قبر پہ شاعری

قبر پر شاعری

قبر کی تنگی، تاریکی اور اس سے وابستہ بہت سے بھیانک اور تکلیف دہ تصورات کو شاعری میں خوب برتا گیا ہے ۔ یہ اشعار زندگی میں رک کر سوچنے اور اپنا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور زندگی کی حقیقتوں پر غور کیجئے ۔

شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو شکریہ
اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم
قمر جلالوی

مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں
میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں
منیر نیازی

چراغ اس نے بجھا بھی دیا جلا بھی دیا
یہ میری قبر پہ منظر نیا دکھا بھی دیا
بشیر الدین احمد دہلوی

زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
پیر پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
بشیر بدر

پھول کیا ڈالوگے تربت پر مری
خاک بھی تم سے نہ ڈالی جائے گی
مبارک عظیم آبادی

وہ آئیں فاتحہ پڑھنے اب اعتبار تو نہیں
کہ رات ہو گئی دیکھا ہوا مزار نہیں
کفن ہٹا کر وہ منہ بار بار دیکھتے ہیں
ابھی انھیں مرے مرنے کا اعتبار نہیں
قمر جلالوی

لاتا نہیں کوئی مری تربت پہ چار پھول
نا پیدا ایسے ہو گئے پروردگار پھول
قمر جلالوی

کیونکر رکھو گے ہاتھ دلِ بے قرار پر
میں تو تہِ مزار ہوں تم تو ہو مزار پر
قمر جلالوی

جلا جلا گے پسِ مرگ کیا ملے گا تمھیں
بجھا بجھا کے چراغِ مزار کیا ہو گا
قمر جلالوی

مر گئے ہیں جو ہجرِ یار میں ہم
سخت بے تاب ہیں مزار میں ہم
نعش پر تو خدا کے واسطے آ
مر گئے تیرے انتظار میں ہم
مصطفٰی خان شیفتہ

تھا کیا ہجوم بہرِ زیارت ہزار کا
گل ہو گیا چراغ ہمارے مزار کا
مصطفٰی خان شیفتہ

مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے
درِ یار کعبہ بنتا جو مرا مزار ہوتا
داغ دہلوی

زندۂ شوقِ شعر کو ایک چراغِ انجمن
کُشتۂ ذوقِ شعر کو شمعِ سرِ مزار ایک
مرزا غالب

مر گئے ہیں جو ہجرِ یار میں ہم
سخت بے تاب ہیں مزار میں ہم
نعش پر تو خدا کے واسطے آ
مر گئے تیرے انتظار میں ہم
مصطفٰی خان شیفتہ

تھا کیا ہجوم بہرِ زیارت ہزار کا
گل ہو گیا چراغ ہمارے مزار کا
مصطفٰی خان شیفتہ

مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے
درِ یار کعبہ بنتا جو مرا مزار ہوتا
داغ دہلوی

زندۂ شوقِ شعر کو ایک چراغِ انجمن
کُشتۂ ذوقِ شعر کو شمعِ سرِ مزار ایک
مرزا غالب

ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا؟
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
مرزا غالب

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں