آپ کے نئے سال کی قرارداد کیا ؟

ثمر اشتیاق
ثمر اشتیاق

مضمون نگار : ثمر اشتیاق ۔ ٹورنٹو، کینڈا

نۓ سال کی آمد ہو چکی ہے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی دنیا میں ھزاروں لوگ یقیناً وزن کم کر کے اچھا نظرآنے کا عظم کررہے ہیں ۔ جم والے ممبر شپ بیچنے کے لئیے ریڈیو، ٹیلی وژن اور انڑنیٹ پر چلا چلا کر بتا رہے ہیں کہ نۓ سال میں آپکا اچھا لگنا کیوں ضروری ہے۔

وہ تمام افراد جو پچھلے سال اپنا وزن کسی بھی طرح سے کم کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے یا کم از کم کمپیوٹر ٹیکنیک کے زریعے دکھانے میں کامیاب تھے، اشتہارات میں اپنے پرانے ایکسٹرا لارج کپڑوں کے ساتھ فخر سے سینا تانے کھڑے کچھ نہ کچھ بیچتے نظر آتے ہیں۔

صحت مند رہنے کے لیے وزن کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے مگربڑھے ہوۓ وزن کے ساتھ اچھا نہ لگنے والے نظریئے کا براہ راست تعلق ھماری نفسیات سے ہے۔

اچھا لگنے کی اس جدوجہد میں عورتیں یقیناً مردوں سے آگے ہیں کیونکہ بچپن سے ہی پوری دینا ملکر ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ تمھارےاچھا محسوس کرنے کے لئیے اچھا لگنا ضروری ہے۔

شادی شدہ عورتوں کے شوہر اگر بے وفائی کے مرتکب ہوں یا دوسری عورتوں میں دلچسپی لیں تو پورا معاشرہ مردوں کو مورد الزام ٹہرانے کے بجائے بیویوں کو یہ کہتا نظر آتا ہے کہ تم اپنے آپ کو بنا سنوار کے نہیں رکھتیں یا وزن کنڑول میں نہیں رکھا تو یہ تو ہونا ہی تھا۔

شادی کے وقت لڑکیوں کے انتخاب میں بھی ظاہری حُسن کی اھمیت باطنی حُسن کے مقابلے میں برتری لے جاتی ہے۔ جہاں لڑکوں کے لئیے اُن کی تعلیم ، عہدے یا کاروبار کی اھمیت ہوتی ہے وہیں لڑکیوں کے لئیے یہ تعلیم اور عہدہ شادی میں روکاوٹ بن جاتے ہے۔ یا آگرمعمولی شکل و صورت والی ڈاکٹر بہو سوسائٹی میں اپنا اسٹیٹس بڑھانے کے لئیے پسند کر بھی لی جائے تو شادی کے بعد اُسکی اسی ڈاکٹری عہدے سے خود مختاری کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے ڈاکٹری چھوڑنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے اچھا محسوس کرنے کے لئیے اچھا لگنے والی معاشرتی قدر مشرق اور مغرب دونوں ہی میں یکساں راج اور مقبول ہے۔ حالانکہ مغرب میں عورت معاشی طور سے آزاد ہے مگر اُسے اچھا محسوس کرنے کے لئیے اب بھی کسی حد تک مرد کی منظوری کی ضرورت ہے- وہ اچھا لگنےاور اچھا محسوس کرنےکے لئیےغیر آرام دہ لباس، اونچی ایڑھی کے جوتے، بڑھے ہوئے ناخن بمعہ پالش، میک آپ ، بالوں کی تراش خراش اور رنگوں پر بہت زیادہ وقت اور پیسہ صرف کرتی نظر آتی ہے۔

مردوں سے میل جھول پر کوئ پابندی نہ ہونے اور رشتوں میں ذمہ داری وحقوق دونوں میں مساوی حصے دارہونے کے باوجودعورت اس بات کی اُمید لگائے رکھتی ہےکہ شادی کا پرپوزل مرد کی طرف سے آۓ اور ڈیٹ پر ریسٹورانٹ کا بل مرد ادا کرے-

دوسری طرف مشرق میں عورتوں کی آزادی اور خود مختاری کا آغاز تو ہو چکا ہے مگر ابھی بھی اُن کی سوچ خود کو مردوں کے بالکل برابر سمجھنے تک نہیں پہنچی ہے۔ اُن کے لئیے مردوں کی رضامندی ذاتی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر بہت اھم ہے۔

پاکستان میں متوسط طبقے کی خواتین بھی اب گھر پر سینے اور پرونے کے کاموں میں مشغول نظر آنے کے بجائے درزیوں اور نیم برانڈ بوتیکس کے چکر لگاتی نہیں تھکتیں۔ وہ تو بھلا ہو لٹیروں کا کہ جن کے ڈر سے سونے کے زیورات کی خریدو فروخت میں تھوڑی کمی آئ ہے مگر اُس کمی کو نیم برانڈ جوتوں ، زنانہ پرس اور کپڑوں نے پورا کردیا ہے۔ جن کو بُرا وقت پڑنے پر سونے کی طرح بیچا بھی نہیں جاسکتا۔

کینیڈین سوسائٹی کے حالات بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہیں، ھراسٹور میں عورتوں کے جوتوں، کپڑوں اور دیگر اشیاء کا شعبہ مردوں اور بچوں کے مقابلے میں دوگنا ہوتا ہے۔ خواتین نے خوبصورت نظر آنے کے لئیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے مگر پھر بھی خوبصورت محسوس نہیں کرپا رہی ہیں۔

معاشرہ ھمیں بچپن سے بتاتا ہے کہ مرد صرف اُس وقت عورتوں کے منظورنظر ہونگے جب وہ اپنے گھر کی عورتوں کی تمام خواہشات اور ضروریات کوکسی بھی قیمت پر پورا کریں گے اور عورتوں کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ اپنے مردوں کے لئیے صرف اُس وقت قابل قبول ہونگیں جب وہ اپنے آپ کی آرائش و زیبائش کا بھرپور خیال رکھیں گی۔ لہذا یہ گھن چکر کبھی ختم نہیں ہوتا۔

مرد عورتوں کی خوشنودی کے لئیےاپنے زریعہ معاش کے غلام اورعورتیں مردوں کی نورنظر بنے کے لئیے اُن اشیاء کی غلام جو اُنہیں خوبصورت بنے میں مدد کرتی ہیں۔

اچھا محسوس کرنے کے لئیے

مردوں اورعورتوں دونوں کو خود اعتمادی کی ضرورت ہوتی ہے اور خود اعتمادی کا براہ راست تعلق ہوتا ہے ھمارے صحت مند ، اور خوش و مطمعین محسوس کرنے سے نہ کہ مصنوعی اشیاء کے استمال سے۔

اپنی موجودہ زندگی سے مطمعین اور شکر گزار رھنا مگرساتھ ساتھ نئے ھُنر سیکھ کر اپنے آپ کو چیلنج کرنا- اپنی کامیابیوں پر فخر کرنا اور ناکامیوں کو سبق لینے کی حد تک یاد رکھنا ہی وہ راستہ جو ھمیں مسلسل اور مستقل اچھا محسوس کرا سکتا ہے۔

اچھا نظر آکراچھا محسوس کرنے یا دوسروں کو اچھا محسوس کرانے کی دوڑ میں میری زندگی کے بھی بہت سال زائع ہوچکے ہیں اب جب کہ ھوش آیا ہے تو کوشیش کرتی ہوں کہ تمام غلط تعلیمات کو بھول کر بنیاد یعنی بیک ٹو بیسکس ہو جاؤں اورمیرے نئے سال کی قرارداد بھی بس یہی ہے۔

شیئر کریں
1 Comment
  1. Avatar

    ہمیشہ کی طرح خوبصورت تحریر۔خوش رہیں

    Reply

کمنٹ کریں