نمک کی کہانی

مضمون نگار : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

, نمک کی کہانی

کبھی ہم نے غور کیا کہ سمندر کا پانی کھارا کیوں ہوتا ہے۔خدا کی بنائی اس عظیم کائنات میں ہر شئے خدا کی قدرت کی مظہر ہے۔ سمندر میں نمک ہوتا ہے اور سمندر کا کھارا پن اس میں شامل ہونے والی ساری گندگی اور بدبو کو ختم کردیتا ہے کہا جاتا ہے کہ اگر خدا سمندر کو کھارا نہ بناتا تو انسانوں کی جانب سے اس میں پانی کے ساتھ جو گندگی شامل کی جاتی ہے اس کی بدبو سے زمین پر انسانی زندگی دوبھر ہوجاتی۔ نمک سمندر سے حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے انسانی اور حیوانی زندگی میں عجیب و غریب کارنامے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں ہمارے کھانوں میں مزہ برقرار رکھنے والے اس نمک کی کہانی کیا ہے۔
غذاکے معاملے میں بنیادی طور پر انسان کو ذائقہ دار چیزیں پسند ہیں ۔ زبان ہر قسم کے ذائقے کو چکھنا چاہتی ہے ۔ اور غذاؤں کوذائقہ دار بنا نے والی ایک بنیادی چیز نمک ہے ۔ نمک چونکہ دنیا کے انسانوں کو کم خرچ پر اور با آسانی دستیاب ہوجاتا ہے ۔ لہذا اس کی قدر نہیں کی جاتی لیکن نمک کی اہمیت کا اندازہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب بھولے سے کسی پکوان میں نمک نہیں پڑتا اور صرف نمک نہ ہونے کی وجہہ سے پکائی ہوئی قیمتی سی قیمتی شئے کا ذائقہ کم ہو جاتا ہے ۔ بچوں کی ایک کہانی بھی مشہور ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنی اولاد سے پوچھا کہ وہ مجھے کس چیز سی زیادہ عزیز سمجھتے ہیں تب بادشاہ کی ایک بیٹی نے جواب دیا کہ آپ مجھے نمک سے زیادہ عزیز ہیں ۔ بادشاہ کو یہ بات مضحکہ خیز لگی ۔ کہ اسے نمک جیسی حقیر شئے پر فوقیت دی گئی جب کہ اس کی دوسری اولادوں نے قیمتی اشیاءپر اسے فوقیت دی تھی۔ بادشاہ کی لڑکی نے مناسب موقع پر اس بات کو سمجھانے کا وعدہ کیا ۔ ایک دفعہ پڑوسی ملک کا بادشاہ اس بادشاہ کا مہمان بنا ۔ اتفاق سے پکوان کی ذمہ داری بادشاہ کی اسی لڑکی نے سنبھالی جس نی اپنی باپ کو نمک پر فوقیت دی تھی۔ لڑکی نے جان بوجھ کر سارے پکوان بغیر نمک کے پھیکے بنائے ۔ پھیکے کھانوں کی دعوت سی بادشاہ کی سبکی ہوئی تب لڑکی نے سمجھا یا کہ حقیر سمجھے جانے والے نمک کی کیا اہمیت ہے نمک قدرتی طور پر دنیا کے ہر علاقے میں پایا جاتا ہے ۔نمک کا بڑا ذخیرہ سمندر کے کھارے پانی سے حاصل کیا جاتا ہے ۔ سمندروں کے ساحل پر وسیع حوض تعمیر کئے جاتے ہیں ۔ جس میں سمندر ی پانی کو سکھا کر نمک حاصل کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ نمک پہاڑوں اور چٹانوں کو کاٹ کر اور زمین کی سطح سی بھی حاصل کیا جاتا ہے ۔ خالص نمک کوسوڈیم کلورائیڈ کہتے ہیں لیکن معدنی نمک میں بے شمار معدنیا ت جیسے سوڈیم سلفیٹ ‘ کیلشیم کلورائیڈ وغیر ہ شامل ہوتے ہیں ۔ نمک ایک ٹھوس اور ذائقہ دار شے ہے ۔ اس کا ذائقہ کھارایا نمکین ہوتا ہے ۔ ٹھوس نمک کو پیس کر اس کا سفوف بنایا جاتا ہے۔خالص نمک کی یہ نشانی ہے کہ وہ پانی جذب نہیں کرتا ۔ سمندروں یا چٹانوں سے حاصل ہونے والی نمک میں میگنیشیم کلورائیڈ شامل ہوتا ہے ۔ اس لئے اس میں نمی جذب ہوتی ہے ۔ صاف کئے ہوئے نمک کارنگ انتہائی سفید ہوتا ہے جب کہ ہندوستانی نمک میں سرخ اور گلابی رنگ کا شائبہ ہوتا ہے ۔ انسانی اور حیوانی زندگی کی لئے نمک بے حد ضروری ہے ۔


طبی لحاظ سے نمک کی اہمیت کا انداز ہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انسان کو نمک کے استعمال سیے روک دیا جائی تو وہ گھل گھل کر مر جائے گا۔ اسی طرح اگر جانوروں کو نمک کے استعمال سے روکا جائے تو وہ بیمار ہو کر ہلا ک ہو جاتے ہیں ۔ بہت سے جانور نمکین پودے کھا کر اپنی جسم کی لئے درکار نمک کی مقدار حاصل کرتے ہیں ۔
انسانوں اور حیوانوں کی جسم میں طبعی طور پر نمک کی ایک خاص مقدار ہر وقت موجود رہتی ہے ۔ اگر اس میں کمی ہو جائے تو صحت خراب ہو جاتی ہے ۔ طبی تحقیق کی مطابق انسان کو یومیہ کم از کم 1/21 (ڈھائی )اونس نمک ضرور استعمال کرنا چاہئے ۔ گرم اور شدید آب و ہوا والے علاقہ میں کم از کم یومیہ ایک اونس نمک استعمال کرنا چاہئے کیونکہ گرمی کی سبب پسینے کے ذریعہ تیزی سے انسانی جسم سے نمک خارج ہو تا رہتا ہے ۔ موسم گرما میں مشروبات میں ایک چمچ شکر کی ساتھ ایک چٹکی نمک لینا مناسب ہوگا یا گلوکوس کا پانی پابندی سے پینا چاہئے ۔ نمک اور پانی کی کمی کاشکار ہو کر موسم گرما میں لولگنے سی کئی لوگ بیمار پڑجاتے ہیں اور ان میں سے چند موت کاشکار بن جاتے ہیں ۔ لہذا ایسے لوگوں کو فوری طبی امداد حاصل کرنے اور گلو کوس لگوانے کی فکر کرنا چاہئے ۔ نمک کی زیادتی بھی انسان کی لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے ۔ اس سے خون کا دباؤ (Blood Pressure) بڑھ جاتا ہے اور اختلاج قلب اور دل کے دوسری عوارض پیدا ہو جاتے ہیں ۔ لہذا عمر رسیدہ افراد کو نمک کی استعمال میں احتیاط برتنی چاہئے ۔


دنیا کی تاریخ جتنی پرانی ہے نمک کے استعمال کی تاریخ بھی اتنی ہے قدیم ہے ۔ قدیم پتھر کے زمانے میں جب انسان نے جانوروں کا شکار کرنا سیکھ لیا تھا تب وہ کچا گوشت چبا کر کھاجاتا تھا ۔ آگ کی ایجاد کے بعد اس نے گوشت کو بھون کر کھانا سیکھ لیا تھا۔ نمک دریافت ہوا تو انسان نے گوشت کو نمک لگا کرکھانا سیکھا۔ یہیں سے اس کی غذا میں ذائقہ شامل ہونے لگا۔ تاریخ کی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نمک کو سب سے پہلے چین والوں نے دریافت کیا ۔ اس زمانے میں نمک کے حصول کا واحد ذریعہ سمندر تھے۔ قدیم یونانی لاطینی ‘ سنسکرت کتابوں میں نمک کے استعمال کے واقعات ملتے ہیں ۔ مصر کے لوگ اپنے مردوں کے جسموں کو نمک لگا کر محفوظ کیا کرتے تھے۔ فرعون مصر کی حنوط شدہ لاش آج بھی محفوظ ہے ۔ اس کی حفاظت کے لئے استعمال کئے جانے والے مصالحوں میں اہم جز و نمک بھی ہے ہر زمانے میں مذہبی اعتبار سے بھی نمک کو اہمیت حاصل رہی ہے ۔


2000 ق م میں چین کی بادشا”یو “ کی عہد میں نمک کو بڑا مقدس خیال کیا جاتا تھا۔ اور دیوتاؤں کے حضور پیش کی جانے والی قربانی کے گوشت کو نمک لگایا جاتا تھا ۔ 1100ق م میں یونان میں تھیوگورس کے عہد میں نمک کو امن اور انصاف کے دیوتا کا مقام حاصل تھا۔ قدیم زمانے میں ہندو بھی نمک کو پوتر (پاک ) چیز تصور کرتے تھے۔ عیسائی نمک کو وفاداری اور عقل مندی کا نشان تصور کرتے ہیں۔ یہودی نمک کو میثاق یا معاہدہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے آپس میں اس کا تبادلہ کرتے ہیں ۔ اسلام میں بھی نمک کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ نمک سے روزہ کھولنے کو افضل بیان کیا گیا ہے ۔ صاحب جامع کبیر نے حضرت علی ؓسے روایت نقل کی ہے کہ حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے علیؓ کھانا نمک کے ساتھ شروع کرنا چاہئے اس میں سترا مراض سے شفارکھی گئی ہے ۔ جس میں جنون ‘ جذام ‘ پیٹ درد ‘ دانت درد وغیرہ شامل ہیں ۔ حضور ﷺ کھیرے کو نمک کی ساتھ تناول فرمایا کرتے تھے۔ نمک کے نام کے ساتھ ایفائے عہد ‘ وفاداری وغیرہ کئی محاورے اردو ادب میں ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں ۔ وفاداری نبھانے والے کو نمک حلال اور غداری کرنے والے کو نمک حرام کہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ نمک کھانا ٗ نمک کا حق ادا کرنا وغیرہ محاورے بھی مشہور ہیں ۔ نمک غذا میں استعمال ہونے کے علاوہ دیگر اشیا کی تیاری میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس سے ایش سوڈا ‘ کاسٹک سوڈا‘ سالٹ کیک ‘ صابن ‘ گلیسرین ‘ بارود ‘ بلیچنگ پوڈر اور ہائیڈروکلورک ایسڈ بنتے ہیں ۔ نمک جانوروں کی کھال سکھانے کھاد بنانے ‘ مچھلی کو محفوظ کرنے کے کام بھی آتا ہے ۔ آج کل طبی ماہرین بچوں اور حاملہ خواتین کو آیوڈین ملے نمک کے استعمال پر زور دے رہے ہیں تاکہ بچوں کو مختلف امراض سے بچایا جاسکے ۔ مختلف زبانوں میں نمک کے مختلف نام ہیں۔ اسے اردو اور فارسی میں نمک ‘ عربی میں ملح ‘ ہندی اور تلگو میں نون ‘ انگریزی میں سالٹ کہا جاتا ہے ۔ نمک کا سائنسی نام سوڈیم کلورائیڈ (NaCl ) ہے ۔ غرض نمک خدا کی جانب سی انسانوں کو عطا کر دہ ایک عظیم نعمت ہے ۔ جس پر انسان کو اپنے خدا کا شکرگزار ہونا چاہئے اور نمک کی قدر کرنا چاہئے ۔اقبال نے شائد اس طرح کی باتوں کے لیے کہا تھا۔
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں

شیئر کریں

کمنٹ کریں