان بڑھا دیتی ہے۔اردو کے افسانہ نگاروں نے 1947ء کے فسادات کے متعلق لکھتے ہوے ہزاروں لاکھوں افراد مرتے دکھا کر المیے کا اس قدر گہرا اثر پیدا نہیں کیا جتنا منٹو نے ’’گورمکھ کی وصیت‘‘ میں لہو کا ایک قطرہ بہتا دکھائے بغیر پیدا کر دیا۔ یہ کمال حذف کی تکنیک کا ہے کہ منٹو نے تین لوگ قتل ہوتے نہیں دکھائے اور سب کچھ قاری کے فعال متخیلہ پہ چھوڑ دیا۔ قاری کا متخیلہ کسی خاص جگہ مصنف کے قلم سے زیادہ طاقتور بیانیے تخلیق کرسکتا ہے۔ بس لکھنے والے کو ایسی جگہ تلاش کرنی پڑتی ہے۔ عبداللہ حسین نے اس ناول میں حذف کی تکنیک سے کام لیا اور سیاسی و خارجی واقعات پر ’’اداس نسلیں ‘‘ کی طرح وقت ضائع کرنے کی بجائے کرداروں کی زندگی کے ساتھ وابستہ واقعات پر توجہ رکھی اور وہاں بھی واقعات کی بجائے ان کے نتیجے میں کرداروں پر مرتب ہونے والے اثرات کو بیان کیا۔ پہلی جنگِ عظیم کا یعقوب کی زندگی پر اثر، فسادات اور تقسیم کا اس پورے خاندان پر اثر ، ان واقعات کے خارجی بیان سے زیادہ بار پاتے ہیں ۔ حذف کا سب سے خوبصورت استعمال 1971ء کی جنگ کے وقت ہوا۔ سرفراز مشرقی پاکستان جاتا ہے اور ہتھیار ڈالنے کے بعد اپنے نوے ہزار ساتھیوں سمیت قید ہو جاتا ہے۔ یہاں عبداللہ حسین نے اس جنگ کا ایک بھی منظر نہیں دکھایا اور سیدھا سرفراز کی اندرونی کیفیات پر آ گئے جو اس شکست کے بعد لا محالہ تبدیل ہو چکی تھیں ۔ حذف اور سسپنس کی ایک اورملی جلی مثال اس ناول میں موجود ہے اور یقینا جس کسی نے بھی اس ناول کو دلچسپی سے پڑھا ہے، یہ تذکرہ سن کراس کے لبوں پر مسکراہٹ ضرور رینگ جائے گی۔ یہ سوال ناول کے ختم ہونے کے بعد بھی ابھرتا رہتا ہے ، گو کہ سوال کی بے معنویت اور لغویت اپنی جگہ ہے کہ میجر صدیق کا اگایا ہوا ٹماٹر کہاں گیا تھا۔(اس کے ساتھ ساتھ یہ قصہ انسانی خواہشات کی لایعنیت کی ایک عمدہ ترین مثال بھی ہے کہ جس سپاہی نے جان بچانے کی خاطر وطن کو دشمن کے قدموں میں ڈال دیا تھا ،اس کے لیے ایک معمولی ٹماٹر سے محرومی اتنی جان لیوا ہے۔)


ناول کے ایک پہلو کا خاص طور پر ذکر کرنا بنتا ہے۔ ناول کی ابتدا میں یعقوب اعوان اور اس کا باپ ایوب اعوان جس گائوں ’’کبیر سنگھ والا‘‘سے تعلق رکھتے ہیں ،وہ تمام سکھوں کا گائوں تھا جس میں صرف ایک گھر مسلمانوں کا تھا، عبداللہ حسین نے اس گائوں میں ان سب کا آپسی رہن سہن باہمی میل جول دکھایا۔ فسادات کے وقت یہی سکھ یعقوب اعوان کو بلوائیوں سے بچاتے ہیں اور بحفاظت مسلم اکثریتی گائوں تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں ۔ بعد ازاں اس گائوں کے سکھ یعقوب اعوان کو ملنے پاکستان بھی آتے ہیں اور گزشتہ محبت کا جوش دکھاتے ہیں ۔ ناول میں آگے چل کر چاچے احمد کے پاس اس کے سکھسمگلرساتھی جشن مناتے آتے ہیں اور وہاں بھی وہ ایک محبت کرنے والی ، ساتھ نبھانے والی قوم کے نمائندے بن کے سامنے آتے ہیں ۔ اس کے متوازی ’’اداس نسلیں ‘‘ میں بھی جو سکھ معاشرہ دکھایا گیا ، وہ مقامی روایات کے لحاظ سے اعلیٰ اخلاقی روایات کا پاسدار تھا۔ دونوں ناولوں میں عبداللہ حسین نے مسلمانوں اور سکھوں کی باہمی محبت کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ جب کہ دونوں ناولوں میں ہندوستان کی اکثریتی آبادی کے کسی فرد کا ذکر نہیں ملتا۔ ایک واحد ٹھاکر داس ہے اور اسے بھی نعیم اپنے ’’نامعلوم‘‘ جذبے کے تحت مروا دیتا ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ عبداللہ حسین نے ہندوئوں کے مقابلے میں سکھوں کو یہ خراجِ تحسین شعوری طور پر پیش کیا ہے یا پنجاب اور پنجابی کے ناتے سے وہ سکھوں کو اپنے معاشرے کا ہی حصہ سمجھتے ہیں ۔ ایک ایسا معاشرہ جو مشترکہ کلچر کا حامل ہونے کے باوجود سیاسی مفادات کی لکیر تلے دو لخت ہوے پڑا ہے، یا پھر اس کی وجہ محض یہ ہو سکتی ہے کہ تقسیم سے قبل عبداللہ حسین نے اپنے علاقے میں صرف سکھ ہی دیکھے ہوں جن کی یادیں ان کے لاشعور میں ہمیشہ کے لیے رچ گئی ہیں اور ہندو انہوں نے دیکھے ہی نہیں تھے اور اس لیے وہ انہیں اپنے ناول میں پیش نہ کرسکے، البتہ اس مفروضے کی تصدیق خود انہی سے ہو سکتی تھی۔
اس ناول کے کردار کافی حد تک جاندار ہیں ، گو کہ کسی بھی کردار کے باطن کی زندگی نہیں دکھائی گئی (جو پورے اردو ناول کا مسئلہ ہے) پھر بھی واقعات اور افعال کی مدد سے ہم ان کی باطنی زندگی تک کسی حد تک رسائی کر سکتے ہیں ۔ مردکرداروں میں سب سے اہم کردار اعجاز کا ہے، جو اس ناول کا مرکزی کردار ہے اور ’وجۂ ناول‘ ہے۔ پورا ناول اسی کردار کے محورپہ گھومتا ہے۔ اعجاز کے اندر دلیر ، حق پرست اور شریف باپ کا خون ہے۔ اسے اپنی خاندانی نجابت کے علاوہ اپنی انانیت کا خیال بھی ہے۔اسی لیے وہ کسی سے کچھ مانگتا نہیں ہے۔ اپنے ہیڈ ماسٹر نے جب برطرف کیا تو اس سے ایک دفعہ معافی کی درخواست بھی نہیں کی ۔ بعد میں جب جہانگیر کے ساتھ جھگڑا بڑھا تو اس سے بھی کوئی استدعا نہیں کی۔وہ اپنی بے نیازی میں مست ہے۔ البتہ اپنی ذات سے اس بے نیازی کے باوجود وہ اپنے اردگرد کی دنیا سے بیگانہ نہیں ہے اور معاشرے کے مسائل حل کر کے اپنے ماحول کو خوشگوار بنا کر آئندہ نسلوں کے حوالے کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ اعجاز اپنی نوکری کھونے کے بعد ساری دنیا کے درد کی طرف بڑھتا ہے اور رفتہ رفتہ ملک و قوم کے بہتر مستقبل کے لیے کی جانے والی جدوجہد میں شریک ہو جاتا ہے۔ مگر ایک جاں گسل اور بے لوث جدوجہد کے بعد جب وہ اس کا حاصل دیکھتا ہے تو اس پر کھلتا ہے کہ حالات وہیں کے وہیں رہے ۔ وہ دائرے میں زور لگاتا رہا اور گھوم کر اسی جگہ آن کھڑا ہوا۔ تب اس کے اندر مزاحمت پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنی جدوجہد یوں رائیگاں جاتے دیکھ کر صدائے احتجاج بلند کرتا ہے ۔ نتیجتاً اسے خاموش اور اس کی صدا کو بے اثر کرنے کے لیے اسے کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے ۔ وہ اس کھڈے لائن سے باہر نکل کر اپنے طور پر جدو جہد کرنا چاہتا ہے لیکن اس پر کھلتا ہے کہ اس ملک کے تمام ادارے ہی کھوکھلے ہو چکے ہیں ۔ انتظامیہ اور مقننہ تو بدعنوان تھیں ہی، اب عدلیہ بھی اس بدعنوانی کا شکار ثابت ہو گئی اور اس کے ساتھ ساتھ ریاست کا چوتھا ستون کہلانے والا ادارہ بھی زوال کے پاتال میں اتر چکا ہے۔ شکستِ خواب اعجاز کے لیے گراں تھی سو وہ جنون کے عالم میں ایک انتہائی قدم اٹھانے میں بھی دریغ نہیں کرتااور نتائج سے بے پروا ہو کر پریس کانفرنس میں ملک کا سب سے قیمتی راز اچھال دیتا ہے جس کی وجہ سے اسے خفیہ اداروں کی طرف سے بہت عبرتناک خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے ۔ البتہ یہ کردار اپنی استقامت رکھتا ہے اور اس ساری شکست اور عبرت کے باوجود اپنے ارادے اور اپنی سوچ بدلنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔


اعجاز کا کرداراس دھرتی کا نمائندہ کردار ہے ایک ایسا شخص جو اپنے گھر میں ’’وڈے بھاجی‘‘ یا ’’لالے‘‘ کا روپ رکھتا ہے۔ سب چھوٹوں کے لیے گھنے درخت کی طرح سایہ دار چھتری تانے رکھتا ہے ، کسی کو تکلیف نہیں ہونے دیتا اور اپنا سب کچھ ان کے لیے وقف کر رکھتا ہے۔ ایسا کردار آج بھی ، جب کہ ہر طرف قحط الرجال کا رونا ہے، پنجاب کے گائوں دیہاتوں اورڈیرے پنچایتوں میں اکثر مل جاتا ہے۔ یہ اعجاز اس مٹی پر پیدا نہیں ہوا لیکن پھر بھی اس پر آ بسنے کے بعد اسے سوتیلی ماں نہیں سمجھتا۔ وہ اس سرزمین کے لیے جیتا ہے اور اس کی بہتری اور فلاح کے لیے ہر دم کوشاں ہے۔ اس کی کاوش رائیگاں جائے یا پھر اس کے نتیجے میں ٹھوکریں اس کا مقدر بنیں ، وہ اس کی بہتری کے لیے کام کرنے کا خیال دل سے نہیں نکال سکتا۔ وطن کی محبت اور اس وطن کے لیے خوشحال مستقبل کی تمنا ان دوچیزوں پر اس کی زندگی قائم ہے۔


نعیم اور اعجاز دونوں ایک ہی کردار نظر آتے ہیں لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ اعجاز زمین کے ساتھ زیادہ گہرے رابطے میں ہے۔ نعیم ایک ایسی زمین کا مالک ہے جو اسے فوجی خدمات کے صلے میں عطا ہوئی تھی جبکہ اعجاز کی زمین اس کی اپنی محنت کا ثمر ہے۔اسی لیے نعیم اس زمین کو گنواتے وقت ایک لمحے کو سوچتا بھی نہیں ہے جب کہ اعجاز اپنی زمین کا بندوبست چلا لینے کے بعد معاشرے پر توجہ دیتا ہے۔ دوسری طرف یونین اور مزدور کسان تحریک کی طرف بھی اعجاز کا رشتہ زیادہ جذباتی ہے اور وہ اس میں براہِ راست شریک نظر آتا ہے جبکہ نعیم کو پورے ناول میں مزدور کسان تحریک میں شامل دکھانے کے لیے راوی غائب بیانیے سے لانگ شاٹ کا کام لیا گیا تھا۔ نعیم کہیں دور دراز مزدور کسان جلوسوں کا حصہ نظر آتا ہے جب کہ اعجاز ہماری آنکھوں کے سامنے عوامی پارٹی کے لیے تندہی سے کام کرتا ہے، اپنی توقعات اور امنگوں کے جوش میں اپنا گھر بار بھول کر پارٹی کی طرف سے تفویض کردہ فرائض نبھاتا ہے اور بعد ازاں خوابوں کی شکست پر ہمارے سامنے گریہ کناں ہے۔ نعیم تو پشاور والے واقعے (1930)کا چشم دید گواہ بننے کے بعدتیرہ سال آگے قحطِ بنگال کے موقع پر (1943)اپنے سینئر سے ڈسکشن کرتے وقت نظر آتا ہے جب کہ اعجاز کسی بھی لمحے ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ہوتاا ور نہ ہی اس کا کوئی جذباتی ردِ عمل ہم سے نظر انداز ہوتا ہے۔


ناول کا دوسرا بڑا کردار سرفراز ہے ۔ ناول کے بیشتر واقعات اسی کے ذریعے بیان ہوتے ہیں ۔ حتیٰ کہ اعجاز پر گزرے کئی واقعات بھی سرفرازکے فلیش بیک میں دکھائے جاتے ہیں ۔ سرفراز اعجاز کا چھوٹا بھائی ہے اور اپنے بھائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے ۔ آرمی جوائن کرنے کے بعد اس کی شخصیت کی نشوونماہوتی ہے اور وہ اپنی زندگی کے کچھ فیصلے آزادانہ کرنے لگا ہے لیکن پھر بھی اپنے لالے پر اس کا اعتماد اور انحصار آخر تک قائم رہتا ہے۔ البتہ اس کے مزاج پر اپنے بھائی کے دردِ دل کا اثر کم نظر آتا ہے ۔ وہ بھائی کے برعکس اپنی دنیا میں مگن ہے اور معاشرے کی حرکیات پر اس کی توجہ نہیں ہے۔ وہ کسی بھی خارجی مسئلے پرجذباتی نہیں ہوتا، حتیٰ کہ 1971ء کی شکست اور بھارت میں تین سالہ قید میں بھی اس کے دل میں کوئی خاص جذبہ نہیں امڈتا۔ البتہ آخر پر جب وہ اپنی یونٹ کے ہاتھوں اپنی قوم کے افراد کو مرتا دیکھتا ہے تو جذبے سے بپھر جاتا ہے۔ حتمی طور پر تو یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ یہ واحد اسی واقعے کا ردِ عمل تھا یا اس کے ساتھ سقوطِ ڈھاکہ میں دیکھی جانے والی ذلت کا بھی کوئی اثر تھا یا اسے بڑھاوا دینے میں نسرین کی بے وفائی کے تازہ تازہ زخم کی کارفرمائی بھی شامل ہےلیکن جذبہ اسی واقعے پر پھٹتا ہے اور آتش فشاں بنتا ہے۔ سرفراز اس واقعے کے بعد جذبے کی اسی سطح پر آ جاتا ہے جہاں اس کا لالہ کھڑا ہے۔ یہاں اس کے اندر ایک پختہ اور پائیدار جذبے کا آغاز ہورہا ہے جو زمین کے ساتھ استوار رشتے کی معنویت سے جنم لیتا ہے۔ ناول کے آخر پر سرفراز کے دل میں مٹی اور ماں کی محبت جاگتی دکھائی گئی ہے:


’’اٹھائیس برس تک اس نے اپنی ماں کو یاد نہ کیا تھا ، کیوں کہ یاد کرنے کو اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ نہ کوئی شکل نہ صورت، نہ بوباس، نہ آواز، اور آج ایک نیم مجذوب شخص نے چار لفظ بول کر اس خلاء کا منہ کھول دیا تھا جو اس کے اندر دفن تھامگر جس میں اس کا گزر نہ ہو سکا تھا۔ محبت اور غم کے ایک ڈھیر کی شکل سرفراز کے دل کے اندر ابھر کے آئی جیسے زیریں تہوں میں رہنے والا کوئی مہیب اور کہنہ ذی روح سمندر کی سطح کو توڑ کر اپنا سر اٹھاتا ہے اور اٹھائیس سالہ عمر میں پہلی بار بے اختیار اس کے منہ سے نکلا،’ماں ‘۔دیر تک وہ وہیں بیٹھا آہستہ آہستہ پائوں رگڑتا رہا اور آنسو بہہ بہہ کر اس کی ٹھوڑی کو تر کرتے رہے حتیٰ کہ چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔‘‘٭۶


تیسرا بڑا کردارجہانگیر اعوان ایک منجھے ہوے سیاست دان کے طور پر سامنے آتا ہے جسے علاقائی سیاست پر خاصا درک حاصل ہے۔ وہ سیاست کی اونچ نیچ سمجھتا ہے ۔ اس کی خواہش ہے کہ اقتدار ہر دور میں اس کے پاس رہے اس لیے وہ طاقت کے سبھی سرچشموں سے بات بنا کے رکھنا چاہتا ہے۔ اس کی سیاست اورمنافقانہ پالیسی اپنی جگہ لیکن وہ اعجاز کی فطری شرافت کی دلسے قدر کرتا ہے اور اسی لیے وہ اعجاز سے پکا وعدہ لیتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد وہ عالمگیر کا خیال رکھے گا۔ بڑھاپے میں پہنچنے تک وہ جان چکا تھا کہ کس کے ساتھ سچے دل سے تعلق بنا نا ہے۔ یہ کردار اعجاز کے کردار کی ضد ہے اور اسی کے متضاد رویے کے باعث اعجاز کی شخصیت ابھرتی ہے۔


عام طور پر اعجاز اور جہانگیر میں تقابلی جائزہ کرتے وقت یہ گمان بھی کیا جاتا ہے کہ ناول کا مؤثر اور فعال کردار جہانگیر ہے جو ایک دور اندیش سیاست دان، بصیرت مند جاگیردار اور معاملہ فہم صنعت کار کے طور پر سامنے آتا ہے اور اس کی شخصیت کے یہ تینوں پہلو ہمارے معاشرے میں طاقت کے بڑے منابع سمجھے جاتے ہیں ۔ جہانگیر وقت کے تقاضے سمجھتا ہے اور کبھی نقصان نہیں اٹھاتا جب کہ اس کے مقابلے میں اعجاز وقت کی نزاکت نہیں سمجھتا اور اپنی اخلاقی اقدار کو ہی مدِنظر رکھ کر عوام کی فلاح کے لیے کام کرتا ہے اور اس کے لیے صلے کی پروا نہیں رکھتا۔ گو کہ اس کا عمل اپنے متوقع انجام تک نہیں پہنچتا اور نتیجہ ناکامی کی صورت میں سامنے آتا ہے لیکن ناول کے تمام بیانیے کو دیکھا جائے تو اعجاز اس ناول کا مرکزی دھرا نظر آتا ہے جس پر ساری حرکت کا دارو مدار ہے۔ باقی سب کردار چھوٹے دھرے ہیں جن کی اپنی اہمیت ہے ۔ جہانگیر، کنیز، سرفراز، سکینہ ، بشیر چودھری، بدیع الزماں اور حاجی کریم بخش سبھی کردار اعجاز کو تحرک دینے کے لیے ناول میں موجود ہیں ۔ ناول کے اندر ان کی خود اپنی کوئی خود مختار حیثیت نہیں ہے جب کہ اعجاز سرکاری نوکری سے برخواست ہونے کے بعد اپنے ہر عمل کا خود مالک ہے اور نتائج بھی خود بھگتتا ہے۔ باقی سب کردار اعجاز کو تحرک دیتے ہیں جب کہ اعجاز پورے ناول کی حرکت کا باعث ہے۔ اعجاز ہارتا ہے ، ناکام ہوتا ہے مگر ناول کے آخر تک شکست تسلیم کرنے ،ہتھیار ڈالنے اور اپنی جدوجہدختم کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ وہ خیر کا نمائندہ ہے اور عملِ خیر کا سلسلہ رکتا نظر نہیں آتا۔یہ الگ بات کہ شر کا کھیل بھی پنپ رہا ہے اور اس کے مقابلے میں اعجازجیسے لوگ ناکام ہو تے جا رہے ہیں لیکن وہ بھی سپر نہیں ڈال رہے۔ حالات کے بدلنے کی خواہش ، ان کو خوشگوار بنانے کی جدوجہد چلتی رہے گی۔ آخر پر آ کر اعجاز کے ساتھ سرفراز بھی شامل ہو گیا ہے۔ سرفراز بھی خالی ہاتھ ہے، ایک اچھے مستقبل کو ٹھوکر مار کر آیا ہے، صرف اس لیے کہ وہ خیر کی قدر پر یقین رکھتا ہے۔ یہ یقین اسے اعجاز کی طرف سے ہی ملا ہے۔یہاں آ کر اعجاز اکیلا نہیں رہا بلکہ سرفراز کی شکل میں دوسرا اعجاز بھی اس کے ساتھ مل گیا ہے اور شر کی بڑھتی ہوئی قوتوں کے سامنے خیر کے نمائندوں کی مدافعت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ رہا جہانگیر تو وہ شر کا ایک ایسا نمائندہ ہے جو خیر کی قوت کی اخلاقی برتری تسلیم کر چکا ہے اور اپنے بیٹے کی نگہداشت کے لیے اعجاز کو ذمہ سونپتا ہے۔وہ کسی اور کو بھی یہ ذمہ داری دے سکتا تھا لیکن اس کے اپنے تمام حلقے میں اسے صرف اعجاز ہی اس قابل نظر آیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ عمر بھر اعجاز کی سوچ اور اس کے نظریات سے اختلاف رکھنے کے باوجود آخر پر وہ اس کے طریقِ فکر اور اخلاقی اقدار پر ایمان لے آیا ہے۔ ورنہسرکشی کی روش پہ چلنے والے تو سر کٹتے وقت بھی شانوں کے قریب سے کاٹنے کا اشارہ کرتے ہیں ۔عمر بھر کے معاشی حاصلات کے باوجود اگر جہانگیر اعجاز کی اخلاقی برتری کا قائل ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اعجاز سے مرعوب ہے اور اس جیسا بننا چاہتا ہے۔
ناول کی سب سے اہم نسوانی کردار سکینہ ہے۔ اعجاز کی بیوی اور ایک عام سی گھریلو اور وفا شعار عورت جو بڑی دیر تک ایک مفعول حیثیت رکھتی ہے لیکن پھر ایک وقت آتا ہے جب وہ اپنی گرہستی کو نقصان میں جاتے دیکھ کر ،اعجاز کو زمیند اری کی طرف سے لاپروا سمجھ کر میدان میں اتر آتی ہے اور اعجاز کا تمام بوجھ اٹھا لیتی ہے۔ وہ گھر کو اکٹھا رکھتی ہے اور ایک فرض شناس عورت کی طرح اپنے شوہر ، دیور اور بیٹوں کے لیے زندہ رہ رہی ہے۔


دوسرا نسوانی کردار کنیز کا ہے۔ کنیز پہلے تو ایک آ برو باختہ مزدورعورت نظر آتی ہے جس کے کئی مردوں کے ساتھ تعلقات ہیں لیکن آخر پر وہ ایک انقلابی عورت کے طور پر سامنے آتی ہے جو اپنی پارٹی کے لیے اہم کردار ادا کررہی ہے۔ یہ کردار مدافعت کی علامت ہے کیوں کہ یہ اس طبقے سے جنم لیتا ہے جس کے خمیر تک میں غلامی رچی ہوتی ہے۔ اس طبقے سے ایسی عورت کا جنم لینا ایک مثال کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ عورت انتہائی حد تک جارحانہ تیور بھی رکھتی ہے جن کا اندازہ تو پہلے بھی ہوتا ہے لیکن صحیح علم تب ہوتا ہے جہاں وہ اپنی ساتھی لڑکی کے ذریعے ملک حمید کے ہاتھوں ملک رشید کا قتل کروا کے اپنا انتقام لیتی ہے۔
اس کے بالکل برعکس نسرین کا کردار ہے۔ جو اپنی اصل میں کچھ پر اسرار ہے۔ پر اسرار اس معنی میں نہیں کہ ناول نگار نے اسے پراسرار بنایا ہو بلکہ اس معنی میں کہ ناول نگار اس کردار کو پوری طرح سامنے ہی نہیں لا سکا۔ ناول کے شروع میں جب وہ آتی ہے تو ایک بہت ہی بے باک انقلابی کی حیثیت سے آتی ہے جسے اپنی شخصیت پر پورا اعتماد ہے۔ بعد ازاں وہ ایک مظلوم لڑکی کے روپ میں سامنے آتی ہے اور آخر پر اس کا امیج ایک ایسی لڑکی کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو کسی بھی مرد کے ساتھ تعلق رکھ سکتی ہے۔ اس کردار کے سلسلے میں ایک چھوٹی سی چوک بھی ناول نگار سے ہوئی۔ وہ مناسب وقت پر کرنل کی طرف سے ، جس نے نسرین کو اپنی سر پرستی میں رکھا ہوا تھا، نسرین کے جنسی استحصال کے متعلق بتا نہ سکا اور اور اس ناکامی کا بھی اتنا مسئلہ نہیں تھا، کیوں کہ قاری کو تو اس رشتے کی نوعیت معلوم ہی نہیں ، مسئلہ تو غلط موقع پر بتانا ہے۔ جب نسرین شعیب کے واش روم سے نمودار ہوتی ہے اور سامنے سرفراز کو کھڑا دیکھتی ہے تو ہسٹریائی انداز میں کرنل کے ساتھ اپنے تعلقات کا اظہار کر دیتی ہے۔اس انکشاف کے اظہار کے لیے بہت ہی نا مناسب وقت چنا گیا ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نسرین کی بجائے خود ناول نگار کو ان کے تعلق کی اس نوعیت کو بے نقاب کرنے کی جلدی پڑی تھی ، سو اس نے جلدی سے اگلوا دیا۔ اس آخری واقعے پر بھی نسرین کی شخصیت کو پوری طرح سے بامعنی نہ بنایا جا سکا۔
اس ناول تک پہنچ کر عبداللہ حسین پر سے شرم و حیا کا وہ پردہ اتر گیا ہے جو ’’اداس نسلیں ‘‘ میں کرداروں پر پہرہ بٹھا کر رکھتاہے۔ یہاں کوئی بھی کرداربشری کمزوری سے مبرّا نہیں ہے۔ تمام کردار اپنی شخصیت میں تھوڑی بہت ٹیڑھ رکھتے ہیں ۔یعقوب اعوان اپنی ہی سالی سے اپنی اجاڑ زندگی میں رونق بنائے ہوے ہے۔ اعجاز کنیز کی تنی ہوئی چھاتیوں کی شہوت انگیز ترغیب کے سامنے اپنی تمام تر اخلاقی بلندی سے اُتر آتا ہے اور سرفراز نسیمہ سے شادی کا خواہش مند ہونے کے باوجود نسرین سے اپنی جوانی کو سیراب کرتا ہے۔ان سے الگ ناول کا وہ منظربھی بہت خوب صورت ہے جہاں اپنے بیٹے حسین کا بدن اٹھا ہوا دیکھ کرسکینہ کا چہرہ کھِلا پڑ رہا ہے۔


عبداللہ حسین کا یہ ناول قابل مطالعہ ہے۔ ’’اداس نسلیں ‘‘ کی پیش روی کی وجہ سے اکثر ناقدین کی طرف سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے لیکن اپنی جگہ اس میں بھی کافی کچھ ایسا ہے جو پڑھنے لائق ہے۔ اس ناول کو ہم کوئی شاہکار ناول تو نہیں کہہ سکتے لیکن اس میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ایک اچھے ناول کے لیے ضروری ہیں ۔ عبداللہ حسین کی طرف سے ،پہلے ناول کی طرح ’’نادار لوگ‘‘ بھی اردو دنیا کے لیے خاص تحفہ ہے۔

٭٭٭

حوالہ جات

۱۔ محمدعاصم بٹ ،’’ عبداللہ حسین ، شخصیت اور فن‘‘ ، اکادمی ادبیات پاکستان ، اسلام آباد ، ۲۰۰۸ء ، ص: ۹۹
۲۔ عبداللہ حسین سے گفتگو ، از فیضان عارف ، روزنامہ جنگ راولپنڈی ، اشاعت۲ ستمبر۱۹۹۶ء
۳۔ عبداللہ حسین،’’نادار لوگ‘‘،لاہور، سنگِ میل پبلیکیشنز،بارِ چہارم، ۲۰۰۴، ص:۲۸۔۴۲۷
۴۔ ایضاً،ص:۴۹۳
۵۔ ایضاً،ص:۱۰۵
۶۔ ایضاً،ص:۸۰۵

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

کمنٹ کریں