پنجاب کی تقسیم ماضی اور حال

پنجاب کی تقسیم
پنجاب کی تقسیم

پنجاب Punjabکی تقسیم کی بات چل رہی ہے۔ پنجابی پیارے جہاں اپنی پسماندگی کا ذمہ دار انگریز کو قرار دیتے ہیں وہیں اس کے بنائے گئے صوبے کو مقدس لائن سمجھے بیٹھے ہیں۔سوال یہ ہے کہ صوبہ پنجاب بنایا کس نے تھا؟ اور کیا یہ صوبہ زبان کی بنیاد پر بنایا گیا تھا؟ تو اس کا جواب ہے بالکل نہیں۔ صوبے انگریز نے اپنی انتظامی ضرورت کے مطابق بنائے تھے۔انگریز کی آمد سے پہلے ہندوستان میں ریاستیں تھیں،جاگیریں تھیں ۔ انگریز نے اپنی انتظامی ضرورتوں کے مطابق صوبے بنائے اور اپنی ہی ضرورتوں کے مطابق اس میں تبدیلیاں بھی کیں۔

انگریز نےانتظامی ضرورت کے مطابق جو صوبہ بنایااس کا نام پنجاب رکھا یعنی پانچ دریاوں کی سرزمین۔ یہ لفظ بھی فارسی کا ہے کسی مقامی زبان کا نہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس علاقے کی زبان پنجابی ہی ہے ۔صوبہ پنجاب بننے سے پہلے ہر علاقے کی اپنی اپنی زبان اور اس کے مقامی نام تھے۔ جیسے لاہوری، پوٹھوہاری ، پہاڑی یا ہندکو ، ملتانی، بہاولپوری، جھنگوی یا جانگلی۔لہذا انگریز کے بنائے صوبے کوئی مقدس نہیں ہیں اس کی ہر زمانے میں اپنی ضروریات کے مطابق تبدیلی ہوسکتی ہے۔
1947 میں پنجاب تقسیم ہوا تو پھر بھارتی پنجاب تین صوبوں یعنی ہریانہ، ہماچل پردیش اور مشرقی پنجاب میں تقسیم ہوگیا۔ اور ان تینوں صوبوں کی زبان مختلف ہے۔اس تقسیم سےسکھوں نے کبھی گلہ شکوہ نہیں کیا اور نہ ہی اس تقسیم سے ان کی زبان یا کلچر کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔اور نہ ان کے پانچ سو سال پرانے لٹریچر کو نقصان پہنچا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ پنجابی کے صدر سعید بھٹہ نے ایک دفعہ ایکسپریس اخبار میں انٹرویو دیا اور کہا کہ” انگریز نے ساڈے کولوں منہ بولی کھوہ لئی “۔ حالانکہ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ پنجابیوں کے ہیرو، رنجیت سنگھ کی درباری زبان بھی فارسی تھی جو کہ مغل دربار کی سرکاری زبان کا تسلسل ہی تھا۔ مقامی زبانیں کبھی بھی سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہیں کرسکیں۔ انگریز نے فارسی کی بجائے انگریزی زبان کو سرکاری زبان بنایااس نے پورے ہندوستان پر راج کرنا تھا اس لیے اس نے اردو کو فروغ دیا جو کہ پورے ہندوستان کی رابطے کی زبان تھی۔ لیکن پنجابی پیارے رنجیت سنگھ کو تو کچھ نہیں کہتے لیکن توقع انگریز سے کرتے ہیں کہ وہ پنجابی زبان نافذ کرتے۔ سکھوں نے تو کبھی شکایت نہیں ، سکھ پنجابی سے اسی لیے جڑے ہوئے ہیں کہ یہ ان کی مذہبی زبان ہے ۔خواجہ فرید، شاہ حسین بلھے شاہ وغیرہ سے عقیدت بھی اسی لیے رکھتے ہیں کہ گورونانک نے ان کا کلام اپنی مقدس کتاب میں ڈالا۔ بھئی بہتر سال گذر چکے ہیں آپ لوگوں نے کونسا تیر مار لیا ہے؟ لیکن مولوی کی طرح رٹ لگائے رکھتے ہیں کہ پنجاب نہیں تقسیم ہونے دینا۔

سرائیکی تحریک کا آغاز قیام پاکستان سے شروع ہوگیا تھا جب پنجاب کے تمام وسائل مرکزی پنجاب میں لگنا شروع ہوگئے۔ جب کسی علاقے میں محرومیاں زیادہ بڑھنی شروع ہوجائیں تو پھر وہ اپنے وسائل کی جنگ لڑتے ہیں جو کہ سرائیکی صوبے کی صورت میں لڑی جارہی ہے۔ اگر پاکستان میں پہلے دن سے ہی جمہوریت ہوتی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوتی تو شاید یہ مطالبہ نہ ہوتا مگر اب ہوگیا ہے اس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پنجاب کی تقسیم سے سو سالہ یا ہزار سالہ لٹریچر ختم نہیں ہوتا۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں