نظم کیا ہے؟

نظم کیا ہے؟

نظم کا لغوی معانی ‘پرونے’ کا ہے۔ جیسے اکثر ہم یہ کہتے بھی ہیں کہ فلاں نے فلاں شعر میں فلاں لفظ جو نظم کیا ہے وہ زبان کے لحاظ سے درست نہیں ہے۔
نظم (پابند) کی تواریخ دیکھیں تو میرے خیال سے اسکی عمر غزل کی عمر کے لگ بھگ برابر ہی ہوگی۔ نظمیںوں کی بیشتر دو قسمیں ہوتی ہیں:

  1. پابند نظم
  2. آزاد نظم

پابند نظم کیا ہے؟

اردو شاعری کی اصناف میں پابند نظم اس نظم کو کہتے ہیں جسمیں ھو بہ ھو غزل ہی کی طرح بحر سمیت قافیے، ردیف (غزل کی طرح یہاں بھی ردیف ہونا ضروری نہیں ہوتا اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی آپ کو بتایا تھا کہ ردیف غزل یا نظم میں حسنِ اضافی کا کام کرتا ہے یعنی اسکی خوبصورتی بڑھاتا ہے) ۔ پابند نظمیں کئی طرح کی ہوتی ہیں:

دو مصرعے کی نظم جسے ‘بیت‘ یا ‘قطع بند‘ کہتے ہیں، تین مصرعے کی جسے ‘سلاسی‘ کہتے ہیں، پنجابی میں ‘ماہیا‘ بھی ایک قسم ہے جو تین مصرعے میں لکھی جاتی ہے اور گلزار کی ایجاد تروینی بھی تین مصرعے کی نظم ہوتی ہے (حالانکہ تین مصرعے کی نظمیں اتنی رائج نہیں ہو پائیں کیوں کہ اردو میں دو مصرعے میں بات کہنے کے لیے پہلے سے ہی شعر کی شکل میں ایک صنف موجود تھی۔ ایسے میں کوئی بات تین مصرعے میں کہنا کم ہی شاعروں کو راس آیا۔) چار مصرعے کی نظم جیسے ‘رباعی’، ‘مثنوی’، ‘قصیدہ’ وغیرہ، پانچ مصرعوں کی نظم جسے ‘مخمس‘ کہتے ہیں، چھہ مصرعوں کی نظم جسے ‘مسدس‘ کہتے ہیں جیسے ‘مرثیہ’ وغیرہ۔

آزاد نظم

وہ نظم جس میں بحر کے علاوہ کوئی اور پابندی (ردیف، قافیے کی بھی) نہیں ہوتی۔ سن 1944 کے آس پاس مخدوم موہندین کے علاوہ کسی بھی ترقی پسند نظم نگار (ساحر، کیفی اعظمی، علی سردار جعفری وغیرہ نے بھی) نے آزاد شاعری شروع نہیں کی تھی۔ (پر کچھ جان کار یہ بھی کہتے ہیں کہ آزاد نظم 1928- 1931 کے آس پاس کہی جا چکی تھی لیکن اتنی رائج نہیں ہوئی تھی) اسکے بعد دھیرے دھیرے آزاد نظم کہنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ آزاد نظم میں ردیف، قافیے کی کوئی پابندی نہیں ہوتی باوجود اسکے اگر کہیں کوئی قافیہ مل جائے تو اسے عیب کی نظر سے نہیں بلکہ حسنِ اضافی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ آزاد نظم میں طے کی گئی بحر کے ارکان میں کمی و بیشی کی جا سکتی ہے (جیسے کسی مصرعے میں ہم 3 ارکان لیتے ہیں کسی میں 5 کسی میں 2 کسی میں 1 لیکن اگر سارے کے سارے مصرعے برابر ارکان میں ہیں تب بھی اسے کوئی عیب نہیں مانا جائیگا)۔ ارکان کو توڑنے کا سلسلہ اسکے بعد شروع ہوا۔ مثال کے طور پر اختر پیامی کی ایک آزاد نظم کا ایک ٹکڑا دیکھتے ہیں:

رات کے ہاتھ پے جلتی ہوئی اک شمعِ وفا
اپنا حق مانگتی ہے
دور خوابوں کے جزیرے میں
کسی روزن سے
صبح کی ایک کرن جھانکتی ہے
وہ کرن درپہ ء آزار ہوئی جاتی ہے

اس نظم کا ارکان فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن ہے (2122- 1122- 1122- 22)
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مصرعے در مصرعے یہاں ارکان کم زیادہ بھی کئے گئے ہیں اور رکن کو توڑا بھی گیا ہے۔

نثری نظم

نثری نظم موجودہ دور میں شاعری کے بنیادی اصولوں اور لوازمات سے راہِ فرار کا ایک سستا ذریعہ بن کر ابھرنے والی غلط اور غیر معیاری صنف ِ سخن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے نظم کی اقسام میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ نثری نظم عام طور پر نثر لکھنے والوں مثلاََ افسانہ نگاروں، ناول نگاروں، مضامین نویسوں کی جانب سے کہی جاتی ہے کیونکہ یہ ادیب اردو شاعری کے بنیادی لوازمات سے ناواقف ہوتے ہیں۔

ان لوگوں کا زیادہ تعلق شاعری کی بجائے نثر سے رہا ہوتا ہے لہذا یہ لوگ شعری اوزان اور عروض سے نابلد ہوتے ہیں۔ وزن اور عروض سے راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے نثر لکھ کر اسے اپنے تئیں شاعری کہتے پھرتے ہیں۔ شاعری تو وہ ہوتی ہے جسے گنگنایا جا سکے، جس میں موسیقیت کا عنصر پایا جائے اور جو علمِ عروض کی بحروں اور اوزان پر پورا اترے، خواہ وہ پابند نظم ہو یا آزاد نظم۔
*****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں