عورت ایک کائنات

افسانہ نگار : زین العابدین خان

, عورت ایک کائنات

عورت ایک کُھلے آسمان کی طرح ہے ۔آسمان کا رنگ ہر وقت بدلتا رہتا ہے ۔کبھی صاف صاف تیز دھوپ،کبھی آندھیاں چلتی ہوئی،کبھی بادلوں سے بھرا آسمان پانی برساتا ہوا ،کبھی بجلیاں کڑکتی ہوئی اور کبھی دھند اور کہرے میں لپٹی ہوئی۔ٹھیک یہی حال ایک عورت کی زندگی کا ہے ۔کبھی بچپن میں فراک پہنے ہوئے گڑیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے ،کبھی جوان ہو کر اپنے پورے بدن کو بادلوں سے چھپاتے ہوئے ،کبھی اپنے حُسن کی بجلی گراتے ہوئے ،کبھی دوسروں کے غم میں برسات کی طرح روتے ہوئے اور کبھی سیلاب کی طرح آنسو بہاتے ہوئے اپنے والدین اور میکے کو چھوڑ کر ایک آدمی کی انگلی پکڑ جاتے ہوئے اور کبھی جانوروں کی طرح بازار میں بِکتے ہوئے ۔آسمان کی طرح ہوتے ہوئے بھی کہیں کہیں بہت لاچار ،بس ایک بے جان مردہ سی ہو جاتی ہے ،کوئی بھی اٹھا کے لے جائے اور زمین میں گاڑ دے ۔تب اُس کی ساری آسمانی خوبی ختم ہو جاتی ہے ،نہ دھوپ ،نہ بارش ،نہ طوفان اور نہ کڑکتی ہوئی بجلی۔


دُلارے سنگھ کی بیوی مر چکی تھی ،اُن کی عمر پچاس کو پار کر چکی تھی ۔گھر میں ایک لڑکی تھی کویتااور ایک لڑکا تھا اشوک،لڑکا دن بھر غائب رہتا تھا،کبھی کالج اور کبھی کھیل کا میدان،گھر میں گُھسے کھانا کھایا اور سو گئے ۔کویتا دُلارے کے پورے گھر کی مالک تھی ۔ماں کے مرنے کے بعد اُس نے گھر کو پورے طرح سے سنبھال رکھا تھا۔صاف صفائی سے لے کر کچن میں کھانے کا انتظام سب کچھ اُس کے ہاتھ میں تھا۔


دُلارے سنگھ اپنی بیوی کے مرنے کے بعد ایک سُونے آسمان کی طرح ہو چکے تھے ۔نہ کوئی بادل،نہ بارش ،بس چاروں طرف دھوپ ہی دھوپ تھی ۔جب وہ دفتر سے گھر آتے تو اُس سڑک سے آتے جہاں چھوٹا سا طوائفوں کا بازار تھا ۔مثل مشہور ہے کہ مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا ہے لیکن جب اُس کی خود کی لڑکی جوان ہو جائے تووہ بوڑھا ہوجاتا ہے ۔اُن کے اندر ایک آگ تھی جو کبھی کبھی سُلگ جاتی تھی لیکن جیوں ہی اُن کی اپنی جوان لڑکی پہ نظرپڑتی تو وہ اپنے آپ کو بوڑھا محسوس کرنے لگتے تھے۔


کویتا کی جوانی دیکھ کر اُن کو اُس کی شادی کی فکر ستانے لگی تھی ،وہ چاہتے تھے کہ کوئی نوکری کرنے والا لڑکا اُن کو مل جائے تو اُس
کا گھر آباد کر دیں۔اِس کے لیے انھوں نے اپنی کمائی کا کچھ حصّہ بینک میں جمع کر رکھا تھا ۔آپ نے کبھی پرندوں کے جھنڈ کو آسمان میں اُڑتے دیکھا ہوگا ،اُس میں کبھی ایک پرندہ اپنے گروپ سے الگ اُڑتا نظر آئے گا ،وہ تنہا ہوتا ہے ،اُس کا جوڑا مر چکا ہوتا ہے ،اکیلے ہی دانہ چگتا ہے،اکیلے ہی کسی ڈال پہ رات میں سو جاتاہے ،وہ اپنی کائنات میں اکیلے ہی رہ جاتا ہے۔ بچے تو جوان ہوتے ہی گھونسلا چھوڑ کر بھاگ چکے ہوتے ہیں ۔بس دُلارے سنگھ اِسی قسم کے پرندے تھے لیکن اُن کی ایک عادت چھوٹ نہیں رہی تھی کہ جب بھی شام کے وقت اپنے دفتر سے لوٹتے تو اُس طوائفوں کے بازار سے ضرور گزرتے ۔نئی نئی عمر کی لڑکیاں ،ادھیڑ عمر کی عورتیں سڑک پہ کھڑی ہو کے اپنی گراہکوں کو بُلاتی رہتی تھی ۔طوائفیں کھانا نہیں پکاتی ہیں ،وہ عام عورتوں کی طرح گھر کی صفائی اور برتن نہیں دھوتی ہیں۔اُن کا کام ایک ریل کے انجن کی طرح رات بھر ایک ایک اسٹیشن پہ رُکنا اور رات بھر چلنا ۔کبھی کوئی اچھا با رونق اسٹیشن آتا تو زیادہ دیر رُک لئے اور کبھی دیہات کا ہالٹ آیا تو تھوڑی دیر کے بعد پھر دوسری اسٹیشن کی طرف ،دھواں پھینکتے ہوئے ،کراہ بھرتے ہوئے اور صبح میں کسی یارڈ میں کھڑے ہو کر پھر ساری رات کے لیے سستانا ،یہی ان کی زندگی ہے ،اِن کے لیے کھانا ان کی مالکن ہوٹلوں سے منگواتی ہے ،جیسے رات کے سفر کے لیے انجن میں کوئلہ یا ڈیجل بھر دیا جاتا ہے ۔انجن کو ساری رات کے اسٹیشنوں سے کوئی مطلب نہیں ہے بس اُسے ساری رات چلنا ہے، اُس کے بدن کے سارے حصّے کو کچومر کی طرح کچلوانا ہے بس یہی اُن کی زندگی ہے ۔ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جب انجن بوڑھا ہو جائے تو دور اُسے یارڈ میں سڑنے کے لیے پھینک دیا جائے گا۔دُلارے سنگھ اِس بازار سے گزرتے ہوئے ایسا سب کچھ سوچتے تھے لیکن اُن کے جسم کی آگ کبھی کبھی جاگ جاتی تھی ۔وہ اِس بازار سے دھیرے دھیرے گزرتے ،ساری طوائفوں کو دیکھتے ،جتنا آہستہ چل سکتے تھے چلتے تاکہ ساری طوائفوں کا بغور جائزہ لے سکیں اور جب سڑک ختم ہونے لگتی تو کچھ دیر اور رُکنے کے لیے کھڑے ہو کر سگریٹ جلاتے ،اُس کی کچھ کش لیتے اور پھر چل دیتے ۔اُن کے روز روز کی اِس حرکت پہ ایک طوائف جو تقریبًا پینتیس سال کی تھی وہ آگے بڑھ کے اُن سے آنکھ ملا بیٹھی اور بولی ،


’’بھائی آپ ٹھیک میرے کمرہ کے سامنے آکر سگریٹ جلاتے ہوئے کچھ دیر رُک کر سگریٹ پیتے ہو اور چلے جاتے ہو ،کیا بات ہے؟‘‘
’’کچھ نہیں بس یونہی گزرتے ہوئے سگریٹ کی طلب لگتی ہے اور بس عادتًا پی لیتا ہو ں۔‘‘ دُلارے سنگھ نے مسکراتے ہوئے کہا
’’کچھ تو بات ہے ،میں تقریبًا دس دن سے آپ کی یہ حرکت دیکھ رہی ہوں ،کیا میں اچھی لگتی ہوں؟‘‘
’’اچھی تو ہو اور بہت خوبصورت ہو ‘‘دُلارے سنگھ کے چہرہ پہ ایک لالچ صاف نظر آنے لگی ۔
’’پیسہ ہے جیب میں تو آئو ورنہ یہاں سے دفع ہو جائو ،یہ ہمارے دھندے کا وقت ہے۔‘‘


دُلارے سنگھ کا چہرہ اُتر گیا،وہ سگریٹ پیتے ہوئے آگے بڑھ گیالیکن اُس کا چہرہ اُس کا پیچھا کرتا رہا ۔چاند کی طرح خوبصورت گول چہرہ ،شانوں پہ بکھرے ہوئے کالے کالے لمبے گیسواور اُن کالے بادلوں کے گھیرے سے ابھرتا ہوا اُس کا گول گول سینہ،آنکھیں ایسی جیسے جنگل کی جھیل۔وہ راستہ بھر اُس کے حُسن میں کھوئے کھوئے گھر آئے لیکن گھر میں آتے ہی جب اُنھوں نے اپنی جوان بیٹی کویتا کو دیکھ لیا تو اُس کے حُسن کا سارا بخار اُتر گیا ۔گھر آتے،منہ ہاتھ دھوتے ،کھانا اُن کی بیٹی میز پہ لگادیتی اور کھانا کھانے کے بعد سو جاتے لیکن جب اُنھیں نیند آنے لگتی ،جب پوری دنیا کا ہجوم دماغ سے اوجھل ہونے لگتا اور جب یکسوئی میں نیند کے جھونکے آنے لگتے تو نہ جانے وہ اُن کے خیالوں میں ایک جھونکے کی طرح اپنے خوشنما بالوں کو لہراتے ہوئے گُھس جاتی اور پھر اُن کے بدن میں آگ سی جلنے لگتی لیکن جب اُن کی لڑکی کویتا کا چہرہ آتا تو جیسے اتنی تیز بارش کا جھونکا آتا کہ وہ بدن کی آگ بالکل ٹھنڈی ہوجاتی ۔اب یہ اِن کے روز کا معمول تھا ،بدن کی آگ کے لپیٹ پر بارش کا گزرنا۔


اِس آگ اور پانی کے کھیل سے تنگ آکے وہ ایک دن پھر اِسی بازار کا رُخ کیے ،وہ سامنے سڑک پہ کھڑی تھی ۔وہ آج پیلی ساڑی ،پیلے بلائوز اور سر پہ پیلے پیلے پھول بالوں میں گوندھ رکھے تھے ۔وہ آج بڑی ہمت کر کے پھر وہاں رُکے اور سگریٹ کا پاکٹ نکالنے لگے تو وہ آگے بڑھ کے بولی،
’’آپ سگریٹ نہ جلائے ،مجھے اِس کے دھوئیںسے بہت نفرت ہے۔‘‘
’’ ٹھیک ہے میں سگریٹ نہیں جلائونگالیکن تم یہ تو بتائو کہ تمہارا ریٹ کیا ہے؟‘‘
عورت تو فری کی چیز ہے ،وہ جب دلہن بن کے جاتی ہے تو ڈھیر سارا خود ہی جہیز لے کے جاتی ہے ،اپنے دُلہے کی پوری کائنات ہوتی ہے ،وہ اپنے شوہر سے اُس گھر میں بچے پیدا کرتی ہے اور ایسے جانور کی طرح ماروگے تو جانور بن جائونگی اور اپنا کرایہ لونگی
’’تم کیا کائنات ہوگی،تم کِسی ایک کا کبھی ہو نہیں سکتی؟‘‘
’’مجھے اس لائق رکھا ہی نہیں گیا ،میں ہمیشہ بکتی رہی ،نہ جانے کتنے خریدار آئے اور مجھے خرید کر چلے گئے ،ویسے میرے اندر یا ساری عورتوں کے اندر ایک کائنات ہے اور بھگوان نے بنایا ہے ،اس طرح کہ ہمارے پیٹ میں بچوں کے لیے ایک کمرہ بنادیا ہے اور جب وہ پیدا ہو تو قدرتی طور پہ ہمارے بدن سے اُس کے لیے دودھ نکلنے لگتا ہے ۔‘‘
اب دُلارے سنگھ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا ،وہ اپنی سگریٹ کی ڈبی نکال کر سگریٹ سلگانے لگے اور پھر وہ بولی ،


’’مجھے سگریٹ کے دھوئیں سے نفرت ہے ،تم دور جائے۔‘‘اور وہ اپنے گھر کی طرف چل دیے۔
دُلارے سنگھ جب گھر آئے تو اُن کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا ،کچھ لوگ اُن کے گھر میں پہلے سے بیٹھے تھے اور وہ کویتا کے رشتہ کے لیے آئے تھے ۔جو لڑکی جوان ہو کر اُن کے گھر بیٹھی تھی اُس کا رشتہ اُن کی چوکھٹ پہ آبیٹھا تھا ۔اُنہوں نے سب کو مٹھائی کھلائی اور منگنی کی تاریخ پکی کر دی ۔اب یہ بھی بوجھ اُن کے سر سے اُترتا دکھائی دینے لگا ۔کویتا کو اپنے رشتہ کی خوشی تھی لیکن باپ کو اکیلے چھوڑ کر جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ،ماں مر چکی تھی ،اب ایسے میں وہ اگر سسرال چلی گئی تو اُن کو ایک گلاس پانی دینے والا کوئی نہیں ہوگا ۔وہ کیا کرے گیں نوکری کرے گیں کہ کھانا پکائے گیں ،بھائی تو گھر میں رہتا ہی نہیں ہے۔


دُلارے سنگھ منگنی سے ٹھیک دو دن پہلے اپنے آفس گئے اور دوپہر ہوتے ہوتے بینک گئے اور وہاں سے پچاس ہزار روپیہ اپنی لڑکی کی منگنی کے لیے نکال کر گھر کی راہ لیے۔راستہ لوٹنے کا وہی جس میں وہ بازار آتا تھا جس میں وہ طوائفوں کا نظارہ کرتے ہوئے دھیرے دھیرے چلتے تھے ۔جب وہ اپنی مخصوص جگہ پہ پہنچ کے اپنی سگریٹ کی ڈبی نکال کر سگریٹ سلگانے لگے ،پھر وہ طوائف اُن کو دیکھ کے باہر آئی اور بولی،
’’ پلیز سگریٹ پینا ہے تو دور جائو اور اگر جیب میں پیسہ ہے تو اندر آئو ،یہاں کھڑے نہ رہو،یہ ہمارے دھندے کا وقت ہے ۔‘‘
دُلارے کے لبوں پہ مسکراہٹ تیرنے لگی ۔اُنہوں نے کہا،
’’آج تو بھر پور پیسہ ہے۔‘‘
’’تو اندر آجائو ‘‘ اور پھر اُس نے اُن کے ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے کمرہ کا پردہ اُٹھا دیا ۔اب وہ قصائی کے بکرے کی طرح اُس کے کمرہ میں چلے گئے ۔آج وہ ہری ساڑی ،پیلے بلائوز اور ہری ہری چوڑیاں پہنی تھی ۔خوشبو اُس نے ایسے لگائے تھے جیسے آم کے پتوں کی مہک ہو ۔وہ اُس کے پاس بیٹھ گئے اور اب وہ اپنے آپ کو کسی پنجرہ میں بند محسوس کرنے لگے ۔اُن کے بدن کی آگ دھیرے دھیرے جلنے لگی ۔اُنہوں نے اُسے بانہوں میں بھرتے ہوئے کہا،’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
’’میرا نام گلابو ہے۔‘‘
’’گلابو،تم واقعی گلاب کا پھول ہو۔‘‘
’’آپ ایک کام کیجیے ،اپنے کپڑے اُتارے اور پردہ کے باہر کھونٹی پر ٹانگ دیجیے۔‘‘
وہ جگہ ایسی تھی کہ اُن کو اپنے کپڑے اُتار کر وہاں ٹانگنے میں کچھ اٹ پٹا سا لگا ۔یہ ایک کمرہ تھا جسے پردوں کے پارٹیشن سے چار کمروں میں تبدیل کیا تھا ۔چار بیڈ لگے تھے اور سارے بستروں کو لمبے لمبے پردوں سے گھیر دیا گیا تھا ۔جب پردہ گرا ہے تو گراہک اندر ہے اور جب پردہ اُٹھا ہے تو گراہک کے لیے خالی جگہ ہے ۔دُلارے سنگھ اب اِس پنجرہ میں اپنی بدن کی آگ کو لے کر آ تو گئے تھے لیکن پچاس ہزار روپئے کے ساتھ اپنے پینٹ کو باہر ٹانگنے میں تکلیف محسوس ہوئی لیکن اب کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا ۔انہوں نے گلابو کے حکم کی تعمیل کی اور اپنے کپڑے وہاں اُسی جگہ پہ پردہ کے باہر ٹانگ دیے ۔


جب طوفان گزر گیا ،جب اُن کا بدن ٹھنڈا ہو گیا اور وہ اپنے کپڑے پہننے لگے تو انھیں احساس ہوا کہ اُن کے پچاس ہزار روپئے اُن کی پینٹ کی جیب سے غائب ہے ۔اب تو اُن کی کیفیت اتنی بدلی کہ اُن کے پائوں کے نیچے سے زمین نکلتی نظر آئی۔ اب اُن کی بیٹی کویتا کی منگنی نہیں ہوگی ۔اب دوبارہ دو دن کے اندر یہ پچاس ہزار روپئے کہاں سے آئیں گیں۔اب وہ لوگوں اور اپنی بیٹی کو کیا منہ دکھائے گیں؟ وہ خالی جیب باہر گئے اور فٹ پاتھ پہ بیٹھ کر رونے لگے اور اُن کا بدن پسینہ سے بھرنے لگا ۔اتنے بڑے نقصان پہ تو وہ پولیس کے پاس بھی نہیں جا سکتے تھے کیونکہ اِس گندی جگہ کے بارے میں وہ کیا کہے گیں۔گلابو نے جب اُن کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا،


’’کیا ہوا ،آپ اتنے پریشان کیوں ہے؟‘‘
انہوں نے جب رو۔ رو کے سارا ماجرہ سُنایا تو گلابو کے بھی پسینے چھوٹ گئے ،اُن کی لڑکی کویتا کے منگنی کے پیسے اُس کے یہاں سے کِسی طوائف نے چوری کر لیے ،وہ اِدھر اُدھر بھاگنے لگی ،سب کو پکڑ کے پوچھنے لگی ،’’پلیز دے دو ،یہ اُس کی لڑکی کی منگنی کا پیسہ تھا،کیا تم سب چاہتے ہو کہ اُس کی لڑکی کی شادی نہ ہو،وہ بھی تمہاری طرح سڑک پہ کھڑی ہو کر گراہک کو بُلانے لگے،اِس کی تو عورت بھی مر چکی ہے اگر یہ مر گیا تو اِس کی لڑکی کے ہاتھ کون پیلے کرے گا ،پلیز دے دو جس نے لیا ہے ،پلیز دے دو ورنہ یہ مر جائے گا ۔‘‘وہ گلابو سب طوائفوں کے سامنے گڑگڑاتی رہی اور گریہ وزاری کرتی رہی ۔تبھی اُس نے دیکھا ایک کم عمر کی طوائف دوسری طوائف کے اشارے پہ وہاں سے بھاگ رہی تھی ،گلابو کو شک ہوا ،وہ وہاں سے دوڑی اور اُس بھاگتی ہوئی
طوائف کو بیچ سڑک پہ پٹک دیا ۔اُس کے گود سے پچاس ہزار روپیہ بیچ سڑک پہ بکھر گیا ۔اُس نے سارے روپیوں کو سمیٹ کر دُلارے سنگھ کی گود میں رکھ دیا اور بولی،


’’اِسے آپ گِن لو اگر کم ہے تو میں اپنے پاس سے اِسے پورا کر دونگی ۔‘‘
دُلارے نے روپیہ گِنا ،روپئے پورے تھے پچاس ہزار ،اُس نے خوشی کے آنسو بہاتے ہوئے اُن روپیوں کے بنڈل کو اپنی پینٹ کے جیب میں رکھ لیے ۔طوائفوں کا پورا ہجوم انھیں بیچ سڑک پہ گھیرے ہوئے تھا ۔وہ اب گلابو کا ہاتھ نہیں چھوڑ رہے تھے
اُسے انہوں نے اپنے گلے لگایا ،گلابو نے کِسی طرح اپنے آپ کو چُھڑایا اور اُن کے سامنے ایک فاتح کی طرح کھڑی ہوگئی۔ اِس بیچ ایک بوڑھی طوائف نے اُس سے کہا،
’’آپ کو اپنی لڑکی کی منگنی ٹوٹنے کا اتنا غم تھا لیکن گلابو کی تو منگنی ہوئی ہی نہیں ،آپ نے اِسے دیر تک بیچ سڑک پہ گلے لگائے رکھا ،تو آپ اِسے اپنے ساتھ لے جائو ،آپ کی بیوی مر چکی ہے یہ آپ کا بہت خیال رکھے گی۔‘‘
اِس بات کو سُن کر دُلارے سنگھ کا گلا سوکھنے لگا ،وہ تذبذب میں پڑ گئے اور بولے،
’’گلابو چلے گی میرے ساتھ‘‘
’’اِس سے بڑھ کر اور میری خوش نصیبی کیا ہوگی کہ آپ مجھ سے شادی کر لیں لیکن میرے بدن کا سارا حصہ ہی پاپ میں ڈوبا ہوا ہے ،یہ احساس آپ کے دل کو ہمیشہ زخمی کرتا رہے گا ۔‘‘وہ نیچی نگاہیں کر کے بولی۔
’’گلابو اس دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جس سے گُناہ نہ ہوا ہو ،کوئی کم کوئی زیادہ ،گُناہ یا پاپ تو سبھی کرتے ہیں۔‘‘ دُلارے سنگھ نے کہا۔
’’ٹھیک ہے میں تیار ہوں ۔‘‘گلابو نے سر جُھکا کے ہامی بھری


اُسے لگا جیسے آسمان پہ گھنگھور بادل آگئے ہو اور اتنی محبت کی بارش ہونے والی ہے جیسے اب سیلاب آجائے گا۔
دُلارے سنگھ آگے آگے چلنے لگے اور پیچھے پیچھے گلابو چلنے لگی ،طوائفوں نے زور سے تالیاں بجائی جیسے آسمان میں برسنے سے پہلے بادلوں میں گڑگڑاہٹ ہوئی ہو۔
جب کویتا کی شادی ہو گئی اور وداع ہو کر اپنے سسرال جانے لگی تو وہ اُس سے اِتنا لپٹ کے روئی جیسے اُس کی اپنی ماں ہو۔ دُلارے بیٹی کے وداعی پہ غمگین ضرور تھے لیکن انھیں اِس بات کی خوشی تھی کہ گلابو سچ مچ اُن کی کائنات بن کے آئی تھی۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں