نظم : ناری گاتھا

نظم نگار : صدف اقبال

, نظم : ناری گاتھا

سمے سے پرے
آکاش کے چھیتیج سے دور
کہاں گھومتے پھرتے ہو
یہ شبدوں کے موتی کس سمندر کی سیپیوں سے
چن کر لاتے ہو
میں موک
میں آسچریہ چکت
تمہارے ادھروں کی کنپن دیکھا کرتی ہوں
کبھی تم پھول چنتے ہو
اپنی انگلی کے پوروں کو گھائل کر لیتے ہو
کبھی تم جڑ ہوکر پتھر کی مورت بن جاتے ہو
کبھی تم آکاش میں پنچھی بن اڑ جانا چاہتے ہو
کبھی تم اس ناوک سے دکھائی پڑتے ہو
جو ڈوبتے سورج کو دیکھ کر فضا میں سر بکھیر رہا ہو
کبھی تم یکایک آویش میں آکر
دھراشائی کرنا چاہتے ہو سنسار کی ساری ویوستھاؤں کو
توڑ دینا چاہتے ہو سارے نیموں اور بندھنوں کو
ہے سوامی
تم ان پرانے جنجر کھنڈوروں میں کسے تلاشتے ہو
کائ سے ڈھکی دیواروں پہ کون سے شبد اکیرتے ہو
کون ہے جو تمہارے پیروں میں چکر سا بندھا ہے
کون ہے جو تمہاری آنکھوں میں عکس بن کر ٹھہرا ہوا ہے
کون ہے جو تمہاری کویتاؤں میں شنکھ سا بجتا ہے
ہے پریہ ور
ذرا ٹھہرو
مجھے دیکھو
میں ہی اوس کی پہلی بوند
میں ہی آکاش کا آوارہ بادل
میں ہی آم کے پہلے بور کی سوگندھ
میں ہی کوئل کی کوک
میں ہی ماٹی کی خوشبو
میں دھان کا سنہرا رنگ
میں اماوس کی رات
میں بہار کا سوندریہ
میں ہی ماضی میں ہی حال
میں ہی خواب میں ہی تعبیر
میں ہی تمہارے ہونٹوں کی مسکان
میں ہی تمہاری آنکھوں کا دکھ
میں ہی تمہاری رچناؤں کا شبد
ہے مہاکوی
میں ہی پدمنی
میں ہی شنکھنی
میں راگنی ہوں
میں ہی یکچھنی ہوں
میں کرشن کی بانسری کی لے
میں ہی شیام کا وشوا اوتار ہوں
سر اور اسر بھی میں ہی ہوں
میں ہی ماتا
میں ہی جننی
اور میں ہی جنم داتا
اور ہے یریتم
تمہارے بستر پر
ویشالی کی نگر ودھو بھی میں ہی ہوں
جنم دیتی ہوں میں ہی تجھے
اور ودھ کرتی ہوں تمہارے مہیشا سر روپ کو
برہمانڈ میں ہی ہوں
اور دھرتی بھی میں
شنکر کی ڈمرو کا تانڈو
اور مہاکال بھی میں ہوں
میں اجر، امر، ہر سو ودھمان

————-

اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔
1 Comment
  1. Avatar

    واہ

    Reply

کمنٹ کریں