نیو ڈارونزم کو درپیش چیلنجز

جب 1940s اور 1950s میں نیو-ڈارونزم تمام پروفیشنز میں حاوی ہو گیا تو اس پر سب کا اتفاق رائے قائم ہو گیا۔ کئی ارتقائی سائنسدانوں نے یہ سوچا کہ اب تمام بڑے مسائل حل ہو چکے ہیں اور اب صرف ان کی شرح پر کام کرنا باقی ہے۔ مگر یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ سائنس کا کوئی میدان بظاہر تمام جوابات رکھتا نظر آئے اور اپنے مفروضات پر سوال نا اٹھاتا ہو۔ ایک مسلسل ناقدانہ انداز، غیر حل شدہ مسائل اور تشکیک و تنازعات ہی ایک اچھی سائنس کی صحت کے لیے ضروری ہیں۔ اگر سائنس اپنے خیالات کو ٹیسٹ کرنا چھوڑ دے اور تمام ضروری مسائل کو حل شدہ تصور کرے، تو وہ بہت جلد جمود کا شکار ہو جاتی ہے اور مر جاتی ہے۔

neo darwinism

خوش قسمتی سے نیوڈارونزم کی مسلسل سکروٹنی کی جاتی ہے اور اسے لگاتار بائیولوجیکل اور paleontological ڈیٹا سے چیلینج کیا جاتا ہے اور اسی لیے یہ فیلد مثبت مباحثات سے بھرپور ہے۔ ان چیلنجز کی اکثریت نیو-ڈارونزم کے انتہاوں پر موجود تصورات پر سوال اٹھاتی ہے یا پھر یہ دلائل دیتی ہے کہ نیچرل سیلیکشن ہی زندگی کے ارتقاء پذیر ہونے کا واحد طریقہ کار نہیں۔ creationists افراد کے گمراہ کن غلط حوالہ جات کے برعکس ان میں سے کوئی بھی آئیڈیا “زندگی ارتقاء پذیر ہوئی ہے” کی حقیقت کو چیلنج نہیں کرتا اور نا ہی ارتقاء کے لیے نیچرل سیلیکشن کی اہمیت سے انکار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر creationists اکثر سٹیفن جے گولڈ کو کوٹ کرتے ہیں کہ اس کے مطابق “نیو-ڈارونزم مر چکا ہے” اور پھر اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ سٹیفن جے گولڈ ارتقاء پر یقین نہیں رکھتا۔ جبکہ درحقیقت سٹیفن جے گولڈ نان-نیو-ڈارونزم میکنزم کی اہمیت اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گولڈ کا عام کوٹ کچھ یوں ہے:

I well remember how the synthetic theory beguiled me with its unifying power when I was a graduate student in the mid-1960’s. Since then I have been watching it slowly unravel as a universal description of evolution. The molecular assault came first, followed quickly by renewed attention to unorthodox theories of speciation and by challenges at the level of macroevolution itself. I have been reluctant to admit it—since beguiling is often forever—but if Mayr’s characterization of the synthetic theory is accurate, then that theory, as a general proposition, is effectively dead, despite its persistence as textbook orthodoxy.

(Gould 1980b:120)

جیسا کہ مندرجہ بالا کوٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گولڈ نیو-ڈارونزم سنتھسز کے بارے میں بات کر رہا ہے اور وہ ارتقاء کے وقوع پذیر ہونے پر شک و شبہات کا اظہار بلکل بھی نہیں کر رہا ہے۔ creationists افراد کو یا تو ان دونوں کے فرق کا علم نہیں یا پھر وہ جان بوجھ کر اپنے پڑھنے والوں کو غلط راہ پر ڈال رہے ہیں۔

اب چونکہ ہم نے creationists کی پھیلائی اس غلط فہمی کو دور کر لیا ہے اور ہم اب جانتے ہیں کہ نیو-ڈارونزم کو چیلنج کرنے کا مطلب ارتقاء کے وقوع پذیر ہونے کا انکار ہرگز نہیں ہے، اس لیے اب ہم ان مستند سائنٹفک ایشوز کو دیکھتے ہیں جو گولڈ نے اٹھائے۔

لیمارک کا دوبارہ وزٹ

جیسا کہ ہم نے پہلے ڈسکس کہ انیوسویں صدی کے نیچرلسٹ جیسا کہ ڈارون اور لیمارک یہ سمجھتے تھے کہ کوئی جاندار جو فیچرز اپنی زندگی میں حاصل کرتا (مثال کے طور پر لوہار کے مظبوط مسلز) وہ اپنی اگلی نسلوں کو ٹرانسفر کر سکتا تھا (حاصل شدہ خصوصیات کی وراثتی منتقلی)۔ اس طرح کی inheritance کو بدقسمتی سے Lamarckian inheritance کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا کہ یہ تصور لیمارک سے بھی پرانا ہے اور یہ لیمارک کے خیالات کا چھوٹا سا حصہ تھا اور اسے ڈارون بھی قبول کرتا تھا۔ یہ واضح ہے کہ یہ وراثتی تصور کیوں زیادہ اچھا لگتا ہے۔ ڈارون کے میکنزم کے برعکس جس میں کئی offspring کی موت اس لیے ہوتی ہے کہ چند سازگار تغیرات سروائیو کر سکیں، لیمارکین وراثتی طریقہ کار میں تغیرات براہ راست اکیلی جنریشن کو ہی منتقل ہو جاتے ہیں اور آرگنزم زیادہ جلد ماحول میں adapt ہو جاتا ہے۔

تاہم 1880s کے عرصہ میں کچھ ماہر جینیات نے لیمارکین وراثتی طریقہ کار پر شک کرنا شروع کر دیا کہ واقعی حقیقی ہے یا نہیں اور انہوں نے ڈاروینین نیچرل سیلیکشن کی افضلیت پر زور دینا شروع کر دیا۔ جرمن بائیولوجسٹ August Weismann نے تجربات کا سلسل سرانجام دیا جس نے حاصل شدہ خصوصیات کے وراثتی انتقال یعنی لیمارکین inheritance پر بظاہر اعتماد ختم کر دیا۔ اس نے چوہوں کی بیس نسلوں کی دم کاٹی، مگر ہر نئی جنریشن میں دم نکل آتی، باوجود اس کے کہ وہ اس قدر ایکسٹریم قسم کے سیلکشن پریشر سے گزر رہے تھے۔ اس سے Weismann نے نتیجہ اخذ کیا کہ جو کچھ ہمارے جسم کے ساتھ ہوتا ہے (Weismann کی ٹرمنالوجی میں soma) وہ واپس ہمارے جینوم (germ line) تک نہیں پہنچتا۔ اسے Weismann’s barrier کہا جانے لگا اور یہ جینیات کا سنٹرل dogma بن گیا کہ انفارمیشن کا فلو ایک یک طرفہ فلو ہے جو جینوٹائپ سے فینوٹائپ کی سمت ہے، اور یہ الٹی سمت میں ہرگز نہیں ہے۔ جب جیمز واٹسن اور فرانس کرک نے ڈی این اے کی دریافت کی تو اس سنٹرل dogma کی تبدیل شدہ شکل ہوں ہو گئی کہ انفارمیشن کا یک طرفہ فلو DNA سے RNA سے proteins سے phenotype کی سمت ہے، مگر یہ کبھی بھی واپس DNA کی سمت نہیں ہے۔

کئی دہائیوں تک یہ سنٹرل dogma کام کرتا نظر آیا اور کہیں لیمارک ازم کا تھوڑا سا اشارہ بھی ملتا تو اسے بہت متنازعہ اور unorthodox سمجھا جاتا۔ تاہم 1950s کے اوائل میں ایمبریولوجسٹ کونارڈ ویڈینگٹن نے یہ دکھایا کہ ماحولیاتی سٹریس کی تکرار کی وجہ سے بغیر سیلیکشن کے ہی اچانک جینیاتی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے، اور اسے اس نے genetic assimilation کا نام دیا۔ تاہم سب سے عمدہ شواہد امیونولوجی کی طرف سے آئے۔ جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو ہمارا امیون سسٹم فنکشنل تو ہوتا ہے مگر ابھی تمام بیرونی جرمز اور پیتھوجنز کو نہیں پہچانتا۔ ہم اپنی زندگی میں امیونٹی اس وقت حاصل کرتے ہیں جب ہمارا امیون سسٹم جرمز کے خلاف ایکسپوز ہوتا ہے اور پھر ان کے خلاف اینٹی باڈیز تیار کرتا ہے۔ تاہم کئی تجربات نے یہ دکھایا کہ لیبارٹری میں موجود چوہے اپنی امیونٹی براہ راست اپنی نسل کو ٹرانسفر کر سکتے ہیں۔ اس عمل کی وضاحت Lamarckian inheritance کے علاوہ اور کسی طریقے سے بہت کرنا بہت مشکل ہے۔

حال ہی میں مائیکروبائیولوجسٹوں کو اس بات کا علم ہوا ہے کہ مائیکرو آرگنزمز کی اکثریت میں یہ acquired inheritance کا عمل کوئی استثنائی نہیں بلکہ یہ نارمل حیثیت رکھتا ہے۔ وائرسز مکمل طور پر اسی طریقے سے کام کرتے ہیں کہ وہ اپنا DNA اپنے ہوسٹ کے سیل میں داخل کر کے اپنی کاپیاں بنا لیتے ہیں۔ کئی بیکٹیریا اور کچھ دیگر آرگنزم (جن میں مکئی جیسے پودے بھی شامل ہیں) وہ بظاہر “جمپنگ جینز” رکھتے ہیں جو اپنے جینز کے فریگمنٹس آرگنزم کی دیگر strains کے ساتھ سیکس یا کسی اور کمبینیشن کے بغیر ہی تبدیل کر لیتے ہیں۔ وائرسز کا ایک گروپ (ریٹرو وائیرس جس کی وجہ سے دیگر انفیکشنز کے علاوہ HIV بھی ہوتا ہے) اپنی جینیاتی انفارمیشن ایک ہوسٹ سے دوسرے ہوسٹ میں کاپی کرتے چلے جاتے ہیں اور ایک آرگنزم سے DNA دوسرے میں بھی لے جا سکتے ہیں۔

وراثت کے نئے میکنزم ظاہر کرتے ہیں کہ جینوم اتنا سادہ اور یکطرفہ نہیں ہے جیسا چالیس برس قبل سمجھا جاتا تھا۔ جان کیمبل نے جینیاتی انٹرایکشنز کی مکمل رینج summarize کی جس میں اس نے سادہ structurally dynamic جینز سے آغاز کیا جو مخصوص ماحولیاتی stimulus کے جواب میں اپنا مخصوص ریسپانس دیتے۔ ان کے بعد وہ جینز ہیں جو بظاہر ماحول کو خود sense کرتے اور اپنا ریسپانس تبدیل کرتے ہیں۔ Automodulating جینز کو جب stimulate کیا جائے تو وہ اس کے جواب میں اس stimulus کے لیے اپنی مستقبل میں دی جانے والی responsiveness کو تبدیل کر لیتے ہیں۔ اور پھر ان تمام جین انٹرایکشنز میں سب سے زیادہ ‘لیمارکین’ experiential genes ہیں جو جینوم میں اپنی زندگی میں حاصل شدہ مخصوص تبدیلیوں کو اپنے descendants میں ٹرانسمٹ کرتے ہیں۔ ان پر امیونولوجی کی مثال بھی لاگو ہو سکتی ہے اور بیکٹیریل اور وائرل DNA swapping کی مثال بھی لاگو ہوتی ہے۔

واضح طور پر نظر آتا ہے کہ یک طرفہ معلومات کے فلو والا سنٹرل dogma مائکرو آرگنزمز پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ ان میں DNA swapping کا عمل کافی زیادہ ہے۔ اسی طرح اگر ملٹی سیلولر آرگنزمز میں امیونولوجی کے تجربات کو سامنے رکھا جائے تو یہ سنٹرل dogma اس کیس میں بھی اپلائی ہوتا نظر نہیں آتا۔

نیوٹرلزم، جنک ڈی این اے، اور مالیکیولر کلاکس

نیو-ڈارونزم کو پہلا چیلنج اس وقت سامنے آیا جب مالیکیولر بائیولوجی نے 1960s میں جینیوم کی تفصیل کو سمجھنا شروع کیا۔ اس سے قبل ماہر جینیات نے فرض کیا ہوا تھا کہ کروموسوم میں ہر جین صرف ایک پروٹین (اور ان سے بنائے گئے سٹرکچر) کوڈ کرتا ہے، اس لیے inheritance بہت سادہ ہو گی (یعنی ایک جین، ایک پروٹین dogma)۔ وہ اس بات پر بھی زور دیتے کہ ہر جین نیچرل سیلیکشن کی مسلسل سکروٹنی کے تحت ہے (panselectionism) اور کوئی بھی جین selectively نیوٹرل نہیں ہے (چاہے ہم اس بات کو ڈیٹیکٹ نا بھی کر سکیں کہ اس پر سیلیکشن کیسے آپریٹ کرتی ہے)۔ مگر 1960sمیں ہونے والی دریافتوں کی سیریز نے جینوم کے بارے میں اس سادہ تصور کو چکنا چور کر دیا۔ Lewontin اور Jack Hubby نے ایک نئی ٹیکنیک electrophoresis استعمال کرتے ہوئے یہ معلوم کیا کہ آرگنزمز اس سے کہیں زیادہ جینز رکھتے ہیں جتنے انہیں اپنی فینوٹائپ کی ایکسپریشن کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ پھر جلد ہی ماہر جینیات نے یہ دریافت کیا کہ کچھ آرگنزمز میں 85–97 فیصد تک DNA فینوٹائپ کی ایکسپریشن کے لیے ناگزیر نہیں ہے (انسان کے ڈی این میں تقریبا نوے فیصد) اور یا تو وہ سائلنٹ DNA ہے یا جنک DNA ہے جو کہ ماضی کے اس وقت سے چلا آ رہا ہے جب وہ کبھی فنکشنل ہوا کرتا تھا۔ اگر وہ ایکریس نہیں ہو رہا، تو پھر اسے نیچرل سیلیکشن بھی ڈیٹیکٹ نہیں کر سکتی اور وہ سیلیکشن کے فوائد یا نقصانات کے تناظر میں نیوٹرل ہے۔ اس neutralism کے نئے تصور نے panselectionism کے پرانے یقین کو ہلا کر رکھ دیا۔ حالیہ برسوں میں کچھ ماہر جینیات نے کوشش کی ہے کہ اس تصور کو فروغ دیا جائے کہ جتنا ڈی این اے ہم جنک سمجھتے ہیں، وہ اتنا زیادہ نہیں ہے، اور پراجیکٹ ENCODE نے یہ دعوی بھی کیا ہے ڈی این اے کی اکثریت کسی نا کسی طرح فنکشنل ہے۔ تاہم ان دعووں کی دیگر شواہد سے تردید ہی ہوئی ہے۔ ہمارے ڈی این کی اکثریت “جنک” ہی ہے جو کہ کبھی پڑھی نہیں جاتی یا کسی اصل فنکشنل کام میں استعمال ہی نہیں ہوتی۔

اپنے بہت ابتدائی لیول پر جنیٹک کوڈ کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ اس میں میوٹیشنز کی اکثریت کو نیچرل سیلیکشن کی نظروں سے غائب رہتی ہے۔ جنیٹک کوڈ نیوکلیوٹائڈز (adenine, cytosine, guanine, and uracil) کے سہ حرفی triplet سیکوئینس پر مشتمل ہوتا ہے۔ جیسے ہی DNA کو tRNA سے ٹرانسکرائب کرتا ہے، یہ سہ حرفی سیکوئینس کو بیس میں سے کسی ایک امائنو ایسڈ کے کوڈ کے طور پر لیتا ہے (مزید کچھ کوڈز ڈین این اے کی یہ ٹرانسکرپشن روکنے کے لیے ہوتے ہیں)۔ تصویر سے علم ہوتا ہے کہ نیوکلیوٹائڈز کے 64 ممکنہ سہ حرفی کمبینیشنز میں کئی ایک سا امائنو ایسڈ ہی بناتے ہیں۔ اس سہ حرفی سیکوئنس کے سلسلے میں پہلے دو حروف ہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور تیسرے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ مثال کے طور پر اگر پہلے دو نیوکلیوٹائڈ cytosine اور uracil ہیں تو یہ سہ حرفی سیکوئینس leucine امائنو ایسڈ ہی بنائے گا، چاہے اس کا تیسرا حف کچھ بھی ہو۔ واضح طور پر میوٹیشنز کی اکثریت جو اسی تیسرے حرف کی پوزیشن پر ہوئی ہوتی ہے (ڈی این اے میں ہر تیسرا نیوکلیوٹائڈ) وہ نیچرل سیلیکشن کی نظروں سے غائب رہتی ہے اور اس کے نتیجے میں نیوٹرل ہوتی ہے۔

ان دریافتوں سے ماہر جینیات کو اندازہ ہوا کہ میوٹیشنز کی اکثریت اڈاپٹ ہونے کے لحاظ سے نیوٹرل ہے اور وہ نیچرل سیلیکشن کی مداخلت کے بغیر رونما ہوتی ہیں۔ اسی سے molecular clock کی دریافت بھی سامنے آئی۔ جب مالیکیولر بائیولوجسٹوں نے ایک دوسرے کے قریبی جانداروں کے ڈی این اے کا موازنہ شروع کیا تو انہیں علم ہوا کہ ان کے ڈین ایے میں فرق ریگولر اور قابل پیشین گوئی ہے جو کہ اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ وہ دونوں انواع کو الگ ہوئے کتنا وقت گزر چکا ہے۔ جب انہوں نے مالیکیولر فیملی ٹری پر علیحدگی کے ان پوائٹس کو فاسل ریکارڈ سے ملایا تو انہیں علم ہوا کہ وہ اس سے یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ انواع کتنا عرصہ قبل الگ ہوئیں چاہے فاسلز کے شواہد موجود نا بھی ہوں۔ یہ سب کچھ اسی بنا پر کام کرتا ہے کہ جینوم کی اکثریت سیلیکشن کو نظر نہیں آتی اور یہ مسلسل رینڈم میوٹیشنز کی بنا پر بغیر مداخلت کے تبدیل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ مالیکیولر کلاک کو کافی کامیابیاں ملی ہیں، تاہم میوٹیشن کے یہ ریٹس کسی بھی رفتار سے رونما ہو سکتے ہیں اسی لیے سائنسدان انواع کی عمر کے حوالے سے مالیکیولر کلاکس سے اخذ شدہ ٹائم پر مکمل انحصار نہیں کرتے اگر دیگر شواہد اس پر متفق نا ہوں۔

اب اس حقیقت کے بعد کہ زیادہ تر جانداروں میں ڈی این اے کا 80–97 فیصد کچھ بھی کوڈ نہیں کرتا (جیسا کہ ہمیں ابھی تک علم ہے)، زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ارتقاء اور سیلیکشن کو مکمل طور پر اب بقیہ کچھ فیصد ڈی این اے پر کام کرنا ہے جو کچھ نا کچھ کوڈ کرتا ہے۔ ان بقیہ جینز کو regulatory genes کہا جاتا ہے۔ یہ وہ ماسٹر سوئچ ہیں جو بقیہ ڈی این اے کے پڑھنے کو کنٹرول کرتے ہیں، ان میں سے کچھ زندگی کے بنیادی سٹرکچر کو کنٹرول کرتے ہیں (structural genes) اور اسی بنا پر یہ دیگر انواع میں زیادہ مختلف نہیں ہوتے۔ 1950s کے اس تصور کے بعد کہ ایک جین ایک پروٹین کوڈ کرتا ہے، اب ہم جانتے ہیں کہ اکثریتی جینز کچھ بھی کوڈ نہیں کرتے اور چند ریگولیٹری جینز ڈی این اے میں دیگر تمام جینز کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان سوئچز یا ریگولیٹری جینز میں معمولی تبدیلی سے آرگنزم میں بہت بڑی ارتقائی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔

ہم ان ریگولیٹری جینز کی اہمیت اس وقت دیکھ سکتے ہیں جب کچھ غلط ہو اور عجیب الخلقت میوٹنٹ یا ارتقائی throwback پیدا ہو جائے۔ انسانوں میں ابھی تک اپنے پرائمیٹ اجداد کی لمبی دم والے جینز موجود ہیں اور کبھی کبھار ان جینز کی suppression نہیں ہو پاتی اور بچہ اس بیرونی دم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ گھوڑوں میں جینز کی transcription کی ناکامی کی صورت میں تین toes کے ساتھ گھوڑا سامنے آ جاتا ہے۔ اس کے یہ سائیڈ کے toes پوری طرح ڈویلپ نہیں ہوتے تاہم یہ اس صورتحال سے مشابہت رکھتے ہیں جب ان کے جد گھوڑے دو فنکشنل toes رکھتے تھے۔ یہ تجربہ دکھاتا ہے کہ گھوڑوں کے جد کے یہ سائنڈ toes جدید گھوڑوں میں ختم نہیں ہوئے ہوتے بلکہ انہیں ریگولیٹری جینز نے suppress کیا ہوتا ہے اور جب کبھی ان کی ریگولیشن میں خامی ہو تو وہ یہ قدیم فیچرز دوبارہ نمودار ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے عجیب الخلقت horned گھوڑوں کے بارے میں تصور کیا جاتا تھا کہ وہ بہت طاقت رکھتے ہیں اور جولیس سیزر بھی ایسے ہی ایک گھوڑے پر جنگ میں شرکت کیا کرتا تھا۔

سب سے زیادہ حیرت انگیز مثال وہ تجربہ تھا جس نے دکھایا کہ پرندے ابھی بھی دانت کے لیے جینز رکھتے ہیں حالانکہ آج کے کسی بھی پرندے کے دانت نہیں ہوتے۔ ایک پرندے کے بچے کے ایمبریو میں سے منہ کے ٹشوز کو نکال کر ایک ڈویلپ ہوتے چوہے میں لگائے گئے۔ جب وہ چوہا بڑا ہوا اور اسے کے دانت نکلے تو وہ نارمل چوہے والے دانت نہیں تھے بلکہ مخروطی میخ نما دانت تھے جیسے بہت قدیم دانت والے پرندوں میں ہوتے تھے یا پرندوں کے ڈائنوسار نما جد میں ہوا کرتے تھے۔ جیسے ہی پرندے کے بچے میں ریگولیٹری جینز کا کنٹرول ختم ہوا (منہ کے ٹشوز کو چوہے میں لگانے سے) تو یہ کب کے suppress کیے ہوئے ریپٹیلین دانتوں والے جینز جو تمام پرندوں میں موجود ہیں، انہیں دوبارہ ظاہر ہونے کا موقع مل گیا۔ ایمبریوز کے حوالے سے دوسری سٹڈی میں پرندی کی چھوٹی، stumpy ہڈی دار دم کے جین کو تبدیل کیا گیا اور نتیجے میں ڈائنوسار نما لمبی ہڈی والی دم سامنے آ گئی۔ ڈویلپ ہوتے chickens کی ایک اور جینیاتی تبدیلی کے تجربے میں پرندوں جیسے پاوں کی بجائے ڈائنو سار جیسے پاوں سامنے آئے۔ ایک اور تجربے میں پرندے میں نارمل جونج کی بجائے ڈائنوسار جیسی دانتوں کے ساتھ snout پیدا ہو گئی۔ پرندوں کے جینوم میں اپنے پرانے ڈائینو سارز والے تقریبا تمام جینز موجود ہیں، وہ فقط express نہیں ہوتے۔

نوٹ: یہ تحریر محمد الماس کی تصنیف ہے۔ حصہ: نیو ڈارونزم کو درپیش چیلنجز

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں