ام الکتاب قرآن مجید کی عظمت تا قیامت باقی رہےگی

مضمون نگار : ڈاکٹر کہکشاں عرفان

, ام الکتاب قرآن مجید کی عظمت تا قیامت باقی رہےگی

ایک دیوانے نے سورج کو چراغ دکھانے کی احمقانہ کوشش کی ہے۔ قرآن تو کروڑوں حافظوں کے سینوں میں محفوظ ہے۔اس کو نقصان پہنچانے کی حماقت کوئی عقل سے عاری انسان ہی کر سکتا ہے۔قرآن کو بدلنا یا آیات حذف کرنا تو کجا ایک حرف بدلنے کی کسی انسان تو کیا کسی مخلوق کی طاقت میں نہیں۔ قرآن کی حیثیت اور اس کی پا کی قسم کھائی جاتی ہے۔ چودہ سو سالوں میں ایک زیر زبر کا فرق نہیں آیا نہ قیامت تک آے گا ۔یقین نہ ہو تو عدالت عظمی کے سارے وکیل اور جج مل کر یہ بھی آزمالیں اس کی عظمت کا پتہ خود بخود لگ جاے گا۔


چار آسمانی کتابوں میں قرآن آخری کتاب ہے جسے ام الکتاب یعنی تمام کتابوں کی ما ں کہا گیا ہے قرآن وہ واحد آسمانی کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ رب العزت نے خود لیا ہے۔تین آسمانی کتابوں توریت ہو یا زبور یا انجیل ان تینوں کتابوں میں اہل کتاب اور ان کے علماء نے اپنی مرضی سے ردوبدل کر لیا اور وہ کتابیں اپنی اصلی شکل میں باقی نہیں رہیں ۔مگر سرور کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، جنہیں امام الانبیاء ، سردارالانبیاء اور خاتم النبین بھی کہا جاتا ہے ۔آپؐ پر اللہ تعالی نے جو کتاب نازل کی وہ ہے قرآن پاک ۔قرآن پاک کی آیات مبارکہ تیئس سال میں تھوڑآ تھوڑا کر کے نازل ہوئیں اور قرآن پاک میں تیس پارے ، ایک سو چودہ سورتیں اور 6666 آیات مبارکہ موجود ہیں ۔ دنیا کی یہ واحد کتاب ہے جس پر سب سے زیادہ تحقیق کی گئ ہے۔قرآن کی صرف آیات مبار کہ پر تحقیق نہیں ہوئی ایک ایک لفظ اور ایک حرف زبر زیر پیش تشدید۔ یعنی اعراب اور نکتوں پر بھی تحقیق ہو چکی ہے ۔ یہ کلام نہ مٹا ہے نہ مٹے گا ۔مٹانے والے مٹ جائیں گے اور قرآن ہندوستان کی تاریخ نہیں جو بدل دی جاے ، قرآن اسکول اور کالج کا نصاب نہیں جسے حکومت اور عدالت بدل دے گی یا حذف کر دے گی قرآن بھارت کی اردو زبان نہیں جس کو رکھنا یا ختم کرنا بھارت کی حکومت یا عدالت کے بس میں ہو۔ مسلمان کا ایمان اللہ پر، اللہ کے رسولوں پر، اللہ کی کتابوں پر ،اللہ کے فرشتوں پر ،قیامت کے دن پر اور ہر اچھی بری تقدیر پر ہے۔ ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے کسی انسان کا کلام نہیں ۔چاہے وہ کسی بھی مسلک کا ہو چاہے وہ کسی بھی فرقے کا ہو۔ قرآن مجید کے اندر قیامت تک کسی زیر زبر پیش کا فرق نہیں پڑنا ہے ۔کجا چھبیس آیات مبارکہ ۔وسیم رضوی نے یہ ناپاک قدم اٹھا کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ اسلام کا کھلا دشمن ہےاور پر لے درجے کا بیوقوف بھی ۔بی جے پی نے وسیم رضوی کو دفن کرنے کے لئے خود اس کے ہاتھوں اس سے اس کی قبر کھد وائ ہے اور اسی لئے وہ اسلام دشمن طاقتوں کا آلۂ کار بنا ہوا ہے۔وسیم رضوی کے اوپر خدا کی لعنت ہو۔قرآن کی آیات مبارکہ کو حذف کرنے کے لئے عدالت عظمی کا دروازہ کھٹکھٹانا یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ چال کسی شیطان مردود کی ہے جس نے وسیم رضوی جیسے جاہل اور منافق بلکہ کافر کہیں تو بیجا نہ ہوگا کا استعمال کیا ہے۔

اسلام کی پاک کتاب جس میں شعبۂ حیات کے تمام مسائل کا حل ہے جو جینے کا سلیقہ اور انسانیت کے آداب سکھاتی ہے۔اس کتاب کو ایک جاہل سیاست داں نے چیلینج کیا ۔افسوس صد افسوس وسیم رضوی کو فوری طور پر اپنا نام بد ل دینا چاہئے۔وہ مسلمان کے نام پر کلنک ہے۔وسیم رضوی تو آر ایس ایس کے بڑ بولے اور اسلام دشمن، اور رام بھگت اندھ بھگتوں کی زبان بول رہے ہیں ۔ہندوستان کی عدالت عظمی نے بابری مسجد کے بارے میں جس طرح غلط فیصلہ دیا اور انصاف کو طاق پر رکھ دیا اس کی وجہ سے اسلام دشمنوں کا سینہ چوڑا ہو گیا ہے۔اس کے بعد بھی مسلسل اسلام کے چاہنے والوں کو بہانے بہانے سے آتنکوادی ، جہادی اور ملک کی غداری کے الزام میں گرفتار کیا ان کو ستایا گیا ان کو بدنام کیا گیا ۔تب سے نیشنل میڈیا کے کچھ اینکروں کی زبان بھی گز بھر لمبی ہوگئ ۔انہوں نے خوجہ معین الدین چشتی ؒ کی شان میں گستاخی کردی مگر حکومت کی پشت پناہی اسے حاصل رہی حکومت ہندکی ہمدردیا ں فرانس میں گستاخ رسول مردود انسان کے ساتھ تھیں ۔مگر اس گستاخ کا اہل اسلام نے کیا حشر کیا یہ دنیا نے دیکھا ۔کہیں وسیم رضوی کا حشر بھی فرانس کے گستاخ جیسا نہ ہو۔۔مسلم .معاشرے کے قابل ہونہار طلبہ نے اپنی محنت اور لگن سے بھارت کا سول امتحان پاس کرکے ملک انتظامیہ میں اپنی جگہ بنائ تو ان طلبہ پر فخر کر نے کے بجاے ان ہونہار طلبہ اور ان تعلیمی اداروں کو جہادی کہا گیا ۔آتنک وادی کہا گیا ۔

حکومت خاموش تماشائی بنی رہی ۔کبھی بی جے پی کے سرفرے رہنما مسلمانوں کے خلاف بولتے رہتے ہیں مگر اہل اسلام کو معلوم ہے کہ وہ تو کھلے دشمن ہیں مگر ایک کلمہ گو جس کا نام وسیم رضوی ہو جس کی شناخت اسلام ہو جس کی کتاب قرآن مجید ہو جسے کتاب الھدایت بھی کہا جاتا ہے ۔اس کے خلاف دنیا کی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا کیا معنی رکھتا ہے ۔وسیم رضوی نے تمام اہل اسلام کو صدمہ پہنچایا ہے۔شیعہ اور سننی کا یہ فرقہ گو اپنے اپنے اصول رکھتا ہے مگر اللہ کی وحدت ۔نبوت ، کے ساتھ قرآن مجید کی عظمت اور آسمانی ہونے پر سب کا کامل یقین ہے بلکہ ایمان ہے۔وسیم رضوی جس عہدے پر ہو اسے فوری طور پر برخاست کیا جاے اور عدالت عظمی سے اپیل کی جاے ایسی نازیبا درخواست کو نہ صرف رد کیا جاے بلکہ مردود وسیم رضوی کو قرآن پاک کی توہین کے جرم میں سخت سے سخت سزادی جاے اور اس شیطان کی تمام جائیدادیں جو ایک مسلم گھرانے سے ملی ہیں چھین لی جائیں ۔سچ تو یہ ہے مردود وسیم رضوی کا یہ عمل قابل معافی نہیں ۔کیا ہو گیا ہے بی جے پی میں شامل دہریہ مسلمانوں کو ؟ کیا دنیا کی دولت اتنی طاقت ور ہے کہ ایمان کی دولت کو خرید لے۔ لعنت بھیجتی ہوں میں شیطان وسیم رضوی پر ۔شعیہ مسلک کے علماء بھی سخت ناراض اور اس شخص کے خلاف ہیں ۔یہ اچھی بات ہے کہ اس گمراہی کے دور میں ابھی تمام مسلک تمام فرقے دیںن اسلام پر ایک ساتھ ہیں ۔
*****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں