نیند پر شاعری

نیند انسان کو غم و روزگار ِ جہاں سے بے گانہ کر کے ذہنی پرسکونی فراہم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ مگر بعض اوقات غم ِ زندگی اور غم ِ عشق نیند کی راہ میں ایک پائیدار رکاوٹ ثابت ہو کر انسان کی نیندوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب آنکھوں سے نیند روٹھ جائے تو زندگی متزلزل ہوجاتی ہے۔ اسی امر کو مختلف شعراء نے شاعری میں بیان کیا ہے۔ نیند کے موضوع پر چند اشعار کا انتخاب ملاحضہ ہو۔

سخن سرائے: خواب شاعری

اکیلے ہم ہی نہیں جاگتے ہیں راتوں میں
اسے بھی نیند بڑی مشکلوں سے آتی ہے
آغا جرار
۔
وہ بچپنے کی نیند تو اب خواب ہوگئی
کیا عمر تھی، کہ رات ہوئی اور سو گئے
پروین شاکر
۔
کون دے گا سکون آنکھوں کو
کس کو دیکھوں کہ نیند آ جائے
محمد علی
۔
مجھ کو شکوہ ہے اپنی آنکھوں سے
تم نہ آئے تو نیند کیوں آئی
جگرمراد آبادی
۔
ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جائو
قتیل شفائی
۔
جاگنے کا عذاب سہہ سہہ کے
اپنے اندر ہی سو گیا ہوں میں
نامعلوم
۔
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
غالب
۔
اک نیند مرے خواب کو رکھتی ہے پریشاں
اک خواب مجھے چین سے سونے نہیں دیتا
شوذب کاظمی

نیند پر شاعری

اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
عرفان صدیقی
۔
آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت
مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی
اکبر الہ آبادی
۔
بن تمہارے کبھی نہیں آئی
کیا مری نیند بھی تمہاری ہے
جون ایلیا
۔
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی
ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی
راہی معصوم رضا
۔
تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب
وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب
مومن خاں مومن
۔
آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا
آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی
اقبال اشہر
۔
کیسا جادو ہے سمجھ آتا نہیں
نیند میری خواب سارے آپ کے
ابن مفتی
۔
شام سے ان کے تصور کا نشہ تھا اتنا
نیند آئی ہے تو آنکھوں نے برا مانا ہے
نامعلوم

نیند کے موضوع پر منتخب اشعار

معلوم تھیں مجھے تری مجبوریاں مگر
تیرے بغیر نیند نہ آئی تمام رات
نامعلوم
۔
مدتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل
مدتوں بعد ہمیں نیند سہانی آئی
اقبال اشہر
۔
جاگنے والو آئو دکھ بانٹیں
نیند کو یوں ہی رحم آئے گا
فریحہ نقوی

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں