پریم چند : اقوال زریں

منشی پریم چند اقوال زریں

اردو زبان اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے پریم چند کے تعارف کی ضرورت نہیں ۔ پریم چند پچھلے سو برسوں سے تمام طرح کے ادبی وسماجی ڈسکورس کے ذریعہ ہمارے ذہنوں میں موجود رہے ہیں۔

  • کل، یعنی 8 اکتوبر کو انکی برسی ہے، اس موقع پر ہم نے کوشش کی ہے کہ انکی تخلیقی کائنات سے کچھ ایسے لفظ آپکے لیے چن کر لائیں جو نہ صرف ادب بلکہ زندگی کے لیے بھی روشنی کا سبب ثابت ہوں۔
  • پریم چند کے یہ قول انکے مختلف مضامین سے لیے گئے ہیں۔ انہیں پڑھیے اور اپنا پسندیدہ قول کمینٹ بکس میں لکھیے۔
منشی پریم چند اقوال زریں
  • میں ایک مزدور ہوں،جس دن کچھ لکھ نہ لوں اس دن مجھے روٹی کھانے کا کوئی حق نہیں۔
  • جو چیز مسرت بخش نہیں ہو سکتی، وہ حسین نہیں ہو سکتی۔
  • جوانی پرجوش ہوتی ہے وہ غصے سے آگ بن جاتی ہے اور ہمدردی سے پانی۔
  • ہم ادیب سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی بیدار مغزی ، اپنی وسعت خیالی سے ہمیں بیدار کرے۔ اسکی نگاہ اتنی باریک اور اتنی گہری ہو کہ ہمیں اسکے کلام سے روحانی سرور اور تقویت حاصل ہو۔
  • مایوسی ممکن کو بھی ناممکن بنا دیتی ہے۔
  • ادب کی بہترین تعریف تنقید حیات ہے۔ ادب کو ہماری زندگی پر تبصرہ کرنا چاہیئے۔
  • ہمیں حسن کا معیار تبدیل کرنا ہوگا۔ ابھی تک اسکا معیار امیرانہ اور عیش پرور تھا۔
شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں