سنڈے اسپیشل کالم

اردو ناول ، ٢٠٠٠ کے بعد کا منظر نامہ ، مختصر نوٹ

کالم نگار : مشرف عالم ذوقی

, سنڈے اسپیشل کالم

وقت کے ساتھ ناول اور فکشن کی دنیا بہت حدتک تبدیل ہوچکی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارا نقاد آج بھی فکشن اورناول کو اپنی اپنی تعریف وتشریح کے محدود پیمانے میں قید کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا واقعی کہانی کا ایک آغاز ہوتا ہے۔ ایک انجام یا کلائمکس ہوتا ہے۔ کہانی ایک صدی سے زیادہ کا سفر طے کرچکی ہے۔ اور ہماری زندگی تہذیب کی اس اندھیری سرنگ میں گم ہے جہاں نہ کوئی آغاز ہے نہ انجام— اس تیز رفتار بھاگتی ہوئی زندگی کا کوئی انجام کیونکر لکھا جاسکتا ہے۔ ناول کے ساتھ بھی ٹھیک یہی معاملہ ہے۔ ایک نئی دنیا ہمارے سامنے ہے۔ اس نئی دنیا میں حقیقت فنٹاسی کا فرق اٹھ چکا ہے۔ اچھے ناول کے لیے نئی نئی زمینیں موجود ہیں۔ علامت سے فنتاسی تک کی ایک بڑی دنیاسامنے ہے۔ ایک جرمن ناول نگار جرمنی میں فروخت ہونے والے چاکلیٹ کی الگ الگ قسموں کو لے کر ایک ناول کی تخلیق کرتا ہے۔ ہر چاکلیٹ ایک بچہ، بچہ کے ماں باپ اورماں باپ کی دنیا سے وابستہ کہانیوں کو سامنے رکھتا ہے اور اسی کے ساتھ ایک حیران کرنے والی دنیا سامنے آتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس طرح کے تجربے صرف باہر ہورہے ہیں۔ آج اردو میں بھی اس طرح کے تجربے مسلسل ہورہے ہیں۔ مثال کے لیے مرزا اطہر بیگ کے ناول ’غلام باغ‘ یا ’صفر سے ایک تک‘ کا مطالعہ کریں تو آپ محسوس کریں گے کہ ناول کی یہ نئی زمین پریم چند اورقرۃ العین حیدر کی زمینی حقیقت سے بہت حد تک مختلف ہے۔

مرزا اطہر بیگ کے ناول صفر سے ایک تک کا موازنہ اندنوں جوائز کے ناول یولیسنر کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ مرزا اطہر بیگ کے پہلے ناول غلام باغ کو اردو ناول کی تاریخ کا تیسرا بڑا واقعہ قرار دیاگیا۔ صفر سے ایک تک دراصل سائبر اسپیس کے منشی کی سر گزشت ہے اور اس سر گزشت میں انفارمیشن ٹکنالوجی کی نئی دنیا کو ناول کا موضوع بنایا گیا ہے۔ دراصل ان دونوں ناولوں میں مرزا اطہر بیگ نے ایک تخیلاتی دنیا سے کام لیا ہے اور ناول کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں زبان کردار کے طور پر سامنے آتی ہے۔ مرزا اطہر بیگ اپنے ناولوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، یہ جاننا بھی دلچسپ ہے۔

”دیوانگی،”غلام باغ“ کے بنیادی موضوعات میں سے ایک ہے۔ فلسفے کے طالب علم کی حیثیت سے بھی یہ موضوع مجھے بہت Fascinateکرتا ہے۔ ہمیشہ سے یہ احساس رہا ہے کہ فرزانگی اور دیوانگی میں بال برابر کا فرق ہے۔ دیوانگی کا موضوع ناول کے پلاٹ سے بھی متعلق تھا۔ اس ناول میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں زبان کردار کے طور پر سامنے آتی ہے۔ مجھے یہ محسوس ہورہا تھا کہ دیوانگی بڑی حد تک ایک لسانی مسئلہ ہے۔ جب ہمارے لسانی نظام میں کسی سطح پر بگاڑ پیدا ہوتا ہے تب ہی دیوانگی کا اظہار ہوتا ہے۔ بہرحال، یہ ایک علمی مسئلہ ہے، تو ناول کے کردار کئی بار اس سطح پر آتے ہیں، جب دوران گفتگو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ کلام ان کے ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے۔ ہذیان کی سطح آجاتی ہے، مگر بات دیوانگی برائے دیوانگی پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ یہ وجود کی، انسان کے انسان سے تعلق کی ایک اور سطح تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ کبیر اور زہرہ کا تعلق، عورت مرد کے تعلق کی انتہائی شکل تک پہنچنے کی کوشش ہے، جہاں من و تو کا مسئلہ ختم ہوجاتا ہے۔“
(مرزا اطہر بیگ سے گفتگو، اجرا،شمارہ ۳۱)

مرزا اطہر بیگ کے ساتھ ہی مستنصر حسین تارڑ بھی ناول کی دنیا کا ایک اہم نام ہے۔ ’خس وخاشاک زمانے‘ تارڑ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کے بغیر اردو ناولوں پر گفتگو ممکن ہی نہیں ہے۔ تجربہ تو ہونا ہی چاہئے، مگر زیادہ تر لوگ تجربہ تب کرتے ہیں جب ان کے پاس وہ فن یا ہنر نہیں ہوتا، جو مکالمہ نگاری پر قدرت رکھتا ہو، جہاں کردار نگاری کا جال بچھایا جاتا ہو، جہاں ایک کہانی صدیوں پر محیط فکر وفلسفے کا نیا باب روشن کرتی ہو…… ہم تجربہ کررہے ہیں …… یا ایسی کئی کہانیاں اس وقت اچھی لگتی ہیں، جب ہم کسی مخصوص لمحے ان کو پڑھنے بیٹھے ہوں۔ گزرتے وقت کے ساتھ ان کی چمک ماند پڑنے لگتی ہے…… پھر وہ تجربہ، جو ایک وقت میں سر چڑھ کر بولتا ہے…… وہ ناول یا کہانی وقت کے ساتھ افسانہ گمشدہ بن چکی ہوتی ہے……صدیق عالم ہوں، خالد جاوید، یا ایسے کئی نام…… یہاں تجربوں کی شاندار روایت رہی ہے…… مگر ڈر ہے…… کہ آنے والی صدی میں کہانیوں کی تفہیم کے لیے فاروقی نہ ہوں گے، تو قاری تک ان کہانیوں کو کون پہنچائے گا۔ مغرب کے ایسے ہزاروں لاکھوں اثاثے تجربے کے نام پر وقت کی بھیڑ میں کھو گئے۔ انکا بھی وہی حشر نہ ہو……

مراۃ العروس،بنات النعش (ڈپٹی نذیراحمد) اوراصلاح النساء (رشیدۃ النسا) جیسے ناولوں میں مذہبی سروکار اوراخلاقی رویوں کی جانب جو اشارے ملتے تھے، کیا وہی سماج اورمعاشرہ آزادی کے ۲۷ برس بعد آج بھی موجود ہے؟ اس میں دورائے نہیں کہ ایسے اصلاحی ناول مذہبی وژن کے سہارے مسلم سماج کی غلط اور کمزور تربیت کا دم بھررہے تھے۔ایسے ناول اس عہد میں بھی ثقافتی، سماجی اور اخلاقی سطح پر لڑکے اورلڑکیوں کے درمیان فرق پیدا کرتے ہوئے ایک پوری نسل کو کمزور اوردبو بنانے کی سعی کررہے تھے۔ (جہاں تک مجھے یاد ہے، اس زمانے میں بھی رقیہ سخاوت حسین جیسی عورتیں سامنے آچکی تھیں۔ان کی ایک کہانی مجھے یاد ہے جہاں عورتیں مردوں کی طرح باہر کی دنیا آباد کرتی تھیں اورمردوں نے خود کو گھر کے کام کاج کے لیے وقف کردیاتھا۔ اس عہد کے احتجاج کا یہ پہلو بھی دیکھیے)۔ سرشار کے تاریخی ناول، مرزا محمد ہادی رسوا کا امراؤجان، راشد الخیری کے ناولوں سے آگے بڑھتے ہیں توحقیقت نگاری بے بس نظرآتی ہے۔ وہ ترقی پسندی سے کہیں بھی آنکھیں چار کرنے میں کمزور اور لاچار نظرآتی ہے۔ عصمت چغتائی اورقرۃ العین حیدر کے عہد تک یہ تہذیبی رویے بدلے تھے۔ قرۃ العین کے ناولوں میں ایلٹ کلاس۔طبقہئ اشرافیہ کی عورتیں بھی کردار تھیں جو موسیقی کی تعلیم لے رہی تھیں، جو پینٹنگس کرتی تھیں، جو ہوٹلوں اور کلبوں میں جاتی تھیں۔ لیکن ان سب کے باوجود مسلم معاشرہ وہی تھا۔ تبدیلیاں دو ایک فیصد لوگوں کے گھروں کو منور کررہی تھیں مگر پسماندگی فکر میں کوئی تغیر پیدا نہیں ہوا تھا۔

ناول کی کائنات، کہانیوں کی کائنات سے ان معاملوں میں بھی مختلف ہے کہ یہاں رواں دواں زندگی کو سلیقہ کے ساتھ پیش کرنا ہوتا ہے۔ کہانی محض اس زندگی کا ایک چھوٹا سا واقعہ ہوتی ہے۔ بڑا ناول نگار جب ایک ساتھ مختلف کرداروں اور ان کی زندگی کے ساتھ چلتا ہے تو اپنے وژن کو موضوع کی وحدت سے ایک سانچے میں ڈھالتے ہوئے اپنی تخلیقی ذہانت کا ثبوت بھی فراہم کرتا ہے۔ ایسا کئی بار ہوتا ہے جب ذہن میں محض ایک چھوٹی سی کہانی کی بنیاد پڑتی ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ کہانی ایک بڑے ناول کی شکل اختیار کرلیتی ہے—اس گھٹن آلودہ زندگی سے کہانیاں بننے کی جرأت مندی اپنے تمام اوصاف اور لوازم کے ساتھ نہ صرف غضنفر کے یہاں موجود ہیں بلکہ غضب یہ کہ ناول کی تخلیق سے پہلے یہ فنکار ان لوازم کا استعمال اپنی چھوٹی سی کہانی کے لیے کرتا ہے۔ اور اس طرح غور کریں توغضنفر کا ناول’مانجھی‘ پہلے ایک چھوٹی سی کہانی کے فارم میں ہمارے سامنے آتا ہے اور غضنفراور خوبصورت بیانیہ اور اسلوب اسے کہانی سے ایک بڑے ناول میں تبدیل کردیتا ہے— کہانی کا ناول بن جانا منزل عشق کی کمزوری نہیں، بلکہ عروج ہے کہ ہمارا لکھاڑی محض ایک چھوٹے سے واقعہ پر قناعت نہیں کرتا بلکہ تخلیقی کیفیت، مشاہدے کی گہرائی کے ساتھ تخیل کی نزاکتوں کا احترام کرتے ہوئے اسے وقت کا آئینہ دکھاتا ہے اور سچ پوچھئے تو مانجھی ہمارے عہد کا ایک ایسا آئینہ ثابت ہوا ہے جہاں ساجھی وراثت یا مشترکہ کلچر کا وہ عکس دیکھا یا محسوس کیا جاسکتا ہے، جسے اس سے قبل لکھنے کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کی گئی۔

ابھی حال میں انیس اشفاق کے تین ناول منظر عام پرآئے۔ پہلا ناول دکھیارے تھا۔ انیس اشفاق ناول لکھنے کے فن سے واقف ہیں جبکہ المیہ یہ ہے کہ ہمارے بیشتر ناول نگاروں کو ناول نگاری کا فن ہی نہیں معلوم۔ زبان و مکالمہ پر قدرت ہے۔ کردار نگاری پر عبور حاصل ہے۔ دکھیارے انیس اشفاق کا پہلا ناول ہے۔یہ ناول گزشتہ لکھنؤ سے عبارت ہے۔ اور یہ لکھنؤ ماضی اور حال دونوں کو سمیٹے ہوئے اس ناول میں موجود ہے۔۔ ناول کے آخری جملے میں ایک خاموش محبت کی کسک سنائی دیتی ہے۔ بڑے بھائی کے ناقابل فراموش کردار کے لیے بھی اس ناول کو یاد رکھا جائے گا۔اس کے بعد ایس اشفاق جو ناول آئے، وہاں بھی لکھنؤ مختلف صورتوں میں آباد نظر آتا ہے۔

قرۃ العین حیدرسے صدق عالم اور خالد جاوید تک آتے آتے اردو ناول کا کینوس، اسلوب اور لہجہ بہت حد تک بدل چکا ہے ۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ وقت کے ساتھ اسے بدلنابھی چاہئے تھا۔ پریم چندمعاشرہ کی کمزوریوں پر تحریر سے شمشیر کاکام لے رہے تھے تو قرۃ العین حیدر محض اپنے عہد کا نوحہ لکھنے میں مصروف— یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ آزاد ہندستان میں تقسیم سے پیدا شدہ اثرات میں اظہار کی صورتوں کو تہذیبی تصادم کی آنکھ سے دیکھتی رہیں اور رنجیدہ ہوتی رہیں کہ جدید تقاضوں نے وہ تہذیب گم کردی جس کے سایہ میں ان کی تربیت ہوئی تھی۔ اور اس طرح غور کریں تو وہ ایک ہی کہانی یا اپنی ہی کہانی نئے نئے عنوان سے قلمبند کرتی رہیں۔ دیکھا جائے تو ٢٠٠٠ کے بعد کا فنکار محض اس تہذیبی ناسٹیلجیا کا شکار نہیں ہے ۔ وہ آگے بڑھ رہا ہے ۔ وہ اپنے سماج، اپنے معاشرے، اپنے مذہب سے باہر نکل کر نئے بیان اور اظہار کا متلاشی ہے .
******

اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
نام : مشرف عالم ذوقی پیدائش : 24/ مارچ 1963 وطن : آرہ (بہار) والد کا نام : مشکور عالم بصیری والدہ کا نام : سکینہ خاتون شریکِ حیات : تبسم فاطمہ اولاد : عکاشہ عالم

کمنٹ کریں