انسانی جینز اور مائیکروسافٹ ایکسیل

مضمون نگار : قدیر قریشی

, انسانی جینز اور مائیکروسافٹ ایکسیل

انسان کا مکمل جینیاتی کوڈ سنہ 2003 میں پڑھا گیا تھا- انسان کے ڈی این اے میں لگ بھگ بیس ہزار جینز پائے جاتے ہیں جو مختلف پروٹینز کی اینکوڈنگ کرتے ہیں- ان میں سے ہر ایک جین کو ایک خاص نام دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ایک الفانیومیرک کوڈ (alphanumeric code) بھی مختص کیا گیا ہے جسے جین کا سمبل کہا جاتا ہے- ہر جین کے لیے الگ سمبل مختص کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سائنس دان ایک دوسرے سے انفارمیشن کا تبادلہ آسانی سے اور غیر مبہم طور پر کر سکیں- جینز کے نام اور ان کے سمبلز متعین کرنے کا کام سائنس دانوں کا ایک پینل کرتا ہے جسے HUGO Gene Nomenclature Committee کہا جاتا ہے- اس کمیٹی کا کام یہ ہے کہ جینز کے نام اور سمبلز ایسے متعین ہوں جنہیں سمجھنا آسان ہو اور یہ سمبلز ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہوں کہ سائنس دان دو ملتے جلتے سمبلز سے کنفیوز ہو کر غلط سمبل استعمال نہ رک


کسی بھی ریسرچ پروگرام میں جب جینیاتی ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے تو اس کام کے لیے عموماً مائیکروسافٹ کمپنی کا پروگرام ایکسیل (Excel) استعمال کیا جاتا ہے جو سپریڈ شیٹ بنانے کا پروگرام ہے- اس پروگرام میں بہت سے سپیشل فنکشنز ہیں جو ڈیٹا پراسیسنگ میں کام آتے ہیں- لیکن کچھ فنکشنز ایسے ہیں جو by default ہمیشہ کام کرتے ہیں اور ایسے ہی کچھ فنکشنز جینیاتی تحیقیق میں خلل ڈالنے لگے ہیں- مثال کے طور پر ایکسیل پروگرام میں لوگوں کی آسانی کے لیے وقت اور تاریخ کی entry کئی مختلف فارمیٹس میں کی جا سکتی ہے اور ایکسیل پروگرام ان فارمیٹس کو آٹومیٹیکلی سمجھ کر ڈیفالٹ فارمیٹ میں تبدیل کر دیتا ہے
مسئلہ یہ ہے کہ کچھ جینز کے سمبلز ایسے ہیں جو ایکسیل پروگرام کو کنفیوز کر دیتے ہیں- مثال کے طور پر ایک جین ایسا ہے جسے Membrane Associated Ring-CH-Type Finger 1 جین کہا جاتا ہے- اس کا سٹینڈرڈ سمبل MARCH1 ہے- لیکن اگر آپ ایکسیل میں MARCH1 لکھیں تو ایکسیل اسے تاریخ کی entry سمجھتا ہے اور اسے تاریخ لکھنے کی ڈیفالٹ فارمیٹ میں 1-Mar لکھ دیتا ہے جو کہ کسی جین کا سمبل نہیں ہے- سائنس دانوں کے لیے اس طرح کی آٹومیٹک ری فارمیٹنگ انتہائی پریشان کن ہے کیونکہ بہت سے سائنس دانوں کو یہ علم نہیں ہوتا کہ ایکسیل ان کی entries کو خودبخود تبدیل کر رہا ہے اور یوں ان کی ریسرچ کے نتائج غلط نکل سکتے ہیں- سائنس دانوں کو خود سے ایسی entries کو تلاش کر کے دوبارہ ایڈیٹ کرنا پڑتا ہے جس میں سائنس دانوں کا بہت سا وقت ضائع ہوتا ہے- سنہ 2016 میں کی گئی ایک سٹڈی کے مطابق جینیاتی ریسرچ سے متعلق شائع شدہ 3597 پیپرز میں سے لگ بھگ بیس فیصد پیپرز میں ایسی غلطیاں موجود تھیں جن کی وجہ مائیکروسافٹ ایکسیل کی فارمیٹنگ تھی


چونکہ مائیکروسافٹ ایکسیل دنیا بھر میں استعمال ہوتا ہے اور تاریخ کی فارمیٹنگ کا ڈیفالٹ فارمیٹ بہت سے لوگ پسند کرتے ہیں اس لیے مائیکروسافٹ کے لیے تاریخ کی ڈیفالٹ فارمیٹ کو تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے- چنانچہ اس معاملے میں جینیات کے سائنس دانوں نے اپنی ہار تسلیم کر لی ہے اور انسانی جینوم کے ایسے تمام جینز کے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں جنہیں ایکسیل پروگرام خودبخود تبدیل کر دیتا ہے- چنانچہ آئندہ MARCH1 جین کا نیا سمبل MARCHF1ہو گا جبکہ SEPT1کا نیا سمبل SEPTIN1 ہو گا- اس طرح اب تک 27 جینز کے سمبلز تبدیل کیے جا چکے ہیں

شیئر کریں
قدیر قریشی بطور سائنس رائٹر سائنسی ادبی حلقوں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور اردو سائنسی فورم "سائنس کی دنیا" کے سرپرست اعلی بھی ہیں۔

کمنٹ کریں