Poliomyelitis
Poliomyelitis

ترتیب و انتخاب ۔۔۔ زاہد آرائیں

پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے۔ یہ بیماری بچوں میں عام ہوتی ہے لیکن اس کے شکار بالغ افراد بھی ہوسکتے ہیں۔ پولیو ایک سنگین اور ممکنہ طور پر مہلک متعدی بیماری ہے۔ پولیو وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ شخص کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں فالج (جسم کے کچھ حصوں کو حرکت نہ دے سکنا ) ہو سکتا ہے۔ پولیو 1998 میں تقریباً دنیا کے تمام ہی ممالک میں موجود تھا اور براعظم افریقہ کے تمام ہی ممالک اس وائرس سے شدید متاثر تھے۔ سن 2011 تک پولیو صرف بھارت، پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں رہ گیا تھا۔ جبکہ بھارت کو 2011 میں پولیو فری ملک قرار دیے جانے کے بعد 2014 میں نائجیریا میں بھی پولیو ختم ہوچکا ہے۔ اور اب پولیو وائرس صرف پاکستان اور افغانستان میں رہ گیا ہے۔

علامات
پولیو وائرس سے متاثر ہونے والے زیادہ تر لوگوں میں عام طور پر یہ علامات نظر آئیں گی۔
گلے کی سوزش، بخار، تھکاوٹ، قے یا متلی، سردرد اور
پیٹ میں درد۔ مگر یہ علامات عام طور پر 2 سے 5 دن کے بعد اپنے طور پر دور ہو جاتی ہیں۔ پولیو وائرس انفیکشن کے ساتھ لوگوں کو ایک چھوٹے تناسب میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے جس سے دوسرے وائرسز سے زیادہ سنگین علامات کے ساتھ نظر آتا ہے جن میں ۔Paresthesia پیروں میں سوئیاں چبھنے کا احساس اور مینجائٹس ریڑھ کی ہڈی اور دماغ کے ڈھانپنے کی انفیکشن ہے۔

پولیو کی پانچ اقسام ہیں
1۔ خاموش پولیو (Silent polio) :
یہ بچوں میں عام ہوتا ہے اور جن خاندانوں میں یہ مرض پہلے سے موجود ہو اسے خاموش پولیو کہا جاتا ہے۔ یہ بچے کی غذائی نالی میں موجود ہوتا ہے لیکن اس کے نظام ہاضمہ پر حملہ نہیں کرتا اور علامات ظاہر نہیں کرتا۔
2۔ ابورٹوو پولیو (Abortive polio) :
اس قسم میں وائرس کا حملہ شدید ہوتا ہے لیکن نظامِ اعصاب کے علاوہ دیگر جسمانی نقائص پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ قسم اکثریت میں پائی جاتی ہے اور 5 سال کی عمر کے بچوں سے لے کر 50 سال کے بوڑھے لوگوں میں بھی موجود ہے۔ اس قسم میں خواتین زیادہ مبتلا ہوسکتی ہیں۔
3۔ نون پرالیٹک پولیو (Non-Paralytic polio) :
اس میں اعصابی کمزوری بڑھ جاتی ہے۔ لیکن اس کے باجود نظام اعصاب کو مستقل نقصان نہیں ہوتا صرف سوزش ہوتی ہے جو بعد میں ٹھیک ہوجاتی ہے۔
4۔ پرالیٹک پولیو (Paralyticl polio) :
اس قسم میں عصابی نظام پر شدید حملہ ہوتا ہے اور نظامِ عصاب مکمل کر پر کام کرنا بند کردیتے ہیں۔
5۔ بلبو اسپائنل پولیو (Bulbo spinal polio) :
اس قسم کے وائرس متاثرہ شخص کو مفلوج بنا سکتے ہیں۔ اس میں نظام تنفس کے عضلات مفلوج ہوجاتے ہیں۔ لہذا مریض کا سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے اور سانس لینے کی سہولت ختم ہوجاتی ہے جس سے موت واقع ہوجاتی ہے۔
پولیو وائرس صرف انسانوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ بہت متعدی ہے۔ وائرس ایک متاثرہ شخص کے گلے اور آنتوں میں رہتا ہے۔ یہ منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور ایک چھینک یا کھانسی کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔ اگرچہ عام طور پر یہ وائرس ایک متاثرہ شخص کے پاخانہ (poop ) کے ساتھ رابطے کے ذریعے پیٹ سے خارج ہونے والی گیس سے پھیلتا ہے۔ اس کے ساتھ اگر آپ کے اپنے ہاتھوں پر پاخانہ لگ جائے تو بھی آپ کو پولیو وائرس متاثر کر سکتا ہے۔ یہ وائرس آپ کے اپنے منہ کو چھونے سے بھی آپ کی جلد پر آجاتا ہے۔ جو آپ کے ساتھ ساتھ ہر چیز کو آلودہ کر دیتا ہے حتیٰ کہ آپ اگر بیت الخلاء سے ہاتھ دھوئے بغیر کسی کھلونے یا کسی اشیاء کو چھولیں اور وہ کھلونا یا اشیاء کسی طرح کوئی بچا اپنے منہ میں ڈال لے تو اس سے بھی اسے پولیو ہو سکتا ہے۔
ایک متاثرہ شخص سے فوری طور پر دوسرے شخص میں وائرس پھیل سکتا ہے اور اس کی باقاعدہ علامات 1 سے 2 ہفتوں کے اندر ظاہر ہوجاتی ہے۔ وائرس کئی ہفتوں تک ایک متاثرہ شخص کے چہرے پر رہ سکتے ہیں چاہے آپ کتنی ہی بار منہ دھولیں۔ یہ خوراک اور پانی کے اندر مل کر ان کو بھی آلودہ کر سکتا ہے۔
پولیو سے متاثرہ شخص اصل میں خود ایک بیماری ہوتے ہیں جو دوسروں کو وائرس منتقل کرنے اور انہیں بیمار کرسکتے ہیں۔ اور اسی لیئے پاکستان میں اس ویکسین کو کبھی کبھی جاہل معاشروں میں سمجھا کر اور کبھی زبردستی پلانے کے واقعات اور اعتراضات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔
پولیو ویکسین پولیو وائرس سے لڑنے کے لیے بچوں کے مدافعاتی سسٹم کی مدد کرتا ہے اور بچوں کی حفاظت کرتا ہے۔ ویکسین کے صرف چند قطرے لینے سے تقریبا تمام بچوں (100 میں سے 99) کی پولیو سے حفاظت یقینی ہوجاتی ہے۔
۔
پولیو ویکسین کی دو قسمیں ہیں۔
فعال پولیو وائرس ویکسین (IPV)
اور زبانی پولیو وائرس ویکسین (VPV)
۔IPV۔ کو 2000ع کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکا میں استعمال کیا گیا تھا، اور یہ ویکسین اب بھی دنیا کے زیادہ تر ممالک میں استعمال کی جاتی رہی ہے۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں