بادشاہ نے طوطے کو کیوں قید کیا؟

کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ کوئی بادشاہ سلامت اپنے باغ میں ٹہل رہے تھے کہ اچانک کسی درخت سے انہیں ایک انسان کی آواز آئی۔ دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا جبکہ آواز مسلسل آتی رہی، اپنے سپاہئیوں کو بلوا کر جب چھان بین کرائی تو معلوم ہوا کہ یہ انسان کوئی اور نہیں بلکہ میاں مٹھو تھا۔ بادشاہ کو اس کی یہ ادا بہت پسند آئی اور ‘انعام’ کے طور پر اسے شاہی محل میں قید کرلیا۔ ۰طوطے کی 350 سے بھی زیادہ اقسام دریافت ہوچکی ہیں اور انہیں بھی بندروں کی طرح دو گروپوں Old World Parrots اور New World Parrots میں تقسیم کیا گیا ہے۔ Old والے وہ ہیں جو ایشیا، افریقہ اور یورپ میں پائے جاتے ہیں، اوپر والی کہانی بھی انہی کی ہے جبکہ کولمبس صاحب جنہوں نے امریکہ دریافت کیا باقی کچھ کا تذکرہ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا جنہیں New World Monkeys کہا گیا۔ یہ والے طوطے آسٹریلیا، جنوبی امریکہ اور سینٹرل امریکہ میں ملتے ہیں جبکہ نارتھ امریکہ میں صرف ایک ہی نسل پائی جاتی ہے۔

طوطے کی مختلف اقسام

۰یہ ٹراپیکل جنگلات کا پرندہ ہے۔ ٹراپیکل وہ علاقہ ہوتا ہے جہاں درجہ حرارت سارا سال گرم اور خوب بارش ہوتی رہے۔ وہاں یہ گھنے جنگل پائے جاتے ہیں اور ان میں یہ پرندہ اور جب ٹراپیکل کی بات ہوگی تو آسٹریلیا ، انڈونیشیا، سائوتھ امریکہ اور ایشیا و افریقہ کے گنے چنے ممالک کی بات ہوگی۔ دنیا میں سب سے زیادہ طوطے آسٹریلیا میں پائے جاتے ہیں۔ وہاں ان کی کوئی 56 اقسام ہیں اور ایک سے بڑھ کر ایک۔ جو آسٹریلین طوطے آپ گھروں میں دیکھتے ہیں وہ آسٹریلیا کے ہی ہیں اور انہیں Budgerigar (بج ری گار) کہا جاتا ہے۔ ان کی پہچان ان کے ناک پہ Cere (تصویر) سے ہوتی ہے۔ مادہ کا Cere بھوری ہوتا ہے جبکہ نر کا نیلا۔ اس کے علاوہ ان کے منہ اور جسم پر آپ کو چھوٹے چھوٹے رنگ کے دھبے نظر آتے ہیں۔ اصل میں جنگل میں ان سے نر اور مادہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں۔ طوطے ہم سے تیز نظر رکھتے ہیں اور چوتھا رنگ یعنی Uv روشنی بھی دیکھ سکتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔ وہ روشنئ ان کے رنگوں سے جھلکتی ہے جس سے یہ نر اور مادہ اتنے گھنے جنگل میں بھی ایک دوسرے کی پہچان کرلیتے ہیں ۔

۰بہت زیادہ ورائیٹی ہونے کی وجہ سے ان کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

Parakees پراکیز

وہ طوطے جن کی دم اپنے جسم کے برابر یا تھوڑی لمبی ہو۔ اس میں بہت بڑی تعداد آجاتی ہے۔ آسٹریلین چڑیاں اور پاکستان انڈیا میں پائے جانے والے سبز طوطے Parakeets ہیں۔ پاکستانی سبز طوطے کو Rose Ringed Parakeet کہتے ہیں۔ اس میں نر کےگلے پر جوانی میں داخل ہوتے ہی کالی اور گلابی گانی(Ring) بننا شروع ہوجاتی ہے۔ جبکہ مادہ میں یہ نہیں بنتی بلکہ بنے بھی تو ہلکی سی سرمئی رنگ کی بنے گی۔ مادہ تین سے پانچ انڈے دیتی ہے جسے سینکنے میں 23 دن لگ جاتے ہیں۔

text that says "‎keet Para Parakeet Ringed Rose انڈیا اور پاکستان کا عام طوطا‎"‎

Macaws مکاز

یہ بہت بڑے اور لمبے طوطے ہوتے ہیں جو سائوتھ اور سینٹریل امریکہ خصوصا میکسیکو اور برازیل کے گھنے لمبے درختوں میں ملتے ہیں۔ ان کے منہ پر کھنمب نہیں ہوتے بلکہ خاص طرح کی جلد (عام طور پر سفید رنگ کی) ہوتی ہے۔ ان کو آپ نے اکثر چڑیا گھر یا شاپنگ مالز پر تصویر بنانے اور بیچنے والوں کے ساتھ دیکھا ہوگا۔مادہ سال میں ایک سے پانچ تک انڈے دیتی ہے۔

Scarlet Macaw
طوطا

Cokatoo کوکاٹو

یہ انتہائی خوبصورت طوطے ہیں اور ان کی خاص پہچان ان کے سر پر پگ یا تاج ہوتا ہے۔ یہ انڈونیشیا کے جزائر، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی 21 اقسام ہیں اور ایک سے بڑھ کر ایک۔

sky, ‎text that says "‎Cokatoo Pink آسٹریلیا میں پایا جانے والا طوطا‎"‎‎

۰ یہ ایک انتہائی زہین اور Common Sense سے بھرپور پرندہ ہے۔ یہ چیزوں کو بطور اوزار استعمال کرکے کھانا اور بیج ڈھونڈنا جانتا ہے۔ اس کی چونچ ایک خاص قسم کے پروٹین سے بنی ہوتی ہے جسے Keratin کہتے ہیں۔ مزے کی بات کہ ہمارے ناخن بھی اسی پروٹین سے بنے ہیں۔

۰طوطا انسانوں کی طرح بولتا ہے۔ اس کی وجہ اسکے گلے میں دو مسلز ہیں جنہیں Syrinx کہتے ہیں ان کو ہلا کر یہ آواز نکالتا ہے اور باقی کا کام اپنی زبان کو گھما کر کرتا ہے اور آواز انسانوں جیسی نکلتی ہے۔ اس عمل کو Mimicry کہتے ہیں۔ یہ صرف انسانوں کی نہیں بلکہ بہت سارے جانوروں کی بھی Mimicry کرتا ہے۔ یہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ اسکی بہت ساری وجوہات ہیں جن میں سے ایک اس کا دوسرے جانداروں کو خبردار کرانا ہوتا ہے کہ میں اسی علاقے کا یعنی گرائیں(Homie) ہوں اس لئیے مجھے نہ چھیڑا جائے۔

۰ اگر آپ طوطے کو چٹانیں یا پتھر چاٹتے دیکھیں تو یہ اس لئیے کہ انہیں معدنیات اور نمکیات کی ضرورت ہے۔ اگر ان کو چھوٹی کنکریاں نگلتے دیکھیں تو یہ اسلئیے کہ یہ کنکریاں ان کے معدے میں جاکر دانت کا کام کریں اور سخت بیجوں کو جو انہوں نے کھائے ہیں پیس کر ہضم کردیں۔ بعد میں یہ گول ہوکر نکل جاتے ہیں۔ ان پتھروں کو Gizzard Stones کہتے ہیں۔

۰ طوطا دنیا کا واحد پرندہ ہے جو اپنے پائوں سے چیز پکڑ کر کھاتا ہے۔ اسکی زبان بھی مضبوط مسل ہے جو ہاتھ کا کام کرتی ہے۔ یہ سوتا بھی ایک پائوں پہ کھڑا ہوکر بلکہ بہت سارے پرندے ایسا کرتے ہیں۔ اسکی وجہ دوسرے پائوں کو آرام دینا اور پائوں کا درجہ حرارت درست کرنا ہے۔ اس کا دماغ اس کے دوسرے پائوں کو ایسے زبردست سگنلز بھیجتا ہے کہ جس سے یہ ایک مضبوط Grip بناکر کھڑا کھڑا سوجاتا ہے۔ اپنے منہ کو پروں میں روشنی اور آواز سے بچنے کے لئیے چھپا لیتا ہے۔

۰طوطے بہت ہی سوشل پرندے ہیں۔ یہ جھنڈ میں رہنا پسند کرتے ہیں جسے Flock کہتے ہیں۔ اسکی وجہ دوسرے جانداروں پر اپنا دبدبہ قائم رکھنا ، خوراک کی تلاش اور مادہ سے ملاپ ہے۔

۰ کہا جاتا ہے طوطا بڑا بیوفا پرندہ ہے۔ اسکے پر پورے ہوں فضا صاف ہو اور یہ کھلا ہوا ہو تو اڑان بھر کے نکل جائے گا۔ دراصل جانوروں میں انسانوں کی طرح جذبات نہیں ہوتے بلکہ ان کے جذبات اور شعور انتہائی محدود ہوتا ہے۔ یہ گھنے جنگلوں کا پرندہ ہے اور ایسا ماحول پائے گا تو نکل جائے گا۔

کیا طوطا خطرناک ہے؟

جی بالکل نہیں لیکن اگر آپ اس سے پنگے کریں گے تو یہ آپ کی چیں نکلوا دے گا😀. جب بھی یہ غصے میں ہوگا اسکے جسم کے پر پھیل جائیں گے آنکھیں گھورنے لگیں گی یہ وارننگ ہے کہ تیار ہوجائیں۔ البتہ اس کے منہ پر یا پروں کو تھپکانے کے بعد کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھو لیں۔

کیا سبز مرچ طوطے کا دماغ تیز کرتی ہے؟

اس میں کوئی سچائی نہیں۔ البتہ اس میں وٹامن A اور C ہوتا ہے جسکی اسے ضرورت رہتی ہے۔ اور بیجوں پہ تو یہ ویسے ہی لٹو ہے۔ یہ پھل پھول سبزی بیج کیڑے مکوڑے سب کھاتا ہے۔ لیکن اسے سیب کے بیج، چاکلیٹ، چائے، دودھ، نمکین اشیا اور پیازلہسن سے دور رکھیں۔

اسے باتیں کیسے کرائیں؟

طوطا اگر اپنے آپ کو اردگرد کے ماحول میں ڈھال لے تو باتیں کرتا ہے۔ اس کے لئیے اس سے دوستانہ ماحول رکھیں جب یہ چیں چیں کرے تو اس وقت اس کے پاس آئیں اسے کچھ کھانے کو دیں اور بات کرائیں۔ جملے چھوٹے اور لفظ واضح بولیں۔ اور جواب میں یہ اگر صرف چیں ہی کرے تو پھر بھی خوش ہوکر اسے کچھ کھانے کو دیں۔ جب اسے پتہ چلنا شروع ہوجائے گا کہ باتوں پر انعام ملتا ہے تو یہ آپ کے جملے یاد کرنا شروع کردے گا۔ دنیا کے سب سے زیادہ باتونی طوطے افریقہ کے Grey Parrots ہیں۔ ایک Grey طوطا جس کانام Alex تھا۔ جیومیٹری کی کئی اشکال، کئی رنگوں کے نام، چھ تک گنتی، چھوٹے بڑے کا فرق اور سو سے زیادہ لفظ جانتا تھا۔ اسے جانوروں کے ایک ماہر نفسیات Irene Pepperberg نے ٹرین کیا تھا۔

تاہم دنیا میں ایک طوطا ایسا بھی ہے جو اڑ نہیں سکتا۔ اسے Kakapo کہتے ہیں اور یہ نیوزی لینڈ میں پایا جاتا ہے۔ اس کا وز ن تقریباً چار کلو ہے اور یہ دنیا کا سب سے بھاری طوطا بھی ہے جبکہ سبسے بڑا طوطا برازیل کا Hyacinath Macaw ہے جو 3.5 فٹ تک بڑھ سکتا ہے۔ سب سے چھوٹا طوطا نیوگنی جزیرے انڈونیشیا کا pygamy parrot ہے جو بمشکل تین سے چار انچ ہوتا ہے۔ (تصاویر دیکھیں)

یہ آزاد گھنے جنگلوں کا پنچھی ہے اسے قید مت کریں بلکہ ایسےدرخت لگائیں جن پر یہ آکر بیٹھتے ہیں۔ یہ ٹراپیکل جنگلوں کے باسی ہیں اس لئیے کیلا، پپیتا، آم ، تربوز لگائیں۔ ایک رسی سے یہ پھل باہر باندھ کر پاس پانی رکھ دیں پھر بھی چکر لگا سکتے ہیں۔ چنائی انڈیا کا ایک شخص لمبے تختوں پر ابلے چاول لگا کر روزانہ ہزاروں طوطوں کو کھانا کھلاتا ہے اور ایک بھی قید نہیں کرتا۔ یہ ہے اصل بادشاہ!

ٹراپیکل جنگلوں میں ہونے کی وجہ سے یہ اکثر بندروں کا شکار ہوجاتے ہیں، گھروں میں بلیوں کا اس کے علاوہ شانپوں او عقابوں کے ہتھے بھی چڑھ جاتے ہیں ۔ اگر ان سب خطروں سے بچ جائیں تو 20 سے 82 سال تک کی عمر پاتے ہیں۔

تحریر: عظیم لطیف

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں