عورت کے مسائل

کالم نگار : بسمل آزاد

, عورت کے مسائل

عورت کو فی نفسہ کیا مسائل درپیش ہیں. 2018 کا تجربہ انتہائی احمقانہ رہا ہے. اس بار بھی شاید روزن و دربان پر نقارے بجیں گے ۔…. میرا جسم میری مرضی…. عفریت نما پلے کارڈز آویزاں کیے عورتیں شاہراہوں پر جست لگائے بیٹھیں گی. ان کا بیٹھنا باعثِ ملامت نہیں ہو گا .
1400 سال پہلے جب اسلامی انقلاب آیا تو عورتوں کے لاحق مسائل پر غور وحوض کیا گیا. یہ پہلی انقلابی تحریک تھی جس میں عورت کو بطور انسان زیرِ بحث لایا گیا.وہاں کیا مسائل تھے جن کو اسلامی انقلاب نے چیلنج کیا؟ عورت کو زر سمجھا جاتا تھا، جانچ پھرک کے بعد اسے خاطر کے نکڑ پر بیٹھایا جاتا تھا. اسلامی انقلاب نے انہیں مہذب و معظم معاشرے میں بطور فرد متعارف کرواتے ہوئے قانون سازی کی.
اخلاقیات طے ہوئیں،انہیں باتوں میں زمان و مکان کی کسک نے مزید دو دور کی عمر گزار دی. اٹھارویں صدی کا چاند گرھن ہوا. مسائل کی بھرکم پوٹلیاں تہہ باتہہ برتوں کی شکل میں جا بجا رونما ہونا شروع ہوئیں .


عورت مارچ بھی کسی فکر کی کوک سے جنم گیا. حقوقِ نسواں کی رٹ چوراہے پر تن گئ . انیسویں صدی کا سورج طلوع ہوا، عورت خود تن گئی. مسائل رزائل میں بدل گئے.صاحبِ دستار پردے پر ڈھیروں مواد لکھنے لگے. زمان کے ارتقاء میں جمود کی مشق کرتا رجعت پسند خود کو 14 صدی کا پازیب سمجھنا گوارہ کرنے لگا.
دوسری طرف معبد اندھیر نگری کو نسواں پرستی کی تاب میں یگانگت و یکسوئی کی عبادت کرتے، تفاخر برتنے کو غیر معیوب سمجھنے لگا . امتیاز در امتیاز کی منازل متعارف ہونے لگیں. عورت بھی دو طرحوں میں بٹ گئی، دربار میں سات کپڑوں کا جھول جھولتی، جھالر سمیٹتی عورت مسند پر براجمان، اصلاؤں، مغلانیوں انانئوں کی مخدوم بن گئی. اسلام و لبرل ازم آمنے سامنے کھڑے ہو گئے، تمام تر قصور اسلام کے کندھے پر ڈالا گیا.


لیکن 2018 میں جب پہلی بار عورت مارچ گریبان شہر پہنچا تو ان کے ہاتھوں میں آویزاں پلے کارڈ کوئی اخلاقی مسائل نہیں تھے، جسے جنسی تعلق میں خاوند سے شکوہ ہو وہ کنج بازار چیختی پھرے، جسے گھروندے کی چار دیواری میں گھٹن ہو وہ پرداداری کو ہانکتی کوسے، جسے اپنی زلفوں کی نمائش پر قدغن لگاتی تحریر نظر سے گزرے، وہ اس کاغذی پہراہن کو گھڑوس کر دبر کی راہ روکنے کی تزلیل آمیز مشق کرے، تو یہ انفرادی مسائل ہیں، انہیں ریاست کی حدود زیر بحث لانے کی جسارت ہی کیوں کرے.
عام فہم تو انہیں قطعا مسائل نہیں سمجھے گی. اکیسویں صدی میں کیا یہ کم آزادی تھی کہ ایک عورت سفید ریش باپ کے سامنے سے اٹھے اور ٹانگیں پسیار کر سوال کرے؟ مگر یہ سوال ریاست سے نہیں اپنے باپ سے کر رہی ہے. عورت کے تمام کر مسائل کے طلاطم کا گرداب جنس پر آ رکتا ہے. مرد سے مختلف ہیت چوکنا ہونے پر مسائل کی شکل میں نمو پاتی ہے .
عورت مارچ فی نفسہ کس کے خلاف ہے؟ ابھی وقت نے یہ طے کرنا ہے.جدید ذہین عورت کو کس تناظر میں دیکھنا چاہتا ہے، سال بھر بعد یہ تناظر بھی زودِ پشیماں ہونے کی بات ہے.
عورت کو مسائل لاحق ہیں یہ ہر کس وناس کی فہم دانی میں ہے. مگر جو مسائل چوراہوں پر ورد کیے جا رہے ہیں، ان کا عورت سے سروکار نہیں. بانو قدسیہ کا شہرہ آفاق ناول راجہ گدھ بھی اسی سماج پر لکھا گیا ڈھانچہ ہے. مذہب بلامقابلہ ازم ہونے کی مزموم کاوشیں عروج پر ہیں.


اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں