خورشید حیات کی تخلیقی کائنات : پہاڑ ندی عورت

مضمون نگار : ڈاکٹر ارشاد سیانوی

پہاڑ ندی عورت

ایک صداقت پسند افسانہ نگار ذی فہم اور دور اندیش ہوتا ہے، سماج معاشرہ اور عالی سطح پر رونما ہونے والے واقعات کی حقیقی تصویر قارئین کے روبروپیش کرتاہے۔وہ نہ صرف عالمی بلکہ بین الاقوامی مسائل پر بھی گہری نظر رکھتا ہے۔سماجی ، سیاسی تبدیلیوں کو محسوس کرتا ہے۔اس حساس ذہن والے افسانہ نگار کا نام ہے خورشید حیات۔وہ اپنے تخلیقی سفر میں ایمانداری سے معاشرے کی اصل تصویر پیش کرتے ہیں۔


خورشید حیات کا پورا نام سید محمد خورشید حیات ہے اورقلمی نام خورشید حیات ہے۔کمال کی بات یہ ہے کہ کسی بھی شعبۂ اردو،اردو اسکول اور اردو دنیا سے تعلق نہ ہونے کے باوجود بھی اردو زبان وادب سے محبت کا مظاہرہ اس انداز سے کرتے ہیں کہ ایک مقبول حساس اور بے دار ذہن والا افسانہ نگار بن کر ابھرتے ہیں۔وہ ریلوے کے شعبے میں چیف کنٹرولر ہیں اور افسانوی ادب میں اپنی پہلی کہانی’’ انوکھی تبدیلی‘‘ (1974) کے ساتھ شامل ہوئے۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ’’ایڈز‘‘ کے نام سے 2000میں منظرعام پر آیا۔ اس مجموعے کے تمام افسانوں میں سماج کے تمام مسائل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔بکھرتی ٹوٹتی تہذیبوںکااحساس قارئین کو سوچنے کے لیے مجبور کردیتاہے۔ہندی میں ’سورج ابھی جاگ رہا ہے‘ ۔2004میں آکر دادوتحسین حاصل کرچکا ہے۔ان کی منفرد اور تخلیقی تنقید’ لفظ تم بولتے کیوںہو‘ دسمبر2017میں شائع ہوئی جس سے خورشید حیات کو اردو فکشن میں ممتاز مقام حاصل ہوا۔’لفظوںکی موت‘ دراصل ایک علامتی تخلیق ہے۔اس تخلیق کے ذریعے خورشید حیات ماضی کی شاندار تہذیبی روایتوںکوقارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ مجموعہ’’ مردہ شہر میں دستک‘‘ بھی جون 2018میں منظر عام پر آیا۔ یہ تمام تخلیقات ان کی ژرف بینی اور فکری بلندی کا پتہ دیتی ہیں۔خورشید حیات بحیثیت عمدہ انسان اہم شخصیت کے مالک ہیں۔افسانوی ادب میں بھی اہم مقام حاصل کرچکے ہیں او رمعاشرے میں بھی باوقار مقام پر فائز ہیں۔طبیعت میں بلا کی سادگی او ربلند خیالی ہے۔
1980کے بعد والے افسانہ نگاروںمیں خورشید حیات ایک فعال افسانہ نگارہیں۔ انھوںنے جب اپنے تخلیقی سفر کی ابتدا کی تو اس عہد میں قرۃ العین حیدر ،غیاث احمد گدی، مشرف عالم ذوقی، کلام حیدری، احمد صغیر وغیرہ اردو فکشن میں چھائے ہوئے تھے۔غیاث احمد گدی کے افسانوںمیں فطرت کے حسین منظرنامے، فطرت کا حسن اور ان کے باہمی ٹکرائو کو سمجھنے کی کامیاب کوشش کی گئی ۔قرۃ العین حیدر نے افسانوی ادب کو پانچ افسانوی مجموعے اور آٹھ ناول عطاکیے۔افسانوںمیں قرۃ العین حیدر کے استعارے اور تلمیحات کو بہت سے قارئین اور ناقدین نے یا تو نظر انداز کیا یا ان کا غلط مفہوم نکال کر پیش کیا۔جس سے قرۃ العین حیدر کے متعلق ابہام پیدا ہوئے۔مشرف عالم ذوقی نے افسانوں میں زندگی کی سنگین اور سنگلاخ سچائیوں کو فنی تکنیک کے ساتھ پیش کیا۔اس عہد میں خورشید حیات کو یہ احساس ہوا کہ اتنے باکمال ادبا کی صف میں شاید کوئی مقام حصال کرنا ناممکن ہے، لیکن افسانوں سے ان کی طبعی مناسبت اور تجربے کی سچائی نے یہ باور کرادیا کہ اس سمت میں اس کی پرواز بلندیوں تک پہنچ سکتی ہے۔ان کی تخلیقی کاوشوںکو جب قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو خورشید حیات کی زندگی کا تصور روشن ہوجاتا ہے ۔وہ اپنے معاصرین میں ممتاز نظر آنے لگتے ہیں۔ان کی تخلیقات میں بہت سی کہانیاں ایسی منظرعام پر آگئیں جنھوںنے خورشید حیات کو افسانہ کی حیات بخش دی۔ اپنے اس عہد میں خورشید حیات نے افسانوں کے ذریعے جلد شہرت حاصل کرلی۔ڈاکٹر شہاب ظفراعظمی کا یہ اقتباس دیکھئے:


’’ خورشید حیات کے افسانوں میں تخلیقی نثر کی مجموعی فضا کا تخلیقی رنگ انھیں اپنے ہم عصروں میں ممتازکرتا ہے۔خارجیت سے داخلیت اور داخلیت سے خارجیت تک کے تخلیقی سفر میں وہ تجربے کی سچائی کو نقطۂ عروج تک کچھ اس طرح پہنچاتے ہیں کہ اس میں کئی کہانی کی نہریں پھوٹتی نظرآتی ہیں۔ہر لفظ میں حیات کا منفرد اکسپریشن کروٹ کروٹ انسانی زندگی کی ہتھیلی پر ایک نیا خورشید رکھ جاتاہے تاکہ اندھیرا چھین نہ سکے کسی کے حصے کی روشنی۔‘‘(۱۴)


خورشید حیات وہ منفرد افسانہ نگار ہیں جو افسانہ نگاری کے میدان میں جدیدموضوعات والے فکری فنکاروں میں شامل ہیں۔انھیں افسانہ نگاری کے فن کی تکنیک کو استعمال کرنے میں جو مہارت حاصل ہے وہ اس تحیّر کی وجہ سے قائم ہے۔ان کے افسانے’سورج ابھی جاگ رہا ہے‘ ، خبر ہونے تک ، آدم خور، پہاڑ۔ندی۔عورت بہت اہم ہیں۔یہ سبھی افسانے قارئین کو غوروفکر کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ نئے نئے سوالات بھی قائم کرتے ہیں۔ان افسانوں میں فکری مشابہت زیادہ پائی جاتی ہے۔
’پہاڑ۔ندی۔عورت‘ خورشید حیات کااہم اور قابل ذکر افسانہ ہے جسے مختصر اور علامتی افسانہ قرار دیاجاسکتاہے۔اس میں افسانہ نگار کا تخلیقی جوہر سامنے آتاہے۔اس کہانی میں محبت کا فلسفہ ہے جس کو افسانہ نگارنے اس منفرد طریقۂ کار کے ساتھ پیش کیا ہے جو قارئین کو سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔کہانی کی ابتدا میں ایک عورت ریل گاڑی میںسفر کرتی ہے جو ایک خوبصورت تصویر بنانے کی پُر زور کوشش کر رہی ہے اور یہ کوشش جب انجام کو پہنچتی ہے تو ایک خوبصورت تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔اس خوبصورت تصویر میں افسانہ نگار اپنی شہزادی کو تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔


خورشید حیات نیک سیرت انسان ہیں جو سب سے محبت کرتے ہیں ، مگر وہ اس محبت کو پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔ افسانہ ’ پہاڑ ۔ ندی۔عورت ‘ ایک ایسی کہانی ہے جو قارئین کو غوروفکر کی دعوت دیتے ہوئے تخلیقی اشاروں،کنایوں کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اور اپنے آپ میں مشکوک اور درد وفکر سے آراستہ ہے۔یہ ایک ایسی کہانی ہے جس کے ساتھ کئی کہانیاں چلتی نظر آتی ہیں، افسانہ نگار کی تخلیقی چابکدستی دیکھئے کہ اس کہانی کے ساتھ افسانہ نگار نے کئی نئی کہانیاں ، نئے سلسلے او رہجرت کے نئے قصوںکو پیش کیا ہے۔کہانی ’پہاڑ۔ندی۔عورت‘ کا یہ اقتباس دیکھئے:


’’کہیں یہ وہ شہزادی تو نہیں جو سادگی کے لباس میں لپیٹی ہوئی سامنے والی برتھ پر بیٹھی اجالوں میں رنگوں سے کھیل رہی ہے۔نئے سروںکے ساتھ اے۔سی کوچ کی ٹھنڈی ہوائوں میں گھل مل رہی ہے۔
دونوں ایک دشا کے مسافر تھے۔وہ رنگوں میں زندگی تلاش کررہی تھی اور وہ ان رنگوںمیں اپنی شہزادی کو دیکھ رہا تھا۔’میں‘ میں اترکر’میں‘ کی تلاش اب کہاں کوئی کرتا ہے اب توصرف وہ اور وہ سب کی باتیں ہوتی ہیں۔وہ دوہاتھ کس کے ہیں۔کہاں سے آتے ہیں اورچند لمحوں میں معصوم پرندوں کے پر کتر کرچکے جاتے ہیں اور پھر تنکوں سے جھانکتے ہیں اور صحافی کا کمرہ ان کا پیچھا کرتا دکھائی دیتا ہے۔‘‘(پہاڑ۔ندی۔عورت ، خورشید حیات)
افسانہ نگار محبت کے معاملے میں دکھاواپسند نہیں کرتا۔اس لیے افسانہ ’پہاڑ۔ندی۔ عورت‘ کو تہہ داری سے پڑھنے کی اشد ضرورت ہے۔اس افسانے میں فکری لہریں اور درد انگیزی قارئین کو تخیلات کی دنیا میں داخل کراتے ہوئے انھیں سوچنے پر مجبور کردیتی ہے۔


افسانہ کا پلاٹ صاف ستھرا ہے۔یہ افسانہ ہمیں ایسی قدرتی مناظر کی سیر کراتاہے جو اپنی خوبصورتی اور انفرادیت کے لیے اہم ہے۔’’پہاڑ ۔ندی۔عورت‘‘ میں تینوں اشاروں،کنایوں کا استعمال افسانوی ادب کی تخلیق کا وہ خوبصورت جمال ہے جسے خورشید حیات نے جدید فنّی طریقۂ کار کے ساتھ منفرد انداز میں پیش کیا ہے۔اس افسانے میں انھوںنے نئی طرز ، نئی تکنیک اور نئے اسلوب کا استعمال کیا ہے۔ اساطیری تلمیحات ان کے علاقے کی چیزیں ہیں، اس لیے ان کے افسانے نئے اور جدید معلوم ہوتے ہیں۔ان کے اسلوب بیان میں نیا انداز ہے اور ان کا یہ نیا انداز بیان اس جانب اشارہ کرتاہے کہ خورشید حیات کہانی کے کہانی پن سے بخوبی واقف ہیں۔ اس کہانی کو سمجھنے کے لیے بار بار قرأت کرنا ضروری ہے اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتاکہ یہ افسانہ عام لوگوںکے لیے بھی نہیں ہے۔ان کے افسانے میں کہیں فال بیک کی تکنیک ملتی ہے تو کہیںوہ علامتی سطح کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں ۔ وہ علامتوںکا سہارالے کر ایک نئی سمت کی جانب قدم بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔


افسانہ نگار نے اس افسانے میں جن اشاروںکنایوں کا استعمال کیا ہے ، وہ جدیداور منفرد تفہیمات کی مشکل راہوں سے آراستہ ہوتے ہیں۔اس کہانی میں خورشید حیات اس عہد کی یاد تازہ کرادیتا ہے جس میں خیالی، قیاسی، اور علامتی امور کے استعمال کا فیشن تھا۔افسانہ نگارنے جدیدیت کے سحر میںڈوب کر علامتی اور تجریدی افسانے لکھے۔ جن میں افسانہ ’پہاڑ۔ندی۔ عورت‘ اس کی اچھی مثال ہے۔ افسانہ میں پہاڑ کا استعمال طاقت ، عظمت، بلندی اور حوصلہ کی علامت ہے اوریہ علامت جب اپنے بلند ارادے اور حوصلے کو تلاش کرتی ہے تو بے ساختہ اس کے پاس اہم اخلاقی امور اپنے آپ روشن کرلیتے ہیں۔معاشرتی اور سماجی سطح پر ایک بڑا دائرہ اس میں شامل ہے جس میں انسانی زندگی کی توقعات اور خواہشات ملتی ہیں۔بچوں کی زبان، سورج گہن، چاندگہن پر بھی سوالات قائم کیے گئے ہیں۔ہوائوں ، طوفانوں کا ذکر منفرد انداز میں کیا جاتاہے۔کھیتوں میں پیدا کی جانے والی سبزیوں ، چاول کی فصلوں کو مسالو ں کے ساتھ پکانے پر نکلنے والی خوشنما خوشبو جو گھروں سے نکلتی ہے ، اس کو منفرد طریقۂ کار سے لوگوںکو محسوس کرایاجاتاہے۔ یعنی افسانہ نگار معاشرے میں پھیلے ہوئے تہذیبی پس منظر کو بیان کرنا چاہتا ہے کہ جہاں مشترکہ تہذیب ملتی ہے۔اس سے سب مانوس ہوتے ہیں۔وہ کسی ایک فرد ، معاشرے یاملک کے لیے نہیں ہوتی بلکہ پوری کائنات کے لیے ہوتی ہے مگر افسوس یہاں پر تہذیب کے لیے کوشش یا جستجو نہیں ہوتی۔کہانی کا یہ اقتباس دیکھئے:
’’ الگ الگ کھیتوں میں اُگی ہوئی یہ سبزیاں جب ایک ساتھ ملتی ہیں چاول کے دانوں کے ساتھ ، گرم مسالوں کے ساتھ، بھاپ سے پکتی ہیں تو ایک نئی خوشبو کچن سے نکل کر پڑوس کے کچن تک سرحدوں کو توڑتے ہوئے پہنچ جاتی ہے۔خوشبوئیں لکیروںکو نہیں مانتیں۔یہ ہوائیں کتنی معصوم ہیں۔یہاں تہذیب کی نہ تو کوئی جنگ ہوتی ہے اورنہ ہی کوئی دیواریں۔‘‘
(کہانی : پہاڑ۔ندی۔عورت)


خورشید حیات کی کہانی میں فطرت کی بالادستی ہے او ریہ ہی وہ اہم شے ہے جو کسی بھی افسانہ نگار کی ہنر مندی میں اہم مقام رکھتی ہے۔ بلاکسی حیرت انگیزی کے یہ کہاجاسکتاہے کہ افسانہ نگار اس کے اصل حقدار ہیں۔خورشید حیات کو افسانوی ادب کی بانگِ درا کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ویسے تو عہد جدید میں افسانوی ادب نے بڑے ممتاز اور نامور تخلیق کار عطاکیے جنھوںنے عمدہ اور حقیقت کے عکاسی کرنے والے افسانے تخلیق کیے۔ان میں خورشید حیات بھی شامل ہیں جنھوںنے’ لفظوںکی موت‘ ،’سورج ابھی جاگ رہا ہے ‘،اور’پہاڑ۔ندی۔ عورت‘ لکھ کر جدید ادبی روایت کو مزید تقویت عطاکی اور جدید افسانوی روایت کو آگے بڑھایا۔ اس لحاظ سے وہ قابل ستائش ہیں، نئی صدی کے آغاز میں خورشید حیات نے عمدہ افسانے لکھ کر ان کونئی سمت میں روشن کیا۔


افسانہ ’پہاڑ۔ندی۔عورت‘ میں دوخاص علامتیں پائی جاتی ہیںجن کو افسانہ نگار نے اس طرح بیان کیا ہے کہ کہانی کی اصل شکل وصورت ایک ساتھ جمع ہوکر افسانوی ادب میں کہانی پن کی خصوصیات لیے ہوئے شامل ہوجاتی ہیں۔پہاڑ کا استعمال کسی حقیقت کو بہتر طورپر دیکھنے سمجھنے کے لیے ہوا ہے۔ افسانہ نگار تسلیم کرتا ہے کہ پہاڑ ہی طاقت ، عظمت اور بلند حوصلہ کی نشانی ہے۔ پہاڑ کو دیکھ کر انسان کو محسو س ہوتا ہے کہ قوت اور شکست کی شناخت ہے۔یہ دونوں باتیں یا علامتیں تخلیقی اعتبار سے ظاہر کرتی ہیں کہ خورشید حیات شکست وریخت او رخاکساری کا ایسا پتلا ہے کہ وہ تمام چیزوں کو جاننے پہچاننے کے لیے ایسی تخلیقی باریکیاں قارئین کے روبرو پیش کرتے ہیں جن میں ان کی زندگی حیرت انگیزی کی مثال بن جاتی ہے۔افسانہ نگار اپنے تخلیقی سفر میں چابکد ستی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔وہ قدرتی مناظر کو خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔جب افسانہ نگار ’پہاڑ ‘لفظ کا استعمال کرتے ہیں تو ان کے اوپر ایک ایسی طاقت کا تصور ہوتا ہے جو باہمت اور بلند ہو۔’پہاڑ‘ ان کی کہانی میںمحبت کی بڑی نشانی کے طورپر سامنے آتا ہے۔اس تخیلات کے سمند میں افسانہ نگار خود ڈوبا رہتا ہے اور قارئین کو بھی علامات اور تجریدی لہروںکی سیر کراتاہے۔ اس منصوبہ بندی کے ساتھ کہ عورت اپنے شوہر کو جذباتی احتیاط بخشتی ہے او ریہ جذباتی تحفظ حقیقتاً ذہنی چین وسکون کی وہ پر لطف اندوز تفسیر ہے جو مرد کو حاصل ہوتی ہے۔ اس پر لطف تفسیر کے ساتھ ساتھ مرد خود بخود اپنے آپ کو پہاڑ جیسا طاقتور محسوس کرتا ہے۔خورشید حیات کے افسانے ’پہاڑ۔ندی۔عورت‘ میں قدرتی آفات وپریشانیاں عورتوںاو رمردوںپر نازل ہوتی ہیںجن کو خورشید حیات نے علامتی انداز میں پیش کیا ہے۔ان کی کہانی میں انسانوںکا درد وکرب اور لاشیں ہیں۔ڈاکٹر عشرت ناہید کا یہ اقتباس دیکھئے:


’’جب افسانہ نگاروں کا سارا دھیان عورتوںکے بد ن پر مرکوز تھا تو خورشید کی کہانیاں ندی میں بہتی زندہ لاشوںسے باتیں کررہی تھیں۔ان کی کہانی’پہاڑ۔ندی۔عورت‘ میں کیدارناتھ کے قدرتی آفات جو پہاڑ اور ندی پر نازل ہوئے تھے، اسے انھوںنے آج کے مرد کے بدلتے ہوئے رویوں سے جوڑنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔‘‘ (۱۵)
عہد حاضر میں عورت گھر سے باہر نکل کر مرد کے ساتھ ساتھ چل کر اپنی زندگی کو نیا موڑ دے چکی ہے۔سیاسی ، سماجی ، معاشی اور اقتصادی طورپر اہمیت حاصل کرچکی ہے۔زیادہ تر عورتیں گھریلوذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ سماج کی دوسری ذمہ داریوں کو بھی نبھارہی ہیں۔آج کی عورت پہاڑیوں کی چوٹیوں کو بھی چھوٹا کرکے دکھارہی ہے۔ ہوائی جہاز خلائوںمیں اڑارہی ہے، اور اس عورت کو یہ مقام دینے والا بھی پہاڑ ہی ہے۔یہ عورت ایک ایسی علامت ہے جو انسان کو حوصلہ بخشتی ہے ۔مرد کو چین وسکون سے آراستہ کرتی ہے۔خورشید نے بڑی فنکاری سے افسانہ میں عورت کی اہمیت کو علامت کے طورپر پیش کیا ہے اور یہ عورت ایک ایسی مخصوص علامت ہے جو انسان کو فطری طاقت عطاکرنے میں معاون ہوتی ہے۔اس پوری کائنات میں جو حسن نظر آتاہے وہ عورت کی ہی دین ہے۔علامہ اقبال نے بھی کیا خوب کہا ہے :
وجود زن سے ہے کائنات میں رنگ


دوسری جانب خورشید حیات نے افسانے میں ’ندی‘ کا استعمال کیا ہے جس میں تیز بہائو ہے ، روانی ہے ، تیزی ہے، آگے کی جانب رواں دواں ہونے کی صلاحیت ہے مگر حیر ت انگیزی کی بات یہ ہے کہ یہ ندی بھی خود پہاڑ سے ہی نکلتی ہے اور اس ندی سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ ندی کا جسم اور اس کی حیثیت زندگی میں ذہنی سکون اور خوشگوار ماحول پیداکرنے کے ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ندی کی علامت انسانی زندگی کی ذہنی تسکین سے ہے اور اس میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہے ۔ندی کا وجو دانسانی زندگی کی خوشبواور ذہنی تسکین کے لیے اشد ضروری ہے۔یہ ندی ایک ایسی علامت ہے جو انسان کو تخلیقی قوت عطاکرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ندی یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان کے رنج والم کو دور کرنا اور اس کو ہرممکن ذہنی وجسمانی سکون عطاکرنا اشد ضروری ہے۔افسانہ ’پہاڑ۔ندی۔عورت ‘ کا یہ اقتباس دیکھئے:


’’ اچھا اچھا تم خود کو ندی سمجھ بیٹھے ہو۔لگتے تو ہوپہاڑجیسے مضبوط ارادے والے کسی حد تک ٹھیک ہی سمجھاتم نے،ایک ایسا پہاڑ جس کی مضبوط بانہوں سے ندی آزاد ہوتی ہے۔آج تو بارودوں سے اس کی پسلیاں توڑی جارہی ہیں۔
’’اُف یہ بارود سے ٹوٹتی ہوئی پسلیوں کا درد!‘‘
رنگوںسے کھیلنے والی اے عورت شاید تم بھی پہاڑ ندی ہو۔
ایک مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر پھیل گئی۔ایسا محسوس ہوا جیسے ندی کے بدن پر پہاڑنے اپنی مضبوط انگلیوں سے ایک نئی عبارت لکھنے کی کوشش کی ہو، مگر ندی کے باندھ نے اسے روک دیا ہو۔‘‘
پہلے ہم دیکھتے تھے کہ ساگروں کے موسم میں بادل ایک دوسرے سے جڑے رہتے تھے ۔ کہیں اِدھر اُدھر بھٹکتے نظر نہیں آتے تھے۔
مگر افسوس آج جس طرح آدمی قبیلوں میں ، طبقوں میں اور مذہبی فرقوںمیں بٹ گیا ہے۔ آج بادل بھی آدمی کی طرح ادھر ادھر بھٹکتے نظرآتے ہیں ۔آدمیوں کے قبیلوں کی طرح بادل بھی الگ الگ بٹ گئے ہیں۔
موسم کا مزاج بھی آدمی کے مزا ج کی طرح بدلتا رہتاہے۔


افسانہ نگار نے ندی کو ایسے حادثات کی یادگار بناکر پیش کیا ہے کہ کائنات میں انسان کسی بھی طرح کی مایوسی کاشکار نہ ہوبلکہ ندی کی مانند آگے کی جانب رواں دواں رہے۔مسلسل حرکت میں رہے۔تسلسل کے ساتھ قدم آگے کی جانب بڑھتے رہیں۔یہ افسانہ اپنی منفرد تکنیک، جدید علامات میں اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور قارئین کے روبرو قدرتی جدیدتکنیکی رویوں کو پیش کرتا ہے۔مجموعی اعتبارسے کہہ سکتے ہیں کہ خورشید حیات کا یہ افسانہ انسانی کائنات کے درد کو سمیٹے ہوئے ہے۔


افسانہ ’پہاڑ۔ندی۔عورت‘ خورشید حیات کی ایک اہم کہانی ہے۔اس کہانی کے ساتھ ساتھ کئی کہانیاں چلتی نظرآتی ہیں۔ریل گاڑی میں بیٹھی عورت ایک خوبصورت تصویر بنانے کی کوشش کررہی ہے اور یہ کوشش جب انجام کو پہنچتی ہے تو ایک خوبصورت تصویر سامنے آتی ہے۔ اس خوبصورت تصویر میں افسانہ نگار اپنی شہزادی کو تلاش کررہا ہے۔سفر کرتے وقت انسان کے آگے اس کی روشنی چلتی نظرآتی ہے۔
٭٭٭

شیئر کریں

کمنٹ کریں