فزکس کا مستقبل

physics
physics

لارج ہیڈرون کولائیڈر کے دس سال اور پارٹیکل فزکس کا مستقبل

تحریر: وہارا امباکر
نوٹ: اوپر لگی تصویر چین میں زیرِ تعمیر تحقیقاتی مرکز کا ماڈل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پارٹیکل فزکس کی سب سے بڑی تجربہ گاہ سرن لیبارٹری کا لارج ہیڈرون کولائیڈر ہے۔ انجینرنگ کے اس شاہکار کی تعمیر 1998 سے 2008 کے درمیان ہوئی۔ فرانس اور سوٹیزلینڈ کی سرحد پر ستائیس کلومیٹر لمبی سرنگ میں اس تجربہ گاہ میں دس ہزار سے زیادہ سائنسدانوں اور سینکڑوں یونیورسٹیوں اور لیبارٹریوں نے حصہ لیا۔ زیادہ توانائی کے لئے اس میں 2013 سے 2015 تک اس کو روک کر اس میں اپ گریڈ کیا گیا۔ 13 ٹیرا الیکٹرون وولٹ کی انرجی پر پروٹون کے تصادم کا ریکارڈ 2015 میں حاصل ہوا۔ اس وقت یہ بند ہے اور اپ گریڈ کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ اس برس اس کا آپریشن دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔ اسی میں ایک پراجیکٹ کا اضافہ جا رہا ہے جس سے پیمائش حاصل کرنے کی صلاحیت دس گنا بہتر ہو سکے گی۔ اس پراجیکٹ کی تکمیل 2027 تک متوقع ہے۔ (یہ High Luminosity Large Hadron Collider کی اپ گریڈ ہے)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اگرچہ 2008 کے مقناطیس میں ناکامی کے حادثے کی وجہ سے اس کے افتتاح میں چودہ ماہ کی تاخیر ہوئی لیکن انجینرنگ کے اعتبار سے لارج ہیڈرون کولائیڈر بہت کامیاب پراجیکٹ رہا ہے۔ ایک نظر اس پر کہ ہم نے اس سے ابھی تک کیا سیکھا ہے؟ اس کیلئے پہلے ہم ان توقعات پر نظر ڈالتے ہیں جو اس کے آپریشن شروع ہونے سے پہلے تھیں۔
ماس کی وجہ، نئے ذرات، سپرسمٹری، اضافی ڈائمنشنز، گمشدہ ضدِ مادہ، سٹرنگ بال، بلیک ہول، ٹائم ٹریول، پیرالل یونیورس سے رابطہ، unparticles کی دریافت، تاریک مادہ، تاریک توانائی کے بھید کھلنا ۔۔ اس تجربہ گاہ میں ذرات کا تصادم کروائے جانے سے قبل بہت سی امیدیں تھیں۔ خاص طور پر ماس کی وجہ اور نئے ذرات ملنے کی توقع ہر ایک کو ہی تھی۔
مندرجہ ذیل مختلف اقتباسات مختلف سائنسدانوں کی طرف سے 2008 سے 2010 کے عرصے میں لئے گئے ہیں۔


کائنات کا ماس کتنا ہے؟ یہ کس سے بنی ہے؟ ہمیں جلد ہی یہ جواب مل جائیں گے”۔ فزکس ٹوڈے میں آرٹیکل
“سکوارک، فوٹینو، نیوٹرالینو۔ یہ چند قسم کے پارٹیکل ہیں جو توقع ہے کہ نظر آ ہی جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ مزید کیا کچھ ملتا ہے۔ ہم نئی فزکس کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اس بہار فزکس کا نیا دور شروع ہو گا۔”۔ کلارا ماسکووٹز
“مجھے امید ہے کہ ہم نئی ڈائمنشنز کی موجودگی کی تصدیق کر لیں گے”۔ لیوس پیج
“ایک بڑا سوال یہ ہے کہ ضدِ مادہ کہاں ہے؟ لارج ہیڈرون کولائیڈر سے اس سوال کا جواب مل سکے گا”۔ تارا شئیرز
“ہگز اور سپرسمٹری بہت ہی اچھی تھیورٹیکل بنیاد پر ہیں۔ یہ تو مل ہی جائیں گے۔ کچھ تھیورسٹ ایسا بھی سمجھتے ہیں کہ اضافی ڈائمنشنز، منی بلیک ہو، نئی فورسز، کوارک اور الیکٹرون سے چھوٹے پارٹیکلز مل سکتے ہیں۔ ٹائم ٹریول کا ایک ٹیسٹ بھی تجویز کیا گیا ہے” ۔ویلری جامیسن
“ہمیں اچھا اندازہ ہے کہ اس مشین سے کیا ملے گا۔ نئے ذرات کے علاوہ تاریک مادے کا عقدہ کھلنا بڑی دریافت ہو گی۔ کیونکہ کائنات کا پچیس فیصد یہی نامعلوم مادہ ہے۔” آئن سیمپل
“تھیورسٹ یہ پیشگوئی کرتے ہیں کہ سپرسمٹری کے شاندار سگنل ہمیں مل جائیں گے”۔ پال لانگاکر
“سپرسمٹری یا تو ثابت ہو جائے گی یا یہ باب بند ہو جائے گا۔” مائیکل ڈائن
“ماس کی وجہ کا علم ہو سکتا ہے۔ ٹائم اور سپیس کی پانچویں، چھٹی اور ساتویں ڈائمنشن کا پتا لگ سکتا ہے”۔
“کولائیڈ تاریک مادہ پیدا کر سکتا ہے۔ تاریک توانائی کو روشن کر سکتا ہے۔ اگر ٹھیک طرح سے سیٹ کیا جائے تو پھر مائیکروسکوپک بلیک ہول بنائے جا سکتے ہیں۔” سٹیو گِڈنگس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


لارج ہیڈرون کولائیڈر کی بڑی دریافت 2012 میں ہوئی جو ہگز بوزون کی تھی۔ اس بوزون کے ہاتھ آ جانے نے ہگز فیلڈ کی موجودگی کی تصدیق کر دی۔ اس کے علاوہ کچھ بھی اور نہیں ملا۔ خاص طور پر، کسی ایک نئے ذرے کا بھی نظر نہ آنا غیرمتوقع رہا ہے۔
پچھلے چالیس برس سے جاری پروٹون ڈیکے کی تلاش میں ناکامی اور لارج ہیڈرون کولائیڈر کے اب تک کے نتائج سپرسمٹری اور نتیجتاً سٹرنگ تھیوری کے لئے اچھی خبر نہیں۔ (تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا باب ختم ہو گیا۔ اس پر تفصیل آنے والی اقساط میں)۔
ایسا کیوں ہوا؟ اس کا آسان جواب شاید یہ ہو کہ ایسی کوئی توقع بہت اچھی بنیاد پر نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہگز بوزون کی موجودگی کی توقع اس لئے تھی کہ ہگز کے بغیر فزکس کا سٹینڈرڈ ماڈل ریاضیاتی اعتبار سے اس انرجی لیول پر بے ربط ہو جاتا ہے جو لارج ہیڈرون کولائیڈر میں تھے۔ (اس میں پرابیبیلیٹی کے جواب “ایک” سے زیادہ آنے لگتے ہیں)۔ اس لئے ہمیں اس مشین کے آن ہونے سے پہلے معلوم تھا کہ اس حوالے سے کچھ نیا تو ملے گا ہی۔ یا تو ہگز بوزون مل جائے گا یا اس کے بجائے پھر کچھ اور (متوقع یا غیرمتوقع) نظر آئے گا۔ (ہگز ممکنہ طریقوں میں سے ایک تھا)۔ ہگز والا جواب درست نکلا۔
اس کے مقابلے میں اضافی ڈائمنشن، سپرسمٹری، اضافی ذرات “غیرضروری” خیالات تھے۔ یعنی ان کا ملنا لازم نہیں تھا بلکہ ایک امید ہی تھی کہ کچھ نیا مل جانے پر تھیوریٹیکل فزکس میں آگے جانے کیلئے مختلف راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جا سکے۔
مثلاً، سٹینڈرڈ ماڈل میں ایک عدد ہے جو بہت چھوٹا ہے (ہگز بوزون اور پلانک ماس کا تناسب)۔ اس کے چھوٹا ہونے کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ سٹینڈرڈ ماڈل اس عدد کے ساتھ ٹھیک کام کرتا ہے۔ صرف یہ کہ یہ عدد خوبصورت نہیں لگتا۔ یہاں پر ہماری خوبصورتی کی خواہش نیچر نے مسترد کر کے بتایا کہ اسے ہماری خواہشات یا ریاضی کی خوبصورتی کی خاص پرواہ نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اس تجربہ گاہ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے ہم پارٹیکل فزکس کے مستقبل کا کیا اندازہ لگا سکتے ہیں؟ اسی جگہ پر 2050 میں مکمل ہونے والے کولائیڈر کا ڈیزائن تو بنا لیا گیا ہے لیکن لارج ہیڈرون کولائیڈر سے متوقع بڑے نتائج کے نہ ملنے اور بائیس ارب ڈالر کے تخمینے کی وجہ سے امکان یہی ہے کہ اس کی منظوری نہ مل سکے گی۔ چین میں سو کلومیٹر لمبا بڑا کولائیڈر زیرِتعمیر ہے جس کی تعمیر 2030 تک مکمل ہونے کی توقع ہے جو لارج ہیڈرون کولائیڈر سے سات گنا زیادہ توانائی رکھے گا۔ لارج ہیڈرون کولائیڈر کی اگلی اپ گریڈ یا چین میں سرکلر الیکٹرون پوزیٹرون کولائیڈر کے بارے میں لگائی جانے والی توقعات کے بارے میں اب سائنسدان مقابلتاً زیادہ محتاط ہیں۔ لیکن چینی کولائیڈر تجربہ گاہوں کی rings کا لارڈ ہو گا۔


تاہم پارٹیکل فزکس صرف کولائیڈر کی فزکس نہیں ہے۔ ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ لارج ہیڈرون کولائیڈر میں کچھ نیا دریافت نہ ہونے کی مایوسی کی وجہ سے تحقیق کے فنڈ دوسری جگہوں اور تحقیقات کی دوسری سمت کی طرف جائیں گے۔ چونکہ فنڈ محدود ہی ہوتے ہیں تو یہ دوسرے شعبوں کے لئے اچھی خبر ہو گی۔ آسٹروفزکس زیادہ توجہ حاصل کر سکتی ہے۔ خاص طور پر ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کی سٹڈی۔ دوسری تبدیلی ہائی انرجی فزکس کے بجائے ہائی پریسیژن فزکس کی طرف زیادہ توجہ ہو سکتی ہے (لارج ہیڈرون کولائیڈر کی جاری اپ گریڈ بھی اسی سلسلے میں ہی ہے)۔ کم توانائی پر یا ٹیبل ٹاپ تجربات میں پارٹیکل سسٹمز کے کوانٹم اثرات کو زیادہ باریک بینی سے پڑھنے کی ٹیکنالوجی زیادہ توجہ حاصل کر سکتی ہے۔ اور سمت کی یہ تبدیلی پارٹیکل فزکس کے لئے اچھی خبر ہو گی کیونکہ فزکس میں ابھی تحقیق کے لئے بہت کچھ ہے۔ صرف ایک خیال پر زیادہ توجہ دینا ہمارے آگے بڑھنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں