افسانہ : نیم بے اولاد

, افسانہ : نیم بے اولاد

افسانہ نگار : اشرف گِل

گاؤں کے لوگوں کا تو یہی خیال تھا۔ کہ سراج دین ( عرف سا جھا) کی اب شادی نہیں ہونے والی ۔ کیونکہ اسکا کوئی سگا بھائی اور نہ ہی کوئی بہن تھی ۔ والدین جب تک زندہ تھے ۔ ان کے سہارے وہ اپنے دیگر خاندان کے لوگوں کے ساتھ پر سکون زندگی گذارتا تھا۔ مگر وہ بھی اس کے پروان چڑھتے ہی اس دار فانی سے رخصت ہو گئے ۔ اب تاج دین اپنے چچوں تائیوں اور ان کے بچوں کے ہمراہ بے یار و مددگار ان سب کے ساتھ مجبوراََ زندگی گذارنے پر مجبور تھا۔ اوران کا سودا سلف لانے پر معمور تھا۔ اس کی ہم عمر چچیری لڑکیاں اور لڑکے یا اس سے کم عمرجو تھے۔ ان سب کی شادیاں ان کے والدین بروقت رچا تے چلے گئے۔اورپھر وہ بھی اپنے بچوں کو پالنے میں محو ہو گئے۔مگر سراج دین کا کوئی اور خاص ہمدرد رشتے دار نہ ہونے کی بنا پر وہی بس اس خاندان کا فرد واحد تھا جو کنوارا رہ گیا تھا۔ جیسے وہ اکیلا تھا۔ اور اپنا سر خود سے نہیں مونڈ سکتا تھا۔ یعنی خود اپنے مونہہ سے اپنے سگوں سے کیسے کہتا۔ کہ میرے بڑو ! میں کنوارہ رہ گیا ہوں۔ میری بھی شادی کا بندوبست کروا دو۔ اس کی مثال ایسے تھی۔ جیسے کسی بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا تھا۔ کہ اس دنیا میں لوگ اندھے زیادہ ہیں یا دیکھنے والے۔ تو وزیر نے بادشاہ سے بولا تھا۔ بادشاہ سلامت۔ دنیا میں اندھے زیادہ ہیں۔ پھر اس نے ثابت بھی کر کے دکھایا تھا۔ مگر یہاں مقصد تو صرف یہ ہے۔ کہ واقعی اس کے قریبی رشتے داروں کو بھی’ ساجھا‘ نظر نہیں آتا تھا۔ باقی گاؤں کے لوگوں کو بھلا اس کی زندگی کو بسنے یا نہ بسنے کی کیونکر فکر ہو سکتی تھی؟ سبھی لوگ اپنی زندگیوں اور پھر اپنے بچوں کے مستقبل سنوارنے اور اپنے ذاتی معاملات کی الجھنوں کو سلجھانے کی کشمکش میں لگے ہوئے اور گُم تھے۔ سراج ایک ایسے غریب گھرانے کی پیدا وار تھا۔ جو پیشہ ور مزدور طبقہ اورچھوٹی(کمّی) ذات سے متعلق تھا۔ اس کے والدین کا ایک ہی اکلوتا چھوٹا سا مشترکہ مکان تھا۔جہاں اس کے چچاؤں وغیرہ کے درجنوں بچے رہتے تھے۔اور گھر میں ٹریفک ایسے تھی جیسے صبح دفتروں کے اوقات میں مال روڈ پر ہوتی ہے۔ایک ایک چارپائی پر چار یا پانچ افراد سوتے تھے۔ اور زیادہ تر زمین پر ہی بچھونا بچھاتے تھے۔ تبھی سب بچوں کیلئے ایک ایک گز زمین بھی حصے میں نہیں آتی تھی۔تو سراج دین اگر ان سے کہتا بھی۔ کہ میرا حصہ بھی اس گھر میں ہے۔ تو کون مانتا۔ کون دیتا۔ اور اتنی مختصر سے مکان میں سے دیتا کیا؟اس کے خاندان والوں کو بچوں کو سکول میں داخل کروانے کا رواج نہیں تھا۔مگر وہ اپنے ایک دوست کی وساطت سے ماں باپ کے جیتے جی‘کچھ جماعتیں پڑھ گیاتھا۔ اس زمانے سکول سسٹم کا نظام بھی توبوسیدہ اور نہ ہونے کے برابر تھا۔ شاید اسی مختصر سی تعلیم ہی کی بنا پر اس میں کچھ فراست کے جراثیم عود کر آئے تھے۔ جو اس کو عام لوگوں سے معتبر بنانے میں اس کے معاون تھے۔ تبھی اسکی خدا داد عقل و دانش کا گاؤں کا نمبر دار بھی معترف تھا ۔ مگر نمبر دار بنا اسے جتلائے اپنی گاؤں کی رعایا کے چھوٹے موٹے مسائل میں سراج دین کی تجویز پر غو رکرکے فیصلے بھی صادر کرتا تھا۔ سراج دین ویسے بھی شرافت کا پتلا تھا۔ہمیشہ عورتوں کے روبرہو نے پر نظریں نیچی ہی رکھتا تھا۔ اگرچہ وہ ان خصوصیات کا حامل تھا۔ مگر غریب خاندان میں پیدا ہونا اس کی قسمت پر داغ کے مانند تھا۔ اس کی سنجیدہ اور پر مغز باتیںایک فلاسفر کی باتوں سے کم نہیں ہوتی تھیں۔ مگر اس کی کارآمد باتوں کو سمجھنے اور اس پر سوچ بچار کرنے والوں کا اس گاؤں میں فقدان تھا۔ وہ جب کسی سے بات کرتا۔ تو سننے والا سنتا تو دھیان سے۔ مگر واپس سراج دین سے بولتا۔ یار ساجھیا۔ ذرا مجھے یہی بات آہستہ لہجے اور شستہ زبان میں سناؤ تاکہ سمجھ تو آ جائے۔تبھی لوگ تم سے کم بات کرتے ہیں۔ کیونکہ تمہارے بارے سبھی کی رائے ہے۔۔۔جیسے لکھے موسیٰ اور پڑھے خدا کی مثال ۔وہ تو اس زندہ مگر بہروں کی نگری میں بسنے والوں کے آگے بین بجاتا تھا۔مگر اس کی خداداد دانش اور ذمیداری کو دیکھتے ہوئے گاؤں کے ایک زمیندار چودھری نے اپنے ڈیرے پر اسکو مویشیوں کی دیکھ بھال کیلئے نوکری دیدی تھی۔ اور وہیں اپنے ڈیرے پر اسے رہائش بھی دیدی تھی۔ایک زمانہ تھا جب گاؤں کے ہم عمر بچے اس کو اوئے ’ساجھے‘ کہہ کر بلاتے تھے ۔مگر اب ان کی اولادوں کا وہ ’چچا ساجھا‘ بن چکاتھا۔اور اسکی شادی کی وادی ابھی تک بنجر‘ بے آب و گیاہ اور ویران تھی۔ کسی نے اس میں پودا لگا کر سینچنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی ۔یا یوں کہیئے۔ کہ بیاہ کا ہما اس کے سر سے ابھی تک نہیں گذرا تھا۔


ایک دن گاؤں کی کچھ چودھرانیاں اپنے ایک مشترکہ کارندے (کمًی)کی بیٹی کی شادی کے موقع پر اِکٹھی بیٹھی مستی میں گپیں ہانک رہی تھیں ۔انہیں بھی مل بیٹھ کر ہی ہی ہا ہا کرنے کا ایسے موقعوں پرہی وقت ملتا تھا۔ خوشی کے اس بے ہنگم شور اور مستی کے عالم میں وہ ایک دوسری پر پھبتیاں بھی کس رہی تھیں۔اور آتے جاتے کمیوں کمنیانیوں پر فقرے بھی چست کر رہی تھیں۔ شادی کے ہی کام کاج میں مصروف اس موقع پر سراج دین بھی سر جھکائے اپنی ذمیداریوں کو ادا کرنے کی سوچوں میں گم اچانک ان کے سامنے سے نمودار ہوا۔ جونہی ایک چودھرانی کی اس پر نظر پڑی۔اس نے طنزیا اور مذاق کے موڈ میں سراج دین کو آواز دی اور پکارتے ہوئے بولی۔ ارے ساجھیا! نظریں جھکائے کونسی گمشدہ چیز کی تلاش میں نظریں جھکائے جا رہے ہو؟ ذرااونچی نگاہ کرکے ہمیں بھی دیکھو۔ ادھر آؤ۔ کچھ ہم سے بھی بات کرو۔ سراج دین اچانک طنزیہ چیخ سن کر ان کی منڈلی کے پاس پہنچ گیا۔ ایک ملازم ہی تو تھا۔ اسلئے وہ ان کے پاس سر جھکا کر جا کھڑا ہوا تو دوسری نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے سوالیہ لہجے میں کہا۔بھائی ساجھیا! یہ توبتاؤ۔تم نے اپنی شادی کرواکے اپنا جنازہ کب جائز کروانا اور ہمیں میٹھے چاول (زردہ) کب کھلانا ہے؟سراج دین ان کی کڑوی‘ جلی کٹی اور کسیلی باتوں کا عادی تو تھا ہی۔ مگرآج کسی چودھری کی بلا وجہ جھڑک سے اس کے مزاج کا پارہ چڑھا ہوا تھا۔ آخر انسان تھا۔ غصے میں ملبوس تھا۔مگر کس پر نکالتا۔ خود پر ہی ناراض ہوتا اور مناتا رہتا تھا۔آج اس کے صبر کا دامن چھوٹ گیا۔اس نے اپنی نوکری کی بھی پرواہ نہیں کی۔ اور ایسی طنز پر اس کے ضبط کا باندھ ٹوٹاااور باڑھ کا روپ دھارگیا۔ ساجھا بارود کی طرح پھٹ پڑا۔ اور اسکے سوال پر اُلٹا سوال کرکے ان سب کو حیران کیا کیا بلکہ پریشان کر دیا۔نرم لہجے میں ہی بولا اور کہا دیکھو۔ چودھرانیو! تم یہاں تمام میری چاچیاں‘ پھوپھیاںاور خالائیں ہی تو ہو ۔ اپنے اپنے ایمان کو حاضر کرکے یہ بتاؤ۔ میں تمہارے سامنے بچے سے لیکر جوان اور اب بڑھاپے میں قدم رکھ رہا ہوں۔میں نے تم لوگوں کی سیوہ کرنے میں کیاکوئی کبھی چُوک کی؟ سب نے یک زبان ہو کر کہا۔ نہیں۔ ایسا تو ہم نے کبھی دیکھا نہیں۔تم تو نہایت شریف ہو اور نظریں جھکا کرہی ہمیشہ ہم سے بات چیت بھی کرتے ہو۔ توپھر یہ بتاؤ۔ میری ماؤں۔ تاج دین ہلکے سے تاؤ کے لہجے میں بولا۔کیا تم سب نے کبھی مجھے اپنی اولاد یا بھائی کی طرح سمجھا۔ نہیں نا۔۔ اگر سمجھا ہوتا تو تم کسی اپاہج ‘ لنجی یا لنگڑی قسم کی لڑکی یا کسی بیوہ یا بے سہارا عورت کو ہی میرے پلے باندھ دیتیں۔ میں کبھی چوں بھی نہیں کرتا۔مجھے تو بس انسان نما گدھا ہی سمجھ کر تم سب گاؤں والوں نے کام لیا ہے ۔اور بدلے میں بس جھوٹی ہنسی ہی انعام میں دی ہے۔اور میرے پورے کام کی آدھی پونی مزدوری میرے آگے پھینک دی اور بس۔میری ماؤں۔ یہ بتاؤ۔ میں کونسا کام کرنے کا اہل نہیں بھلا؟۔۔ ہاں۔ یہ تو سچ ہے۔ کہ تم بہت محنتی ہو۔ ایماندار ہو۔۔ سبھی عورتوں کی مستی یکدم زمین پر آن گری۔اور یک زبان ہو کر کہا۔۔ہاں یہی سچ ہے۔۔۔۔سراجدین بولا۔ مگر ایک سچ یہ بھی ہے۔ کہ انسان سب کچھ کرنے کا اہل ضرور ہے۔ مگر اپنی شادی کے بارے کہتے ہوئے اس کی زبان میں لکنت پیدا ہو جاتی ہے۔۔ یہ سب بتانے اور کرنے کے لئے کسی دوسرے بندے ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔سراج دین کی ان دل سوختہ باتوں سے تمام عورتیں ایک دوسری کو ششدر و پریشان ہو کر دیکھنے لگیں۔ کیونکہ ساجھے نے ان پاؤں تلے سے زمین کھینچ لی تھی۔ وہ شرمسار ی سے مونہہ بسورتے ہوئے بولیں۔سراج دینا! تم نے تو ہماری آنکھوں اور کانوں پر پڑے دبیز پردے تار تار کر دئیے ہیں۔ تم نے ہمیں لاجواب ہی نہیں کیا بلکہ ہماری سوچوں کے بھی پٹ کھول دئیے ہیں ۔ تم واقعی بڑے سیانے ہو۔ ہم ہی بے وقوف تھیں۔ جنہوں نے تمہیں کام کیلئے واقعی گدھے جیسا ہی سمجھا۔ اور ٹھٹھولی کیلئے کھلونے کی مانند ۔ تمہارے اندر کی ہلچل کو تو ہم نے کبھی سمجھا ہی نہیں۔محسوس ہی نہیں کیا۔ اب تمہاری شرطیہ شادی ہو گی۔ اور یہ بات اب پتھر پر لکیرہی سمجھو۔سراج دین سے مکالمہ بازی چل رہی تھی کہ اسی ہی دوران ایک ملازمہ نے چودھرانی کے کان میں نہ جانے کیا بولا۔جس سے یکدم چودھرانی کا چہرہ کھل گیا۔اور سراج دین سے فوراََ ہی کہدیا۔ ارے مبارک ہو سراج دین۔ آج صبح تم نے کس کا چہرہ دیکھا۔جو تمہاری قسمت کے بند دروازے آج ہی کھل گئے ہیں۔سمجھو تمہارا کام ہو گیا ہے۔سراج دین اچانک اس معجزہ نما خوشخبری سے چونک گیا۔ مگر اس بات کو ان کا ایک مذاق سمجھ کر چودھرانیوں سے بولا۔ جاتے جاتے پھر تم نے میری ہنسی اڑا دی ہے۔چلو تم مالک لوگ ہو۔ جو مرضی سلوک کرو۔ میں کیا کر سکتا ہوں بھلا؟ ارے نئیں ساجھے۔ یہ سچ ہے۔جاؤ گھر جا کر اپنی شادی کی تیاری کرو۔ پھرساجھا اپنے ڈیرے جا کر اسی ادھیڑ بن میں تمام رات اپنی ان دیکھی دلہن کو سپنوں میں دیکھتارہا۔


اب تک سراج دین کی قسمت کے دروازے نیم واء تھے۔ کسی نے ان کو پورا کھول کر تازہ ہوادکھانے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔۔ دس پندرہ دنوں میں ہی سبھی چودھرانیوں نے مل کر آخر سراجدین کے سر پر سہرے کا تاج سجا ہی دیا۔ سراج دین کی ہی برادری کی ایک نوجوان بیس سالہ گوری چٹی حسین یتیم لڑکی شیداں سے شادی کروا دی ۔شیداں گاؤں کے ایک امیر گھرانے میں صفائی ستھرائی کا کام کرکے اپنی بوڑھی ماں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ اگرچہ سراج دین کی عمر اس وقت چالیس پینتالیس کے درمیان تھی۔ مگرچودھرانیوں کے اثر و رسوخ سے دونوں کی شادی ہو گئی۔ چودھرانیوں نے سراج دین کی شادی پر خوب شادیانے بجوائے۔ جس سے ان کی دریا دلی کی دھوم سارے گاؤں میں مچ گئی۔ سراج دین اور شیداں کی ازدواجی زندگی کی ابتدا ہو گئی۔دونوںایک دوسرے کا اچھا خیال رکھنے لگے۔ کچھ دیر بعدشیداں نے ایک لڑکے کو بھی جنم دیا۔ سراج دین اور شیداں نے اس بچے کی اچھی نگہداشت شروع کر دی۔شادی کے پندرہ سالہ سال اچھے اورخوشگوار تھے ۔ بچہ خوب تندرست و توانا ‘نو جوانی کے مراحل سے گذر رہا تھا۔ اور سراج دین اسے اپنے مستقبل کی لاٹھی سمجھ کر اسکی ہر فرمائش پوری کر نے میں مگن تھا۔ اچانک اس ہنستے ہوئے گھر کو شاید کسی کی نظر لگ گئی۔ تقدیر نے کروٹ لی۔ ان کا نوجوان لڑکا ایک دن اپنے گھر سے ایسا غائب ہوا۔ پھر واپس کبھی نہیں آیا۔ اس کے دوستوں سے بھی پرسش کی مگر کوئی اطلاع نہیں ملی ۔ پولیس میں بھی ایف۔ آر۔ آئی لکھوائی گئی۔ مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ شاید اسے زمین نگل گئی تھی۔ سراج دین اور شیداں ایک زندہ لاش بن کر رہ گئے ۔ شیداں کو توبچے کی جدائی سے ایسا دھچکا لگا۔ کہ اس کوایک جان لیوا بیماری نے ایسا گھیرا۔ کہ قبر تک ہی پہنچا کر چھوڑا۔ سراج دین نے بیوی کو بچانے کی سر توڑ کوشش کی۔ مگرکوئی تدبیر اور دوا دارو کارگر نہ ہوئے ۔ اللہ کو جو منظور تھا۔ وہی ہو گیا ۔اور سراج دین درخت سے ٹوٹی ہوئی ٹہنی کی مانندخود سے ہی لٹک کے رہ گیا۔


سراج دین اپنی ادھیڑ عمری کے سبب‘ بچے کے گم ہونے کی وجہ سے اور اپنی بیوی کے بچھڑنے سے شدید زخمی تھا۔ اس نے اپنی تنہائی کا علاج رونے سے کیا۔ جس سے اس کے زخموں کی پذیرائی بھی نہیں ہوئی اور بینائی بھی رخصت ہو گئی۔ اب وہ گاؤں کی آنکھوں دیکھی گلیوں کو اپنے قد سے اونچے کھونٹے کے سہارے ٹٹولتا ہوا کسی بھی گھر جا کر اپنا دل بہلاتا۔ اسے ایک گھر سے کھانا دستیاب ہو جاتا تھا۔ ایک کمرہ اب اس کا دن رات کا ساتھی تھا ۔ گلیوں سے گذرتے لوگ اسے دیکھتے تو یہی کہتے۔ ’ ساجھا! بیچارہ۔ بد قسمت ۔بے اولاد!‘
سراج دین ‘ دراصل ’ نیم بے اولاد‘ کے جیسا اسلئے تھا ۔ کہ اس نے جس لڑکے کی دل و جان سے پرورش کی تھی۔ وہ اس کا اپنا بیٹا نہیں بلکہ شیداں کا ناجائز بچہ تھا۔ جو ایک امیر گھر کے بگڑے ہوئے نوجوان کے شیداںسے ناجائز تعلقات کی بنا پر اس دنیا میں وارد ہواتھا۔اور اچانک اس نازک وقت میں سراج دین کی شادی کا عمل بھی اس کی ہمدردی پر مبنی نہیں تھا۔ بلکہ یہ تمام گاؤں کا ایک سنگین مسئلہ تھا۔جس کو حل کرنے کیلئے سبھی چودھرانیوں نے مل کر ایک کنواری بیوہ لڑکی کو بے عزت ہونے اور گاؤں کی ناموس پر دھبا لگنے سے بچانے کیلئے یہ کام سر انجام دیا تھا ۔ مگر انہیں کیا معلوم۔ بلکہ کسی کو بھی کچھ پتہ نہیں تھا۔ کہ یہ عمل سراج دین کی اس قدر بدقسمتی پر منتج ہو گا۔جس سے سراج دین کا نام بدل کر : ’ساجھا! بیچارہ بے اولاد‘۔۔۔ہو جائیگا۔نا جائز بچے کے بارے سراج دین کو کسی نے کبھی نہیں بتایا۔یہ سوچ کر کہ اس کے زخموں کو مزید کریدنے سے اس کو اور تکلیف ہو گی۔مگراب تو سبھی تکلیفیں اس کی راحت کا سبب بنتی تھیں۔
جاتے جاتے میرے چند اشعار ملاحظہ کرتے جائیے: وفا: (۷۵)
؎ خوشی کا اس جہاں میں‘ دام بھی نہیں۔۔۔۔مگر یہ دستیاب ‘ عام بھی نہیں۔
؎ سُنے کسی کی دفعتاََ ‘ سُنا بھی دے۔۔۔۔زبان کو کوئی ‘ لگام بھی نہیں۔
؎ دعا کروں دراز اس کی عمر ہو۔۔۔۔وہ زندگی ! جسے دوام بھی نہیں۔
؎ رکاوٹیں ‘ روائتوں کی اس میں کیوں۔۔۔۔جو پیار ! جُرم اور حرام بھی نہیں۔
؎ غزل پہ تیری لوگ جھومتے ہیں گِل ؔ۔۔۔۔کسی کے ہاتھ گرچہ ‘ جام بھی نہیں

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں