فاسفورس کی اہمیت

ہمارا ڈی این اے فاسفورس کے بغیر کبھی بھی وجود میں نا آتا، لیکن ایک شہابیہ دور کہکشاں کے کسی کونے سے اپنے اندر فاسفورس مونو آکسائڈ لیکر زمین سے ٹکرایا اور زمین پہ زندگی کے وجود کی بنیاد بنا۔

یاد رہے یہ کہکشاں اتنی وسیع ہے کہ اگر آپ روشنی کہ رفتار سے بھی سفر کریں تو آپ کو اس کے مرکز تک پہنچنے کے لئے 25 ہزار نوری سال لگیں گے وہیں یہ کہکشاں ایک لاکھ نوری سال کے رقبے پہ محیط ہے۔

اس کائنات کے پرے کئی کہکشائیں ہیں۔ ابھی تک کے اعداد و شمار کے مطابق ان کی تعداد 125 ارب ہے۔

اب ہر کہکشاں میں ایک ارب تک ایسے سیارے ہیں جو کہ ہو بہو زمین جیسے ہیں۔ ان سیاروں کو ہم habitable planets یا پھر قابل رہائش سیاروں کے نام سے جانتے ہیں۔ ہماری کہکشاں میں کیپلر زون زمین جیسے سیاروں سے بھری پڑی ہے۔ اور اس کا یہاں سے فاصلہ ہزاروں نوری سال ہے۔

یاد رہے زندگی کی جو قسم یہاں پائی جاتی ہے صرف وہی زندگی کی حتمی شکل نہیں ہے بلکہ سلیکون بیسڈ حیاتیاتی ماڈل اس کائنات میں زیادہ ہوسکتے ہیں۔ سلیکون بیسڈ ماڈل یوں سمجھ لیں جیسے چھوئی موئی یا “جناتی” ماڈل جو کہ ہر جسم سے آرپار گزر سکتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ہماری کہکشاں میں اس وقت آدھے سے زیادہ سورج جیسے سیارے قابل حیات سیارے رکھتے ہیں۔ اب یہ ان کی عمر پہ منحصر ہے کہ وہاں زندگی کس مقام تک پہنچ گئی ہے اور کس تک پہنچ کر ختم ہو چکی ہے۔ یہ سب ایک قیاس ہے۔

اس کہکشاں میں ذہین زندگی کے ہونے کے امکانات بارے ایک سائنسدان فرمی نے اپنا مخاصمہ پیش کیا کہ اگر اس سیارے میں کوئی ذہین مخلوق ہوتی تو اب تک وہ ہم کو تلاش کر چکی ہوتی۔ لیکن یہ سوالکہ کوئی دوسرے سیارے کی متوقع ذہین مخلوق ہماری تلاش میں کیونکر نکل سکتی ہے؟

کیا پتا ان کا معاشرتی نظام اتنا مختلف ہو کہ وہ ہماری طرح سوچتے ہی نا ہوں۔ ہم اس وقت ارتقاء کی دوڑ میں بالکل نئی مخلوق ہیں۔ ہمیں ذہانت حاصل کئے ابھی چند ہزار سال ہوئے ہیں جبکہ ٹیکنالوجی کو پائے صرف ڈیڑھ سو سال۔

سوچیں اگر ہمیں مزید سو سال تک ایسی کسی مخلوق کا ثبوت نہیں ملتا جو کہ زمین سے باہر وجود رکھتی ہے تو ہم پھر ایسا سوچنا تقریبا چھوڑ دیں گے کہ اس سیارے کے باہر بھی زندگی ہو سکتی ہے۔ تب ہماری توجہ زیادہ تر دوسرے سیاروں جیسا کہ مریخ، الفا سنچوری وغیرہ کو آباد کرنے میں مبذول ہو جائے گی۔ کیونکہ آنے والے سو سالوں میں ہماری آبادی حد سے زیادہ بڑھ جانی ہے ایسے میں بہت سے امیر انسان اس سیارے کو ایک مہمان خانہ سمجھ لیں اس بات کا قیاس کرنا بہت لاجیکل ہے۔ یہی صورتحال باقی کے سیاروں پہ ہوسکتی ہے جو کہ اس کائنات کے مرکز کے پاس ہیں اور وہ ذہین زندگی ایک شکل میں رکھتے ہیں۔ لیکن چونکہ ان کو وہاں پہ ذہین زندگی کی تلاش میں سینکڑوں سال لگانے پہ بھی کچھ نہیں ملا کیونکہ سیارہ زمین ان سے پچیس ہزار نوری سال دور ہے تو انہوں نے ایسی تمام کوششیں ترک کر دی ہوں۔

اسی طرح ایک اور امکان یہ بھی ہے کہ چونکہ اس کائنات میں آوارہ گرد پتھروں کی بہتات ہے تو یہ پتھر جنہیں ہم شہابیہ کہتے ہیں ذہین زندگی کو کہیں ارتقا پذیر ہی نا ہوتے دیں؟

سوچیں اگر زمین پہ آج سے کڑوڑوں سال پہلے ڈائنوسارس نا پید نا ہوتے تو آج کیا آپ یہاں پہ وجود رکھتے؟ کیا آپ کسی انسان کو دیکھتے؟ بہت مشکل۔ ایسا ہی اس کائنات میں ہر دوسرے زمین جیسے سیارے پہ ہو رہا ہے۔ اور ہو سکتا ہے وہاں ایسا ہو چکا ہو۔

ہماری زندگی میں 1/13000 امکانات ایسے ہیں کہ ہم کسی شہابیے کی زد میں آ کے مارے جائیں۔ یاد رہے ایسی آفت اعداد و شمار دیکھ کر نہیں آتی بالکل ویسے ہی جیسے اعداد و شمار کے مطابق اس کہکشاں کے مرکز سے فاسفورس کے اسی زمین پہ آنے کے امکانات کڑوڑوں میں ایک اور زمین پہ اس فاسفورس کے ملکر اتنی مقدار میں ڈی این اے والے مالیکیولز سے جڑنے کے امکانات لاکھوں میں ایک تھے۔ سو تلاش جاری رکھنا بھی ضروری ہے اور شکر بجا لانا بھی کہ ہم وجود رکھتے ہیں۔

تحریر: ضیغم قدیر

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں