فالج paralysis
فالج paralysis

دنیا بھر میں اموات اور معذوری کی بڑی وجوہ میں سے ایک ہے۔ اور ہاں فالج کسی بھی عمر کے فرد کو اپنا نشانہ بناسکتاہے، یعنی صرف بوڑھے افراد ہی اس کا شکار نہیں ہوتے۔ بلکہ بچے بھی اس مرض میں مبتلا ہوسکتے ہیں،
سارا جسم فالج زدہ ہو تو General paralysis کہیں گے،
چہرہ مفلوج ہوتو facial paralysis,
کمر سے نیچے والا فالج زدہ حصہparaplegia اور اوپر والا hemiplegia کہلاۓ گا۔
فالج کی دو قسمیں ہیں، یعنی ایک جو خون کی سپلائی روکنے سے ہوتی ہے، جو سب سے عام ہے۔
اور دوسری برین ہیمبرج جس میں دماغی شریان پھٹ جاتی ہے۔


فالج کے اسباب و جوہات

  • دل کے امراض
    ایک صحت مند دل ان دونوں کی روک تھام کے لیے ضروری ہے اور ایسا ہونے پر 9 فیصد خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
  • بلند فشار خون ہائپر ٹینشن
    فشارِ خون کو کنٹرول میں رکھنا فالج کا خطرہ 48 فیصد تک کم کردیتا ہے۔
  • ورزش سے دوری
    اگر آپ جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہوں، تو فالج کا خطرہ ایک تہائی حد یعنی 36 فیصد تک کم کرلیتے ہیں۔
  • ناقص غذا
    بہتر غذا کا استعمال عادت بنالینا فالج کے دورے کا خطرہ 19 فیصد تک کم کردیتا ہے۔
  • موٹاپا
    موٹاپا اس وقت عالمی وباء بن چکا ، خون کی شریانوں کے امراض کے خطرے کے باعث فالج کا امکان بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ جسمانی وزن میں معمولی کمی لاکر بھی اس جان لیوا مرض کے خطرے کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
  • تمباکو نوشی
    سگریٹ یا تمباکو کے استعمال کو ترک کرکے فالج کے خطرے کو 12 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
  • ذیابیطس . بلڈ کولیسٹرول کی زیادتی۔
    ذیابیطس ایسا مرض ہے، جو لاتعداد بیماریوں کی جڑ ہے اور ان میں سے ایک فالج بھی ہے۔ ذیابیطس کے شکار افراد میں خون کی سپلائی میں رکاوٹ کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، جو فالج کا باعث بنتا ہے جبکہ اپنے بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھ کر آپ موت یا معذوری کے سبب بننے والے فالج کے خطرے کو 4 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔
  • ذہنی تناؤ
    عمر جو بھی ہو ذہنی تناؤ فالج کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ خاص طور پر اگر بہت زیادہ تناؤ کے شکار ہوں، ذہنی طور پر خوش باش رہنا، فالج کا خطرہ چھ فیصد تک کم کردیتا ہے۔
    دماغ میں پھوڑا یا رسولی، مرگی، رعشہ، باؤگولہ، آتشک بھی فالج کے اسباب ہیں ۔
شیئر کریں

کمنٹ کریں