بچوں پہ جنسی تشدد اور نیوروبائیولوجی

نیوروسائنس نیوروبائیولوجی جنسی تشدد بچوں سے زیادتی

پاکستان بہت ہی خوبصورت ملک ہے۔ جہاں پہ سمندر، پہاڑ، دریا، چار موسم، بچوں کے لئے چالیس ممالک میں سے سب سے زیادہ غیر محفوظ جگہیں اور بڑوں کی زندگیاں اجیرن بنانے کے لئے بدترین رشوت خور نظام، غرضیکہ سب کچھ موجود ہے۔

یہ بس ہماری اچھی باتوں کا ہی نتیجہ ہے کہ پاکستان بچوں کی حفاظت کے لحاظ سے چالیس ممالک میں سے پہلے نمبر پہ ہے۔ مگر آخر سے۔ اسی طرح پاکستان کرپشن کے لحاظ سے دنیا میں اس وقت پہلے نمبروں میں ہے مگر وہاں بھی اگر لسٹ آخر سے شروع کی جائے تو تب جا کر ہمیں اپنا ملک نظر آئے گا۔

گو چائلڈ ابیوز ہمیں بہت چھوٹا سا ایشو دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ ہمیں اس بارے بہت کم علم ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بچوں سے زیادتی کا ہر کیس ہمیں رپورٹ نہیں ہوتا۔ لیکن یہ مسئلہ بہت بڑا مسئلہ ہے جسے ہم exaggerated یا پھر مغربی پروپیگنڈہ کہہ کر پس پشت ڈال دیتے ہیں۔

ورلڈ چائلڈ ہڈ فاؤنڈیشن نے ایسے چالیس ممالک کا انتخاب کیا جہاں پہ بچوں کی آبادی کا 70% موجود ہے ۔ ان ممالک میں مختلف فیکٹرز کی بنیاد پہ بچوں کی حفاظت کے لحاظ سے ممالک کو دیکھا گیا تو پتا چلا کہ انگلینڈ بچوں کے لئے دنیا کا محفوظ ترین جب کہ پاکستان بچوں کے لئے بدترین ملک ہے۔ جبکہ ہمسایہ ملک ہماری نسبت بچوں کے لئے ایک محفوظ جگہ ہے۔

بدترین کس لحاظ سے؟

اس وقت پاکستان میں چالیس لاکھ سے زیادہ بچے مزدوری کرتے ہیں۔ ان چالیس لاکھ میں سے 15-20 لاکھ بچے بے گھر یا پھر سٹریٹ چائلڈ ہیں اور یہیں سے اس گھٹیا بات کا ذکر شروع ہوتا ہے جس کو لکھتے وقت شرم آتی ہے لیکن یہ ہم اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ چکے ہیں۔

ان چالیس لاکھ بچوں کو جو کہ گلیوں اور دکانوں میں سو دو سو کی خاطر مزدوری کرنا پڑتی ہے روز جنسی ہراسانی اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سب سے پہلے اگر ہم بس اڈوں کی بات کریں تو بس اڈوں کے ڈرائیور حضرات پاکستان میں پیڈوفلیا کے لحاظ سے دوسرے نمبر پہ آتے ہیں یہ لوگ شب باشی کے لئے ایک بچے کو محض پچاس یا سو روپے پہ حاصل کرتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ جو جی چاہے کرکے اگلے دن اپنی منزل کی طرف رواں ہو جاتے ہیں۔

یہاں پاکستان میں بعض علاقوں جن کا نام لینا ضروری نہیں سمجھوں گا کہ بعض قارئین اس بات کو لسانی اور مذہبی تناظر سے دیکھیں گے وہاں اپنے ساتھ ایک بچہ رکھنا فخر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ بچہ جس کو یہ لوگ اپنا خادم/دوست/نوکر بتاتے ہیں دراصل ان لوگوں کا جنسی پارٹنر ہوتا ہے۔ جس کا یہ کھل کر استعمال کرتے ہیں اور اس کو اپنے ساتھ رکھنا یہ لوگ فخر کی بات سمجھتے ہیں۔

ابس اڈوں اور ان مخصوص علاقہ جات کے بعد یہاں ہوٹل کے بیرے اور مکینک استاد کے کاکے آتے ہیں۔ ان معصوموں پہ جسمانی تشدد جنسی تشدد سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بچے ان گھرانوں سے ہوتے ہیں جن کی روزانہ کی آمدن ایک ہزار مشکل سے ہوتی ہے اور یہ سو دو سو کی دیہاڑی کے لئے سارا سارا دن ذلیل و خوار ہوتے رہتے ہیں اس دوران اگر استاد نے “خوش” کرنے کا کہہ دیا تو یہ بچے مجبوراً وہ بھی کرتے ہیں۔

بس اڈوں، کباڑ خانوں اور ہوٹلوں پہ ان معصوم بچوں سے غلط حرکات کرنا ایک معمول کی بات اور اس کے بعد ان کو “انعام” کے طور پہ بوتل پلا دینا انکی “اجرت” سمجھا جاتا ہے۔

کچھ سال پہلے قصور سکینڈل سامنے آیا اسی طرح اب تو آئے روز ایسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں لیکن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہمارے ہاں ایک کلچرل پرابلم کی طرح ہے۔ اس بات کی اصل وجوہات میں جنس کی آسان فراہمی ہرگز نہیں، بلکہ پیڈوفلیا ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔

اس نفسیاتی عارضے کو 70 کی دہائی میں تسلیم کیا جانا شروع ہوا لیکن اس پہ نیوروبائیولوجی کی تحقیق بہت کم ہے۔ یہ تحقیق ابھی تک کم کیوں ہے؟ اس بات کی کئی وجوہات ہیں جیسا کہ مختلف کلچر ،رواج ،بچپن کے واقعات اور حالات اس بات پہ اثر انداز ہو سکتے ہیں لیکن بہت سی باتیں ہیں جن پہ ہم متفق ہوتے ہیں جیسا کہ

زیادہ تر پیڈوفائل بائیں ہاتھ سے امور انجام دیتے ہیں۔ ان کا آئی کیو حد سے زیادہ کم ہوتا ہے۔ ان کا انٹیلی جنس لیول ایک عام شخص سے بہت ہی کم ہوتا ہے۔ انکا قد عموما چھوٹا ہوتا ہے۔ زیادہ تر پیڈوفائل کیس رپورٹ ہوئے ان میں مولیسٹر کا قد درمیانہ یا چھوٹا تھا ۔ یہ 13 سال کی عمر میں دو یا اس سے زیادہ سر پہ چوٹ کھا چکے ہوتے ہیں۔

مزید بات کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہوگا کہ ماں کے پیٹ میں ابتدائی طور پہ تمام مرد مرد نہیں پہلے عورت ہوا کرتے ہیں پھر ٹیسٹوسٹیرون اور دیگر ہارمونز ان کو مرد کے سانچے میں ڈھالتے ہیں۔ اس عمل کے دوران جو انسانی دماغ ہوتا ہے وہ پہلے عورت اور مرد کا ایک جیسا ہی ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ تمام مردوں کا دماغ عورتوں جیسا ہی ہوتا ہے زیادہ مناسب ہوگا۔ مگر بعد میں یہ دماغ تبدیلیوں کی وجہ سے بدل کر ایک مرد کے سانچے میں ڈھلتا ہے۔

ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ مرد پیڈوفائلز کا دماغ اس ابتدائی نمو کے پراسس میں مکمل طور پہ مردانہ نہیں بن پاتا جس کی وجہ سے ان کے بیہوئر میں یہ عارضہ آ جاتا ہے کہ وہ بچوں میں جنسی کشش محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسکے علاوہ جینیاتی شواہد بھی اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایک شخص ہم جنس پرست یا پیڈو فلک ہو سکتا ہے یا نہیں۔

اسی طرح نیوروبائیولوجی کی تحقیق میں یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ بچوں پہ جسمانی تشدد کرنے والے لوگ جنسی تشدد کرنے کا بھی رجحان رکھتے ہیں۔ اس بات کی سادہ سی تشریح یہ ہے کہ وہ شخص/استاد جو اپنے شاگردوں پہ جسمانی تشدد کرتا ہے اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنا سکتا ہے۔

یہاں سے آپ اس اینالوجی کو لیکر مدارس اور کچھ سرکاری سکولز پہ لاگو کر سکتے ہیں۔ جسمانی تشدد دراصل کسی بھی شخص میں ذہنی ابنارملٹی کو ظاہر کرتا ہے اور ایسا شخص جنسی تشدد بھی کر سکتا ہے۔ اور ایسا زیادہ تر ہوتا ہے۔

اس وقت پاکستان میں گھر سے باہر کام کرنے والے ہر دس میں سے نو بچے جنسی استحصال کا سامنا کر چکے ہیں۔ انکے علاوہ مدارس اور ہاسٹلز میں رہنے والے بچوں کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ورنہ وہ زیادہ بھیانک ہو سکتے ہیں جبکہ جسمانی تشدد کا سامنا مزدوری کرنے والے چالیس لاکھ بچوں میں سے ہر ایک کو کرنا پڑتا ہے۔ جو کہ دکھ بھری بات ہے۔

پاکستان میں اس موضوع پہ بات کرنا دراصل شہد کی مکھیوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا ہے کیونکہ یہاں کی زیادہ تر آبادی سٹیٹ آف ڈینائل میں ہے۔ عظمت کے خمار میں مبتلا قوم اپنی کسی بھی بڑی خامی اور مسئلے کو سازش سمجھ کر اس مسئلے پہ بات کرنے والے شخص کو گالیاں دینا پسند کرتی ہے لیکن یہ ایک سنجیدہ اور حساس ایشو ہے اس پر اوپنلی بات کرنا اور اسکا حل نکالنا بہت ضروری ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے باہر کام پہ لگے بچوں کو محفوظ بنانا ضروری ہے ان کو روزگار کے پیچھے بھاگنے کی بجائے ان کے ہاتھوں میں کتابوں کا تھمانا ضروری ہے۔ بطور ادارہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاست کو اس ضمن میں کام کرنا چاہیے۔ ایسے بچوں کے لئے ٹیکنکل سکولز اور ہاسٹل کھولنے چاہیں جہاں یہ چالیس سے پچاس لاکھ معصوم جانیں سکون سے رہ کر ملک و قوم کی خدمت کرسکیں۔

نوٹ: یہ تحریر ضیغم قدیر کی تصنیف ہے۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں