فائزر کی کورونا ویکسین

اس وقت کورونا وائرس کی کم از کم تین ویکسینز کے استعمال کی منظوری ہنگامی بنیادوں پر دی جاچکی ہے اور دنیا بھر میں کم از کم اڑھائی کروڑ لوگوں کو یہ ویکسین لگ چکی ہے- اس ویکسین کے بنانے کا کام جنوری 2020 میں اسی دن شروع ہو گیا تھا جس دن چین نے کورونا وائرس کے جینوم کو ڈی کوڈ کر کے اسے پبلک ڈومین میں کر دیا تھا یعنی تمام دنیا کے ماہرین کو اس ڈیٹا کی ایکسس فراہم کر دی تھی

فائزر کی کورونا ویکسین

ابتدائی تحقیق:

روایتی ویکسینز وائرس کو ناکارہ کر کے بنائی جاتی ہیں یعنی ہمیں جو ویکسین لگائی جاتی ہے اس میں وائرس کمزور شکل میں موجود ہوتی ہے لیکن وہ ہمیں بیمار نہیں کر پاتی- چونکہ روایتی ویکسین میں وائرس موجود ہوتی ہے اس لیے اس بات کا امکان موجود ہوتا ہے (اگرچہ انتہائی کم ہوتا ہے) کہ انتہائی کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد میں وہ وائرس اپنی کاپیاں بنانے میں کامیاب ہو جائے- اس لیے لاکھوں میں ایک یا دو افراد میں ویکسین بیماری کا سبب بھی بن سکتی ہے

فائزر کمپنی نے کورونا وائرس کی ویکسین بنانے کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی استعمال کی جس میں وائرس کے بجائے صرف وائرس میں موجود کچھ پروٹینز ویکسین کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں- اس طرح جسم کے مدافعتی نظام کو اینٹی باڈیز بنانے کے لیے وائرس کی پروٹینز تو مل جاتی ہیں اور جسم اینٹی باڈیز بنانے لگتا ہے لیکن چونکہ اس ویکسین میں وائرس موجود ہی نہیں ہوتی اس لیے اس ویکسین سے وائرس لگنے کا امکان صفر ہے

فائزر کی پارٹنر کمپنی BioNTech نے کورونا وائرس کے جینوم ڈیٹا کے پبلک ہونے کے چند دنوں کے اندر اندر ہی اس جینوم کے ڈیٹا سے اس سپائک پروٹین کو بنانے والا کوڈ الگ کر لیا جس سپائک پروٹین کو استعمال کر کے کورونا وائرس انسانوں کے جسم میں داخل ہوتی ہے- اس کے چند دن بعد ہی کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کا بنیادی ڈھانچہ تیار ہو گیا تھا جس میں mRNA کے اس ٹکڑے استعمال کیا گیا جس سے خلیوں میں سپائک کی پروٹین بنتی ہے- اس کے علاوہ کورونا وائرس کی کئی اور پروٹینز کو بھی الگ کیا گیا اور ان کی بنیاد پر بھی mRNA کے ٹکڑے استعمال کر کے کئی ویکسینز ڈیزائن کی گئیں- اس وقت سائنس دانوں کو یہ علم نہیں تھا کہ ان میں سے کون سی تجرباتی ویکسین سب سے بہتر طور پر کام کرے گی یا یہ کہ ان میں سے کوئی بھی ویکسین کام کرے گی یا نہیں

لیبارٹری میں تجربات سے سائنس دانوں نے یہ معلوم کیا کہ جو تجرباتی ویکسین کورونا وائرس کی سپائک پروٹین استعمال کرتی ہے اس ویکسین کے نتائج سب سے بہتر ہیں- اس ویکسین کو BNT162b1 کا نام دیا گیا اور اس پر ابتدئی ٹیسٹس کا آغاز کیا گیا

ابتدائی ٹیسٹس:

کسی بھی دوا کا پہلا ٹیسٹ جانوروں پر کیا جاتا ہے تاکہ اگر یہ ویکسین خطرناک ہو تو کسی انسان کی جان خطرے میں نہ پڑے- چنانچہ کورونا وائرس کی نئی ویکسین BNT162b1 کے ٹرائلز سب سے پہلے چوہوں پر کیے گئے (جو کہ دواؤں کے ٹیسٹس کا سٹینڈرڈ پروٹوکول ہے)- اب مسئلہ یہ ہے کہ چوہوں میں وہ ریسیپٹرز نہیں ہوتے جنہیں استعمال کر کے کورونا وائرس انسانوں کے جسم میں داخل ہوتا ہے (یہی وجہ ہے کہ کورونا وائرس چوہوں کو بیمار نہیں کرتا)- اس لیے چوہوں کے جسم میں جینیاتی انجینیئرنگ سے ایسی تبدیلی کی گئی کہ ان کے خلیے وہ ریسیپٹرز بنانے لگیں جن پر کورونا وائرس حملہ کرتا ہے- اس کے بعد ان چوہوں کو یہ ویکسین دی گئی اور چند دن کے اندر اندر ہی ان کے جسم میں کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بننے لگیں- اس کے علاوہ ان چوہوں میں کوئی اور سائیڈ ایفیکٹ نہیں پایا گیا-

فیز 1 ٹرائل:

جب سائنس دانوں کو یہ معلوم ہو گیا کہ کم از کم چوہوں پر یہ ویکسین ان کی توقع کے مطابق کام کر رہی ہے تو اس ویکسین کو فیز 1 ٹرائل میں 76 افراد پر ٹیسٹ کیا گیا- یہ تمام والنٹیرز نوجوان اور صحت مند تھے یعنی انہیں نہ صرف پہلے کورونا نہیں ہوا تھا بلکہ انہیں کوئی اور بیماری مثلاً ذیابیطس، بلڈ پریشر، دل کی بیماری یا کوئی اور خطرناک بیماری نہیں تھی-

فیز 1 کے ٹرائلز مئی اور جون 2020 میں کیے گئے- اس ٹرائل کا مقصد یہ تھا کہ انسانوں میں کورونا کے خلاف اینٹی باڈیز بننے کی تصدیق کی جائے اور ویکسین کی ڈوز (یعنی مقدار) کا بھی تعین کیا جائے- چنانچہ مختلف لوگوں کو مختلف ڈوزز دی گئیں جو دس مائیکروگرام سے سو مائیکرو گرام تک تھیں- اس ٹیسٹ سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ یہ ویکسین نہ صرف انسانوں پر کام کرتی ہے (یعنی انسانوں میں کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بنتی ہیں) بلکہ اس ویکسین کا کوئی بڑا اور خطرناک سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہے- اس کے علاوہ یہ بھی طے پایا کہ فیز 2 اور فیز 3 کے لیے 30 مائیکروگرام کی ڈوز استعمال کی جائے گی اور یہ ڈوز ہر والنٹیر کو 21 دن کے وقفے سے دو بار دی جائے گی

فیز 2 ٹرائل:

فیز 2 کے ٹرائل کا مقصد یہ تھا کہ اس ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹس کا مطالعہ کیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ مختلف عمر اور جنس کے افراد پر یہ ویکسین یکساں طور پر کام کرتی ہے یا نہیں- سٹڈی میں ایسے مردوں اور عورتوں کو شامل کیا گیا جن کی عمریں مختلف تھیں اور ان میں سے کچھ کو بلڈ پریشر، کولیسٹرول، ذیابیطس کی قسم کے عارضے تھے جو عوام میں اکثر پائے جاتے ہیں- اس کے علاوہ مختلف قومیتوں کے افراد اس ٹرائل میں شامل کیے گئے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ایسی کوئی قومیت نہیں جن کے افراد میں کوئی ایسی جینیاتی میوٹیشن ہو جو اس ویکسین کو اس قومیت کے افراد کے لیے خطرناک بنا دے

فیز 2 ٹرائل 12 اگست 2020 کو مکمل ہو گیا اور اس میں اس ویکسین کے خلاف کوئی خطرناک ری ایکشن دیکھنے کو نہیں ملا- اس ٹرائل میں شامل افراد کے جسم میں وافر مقدار میں ایسی اینٹی باڈیز پیدا ہوئیں جو کورونا ویکسین کی سپائک پروٹین پر حملہ کرنے کے قابل تھیں- گویا فیز 1 اور فیز 2 ٹرائل میں اس ویکسین کی اثر پذیری بھی مثبت طور پر دیکھی گئی اور اسے محفوظ بھی پایا گیا- اس وجہ سے حکومت نے فائزر کو فیز 3 ٹرائلز کے آغاز کی اجازت دے دی- اس سے پہلے کہ ہم فیز 3 ٹرائلز کی بات کریں، ہمیں ڈبل بلائنڈ پروٹوکول کو سمجھنا ہو گا

ڈبل بلائنڈ ٹرائل کیا ہے:

اگر میں کوئی دوا استعمال کروں اور میرا مرض ٹھیک ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دوا نے میرا مرض ٹھیک کر دیا، رائٹ؟ جی نہیں اس سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا کہ میرا مرض دوا سے ٹھیک ہوا ہے- میرے مرض کے ٹھیک ہونے کی بہت سے وجوہات ہو سکتی ہیں- اکثر چھوٹے موٹے امراض ایک معینہ مدت کے ہوتے ہیں اور خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں- خاص طور پر وائرس کی وجہ سے ہونے والی کئی بیماریاں عموماً کچھ دنوں میں خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہیں- معمولی نزلہ زکام، پیٹ خراب ہو جانا، کہیں معمولی چوٹ لگ جانا ایسے امراض ہیں جن کا علاج کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ یہ چند دنوں میں خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں- اگر ان امراض کی دوا لی جائے اور دوا لینے کے بعد آپ ٹھیک ہو جائیں تو اس سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کے ٹھیک ہو جانے کی وجہ دوا ہے-

زیادہ پیچیدہ امراض میں بھی بعض اوقات پلاسیبو ایفیکٹ کی وجہ سے بے اثر دوا کھانے کے بعد بھی وقتی طور پر امراض کی علامات میں کمی آ جاتی ہے یا مرض کی علامات وقتی طور پر غائب ہو جاتی ہیں جس سے مریض کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ اس کا مرض ختم ہو گیا ہے- لیکن مرض اندر ہی اندر بڑھتا رہتا ہے

جدید طب میں دوا کا اثر معلوم کرنے کے لیے اس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ دوا کے اثر کی پیمائش پلاسیبو ایفیکٹ سے الگ کی جائے- اس لیے دوا کو ٹیسٹ کرنے میں فیز 3 ٹرائلز میں ڈبل بلائنڈ پروٹوکول استعمال کیا جاتا ہے- اس پروٹوکول میں تمام والنٹیرز کو دو گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے- ایک گروپ کو وہ دوا دی جاتی ہے جس کا ٹیسٹ کرنا مقصود ہو جبکہ دوسرے گروپ کو (جسے کنٹرول گروپ یا پلاسیبو گروپ کہا جاتا ہے) پلاسیبو دوا دی جاتی ہے- پلاسیبو دوا میں دوا نہیں ہوتی لیکن اس کی شکل و صورت بالکل دوا کی سی ہوتی ہے- مثال کے طور پر اگر جس دوا کو ٹیسٹ کیا جا رہا ہے اسے سفید رنگ کی ٹیبلٹ میں دیا جاتا ہے تو ڈبلا بلائنڈ ٹیسٹ کے لیے عین اسی طرح کی سفید ٹیبلٹ بنائی جاتی ہے جس میں دوا نہیں ہوتی- اس گولی کو پلاسیبو کہا جاتا ہے اور ٹیسٹ میں ایک کنٹرول گروپ کو یہ پلاسیبو دوا دی جاتی ہے

ڈبل بلائنڈ پروٹوکول کا مطلب یہ ہے کہ مریضوں کو یہ علم نہیں ہوتا کہ انہیں دوا دی جا رہی ہے یا پلاسیبو- ان مریضوں کو دوا دینے والے ڈاکٹروں اور ان کے سٹاف کو بھی یہ علم نہیں ہوتا کہ کس مریض کو دوا دی جا رہی ہے اور کس کو پلاسیبو- اس طرح مریض ڈاکٹروں کے اطوار سے یہ اندازہ نہیں لگا پاتا کے اسے دوا دی جا رہی ہے یا پلاسیبو- اس طرح ان دونوں گروپوں کی مانیٹرنگ سے تجربہ کرنے والے ماہرین یہ معلوم کرتے ہیں کہ دوا پانے والے مریضوں میں دوا سے کیا اثر پڑا اور پلاسیبو گروپ کے مقابلے میں اصل دوا پانے والوں کے مرض میں کس قدر افاقہ ہوا- اس طرح دوا کا اثر واضح ہو جاتا ہے- اگر دوا پانے والے مریضوں اور کنٹرول گروپ کے مریضوں میں مرض کی حالت میں زیادہ فرق نہیں پایا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دوا پلاسیبو سے بہتر کام نہیں کرتی- ایسی صورت میں اس دوا کو رد کر دیا جاتا ہے اور اسے استعمال کی منظوری نہیں دی جاتی

فیز 3 ٹرائل:

فیز 1 اور فیز 2 کی کامیابی کے بعد اگست 2020 میں فائزر نے اس ویکسین کے فیز 3 ٹرائلز کا اغاز کیا- پہلے دو فیز کے ٹرائل ڈبل بلائنڈ نہیں تھے یعنی تمام والنٹیرز کو معلوم تھا کہ انہیں ویکسین دی جا رہی ہے- لیکن فیز تھری ڈبل بلائنڈ ٹرائل تھا- اس ٹرائل میں 43548 افراد نے حصہ لیا جس میں آدھے افراد کو ویکسین دی گئی اور باقی کو پلاسیبو- جن لوگوں کو پلاسیبو دی گئی ان میں 162 افراد کو ویکسین لگوانے کے بعد کورونا وائرس ہوا جبکہ جن لوگوں کو ویکسین دی گئی اس گروپ میں صرف آٹھ افراد کا وائرس کا ٹیسٹ پازیٹو آیا- پلاسیبو والے گروپ میں جن لوگوں کو کورونا وائرس لگا ان میں سے 30 کی حالت اتنی خراب ہوئی کہ انہیں ہسپتال داخل کرنا پڑا- اس کے برعکس جس گروپ کو ویکسین دی گئی اس گروپ میں ایک بھی شخص ایسا نہیں تھا جسے کورونا کی علامات ہوں یا جسے ہسپتال داخل کرنا ضرور ہو- اس طرح حاصل کیے گئے ڈیٹا سے یہ ثابت ہوا کہ یہ ویکسین کورونا وائرس کے خلاف 95٪ حفاظت فراہم کرتی ہے-

واضح رہے کہ ان میں سے کسی بھی ٹرائل میں کوئی شارٹ کٹ نہیں لیے گئے اور تمام ٹیسٹ سٹینڈرڈ پروٹوکولز کے تحت کیے گئے جو کسی بھی ویکسین کے ٹیسٹ میں استعمال ہوتے ہیں- حکومت نے اگرچہ اس ویکسین کی منظوری کے لیے ہر ممکن حد تک سرخ فیتے کو ختم کیا اور باقی تمام دواؤں کی ٹیسٹنگ پر کورونا کی ویکسین کے ٹیسٹ کو ترجیحی بنیادون پر فوقیت دی گئی لیکن سیفٹی پروٹوکولز کو سختی سے فالو کیا گیا

منظوری:

جونہی فائزر نے ٹیسٹ کا ڈیٹا حکومت کو پیش کیا، امریکی حکومت نے اس ڈیٹا کو سٹڈی کرنے کے بعد اور یہ اطمینان کرنے کے بعد کہ ڈیٹا درست ہے، اس ویکسین کی منظوری ہنگامی بنیادوں پر دے دی اور 16 سال سے زیادہ عمر کے تمام افراد کو یہ ویکسین لگانے کی اجازت فراہم کر دی- باقی کئی ملکوں کی حکومتوں نے بھی اس ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی ہے-

فائزر کی ویکسین کے علاوہ اب ماڈرنا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسینز کو بھی حکومتوں نے منظور کر لیا ہے کیونکہ ان ویکسین کے ٹرائلز بھی اسی طرح تین فیزوں میں کیے گئے- ماڈرنا کی ویکسین کی اثر پذیری بھی 95 فیصد کے لگ بھگ پائی گئی جب کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کی اثر پذیری 70 فیصد پائی گئی ہے- اس کے علاوہ چین نے اپنے ہی ملک میں بنائی گئی ویکسین کی منظوری بھی دے دی ہے- چین کی ویکسین کے فیز 3 کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن ابتدائی سٹڈیز سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چین کی ویکسین 90 فیصد تک کامیاب رہی ہے- پاکستان میں غالباً چین کی ویکسین لگائی جائے گی

جنوری 9، 2021 تک دنیا بھر میں ڈھائی کروڑ سے زیادہ افراد کو یہ ویکسینز دی جا چکی ہیں اور ابھی تک کسی شدید سائیڈ ایفیکٹ کی کوئی خبر نہیں آئی

اوریجنل آرٹیکل کا لنک:https://www.biospace.com/…/a-timeline-of-covid-19…/

فیز 1 اور فیز 2 کے نتائج: https://www.nature.com/articles/s41586-020-2639-4

فیز 3 کے نتائج: https://www.nejm.org/doi/full/10.1056/NEJMoa2034577

شیئر کریں
قدیر قریشی بطور سائنس رائٹر سائنسی ادبی حلقوں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور اردو سائنسی فورم "سائنس کی دنیا" کے سرپرست اعلی بھی ہیں۔

کمنٹ کریں