پیاس پر شاعری

Read Urdu Poetry on the topic of Pyas Par Urdu Shayari (Tashnagi Pe Sher o Shayari). You can read famous Urdu Poems about Thirst Urdu Poetry (Thirsty Poetry in Urdu language) and Urdu Sher o Shayari Whatsapp Status. Best and popular Urdu Ghazals and Nazms can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

daylight desert drought dry
Photo by Pixabay on <a href="https://www.pexels.com/photo/daylight-desert-drought-dry-459319/" rel="nofollow">Pexels.com</a>

پیاس اور تشنگی کے موضوعات پر بہترین اور عمدہ اردو اشعار ملاحضہ کرنے کے لئے مندرجہ ذیل میں دیے گئے اشعار بمعہ شعراء نے اسماء گرامی پڑھیے اور پسند آنے پر دوستوں کے ساتھ شیئر کیجے:


مجھے یہ فکر سب کی پیاس اپنی پیاس ہے ساقی
تجھے یہ ضد کہ خالی ہے مرا پیمانہ برسوں سے
مجروح سلطانپوری

ایسی پیاس اور ایسا صبر
دریا پانی پانی ہے
وکاس شرما راز

نہیں بجھتی ہے پیاس آنسو سیں لیکن
کریں کیا اب تو یاں پانی یہی ہے
سراج اورنگ آبادی


جسے بھی پیاس بجھانی ہو میرے پاس رہے
کبھی بھی اپنے لبوں سے چھلکنے لگتا ہوں
فرحت احساس

سلگتی پیاس نے کر لی ہے مورچہ بندی
اسی خطا پہ سمندر خلاف رہتا ہے
خورشید اکبر

جاتا ہے مرا جان نپٹ پیاس لگی ہے
منگتا ہوں ذرا شربت دیدار کسی کا
سراج اورنگ آبادی

پیاس پر شاعری

پیاس ایسی تھی کہ میں سارا سمندر پی گیا
پر مرے ہونٹوں کے یہ دونوں کنارے جل گئے
تری پراری

پیاس کے شہر میں دریا بھی سرابوں کا ملا
منزل شوق ترستی رہی پانی کے لئے
محمد سالم

کیا دل کی پیاس تھی کہ بجھائی نہ جا سکی
بادل نچوڑ کے نہ سمندر تراش کے
کوثر سیوانی

پیاس کہتی ہے چلو ریت نچوڑی جائے
اپنے حصے میں سمندر نہیں آنے والا
معراج فیض آبادی


اب تو سراب ہی سے بجھانے لگے ہیں پیاس
لینے لگے ہیں کام یقیں کا گماں سے ہم
راجیش ریڈی

پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے
محسن نقوی

کمال تشنگی ہی سے بجھا لیتے ہیں پیاس اپنی
اسی تپتے ہوئے صحرا کو ہم دریا سمجھتے ہیں
جگر مراد آبادی

مر گئے پیاس کے مارے تو اٹھا ابر کرم
بجھ گئی بزم تو اب شمع جلاتا کیا ہے
احمد فراز

پیاس پر شاعری

پیاس جہاں کی ایک بیاباں تیری سخاوت شبنم ہے
پی کے اٹھا جو بزم سے تیری اور بھی تشنہ کام اٹھا
علی سردار جعفری

اوسوں گئی ہے پیاس کہیں دیدۂ نمیں
بجھتا ہے آنسوؤں سے کہاں دل پھنکا ہوا
مرزا اظفری

پیاس کی سلطنت نہیں مٹتی
لاکھ دجلے بنا فرات بنا
غلام محمد قاصر

بجھی روح کی پیاس لیکن سخی
مرے ساتھ میرا بدن بھی تو ہے
ثروت حسین


اوس سے پیاس کہاں بجھتی ہے
موسلا دھار برس میری جان
راجیندر منچندا بانی

پیاس کو پیار کرنا تھا کیول
ایک اکھشر بدل نہ پائے ہم
نوین سی چترویدی

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں