ترکی کا وہ پراسرار مندر جہاں جانے والا کبھی لوٹ کر نہیں آتا

ترکی کا وہ پراسرار مندر جہاں جانے والا کبھی لوٹ کر نہیں آتا
ترکی کا وہ پراسرار مندر جہاں جانے والا کبھی لوٹ کر نہیں آتا

تحریر : علی نثار

ترکی کے اس مندر میں اس قدر اندھیرا ہے کہ کچھ بھی دیکھنا ممکن نہیں ۔ اسے دوزخ کا دروازہ بھی کہتے ہیں ۔

حال میں ہی صوفیہ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے کی وجہ سے ترکی خبروں میں تھا۔ ویسے یہ ملک اکثر دوسری بہت ساری وجوہات کی بناء پر بھی زیر بحث رہتا ہے۔ ان میں سے ایک ترکی کا ایک مندر ہے ، جہاں جو بھی جاتا ہے مر جاتا ہے۔ قدیم شہر ہیراپولس میں تعمیر کردہ اس ہیکل کو جہنم کا دروازہ بھی کہا جاتا تھا۔ اس ہیکل کا راز صرف دو سال قبل سامنے آیا ہے۔

ایک زمانے میں ، ترکی کا ہیراپولیس شہر ان لوگوں کی توجہ کا مرکز تھا جو ایڈونچر پسند تھے۔ غیر ملکی اور گھریلو سیاحوں کا ایک گروپ وہاں آتا اور ایک خاص مندر میں جانے کی ہمت اور کوشش کرتا ۔ جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جو بھی اس کے سائے کو چھوتا ہے اسے موت آ جاتی ہے ۔ کہا جاتا تھا کہ مندر کے قریب جانے والے انسان ہی نہیں جانور اور پرندے بھی مر جاتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس مندر کا معمہ مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔

اسے پلوٹو کا مندر یعنی موت کے دیوتا کا مندر کہا جانے لگا۔ کئی صدیوں سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ موت کے خدا کی زہریلی سانس کی وجہ سے جو لوگ ہیکل میں جاتے ہیں یا اس کے آس پاس جاتے ہیں لقمہ ء اجل بن جاتے ہیں ۔ مسلسل اموات کی وجہ سے آس پاس کے لوگوں نے وہاں جانا چھوڑ دیا۔ اگرچہ سیاحوں نے وہاں جانے کی اکثر کوشش کی ہے لیکن انہیں مقامی لوگوں نے روک لیا۔

یہاں تک کہ اگر کوئی سیاح یا ریسرچر مندر کے اسرار کا پتہ کرنے کے لئے اندر جانے کی کوشش کرتے تو مقامی لوگ انہیں ایک پنجرے میں قید پرندہ دیتے تاکہ وہ اسکی موت اپنی آنکھوں سے مندر کے احاطے میں دیکھ سکیں ۔ اور ایسا ہی ہوتا مندر کے صحن میں قدم رکھتے ہی پرندہ چند ہی منٹوں میں دم توڑ دیتا ۔ اسکے ساتھ ہی اندر جانے کی خواہش بھی ختم ہو جاتی ۔ وقت کے ساتھ ساتھ مندر کا اسرار اور خوف بڑھتا ہی گیا ۔

ہیراپولیس شہر ایک قدیم رومن شہر ہے جو مرتکز میں واقع ہے۔ اس چھوٹی سی جگہ میں بہت تنوع دیکھنے کو ملتا ہے ۔ یہاں یہاں بنائے گئے گرم پانی کے چشمے حصوصی اہمیت کے حامل ہیں ۔ یہ چشمے کیلشیئم سے بھر پور ہوتے ہیں جن سے ہر وقت پانی کے بلبلے اٹھتے رہتے ہے۔ اسی سبب یہ شہر دوسری صدی میں ہی تھرمل اسپا کے طور پر مشہور تھا۔ ہسٹری ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق دور دراز سے لوگ اپنی بیماریوں کے علاج کے لئے اس شہر میں آتے تھے۔ خاص طور جوڑ اور جلد سے متعلق بیماریوں کو دور کرنے میں یہ سوتے بہت مشہور تھے۔

اس دور میں اس شہر میں ایک تھیٹر بنایا گیا تھا جس میں لگ بھگ پندرہ ہزار افراد کے بیٹھنے کی جگہ تھی ۔ اس شہر کی شہرت کی ایک اور وجہ بھی تھی۔ یہاں پلوٹو مندر تھا۔ رومن داستانوں کے مطابق پلوٹو زمین کا بادشاہ تھا۔ اس مندر کی تعمیر کس نے کی اس کے بارے میں ابھی تک کوئی خاص معلومات نہیں ہیں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ یہ مندر لوگوں کے لئے مہلک تھا۔پہلی صدی قبل مسیح میں یونانی اسکالر اسٹربو نے اس ہیکل کے قریب جانے کی کوشش کی لیکن وہ دور ہی سے لوٹ آئے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ہیکل کے اندر اتنا دھواں ہے کہ اسے اندر نہیں دیکھا جاسکتا۔

فروری 2018 میں یہ انکشاف ہوا کہ پراسرار مندر میں دھواں کیوں ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ مندر کے نیچے غار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی ایک بڑی مقدار موجود ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہر کے قریب گرم پانی کے چشمے کے اندر سے دوسری مختلف قسم کی زہریلی گیسیں نکل رہی ہیں۔

عام طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ اتنا خطرناک نہیں ہے لیکن جب تک اس کی فیصد متوازن ہے۔ صرف 10 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس ہی 30 منٹ کے اندر کسی شخص کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔ ہماری فضا میں یہ گیس 0.039 فیصد تک ہے۔ ہیکل کے احاطے میں اس کی مقدار 91 فیصد ہے جو کہ بیحد مہلک ہے ۔ یہ گیس آکسیجن سے ڈیڑھ گنا زیادہ بھاری ہے۔ اس کی وجہ سے یہ زمین پہ نیچے رہتی ہے اور مندر کے اندر دھواں کا گہرا سایہ ہے۔ اس زہریلی گیس کی وجہ سے ہی یہاں آنے والے لوگ دم توڑ جاتے تھے۔

شیئر کریں
علی نثار
مصنف: علی نثار
علی نثار صاحب کا تعلق حیدرآناد انڈیا سے ہے ۔ یہ کینڈا میں مقیم ہیں۔ بہترین افسانہ نگار ، ناقی اور مضمون نگار ہیں ۔ ان کے افسانے اردو کے تمام اہم رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ عالمی سطح پہ ان کی تحریروں کو مقبولیت حاصل ہے ۔ پیشے سے بزنس مین ہیں ۔

کمنٹ کریں