انواع اور آرک

اکثر کری ایشنسٹ (یعنی نظریہ ارتقاء کے مخالفین) نوح کی کشتی (اور پوری دنیا میں آنے والے سیلاب) کو تاریخی حقیقت سمجھتے ہیں اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ جینیسس ۶ اور ۷ میں دو مختلف سورسز سے کہانیاں بیان ہوئی ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ ملتی نہیں، یا پھر یہ کہ دونوں سیلابی اساتیر کہیں پرانی داستان Epic of Gilgamesh سے تقریبا لفظ بہ لفظ لی گئی ہے۔ کری ایشنسٹ اس بات کی بھی کبھی وضاحت نہیں کریں گے کہ ایک جگہ جانوروں کے سات جوڑے کشتی میں سوار کرنے کا ذکر ہے جبکہ دوسری جگہ صرف ایک جوڑے کا بیان ہے۔ کری ایشنسٹوں کی کتابیں نوح کی داستان کو قابل قبول بنانے کے لیے عجیب و غریب دماغی چکروں سے بھری پڑی ہیں۔ تاہم میں نے Gish کے ساتھ اپنے مباحثہ میں دیکھا کہ کری ایشنسٹ ان پوائنٹس کو سامنے لانے سے گریز کریں گے کیونکہ یہ بظاہر بیوقوفانہ لگتے ہیں اور ان سے کری ایشنسٹوں کی ساکھ اپنی آڈینس میں متاثر ہوتی ہے۔ ترکی میں آرارات پہاڑ کے مقام پر کئی مہمیں بھیجی گئیں (کشتی کے رکنے کی تصور شدہ جگہ ) اور کئی شاندار دعوے کیے گئے کہ کشتی کے بارے میں شواہد ڈھونڈ لیے گئے، تاہم کری ایشنسٹوں کی کتابوں اور ٹی وی شوز میں دعووں کے برعکس ابھی تک ان میں سے کوئی بھی تنقیدی جانچ پڑتال برداشت نہیں کر سکا۔

نوح، انواع، آرک

پہلے دیکھتے ہیں کہ بائبل اس معاملے میں کیا کہتی ہے اور پھر arkeology کے میدان میں اترتے ہیں۔ McGowan اور Moore نے نوح کی کشتی کی لاجیسٹیکل ڈیٹیلز ڈسکس کی ہیں، اس لیے میں ان کے تجزیات یہاں نہیں دہراوں گا۔ جب آپ کشتی کی کہانی کو مفصل انداز میں دیکھیں تو بہت سے سوالات اور مسائل جنم لیتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لکڑی کی بنی کشتی جو کہ آرک جتنے سائز کی ہو وہ تھوڑے سے پریشر سے ہی ٹوٹ جائے گی۔ یہ جہاز رانی کی انجنئیرنگ میں یہ جانا پہچانا مسئلہ ہے۔ ایک خاص سائز سے اوپر لکڑی کی کشتی اتنی مضبوط یا لکچدار نہیں رہتی اور ٹوٹ پھوٹ یا بری طرح لیک ہونے کا شکار ہو جاتی ہے۔ اکثر اندازوں کے مطابق اگر نوح کی کشتی ۱۳۷ میٹر (۴۵۰ فٹ) لمبی تھی تو یہ تاریخ میں لکڑی سے بنے کسی بھی جہاز سے بڑی آرک ہو گی۔ ۱۹۱۰ میں لکڑی کا بنا Wyoming جہاز جو کہ ۱۰۰ میٹر لمبا تھا جو hull کی لچک کی وجہ سے مسلسل لیک ہونے کا شکار رہا اور لانچ ہونے کے ۱۴ برس بعد ڈوب گیا۔ اسی طرح ۹۹ میٹر لمبا جہاز Santiago ۱۹۱۸ میں ڈوب گیا۔ دو برطانوی جنگی جہاز HMS Orlando اور HMS Mersey لکڑی کے بنے تھے اور ۱۰۲ میٹر لمبے تھے، مگر ان کو بننے کے چند برس بعد ہی سکریپ کر دیا گیا کیونکہ وہ سمندری سفر کے قابل نہیں تھے۔ اب نوح کی آرک ان جہازوں سے بھی تقریبا تیس فیصد بڑی تھی جو کہ لکڑی کی جہاز سازی کی ایڈوانس ٹیکنالوجی کے باوجود تیر نا سکے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے۔ کری ایشنسٹ اکثر ان لیجنڈری چائینز جہازوں کا ذکر کرتے ہیں جو پندرہویں صدی میں بنے اور ان کی لمبائی ۱۳۷ میٹر تھی، تاہم اگر وہ اصلی تھے اور اتنے ہی بڑے تھے تو وہ ایسے جہاز ہی تھے جنہوں نے شاید ہی کبھی حرکت کی اور ان کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ وہ کبھی پرسکون بندرگاہ اور دریاوں سے باہر کبھی گئے ہوں۔

جیسا کہ McGowan کیلکولیٹ کرتا ہے کہ بائیبل میں مذکور ڈائمنشنز کے مطابق کشتی کا اندرونی حجم پچپن ہزار کیوبک میٹر تھا۔ ہم نے پہلے ذکر کیا کہ دنیا میں آج کم از کم ڈیڑھ ملین قسم کی انواع حیات موجود ہے، تو اس کے مطابق ہر نوع کے حصے میں 0.0367 کیوبک میٹر جگہ آتی ہے، اور ان جانداروں کو جوتوں کے ڈبوں کی طرح اوپر تلے رکھنا ہو گا، تبھی یہ اتنی جگہ والا حل کارگر ہو گا۔ ظاہر کہ اتنی سی جگہ بڑے جانوروں کے لیے کافی نہیں ہے۔ ہاتھی، گینڈے اور دریائی گھوڑوں کے جوڑے (یا سات جوڑے؟) کشتی کی زیادہ تر جگہ تو وہ گھیر لیں گے۔ یہ مسئلہ اس وقت اور بھی زیادہ گھمبیر ہو جاتا ہے جب ہم زمین پر موجود انواع کے اصل اندازے کو کیلکولیشن میں استعمال کریں جو کہ چار سے پانچ ملین ہے۔

کری ایشنسٹ بھی اس مسئلہ سے واقف ہیں۔ جب قدیم سیلابی اساتیر لکھی جا رہی تھیں تو اس وقت کے قدیم مڈل ایسٹ کلچر کے افراد چند جانوروں سے ہی واقف تھے (پالتو اور کچھ جنگلی)۔ انہوں نے کیڑوں، مختلف قسم کی مچھلیوں کئی دیگر اقسام کی نوع حیات کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، اس لیے انہیں اس بات میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آیا کیونکہ جو جانور ان کے لیے اہم تھے وہ کشتی میں سوار ہی تھے۔ مگر آج جدید دنیا کے کری ایشنسٹ کو لاکھوں قسم کی انواع حیات کا کشتی میں سوار ہونا واضح کرنا پڑے گا، بصورت دیگر یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ نوح کے دنوں کے علاوہ بھی کئی جاندار ارتقاء پذیر ہوئے ہیں۔ وہ اس مسئلے کا حل یہ دعوی کر کے پیش کرتے ہیں کہ نوح اپنے ساتھ صرف created kind تعنی “تخلیق شدہ حیات” (عبرانی لفظ baramin کا ان کا خودساختہ ترجمہ) کشتی میں لے کر گئے اور پھر یہ حیات مختلف قسموں میں ارتقاء پذیر ہوئی (یہ رعایت کہ ارتقاء ہوا ہے!)۔ اس طریقے سے وہ دعوی کرتے ہیں کہ تیس سے پچاس ہزار قسم کی ‘created kind’ کشتی پر سوار تھی، تاہم پھر بھی اس سے ہر نوع حیات کو ایک کیوبک میٹر جگہ ہی ملتی ہے جو کہ کچھ خاص بہتری نہیں ہے۔

اب ہم ٹرم baramin کو ذرا تفصیل سے دیکھتے ہیں۔ یہ ۱۹۴۱ میں سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ فرینک مارش نے اس بات کا خیال کیے بغیر کہ عبرانی کیسے کام کرتی ہے، ایجاد کی۔ اس نے دو عبرانی لفظوں کو جوڑ کر یہ نئی ٹرم گھڑی (یعنی bara سے created، اور min سے kind)۔ چونکہ کسی بھی کری ایشنسٹ نے اصل عبرانی میں Old Testament کو نہیں پڑھا اس لیے انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ ٹرم کتنی عجیب و غریب ہے اور اس کا مطلب وہ نہیں جو وہ سمجھتے ہیں۔ جو میں نے عبرانی پڑھتے ہوئے سیکھا، سامی بنیاد میں “b-r-a” کا مطلب ہے he created یا he conjured، اس لیے یہ ایک past-tense verb ہے۔ یہ کوئی verb کا past participle نہیں جیسا کہ فرینک مارش نے اسے استعمال کیا۔ اور min کا مطلب نا صرف kind ہو سکتا ہے بلکہ species اور حتی کہ sex بھی ہو سکتا ہے۔ مارش کے جوڑے گئے لفظ میں min کا آبجیکٹ جوڑے گئے لفظ میں سبجیکٹ Elohim (جو کہ خدا کا ایک نام ہے) کی جگہ لے لیتا ہے اس لیے baramin کا لفظی ترجمہ the species created بنتا ہے، نا کہ god created بنتا ہے، اور created kinds تو مذہبی کتاب کے تناظر میں تو بلکل بھی نہیں بنتا۔ اگر فرینک مارش عبرانی کے بارے میں کچھ جانتا ہوتا اور گرائمر کے حساب سے created kind کا درست ترجمہ کرنا چاہتا تو وہ تو عبرانی لفظ min baru بنتا تھا۔ مگر کری ایشنسٹوں کی علمی حوالے سے مسلسل نااہلی کو دیکھ کر میں اس معاملے میں ان سے درست ہونے کی توقع نہیں رکھتا۔

ان کی عبرانی کے حوالے سے لاعملی کو تو ایک طرف رکھیں، یہ baraminology کا تمام موضوع ہی سائنس کی مزاحیہ نقالی کا ویسا تاثر دیتا ہے جیسا کہ بچے اپنے ڈرامے میں سائنس کا تصور دکھاتے ہیں، یا وہ مبتدی افراد جو سائنسی الفاظ رٹ لیتے ہیں، بغیر یہ سمجھے کہ ان کے اصول و ضوابط کیا ہیں یا اصل تحقیق میں کیا استعمال ہے، یا جب فلموں اور ٹی وی میں سائنس کی بیوقوفانہ نقالی کی گئی ہوتی ہے جہاں وہ بظاہر سائنسی نظر آتے الفاظ کو ادا کر رہے ہوتے ہیں جن کے کوئی معنی ہی نہیں ہوتے۔ ان کری ایشنسٹوں کی “تحیقیق” کا فوکس جانوروں کی جدید کلاسیفیکیشن کو skim over کرنا ہوتا ہے تا کہ پھر وہ سینکڑوں انفرادی انواع اور genera کو کم سے کم کیٹیگریز میں تقسیم کر سکیں۔ وہ اصل جانوروں کے ساتھ کام کرنے کی فکر نہیں کرتے اور نا ہی ڈائی سیکشنز اور اناٹومی کا کام کرتے ہیں جس کی بنا پر جدید ٹیکسانومی مرتب ہوئی۔ نا ہی وہ گریجوئیٹ سکولز میں وقت صرف کرتے ہیں کہ وہ اس قسم کی ٹریننگ حاصل کریں جس سے وہ مالیکولر فالوجنیٹک ڈیٹا کو سمجھ سکیں اور اس کا تجزیہ کر سکیں۔ اور نا ہی وہ جدید سسٹمیٹک تھیوری کے بہت بڑے لٹریچر کی طرف رجوع کرتے ہیں جو کہ جارج جی سمپسن اور ارنسٹ مائیر اور cladistics سے چلا آ رہا ہے۔ وہ ایسا اس لیے نہیں کرتے کہ پھر انہیں اصل سائنس کی ٹریننگ حاصل کرنی ہو گی اور ارتقاء کے شواہد کا سامنا کرنا ہو گا جو کہ تمامتر حیات میں دوڑ رہا ہے۔ اس کی بجائے وہ سطحی سا، ہائی سکول کے لیول کی “بک رپورٹ” قسم کا تجزیہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنی پسند سے انٹرنیٹ اور وکی پیڈیا کے سورسز سے انتہائی سادہ مواد ادھر ادھر سے اٹھاتے ہیں۔ وہ بس اتنی ہی سائنس سے واقف ہوتے ہیں کہ یہاں وہاں سے کوئی stray factoid اٹھا لیں۔ وہ ڈیٹا کے انتباہ اور اسے کے طریقہ کار کو نہیں سمجھتے اور نا ہی ایک قسم کے ڈیٹا کا دوسرے ڈیٹا سے تقابلی جائزہ سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں، کیونکہ وہ سب برسوں کی گریجوئٹ تعلیم اور فیلڈ ورک سے ہی سمجھ آ سکتا ہے۔

درحقیقت ان کا baramin والا حل جو کہ آرک میں جانوروں کی تعداد کم کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ نئے مسائل کھڑے کر ڈالتا ہے۔ اس میں نا صرف created kinds سے پھر ارتقاء نکلتا نظر آتا ہے، بلکہ ان kinds کی بائیولوجی میں کوئی بنیاد بھی نہیں ہے۔ اگر آپ کری ایشنسٹوں کے لٹریچر کو بغور دیکھیں، یا ان سے جواب نکلوانے کی کوشش کریں تو یہ kinds کبھی species ہیں، کبھی یہ genera ہیں اور کبھی کبھار یہ families، یا حتی کہ کبھی جانوروں کے phyla پر مشتمل ہوتی ہیں۔ کری ایشنسٹوں کی باتوں میں اتنا زیادہ تضاد ہوتا ہے اور ان کی تھیوریز جانوروں کی مروجہ ٹیکسانومی سے اتنی دور ہوتی ہیں کہ یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ created kind کا پھسلواں لفظ محض مشکل مقام سے بچنے کی خاطر ایجاد کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ہمپٹی ڈمپٹی نے ایلس سے کہا (Through the Looking-Glass) کہ “جب میں کوئی لفظ استعمال کرتا ہو تو اس کا صرف وہی مطلب ہوتا ہے جو میں منتخب کروں”۔ اکثر کری ایشنسٹوں کی تحقیق اسی اپنی ہی دم کا پیچھا کرنے والے بے مقصد اور غیر سائنسی کام میں صرف ہوتی ہے اور اس کا مخصوص نام بھی ہے: baraminology

کچھ کری ایشنسٹ مسئلہ سے نکلنے کے لیے یوں بل کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مچھلیاں اور سمندری غیر فقاریہ آرک سے باہر رہے اور سیلاب کے دوران زندہ رہے۔ مگر یہ بات ان کی بائیولوجی کے فہم کی مکمل کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ بظاہر کری ایشنسٹوں کے مطابق اگر کوئی چیز پانی میں رہتی ہے تو وہ ایک سی ہی ہے، سمندری مچھلیاں اور غیر فقاریہ کھاری پن کے حوالے سے بہت حساس ہوتے ہیں، اس لیے اگر سمندروں میں تازہ پانی کا سیلاب آ جائے تو یہ جاندار فورا مر جائیں گے۔ اب اگر دوسری طرف کسی طرح سپر نیچرل بادلوں سے سمندری پانی کی بارش ہو (جو کہ فزیکلی ناممکن ہے، کیونکہ جب پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے تو نمک پیچھے بچ جاتا ہے)، تو دنیا پر برسنے والے ان نمکین بارشوں سے تازہ پانی کی ساری مچھلیاں اور غیر فقاریہ حیات مر جائے گی کیونکہ وہ اس کھاری پن کو برداشت نہیں کر سکیں گے۔ اسی لیے کشتی سے پانی میں رہنے والی حیات کو نکال دینے سے جگہ یا نمبرز کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔

ابھی تک تو ہم نے صرف یہی ڈسکس کیا ہے کہ ہزاروں انواع کیسے جوتے کے ڈبے جتنے سائز میں اوپر تلے کشتی میں سما سکتی ہیں۔ اتنے سارے جانوروں کے لیے خوراک کہاں رکھی جائے گی؟ گوشت خور جانور اپنے ہمسائے جانوروں کو کھائے بغیر کیسے سروائیو کریں گے؟ اور بلآخر سب سے زیادہ ناخوشگوار خیال یہ کہ اتنے سارے جانوروں فضلہ بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا۔ کیا زیادہ وقت اس فضلہ کو کشتی سے باہر گراتے رہنے میں صرف ہوا ہو گا؟ بجائے یہ کہ ایک مناسب اور ٹیسٹ کیا جا سکنے والا مفروضہ قائم کیا جائے، کری ایشنسٹوں کی جانب سے special pleading اور فطرت کے حقائق کو توڑ موڑ کر بیان کرنا یہ واضح کرتا ہے کہ ہم ایک ایسی وضاحت کا سامنا کر رہے ہیں جو صرف گندگی ہے۔

تحریر: محمد الماس
کتاب کا نام:EVOLUTIONWHAT THE FOSSILS SAY AND WHY IT MATTERSSECOND EDITION

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں