فائزر کرونا ویکسین: اصل حقائق

فائزر کرونا ویکسین

دسمبر 2020 کے دوسرے ہفتے سے کئی ملکوں میں ان ویکیسینز کا عام استعمال شروع ہو گیا اور اب تک (یعنی جنوری 30، 2021 تک) دنیا بھر میں نو کروڑ سے زیادہ افراد کو یہ ویکسین دی جا چکی ہے- اسرائیل میں فی کس آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ ویکسین دی جا چکی ہے- اسرائیل کی 35 فیصد آبادی کو کم از کم ایک ڈوز دی جا چکی ہے- ان میں سے سات لاکھ اہسے لوگوں کو مانیٹر کیا جا رہا ہے جن کو دونوں ڈوز دی جا چکی ہیں تاکہ اس ویکسین کے وسیع پیمانے پر اثرات کا جائزہ لیا جا سکے- اس سروے کے ڈیٹا سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ان ساتھ لاکھ افراد میں سے صرف 317 افراد کورونا انفیکشن کا شکار ہوئے اور صرف 16 ایسے تھے جنہیں ہسپتال میں داخل کرنا پڑا- اس طرح یہ ویکسین کورونا انفیکشن کے خلاف 99.96 فیصد موثر ثابت ہوئی ہے اور صرف 0.04 فیصد لوگوں کو ویکسین لگوانے کے بعد کورونا انفیکشن ہوا- اس طرح یہ ویکسین دنیا کی کامیاب ترین ویکسین کا اعزاز حاصل کر چکی ہے

جب دسمبر 2020 میں فائزر اور موڈرنا کمپنیوں نے اپنی اپنی کووڈ19 کی ویکسین کے فیز تھری ٹرائلز کی رپورٹ پیش کی تھی تو دونوں کمپنیوں نے اپنی ویکسین کو تقریباً 95 فیصد موثر پایا تھا- اس کا مطلب یہ ہے کہ فیز تھری کی ڈبل بلائنڈ سٹڈیز میں جن لوگوں کو ویکسین دی گئی ان میں کووڈ19 کے کیسز پلاسیبو کنٹرول گروپ کے شرکا کی نسب 95 فیصد کم تھے- ان ٹرائلز میں 75000 افراد شریک ہوئے تھے- امریکی حکومت نے کورونا وائرس کی وباء کے آغاز میں ہی اعلان کیا تھا کہ حکومت اس وائرس کے خلاف ہر ایسی ویکسین کی منظوری ہنگامی بنیادوں پر دے دے گی جو ٹرائلز میں محفوظ ثابت ہوئی ہوں اور جو 50 فیصد سے زیادہ موثر ہوں- اکثر ماہرین کا خیال تھا کہ نئی ویکسینز 70 سے 75 فیصد تک موثر ہو گی جو وبا کی روک تھام کے لیے کافی ہے- چنانچہ جب ان دو کمپنیوں کے یہ اعلان کیا کہ فیز تھری ٹرائلز میں یہ ویکسین 95 فیصد موثر پائی گئی ہے تو ماہرین کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا- اس قدر موثر ویکسینز بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں اور ایسی موثر ویکسین میسر ہو تو وبا کو چند ماہ کے اندر اندر ہی کنٹرول کیا جا سکتا ہے

اگر دنیا بھر میں یہ ویکسین اسی طرح سے کامیاب رہتی ہے تو شاید اگلے چند ماہ میں دنیا بھر میں کورونا کی وبا پر مکمل طور پر قابو پانا ممکن ہو جائے گا۔

شیئر کریں
قدیر قریشی بطور سائنس رائٹر سائنسی ادبی حلقوں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور اردو سائنسی فورم "سائنس کی دنیا" کے سرپرست اعلی بھی ہیں۔

کمنٹ کریں