پانی پر شاعری

Read Urdu Poetry on the topic of Paani Par Urdu Shayari (Pani Pe Shayari Status). You can read famous Urdu Poems about Water Urdu Poetry and Samandar Paani Urdu Poetry Sher o Shayari Whatsapp Status. Best and popular Urdu Ghazals and Nazms can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

پانی
پانی

پانی کے موضوع پر مختلف شعراء نے بہترین اشعار کہہ رکھے ہیں۔ چند عمدہ اور دلچسپ اشعار کا انتخاب پڑھیے اور پسند آنے پر دوستوں کے ساتھ شیئر بھی کریں۔

یہ سمندر ہی اجازت نہیں دیتا ورنہ
میں نے پانی پہ تیرے نقش بنا دینے تھے
۔
آںکھ میں پانی رکھو ، ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو
راحت اندوری
۔
میری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں
ہنس تالاب پہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں
عباس تابش
۔
ایک نشانی یہ ہے اُس کے گائوں کی
ہر نکلے کا پانی میتھا ہوتا ہے
ضیاء مذکور
۔
ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کر
وہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لئے
سجاد باقر رضوی

پانی پر اشعار

اداسی، شام ، تنہائی، کسک، یادوں کی بے چینی
مجھے سب سونپ کر سورج اتر جاتا ہے پانی میں
نامعلوم
۔
ایک آنسو نے ڈبویا مجھ کو ان کی بزم میں
بوند بھر پانی سے ساری آبرو پانی ہوئی
شیخ ابراہیم ذوق
۔
میں نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیا
اک سمندر کہہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہئے
راحت اندوری
۔
جتنا پانی تیرے پورے گائوں میں ہے
اتنی پیاس تو صرف ہمارے پائوں میں ہے
ندیم بھابھہ

پانی شاعری paani poetry two line urdu shayari

رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی
سینکڑوں ڈوب گئے پھر بھی ہے اتنا پانی
۔
آنکھ سے بہہ نہیں سکتا ہے بھرم کا پانی
پھوٹ بھی جائے گا چھالا تو نہ دے گا پانی
۔
چاہ میں پاؤں کہاں آس کا میٹھا پانی
پیاس بھڑکی ہوئی ہے اور نہیں ملتا پانی
۔
دل سے لوکا جو اٹھا آنکھ سے ٹپکا پانی
آگ سے آج نکلتے ہوئے دیکھا پانی
۔
کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی
جھوم کر آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی
۔
پھیلتی دھوپ کا ہے روپ لڑکپن کا اٹھان
دوپہر ڈھلتے ہی اترے گا یہ چڑھتا پانی

پانی پر شاعری

ٹکٹکی باندھے وہ تکتے ہیں میں اس گھات میں ہوں
کہیں کھانے لگے چکر نہ یہ ٹھہرا پانی
۔
کوئی متوالی گھٹا تھی کہ جوانی کی امنگ
جی بہا لے گیا برسات کا پہلا پانی
۔
ہاتھ جل جائے گا چھالا نہ کلیجے کا چھوؤ
آگ مٹھی میں دبی ہے نہ سمجھنا پانی
۔
رس ہی رس جن میں ہے پھر سیل ذرا سی بھی نہیں
مانگتا ہے کہیں ان آنکھوں کا مارا پانی
۔
نہ ستا اس کو جو چپ رہ کے بھرے ٹھنڈی سانس
یہ ہوا کرتی ہے پتھر کا کلیجہ پانی
۔
یہ پسینہ وہی آنسو ہیں جو پی جاتے تھے ہم
آرزوؔ لو وہ کھلا بھید وہ ٹوٹا پانی
ارزو لکھنوی

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں