اردو ناول کے ضروری عوامل اور نئے رجحانات سے اجتناب

مضمون نگار : شمسہ نجم

, اردو ناول کے ضروری عوامل اور نئے رجحانات سے اجتناب

ناول ایک نثری صنف ہے۔ لفظ ناول اطالوی زبان سے لیا گیا ہے۔ ناول اطالوی زبان میں نئی اور انوکھی بات ، کہانی قصہ یا واقعہ کو کہتے ہیں۔ لیکن درحقیقت ناول نثر کی وہ صنف ہے جس میں حقیقی کہانی اور مربوط واقعات کو اعلی نثری پیرائے میں مفصل بیان کیا جاتا ہے۔
اگر جدید ادب کی روشنی میں جائزہ لیں تو اردو ناول معاشرت, رہن سہن, بودو باش, تاریخ, ماحولیات, زمان و مکان، موضوع و متن، فلسفہ اور واقعات پر گرفت رکھتے ہوئے پلاٹ ، کردار، کہانی، مکالمہ، زبان کے کرشمے، اسلوب، سوانحی بیان اور نقطۂ نظر کو یکجا کرنے کا نام ہے۔


ناول رومانی قصہ گوئی اور داستان گوئی سے ظہور میں آیا۔ مغرب میں بھی اور ہمارے ہاں بھی داستان گوئی اور رومانی قصہ گوئی موجود تھی جو رفتہ رفتہ ناول کی شکل اختیار کر گئی۔ ناول کی ابتداء اٹلی میں 1531ء میں ناویلا سٹوریا نامی کہانی سے ہوئی. انگریزی میں پہلا ناول روبن سن کروسو کہلاتا ہے جو ڈینیل ڈیفو نے لکھا یہ ناول 1719ء میں شائع ہوا۔ یہ بھی ایک قصہ ہے۔ جو ناول کا روپ دھار گیا۔اردو ادب میں ناول مغرب کے توسط سے انیسویں صدی میں شامل ہوا۔اردو ادب کا پہلا ناول ڈپٹی نذیر احمد کے ناول مراۃ العروس کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ 1869ء میں منظر عام پر آیا۔ اس کے بعد رتن ناتھ سرشار کا فسانۂ آزاد نئے اسلوب اور نئے انداز سے اردو ادب میں متعارف ہوا۔ لیکن مرزا ہادی رسوا کا ناول “امراو جان ادا” باقاعدہ مکمل ناول قرار پایا۔ عبدالحلیم شرر کے ناول فردوس بریں نے خوبصورت اسلوب اور مختلف انداز سے ناول کو آگے بڑھایا۔ لیکن امراو جان ادا میں مرزا ہادی رسوا نے اپنی ذات کو کردار بنا کر جس طرح آزادی سے اپنے خیالات کی ترسیل کی اس اسلوب نے اس ناول کو ناولوں کی فہرست میں بہترین ناول کے منصب پر فائز کر دیا۔ اور اس کے بعد ناول باقاعدہ ادبی صنف بن کر اردو ادب میں داخل ہو گیا۔


کیا ناول نگاری ایک مخصوص سانچے کی مرہون منت ہے؟


پہلے سے طے کردہ سانچے کے مطابق کہانی، پلاٹ ، کردار، مکالمہ، اسلوب، نقطۂ نظر، سوانحی بیان اور موضوع وغیرہ ایسے عوامل ہیں جو ناول کا لازمی جزو قرار دیئے گئے ہیں۔ لیکن اردو ناول میں معاشرت، رسم ورواج، رہن سہن، بودو باش، تاریخ، ماحولیات، زمان و مکان اور واقعات جیسے اہم عوامل سے صرف نظر نجانے کیوں کیا گیا۔ یہ تمام اجزاء بھی ایک ناول کی ساختییات کے دائرے میں آتے ہیں۔ یہ بھی اردو ناول کا حصہ ہیں۔ ان عوامل کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔ تاکہ دنیا کی دوسری زبانوں کے ادب سے اردو ادب کسی طرح بھی پیچھے نہ رہے۔
وہ ضروری عوامل یا مخصوص ڈھانچہ جس کے تحت ایک ناول ناول کا درجہ پاتا ہے ان کا ذکر کرنا ضروری ہے لیکن یہ بات زیادہ اہم ہے کہ ان عوامل کے ساتھ تخیل اور ذہنی رو کی بلندی بھی ضروری ہے۔ اور نئے رجحانات کا اطلاق بھی ضروری ہے۔
وہ اجزاء جو برسہا برس سے تنقید کے سانچے میں موجود ہیں۔ ان میں سب سے اہم جز کہانی ہے۔


کہانی اور پلاٹ


ناول میں ایک کہانی ہونا لازمی ہے۔ بسا اوقات ادیب یا ادیبہ ایک سے زیادہ کہانیاں ساتھ لے کر چلتے ہیں جیسے کہ قرۃالعین حیدر کے ناول آگ کا دریا میں کئی کہانیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں قرۃالعین نے یہ پالیسی ورجینیا وولف سے مستعار لی۔
ایڈورڈ مورگن فارسٹر(1879ء – 1970ء) انگریز ناول نگار اور شارٹ اسٹوری رائیٹر تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ “ناول ایک خاص طوالت کا نثری قصہ ہے۔”
کہانی ہونا اور کہانی پن اور حقیقی رنگ ہونا بھی ضروری ہے یعنی یہ تاثر کہ کہانی ہے لیکن دراصل حقیقت ہے جسے کہانی کا روپ دیا گیا ہے۔ کہانی کو قاری تک پہنچانے کے لیے پلاٹ ترتیب دیا جاتا ہے جس کے تحت کہانی کرداروں کو اور واقعات کو مربوط کرتی ہے اور کردار اور واقعات کا جواز بنتا چلا جاتا ہے۔ پلاٹ کا تعلق سماجی اور معاشی صورت حال، حوادث زندگی، کرداروں کی نشست و برخاست اور زمانے سے ہے۔ اسے کہانی قصہ گوئی یا واقعہ طرازی سمجھنا درست نہیں۔


کردار نگاری


ہمارے ہی معاشرے کے جیتے جاگتے کردار کہانی میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں ۔ ان کے بارے میں یہ آگہی ضروری ہے کہ ‘کہاں سے آیا کہاں گیا وہ’ یعنی زمان و مکان کا حوالہ بہت اہم ہے۔ دیکھنے میں کیسا تھا؟ اس کی معاشرت کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر کردار کو ڈیفائن کیا جائے۔ لیکن اہم اور کہانی کو چلانے والے مرکزی کردار پر کم از کم اس چیز کا اطلاق لازم ہونا چاہیئے۔


مکالمہ


مکالمہ ناول کا اہم جزو ہے۔ مکالمہ سے ناول میں ڈرامائی تاثر پیدا ہوتا ہے جو ناول کو حسن عطا کرتا ہے۔ اچھا مکالمہ کہانی کو نہ صرف آگے بڑھانے میں مدد دیتا ہے بلکہ مکالمے کے ذریعے کردار اور کہانی کے سیاق و سباق کو بیان کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ مکالمے کے ذریعے ادیب کہانی کی ان تاریک پہلووں پر اور نکات پر روشنی ڈال سکتا ہے جو کہانی میں واقعات کی صورت میں بتانے سے رہ گئے ہوں اور کہانی کے تسلسل کے لیے ضروری ہوں۔ کہانی میں اٹھنے والے سوالات اور توجیہات پر مکالمے کے ذریعے روشنی ڈالی جا سکتی ہے۔ بہت طویل اور تحریر میں بہت وقت لینے والے واقعہ کو مکالمے کے ذریعے چند لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے اس طرح کہانی کی لطف ضائع نہیں ہوتا اور تجسس برقرار رہتا ہے۔


اسلوب


اسلوب خوبصورت ہونا چاہیئے جو قاری کو تحریر سے جڑا رکھے اور اتنا دلچسپ اور رواں ہونا چاہیئے کہ قاری ناول کو ایک ہی نشست میں ختم کرنے کا خواہش مند ہو۔ زبان کے کرشمے اور چٹخارے ناول کے حسن کو بڑھاتے ہیں۔ عمدہ انداز نگارش ادیب کی قابلیت کا بھی مظہر ہے۔ اس کے لیے مطالعہ بہت اہم ہے۔ تخلیق کار اور نقاد کا اگر مطالعہ وسیع ہو گا تو اس کا فکر بلند ہو گا اور اسے زبان پر عبور حاصل ہو گا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تحریر میں روانی لکھنے کی مشق کی محتاج ہے۔


سوانحی بیان


قصہ کہانی داستان اور حکایتوں کی ابتداء حضرت انسان کے ارتقاء سے وابستہ ہے ۔ جب سے انسان ہے اس وقت سے ہی یہ اصناف دہرائی اور سنائی جاتی رہی ہیں۔ انسان کی اپنی ذات کہانیوں کو جنم دیتی ہے۔ آدم کی تخلیق کی کہانی سے لے کر تذکرۂ قیامت تک اور انسان کی پیدائش سے موت تک مختلف اور بے شمار کہانیاں انسان کی ذات سے منسلک ہوتی ہیں۔ انسان اپنے اوپر بیتی داستان کو قلم بند کرتا ہے تو وہ سوانح حیات کہلاتی ہے۔ سوانح کو ناول کے تمام ضروری اجزاء کو مدنظر رکھ کر تحریر کیا جائے تو سوانحی ناول وجود میں آتا ہے۔ سوانحی ناول ایک کردار کا حقیقت پر مبنی قصہ اور حال احوال ہے دیگر حقیقی کردار بھی اس میں شامل کئے جاتے ہیں۔ سوانحی ناول میں حقیقی قصے اور حقیقی کرداروں کی کہانی کو افسانوی رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اس میں ناول کی تکنیک کو دھیان میں رکھا جاتا ہے تاکہ ناول کا درجہ حاصل ہو۔ لیکن سوانحی ناول کے علاوہ عام ناول میں بھی سوانحی بیان کا پایا جانا اسے حقیقت سے قریب کرتا ہے۔


نقطۂ نظر


نقطۂ نظر ایک تخلیق کار کی سوچ اور وہ پیغام ہے جو وہ اپنے قاری تک پہنچانا چاہتا ہے۔ تخلیق کار کا زاویہ نگاہ کہ وہ دنیا کو بلکہ کائنات کو کس پیرائے میں لیتا ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ تخلیق کار کیا کہنا چاہتا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔ بعض ادباء اصلاح معاشرہ پر زور دیتے ہیں کچھ صرف اپنی تسکین کے لیے لکھتے ہیں۔ کئی ادباء معاشرے کے تلخ اور اندھیرے پہلووں سے لوگوں کو روشناس کروانا چاہتے ہیں بعض اپنے کتھارسس کے لیے لکھتے ہیں کچھ ادیب رومانی طبیعت کی وجہ سے جمالیات کی حدوں کو چھو کر حذ کشید کرتے ہیں اور لوگوں کو تسکینِ طبع کا مواد فراہم کرتے ہیں۔ بعض صرف اس لیے مصالحہ دار مواد یا جاسوسی مواد ڈالتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ناول کی بکری ہو۔ مال ہاتھ آئے اور شہرت الگ ملے۔ لیکن ایک حقیقی تخلیق کار کی ہر سطر اور ہر جملہ اس نقطۂ نظر یا متمنع نظرکی طرف لے جاتا ہے جو تخلیق کار قاری پر واضح کرنا چاہتا ہے۔


تجسس


ناول میں اگر ایک مربوط اور مکمل پلاٹ نہ ہو تو تجسس اور جستجو کا مادہ دم توڑ دیتا ہے اور قاری قرات کو درمیان میں چھوڑ دیتا ہے۔ عمدہ اسلوب ، دلچسپ مکالمہ اور پلاٹ کی بنت کی مستعدی تجسس کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انجام اگر پہلے سے کھول کر بیان کر دیا جائے تو اس صورت میں بھی تجسس میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔
تجسس کے معیار قاری کے ذہنی معیار ، ذوق اور عمر کے فطری تقاضوں پر بھی انحصار کرتے ہیں مثلا بچوں کو بچوں کی کہانیاں، ٹین ایج یعنی نوجوانی کی عمر میں جاسوسی اور مہماتی کہانیاں زیادہ پرکشش لگتی ہیں۔ نوجوان لڑکیاں ڈائجسٹوں کے ہلکے پھلکے افسانوں اور رومانی کہانیوں میں دلچسپی لیتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔


حقیقت نگاری


ناول کی کہانی سچ کی بنیادوں پر کھڑی کی جاتی ہے۔ حقیقت سے قریب مواد اور پلاٹ زیادہ پرکشش ہوتا ہے اور دیر پا تاثر چھوڑتا ہے۔ فکشن صرف جھوٹ پر مبنی بھی ہو سکتا ہے لیکن ایک طویل کہانی جھوٹ پر کھڑی کرنے کے بیسیوں جتن کرنے کے بعد بھی ادیب حقیقی منظر نگاری کا محتاج ہوتا ہے۔
ناول مکمل مصنوعی ڈھانچے پر کھڑا نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ناول کی کہانی سچ پر مبنی ہو گی تو موثر ہو گی اور دل کو لگے گی۔ عموما حقیقت سے قریب تحریروں کو دوام حاصل ہوتا ہے۔ ایک ناول کا پورا ڈھانچہ اگر جھوٹ پر قائم ہو گا تو وہ بودا اور کمزور رہے گا۔ ایک جھوٹ کی توجیح کے لیے دوسرا جھوٹ یہ ایک طویل سلسلہ ہے جو تحریر کو چوں چوں کا مربع بنا دیتا ہے۔ اورجھوٹ کے دفتر کا گناہ ناول نگار کے سر جاتا ہے۔ حقیقت نگاری ناول کو قوت بخشتی ہے۔
ڈینیئل ڈے فو (1660ء – 1731ء) انگریز ادیب جرنلسٹ اور تاجر تھا۔ وہ ایک عمدہ ناول نگار تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ناول میں مبالغہ آرائی نہیں کرنا چاہیئے اس کا آرٹیکل ایک رسالے اے جرنل آف دا پلیگ ائرA Journal of the Plague Year میں 1895ء میں چھپا جس میں اس نے لکھا کہ ” قصہ بنا کر پیش کرنا بہت ہی بڑا جرم ہے، یہ اس طرح کی دروغ بافی ہے جو دل میں ایک بہت بڑا سوراخ کر دیتی ہے، جس کے ذریعے جھوٹ آہستہ آہستہ داخل ہو کر ایک عادت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔”


منظر نگاری


منظر نگاری پلاٹ میں تجسس پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ زمان و مکان کا حوالہ ہوتی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ناول اس زمانے کی زندگی اور معاشرت کی حقیقی تصویر پیش کرتا ہے جس زمانے میں وہ لکھا جاتا یے لیکن شرط یہ ہے کہ اس کی عمارت کا ڈھانچہ جھوٹ کی اینٹوں پر کھڑا نہ کیا گیا ہو۔
منظر نگاری ایک فن ہے۔ کردار کے ارد گرد کا ماحول، وقت، موسم، اطراف کی آرائش و زیبائش اور محل و وقوع بیان کرنا ایک ہنر ہے۔ کردار جس ماحول میں زندہ ہے اس کی تصویر نگاہوں کے سامنے آ جائے تو کردار زندہ نظر آتا ہے۔ پڑھنے والے کو لگنا چاہیئے کہ وہ خود آنکھوں سے سب دیکھ رہا ہے۔ یعنی منظر میں جیسے وہ خود موجود ہے۔ منظر نگاری اچھی ہو تو کہانی پر اثر اور کردار زندہ جاوید ہو جاتے ہیں۔


اردد ناول نگاری میں نئے رحجانات سے اجتناب


اردو ادب میں ناول کی تنقید کا ایک مخصوص پیمانہ یا چند اجزاء کا ایک بنا بنایا سانچہ موجود ہے لیکن تنقید میں غورو فکر کا کیا طریقہ کار ہونا چاہیئے اور پہلے سے موجود تمام تنقیدی نکات کو برقرار رکھتے ہوئے تنقید میں نئے افکار کے ساتھ نیا سانچہ کس طرح شامل کیا جائے اور نئے رجحانات کو اپلائی کیسے کیا جائے تاکہ اردو ادب مغرب ہی نہیں دنیا کے ادب کے شانہ بشانہ کھڑا ہو سکے۔ اس کے لیے ادیب کو اور نقاد کو دائرۂ فکر مزید وسیع کرنا ہو گا۔
اردو ناول نگاری میں نئے رحجانات کی کمی ہے بلکہ ان سے اجتناب برتا جاتا ہے۔ اردو ناول میں علاقائیت اور کلچر کے مسائل کو اہمیت ہی نہیں دی جاتی۔ دنیا بھر میں اس کو ناول کا حصہ مانا جاتا ہے لیکن اردو ادب میں اور تنقید میں اس کو درخور اعتناء نہیں سمجھا جاتا۔
جن پہلووں کی موجودگی ناول کے ساختیاتی ڈھانچے کی تکمیل کے لیے انتہائی ضروری ہے وہ درج ذیل ہیں۔


ناول میں موجود دور کے ثقافتی رنگ اور ثقافتی ورثےکی نشاندہی اس کی زوال پذیری اور اس کے اسباب


ادیب کے قلم سے معاشرے کے موجودہ مزاج اور کلچر کی تصویر کشی ثقافتی ورثے کی حفاظت کی ضامن ہے۔ کیونکہ جو تحریر ہو جاتا ہے وہ ایک دستاویز کی طرح محفوظ ہو جاتا ہے۔
بلراج کومل کا مضمون جو گوپی چند نارنگ کے مختلف ادباء کے مضامین کے مجموعے میں شامل تھا اس مضمون میں بلراج کومل مابعد جدید ناول کے بارے میں کہتے ہیں کہ “بڑھتی ہوئی آبادی، ہجرت اور نقل مکانی، اقدار کا انہدام، رشتوں کی نئی ترتیب، سماجی سرو کار ۔۔۔۔۔۔یہ سب مابعد جدید ناول کا حصہ ہیں۔”
معاشرت رہن سہن بودو باش کے تذکرے سے معاشرے کے مزاج کا پتہ چلتا ہے۔ اس کی زبوں حالی کی نشاندہی اس کے آئندہ کے شب و روز میں مثبت تبدیلی کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے۔ احوال معاشرت آگہی کے در کھولتا ہے۔


علاقائیت و محل وقوع کا حوالہ


ناول میں علاقائیت کا حوالہ قاری کو کہانی کا ماحول سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور کہانی کو حقیقت سے قریب کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے۔ جغرافیائی پس منظر یعنی زمان و مکاں اور محل و وقوع کا ذکر کرنے سے قاری کو کہانی کے عمومی تاثر کوسمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے ایک خاص علاقے کے بودو باش کا ہی پتہ نہیں چلتا بلکہ ناول کس پس منظر اور کس معاشرت کو نظر میں رکھ کر اور متاثر ہو کر لکھا گیا اس بات سے بھی قاری کو کماحقہ آگہی ہوتی ہے۔
نئی دہلی سے شائع ہونے والے سہ ماہی جریدے فکرو تحقیق میں اپنے مضمون “اردو ناول کی ایک صدی”میں صفحہ 70 پر نور الحسن لکھتے ہیں کہ “ناول خواہ کسی زبان میں لکھا جائے وہ سماج و تاریخ کا آئینہ ہوتا ہے۔ یہ جس عہد اور جس مقام کی بنیادوں پر لکھا جاتا ہے اس میں اس مقام کے افراد، وہاں کا جغرافیائی پس منظر، تاریخی آثار(اگر مقام کا تعلق تاریخی ہو تو) وہاں کے رسم و رواج، تہذیب و تمدن، معاشرتی، سماجی طور طریقے، زبان و بیان کا انداز، بولی ٹھولی اور محاورہ، بازار ہارٹ، گلیاں اور چوبارے، دشت و جنگل، باغ و بن، ندی نالے غرض اس مقام کی ہر طرح سے عکاسی کرتا ہے۔”


تاریخ، پیوستہ اور موجودہ صورت حال


ناول ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ موجودہ اور پیوستہ تہذیب اور کلچر کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ اس عہد کی سیاسی و سماجی صورت حال کی تصویر کشی کرتا ہے۔ تاریخ کے حوالہ جات، وقت، ثقافت اور حکومت کا صحیح تصور اس پر دوسری قوموں کے تسلط یا تسلط کے لیے کی جانے والی نادیدہ کوششیں بھی قلم زد کرنے سے آگہی کے در وا ہوتے ہیں۔
سفر نامے بہترین تاریخی مواد مہیا کرتے ہیں ان کے ذریعے نہ صرف احوال معاشرت بلکہ ثقافت و تہذیب کی تصویر کشی خودبخود ہو جاتی ہے۔ ناول میں اسے اسی طرح لفظوں میں سمویا جائے تو بات بنتی ہے۔
نسیم حجازی نے اپنے ناولوں میں تاریخی واقعات بیان کرنے کی کوشش کی اس نے اپنے کرداروں کو جیتا جاگتا دکھانے کے لیے مکالمے بھرے جو گزشتہ دور کی تصویر کشی تو کرتے ہیں کہ ایک عام فرد کی اور ایک حاکم کی سوچ کیا تھی لیکن ظاہر ہے وہ سب ڈائیلاگ مفروضے کی بنیاد پر لکھے گئے ہیں کہ “ایسا ہوا تھا اس لیے ایسے کہا ہو گا”۔ اس حد تک مبالغہ آرائی جب گوارا ہوتی ہے جب اصل تاریخی واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کیا جائے۔
کشمیر سے تعلق رکھنے والی ناول نگار، افسانہ نگار اور تنقید نگار ترنم ریاض کا ایک اہم ناول “برف آشنا پرندے” ہے جو کہ 2009ء میں شائع ہوا۔ یہ ناول اصل قصے اور نکات کے ساتھ ساتھ کشمیر کی تاریخ کا ایک دانش ورانہ تجزیہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ گو کہ یہ مکمل طور پر تاریخی روئیداد نہیں ہے۔ اپنی تہذیب اور کلچر سے دور ہوتے ایک کشمیری خاندان کی کہانی ہے۔ لیکن اصل قصے کے ساتھ ساتھ ادیبہ نے کشمیر کے حالات اور ماضی و حال کی عکاسی بہت خوبصورتی اور بہت جرات مندانہ انداز سے کی ہے۔ قاری کے سامنے کشمیر کی موجودہ اور گزشتہ صورتحال کی تصویر آ جاتی ہے۔ آج کا ناول کو ایسی ہی جرات اور کمزوریوں اور پائمالی کی ایسی ہی بلکہ اس سے بھی سوا تصویر کشی مانگتا ہے۔


ماحولیات اور ماحولیاتی تاثر


پس منظر، اندرون و بیرون منظر کے امتزاج سے حاصل کردہ ماحولیاتی تاثر کی نشاندہی بھی ضروری امر ہے۔ ماحولیات مثلا وبائی صورت حال وغیرہ کا تذکرہ ماحول کی صفائی ستھرائی کا خاطر خواہ انتظام ہونے یا نہ ہونے کا احوال، معاشرے کی زوال پذیری یا ترقی پذیری کی نشاندہی کرتا ہے جس سے تاریخ بھی مرتب ہوتی ہے۔ زوال پذیر معاشرہ میں موجود تمام برائیاں جیسے کہ جنسی بے راہ روی، تعلیم کا فقدان، جنسی تشدد، چوری، ڈاکہ زنی، بے ایمانی، ملاوٹ اور دھوکہ دہی کی نشاندہی نہ صرف اس وقت کی زوال پذیری کو نظر میں لاتی ہے بلکہ لمحۂ فکریہ بھی پیدا کرتی ہے کہ ان کا تدارک کیسے ہو۔
مذہبی منافرت بھی ماحولیات کو پراگندہ کرتی ہے۔ لیکن کسی ناول یا دیگر تحریروں کو اس لیے بھی رد نہیں کرنا چاہیئے کہ وہ کسی مخصوص نظریے تحریک یا ازم کے زیر اثر لکھے گئے ہیں۔ ایسا ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ لیکن پھر بھی ان ناولوں کی پشت پناہی ہر گز نہیں کی جا سکتی جو مذہبی منافرت پھیلانے یا ایک دوسرے کے نظریات و عقائد پر کیچڑ اچھالنے کے لیے لکھے گئے۔ کیونکہ ایسے ناول منفی رحجانات کے سبب اور ذاتی عناد کے زیر اثر تخلیق کئے گئے اور ادب منفی رحجانات کو بڑھاوا نہیں دیتا۔


کردار کی فکر اور کردار اور متن کی روح تک رسائی


ناول کی کہانی کے کرداروں کی سوچ اور مکالمے تخلیق کار کے تخیل اور تحریر کے مقاصد کے اظہار کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
ادب اور ادب پر تنقید ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں بلکہ موخر الذکر کا اول الذکر کے بغیر وجود ناممکن ہے۔ لیکن تفہیم اور متن تک رسائی اور تحریر میں نظر نہ آنے والے عوامل کی تشریح و توضیح کے لیے تنقید ادب کی اہم ترین ضرورت ہے۔ متن کی ظاہری ہئیت، ادائیگی اور اسلوب کے علاوہ اصل کہانی اور اس میں خفتہ رجحانات و ترجیحات اور وجوہات کا ادراک قاری کی تخلیق کار کے تخیل، ذہنی رو اور تحریر کے مقاصد تک رسائی کو کسی حد تک اور بسا اوقات مکمل طور پر ممکن بناتا ہے۔
بیانیہ میں موجود حقیقت کا ادراک کرکے متن کی نشاندہی اور تفہیم بیان کرنا بلکہ مکمل ساختیاتی ڈھانچے کی تصویر پیش کرنا نقاد کی ذمہ داری اور اس کے بارے میں جان لینا قاری کی کوشش ہوتی ہے۔

تبدیل شدہ عصریت کی نشاندہی


اردو ناول ایک مخصوص ڈگر پر چل رہا ہے۔ ہمارے ناولوں میں معاشرتی، معاشی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی اقدار کی تنزلی یا ترقی کی وجوہات کو زیر بحث نہیں لایا جاتا۔ ہم عام زندگی میں انفرادی و اجتماعی جسمانی جبر، ملکی سطح پر جنگ و جدل، تعلیمی انحطاط، زبان و تہذیب کی زوال پذیری، عوام الناس کی ذہنی پسماندگی اور اقدار کی پائمالی پر اظہار افسوس تو کرتے ہیں۔ اپنے اختیارات کے محدود دائرہ کار کی وجہ سے پنجرے کے بند پنچھی کی طرح پھڑپھڑاتے بھی ہیں۔ لیکن احساس ہونے کے باوجود ہم اس انحطاط، زوال پذیری، پسماندگی اور پائمالی کے محرکات و وجوہات پر روشنی نہیں ڈالتے۔ وہ ان دیکھے پوشیدہ ہاتھ ہمارے قلم کی پہنچ سے دور ہی رہتے ہیں جو ہماری جڑیں کاٹتے رہے ہیں اور کاٹتے رہیں گے۔ ہمیں ان ہاتھوں تک پہنچنے کے لیے جس بصیرت افروزی کی ضرورت ہے۔ وہ سردست ادب میں ناپید ہے۔ وقت کے بدلنے سے زمانے کے چلن اور برتاو میں فرق آتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی اور ترقی پذیر ممالک کی الگ الگ ترجیحات ہوتی ہیں۔ ان کو نظر میں رکھتے ہوئے پائمالی کی وجوہات و اسباب کا جائزہ پیش کرنا قلم پر گرفت اور ادیب کی حالات حاضرہ سے باخبری کو ظاہر کرتا ہے۔ اور وقت کی ضرورت بھی ہے۔ یادداشتوں کا تذکرہ بھی تبدیل شدہ عصریت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر نہ صرف تاریخ مرتب کرتے ہیں بلکہ آگہی اور بصیرت کے چراغ روشن کرتے ہیں ۔ اس طرح حاصل شدہ آگہی سے آئندہ دور کے لیے لائحہ عمل طے کیا جا سکتا ہے اور تاریک راہوں اور گوشوں کو منور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔


اردو ناول میں معاشرت اور اس کی تنزلی و ترقی کی نشاندہی


معاشرت کے تذکرے سے اور معاشرت میں آنے والے اتار چڑھاو کو بیان کرنے سے نہ صرف ناول کی کہانی کے پس منظر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ وقت کے ساتھ آنے والے بدلاو کے منفی و مثبت اثرات سے بھی آگہی ہوتی ہے۔
ہمارے ناول کے مرغوب موضوعات میں ہجرت کے دکھ، گزشتہ شان و شوکت پر فخر اور زوال پذیری کے نوحے ہیں۔ لیکن ادیب کا محدود وژن قاری کی فکر کو بھی محدود کر دیتا ہے۔
مرزا ہادی رسوا کا ناول امراو جان ادا قدیم دور میں زمانہ جدید بلکہ زمانۂ حال کا نمائندہ ہے۔ انہوں نے اپنے ناول میں جس طرح لکھنو کے کلچر اور لکھنو میں رہنے والے نوابین کی عیش پرستی اور بے راہ روی اور طوائفوں کی نشست و برخاست، تہذیب، فہم و فراست اور زبان پر عبور ہونے کے سبب ان کے تکلم میں در آئی نفاست و نزاکت کو قلم زد کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ مغلوں کے دور میں حاکمین و امراء اور نوابین شرابوں میں ڈوبے عیش و عشرت میں غرق تھے اور عام تہی دامن عوام استحصال کا شکار ہو کر عسرت و پسماندگی کی زندگی گزار رہی تھی۔ اس ناول میں اس معاشرتی پسماندگی کو نہایت سلیقے سے پیش کیا گیا ہے کہ معاشرہ کس طرح عیش کوشی کی طرف مائل تھا یہ حقیقتا ایک معاشرے کے زوال کی کہانی ہے۔ گو کہ اس ناول میں بھی سماج کے ایک ٹکڑے کو ہی سمیٹا گیا ہے۔ لیکن جو ہے خوب ہے۔
تخلیق میں موجود زمانے کےرسم و رواج خصوصا رسموں(کسٹمز) کا تذکرہ بھی معاشرت کے پہلووں کو کھولتا ہے ایک اچھا ادیب رسوم کو کرداروں میں سموتے ہوئے معاشرت کے رنگوں کو کینوس پر بکھیرتا ہے اور قاری کے سامنے اصل تصویر پیش کرتا ہے۔ رسومات کے تذکرے کے لحاظ سے رحمان عباس کا ناول “خدا کے سائے میں آنکھ مچولی” ایک اہم ناول ہے۔ اس ناول میں انہوں نے معاشرے میں بسی ایسی غلط اور نامناسب رسومات کی نشاندہی کی ہے جن کے سبب انسانی زندگی عذاب بن چکی ہے ۔ ان رسومات کی موجودگی سماج کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔


آرکیٹیکچر کی تصویر کشی اور اس کی فی الوقت حیثیت کی نشاندہی


حویلیاں، بارہ دریاں، گنبد، مینار، چوبارے، ستون، راہداریاں، محرابیں وغیرہ مشرقی آرکیٹیکچر سے جڑے ہیں۔ آرکیٹیکچر کا درست پورٹریٹ، مذہب اور کلچر کی صحیح تصویر کشی کرتا ہے۔ قاری کو ماحول اور رہن سہن سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس طرح تحریر قاری کے ذہن پر ایک خوبصورت اور دیرپا تاثر بھی چھوڑتی ہے۔ اور اس کے انہماک اور دلچسپی میں اضافہ کرتی ہے۔


فلسفیانہ افکار کی جھلک، فلسفہ حیات


باقاعدہ فلسفیانہ مضامین ناول کا ایک اہم جز ہیں۔ ادیب کا نظریہ حیات اور اس کی عمیق سوچ کا پرتو ناول میں فلسفے کا رنگ بھرتا ہے۔ کچھ قاری اسے ناول کا خشک حصہ متصور کرتے ہیں۔ کیونکہ فلسفہ کی طوالت ناول کی دلچسپی کے گراف میں کمی لاتی ہے اور بار بار مداخلت تحریر کے حسن و جمال کو متاثر کرتی ہے۔
احمد سہیل غزل پر اپنے مضمون میں کہتے ہیں کہ “فلسفۂ حیات کی بھی ناول میں کافی اہمیت ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ناول نگار کو کوئی فلسفہ یا اخلاقی سبق اپنی ناول کے ذریعے ظاہر کرنا ضروری ہے۔ لیکن ناول نگار ناول کے متن میں زندگی کے سردو گرم کے حقائق بیاں کرتا ہے۔ اس سبب ناول کی تصویر میں زندگی اور اس کے عام اخلاقی و فلسفی و مذہبی خیالات اور تمدنی متعلقات ونگ میں شامل ہو جاتے ہیں۔”
قاری کا اپنا نظریۂ حیات اور اس کی گیرائی و گہرائی بھی فلسفے کو مہمیز کرتی ہے۔ لیکن یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ جبری آئیڈیالوجی ناول کی کہانی میں جمالیات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ فکری، معاشی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی روابط کی پیچیدہ صورت گری کی وضاحتیں بھی فلسفے کی حدود میں آتی ہیں۔ انسان کے بدلتے رویے اور اس کی زندگی کے اتار چڑھاو اور ان سے حاصل شدہ تجربات کا بیانیہ فلسفے کی حدود میں داخل ہو سکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے زندگی کی جزئیات کے باریک مشاہدے کی فرصت اب نہ ادیب کو ہے نہ نقاد کو۔ ادیب صرف اخلاقی درس دینے اور معاشرے کی پائمالی پر نوحہ کناں ہے۔ کہانی انہی نکات کے اردگرد گھوم کر ختم ہو جاتی ہے۔ بہت مطالعہ اور گہرا مشاہدہ فکر کو بلند کرتا ہے۔ یہ اس وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ادب اور ادبی تنقید نئی راہوں پر گامزن ہونے کے لیے بے چین ہے۔ تخلیق کار اور ناقد کو نئے رجحانات سے کماحقہ آگاہی بھی ہے۔ بےشمار نئے اور پرانے موضوعات بھی ہیں جو تخلیق کار کے قلم کی سیاہی میں گھل کر صفحہ قرطاس پر بکھرنا چاہتے ہیں۔ جیسے کہ شداد کی جنت کا تذکرہ اور فردوس بریں کی کہانی، حکومت عثمانیہ کے قیام کی جدوجہد کی کہانی اس کے علاوہ حکومت عثمانیہ کے زوال کے دور کی تصویر کشی، شہزادوں کی ہندوستان میں پناہ۔سبکتگین کی کہانی، بابر کی ہندوستان آمد و فتوحات اور دل و زمین کی فتح۔ امریکہ کا افغانستان پر تسلط، عراق پر حملہ اور ان جنگوں سے ہونے والی تباہ کاریاں، لاوارث عراقی و افغانی بچوں کا مشنری کے زیر نگرانی پڑھنا، بوسنیا کی جدو جہد، کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم، فلسطین اور دیگر مسلم ممالک میں یہودیوں کی نو آبادیات کے سلسلے میں ان کے مسلمانوں پر ڈھائے مظالم اور حملے۔ وہاں زندہ انسانوں کی اجتماعی قبریں۔ ان کے بچوں کی غلامی اور ان پر ظلم، افغانستان اور پاکستانی سرحدی علاقوں میں علم کی کمی، تہذیب کی قلت، عورت کی ناقدری اور ناانصافی اور سرحدی جاہل طبقے کے مزاج میں بسی کینہ پروری اور بدلہ لینے کی خواہش، زنا بالجبر اور معصوم بچوں اور نہتی عورتوں سے زیادتی جو کہ پاکستان اور ہندوستان میں تازہ ترین ایشو بلکہ اس وقت کا سنگین ترین مسئلہ ہے۔ یہ سب ایسے موضوعات ہیں جن میں سے کچھ پر تو طبع آزمائی ہو چکی لیکن بیشتر ابھی قلم زد ہونے کے لیے بے چین ہیں۔ لیکن ایک مخصوص سانچے میں کہانیوں کو جمانے کی بجائے ان کو آفاقی طرز تحریر میں ڈھالنے کی ضرورت ہے، اس کے لیے نئے رجحانات و ترجیحات سےاستفادہ لازمی ہے

شیئر کریں
1 Comment
  1. Avatar

    Thanks

    Reply

کمنٹ کریں