نیر مسعود اورجادوئی حقیقت نگاری

مضمون نگار : محمد عباس

, نیر مسعود اورجادوئی حقیقت نگاری

نیر مسعود 1936ء کو لکھنٔو میں پید اہوئے۔ ان کی ادبی تربیت ان کے والد پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ انہوں نے اردو اور فارسی میں پی ایچ ڈی کیا ۔ زندگی کا بیشتر حصہ لکھنٔو یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی سے متعلق رہ کر گزارا۔ ان کے چار افسانوی مجموعے شائع ہو ئے۔ان کی وفات 2017ء میں ہوئی۔


نیر مسعود جدید اردو فکشن کی ممتاز ترین شخصیات میں شامل ہیں، دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکے ہیں اور ان کی شہرت کا دائرہ وسیع ہو تا جا رہا ہے۔ نیر مسعود نے گو کہ بہت کم مقدار میں لکھا لیکن معیار کو پوری طرح مدِنظر رکھا۔ افسانے کے ساتھ ساتھ انھوں نے تحقیق ، تنقید،افسانہ نگاری، غالبیات اور ترتیب و تدوین ایسے شعبوں میں اپنی صلا حیتوں کو اجاگر کیا ہے۔ ان کی شخصیت اس قدر ہمہ جہت ہے کہ بقول آصف فرخی وہ افسانے میں تنقید کا رنگ پیدا کر سکتے ہیں تو تنقید میں افسانہ بھی بنا کر دکھا سکتے ہیں۔ان کے افسانوں پر تبصرہ کرتے ہو ئے آصف فرخی کا کہنا ہے :


’’نیّر مسعود کے افسانے پڑھتے وقت ایک ابتدائی تاثر اس طرح کا بھی قائم ہوتا ہے کہ اس ایک ڈیوڑھی کو پار کرتے ہی ہم ایک محل سرا کے اندر داخل ہو گئے ہیں یا پرانی حویلی ہے جس میں کمرے بہت سے ہیںاور صندوق رکھے ہوئے ہیں، ہر کمرہ سرگوشیوں اور سایوں سے آباد ہے لیکن جس نے ہمیں اندر آنے کا عندیہ دیا ہے، خود اس کا پتا نشان نہیں ملتا۔ چھپن چھپائی کا ایک کھیل ہے جس میں کوئی کھیلنے والا اب بچہ نہیں رہا، ہر ایک پھر بھی کھیلے جا رہا ہے اور چور پکڑا نہیں جاتا …اس کے افسانوں میں ادبی عالم غغ کی ایک جھلک نظر آتی ہے اور اس کی بیّن مثال ان کا فسانہ ’’ طاؤس چمن کی مینا ‘‘ ہے جونوّابی عہد کے لکھنو کے تہذیبی و سماجی پس منظر سے محققانہ واقفیت کے بغیر ایسا مستحکمFabula( روسی ہیئت پرست نقادوں کے محاورے میں) حاصل نہ کر پاتا۔‘‘٭۱


نیر مسعود افسانہ نگاری میں ابہام کے خاتم ہیں۔ ان کے ہاں افسانہ ابہام کی اس آخری حد تک پہنچتا ہے کہ ا گر اس کے آگے کوئی جائے تو محض ابہام ہی ہاتھ آئے گا ، افسانہ اڑ جائے گا۔ انتہائی سادہ اور مکمل افسانہ لیکن پڑھنے کے بعد قاری گنگ ہے کہ اس پر کیا کہا جائے ۔ اگر کہیں ایک سرا پکڑائی دیتا ہے تو دوسری طرف کہیں اورسے اس کی تردید ہو جاتی ہے۔ نیر مسعود کا یہ ابہام ان کے ہاں سریت کا احساس پید اکرتا ہے اور ان کے افسانوں کی دنیا پر کسی نئی دنیا کا گمان ہوتا ہے ۔ بہت کچھ پہچان میں آتا ہے اور بہت کچھ پہچان میں نہیں آتا۔ یہ سریت بہت سے ناقدین کو کافکا کی یاد دلاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیر مسعود کی اس سریت کا کافکا کی وجودی دہشت سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہاں کبھی بھی وجود بہ حیثیت مسئلہ پیش نہیں ہوا، بلکہ خارج کی صورت حال کو دھندلا کر سریت پیداکی گئی ہے۔اِسی ابہام کی بنا پر ان کے افسانوں میںطلسمی حقیقت نگاری کی تکنیک کے استعمال کا بھی گمان ہوتا ہے۔نیر مسعود کے ہاںجادوئی حقیقت نگاری کے استعمال کا خاص شہرہ ہے ۔ اب تک اردو میںجادوئی حقیقت نگاری کے حوالے سے سب سے زیادہ نیر مسعود پر لکھا گیا ہے ۔ ایم اے کا ایک مقالہ، ایم فل کے مقالے میں خصوصی مطالعہ اورڈاکٹر ناصر عباس نیر جیسے معتبر نقاد کا خصوصی مضمون۔ یہ سبھی چیزیں نیر مسعود کوجادوئی حقیقت نگاری کے حوالے سے بہت اہم ٹھہراتی ہیں۔


ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے نیر مسعود کے ہاںجادوئی حقیقت نگاری کا ذکر کیا ہے اور ان کے اسلوب کا سب سے اہم عنصرجادوئی حقیقت نگاری کو قرارد یا ہے ۔ جب کہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ نیر مسعود کے افسانوں کے اہم ترین عناصر تعقید، حذف، ابہام اور سریت ہیں۔ وہ جب جان بوجھ کر حقیقت پسندانہ جزئیات نگاری سے اغماض برتتے ہیں تو ان کا افسانہجادوئی حقیقت نگاری سے کیسے کام لے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’مارگیر‘‘ ان کا ایک ایسا افسانہ ہے جسے طلسمی حقیقت نگار تاثر کے حوالے سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ اِس افسانے کا طلسمی تاثر اِس کی اُن تفصیلات سے قائم ہوتا ہے جو کہ افسانے میں بیان نہیں ہوئیں۔ جگہ، کرداروں کا نام اور بہت سے مکالموں میں ادھورے چھوڑ دیئے گئے جملے اس افسانے میں سریت کو جنم دیتے ہیں اور یہی سریت طلسماتی حقیقت نگاری کا التباس پیدا کرتی ہے جب کہ اسےجادوئی حقیقت نگاری نہیں کہا جا سکے گا۔ یہ محض ابہام ہے ۔ اگر ان سب چیزوں کے اسمِ نکرہ کی بجائے اسمِ معرفہ لکھ دیے جائیں تو یہ افسانہ واضح حقیقت کی سرزمیں پر آ کھڑا ہو گا اور اس کی ساری سریت ختم ہو جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ نیر مسعود کے افسانے میں سریت پر اسرار چیز کے ہونے سے نہیں بلکہ روزمرہ کی کسی چیز کے مبہم ہونے سے پیدا ہوتی ہے جب کہجادوئی حقیقت نگاری کسی عام روزمرہ ماحول میں کسی خاص ماورائی چیز کو شامل کرتی ہے۔ اس کا عمل مختلف ہے۔


ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے نیر مسعود کے ہاںجادوئی حقیقت نگاری کا مطالعہ کرتے ہوئےجادوئی حقیقت نگاری کو مابعد نو آبادیاتی سیاق کا حامل قرار دیا لیکن نیر صاحب کا افسانہ کیوں کہ کسی بھی قسم کے سیاسی یا معاشی نظریے کی تبلیغ کا ذمہ اپنے سر نہیں لیتا اس لیے انہوں نے کہا ہے کہ مابعد نو آبادیات نیر مسعود کیجادوئی حقیقت نگاری کا بنیادی سیاق نہیں ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر ناصر عباس نیر لکھتے ہیں :
’’نیر مسعود کے یہاں جادوئی حقیقت نگاری کی ایک سے زیادہ طرزیں ہیں۔ نمایاں طرز ایک ایسے افسانوی متن کی تخلیق میں ظاہر ہوئی ہے جو دہری سطح کا حامل ہے۔ پہلی سطح عمل کی اور دوسری سطح ا س باطنی سفر کی ہے جس کے ذریعے کردار اپنے وجود کی معنویت تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ دونوں میں ایک ایسا فصل ہے جس کا مٹانا ایک ’جادوئی‘ ہنر سے کم نہیں ۔ نیر مسعود نے یہ ہنر آزمانے کی سعی بلیغ کی ہے۔‘‘٭۶


مندرجہ بالا بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر افسانے میں دو سطحیں پائی جائیں اور پہلی سطح عمل کی ہو اور دوسری اس باطنی سفر کی جس کے ذریعے کردار اپنے وجود کی معنویت تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو اس تکنیک کوجادوئی حقیقت نگاری کہیں گے۔ تو پھر کیا موبی ڈک، مادام بوواری، جرم و سزا ، کرامازوف بردران ، اوبلوموف، پہاڑ کی آواز، میجک مائونٹین، یہ سبھی ناولجادوئی حقیقت نگاری کہلائے جاسکتے ہیں؟ اور پھر یہ دونوں سطحیں تو کامیواور سارتر کے فکشن میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں تو کیا ان کا فکشن بھی طلسمی حقیقت نگار کہلائے گا؟ اگر نہیں تو پھر نیر مسعود کا فکشن بھی اس حوالے سے طلسمی حقیقت نگار نہیں ہے ۔ ان کے ہاںجادوئی حقیقت نگاری بہت محدود انداز میں استعمال ہوئی ہے جس کا ہم کچھ دیر بعد مطالعہ کریں گے۔


عبدالعزیز نے اپنے ایم فل کے مقالے میں نیرمسعود کے افسانوں میں اسی طرح سےجادوئی حقیقت نگاری کا مطالعہ کیا ہے اور بلا تردد ان کے ہر افسانے کوجادوئی حقیقت نگاری کی ذیل میں ہی شمار کیاہے۔خاص طور پر ’’سیمیا‘‘ کے متعلق ان کی رائے ہے کہ:
’’اس مجموعے کے تمام افسانے کسی نہ کسی حوالے سے جادوئی حقیقت نگاری کے عناصر کے حامل ہیں ۔جن میں افسانہ نگار نے خوف ، دہشت ، پر اسراریت، واہمہ اور موت کومختلف انداز میں اپنی جزئیات سمیت بیان کرتے ہو ئے اس کے تمام ممکنہ پہلو ؤ ںکا تعاقب کیا ہے ۔نیّر مسعود نے جس طرح کی جادوئی حقیقت نگاری کو بیان کیا گیا ہے وہ بین الاقوامی سطح کی جادوئی حقیقت نگاری سے مختلف ہے ۔ انہوں نے اس کا تمام تر مواد مقامی تہذیب سے کشید کیا گیا ہے، جس وجہ سے اس کی خصوصیات لاطینی امریکہ کی جا دوئی حقیقت نگاری سے بہت مختلف ہیں ۔ وہ ایک مابعد نو آبادیاتی ملک کے ادیب ہو نے کے ناتے سے اپنی تاریخ یا ماضی سے منہ نہیں موڑتے لیکن اس کے باوجود ان کے افسانوں میں مستقبل کی جھلک بھی موجود ہے ۔ ما ضی اور مستقبل کی دو مختلف دنیاؤ ں کے سنگم پر انھوں نے اپنے افسانے کی منفرد دنیا تخلیق کی ہے جو دیگر افسانہ نگاروں سے انھیں ممیزکرتی ہے۔‘‘٭۷


عبدالعزیزکی اس رائے سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ نیر مسعود کے ان پانچ افسانوں میں کہیں بھیجادوئی حقیقت نگاری کا شائبہ تک نہیں ہے۔ یہ افسانے در اصل اپنی پر اسراریت کی وجہ سے بظاہر طلسمی حقیقت نگار محسوس ہوتے ہیں لیکن در حقیقت یہ ایڈگر ایلن پو اور کافکاکی جیسی ماورائیت کا شاخسانہ ہے نہ کہجادوئی حقیقت نگاری کا۔
نیر مسعود کے اسلوب میں ابہام کی وجہ سے پید اہونے والی سریت کی بنا پر ان کے اکثر افسانوں کو بلا سوچے سمجھے طلسی حقیقت نگار افسانے قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ نیر مسعود کے بیشتر افسانے محض حقیقت نگاری کی رَو سے لکھے گئے ہیں اور ان کے بیان کی سریت اور عدم تعین اگر تفہیم میں آڑے نہ آئے تو یہ سیدھی سیدھی روزمرہ زندگی کی کہانیاں ہیں۔ ان کے ہاں جو جادوئی اور ماورائے حقیقت ماحول دکھائی دیتا ہے، اس کی وجہجادوئی حقیقت نگاری نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ ان کے اسلوب کی سریت ہے۔ وہ کردار کا نام ، جگہ کا نام نہیں لکھتے تو ہمیں وہ پورا ماحول جادوئی کیوں لگتا ہے جب کہ ا س کے تمام ٹھوس حوالے ہماری دیکھی بھالی دنیا میں سے ہیں۔ حویلی کے زنگ خوردہ دروازے حقیقی ہیں اور اگر ان کی چابیاں گم ہو گئی ہیں اور یہ دروازے کبھی نہیں کھلنے تو یہ عمل جادوئی نہیں ہے بلکہ اسی حقیقت کا حصہ ہے ۔ نیر صاحب حقیقت سے فینٹیسی کی طرف سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں نہ کہ حقیقت نگاری سے جادوئی حقیقت نگاری کی طرف۔ ’’مارگیر‘‘ پورا افسانہ ایک فنتازیہ ماحول کو جنم دیتا ہے اور اس کا انجام توہے ہی ایک فینٹیسی جس میں مارگیر کے اندرونی کمرے میں ہر طرف پھن کچلے سانپ بکھرے ہوئے ہیں ا ور مارگیر اندر مردہ حالت میں پڑا ہے۔ نیر صاحب کے اس عمل کو سمجھنے کے لیے ان کے افسانے ’’جانوس ‘‘ کا مطالعہ سودمند ہوگا جس میں افسانے کے مرکزی کردار جو کہ ڈاکٹر ہے، کو ایک آدمی تیس روپے دینے آیا ہے ۔ راوی یہ تیس روپے کب کا بھول چکا ہے۔ وہ شخص خود کئی دن کا بھوکا ہے مگر اس کے باوجود تیس روپے مرکزی کردار تک پہنچا دیتا ہے۔یہ سیدھی سادی حقیقت پسند کہانی بھی ہو سکتی تھی،مگر نیر صاحب کے بیانیے نے اس میں ا س قدر سریت پیدا کی ہے کہ افسانہ کسی اور دنیا کا محسوس ہوتا ہے۔ واقعہ کچھ نہیں ہے ، واقعے کا بیان پر اسرار ہے جب کہجادوئی حقیقت نگاری میں واقعہ ازخود پر اسرار ہوتا ہے۔ جادو حقیقت میں ملتا ہے اورسب کے لیے قابلِ یقین اور سب کے لیے ناقابلِ تشریح ہوتا ہے، جب کہ نیر صاحب کے بیشتر افسانوں میں واقعہ کی بجائے بیان پر اسرار ہوتا ہے۔ ان کے کل 36افسانوں میں ’’اوجھل‘‘،’’نصرت‘‘، ’’سیمیا‘‘، ’’مسکن‘‘، ’’مراسلہ‘‘، ’’جانوس‘‘، ’’سلطان مظفر کا واقعہ نویس‘‘، ’’جرگہ‘‘، ’’وقفہ‘‘، ’’عطرِ کافور‘‘، ’’ساسانِ پنجم‘‘، ’’بائی کے ماتم دار‘‘، ’’اہرام کا میرِ محاسب‘‘، ’’نوشدارو‘‘، ’’رے خاندان کے آثار‘‘، ’’تحویل‘‘، ’’بن بست‘‘، ’’طائوس چمن کی مینا‘‘، ’’گنجفہ‘‘، ’’بڑا کوڑا گھر‘‘، ’’بادنما‘‘، ’’علام اور بیٹا‘‘،’’دستِ شفا‘‘، ’’کتاب دار‘‘، ’’مسکینوں کا احاطہ‘‘،’’دنبالہ گرد‘‘اور’’آزاریان‘‘سبھی افسانے حقیقت پسند ، ابہام یا محض تاریخی فینٹیسی کے نمونے ہیں جب کہ ’’مارگیر‘‘، ’’ندبہ‘‘، ’’اکلٹ میوزیم‘‘، ’’شیشہ گھاٹ‘‘، ’’جانشین‘‘ اور ’’پاک ناموں والا پتھر‘‘ ایسے افسانے ہیں جن میں کسی حد تکجادوئی حقیقت نگاری کے ایک دو عناصر ملتے ہیں۔ ان سب کا بھی الگ تجزیہ کیا جائے گا البتہ ان کے آخری تین افسانے ’’بگولہ‘‘، ’’صبور قبیلہ‘‘ اور ’’دھول بن‘‘ جو ابھی تک کسی مجموعے میں شامل نہیں ،طلسمی حقیقت نگاری کے نمونے ہیں اور ابھی تک کسی نے بھی ان تینوں افسانوں کا ذکر ا س تکنیک کے حوالے سے نہیں کیا۔


ذیل میں ہم پہلے نیر صاحب کے اُن افسانوں کا مطالعہ کریں گے جن میں طلسمی حقیقت نگار تاثر ملتاہے۔ اس کے بعد مذکورہ تینوں افسانوں کا تفصیلی ذکر کیا جائے گا۔
افسانہ ’’ندبہ ‘‘ اپنی اصل میں حقیقت پسندانہ افسانہ ہے لیکن ایک نامعلوم قبائلی آبادی جسے نیر مسعود برادری کہتے ہیں اور ان کی ندبہ کی رسم اس افسانے کو ایک جادوئی تاثر دیتی ہے۔ افسانے کو جادوئی بنانے میں نیر مسعود کی ابہام پید ا کرنے کی تکنیک کا زیادہ عمل دخل ہے ورنہ اگر برادری کی جگہ خانہ بدوش یا بنجارے یا پکھی واس کا لفظ استعمال ہوتا تو افسانہ حقیقت پسندی کی سطح سے اٹھ ہی نہ سکتا۔ افسانے کا راوی بتاتا ہے کہ وہ عمر بھر دور دراز علاقوں میں گھوم کر وقت گزارتا رہا اور اس نے مختلف برادریوں کے ساتھ وقت گزارا جو دور دراز کے اجاڑ علاقوں میں رہتی تھیں۔ یہ مختلف برادریاں تھیں اور ان کی مختلف رسومات تھیں لیکن ایک ندبہ کی رسم ایسی ہے جو ان سب میں مشترک ہے اور اسے یہی پوری طرح یاد ہے ، اس رسم کا بیان بھی ایک طرح کا جادوئی اثر رکھتا ہے۔
’’بہت سی برادریوں میں میرے پہنچنے کے دوسرے ہی تیسرے دن کوئی نہ کوئی موت ضرور ہوئی جس کا اعلان مرنے والے کے قریب ترین رشتہ داروں یا ان رشتہ داروں کے قریب ترین رشتہ داروں کے چیخنے یا رونے سے ہوتا تھا۔ برادری والے ان سوگواروں کے پاس خاموشی کے ساتھ آتے اور انہیں چپ کرا کے خاموشی کے ساتھ واپس چلے جاتے تھے ۔ کچھ لوگ میت کو ٹھکانے لگانے کے بندوبست میں لگ جاتے۔ یہ بندوبست مکمل کر کے کہیں میت کو ٹھکانے لگانے کے بعد اور کہیں اس سے پہلے ہی سب مل کر ندبہ کرتے جس کے لیے باقاعدہ مقام اور وقت مقرر ہوتا تھا ۔، زیادہ تر برادریوں کا ندبہ فریادی لہجے میں موت کی شکایت سے شروع ہو کر مرنے والے کی یاد تک پہنچتا، پھر اس میں تیزی آنے لگتی اور جب ندبہ پورے عروج پہ ہوتا تو سب پر ایک جوش طاری ہو جاتا اور ان کے بدنوں کی جنبشوں اور ان کی آوازوں اور سب سے بڑھ کر ان کی آنکھوں سے غم کی بجائے غصے کا اظہار ہو نے لگتا اور کبھی کبھی ایسا معلوم ہوتا کہ سب نے کوئی تیز نشہ استعمال کر لیا ہے۔ کہیں کہیں مجھ کو بھی اس رسم میں شریک ہونا پڑتا لیکن میں ایسے موقعوں پر جذبوں سے عاری بے عقلی کے ساتھ دوسروں کی بھونڈی نقالی کر تا رہ جاتا اور ندبہ ختم ہو جاتا جس کے بعد سب ایک دوسرے کو تسلی دیتے۔ اس میں مجھے بھی تسلی دی جاتی تھی۔ ‘‘٭۸


راوی سیرو سیاحت کے مشاغل سے اکتا کر واپس اپنے شہر میں آ کے رہنے لگتا ہے ۔ کافی مدت کے بعد اس کے دیئے گئے پتے کے ذریعے ایک برادری کے لوگ راوی کے شہر میں اس کے گھر تک آ پہنچتے ہیں۔ یہ لوگ کسی قدیم معاشرت سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں اور اپنی روایات کی وجہ سے افسانے میں ایک جادوئی وجود کی حیثیت سے ظاہر ہوتے ہیں۔ بازار میں ایک طرف کھڑے یہ لوگ سب دکانداروں کے لیے کوفت کا باعث ہیں اور قاری کے لیے حقیقت کی دنیا میں نمودار ہونے والی یہ جادوئی خلقت طلسمات کا ایک رنگ رکھتی ہے۔ پھر جس گاڑی میں ان لوگوں نے اپنا مریض رکھا ہوا ہے وہ اپنی جگہ ایک نئی ہیئت کی مالک ہے اور اس کے اندر پڑا ہوا مریض تو اس افسانے کا واحد طلسمی حقیقت نگار عنصر ہے۔ اس مریض کے بغیر ا س افسانے کو طلسمی حقیقت نگار تاثر ملتا ہی نہیں ہے۔ یہ مریض خود راوی پر بھی واضح نہیں ہے۔ صورت ا س کی بچے جیسی ہے جب کہ ہاتھوں کی کھال ایک بوڑھے کی طرح جھریوں بھری ہے:


’’میرے سامنے ایک بچے کا سوجا ہوا چہرہ تھا۔ اس کی آنکھوں کے پپوٹے بہت پھول گئے تھے ۔ ایک پپوٹے میں ہلکی سی درز تھی جس میںسے وہ مجھے دیکھ رہا تھا ۔ دوسرا پپوٹا بالکل بند تھا لیکن اس پر چونا یا کوئی اور سفیدی پھیر کر بیچ میں کاجل یا کسی اور سیاہی کا بڑا سا دیدہ بنا دیا گیا تھا جس کی وجہ سے اس ابھرے ہوئے پپوٹے پر ایسی آنکھ کا دھوکا ہو جاتا تھا جو حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہو… ا سی وقت عورت نے میرا ہاتھ دبوچ لیا اور میں اس کی طرف گھوم گیا۔ ا س نے اپنا دوسرا ہاتھ گودڑ میں ڈالا اور ادھر ادھر ٹٹول کر سوار کا ایک ہاتھ کہنی تک باہر نکال لیا۔ میرے سامنے تین ہاتھ تھے ۔ میرا اپنا جانا پہچانا ہاتھ ، ا س کی انگلیوں میں انگلیاں الجھائے ہوئے عورت کا نرم، سفید اور دھیرے دھیرے پسیجتا ہوا ہاتھ اور ہم دونوں کی ہتھیلیوں کے درمیان سوار کا چھوٹا سا سوکھا ہوا ہاتھ جس کی کلائی سے کہنی تک رنگ برنگے ڈورے لپٹے ہوئے تھے اور ان کے بیچ بیچ سے دکھائی دیتی ہوئی مردہ سی کھال میں جھریاں پڑی ہوئی تھیں۔ ‘‘٭۹


دہ سبھی لوگ ا س سوار کو وہاں راوی کے پا س اس لیے لائے ہیں کہ وہ کسی خاص حوالے سے آخری ہے۔ مٹتی ہوئی تہذیب کے دردمند شاہد نیر مسعود کے لیے کسی بھی حوالے سے آخری آدمی کی موت کیا معنی رکھتی ہے، یہ وہی جانتے ہیں جن پہ ’’مار گیر‘‘ ، ’’نوشدارو‘‘، ’’وقفہ‘‘ اور ’’پاک ناموں والا پتھر‘‘ جیسے افسانوں کی معنویت کھلتی ہے۔ البتہجادوئی حقیقت نگاری کے حوالے سے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سوار ، اس کا کسی خاص حوالے سے آخری ہونا اور اس کے لیے برادری والوں کی جدوجہد ،راوی کا ان پر توجہ نہ دینا اور ان کا بے نیل مرام واپس چلے جانا سبھی ایک خاص قسم کی جادوئی کیفیت کا حامل ہے۔
’’دستِ شفا ‘‘بھی ایساہی افسانہ ہے۔ اس افسانے کا راوی بتاتا ہے کہ اس نے ایک خوش حال گھرانے میں آنکھ کھولی اور وہ اپنے دوسرے بھائیوں کی نسبت زیادہ ذہین تھا اور اسی وجہ سے اس کا باپ اس سے زیادہ محبت کرتا تھا۔ ابتدائی طور پر راوی نے عربی فارسی کے ساتھ ساتھ طب کی تعلیم بھی حاصل کی ۔مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسے فیض آباد سے لکھنٔو بھی جانا پڑا ۔باپ کی اجاز ت سے وہ لکھنٔو چلا گیا ۔لیکن چھ ہی ماہ بعد اس کو خبر ہوئی کہ اس کا باپ سخت بیمار ہے۔ وہ واپس لوٹتا ہے مگر باپ کی وفات کا صدمہ اسے جھیلنا پڑتا ہے۔ تب ماں نے شادی پر اصرار کیااور راوی مجبور ہو کر شادی کر لیتا ہے۔ کچھ عرصے بعد راوی نے لکھنٔو چھوڑ دیا اور فیض آبا د میں مستقل قیام پذیر ہو گیا ۔وہاں اس کا مطب بھی خوب چل نکلا تھا ۔


اس کی بیوی کی وفات ہوئی تو اس نے اس صدمے کو وبالِ جان بنا لیا اور اپنی بیوی کی قبر پر مقبرہ بنا دیا اور وہیں قیام پذیر ہو گیا ۔حتیٰ کہ ایک دن اس کی بیوی اس کے خواب میں آئی اور کہا کہ تم ہمیں دکھ دے رہے ہو اگر ہماری ملاقات کے خواہش مند ہو تو دوسری شادی کر لو۔ راوی نے دوسری شادی کر لی اور اسی عرصے میں وہ اپنی پہلی بیوی کی قبر پر جانا بھی بھول چکا تھا ۔ایک بار ایسا ہوا کہ راوی بہت سخت بیمار ہو گیا اور بچنے کی امید نہ رہی نقاہت سے برا حال تھا کہ ایسے میں کیا دیکھتا ہے کہ اس کی پہلی بیوی اس کے سامنے آگئی ہے ۔راوی نے بات کرنا چاہی لیکن وہ غائب ہو گئی ۔
یہ افسانہ شروع میں بالکل حقیقت نگاری کے تحت لکھا گیا ہے ۔افسانے کے آخر میں طلسماتی عناصردر آنا شروع ہو جاتے ہیں اور اس طلسمی فضا کا تعلق راوی کی بیوی کی وجہ سے ہے۔ مثلاً:


’’ایک رات نیند میں کہنے لگیں:
’’یہ مکان بدل دیجیے۔‘‘
دوسرے دن میں نے کہا:’’سوچتا ہوں کوئی اچھا سا مکان لے لوں‘‘۔تو کہنے لگیں
’’کیوں؟اچھا خاصا تو مکان ہے ۔‘‘
ایک بار سوتے سے اٹھ کر پوچھنے لگیں :
’’اس مکان میں پہلے کون رہتا تھا ؟‘‘
مجھے معلوم نہیں تھا لیکن میرا جواب سننے سے پہلے ہی وہ دوبارہ سوچکی تھیں ۔
ایک رات سوتے میں بولیں :
’’یہ مولسری کا درخت نہ کٹوائیے گا۔‘‘
ہمارے یہاں مولسری کا کوئی درخت تھا ہی نہیں۔‘‘٭۱۰


اس اقتباس سے ہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بیوی کے لاشعور میں نادیدہ قوتوں کے بارے میں خوف پہلے سے موجود تھا البتہ اس کا ذکر اس نے کبھی اپنے شوہر سے نہیں کیا تھا ۔اور مولسری کا درخت اور مولسری کی خوشبو اس افسانے میں خاص اہمیت کی حامل ہیں جو افسانے کے آخر تک ساتھ جاتے ہیں ۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ خوشبو ،نادیدہ قوتوں،اسرار اور خوف کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے اور نادیدہ قوتیں ،اسرار اور خوف یہ سب حقیقت کے الٹ ہوتی ہیں ۔
اس کے بعد راوی اپنی بیوی کی موت کا ذکر کرتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ کس طرح وہ رات کو خواب میں آتی تھیں۔اور ایک رات جب وہ اپنی بیوی کی جدائی میں بہت پریشان ہوتا ہے تو اس کی بیوی اسے نصیحت کرتی ہے کہ اگر ہماری ملاقات جلدی سے مقصود ہے تو نکاح کر لو ۔غرض راوی کو دوسرا نکاح کرنا پڑتا ہے۔دوسری بار جب راوی کی حالت بگڑتی ہے تو وہ بہت مایوس ہوتا ہے کہ اچانک رات کو اس کی پہلی بیوی اس کے پاس آتی ہے ۔راوی یوں بیان کرتا ہے :
’’ایک رات میری طبیعت بہت بگڑ گئی ۔بالکل وہی حالت ہو گئی جو امرِ دائود کے بعد ہوئی تھی ۔یقین ہو گیا کہ آخری وقت آن پہنچا ہے اچانک کہیں سے مولسری کے عطر کی خوشبو آئی ۔دیکھا تو سامنے وہ کھڑی ہیں ۔میں نے اٹھنا چاہا مگر طاقت نے جواب دے دیا کچھ کہنا چاہا مگر گویا ئی نے بھی جواب دے دیا۔منتظر رہا کہ وہ کچھ بولیں لیکن وہ خاموش کھڑی رہیں جیسے کچھ سوچ رہی ہوں میری طرف متوجہ بھی نہیں ہوئیں ۔پھر جو دیکھا تو وہ نہیں تھیں ۔‘‘٭۱۱


یہ اقتباس طلسماتی حقیقت نگاری کی مکمل عکاسی کرتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ طلسماتی حقیقت نگاری کے حامل افسانے وہ ہوتے ہیں جن میں حقیقت نگاری کی طرز پر چلتے ہوئے سلسلۂ واقعات میں مصنف اچانک کوئی ایسا واقعہ لے آتا ہے جو حقیقت نگاری سے بالا تر ہو اور مافوق الفطری عناصرکے قریب ہو ۔اس کے علاوہ انسان نے عام حواسی سطح پر اس کا پہلے مشاہدہ نہ کیا ہو ۔
یوں اس افسانے میں بھی حقیقت نگاری اور طلسماتی حقیقت نگاری ساتھ ساتھ چلتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ۔
’’اکلٹ میوزیم ‘‘افسانے کے آغاز ہی میں بیان کنندہ یہ بات واضح کر دیتا ہے کہ میں جو بیان کر نے جا رہا ہوں، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ خواب ہے یا حقیقت۔جو خواب میں نے دیکھا ہے ،اس کی ہر بات میری سمجھ میں آ گئی ہے، سوائے اس کے کہ میں نے خواب کیوں دیکھا۔یہ بات تو بالکل ہی سمجھ میں نہ آئی کہ خواب میں جس دوست سے میری ملاقات ہوئی تھی اور جس کانام لے لے کر میں باتیں کرتا رہا تھا، اس کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ بیان کنندہ بات کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ ریلوے اسٹیشن سے باہر نکلتا ہے اور اسے کوئی آوا ز سنائی دیتی ہے جو اس کا نام لیکر اسے متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔ وہ راوی کا بچپن کا دوست ہوتا ہے۔ دونوں دوست ملتے ہیں اور ماضی کی یادوں میں اور حال کی ملازمت کے حوالے سے خوب باتیں کرتے ہیں۔ آواز دینے والا دوست صحت کے محکمے سے وابستہ ہوتا ہے اور اسے اپنے محکمے سے کئی شکایات ہوتی ہیں اور وہ اپنے دوست کو اس عمارت میں لے جاتا ہے جہاں وہ کام کر رہا ہوتا ہے۔ اسے اس عمارت کا معائنہ کراتا ہے جس کی توسیع کا کام ہو رہا ہوتا ہے۔ دونوں دوست اندر پڑی ہوئی اور بھی بہت سی چیزوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ان دونوں دوستوں کا سامنا ایک بھکاری عورت سے بھی ہوتا ہے۔راوی اسے دو تین بار ڈانٹتا بھی ہے ۔جب راوی اور اس کا دوست اس عمارت سے باہر نکلتے ہیں تو سامنے اس کے دوست کی بیوی اور بچے کھڑے ہوتے ہیں جو راوی سے اس کے دوست اور اپنے خاوند کا پتہ پوچھ رہی ہوتی ہے۔ جب راوی کافی دیر تک جواب نہیں دے پاتا تو اس کی بیوی اس کے ہاتھ کی طرف دیکھتی ہے جو کہ اس کے دوست کی برساتی کی جیب میں ہوتا ہے ۔راوی کہتا ہے اس واقعہ کے بعد میں نے سوچااب مجھے خواب سے جاگ جانا چاہیے اور میں نے آنکھیں کھول دیں ۔
یوں تو ہمیں نیّر مسعو د کے تمام افسانوں میں خواب اور حقیقت کی کیفیت نظر آتی ہے لیکن اس افسانے کے آغاز میںنیّر مسعود نے کہا ہے کہ انھیں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ وہ جو مزید لکھنا چاہ رہے ہیں وہ خواب ہے یا حقیقت ۔نیّر مسعود کو اپنے افسانوں میں موجو د خواب کی سی کیفیت کا بھرپور احساس ہے ۔اور وہ اس بارے میں ساگری سین گپتا کو دیئے گئے ایک انٹرویومیں کہتے ہیں :
’’میری کہانیوں میں بلکہ میری پوری زندگی میں خوابوں کا بڑا کردار ہے ۔بعض خواب تو اس قدر مربوط گویا پورے بنے بنائے افسانے کے طور پر بھی دیکھے ۔بہت لمبے خواب بھی دیکھے۔‘‘٭۱۲


افسانے کے مرکزی کردار کی اپنے دوست سے ملاقات ہوتی ہے۔اور وہ اس کو لے کر اس عمارت میں داخل ہو جاتا ہے جس کی توسیع ہو رہی ہوتی ہے ۔یہاں نیّر مسعود کا بیان طلسم سے خالی نہیں ہوتا ۔پھر اس جگہ پر اچانک ایک عورت کا سامنے آجانا بھی حقیقت کی سطح سے اٹھا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔راوی یوں بیان کرتا ہے :
’’اب پھر قندیل سامنے نظر آرہی تھی ۔ہم تیز قدموں سے صحنچی کی طرف بڑ ھ رہے تھے کہ دوست کا ہاتھ پسینے میں ڈوبا اور پھسل کر میرے ہاتھ سے نکل گیا ۔میں قندیل کے نیچے پہنچ کر دوست کی طرف مڑ رہا تھا کہ ایک سایہ سا میرے اور اس کے بیچ میں آگیا ۔ایک عورت میر ے دوست کے آگے ہاتھ پھیلائے کھڑی تھی۔‘‘٭۱۳
ایک اور بات جو افسانے کو طلسمات کے دائروں میں داخل کرتی ہے ۔وہ یہ ہے کہ قاری کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ پہلا کردار خواب دیکھ رہا ہے یا دوسرا ۔اس افسانے میں نیّر مسعود نے خواب کو حقیقت اور حقیقت کو خواب بنا کر ایک طلسمی منظر نامہ تشکیل دیا ہے ۔قاری کو آخر تک سمجھ نہیں آتی کہ جو واقعہ اس نے پڑھا ہے وہ خواب ہے یا حقیقت۔ اس افسانے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ افسانہ نگار نے کسی بھی کردار کے مادی معاملات سے کوئی غرض نہیں رکھا ۔اور ایک خواب ہی کی کیفیت میں سارا افسانہ گزر جاتا ہے ۔ایک اقتباس دیکھیں جس سے افسانے کی ساری کہانی ایک معمہ بن جاتی ہے :
’’بچیاں بھی قریب آکر میرے جواب کا انتظار کرنے لگیں اور میں دیر تک سوچتا رہا کہ انھیں کیا بتائوں اور پھر یہ سوچتا رہا کہ انھیں کیا نہ بتائوں ۔اور گیلی سڑک سے اٹھتی بھاپ گھنی ہوتی گئی ۔اب جاگنا چاہیے آخر میں نے خود کو بتایا اور آنکھیں کھول دیں ۔‘‘٭۱۴
مجموعی طور پر یہ تمام باتیں اس افسانے کو طلسمات کے دائروں میں لے جاتی ہیں ۔ان کے اس افسانے کے متعلق محمد عزیز لکھتے ہیں:
’’ اکلٹ میوزیم ‘‘ میں خواب اور تخیل کی مدد سے نئی دنیا تشکیل دی گئی ہے جس میں خوف اور دہشت کی فضا شامل ہے ۔ اس افسانے میں ناکردہ جرم کا احساس مر کزی کردار کے ہاں دامن گیرہے جو کہانی میں سریت کا باعث ہے ۔خوف و دہشت اور پر اسراریت ایسے عناصر ہیں جو جادوئی حقیقت نگاری کا جزو ہیں ۔اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ افسانہ جادوئی حقیقت نگاری کے عناصر کا حامل ہے ۔اسی افسانوی مجموعے کے آ خری افسانے ’’ شیشہ گھاٹ ‘‘ میں بھی یہ عناصر موجود ہیں۔افسانے میں خوف بتدریج دہشت میں بدلتا جاتا ہے اور انسانی طبیعت میں تجسس کے عنصر کی موجودگی سامنے آتی چلی جاتی ہے ۔اور انسان اپنی متجسس فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کچھ نہ کچھ کرنے پرتیار ہو جاتا ہے ۔ مزید کہانی میں عورتوں کے دو متضاد کرداروںکی بیک وقت موجودگی سے دو متضاد دنیاؤں کو یکجا کر کے نئی فضا قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ واہموں ، وسوسوںاور خوابوں کی کوکھ سے جنم لینے والا یہ افسانہ حقیقت اور خواب کی درمیانی کیفیت کا آئینہ دار ہے ،جس میں واہمے سے بھری ان دیکھی دنیا سا منے لائی گئی ہے۔ جو جادوئی حقیقت نگاری کے تحت ہی ممکن تھی۔ افسانہ نگار اپنی اس تکنیک میں کامیاب ٹھہرا ہے ۔‘‘٭۱۵


’’شیشہ گھاٹ ‘‘افسانے کا بیان کنندہ کہتا ہے کہ آٹھ سال تک اپنے پاس رکھنے کے بعد اس کا منہ بولا باپ اس کے لیے کوئی اور ٹھکانہ ڈھونڈنے لگا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اسے ہکلا کر بات کرنے کی بیماری تھی جس کی وجہ سے اس کا باپ دق ہوتا تھا۔ راوی اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہے کہ اس کا منہ بولا باپ اس سے بہت محبت کرتا تھا۔ پہلے پہل تو راوی کے باپ کو اس کی بات سننا بھی گوارا نہ تھا لیکن اچانک کچھ دنوں سے وہ راوی کی باتیں توجہ سے اور بغیر کسی اکتاہٹ کے سنتا تھا۔ اس دوران راوی بھی اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ با اعتماد محسوس کرنے لگا تھا۔ ایک دن اس نے راوی کو بتایا کہ تمھاری نئی ماں آ رہی ہے۔ پھر اس نے کہا کہ تم کو ہکلا کر بولتا دیکھے گی تو پاگل ہو جائے گی۔ اگلے ہی دن اس نے راوی کا سامان باندھا اور اس کو اپنے ساتھ لے کر چل پڑا۔ جو کوئی اسے راستے میں پوچھتا ، وہ کہتا کہ اسے جہاز نے مانگ لیا ہے۔ راوی پھر جہاز کا پیشہ بتاتا ہے کہ وہ میلوں اور بازاروں میں مسخرے پن کی نقلیں کر کے روشنی پیدا کرتا تھا۔ وہ اپنی پیٹھ پر چھوٹا سا بادبان باندھے رہتا تھا۔ شاید اسی وجہ سے اس کا نام جہاز پڑ گیا تھا۔ راوی اور اس کا باپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے، جہاں لوگ شیشے کا کام کرتے تھے۔ راوی جہاز کے ساتھ گھاٹ پر رہنے لگا۔ راوی کو شیشہ گھاٹ کے بارے میں بہت ساری باتیں اپنے باپ ہی کے گھر سے معلوم ہو گئی تھیں۔ مثلاً یہ کہ اس کی مالکہ ایک ’’بی بی‘‘ نامی ڈرائونی عورت تھی، جو اپنے خاوند ، جو ڈاکو تھا یا باغی، کی وفات کے بعد شیشہ گھاٹ کے مالکہ بنی تھی۔جہاز نے راوی کو ’’بی بی‘‘ سے ملوایا۔ بی بی نے دیکھتے ہی کہا کہ راوی دکھیا ہے۔ راوی کا سامنا بی بی کی بیٹی ’’پریا‘‘ سے بھی ہوا۔ اس نے بھی وہی بات کہی جو اس کی ماں نے کہی تھی کہ راوی دکھیا ہے۔ راوی کو بی بی کی بیٹی پریا جھیل کا عجوبہ لگی۔ راوی نے اسے نائو کے بارے میں ، جو بی بی کی ملکیت تھی اور اسے بی بی کے آبا ئو اجداد نے اسے دیا تھا اور جس پر پریا پیدا ہوئی تھی، بھی بتایا۔ کچھ عرصہ شیشہ گھاٹ پر رہنے کے بعد راوی کا بی بی کے بارے جو تصور قائم ہو چکا تھا ، وہ تبدیل ہونے لگا کہ اس کے خیال کے بر عکس بہت سے دوسرے لوگ بھی گھاٹ پر آتے اور مچھلیا ں پکڑتے۔ ایک دن جہاز راوی کے باپ کو سہارا دے کر گھاٹ پر لا رہا تھا تو راوی کو پتا چلاکہ اس کی دوسری ماں فوت ہو گئی ہے۔


اس واقعے کے کچھ دن بعد راوی نے جھیل پر بہت سے لوگوں کا مجمع دیکھا اور پھر بی بی کو بھی پانی میں کودتے ہوئے دیکھا۔ اس کے ساتھ ہی اسے پانی میں سر ہی سر نظر آنے لگے۔ جہاز نے اس کو چلنے کا کہا اور جہاز کے کہنے پراس نے پریا کے بارے میں جو گھاٹ پر دیکھا تھا، جہاز کو بتا دیا اور جہاز اسے کہنے لگا کہ وہ ابھی جائے ، جب کہ وہ خود بی بی سے کچھ نہ کچھ کہہ لے گا۔
طلسماتی اثر کے حوالے سے یہ ایک بھرپور اور مکمل افسانہ ہے۔ ’’طائوس چمن کی مینا‘‘ مطبوعے میں سب سے زیادہ جس افسانے میں طلسماتی حقیقت نگاری کے عناصر ملتے ہیں وہ ’’شیشہ گھاٹ‘‘ ہی ہے۔اس افسانے میں بھی اس کے کرداروں میں زیادہ طلسماتی عناصر ملتے ہیں۔ خاص طور پر بی بی اور اس کی بیٹی پریا کے کرداروں میں۔ اس افسانے کو پڑھتے ہوئے ہمیں ’’اتالو کلوینو‘‘ کا ناول ’’درخت نشین‘‘ یاد آ جاتا ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار اپنی ساری زندگی درختوں پر گزار دیتا ہے۔ وہ کردار اپنے ارد گرد موجود لوگوں سے اتنا اکتا جاتا ہے کہ درختوں پر زندگی گزارنے والی مخلوق کو خود سے زیادہ قریب محسوس کرتا ہے۔ نیر مسعود کے اس افسانے کا کردار ’’پریا‘‘ بھی زمین پر قدم نہیں رکھتی۔ دونوں کرداروں میںجو مماثلت ہے، وہ یہ ہے کہ دونوں زمین پر اپنی زندگی گزارنے سے انکاری ہیں۔ نیر مسعود کا کردار پریا کی ماں اس بات کا خاص خیال رکھتی ہے کہ اس کی بیٹی صرف نائو ہی میں رہے۔ اگر وہ کہیں جاتی بھی ہے تو اپنی بیٹی کو نائو پر چھوڑ جاتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ درخت نشین کا کردار پرندوں کے زیادہ قریب ہے، اور نیر مسعود کا کردار آبی مخلوق کے زیادہ قریب ہے۔ زمین، جو فسادات کا گڑھ ہے، ازل سے انسانی خون سے سیراب ہوتی رہی ہے۔ حساس انسانوں کے لیے یہاں گزارہ کرنا ہمیشہ سے مشکل رہا ہے۔ نیر مسعود نے افسانے میںطلسماتی حقیقت نگاری کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے اپنے کرداروں کو زمینی انسان کی جکڑ بندیوں سے آزاد کر کے انھیں پانی کے سپرد کر دیا ہے جو عبدیت کا استعارہ ہے۔ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس افسانے میں طلسماتی عناصر زیادہ تر اس کے کرداروں کی وجہ سے ہیں۔ جب راوی اپنے باپ اور پرانے گھر کو یاد کر رہا ہو تا ہے تو پریا اس کے دل کی بات جان لیتی ہے:


’’مجھے یہ بھی خیال آیا کہ کل اس وقت تک میں گھر میں تھا اور یہ مجھے بہت پرانے زمانے کی بات معلوم ہوئی۔ مجھے وہاں گزارے ہوئے آٹھ سال آٹھ لمحوں کی طرح یاد آئے۔ پھر مجھے اپنا منہ بولا باپ یاد آنے لگا جو کل مجھے چمٹا کر جہاز کے پاس چھوڑ گیا تھا اور اب زیادہ یقین ہو گیا کہ وہ مجھ سے بہت محبت کرتا تھا۔ ’جہاز بھی تم سے بہت محبت کرے گا۔‘ پریاکی آواز نے مجھے چونکا دیا۔‘‘٭۱۶
اس کے ساتھ ساتھ کرداروں میں ایک غیر معمولی خوبی یہ بھی ہے جوان کو عام انسانوں کے بجائے کوئی ما فوق الفطری مخلوق خیال کرنے میں اہم کردار ادار کرتی ہے۔ کہ راوی کے بارے میں پریا اور اس کی ماںایک ہی قسم کی رائے قائم کرتی ہیں۔ دونوں ما ں بیٹی کا اس کے بارے میں یہی خیال ہے کہ وہ دکھیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بی بی کا کردار بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بی بی بھی کسی معمے سے کم نہیں ہے۔ اس کی بیٹی پریا ، یا تو اس کے پاس نہیں ہے لیکن یوں لگتا ہے کہ ’بی بی‘ کی دو کے بجائے آٹھ آنکھیں ہیں اور پریا اگر پانیوں میں کہیں بھی کچھ ایسا کر رہی ہو جو ماں کو ناپسند ہو تو وہ اسے ڈانٹ کر ہدایت جاری کر دیتی ہے۔ مثلاً ایک اقتباس دیکھیں:


’’میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد بی بی کو دیکھ لیتا تھا۔ مضبوط بنی ہوئی عورت تھی اور اپنی بڑی نائو سے بھی کچھ بڑی معلوم ہوتی تھی۔ لیکن ایسامعلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی اپنی نائو کی طرح دھیرے دھیرے ٹوٹ رہی ہے۔ کم سے کم ا س کے چہرے سے ایسا ہی ظاہر ہوتا تھا اور اس کی باتوں سے بھی جو مجھے صاف سنائی نہیں دے رہی تھیں۔ باتیں کرتے کرتے رک کر اس نے ایک بار گردن اٹھائی، اور زور سے آواز دی ’’پریا‘‘ ؟ دور کسی لڑکی کے ہنسنے کی آواز پانی پر تیرتی ہوئی ہماری طرف آئی۔‘‘ ٭۱۷


مجموعی طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ افسانہ طلسماتی اثر رکھتا ہے۔ حقیقی زندگی کا انسان کبھی بھی معاشرے سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔ جب کہ نیر مسعود کے افسانے کا مرکزی کردار صرف پانی ہی میں اپنی زندگی گزارتا ہے۔ اس کے علاہ دوسری بات یہ ہے کہ افسانے کے تمام کرداروں میں ان واقعات کو بھی جان لینے اور دیکھ لینے کی صلاحیت ہے، جن کا عام کردار تصور بھی نہیں کر سکتا۔
’’پاک ناموں والا پتھر ‘‘ایک ایسا افسانہ ہے جو اپنے اندر طلسمی حقیقت نگار عناصر رکھتا ہے۔افسانے کے پہلے حصے میں راوی بتاتا ہے کہ باپ کے مرنے کے بعد اس نے بیرونی مکان کرائے پر اٹھوا دیا جس سے اس کی آمدن چل پڑی ۔باہر والے کام نپٹانے کے بعد اس نے اندرونی حصو ں کی طرف غور شروع کر دیا ۔اور اندرونی حصوں سے اسے پرانی کتابوں کا ایک ذخیرہ ملااور ساتھ ساتھ وہ چیزیں بھی مل گئیں جو بظاہر اس کے کام کی نہیں تھیں ۔ایک دن اس کے استاد کا’شریک‘ نامی بیٹا اس کے پاس آتا ہے اور راوی اس کو ایک دکان دے دیتا ہے تا کہ وہ اپنا کاروبار شروع کرے اور اس کی مدد کے لیے بہت ساری پرانی چیزیں بھی دیتا ہے۔


راوی نے اسی دوران اپنے آبائو اجداد کی کتابوں کا مطالعہ بھی غور سے شروع کیا ۔کیونکہ وہ اپنے خاندان کی نشانی تلاش کرنا چاہتا تھا آخر ایک دن اسے بہت پرانے صندوق میں پرانی ٹاکیوںمیں لپٹا ہوا پاک ناموں والا پتھر ملا ۔اس پتھر کے بارے اس نے بہت ساری کتابیں پڑھی تھیں ۔مثلاًیہ کہ اس پتھر کے لیے بہت ساری خون ریزی ہوئی ۔اور یہ بہت ساری بیماریوں سے شفاء کا باعث بھی بنتا رہا ۔ایک دن شریک نے اس کو طاہرہ بی بی سے ملوانے کا کہا تو وہ راضی ہو گیا ۔دونوں طاہرہ بی بی کے پاس گئے ۔طاہرہ بی بی نے بڑے تپاک سے ان کا استقبال کیا ۔طاہرہ بی بی وہ خاتون تھی جس نے راوی کے استاد کی آخری وقت میں تیمار داری کی تھی اور جس نے کنجیاں بھی بھجوائی تھیں ۔وہ راوی کو بار بار نصیحت کرتی ہے کہ کتابیں غور سے دیکھنا اور جب راوی اسے یہ پتھر دیتا ہے تو وہ بہت عزت و احترام سے اس کو چومتی ہے ۔کچھ ہی دنوں بعد شریک اسے بتاتا ہے کہ طاہرہ کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے اور اسے پرانا مرض تھا جو لوٹ آیا ہے ۔


راوی ابھی سوچ ہی رہا ہوتا ہے کہ وہ پاک ناموں والا پتھر اسے بھیج دے کہ اتنے میں ایک لڑکا یہ اطلاع لے کر آتا ہے کہ طاہرہ انتقال کر گئی ہے ۔آخر میں راوی یہ کہتا ہے کہ اس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے استاد اور والد کی خواہش کے مطابق پاک ناموں والے پتھر کو بھی اپنے ساتھ ہی دفن کرا لے گا تاکہ آئندہ کے لیے خون خرابے کا سلسلہ بند ہو جائے ۔
اس افسانے میں جب نیر مسعود پاک ناموں والے پتھر سے منسوب اساطیر کا ذکر کرتے ہیں تو افسانہ حقیقت سے اٹھ کر طلسم کی حدوں کو چھونا شروع کردیتا ہے :
’’سب کچھ صاف تھا ۔ہرموت اور ہر خون کے ساتھ یہ ضرور بتایا جاتا تھا کہ پتھر مرنے والے کے پاس نہیں تھا۔کئی لوگوں نے مرض کی شدت میں اسے گلے سے اتار دیا تھا ۔کئی کے گلے سے اتار کر انھیں ہلاک کر دیا تھا۔بعض نے غسل کرتے وقت اسے اتار دیا تھا اور غسل کرتے ہیں میں فوت ہو گئے کئی بیماروں کو جب ان کی حالت مایوسی کی ہوگئی ،پتھرپہنا دیا گیا تھا اور وہ اچھے ہو گئے تھے۔‘‘٭۱۸


اس کے ساتھ ساتھ اس افسانے میں ابہام بھی ہے جس نے طلسماتی عناصر کو دوچند کر دیا ہے۔مثلاً جب راوی کی ملاقات اس کے استاد کی بیٹی طاہرہ سے ہوتی ہے تو وہ اس کے حالات کے بارے میں تفصیل سے پوچھتی ہے اور اس بات پر مطمئن نہیں ہے کہ وہ پتھر جو اس کے خاندان کی نشانی ہے اس میں کوئی غیر معمولی بات ہے تو وہ باربار اس کو تاکید کرتی ہے کہ کتابیں پھر سے دیکھیے گااور جب راوی رخصت ہونے لگتا ہے توراوی لکھتا ہے کہ :
’’پردے کے اُدھر سے پتھر کو چومنے کی آواز آئی ۔پھر پاک نام پڑھنے کی آواز آئی ۔لڑکی نے پتھر مجھے واپس کیا ۔میں اسے گلے میں پہن رہا تھا کہ طاہرہ بی بی نے پھر کہا۔
’’کتابیں دیکھیے گا۔‘‘٭۱۹
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ راوی کو اتنا اندازہ نہیں ہے جتنا کہ طاہرہ بی بی کو ہے ۔لیکن دلچسپی کی بات یہ ہے کہ راوی بھی تفصیلاً کوئی بات نہیں پوچھتا۔
اسی طرح آخر میں راوی کہتا ہے :
’’میں نے اسے گلے سے اتار کر ان متبرک چیزوں میں رکھ دیا جومیرے ساتھ دفن کی جائیں گی ۔یہ ضروری تھا ورنہ شاید اسی کی خاطر پھر خون بہنے لگتا۔‘‘٭۲۰


اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ راوی نے یہاں بھی کچھ نہیں بتایا کہ اس پتھر کی تاریخ کیا تھی اور اس کے ہونے سے آئندہ کون سے خدشات و خطرات سے واسطہ پڑ سکتا تھا اور کیسے؟یوں ضروری چیزوں کا بیان ان کے ہاں کم ملتا ہے اور غیر ضروری چیزوں کو وہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ وہ بہت اہم معلوم ہوتی ہیں ۔اس طرح ضروری باتوں کو پیچھے لے جانے اور غیر ضروری باتوں کو آگے لانے کا چکر ایک طلسمی سی فضا کو جنم دیتا ہے اور سامنے موجود حقیقت کو پیچھے کرنے اور پیچھے موجود اشیاء کو سامنے لانے کا بیان طلسماتی اثرکا باعث بنتا ہے ۔
نیر صاحب کے مندرجہ بالا افسانوں میںجادوئی حقیقت نگاری کامحض تاثر ملتا ہے ،پوری طرح سے یہ تکنیک استعمال نہیں ہوئی۔ اب ہم نیر صاحب کے اُن افسانوں کا ذکر کریں گے جن میں انہوں نےجادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک استعمال کی ہے۔


پہلا افسانہ ’’صبور قبیلہ ‘‘ ہے۔ یہ ایک ایسا افسانہ ہے جو حقیقت کی دنیا سے نکل کر سریت کے منطقے میں داخل ہوتا ہے اور پھر واپس حقیقت کی دنیا میں لوٹ آتا ہے۔ اس افسانے کو صحیح معنی میں طلسمی حقیقت نگار افسانہ کہا جاسکتا ہے ۔ افسانے کا راوی ایک عام آدمی ہے جو اپنا سب کچھ کھو بیٹھا ، حتیٰ کہ پشتینی زمین جو گھر بنانے کے لیے مختص تھی، اس پر بھی قبضہ ہو گیا۔ تب وہ آوارہ گردی شروع کر لیتا ہے مگر یہ آوارہ گردی ریل پر کی جاتی ہے ، ایک ریل سے دوسری، دوسری سے تیسری، راستے میں ناول ، کتابچے فروخت کرتا ہے اور یوں اس کا وقت گزرنے لگتا ہے۔ ایک دن ٹرین ایک ویرانے میں رکتی ہے اور راوی ریل سے باہر نکلتا ہے ، نادانستہ تاخیر کے باعث ریل کھو بیٹھتا ہے اور جنگل میں تنہا گھومنے لگتا ہے۔ یہاں اس کی ملاقات کچھ لوگوں سے ہوتی ہے ۔ یہ لوگ ایک خاص قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جس کا نام صبور قبیلہ ہے اور اس میں صرف وہی لوگ شامل ہیں جو صبر کرتے ہیں۔ ان کا کوئی خاص علاقہ نہیں اور اور پورے ملک میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں ۔ ان کا کوئی مذہب نہیں اور ہر مذہب میں اس قبیلے کے آدمی ہیں ۔ یہ لوگ سال میں ایک دفعہ آپس میں ملتے ہیں جسے یہ ملاقات کا نام دیتے ہیں۔ راوی ان سے مل کر واپس اپنے شہر آ جاتا ہے جہاں اسے اپنی کھوئی ہوئی زمین واپس مل جاتی ہے۔


یہ افسانہ بنیادی طور پر حقیقت پسند ہے اور اس میں آگے چل کر نیر مسعود نے اپنے مخصوص انداز میں ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں حقیقت کی سرحدیں معدوم ہو کر ماورائیت کی حدود میں مدغم ہو جاتی ہیں اور پھر یہ افسانہ واپس حقیقت کی دنیا میں لوٹ آتا ہے۔ جتنی دیر راوی صبور قبیلے میں رہتا ہے ، اس وقت تک افسانہ طلسمات کی گرفت میں رہتا ہے اور اسی کی وجہ سے یہ افسانہجادوئی حقیقت نگاری کی سبھی شرائط پوری کرتا ہے اور حقیقی معنی میں طلسمی حقیقت نگار افسانہ قرار پاتا ہے۔
دوسرا افسانہ ’’بگولا ‘‘ ہے۔ اگر فنی حوالے سے دیکھا جائے تو ’’ بگولا‘‘ کسی طرح سے بھی نیر مسعود کا افسانہ معلوم نہیں ہوتا۔ یہ ان کے مخصوص اسلوب سے بہت ہٹ کر لکھا گیا ہے اور اگر محتاط انداز سے کہا جائے تو ایک بچگانہ کاوش لگتی ہے۔ ’’بگولا‘‘ دو کرداروں کی کہانی ہے، جن کے پاس ایک دوسرے کو سنانے کے لیے ایک ہی طرح کے دو قصے ہیں۔ یہ قصے مافوق الفطرت ہیں اور حقیقی زندگی میں اس طرح کے واقعات بہت کم پیش آتے ہیں ۔ ان قصوں کی ماورائیت کی وجہ سے ہی یہ افسانہ یہاں مذکور ہے ورنہ یہ نیر صاحب کا کوئی اہم افسانہ نہیں ہے۔ افسانے میں راوی چودھری صاحب نامی آدمی سے ایک ہوٹل پر روزانہ کھانے کے وقت ملتا ہے جس کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جوان بیٹی پر اسرار طریقے سے غائب ہو گئی تھی۔ چودھری صاحب راوی کو مختلف واقعات اور قصے سناتے رہتے ہیں۔ ایک دن راوی انہیں اپنے ایک پھوپھی زاد کا قصہ سناتا ہے جو بگولے میں غائب ہو گیا تھا ۔ اس پر چودھری صاحب اس کا یقین کر لیتے ہیں اور اسے اپنی بیٹی کے غائب ہونے کا تقریباً ویسا ہی قصہ سناتے ہیں۔ بس انہی دو قصوں کا سنایا جانا افسانہ لکھنے کا جواز تھا، قصے ختم ہوتے ہی نیر صاحب افسانے کی بساط لپیٹ دیتے ہیں۔


’’بگولا‘‘ میں سنائے گئے واقعات طلسماتی تاثر رکھتے ہیں ، خاص طور پر راوی کا سنایا گیا واقعہ تو ہے ہیجادوئی حقیقت نگاری:
’’ایک دن ہوا بہت تیز چل رہی تھی۔ کچھ آندھی کی سی کیفیت تھی ۔ احاطے میں بگولے زیادہ اٹھ رہے تھے۔ میں نے دیکھاان کے پیچھے احاطے کے باہر کہیں سے ایک بہت بڑا بگولا چلا آ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی سیاہ رنگ کا بہت اونچا کھمبا ہے جو چلتا ہوا احاطے میں داخل ہورہا ہے۔ یہ عجیب منظر تھا اور اسے دیکھنے کے لیے ہمارے گھر کے لوگ اور محلے کے کئی آدمی احاطے میں جمع ہو گئے تھے۔ میں اور نواب عالم بھائی پہلے ہی سے وہاں موجود تھے۔ بگولا اب احاطے کے بیچ میں قائم تھا اور اپنی جگہ پر تیزی سے گھوم رہا تھا۔ نواب عالم بھائی اسے دیکھے جا رہے تھے ۔ پھر وہ کئی قدم آگے بڑھ کر بگولے سے قریب قریب مل گئے ۔ محلے والوں نے ان کو اس کے اس قدر قریب جانے سے منع کیا لیکن انہوں نے نہیں سنا۔ اتنی دیر میں بگولہ بیٹھنا شروع ہوا اور آخر اسی احاطے میں منتشر ہو گیا لیکن اب نواب عالم بھائی وہاں نہیں تھے۔ وہ کہیں بھی نہیں تھے۔ ہم سب کی آنکھوں کے سامنے وہ اس بگولے کے قریب کھڑے تھے اور ہماری آنکھوں کے سامنے غائب ہو گئے۔ چھوٹے سے احاطے میں کوئی جگہ ایسی نہیں تھی جو ان کو چھپا سکتی۔ ان کو احاطے کے باہر بھی ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی مگر بے سود۔ ‘‘٭۲۱


راوی کا یہ کہنا ’’آپ جانتے ہیں کہ مجھے قصے گھڑنے کا شوق نہیں ہے‘‘اور اس بات پر چودھری کا اعتبار اس واقعے کو اصلیت عطا کرتا ہے اور قاری اس پر یقین کر لیتا ہے لیکن اس واقعے کے فوراً بعد چودھری کااسی طرح کا واقعہ سنانا اتنا قابلِ اعتبار نہیں ٹھہرتا۔ ممکن ہے کہ چودھری راوی کو جھوٹ سنا رہا کیوں کہ اس کے متعلق پہلے سے بتایا جا چکا ہے کہ چودھری قصے سنانے میں خاصی مہارت رکھتا تھا تو اپنی بیٹی کا یہ قصہ بھی خود ساختہ ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ لڑکی کے پر اسرار طریقے سے غائب ہونے پر خفت محسوس کرتا باپ اس کے جانے کا کوئی ماورائی جواز پیدا کر کے اپنی سماجی توقیر بحال کرنا چاہتا ہو۔ بہر حال جو بھی ہے سبھی چودھری صاحب کی زبان پر ہی قائم ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی خارجی ثبوت افسانے کے اندر مہیا نہیں کیا گیا۔ اور چودھری صاحب غلط بیانی بھی کر سکتے ہیں۔


راوی کے پھوپھی زاد نواب عالم کے غیاب کی کہانی طلسمی حقیقت نگار ہے اوراس کی بنا پر ہم اس افسانے کو طلسمی حقیقت نگار افسانوں میں شمار کر سکتے ہیں۔
’’دھول بن‘‘ ابھی تک نیر مسعود کا سب سے تازہ افسانہ ہے جو تین سال قبل شائع ہوا تھا۔ اس افسانے میں بھی نیر صاحب کا مخصوص انداز ہے اور تخلیقی تجربہ ’’صبور قبیلہ ‘‘ اور ’’آزاریان‘‘ کے آمیزے سے بنا دکھائی دیتا ہے۔ صبور قبیلے کی طرح راوی چلتے چلتے نئے سے نئے موڑ مڑتا ایک اجنبی بستی میں جا پہنچتا ہے ، یہاں تک صبور قبیلہ کی کہانی ہے، اس کے بعد دھول بن بستی کا بیان ہے اور پھر آزاریان میں مرکزی کردار کو جو رشتہ دار خاتون نظر آتی ہے،اسی طرح کی خاتون یہاں ذرا واضح ہو کے نظر آتی ہے۔’’دھول بن‘‘ میں راوی ایک ایسی بستی میں جا پہنچتا ہے جہاں خاص دنوں میں صبح تا شام پورا دن دھول اڑتی ہے اور معمولات زندگی رات کو انجام دیے جاتے ہیں۔ راوی اس بستی میں دھول کے دوران گھومتا رہتا ہے اور جلدہی یہ بات اس کی پہچان کا حوالہ بن جاتی ہے۔تب بستی کی مالکن اسے اپنے پاس بلاتی ہے جو راوی کی ایک پرانی شناسا عورت کی بیٹی ہے۔ راوی اس کی کہانی سنتا ہے ، ادھر دھول بن میں رہنے کی وجہ پوچھتا ہے جو کہ نیر صاحب کے دوسرے افسانوں کی طرح یہاں بھی نہیں کھلتی۔ افسانے کے آخر پر راوی اس بستی سے اکتا کر واپس آ جاتا ہے۔


’’دھول بن‘‘ کا تمام منظر نامہ اور جزئیات حقیقی ہیں البتہ دھول بن بستی کوئی جادوئی بستی معلوم ہوتی ہے جہاں تمام دن چلنے والی آندھی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور وہ پورے افسانے میں ایک ایسا محیر العقول واقعہ بن کر موجود رہتی ہے جسے بستی کے لوگوں نے اپنی روز مرہ حقیقت سمجھ لیا ہے اور وہ اس کی وجوہات جاننے یا اس کا سدِباب کرنے کی کوئی تدبیر نہیں کرتے ۔ یہ آندھی حقیقی دنیا میں کبھی نہیں آئی لیکن اس افسانے کی حقیقت پسند دنیا میں یہ ایسے معمولی انداز میں سمائی ہوئی ہے جیسے سورج کا طلوع و غروب ہو :
’’آندھی کا سلسلہ پانچ دن تک رہا اور یہ پانچوں دن میں نے بستی میں تنہا گھومتے ہوئے گزارے ۔ روز سویرے گرد اڑاتی ہوئی آندھی شروع ہو جاتی ۔ دوپہر سے اس کا زور کم ہونے لگتا۔ شام ہونے سے کچھ پہلے بالکل ختم ہو جاتی اور وہ پوری بستی گرد میں ڈوبی رہ جاتی۔ کچھ دیر بعد گھروں کے دروازے کھلنا شروع ہو جاتے۔ لوگ بانسوں میں بندھی ہوئی بڑی بڑی جھاڑو ئیں لیے ہوئے باہر نکلتے اور گرد کے ڈھیر کناروں پر لگا دیتے ۔ پھرگاڑیاں آتیں اور گرد کے انبار لاد کر بستی کے باہر کہیں پھینک آتیں اور ہوا معلوم نہیں انہیں کہاں اڑا لے جاتی۔ رات ہونے سے پہلے بستی صاف ہو جاتی اور سڑکوں پر لوگ چلنا پھرنا شروع کر دیتے۔ میں اس وقت بستی سے باہر جا چکا ہوتا تھا ، جہاں ایک بڑے سے درخت کے نیچے میں نے اپنا عارضی ٹھکانہ بنا لیا تھا۔ وہاں اپنے لباس کو جھٹک جھٹک کر گرد سے صاف کرتا ، اپنے بدن اور بالوں سے بھی گرد کو دور کرتا ۔ پھر آدمی بن کر بستی میں داخل ہوتا اور خوانچے والوں سے کچھ کھانے پینے کی چیزیں خرید کر اسی درخت کے نیچے آ جاتا۔ دوسرے دن سویرے سے آندھی کی سنسناہٹ شروع ہو جاتی۔ گھروں کے دروازے بند ہو نے لگتے اور پوری بستی میرے اختیار میں ہوتی۔ ‘‘٭۲۲


یہ افسانہ حقیقت اور مافوق کو اس طرح آمیز کرتا ہے کہ دونوں کا امتیاز ختم ہو جاتا ہے ۔ اس افسانے میں جو مافوق ہے، وہ حقیقت نظر آتی ہے اور جو حقیقت ہے وہ مافوق محسوس ہوتا ہے۔ نیر مسعود کے مندرجہ بالا تین افسانوں میںجادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک استعمال ہوئی ہے اور اس کے علاوہ پانچ مذکورہ افسانوں میں طلسماتی کیفیت موجود ہے۔ ان کے علاوہ انہوں نے کسی افسانے میں یہ تکنیک استعمال نہیں کی۔

حوالہ جات
۱۔ آصف فرخی،، مقدمہ ،مشمولہ، ’’افسانے کی تلاش ‘‘،نیّر مسعود،کراچی،شہرزاد ،2011ء، ص:۶
۶۔ ناصر عباس نیر، ’’نیر مسعود کے افسانوں پر ایک نوٹ‘‘، مشمولہ،’’ کہانی گھر‘‘،نمبر ۲،ص: ۱۵۰
۷۔ محمد عزیز،’’ اردو افسانے میںجادوئی حقیقت نگاری‘‘، مقالہ برائے ایم فل اردو، یونیورسٹی آف سرگودھا، سرگودھا، 2013، ص: ۱۳۰
۸۔ نیرمسعود، ’’طائوس چمن کی مینا‘‘، کراچی ، سٹی بک پریس ،1997، ص:۵۷
۹۔ ایضاً، ص:۶۵۔۶۴
۱۰۔ نیر مسعود ،’’ گنجفہ‘‘،کراچی: شہرزاد پریس کراچی،2008ء، ص :۱۵۷
۱۱۔ ایضاً، ص :۱۶۹
۱۲۔ ساگری سین گپتا ،نیّر مسعود سے گفتگو ،مشمولہ:’’آج ‘‘،کراچی ،1998ء،ص:۲۴۸ء
۱۳۔ نیر مسعود،’’ طائوس چمن کی مینا‘‘ ،ص:۲۱۰
۱۴۔ ایضاً،ص:۲۱۲
۱۵۔ محمد عزیز،’’ اردو افسانے میںجادوئی حقیقت نگاری‘‘، ص:۱۴۰
۱۶۔ نیر مسعود، ’’طائوس چمن کی مینا ‘‘،ص:۲۲۶
۱۷۔ ایضاً،ص:۲۲۳
۱۸۔ نیر مسعود :’’ گنجفہ‘‘، ص:۱۳۹
۱۹۔ ایضاً، ص:۱۳۷
۲۰۔ ایضاً، ص:۱۴۱
۲۱۔ نیر مسعود،’’ بگولہ‘‘، مشمولہ:’’دنیا زاد‘‘، شمارہ نمبر :27، جون، 2010،ص:۱۱۴
۲۲۔ نیر مسعود،’’ دھول بن‘‘،مشمولہ، ’’آج‘‘ ،شمارہ نمبر: 69،جنوری، 2011،ص:۲۴۰

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)
1 Comment
  1. Avatar

    نیر مسعود اور جادوئی حقیقت نگاری ازمحمد عباس۔۔۔۔۔۔۔۔بہت عمدہ نکات سے مزین ہے یہ مضمون نیر مسعود کی افسانہ نگاری کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے

    Reply

کمنٹ کریں