نولکھی کوٹھی : ایک تاثر!

مضمون نگار : محمد فیصل شہزاد

, نولکھی کوٹھی :  ایک تاثر!

شدید بھوک کی حالت میں جیسے کھانے کا ہوکا سا ہوجاتا ہے،
ایسی ہی کچھ پچھلے دنوں حالت ہوئی، جب ادب کی بھوک تو شدید تھی مگر اچھا کچھ ہاتھ آتا نہ تھا،
کتنے مہینے ہوگئے تھے کچھ اچھا اور اپنے ذوق کے مطابق پڑھے ہوئے،
سو اچھے ادب کاایسا ہوکا سا ہورہا تھا کہ کوئی بھی کتاب کہیں سے بھی آتی، دل لپک لپک جاتا… مگر ڈیڑھ ایک صفحے سے زیادہ پڑھا نہ جاتا۔
اور پھرایک دن… علی اکبر ناطق کی ’’نولکھی کوٹھی ‘‘کو بھی آزمانے کا خیال آیا۔
نو لاکھ نہیں، محض نو سو روپے خرچ کرکے، وہ بھی ایک دوست کے، علی اکبر کی نولکھی کوٹھی ہمارے ہاتھ آگئی۔


پہلے پانچ چھے صفحے خود پڑھے، اس کے بعد ناول نے ہاتھ باندھ کر بٹھا لیا۔
اور دل نے سرگوشی کہ وہ گوہرنایاب جس کی تلاش تھی، بالآخر ہاتھ آگیا۔
سو فوراً
فیس بک آئی ڈی بند کی… بلکہ کہنا چاہیے کہ کرنی پڑی کہ اب سراٹھا کر کسی اور طرف دیکھنااِس نعمت غیر مترقبہ کی توہین تھی۔
محاورہ تو راتیں کالی کرناہے، ہم نے مگر اپنی دو راتیں روشن کرلیں،
جناب کیا شاہکار ناول ہے…!
اس ناول کا مصنف سوشل میڈیا پر بہت مشہور ہے، اور سب جانتے ہیں کہ اُس کی منفی شہرت زیادہ ہے،
سچی بات ہے کہ ہم بھی بشر ہونے کے ناتے اس شہرت سے متاثر رہے، تاوقتیکہ نولکھی کوٹھی نہ پڑھ لیا۔


اب بات یہ ہے کہ مصنف کا رویہ، مزاج جو بھی ہو، ایک پڑھنے والے کو اس سے کیا لینا، ہمیں تو بس ان کا شکریہ ادا کرنا ہے جو ہمیں ایک بہترین ناول دیا۔
پھر بات یوں ہے کہ پہلا ناول پڑھ کر ہی یہ خیال آیا کہ مصنف اس طنطنہ، اس شاعرانہ تعلـی کا تھوڑا بہت سزاوار بھی ہے کہ حسن ہو تو نزاکت بھی ساتھ چلی آتی ہی ہے۔
اختتام پر جو تاثر تھا، اس نے اگلے کئی دن بےحد اداس رکھا۔
یاد ہے کہ اس سے پہلے اداسی کا اتنا گہرا تاثر مارکیز کے شاہکار ناول’’تنہائی کے سو سال‘‘ پڑھ کر ہوا تھا۔
نعیم کلاسرہ صاحب کے ترجمہ شدہ مارکیز کے اس خاص الخاص ناول نے بھی کئی دن تک اداسی کو دل کی سہیلی بنائے رکھا تھا،
اور اب
نولکھی کوٹھی نے بھی اپنے اختتام پر پہروں اداس کیے رکھا… خصوصا ولیم کے حوالے سے کئی ’’کاش‘‘ زبان پر رہے،
نولکھی کوٹھی ہر لحاظ سے ایک بڑا ناول ہے… بیانیہ جس کا بے حد منفرد ہے،
ایک ایسے دور کی پرپیچ مگرکامیابی سے ہر پیچ، ہرگرہ کھولتی کہانی، جسے ہم بہت محدود تناظر میں دیکھتے پرکھتے آئے ہیں،
محکوم کی اپنی نفسیات ہوتی ہے اور اسی نفسیات کے تحت تاریخ لکھی جاتی ہے،
یہ ناول مگر بہت سچائی کے ساتھ آپ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبورکردیتا ہے اور آپ کی سوچ پہلے سے زیادہ معتدل ہوجاتی ہے۔


نولکھی کوٹھی میں ایک بڑے ناول کی تمام خصوصیات ہیں،
ایک بڑے بلکہ بہت بڑے کینوس پر ترتیب دیا گیا پلاٹ،بہت سارے کردار،
مگر اس وسعت کے باوجود نہ کردارنگاری کے حوالے سے کوئی تشنگی، نہ منظرکشی میں ہی کچھ کمی۔
آہا منظر کشی کا جادو تو ملاحظہ کیجیے کہ
جنوبی ہندوستان کا پس منظر رکھتے ایک اردو بولنے والے قاری کی نگاہوں کے سامنے مشرقی پنجاب گویا پورا کا پورا کھل کر آگیا۔
گھرمحلے، گاؤں قصبات، بازار مسجد، کھیت کھلیان، نہریں پھول پودے ،رسم ورواج اوراس دور کے محکوم مسلمانوں، سکھوں کی مخصوص نفسیات، مخصوص اسلحہ اور مخصوص طنازی و طراری سب مجسم ہوگئی ہو جیسے…
نیز حاکم انگریزکی شاطری، ذہانت، محنت اور ان کے چھوٹے بڑے عہدیداروں کے مابین رسہ کشی بھی!


لطف لینے کے لیے کئی مقامات، کئی صفحات باردگر پڑھے اور ہربار نیا لطف اٹھایا۔
تخیل میں جیسے ایک نئی دنیا آباد ہوگئی، جو ایک طرف ایسی سرسبز وشاداب اور طراوت افزا کہ دیدہ تخیل کی بینائی بڑھ جائے… تو دوسری طرف ایسی خشک و بیاباں کہ خیال بھی صحرا ہوکر تڑخنے لگے،
پڑھنے والا خود کو کبھی نولکھی کوٹھی اور اس کے گرد آم کے باغات میں، کبھی تحصیل جلال آباد کے ریگزاروں میں تو کبھی مولوی کرامت کی سالخوردہ مسجد کے صحن میں پاتا ہے۔
عجیب تر بات یہ کہ ساڑھے چارسو صفحات کے ضخیم ناول میں اُس رومانس کا کوئی گزر تک نہیں، جس پر اردو شعرونثر کی قریب پوری عمارت کھڑی ہے،
پھر بھی یہ بلاشبہ ایک کامیاب کلاسک ہے۔
ہاں البتہ اس ناول کے پورے ماحول میں ایک روپہلی رومانیت ضرور موجود ہے، مگر وہ جنس کی نہیں ہے۔
قصہ مختصر؛ اگر ہوسکے تو اس شاندار ناول کو ضرور پڑھیے، اور اپنی زبانِ تخیل کوایک منفرد ذائقے سے روشناس کرائیے۔
یہ ناول صرف کہانی نہیں، بلکہ قبل و بعد تقسیم ساٹھ سال کی ایک تاریخ ہے گویا، جو یقینا فکشن ہے مگر قاری کا دل اسے محض فکشن ماننےکو تیار نہیں ہوتا۔
اسی سے اندازہ کیجیے کہ آخر میں خیال آیا کہ… کیا واقعی اوکاڑہ میں نولکھی کوٹھی موجود ہے…؟!
٭

شیئر کریں

کمنٹ کریں