قوت علم

افسانہ نگار : عطیہ نفیس

, قوت علم

ایک گائوں کے غریب گھرانے میں ایک چھوٹا سا خاندان رہتا تھا جو ایک عظمت نامی لڑکی، اسکے چھوٹے بھائی اور والدین پر مشتمل تھا۔ عظمت ذہین لڑکی تھی اس کے باوجود اس کے والد اس کی پڑھائی پر توجہ نہیں دیتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ لڑکی کا تعلیم حاصل کرنا بیکار ہے، ایک دن اُسے سسرال ہی بھیجنا ہوتا ہے۔ وہ ہمیں کیا کماکر دے گی اور بڑھا پے کا کیا سہارا بنے گی اس لئے انھوں نے اپنی بہنوں کو بھی تعلیم سے محروم رکھا تھا۔

جب عظمت کا جنم ہوا تو اس کے والد کا شرمندگی سے چہرا اُتر گیا تھاکیوں کہ ان کے ساتھی احمد کے یہاں چار دن پہلے لڑکا ہوا تھا۔ انھوں نے شرط رکھی تھی کہ مجھے بھی لڑکا ہوگا دیکھنا میں اُسے خوب پڑھاؤں گا امریکہ بھیجوں گا میرے خاندان کا نام ہوگا۔ گھر کی مالی حالت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے اکثر وہ یہی خواب دیکھا کرتے تھے۔ کیونکہ غریبی سہتے سہتے وہ تھک چکے تھے۔ اُس پر پانچ بہنوں کی ذمہ داری وہ گھر میں سب سے بڑے بھائی تھے لہٰذا شادی کی تمام ذمہ داری اور گھر کا خرچ انہی کے ذمہ تھا ان کے والد کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا، لیکن بڑی محنت وہمت سے عظمت کے والد نے دن رات محنت کرکے تین بہنوں کی شادی کر دی اکثر انھیں کام کے سلسلے میں شہر بھی جانا ہوتاتھا۔ اس طرح مشکل سے گزربسر ہوتاتھا۔ جب عظمت کا جنم ہوا تو وہ بہت اُداس ہوگئے اس وقت وہ شہر گئے ہوئے تھا جب گھر آئے تو پتہ چلا کہ لڑکی ہوئی ہے۔ انھوں نے اس معصوم کی صورت بھی نہیں دیکھی اور دوستوں سے نظر یں چرائے پھرنے لگے، پہلے کی طرح اب وہ محنت بھی نہیں کرتے تھے۔ان کی ذات پر مایوسی چھاگئی۔ وہ سوچنے لگے کہ انھیں ایک اور لڑکی کی شادی کا خرچ اُٹھانا ہے۔گھر میں بیوی کے ساتھ بھی ان کا رویہ بدل گیا تھا، وہ ان سے صحیح طرح گفتگو نہیں کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ عظمت بڑی ہونے لگی اس کے معصوم چہرے پر باپ کو کبھی پیار آتا پھر چلاجاتا، لیکن عظمت کی ماں نیک سیرت خاتون تھی۔ شوہر کے مایوسی کو وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ شوہر کے دن رات محنت ومشقت کرنے کہ باوجود دن میں دو وقت کا کھانا مشکل سے ملتا ہے۔ تین بہنوں کی شادی کرنے سے بہت سا قرضہ ابھی باقی ہے۔اور اُوپر سے عظمت کا جنم شادی کے بعد سے عظمت کی والدہ اپنے شوہر کو تمام ذمہ داریاں نبھا تے ہوئے دیکھ رہی تھیں ۔ اس لئے عظمت کی پیدائش کے دو دن تک باپ کا اس کو نہ دیکھنا ماں کو بُرا نہیں لگا ۔وقت کے ساتھ عظمت کی محبت باپ کے دل میں پیداہونے لگی ۔تین سال کے بعد عظمت کو ایک بھائی ہوا۔ عظمت کے والد بہت خوش ہوئے۔ وہ عظمت کو پہلے تو کم ہی دیکھتے اور پیار کرتے تھے۔ اب بیٹے کے پیدائش کے بعد تو اور بھی کم دیکھنے اور پیار کرنے لگے۔


وقت کے ساتھ ساتھ عظمت بڑی ہونے لگی اُس کی تعلیم کا وقت آگیا اُس کے والد اسے پڑھانا نہیں چاہتے تھے لیکن نیک سیرت بیوی نے انھیں بہت سمجھایاکہ گھر کے قریب ہی تو ہے اسکول، وہ خود جائے گی آئیگی۔تھوڑا بہت ہی سہی وہ کچھ تو سیکھ سکے گی ،وہ ابھی معصوم بچّی ہے۔ ہمیں اسے تعلیم سے محروم نہیں رکھنا چاہئے وہ گھر کے کام کے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی کر سکے گی اس طرح اپنے شوہر کو راضی کرکے اسکول میں داخلہ کرادیا۔ وقت کے ساتھ وہ بڑی ہونے لگی ۔اب وہ نویں جماعت سے دسویں جماعت میں آگئی تھی ،وہ سمجھدار اور عقلمند لڑکی تھی۔وہ ہمیشہ کلاس میں اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ اچھے سے رہتی لیکن اس کے ساتھی اُس سے گہری دوستی نہیں رکھنا چاہتے جب وہ اسکول میں آئی تو تمام اساتذہ دوسرے بچوں کی طرح اُس کے ساتھ بھی شفقت ومہربانی سے پیش آتے تھے ۔اس لئے ہم جماعت ساتھیوں میں اکثر بہت سے بچوں کواس سے عداوت رہتی تھی۔ عظمت جب جماعت میں اوّل آئی توتمام بچوں نے اُس سے بات کرنا بند کردیا ہر کوئی اُس کے خلاف ہوگیاا لیکن جب دوسری مرتبہ عظمت دوسرے بچّوں کے برابر نمبرات لاکر پاس ہوئی تو پھر سے ظاہری طور سے دوستی رکھنے لگے۔ عظمت اب بہت خوش تھی کیونکہ اُسکے ہم جماعت ساتھی بھی خوش تھے۔عظمت کو استاد کی نصیحت یاد تھی کہ اعلیٰ نمبرات سے پاس ہونا اہم نہیں بلکہ اعلٰی اخلاق ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ اب وہ بھی خوش ہے۔ اور اپنے ہم جماعت ساتھیوں کو بھی خوش دیکھ رہی ہے۔


اُس گائوں میں کئی دنوں سے چوروں کا ڈر تھا۔ وہ جس گائوں میں جاتے تھے۔ اُس گائوں کو برباد کر دیتے تھے۔ایک دن معمول کے مطابق عظمت کے والد کام کے سلسلہ سے شہر گئے ہوئے تھے۔ گھر کے آدھے حصّے میں دو بہنیں بوڑھی ماںاور ایک حصّہ میں عظمت کی ماں، بھائی اور خود عظمت سورہی تھی۔ اچانک راتوں رات چور اُن کے گھر میں گھس آئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے انھوں نے ڈرا دھمکا کر کمروں میں سب کو بند کردیا۔ ایک کمرے میں عظمت کی بوڑھی دادی، دونوں پھوپھیاںاور دوسرے کمرے میں عظمت، اُس کا بھائی اوراس کی ماں بند تھیں۔ عظمت کی ماں بہت پریشان ہوگئی ، کیونکہ گھر میں کوئی مرد نہیں تھا۔وہ سوچ رہی تھیں کہ کس طرح چوروں سے بچا جائے ۔ وہ دونوں بچوں کو لیکر ایک کونے میں زمین پر بیٹھ گئیں۔ اُدھر دوسری طرف عظمت کی دادی اور پھوپھیاں گھبراہٹ کے مارے کانپنے لگیں صبح سے شام ہونے لگی۔ چونکہ عظمت ایک ذہین لڑکی تھی، اس لیے وہ چپ نہیں بیٹھی وہ چوروں سے بچنے کی ہر کوشش کرنے لگی۔ چور اس طرح سے خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے کہ گھر میں کوئی نہیں۔ وہ رات ہونے کا انتظار کررہے تھے ۔ عظمت کے ماں کا بُرا حال تھا۔ لہٰذا وہ آہستہ سے اپنی ماں کے پاس سے اُٹھی اور کمرے کا معائنہ کرنے لگی۔ جیسے ہی کوئی آہٹ سنائی دیتی وہ فورا اپنی ماں کے پاس آکر بیٹھ جاتی ایک چور بیچ بیچ میں اس کمرے میں آکر دیکھ جاتا تھا۔اس بار بھی چور آکر چلاگیا ۔عظمت نے جلدی سے ایک پین لیا اور پیپر ڈھونڈنے لگی کوئی پیپر نہ ملنے کی صورت میں عظمت نے کلینڈر سے ایک پیپر پھاڑا اور اُس پر کچھ لکھنے لگی جیسے ہی چور کی آہٹ ہوئی فوراً آکر بیٹھ گئی پھر اس پیپر کو بند کرکے اپنے بالوں سے ایک ربربینڈ نکال کر اس سے اُس چٹھی کو باندھنے لگی اُس کمرے میں ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی وہاں سے دیکھنے لگی اُسی وقت ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوااس نے وہ چھٹی اس پر پھینکی لیکن وہ شخص نہیں دیکھا اور چلاگیا ۔ چور کے آنے کی آہٹ ہوئی وہ جلدی سے آکر بیٹھ گئی جب چور آکر چلا گیا تو عظمت سمجھ گئی کہ دوبارہ چور کے آنے میں کافی وقت لگے گا اس نے جلدی سے اور ایک چٹھی لکھی اور پھر سے کھڑکی سے دیکھنے لگی جیسے ہی ایک بوڑھے شخص کا وہاں سے گزرہوا اس نے چٹھی اس پر پھینک دی بوڑھا شخص اُوپر دیکھنے لگا۔ پھر اس نے چٹھی پڑھی اور چلاگیا۔ کچھ گھنٹے بعد اچانک پولیس کے سائرن کی آواز آئی عظمت جلدی سے اُٹھی اور اندر سے اپنا کمرا بند کرلی ماں عظمت کے کاموں کو دیکھ کر اللہ سے باربار دُعا کرنے لگی اچانک پکڑو پکڑو کی آواز آئی پولیس آچکی تھی ظالم چور پولیس کے ہاتھوں لگ گئے ایک چور نے آکر دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن دروازہ اندر سے عظمت نے بند کر دیاتھا۔


اتنے میں عظمت کے والد شہر سے واپس آجاتے ہیں اور حیرت سے دیکھتے ہیں کہ گھر میں کیا ہورہا ہے۔ کیوں گھر کے باہر لوگ جمع ہوئے تھے جب وہ گھر میں داخل ہوتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ چور داخل ہوئے تھے۔ پولیس اس بوڑھے شخص کو بلا کر مبارک باد دیتی ہے کہ آج تم نے بہت بڑا کام کیا ہے۔ تمہیں انعام ملے گا۔ اس پر اُس بوڑے شخص نے کہا کہ میں نے اُن چوروں کو نہیں پکڑوایا ہے بلکہ میں اُس گھر کے پیچھے کے راستہ سے گزر رہا تھا۔ اُس گھر میں سے کسی نے میرے اُوپر چٹھی پھینکی اُس میں لکھا ہوا تھا کہ ہماری مدد کریں ۔ہم مشکل میں ہیں چوروں نے اِس گھر پر دھاوا بولا ہے۔ہم سب قید ہیں اور آج وہ لوگ سارے گائوں کو لوٹنے والے ہیں ۔ آپ پولیس میں اطلاع دیں !تومیں نے آپ کو آکر بتایا پتا چلاکہ یہ عظمت نے لکھی ہے۔ تمام پولیس اور گائوں کے لوگ اُ س کے والد کو مبارک باد دینے لگے کہ تمہاری بیٹی نے بہت ہمت کا کام کیا ہے۔اس نے خطرناک چوروں کو پکڑواکر اُس گائوں کا نام روشن کیا ہے، عظمت کے والد کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، اُ ن کواپنا سابقہ رویہ یاد آرہاتھاوہ جلدی سے گھر میں داخل ہوئے اور اپنی بیٹی کو سینے سے لگایا اُس کی ماّں بہت خوش ہوئی اور کہنے لگی دیکھا اگر لڑکاپڑھ لکھ کر نام روشن کرسکتا ہے تو لڑکی بھی کرسکتی ہے۔کیوں کہ تعلیم کسی میں فرق نہیں کرتی اسلئے آج اس قلم کی طاقت سے سارا گائوں بچ گیااُس کے والد کو ہر کوئی مبارکباد دینے لگا۔انھوں نے عظمت کو گائوں کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شہر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیج دیا۔آج ان کو معلوم ہوگیا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت قلم کی طاقت ہی ہے۔
٭٭٭

شیئر کریں

کمنٹ کریں