قرۃ العین حیدر کی افسانہ نگاری

مضمون نگار : نورالحسنین

قرۃالعین حیدر کی افسانہ نگاری

                قرۃالعین حیدر کا جنم  20 /  جنوری  1927؁ء کو اپنے وقت کی نہایت عبقری شخصیت  سجاد حیدر یلدرم کے گھر بمقام علی گڑھ میں ہوا ۔ اُن کا گھرانہ صرف متمول ہی نہیں بلکہ علم و ادب کا گہوارہ بھی تھا ۔ والد اگر اُردو افسانے کے اولین افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے تھے تو والدہ نذر سجاد بھی بحیثیت ایک ادیبہ کے اہم مقام رکھتی تھیں ۔ اسی علمی ادبی ماحول میں اُن کی پرورش ہوئی ۔

                قرۃ العین حیدر کا تعلیمی سفر ابتدا ء ہی سے نہایت تابناک رہا ۔اُن کے والدین نے اُن کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی چنانچہ اُن کی ابتدائی تعلیم کی تکمیل دہرادون اور لکھنو میں ہوئی ، لکھنو ہی کے مشہور کالج ازا بیلا تھوبرن کالج سے  1941؁ء میں اُنھوں نے انٹر میڈیٹ کیا ، بی۔ اے کی ڈگری کی خاطر وہ دہلی پہنچی ، اور ایم ۔ اے انگریزی کی سند اُنھوں نے لکھنو یونیورسٹی سے حاصل کی ۔  وہ آرٹ کی بھی شیدائی تھیں ۔ یہ فن اُنھوں نے لکھنو اور لندن میں حاصل کیا ۔  

                قرۃ العین حیدر نے جب شعور کی آنکھوں سے اپنے اطراف و اکناف کا جائزہ لیا،  تو اُن کے سامنے ایک ایسا معاشرہ تھا جو اینگلو انڈین معاشرہ کہلاتا تھا ۔  اُس دور کے نوجوانوں میں بڑی تعداد اُن نوجوانوں کی تھی جنھوں نے انگریزی علوم کے حصول کے بعد انگریزی حکومت میں ملازمتیں قبول کرلی تھیں اور اُن کے ہی طور طریقے اختیار کرلیے تھے ۔ یعنی  اُن کے جیسا لباس، رہن سہن، ڈانس ، پارٹیاں ، شام کی محفلیں جن میں کھیل کود کے بعد تاش کی محفلیں ، اور بات چیت میں زیادہ سے زیادہ انگریزی الفاظ کا استعمال ہوتا تھا ۔ یہ لوگ اپنی لڑکیوں کو بھی اعلیٰ تعلیم دینے کے حق میں تھے تاکہ اُن کی شادی کسی ایسے نوجوان سے ہوسکے جو ولایت کا ڈگری یافتہ اور حکومت انگلشیہ میں کسی بڑے عہدے پر فائض ہو ۔

                 گھر کے ادبی ماحول نے بہت جلد قرۃ العین حیدر پر واضح کردیا تھا کہ قدرت اُن سے ادب کا کام لینا چاہتی ہے ۔ چنانچہ بہت جلد اُنھوں نے قلم سے دوستی کرلی تھی ۔ طالب علمی کے زمانے ہی میں اُن کا پہلا افسانہ ’’  یہ باتیں ‘‘  لاہور سے شائع ہونے والے نہایت اہم ادبی رسالے ’  ہمایوں ‘  میں شائع ہوا ، اور پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا اور اُن کی تخلیقات مختلف رسائل کی زینت بنتی چلی گئیں ۔ وہ ایک خلاق ذہن کی ادیبہ تھیں ۔ اپنے مطالعے اور مشاہدے کو اپنی تحریر کا حصہ بنانے کے فن سے خوب واقف تھیں ۔

                قرۃ العین حیدر نہ صرف مغربی علوم اور بدلتی قدروں سے واقف تھیں بلکہ اُن کی نظروں میں تاریخ کی وہ کروٹ بھی تھی جو زمانے کو تبدیل کر رہی تھی ، جدید تکنالوجی کی آمد اور معاشی آسودگیوں کی صورت ِ حال ، رئیس زادوں کے نئے چونچلے، مخلوط تعلیم اور مختلف مذاہب کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں بڑھتی ہوئی دوستیاں ، آزادی کی ہلچل، اور جاگیردارانہ ماحول کی آخری وضع دارسانسیں لیتی ہوئی زند گیاں آنے والے کل سے بے خبر تھیں ۔ یہی سب کچھ اُن کے افسانوں میں کبھی پلاٹ کی صورت اور کبھی پس منظر میں ڈھلتا رہا ، لیکن ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ مغرب کی اندھی تقلید ہی کر رہی تھیں اور مشرقی اقدار سے غافل ہو گئی تھیں ۔ اُن کی سوچ کے دھارے قوم کو اپنی اصلیت سے بھی آگاہ کرتے تھے :

  ’’  تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ تم لکھنو میں ہو ، جہاں شام ِ اودھ ہوتی ہے ۔ یہ اودھ دراصل ایک بڑی رومانٹک سی سلطنت تھی ۔ تاریخ کے سنہرے صفحات پلٹو تو معلوم ہوگا کہ ۔۔۔ اور اس کے بادشاہ اوپیرا  اور سنگیت سبھاؤں میں راجا اندر اور جوگی بنا کرتے تھے ۔ بڑے نالائق اور نکمّے لوگ تھے وہ ۔ جبھی تو یہ جگمگاتی ہوئی پرستان جیسی سر زمین اُن سے چھین گئی ۔ ‘‘ ( ۱ )
********

 ’’  کاش وہ سارے بکھرے ہوئے نغمے مضراب سے جاگ اُٹھیں ، جو صدیوں سے تان پورے کے  تاروں میں سمٹے ہوئے ہیں ۔ وہ پرانے تار ، جو ہندوستان کے رنگیلے پیاؤں کے دربار میں چھیڑے جاتے تھے ۔ وہ رنگیلے پیا جنھوں نے ہندوستان کی تاریخ کو اتنا ضخیم بنا دیا کہ مقابلے کے امتحانوں میں اُن کے متعلق جواب ِ مضمون لکھ کر پی سی ۔ ایس بنا جا سکے ۔ ‘‘  ( ۲ )

                اُن کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’  ستاروں سے آگے ۔ ‘‘  بقول ڈاکٹر سہیل بیابانی سن 1946 ؁ء میں شائع ہوا ۔ اس مجموعے میں وہ افسانے شامل تھے جو کتاب کی اشاعت سے تین چار برس پہلے لکھے گئے تھے ۔ اس مجموعے پر توصیف کم اور تنقید زیادہ ہوئی ۔ اس کی مختلف وجوہات تھیں ۔پہلی وجہ تو یہ تھی کہ اُس وقت اردو میں نہایت بلند قامت ادیب موجودتھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ قرۃ العین حیدر نے اُن موضوعات  اور اُن کرداروں کو پیش کیا تھا جو  اردو قارئین کے لیے بالکل نئے تھے ۔مثلاً  کانونٹ میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیاں، چرچ، گرجا، مسیحی ماحول وغیرہ ، ترقی پسند تحریک کی مقبولیت کے باوجود اُن کے افسانے ترقی پسند نظر یات سے قطعی مختلف تھے ۔ نہ اُنھوں نے کارل ماکس کی تھیوری کو برتا نہ افسانے کے اجزائے ترکیبی پر دھیان دیا ۔ اُن کا اسلوب آسان نہیں بلکہ نہایت بے تکلف تھا ۔وہ اکثر بنا پلاٹ plotless  افسانے لکھتی تھیں – اسی لیے اس مجموعہ میں نہ تو پریم چند کا دیہی ماحول تھا ،نہ سدرشن کا وہ مخصوص ہندو طبقہ، نہ سلطان حیدر جوش کا وہ مسلم ماحول ، نہ عصمت چغتائی کی بولی ٹھولی، نہ کرشن چندر کی ترقی پسندی، نہ منٹو کے پسندیدہ کردار ، اس کے بر خلاف قرۃ العین حیدر نے اُس ماحول کو پیش کیا تھا جو انگریزی تہذیب سے پیدا ہونے والا انگلو انڈین کلچر تھا ۔ اسی سبب اس مجموعے پر پروفیسر عبد المغنی نے نہایت سخت تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا :

’’  ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری کہانیاں مس عینی کی ذاتی و خاندانی البم کی تصویریں ہیں  ۔ فن پر شخصیت کی یہی حد سے بڑھتی ہوئی گرفت ہے جو مختصر افسانے کے سانچے کو پگھلا کر جیسے تیسے سانحات کا گزٹ اور کچے پکے جذبات و خیالات کا پلندہ بنادیتی ہے ۔ مختصر یہ کہ ’’ ستاروں سے آگے ‘‘  مس حیدر کی نوٹ بک ہے جسے ایڈٹ کیے بغیر اُنھوں نے جوں کاتوں پبلیشر کے حوالے کردیا ۔ ‘‘   (  ۳ )

                قرۃ العین حیدر کے افسانوی کینوس پر تنقید کرنے والے ناقدین کو یہ بات بھی سمجھنا چاہیے کہ وہ جس ماحول کی پروردہ تھیں اُنھوں نے اُسی ماحول کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اُنھوں نے رئیسوں اور نوابوں کی پردہ پوشی نہیں کی بلکہ اُن کی سوچ اور اُن کے رہن سہن کی حقیقی تصویریں سامنے لائیں ہیں ۔ ممتاز ناقد محمود ہاشمی نے اُن کے فن  کا اعتراف کرتے ہوئے بالکل صحیح  لکھا ہے  :

’’  اردو میں جدید افسانوی اسلوب کا آغاز قرۃ العین حیدر کے ابتدائی مجموعے  ’’  ستاروں سے آگے ‘‘  سے ہوتا ہے ۔ اس مجموعے کے افسانے اردو میں پہلی بار اس ریا ضیاتی یا  Cartesian  منطق کو توڑتے ہیں جو واقعات اور کرداروں کو خط ِ مستقیم میں سفر کرنے پر مجبور کرتی تھی ۔ اور جس کا مقصد بیانیہ طرز کا احوال تھا ۔ ان افسانوں میں نثر کے تخلیقی استعمال کے ابتدائی نقوش نمایاں ہوئے ہیں ، اور ایسے کردار تخلیق کیے گئے جو اپنی شخصیت کے جھروکے سے دنیا پر نظر ڈالتے ہیں اور اُن اشیاء کو ذہن اور تخلیق کا منظر نامہ بنا لیتے ہیں ۔ جن میں الفاظ اور اشیاء ایسے استعارے ہیں جن کے مناظر کی خاموشی میں باطنی احساس کی آواز موجود ہے ۔ ‘‘  ( ۴ ) 

                قرۃ العین حیدر نے رومان کے مروجہ رجحان سے بھی بغاوت کی جس کی مثال اُن کے افسانہ ’’  دیودار کے درخت ‘‘ سے دی جا سکتی ہے جو اُن کے پہلے افسانوی مجموعے کا پہلا ہی افسانہ ہے ۔ اس افسانے کا آغاز ملاحظہ فرمائیں اور اس رومانی جدت سے لطف اُٹھائیں  :

’’  نیلے پتھروں کے درمیان سے گزرتی ہوئی جنگلی نہر کے خاموش پانی پر تیرتے ہوئے دیودار کے سائے بیتے دنوں کی یاد کے دھندلکے میں کھو کر مٹتے جا رہے  ہیں ۔ بھیگی بھیگی سرد ہوائیں ، چیڑ کے نوکیلے پتوں میں سر سراتی ہوئی نکل جاتی ہیں ، اور دیوداروں کے جھنڈ کے پرے اس اونچی سی پہاڑی پر بنی ہوئی سُرخ  عمارت کی کھڑکیوں کے شیشوں پر چاند کی کرنیں پڑی جھلملاتی رہتی ہیں لیکن کبھی بھول کر بھی  We meet in the vally of moon  والا محبوب گیت گانے کو دل نہیں چاہتا ۔ ناشپاتی اور خوبانی کی جھکی ہوئی شاخوں کے نیچے سہ پہر کی چائے اب بھی ہوتی ہے مگر امی سے نظر بچا کے کچّی خوبانیوں نہیں توڑی جاتیں، نیچے وادی میں رات کے نو بجے والی ٹرین روز اسی طرح بل کھاتی ہوئی گزرتی ہے لیکن اس کی آواز سنتے ہی بے تحاشہ بھاگتے ہوئے جاکر مسافروں کو شب بخیر کہنے یا روشنیاں گننے کی اب کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ، یہ سب باتیں فضول اور پرانی ہوچکی ہیں ۔ ‘‘  ( ۵ )

                قرۃ العین حیدر تصّور پرست تھیں ۔  رومانیت کی جدت سے خوابوں کی دل نشینی کو تراشنا اُنھیں پسند تھا۔یہ خوبی ان کے افسانے   ’’  دیو دار کے درخت ،  مونا لِسا، رقص  ِ شرر ،  ٹوٹے تارے،  اور ’ افسانہ  ’’ لیکن گومتی بہتی رہی  ‘‘  میں دیکھی جاسکتی ہے۔وہ اپنے کرداروں کے مزاج کی خارجیت  سے زیادہ داخلیت کی عکاسی کرتی تھیں ۔ اسی لیے وہ اپنی شخصیت کے خول کے اندر ہی سانسیں لیتے نظر آتے ہیں جس کے باعث گمان ہو تا ہے کہ یہ مصنفہ کی اپنی ہی سوانح ہے ۔ یا اُن کی ذاتی ڈائری کہ اوراق ہیں۔ ان کرداروں کے مزاج میں کہیں انانیت ہے، کہیں احساس ِ برتری کی آڑ میں احساس کمتری ، کہیں رومانی نا آسودگی ،کہیں چاہے جانے کا ارمان ، کہیں یادوں کی یلغار ، کہیں تخئیل کی پروازیں ، کہیں خود کلامی ، کہیں روحانی نا آسودگی اور کہیں آسودگی ، کہیںمقدر کی بے بسی ، کہیں دل ہی دل میں سرسراتی ہوئی آرزوئیں، کہیں صبر و شکر کی ٹھنڈک کا احساس ا ور کہیں تنہائی کے سناٹے اندر ہی اندر اندھیرے کی چادر تان دیتے ہیں ۔ ’’ ستاروں سے آگے ‘‘ کے بیشتر افسانے زندگی کی بے معنویت کا احساس بھی دلاتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی اُن کا نظریہ حیات بھی اُجاگر ہوتا ہے کہ وہ زندگی کو ایک انعام تصور کرتی ہیں جس کے ساتھ انصاف کرنا ہر بشر کے لیے لازم ہے ۔

                تقسیم ِ ملک کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کر گئیں ۔ وہاں اُنھوں نے زندگی کے عجب عجب رنگ دیکھے ۔ کہیں زندگی تڑپ رہی تھی اور اُس کا کوئی پرسان ِ حال نہیں تھا ، اور کہیں محفلیں سج رہی تھیں اور دولت پانی کی طرح بہہ رہی تھی ،کہیں وہ بے نشان غریب و غربا تھے جنھیں ہندوستان میں کوئی جانتا بھی نہیں تھا لیکن یہاں پہنچتے ہی اُنھوں نے جعلی سندوں کا سہارا لے کر بڑی بڑی جائدادوں پر قبضہ کر لیا تھا ۔ اپنے ناموں کے ساتھ فلاں یار جنگ،یا نواب کے دم چھلے جوڑ لیے تھے یا اپنا نسب نامہ صوفیوں کے خاندانوں سے ملا کر خود کو طبقہ اشرافیہ میں شامل کر لیا تھاتو کچھ کم تعلیم یافتہ افراد نے اپنی سندوں کی گمشدگی کا بہانہ بناکر اونچے اونچے عہدے ہتیالیے تھے ۔ اور بہت سارے وہ افراد تھے جن کا شمار ہندوستان میں دولت مند اور صاحب ِ حیثیت اِشخاص میں ہوتا تھا وہ وہاں پر کسم پُرسی کی حالت میں جی رہے تھے ۔ ساتھ ہی کچھ وہ لوگ بھی تھے جو ہندوستان میں بھی اور یہاں بھی حسب حیثیت خوشحال تھے ۔اس نئے معاشرے ؎ میں پاکستان کے وہ نو دولتیے تھے  جو مارڈنیٹی کے نام پر کوّے کی چال چل رہے تھے ۔ رشتوںکا تقدس  اور اُن کی اہمیت باقی نہ رہی تھی ۔ یا پھر محض ترس کھاکر قبول کرلیے گئے تھے جن میں خلوص و محبت نام کو نہیں تھی ۔ یا پھر وہ افرادتھے جو ہجرت تو کر گئے تھے لیکن اُن کے دل و دماغ میں اب بھی اُن کا آبائی شہر، اُس کے گلی کوچے نشتر بن کر کچوکے لگا رہے تھے ۔

                اُن کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’ شیشے کے گھر ‘‘  سن 1954 ؁ ء میں مکتبہ جدید  لاہور سے شائع ہوا ۔ اس مجموعے کی اشاعت کے ساتھ ہی اُن کی شہرت اور عظمت کا گراف آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگا۔ اس میں شامل کچھ افسانے اُنھوں نے ہندوستان ہی میں لکھے تھے اور بقیہ پاکستان میں ۔ ان افسانوں کا مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ اُنھوں نے اپنی فنکاری سے اردو افسانے کو اُس کے محدود دائرے سے نکال کر عالمی معیار تک پہنچادیا ۔ اس نئے مجموعے کے افسانوں کے پلاٹ ، کردار سازی، منظر نگاری ، واقعات کا تسلسل ، تکنیک و اسلوب، مکالمے سب کچھ اُن کی ہنر مندی کی داد وصول کرتے ہیں ۔ اس پر بھی کچھ نے تو اُن کے فن کو خوب سراہا اور بعض نے اعتراضات کے در بھی بند نہیں کیے ، اور سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ’’ شیشے کے گھر ‘‘ کے تمام افسانوں پر کسی نے بھی مکمل تجزیاتی اور تنقیدی مطالعہ پیش نہیں کیا ، البتہ دل ہی دل میں اُن کے فن کے سب قائل ہو گئے ۔

                ’’ شیشے کے گھر ‘‘ میں جملہ بارہ افسانے شامل ہیں ۔ ان میں بیشتر افسانے پاکستان ہی میں لکھے گئے ۔ جو ایک نئے ملک، نئی تہذیب ، مہاجر اور مقامی اتہذیب کا ٹکراؤ بیان کر رہے تھے ۔ بارہ افسانوں کے باوجود کتاب کی ضخامت  328 صفحات پر پھیلی ہوئی تھی ۔ مجموعے کا طویل تر افسانہ  ’’  دجلہ بہ دجلہ،یم بہ یم ‘’ ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر طویل افسانوں میں ’’  میں نے لاکھوں کے بول سہے ‘‘ اور ساتھ ہی  ’’ جلا وطن  ‘‘  جیسا منفرد اور اہم ترئین افسانہ بھی اسی مجموعے میں شامل ہے ۔ 

                افسانہ ’’ دجلہ بہ دجلہ، یم بہ یم ‘‘  کی طوالت کسی مختصر ناول سے کم نہیں ہے  جبکہ دوسرے دونوں طویل افسانے بھی کسی ناولٹ کے برابر ہیں  ۔ اُن کا یہ مجموعہ متنوع بھی ہے اور بہ حد اہم بھی ۔ اس میں اُن کے تیسرے مجموعے ’’  روشنی کی رفتار  ‘‘ کی مانندیکسانیت بھی نظر نہیں آتی ۔ تکنیک کے اعتبار سے بھی جائزہ لیا جائے تو اس میں کہیں شعور کی روکا استعمال ہوا ہے تو کہیں خود کلامی کو برتا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ اس میں بقول محمود ہاشمی ایک طرح کی بلوغیت نظر آتی ہے ۔ دو تہذیبوں کا ٹکراؤ بھی ہے ۔ تاریخ بھی ہے اور تاریخیت  Historisity بھی ، ہجرتوں کا کرب بھی ہے ۔ بنیادی بات جو اس مجموعے میں دکھائی دیتی ہے وہ ہے انسانیت، قرہ العین حیدر انسانی رشتوں اور انسانیت کو ہمیشہ افضل تصور کرتی رہی ہیں ، اور جب جب بھی یہ رشتے متصادم ہو تے ہیں وہ اُن پر نثر میں نوحہ لکھتی ہیں ۔

                 ’’شیشے کے گھر ‘‘  کے افسانے اپنی کرافٹ میں بھی یکتا  ہیں ۔ سن  1946 ؁ء  سے  1954؁ ء کا دور ترقی پسند تحریک کے عروج کا دور ہے ۔ اس دور میں ایک مخصوص موضوع کو ذہن میں رکھکر افسانے لکھے جا رہے تھے ۔ ایک طرف کرشن چندر کی بے پناہ مقبولیت تھی تو دوسری طرف منٹو اورعصمت  سماج کا وہ چہراسامنے لا رہے تھے جس سے واقف تو سب تھے لیکن اظہار کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے ، راجندر سنگھ بیدی  اپنے افسانوں میں انسانی عمل اور رد عمل کی ایک نئی کائنات تشکیل دے رہے تھے  ،خواجہ احمد عباس ایک صحافی کی نظر سے افسانے لکھ رہے تھے  ، حیات اللہ انصاری کے افسانے اپنے اعتدال اور توازن سے زندگی کا رخ دکھانے کی کوشش کر رہے تھے  ۔ ترقی پسند افسانوں کے کردارمعاشی ، اقتصادی نہ برابری سے جوجھ رہے تھے ۔ تقسیم ملک نے فسادات اور ہجرت کے کرب میں مبتلا کردیا تھا ۔ افسانہ ان ہی راہوں پر سفر کر رہا تھا ۔ کردار واضح تھے ، اُن کی ضروریات واضح تھی لیکن دوسری طرف تنہا قرۃ العین حیدر تھی جس نے اپنے افسانوں میں ہجرت کے کرب کے ساتھ ہی ساتھ پاکستان میں آباد ہونے والے مہاجروں کے مسائل اور اور ایک اُبھرتی ہوئی نئی تہذیب سے آنکھیں بھی چار کیں اور ان موضوعات سے الگ اپنی ایک راہ نکالی ، ’’ شیشے کے گھر ‘‘  کے افسانوں میں جو موضوعاتی سطح پر ہمیں بلوغیت دکھائی دیتی ہے وہ اُن کے افسانوں کی ہئیت، خیال ، اسلوب  میں بھی صاف نظر آتی ہے ۔ ان افسانوں میں فلسفیانہ تنوع ہی نہیں بلکہ گیرائی وگہرائی بھی موجود ہے ۔ اُنھوں نے جو کچھ بھی محسوس کیا اُسے اِسی انداز میں رقم کر دیا ۔ اسی لیے اُن پر سوانحی الزامات بھی عائد ہوئے ۔ اُن کا مطالعہ اور مشاہدہ بہت گہرا تھا اور وہ اُسے اپنی تحریروں میں برتنے کا سلیقہ بھی جانتی تھیں ۔

                ’’ شیشے کے گھر ‘‘ کا پہلا افسانہ  ’’ جب طوفان گزر چکا ‘‘  ہے ۔ اس افسانے کی رومانی فضاء نے اسے ایک رومانی افسانہ قرار دیا ہے لیکن اس افسانے میں جس ازلی حقیقت کو بیان کرنے کی خاطر قرۃ العین حیدر نے یہ افسانہ لکھا اُس کی نفسیاتی، مذہبی تہہ تک بہت کم قارئین پہنچ سکے ہیں ۔ مٹھوں اور خانقاہوں کی عکاسی تو ہمارے افسانوں میں نظر آتی ہے لیکن قرۃ العین حیدر نے جس باریکی کے ساتھ گرجا گھروں کے اندر کا نقشہ کھینچا ہے اور انسانی جبلت اور ضرورت کی طرف اشارہ کیا وہ یقینا  بے حد اہم ہے۔ اس افسانے کی اسی خوبی کو بیان کرتے ہوئے محمود ہاشمی لکھتے ہیں :

 ’’ مجموعے کا پہلا افسانہ مصوری کے ایک ایسے کینوس کی مثال ہیش کرتا ہے جس کے رنگوں میں نیچر کی وہ کائنات ہے جو کبھی مذہب اور مابعدالطبیعیات کی قیادت میں اعلیٰ ترئین  ’ نیکی ‘ تصور کی جاتی ہے ۔ نیچر کی تصویر کشی سے اس افسانے کا آغاز ہوتا ہے جس کا عنوان ۔۔۔ ’’ جب طوفان گزر چکا ‘‘ ہے۔ ‘‘ ( ۶ )

                تو آئیے اُس اقتباس کا مطالعہ کریں ۔

’’  تو کبوتر آسمان سے نیچے اُترا ، اور اُس کی چونچ میں زیتون کی ایک سبز ڈالی تھی اور اُس ڈالی کو دیکھ کر وہ سب زمین کی اس وادی میں پہنچے اور خدا وند خدا کی بزرگی کا نشان قائم کرنے کے لیے آس پاس کی پہاڑیوں کے نیلے ،بھورے پتھر جمع کرکے اُنھوں نے ایک عبادت گاہ بنائی اور اُس میں وہ آسمانوں کے بادشاہ کی حمد کرنے لگے ۔ جس نے اُنھیں طوفان سے بچایا اور تب خدا  وند اسرائیل کے خدا کا جلال زیادہ ہوا ، اور کائینات نور سے معمور ہوگئی اور وادی میں رنگ برنگے پھول کھل گئے ، اور خانقاہ کے چاروں طرف اانگور کی بیلیں اور زیتون اور انجیر کے درخت اُگ آئے ۔ ‘‘  (  ۷ )

                یہ اقتباس اشارہ ہے حضرت نوح علیہ سلام کی کشتی اور طوفان کی طرف ، اور طوفان سے پہلے اللہ نے اُنھیں حکم دیا تھا کہ اپنی کشتی میں ہرچرند اور پرند کا ایک ایک جوڑا سوار کرلیں ۔ گویا وہ زمین پر نر اور مادہ کے اختلاط سے ایک محبت بھری زندگی کو آباد کرنا چاہتا ہے ۔ اس افسانے کا پیغام ہی محبت ہے ۔ افسانے میں دو لڑکیاں راحیلہ اور ازا بیلا ہیں ۔ جو راہبہ ہیں ۔ راہباوں کی زندگی مجرد ہوتی ہے اور یہ زندگی خلاف ِ قانون ِ قدرت ہے ۔ یہ دونوں کردار گرجا گھر کی چاردیواریوں میں بند زندگی کی متلاشی ہیں ۔ ازابیلا کا نظریہ حیات موت تک گرجا ہی ہے جبکہ راحیلہ محض راہبہ بن کر جینا نہیں چاہتی ۔ وہ عبادت، گرجا ، اُصول ، تقدس کے ساتھ ہی ساتھ زندگی کو بھی دریافت کرنا چاہتی ہے ۔ یہ دریافت ہی انسانی جبلت ہے ۔ قرۃ العین حیدر نے گرجا کے ماحول کی نہایت کامیاب عکاسی کی ہے ۔ راہباوں کی زندگی جس تقدس سے بندھی ہوئی ہے اُس کے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی ہے ۔ انسانی رشتوں کی اپنی ایک اہمیت ہے ۔ یہ رشتے نہ ہوں تو انسان بے معنی ہوجاتا ہے ۔

                 ’’ شیشے کے گھر ‘‘ کا دوسرا افسانہ ’’  سرراہے ‘‘ ہے ۔ یہ افسانہ اُنھوں نے اُس وقت لکھا جب وہ پاکستان میں تھیں اور ایک نئے ملک کو بنتا ہوا دیکھ رہی تھیں ۔جہاں  ملازمتیں اور بڑے بڑے عہدے بٹ رہے تھے ۔جھوٹ اور جھوٹی اسناد کا بول بالا تھا ۔ نئے دولتیے اپنی ماضی کی پہچان مٹانے کی خاطر اپنے حسب نسب میں پیوند کاری کرنے میں مصروف تھے ۔ یہ افسانہ  ہجرت کے بعد پاکستان پہنچنے والے اُس گھرانے سے تعلق رکھتا ہے جو وہاں بھی اُسی کرو فر کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہے لیکن ان کی نوجوان نسل قدرے کنفیوز ڈ ہے ۔ اُن کی سوچ مختلف زاویوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ اُن میں کچھ تو نہایت ذہین ہیں ۔ اس افسانے میں خود قرہ العین حیدر بھی زرین تاج کے نام سے ایک کردار کے روپ میں ہے ۔ پورا افسانہ شعور کی رو کی تکنیک میں لکھا ہوا ہے ۔افسانے کے نوجوان کرداروں کے اپنے مسائل ہیں، روزی کا مسلہ بھی ہے ۔ مستقبل کا احساس بھی ہے ۔ آپس میں چھیڑ چھاڑ بھی ہے ۔ خوب صورت مناظر بھی ہیں ۔ استعارے اور علامتیں بھی ہیں اور جب بھی افسانہ  رکنے لگتا ہے زرین تاج اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے اور افسانے آگے بڑھ جاتا ہے ۔ نین تارا ہی اس افسانے کی راویہ بھی ہے ۔ یہ افسانہ آسانی سے گرفت میں نہیں آتا کیونکہ قرۃ العین حیدر اپنے افسانوں میں اپنا مطالعہ بھی شامل کر دیتی ہیں جس کے باعث قاری اُلجھ جاتا ہے ، لیکن افسانے کا بیانیہ انداز، زبان کی سحر کاری، خوب صورت منظر نگاری  قاری کومطالعے پر مجبور کرتی ہے خواہ افسانہ اُس کی گرفت سے باہر ہوجائے ۔

                قرۃ العین حیدرکے فن پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر قمر رئیس نے بالکل صحیح تجزیہ کیا ہے :

’’  قرۃ العین حیدر کے ناولوں اور کہانیوں میں انسانی وجود کے داخلی اضطراب ، آشوب ِ دہنی ، اور احساس ِ تنہائی کو نمایاں اہمیت حاصل ہے ۔ ان کی بیشتر تخلیقات میں ورجینا وولف کے اس نظریے کی کارفرمائی نظر آتی ہے کہ زندگی شعور کے آغاز سے انجام تک محیط روشنی کا ایک ہالہ ہے ۔ ناول نگار کا کام یہ ہے کہ اُس کی نازک خواب گوں ، اجنبی اور پُر اسرار کیفیتوں کو سچائی سے پیش کر دے ۔ اس طرح کہ خارجی عناصر کم سے کم دخیل ہوں ۔ اس تصور کے مطابق افسانے ،ناول میں زندگی اور اور واقفیت کی عکاسی کے تین طریقے ہیں ۔ اول یہ کہ آزاد تلازمہ خیال اور شعور کی رو سے کام لیا جائے دوسرے یہ کہ وجود کی تہہ داریوں کے انکشاف کے لیے علامتی اور ایمائی طر, بیان اختیار کیا جائے اور تیسرے یہ کہ مختلف کرداروں اور متعدد ذہنوں کو یکجائی اور وحدت کے روپ میں دکھایا جائے ۔ قرۃ العین حیدر نے حسب ِ ضرورت ان تینوں طریقوں سے کام لیا جائے ۔ ‘‘  (  ۸ )

                ڈاکٹر قمر رئیس کا یہ ا قتباس افسانہ ’’  میں نے لاکھوں کے بول سہے ‘‘  کے کرداروں اور اُن کے عمل پر پوری طرح صادق آتا ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قرۃ العین حیدر کے افسانوں کے پلاٹ کو بیان کرنا بہت مشکل ہے ، کیونکہ وہ عموماً پلاٹ لیس  Plotless افسانے تحریر کرتی ہیں ۔ ان کے افسانے کرداروں کی سوچ ، اُن کے عمل اور اُن کے مکالموں سے ہی آگے بڑھتے ہیں ۔ افسانہ ’’ میں نے لاکھوں کے بول سہے ‘‘  کے پلاٹ کو بھی بس اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ یہ اعلیٰ طبقوں کے نوجوانوں کے عشق اور اُن کے شادی بیاہ سے متعلق اُن کے نظریات کا آئینہ دار ہے ۔

                یہ افسانہ بھی مختلف کرداروں سے بھرا ہوا ہے ، لیکن اس کا مرکزی کردار ’’ نین تارا ‘‘  جو حسب روایت خود قرۃ العین حیدر کا ہے ۔ یہ کردار اپنے کھلنڈرے مزاج ، اور آزاد خیالی کے باوجود گمراہ نہیں ہے ۔ افسانے کے دیگر کرداروں میں خالدہ  توفیق ، می می ، رفعت ، اور سرور وغیرہ ہیں ۔ خالدہ  توفیق اور نین تارا کی علامتی گفتگو پورے افسانے کے مرکزی خیال کو ظاہر کردیتی ہے ، لیکن قاری اُسے محض منظر نگاری سمجھ کر آگے بڑھ جاتا ہے:

’’  مجھے وادی کے اُس حصے کا راستہ معلوم ہے۔ جہاں ان نیلی پہاڑیوں کے پرے وہ بے حد خوب صورت جھیل ہے ۔ جس کے کماروں پر پوست کے سرخ پھول کھلتے ہیں اور گھانس میں ہرے رنگ کے نہایت شکیل ٹڈے کودتے رہتے ہیں ۔ ‘‘ اُس نے آہستہ آہستہ جواب دیا ۔

میں نے خوش ہوکر پوچھا ، ’’  اور اُس میں کنول کے پھول ہیں ؟ اور سارس اور بطحیں ؟  اور کنارے پر کوئی پرانا درخت بھی کھڑا ہے ؟ جس کے سائے میں ہم اپنی ناؤ بھی باندھ سکیں  ؟ ‘‘

 ’’ ہاں اُس کے کنارے پر ایک پرانا درخت کھڑا ہے جس کے سائے میں ہم اپنی ناؤ باندھ سکتے ۔ ‘‘ اُس نے اُسی انداز سے یکساں آواز میں میری بات دوہرائی اور پھر گھٹنوں میں سر رکھ کر افیمچیوں کی طرح بیٹھ گئی ۔ ‘‘  ( ۹ )

                افسانے کے اس اقتباس کی علامتوں پر غور کریں تو معلوم ہوگا اکہ جھیل کا نیلی پہاڑیوں کے اُس طرف ہونا دراصل شاندار مستقبل کی تلاش کا اشاریہ ہے ۔ سرخ پھول شادی بیاہ کی علامت ہیں ۔ اس جھیل کے پاس شکیل ٹڈے کودتے رہتے ہیں ۔ یعنی خوب صورت دولت مند لڑکے اپنی طرف متوجہ کرتے رہتے ہیں ۔ جھیل کے کنارے پرانا درخت  علامت ہے خاندان اور بزرگوں کی ، جن کی سرہرستی میں زندگی کی ناؤکی حفاظت ہو سکتی ہے ۔

                قرۃ العین حیدر نے یہ افسانہ تقسیم ملک سے پہلے لکھا ہے ۔ اُس زمانے میں اعلیٰ طبقہ اپنے لڑکے کا رشتہ کرتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھتا تھا کہ اگر فلاں خاندان میں رشتہ ہو جائے تو کیا وہ  اُسے کوئی اعلیٰ منصب پر فائز بھی کرواسکتا ہے جس کے باعث سوسائٹی میں ااعلیٰ وقار بھی مل سکے ، ورنہ دھن دولت تو سبھی دیتے ہیں ۔ چنانچہ افسانے کے ایک کردار سرور کے لیے ایک ڈپٹی سیکریٹری کی لڑکی پسند کی جاتی ہے لیکن ابھی رشتہ طئے بھی نہیں ہوتا کہ ایک دوسرے ڈپٹی سیکریٹری کے مزید پرموشن کی اطلاع ملتی ہے اور پہلی لڑکی کا رشتہ ختم کرکے دوسرے رشتے پر توجہ دی جاتی ہے۔ لیکن افسانہ کا کلائمکس بتاتا ہے کہ سرور کی شادی نہیں ہوتی ۔اُس کی ایک بڑے عہدے پر پوسٹنگ ہوجاتی ہے ۔ وہ چلا جاتا ہے ، اور نین تارا اس سارے ڈرامے میں شامل ہوتے ہوئے خود بھی تنہا رہ جاتی ہے اور پھر ایک بار اُسی علامتی جھیل پر پہنچ جاتی ہے ، جس کے کناروں پر پوست کے ویسے ہی سرخ پھول کھلے ہوئے ہیں اور گھانس پر ہرے رنگ کے شکیل  ٹڈے  کود رہے تھے  :

’’ سورج کی نرم کرنیں میرے چاروں اور بکھر رہی تھی اور پانی کی سطح پر سفید کنول اور روپہلے راج ہنس تیرتے پھر رہے تھے اور کنارے پر جنگلی گلہریاں اپنی ہچھلی ٹانگوں پر بیٹھی ایک دوسرے سے سرگوشیاں کر رہی تھیں ۔ ہاں واقعی مجھے کیا پرواہ ہے ۔ میں نے سوچا ۔۔۔ کیونکہ میں نے اپنا وژن دیکھ لیا تھا ۔ ‘‘  (۱۰ )

                 نین تارا کا آخری جملہ خود اکتسابی کیفیت کوبیان کر رہا  ہے۔ یعنی نین تارا  اس ماحول سے سمجھوتا کر چکی ہے ۔

                جس طرح مرزا غالب ؔکی شعری عظمت کو ہر شاعر مانتا ہے لیکن اُن کے فن کی کوئی تقلید کوئی نہیں کرتا ،کیونکہ وہ آسان نہیں ہے ۔ لیکن میر تقی میر ؔ کی تقلید بے شمار شعراء  کے پاس کہیں نہ کہیں ضرور دکھائی دیتی ہے ۔ اسی طرح افسانہ نگاری کے میدان میں قرۃ العین حیدر کی تقلید گہرے مطالعے اور مشاہدے کی متقاضی ہے ، کیونکہ اول تو اُنھوں نے اپنی تخلیقات سے متعلق نظریہ طرازی نہیں کی ،دوسرا اُن کا اسلوب اور تکنیک کثیر الجہتی ہے ۔ جس کی تقلید مشکل ہے ۔ اُن کے افسانوں کا متن کئی علوم کے دروازے کھولتا ہے ۔ اُن کے اکثر افسانے اپنے آغاز ہی میں انجام کا اشارہ کر دیتے ہیں اور قاری اُسے پڑھنے کے بعد بھی نہیں سمجھ پاتا ہے ، اور افسانے کے اختتام کے بعد پھر ایک بار شروع کے صفحات کی ورق گردانی کرنے لگتا ہے ۔

                افسانہ ’’  برف باری سے پہلے ‘‘  کا شمار قرۃ العین حیدر کے طویل افسانوں میں ہوتا ہے ۔ اس افسانے میں جہاں اُنھوں نے کوئٹہ کے قیام اور اُس کے پس منظر کو اپنے افسانے میں برتا ہے ۔ وہیں اس افسانے میں مسوری کی یادیں، وہاں کا موسم ، وہاں کی عمارتوں ، وہاں کی چہل پہل  اور وہاں کی زندگی کوبیان کیا ہے ۔

                شہر مسوری کو ملک کی آزادی سے پہلے ایک خاص مقام حاصل تھا ۔ ملک کے کتنے ہی رجواڑوں، نوابوں، اور دولتمندوں نے وہاں پر اپنی کوٹھیاں تعمیر کر رکھی تھی اور موسم گرما میں وہ سب وہیں قیام کرتے تھے ۔

                 افسانہ ’’ برف باری سے پہلے ‘‘ دراصل بوبی ممتاز کی کہانی ہے ۔ جو تقسیم ِ ملک کے بعد کوئٹہ چلا جاتا ہے ۔ افسانہ کوئٹہ کے ایک میزبان کے گھر سے شروع ہوتا ہے ۔  :

’’  آج رات تو یقیناً برف پڑے گی ۔۔۔ صاحب خانہ نے کہا ۔۔۔ آتش دان کے اور قریب ہوکر بیٹھ گئے ۔ آتش دان کے اوپر رکھی ہوئی گھڑی اپنی متوازن یکسانیت کے ساتھ ٹک ٹک کرتی رہی ۔ بلیاں کوشنوں میں منہ دیے اونگھ رہی تھیں اور کبھی کبھی کسی آواز پر کان کھڑے کرکے کھانے کے کمرے کے دروازے کی طرف ایک آنکھ تھوڑی سی کھول کر دیکھ لیتی تھیں ۔ صاحب ِ خانہ کی دونوں لڑکیاں نیٹنگ میں مشغول تھیں ۔ گھر کے سارے بچے کمرے کے ایک کونے میں پرانے اخباروں اور رسالوں کے ڈھیر چڑھے کیرم میں مصروف تھے ۔ ‘‘  ( ۱۱ )

                افسانے کے پہلے ہی پیراگراف میں گھر اور وہاں پر موجود افراد کے درمیان ایک اجنبیت کی فضاء دکھائی دے رہی ہے ۔ بظاہر سب مکان میں موجود ہیں لیکن سب ہی ایک دوسرے سے لاتعلق ہیں اور آتش دان سے گرمی حاصل کر رہے ہیں ۔ حتیٰ کے بلیاں بھی چپ ہیں ۔ بوبی ممتاز وہاں پر موجود ہے  اُس کی خاموشی اُس کے باطن کے در کھولنے لگتی ہے ۔

                قرۃ العین حیدر نے اس افسانے میں بھی شعور کی رو کا استعمال کیا ہے ۔ اس افسانے کے کردار بھی اعلیٰ طبقے کے نوجوان ہیں ۔ جن کی اپنی سوچ ، اپنا عمل، اور اپنا انداز ہے ۔ یہ افسانہ بھی ایک طرح سے Plotless ہے ۔ اس  میں بھی کرداروں کی بھر مار ہے لیکن مرکزی کردار بوبی ممتاز ہے ۔ بوبی ممتاز جس کا اصل نام  ممتاز  صغیر احمد ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر کرداروں میں کوئینی ،مسز سگرڈ، انیس الرحمان ، وجاہت ، نشاط ، اسٹینلے، یا سمین ، جیوتی لال ، چچی ارنا ، اصغر رحمانی وغیرہ وغیرہ  ہیں ۔

                افسانے میں وہی رئیسانہ آن بان اور شان و شوکت ہے ۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ عزیز احمد اور قرۃ العین حیدر کے کردار اور مقامات ایک جیسے ہیں بلکہ کبھی کبھی اُن کے نام بھی ٹکرا جاتے ہیں ۔ لیکن پھر بھی آج تک کسی نے بھی اُن کے تقابلی مطالعے کی کوشش نہیں کی ۔

                بوبی ممتاز کو کوئیٹہ کا میزبان خاندان اس لیے بھی اہمیت دیتا ہے کہ اُن کو دو لڑکیاں ہیں ۔ وہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ بوبی اُن کی بڑی لرکی سے شادی کرلے گا ۔ بس اسی لیے وہ ہردن اُس کی خاطرداری میں لگے رہتے ہیں ۔

                برف باری سے پہلے بوبی ممتاز بنا کھانا کھائے اُن کے گھر سے نکل جاتا ہے لیکن بھوک کا احساس اُسے گھر جانے بجائے کلب لے جاتا ہے ۔ وہاں کی ویرانی اور موسم کو دیکھتے ہوئے وہ شعور کی رو میں بہتے ہوئے مسوری پہنچ جاتا ہے ، اور ماضی کی یادیں جھلملانے لگتی ہیں :

’’  لاونچ میں پھر وہی نیم تاریکی پھیل گئی ۔ رات کا سحر گہرا ہوتا جا رہا تھا ، ’’  بوبی ۔۔۔ بوبی ۔۔۔ ‘‘  وہ پھر چونک پڑا ۔ اُس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔ اس نام سے اس اجنبی جگہ میں اُس کو کس نے پکارا  ؟  اس نام سے پکارنے والے اُس کے پیارے ساتھی تو بہت پیچھے دور رہ گئے تھے ۔

’’ بوبی ۔۔۔ بوبی ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ وہاں پر کوئی نہیں تھا ۔ اس جگہ پر تو محض ممتاز صغیر احمد تھا ۔ وہ ہستی، وہ شور مچانے والا ، خوب صورت آنکھوں کا مالک ، سب کا چہیتابوبی تو کہیں اور بہت پیچھے رہ گیا تھا ۔ یہاں پر صرف ممتاز صغیر احمد موجود  تھا۔ اُس نے اپنا نام آہستہ سے پکارا ، ممتاز صغیر احمد ،  کتنا عجیب نام ہے ۔ وہ کون ہے ؟  اُس کی ہستی کیا ہے ؟  کیوں اور کس طرح اپنے آپ کو وہ وہاں موجود پا رہا  ہے ۔ یہ انسان ۔۔۔ یہ انسان سب کچھ محسوس کر کے ، سب کچھ بِتا کے ابتک زندہ ہے ؟ سانس لے رہا ہے ؟  رات کے کھانے کا انتظار کر رہا ہے ؟ ابھی وہ کارڈ روم میں جاکر پون ٹون کھیلے گا ۔ کرنل فریزر کی لرکی کے ساتھ ناچے گا ۔ اتوار کو پھر شلجم کی ایسی شکل والی لڑکی سعیدہ کے گھر مدعو کیا جائے گا ۔

’’  بوبی ۔۔۔ بوبی ۔۔۔کوئینی بی بی ۔۔۔ اُس نے چپکے سے جواب دیا ۔ کوئینی بی بی ۔۔۔وجو بھیا ۔۔۔ یہ تم ہو نا ۔۔۔ اُس نے اندھیرے میں ہاتھ بڑھاکر کچھ محسوس کرنا چاہا ۔ اُس نے صوفے کے مخملی کشن کو چھوا ۔۔۔ مخمل اتنی گرم تھی ، اور راحت پہنچانے والی ۔۔۔ دریچے کے باہر فروری کی ہوا ئیں سائیں سائیں کر رہی تھی ۔ ‘‘  ( ۱۲ )

                شعور کی رو کہانی کو آگے بڑھاتی ہے ، اور افسانے کی کڑیاں جڑنے لگتی ہیں ۔ کوئینی اور وجاہت ، دونوں بھائی بہن ہیں ۔ بوبی ممتاز کے دوست ۔ کوئینی ریڈیو پر خبریں پڑھتی ہیں ۔ موسم کا حال سناتی ہیں ۔

                قرۃ العین حیدر اپنی علامتیں خود بناتی ہیں۔ چنانچہ یہاں اُنھوں نے نے موسم کی ان خبروں کو بھی بطور علامت کے استعمال کیا ہے ۔ یہی موسم ہندوستان کی زندگی اور اس کی تقسیم کا بھی اشارہ بن جاتا ہے ۔ سگرڈ  ربانی جو کبھی بوبی ممتاز کی محبوبہ رہی ہے جو ہردم اسکیٹنگ پر گفتگو کیا کرتی تھی اور جس کی محبت سے سرشار ہوکر کبھی بوبی ممتاز نے کہا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان ہے ۔ مسوری کے اسی مقام پر اصغر ربانی اور چچی ارنا سے ملاقات ہوئی تھی ۔ افسانے کا یہ دلچسپ حصہ پڑھنے کی چیز ہے :

 ’’  چچی ارنا سوئیڈش تھیں ۔ جب وہ پہلی بار اپنے شوہر کے ہمراہ ہندوستان آئیں تھیں ، اُس وقت اُن کا خیال تھا کہ سر آغا خان کے اس سنہرے دیس میں وہ بھی ایک  مرمریں محلسرا میں کسی الف لیلوی سلطانہ کی طرح رہا کریں گی ، لیکن جب وہ یہاں پہونچیں  تو اُنھیں پتہ چلا کہ مرمریں ستونوں اور ایرانی قالینوں والی محلسرا کی بجائے ان کے شوہر اصغر ربانی لکھنو کے ایک نہایت گندے محلے وکٹوریہ گنج میں رہتے ہیں ۔ جہاں ایک بوڑھی ماں ہے جو ہر وقت امام کی مجلسوں میں چلا چلا کر رونے میں مصروف رہتی ہے ۔ چار پانچ جاہل اور کالی سخت بے ہنگم بہنیں اور بھاوجیں ہیں ۔ ان سب عورتوں کی ساری سوسائٹی جھوائی ٹولہ،  مولوی گنج اور نخاس کی گلیوں تک محدود ہے ، جہاں وہ سب ڈولیوں پر کتّے کی طرح ہانپتے ہوئے انسانوں کے کاندھوں پر لد کے، پردہ دار تانگوں میں سوار ہوکر کبھی کبھار اسی طرح کے دوسرے گندے مکانوں اور ان ہی کے قسم کی دوسری بے ہنگم عورتوں سے ملنے جایا کرتی ہیں ۔ ‘‘  ( ۱۳ )

                غیر ملکی خاتون ارنا آخر اصغر ربانی سے  چھٹکارا پالیتی ہے اور اُن کے دوست خان بہادر سے شادی کرلیتی ہے ۔

                مسوری میں پھر ایک بار ان سب کی ملاقات ہوتی ہے لیکن سگرڈ اب ایک بگڑے نواب زادے انیس الرحمان کے ساتھ رہتی ہے ۔ بوبی ممتاز اب اُس سے ملنے کی بھی کوشش نہیں کرتا ۔ قرۃ العین حیدر نے اس افسانے میں مسوری کے جغرافیہ ،وہاں کے مناظر ، وہاں کی کوٹھیوں اور وہاں کے ہوٹلوں کا ذکر نہایت خوب صورتی کے ساتھ کیا ہے ۔ افسانے کے کلائمکس پر پہنچ کر بوبی ممتاز ملک کی تقسیم، فسادات اور بربریت کی آگ سے گزرتا ہوا پاکستان پہنچ جاتا ہے اور  شہر کوئٹہ میں رہائش اختیارر کرلیتا ہے ۔ شعور کی رو کے سیلاب سے باہر آتا ہے اور قرۃ العین حیدر اپنے افسانے کا آخری پیراگراف لکھتی ہیں :

’’  ممتاز صاحب ۔۔۔ ‘‘  اُس نے چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا ۔ اُس کے میزبان کی بیگم صاحبہ بر آمدے کی سیڑھیوں پر ہاتھ میں ناشتہ دان تھامے کھڑی تھیں ، ’’ ممتاز صاحب ۔۔۔ واہ  آپ بھی خوب ہیں ۔ ہم اتنا آپ کو روکتے رہے اور آپ بغیر کھانا کھائے ہی بھاگ آئے ۔۔۔ آج میری سعیدہ نے خود سوئیاں پکائیں ہیں ۔ ۔۔ بڑا شوق ہے اُسے کھانا پکانے کا ۔۔۔اُس کے ابّا برج کھیلنے کلب آرہے تھے تو میں نے سوچا سوئیوں کی ایک پلیٹ اُن کے ہاتھ آپ کو بھیج دوں ۔۔۔پھر میں خود ہی چلی آئی ۔

وہ ایک گہرا لمبا سانس کھینچ کر بر آمدے میں آگیا ۔ باہر برف گرنی شروع ہوچکی تھی ۔ ‘‘  ( ۱۴ )

                افسانے کا یہ آخری پیراگراف بہت معنی خیز ہے ۔ بوبی ممتاز کے لیے اب یہی فیصلہ ہے کہ اُسے اس ہجرت کو اب قبول کرلیتا چاہیے کہ اب اُس کا  یہی مستقبل ہے  ۔ صاحب ِ خانہ کی بیوی کا سوئیوں کی پلیٹ کا لانا ، اس بات کی علامت ہے کہ اب اُس کا رزق یہی مقرر کردیا گیا ہے ۔ وہ بر آمدے میں توآتا ہے لیکن برف باری شروع ہوجاتی ہے ۔ یعنی اب اُس کے واپسی کے راستے مسدود ہوچکے ہیں ۔

                قرۃ العین حیدر کے مطالعہ میں نہ صرف اردو کا کلاسیکی ادب تھا بلکہ وہ انگریزی ادب سے بھی پوری طرح واقف تھیں ۔ وہ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کے بارے میںبھی اچھا خاصا علم رکھتی تھیں ۔ ساتھ ہی تاریخ و جغرافیہ پر اُن کی نظریں گہری تھیں ۔ وہ مختلف تہذیبوں کوبھی جانتی تھیں ۔ انیسویں صدی تا بیسویں صدی تک ہونے والے تمام عظیم انقلابات اور تبدیلیوں کا اُنھیں علم تھا،وہ محتلف ممالک کی سیاحت کرچکی تھیں ۔ اسی کے سبب اُن کے افسانوں کا کینوس وسیع تر ہو گیا تھا ۔ اُ ن کے افسانوں میں ا ایک افسانہ ہے ’’  کیکٹس لینڈ  ‘‘  جس کے بارے میں مختلف ناقدین نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے ۔ اُن کی آراء کا لب لباب کچھ اس طرح ہے کہ افسانہ ’’ کیکٹس لینڈ  ‘‘ میں قرۃ العین حیدر نے وہی تکنیک اور اسلوب اختیار کیا ہے جو ٹی۔ ایس ا یلیٹ نے اپنے شاہ کار ’’  ویسٹ لینڈ ‘‘ میں استعمال کیا ہے ۔ ایلیٹ کا ’’ ویسٹ  لینڈ ‘‘  پہلی جنگ عظیم کے بعد انسانی مزاجوںکی ذہنی ویرانی ،  انتشار ، اور بکھرے ماحول کی نشاندہی کرتا ہے تو قرۃ العین حیدر کا افسانہ  ’’  کیکٹس لینڈ  ‘‘  ملک کی آزادی اور تقسیم ملک کے بعد جس طرح تہذیبوں کا بھی بٹوارہ ہوا ، انسانی اقدار پامال ہوئے ، انسانی رشتوں میں دراڑیں پیدا ہوئی ، مزاجوں سے مروت ، خلوص ، اور سادگی ختم ہوئی اور بے تعلقی ،  ہجرت ، اور اضطراب کے پژمردہ ماحول سے جو آگ دہکی اُس کا اظہار ہے ۔ اس کے علاوہ دونوں میں بہت ساری مماثلتیں بھی ہیں مثلاً ایلیٹ نے  ’’ ویسٹ لینڈ  ‘‘ کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے تو قرۃ العین حیدر نے بھی اپنے افسانے کے پانچ  ابواب میں پیش کیا ہے ۔

                ٹی۔ ایس ایلیٹ نے  ’’ ویسٹ لینڈ  ‘‘  کا آغاز The burial of the dead   موسم بہار کی آمد اور خزاں کے خاتمے سے کیا ہے تواُسی طرح  قرۃ العین حیدر نے بھی اپنے افسانے کا آغاز موسم بہار کی آمد ہی سے کیا ہے ۔ اقتباس ملاحظہ فرمائیں :

’’  اب خزاں بھی واپس جا رہی ہے اور سفیدے کے جنگل پر ہریالی اترارہی ہے اور جھیل کے پرولے کنارے تک پھیل آئے ہیں ، اور جب سبزبانس کا جھنڈ پانی کی سطح پر جھک کر ہوا میں ڈولتا ہے تو چپکے سے رونے کو جی چاہتا ہے ۔ سفیدے کا چھوٹا سا جنگل اس طرح چپ عاپ کھڑا ہے اور اسیسی کی خانقاہ بھی اسی طرح خاموش اپنی جگہ پر موجود ہے اور کبھی کبھی کوئی راہ گیر پتوں کو روندتا سفیدے کے جھنڈ سے گزر جاتا ۔ ‘‘  (۱۵ )

                یہ افسانہ اُن افراد کا المیہ ہے جن کی کبھی اپنی کوئی تہذیب، تاریخ  اور کردار تھا جو ایک ہی زمین کے باسی تھے ، لیکن ملک کی تقسیم کیا ہوئی اُن سے اُن کی زمین ہی نہیں اُن کا ماضی بھی چھن گیا ۔ اُن کی شناخت گم ہوگئی اور بے یقینی اُن کا مقدر بن گئی ۔ وہ نہیں جانتے کہ یہ ہجرت اُنھیں کیا دن دکھانے والی ہے ۔ قرۃ العین حیدر نے اپنے کرداروںکو خود کلامی کی تکنیک دی ہے تاکہ وہ اپنے ماضی کو یاد کرسکیں ۔ ان کرداروں میں پیلو سعید ، طلعت جمیل ، اور عطیہ ایسے نسوانی کردار ہیں جن کے وجود تو مختلف ہیں لیکن وہ ایک ہی علامت کے چہرے ہیں ، اور کوئی میری کیسل کے روپ میں اپنے وجود کو دریافت کرنا چاہتا ہے :

 ’’  میری کیسل  !  کیا تم  اُس تاریکی کی تصویر نے بناو گی ؟ ‘‘

’’  یہ اُسی کا گھر ہے ۔ اس گھر میں وہ برسوں سے رہتی آئی ہے ۔ اس زمین پر وہ سب صدیوں سے جیتے مرتے رہے ہیں ۔ یہ گھر ، یہ باغ ، یہ سمر ہاوس ، جھیل کے پار حد ِ نظر تک پھیلے ہوئے کھیت اور چراگاہیں ، اور ایک بار ایسا ہوا کہ وہ سب ان چیزوں کو چھوڑ کر چلے گئے ۔ وہ بہت دور چلے گئے ،اور کبھی ان جنگلوں کی خاموش اپنائیت ، ان کی چپ چاپ پکار سننے کے لیے واپس نہ آئیں گے ۔ ‘‘  (  ۱۶  )

                 ‘‘  کیکٹس لینڈ ‘‘  کے کردار جو کبھی ایک ہی زمین پر مل جل کر رہتے تھے ۔ جن کی کبھی ایک ہی مشترکہ تہذیب تھی ۔ کبھی آپس میں اختلافات بھی ہوجاتے لیکن انسانیت کا دامن کبھی نہ چھوٹتا تھا ۔ یہ اختلاف  اُن میں زندگی کے نئے تجربات اور خوابوں کو بسا سکتا تھا ۔ ان ہی نئے خوابوں کی تلاش کی خاطر ’’ کیکٹس لینڈ ‘‘ کے کردار طلعت جمیل اور پنکی اشرف آگے بڑھتے ہیں ۔ یہ کوئی انہونی بات تو نہیں تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے وقت آنکھوں نے کیا کچھ خواب نہیں دیکھے ؟  کیکٹس لینڈ میں آنے والے یہ حوالے، یہ حادثات اُسی خوابوں کی بنیاد ہیں جنھیں وقت نے سن 1942  ؁ ء میں بھی  1945 ؁ء میں بھی اور پھر خون آلود 1947 ؁ء میں بھی دیکھا تھا ۔ پھر یہ کردار محض کردار کہاں رہ جاتے ہیں یہ تو تاریخ کے حوالے بن جاتے ہیں  اور پنکی اشرف اپنی خود کلامی میں اپنے وجود کے کرب کو دیکھنے لگتی ہے:

 ’’  یہ میں ۔۔۔ !  جو میں ہوں ، خاموشیوں کی دیوی نے آہستہ سے کہا ۔۔۔ تم جس راستے پر چلوگے بالآخر مجھ تک پہنچوگے ۔ جس راگ کو سنوگے ، اُس میں میری ہی آواز ہوگی ، جس خوشبو کی محسوس کروگے ، اُس میں میری سبک پاوگے ، پھولوں کے جو رنگ دیکھو گے ، اُن میں میری جھلک موجود ہوگی ،  میں ستی ہوں ، میں یشودھرا ہوں ،  میں تمہارے وجود کا سایہ ہوں ۔۔۔ سایہ جو کبھی جدا نہیں ہوسکتا ، جو  ہمیشہ آگے آگے چلتا ہے ، لیکن مل نہیں سکتا اور مستقبل کی صدیوں کے اندھیرے میں کھو جاتا ہے ۔ ‘‘  (۱۷ ) 

                 اس افسانے کے کردار پاکستان میں موجود افراد کی داستانیں نہیں سناتے بلکہ بیسویصدی کے ایک اہم سانحے کے وقوع پذیرہونے کے باعث جو روحانی، ثقافتی، جذباتی کیفیات پیدا ہوگئی ہیں اُس کے نوحہ گر ہیں ۔پنکی اشرف اور طلعت جمیل جو اس عہد کے آگ کے دریا کو پار کرکے دوبارہ جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو اپنی اپنی کہانی اس طرح سناتے ہیں :

 ’’  ہاں ہم بہت بُرے زمانے میں ملے ہیں اور اسی کے گھنٹے ہمارے پیچھے بجتے جا رہے ہیں ۔ ہماری زندگی کو چوہے کُتر رہے ہیں اور ہمارا خدا پہاڑوںپر پیدا ہونے سے پہلے ہی مرچکا ہے اور اُس کی تجہیز و تکفین سے فراغت پاکر میں تمہارے پاس آئی ہوں ۔ ‘‘

’’  تم نے غلطی کی ہے جب یہ سفید بیمار چوہے اپنے بِلوں کو واپس بھاگ جائیں گے تب تم بھی بور ہوچکی ہوگی ۔ اسی طرح مرنے کا انتظار کرو جیسے اور سب مرتے ہیں ۔ ‘‘  (۱۸ ) 

                ’’ کیکٹس لینڈ ‘‘  محض ایک افسانہ نہیں ہے ۔ ملک کے تقسیم ہونے کے بعد دونوں ملک کے بکھرے ہوئے جوگوں کی جیتی جاگتی تاریخ ہے ۔ جسے قرۃ العین حیدر نے پوری سفاکیت کے ساتھ تحریر کیا ہے ۔ /15  اگست 1947؁ء کو ملک نے آزادی کی نوید سنی لیکن اُس کے ایک دن پہلے ہی ملک کا بٹوارہ ہوگیا ۔ اس بٹوارے اور ہجرتوں کے کیا نتائج  سامنے آنے والے تھے سب ہی اس سے بے خبر تھے ۔ آنکھ تو اُس وقت کھلی جب اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر آنے والوں نے ایک خون کا دریا پار کیا ۔ ہر دو  کے لیے زندگی ایسا کرب بن گئی کہ تب سے آج تک ہجرت کے موضوع پر افسانے لکھے جارہے ہیں ۔ اشفاق احمد نے افسانہ ’’  گڈریا ‘‘ کے ذریعے انصار کا کرب لکھا، تو منٹو نے کبھی تقسیم کو پاگل خانہ قرار دیا ، اور سکینہ کی آبرو ریزی سے دل دہلادیا ، احمد ندیم قاسمی نے ’’پرمیشر سنگھ لکھ کر انسانیت کی آخری دہائی دی ، تو کرشن چندر نے ’’ پشاور ایکسپریس  ‘‘ اجندر سنگھ بیدی نے  ’’ لاجونتی ‘‘   حتیٰ کے شوکت حیات نے افسانہ ’’ کوا ‘‘  سید محمد اشرف نے ’’ ڈار سے بچھڑے ‘‘  انور قمر نے  ’’ فضول کاغذات میں ملے تین خط ‘‘ اور راقم نے ’’  سبزہ نورستہ کا نوحہ ‘‘ لکھا ۔ ان افسانوں میں زیادہ تر عام انسانوں کے درد و کرب کا احاطہ کیا گیا ہے ، لیکن وہ جاگیردار ، وہ نواب زادے ، رئیس خاندان اور وہ طبقہ اشرافیہ جو ہجرت کے بعد کی زندگیوں سے دوچار ہوئے اُن کا احوال پوری شدت کے ساتھ اگر کسی نے محسوس کیا تو وہ بلا شبہ قرۃ العین حیدر نے محسوس کیا ۔

                اسی طرح اُن کا ایک اور افسانہ ’’  یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر ‘‘  تقسیم کے فوری بعد لکھا گیا ۔ اس افسانے میں جہاں پاکستان میں بننے والے نئے معاشرے پر بھر پور طنز ہے وہیں ہجرتوں کا کرب بھی پورے احساس کے ساتھ اُجاگر ہوتا ہے ۔ آزادی سے قبل اینگو انڈین کلچر سے متاثر مسلمان بھی اپنی لڑکیوںکو کانونٹ میں تعلیم دلواتے تھے ، لیکن قیام ِ پاکستان کے ساتھ ہی جب ایسے خاندان پاکستان پہنچے تو وہاں کا ماحول ہی کچھ اور تھا :

’’  اکثریت اُن لرکیوں کی تھی جو انقلاب سے پہلے پردہ کرتی تھیں لیکن اب جذبہ قومی کی شدت سے مجبور ہوکر مردوں کے ساتھ میدان ِ عمل میں دوش بدوش کام کرنے کے سلسلے ہیں ۔ مخلوط کالجوں کے لیڈیز روم میں بیٹھ کر فلمی گانے گنگناتی تھیں ۔ کامریڈز تقریباً نا پید تھیں کیونکہ فضاء اس کے لیے ناساز گار تھی ۔ اشتراکیت کی دُھن اور اُس کا ماحول افسوس کہ وطن مرحوم  ( انڈیا ) کی یونیور سٹیوں ہی میں رہ گیا ۔ یہاں پر ملت ِ اقبال اور ذوق ِ جہاد زیادہ طاری تھا ۔ یہ لرکیاں اپنا زیادہ وقت غرارے سلوانے اور کپڑوں کے متعلق تبادلہ خیال میں گزارتی تھیں ۔ ‘‘  ( ۱۹  )

                یہ رئیس زادیاں، کانونٹ کی تعلیم یافتہ لرکیاں پھر بھی مشرقیت کی پروردہ تھیں ۔ آزاد خیال ہونے کے باوجد اپنے خاندانی وقار کو سمجھتی تھیں ۔ یہ اپنے مذہب سے دور بھی نہیں تھیں باوجود اس کے کہ اُن کا ماحول تنگ مذہبی نظریات کا پابند نہیں تھا لیکن جب وہ پاکستان پہنچیں تو اُن کے سامنے اسلام کا کچھ اور ہی مزاج تھا ۔ جس میں عجب سے تنگ نظری بھری ہوئی تھی ۔ بات بے بات نعرے، اور چھوٹے چھوٹے اختلافات پر تلواریں میان سے باہر نکلتیں ۔ ایسے ماحول میں اُن لرکیوں کا پیچھے پلٹ کر دیکھنا غلط بھی تو نہیں تھا :

’’  اللہ اکبر۔۔۔!  اے معزز ناظرین ہم وہ لوگ ہیں جن کا ایک زمانے میں سارا فیض آباد اور بنگالے کا سارا چوبیس پرگنہ اپنا تھا اور جنھوں نے اپنی ایک نگڑ دادی کے فرشی پائجامے کا مسالہ اور جواہرات فروخت کرکے لاٹ صاحب کی دعوت کی تھی ۔ جس کو کہ آغا میر کی دیوڑھی ابتک یاد کرکے روتی ہے ۔ اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

                کنارے کی نمی میں براون پتے جم گئے ہیں ۔ میں یہاں بیٹھ کر رونا چاہتی ہوں ، میرے عزیز، میرے بھائی تم میرا مرثیہ لکھوگے ۔ میرے باپ کا مرثیہ ، میرے دادا کا مرثیہ ۔ سگنل اپ اینڈ سگنل ڈاون ، دیٹس دی وے ٹو لنڈن ٹاون ۔۔۔ آہ۔۔۔  میرا وہ  الز بتھی وضع کا کنٹری ہاوس  جو میرے باپ نے ہمالیہ کے دامن میں کس شوق سے بنوایا تھا ۔ رونے دو بھائی ۔ اے مادہ پرستوں ، مڈل کلاس والوں میں توروح کی ارسٹوکریٹ ہوں ۔۔۔ سگنل اپ اینڈ سگنل ڈاون ، دیٹس دی وے ٹو لنڈن ٹاون ۔ ‘‘  ( ۲۰ )

                اس افسانے میں قرۃالعین حیدر نے ندی کو بھی بطور علامت کے استعمال کیا ہے ۔ جس طرح وقت کبھی نہیں رکتا اسی طرح ندی بھی نہیں رکتی ۔ وہ رواں دواں رہتی ہے اور اُس کے راستے میں جو بھی آتا ہے وہ اُسے بھی بہا لے جاتی ہے ۔ اُنھوں نے اس علامت کا استعمال اس افسانے میں بار بار کیا ہے ۔

پاکستان کا قیام اور ہجرتوں کا سیلاب بھی تو وقت کے چاک پر کسی ندی کے بہاو سے مختلف تو نہ تھا ، اور وہ خاندان جو ہندوستان میں جمے جمائے تھے ۔ ایک ان دیکھے مستقبل کی چاہ میں نکل پڑے تھے بالکل اُسی طرح جس طرح پیڑ اپنی جڑوں سے ٹوٹ کر ندی کے سیلاب میں بہہ جاتے ہیں :

’’  پانی کے کنارے سبزے پر جو انسان بیٹھا ہے اُسے دیکھو اور عبرت پکڑو ۔ یہ ایک مٹے ہوئے گھرانے ، ایک زوال شدہ تمدن ، ایک دھندلے پس منظر سے نکل کر یہاں آیا ہے ۔ اس کے باپ دادا محلسراوں میں رہتے تھے ۔ خواصوں اور مصاحبوں کے ساتھ شطرنج کھیلتے تھے ، اور مثنویاں پرھتے پرھتے اس جہان ِ فانی کو خیر باد کہتے تھے ۔ یہ انسان اتنا بھی نہیں کر سکتا ، یہ اپنے اُن کِرم خوردہ شجروں کو لپیٹ رہا ہے ۔ جن میں ہر پشت میں ان گنت تعلقداروں ، خان بہادروں ، ڈپٹی کمشنروں اور سرکار انگلشیہ کے دل پذیر فرزندوں کے اسم ہائے گرامی درج ہیں ۔ فلاں ابن فلاں ، ابن فلاں بنت فلاں بنت فلاں ۔ میری پھوپھی کی شادی ہوئی تھی تو لکھنو سے لے کر سندیلے تک سڑک پر مخمل کا فرش بچھایا گیا تھا ، اور میری دادی کی بارات میں ماہی مراتب والے اشرفیاں نچھاور کرتے گئے تھے ۔ اپنے خاندان کی ان شاندار روایت کے متعلق سوچ کر ہم بے حد دکھ کے ساتھ سرد آہ بھرتے ہیں ۔ ہم پانی کے کنارے گھانس پر بہت اُداس بیٹھے ہیں ۔ ‘‘  ( ۲۰ )

                قیام ِ پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی کچھ تو شاندار مستقبل کی چاہ میں، کچھ بنا سوچے سمجھے، اور بہت ساروں نے ایک نئے ا سلامی ملک کے نام پر ہجرت کی، کچھ تو منہ مانگی مراد پا گئے، کچھ مشکلات اور پریشانیوں میں گھر گئے  اور کچھ اس نئے ملک میں اپنی خاندانی عظمت، اپنا نام ، اپنی شناخت بھی کھو بیٹھے اور گمنامی کے اندھیروں میں غرق ہوگئے

                پاکستان جانے والی وہ لڑکیاں جنھوں نے کانونٹ میں پرھا تھا،  فنون لطیفہ کی تعلیم حاصل کی تھی ، موسیقی کے ہنر سے واقف تھیں  ۔ جنھوں نے اعلیٰ تعلیم بہتر عہدوں کے حصول کی خاطر حاصل کی تھی اُنھیں وہاں پہنچ کر شدید مایوسی ہاتھ لگی ، اور قرۃ العین حیدر نے ان سطور کے ساتھافسانے کا اختتام کردیا :

 ’’  یہی وہ سر زمین ہے ۔ یہی وہ سر زمین ہے جن سے اس کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ یہ اپنا بہت لمبا سفر طئے کرکے یہاں پہنچے ہیں ۔ اور ورجن اپنے باغ میں بیٹھی ہے جہاںپر محبت کا خاتمہ ہے ۔ ہم یہیں رہیںگے اور خدائے قدوس کی تکریم میں مصروف رہیں گے ، کیا ہم واپس چلے جائیں ۔۔۔ ؟ ‘‘  ( ۲۱ )

                اس آحری پیراگراف میں قرۃ العین حیدر نے طنز کا بھر پور وار کیا ہے ۔ یہ اُن نظریات پر بھی طنز ہے جس کے باعث پاکستان بنا تھا ، اور اُن لوگوں پر بھی طنز ہے جو بنا سوچے سمجھے ہجرت کر گئے تھے اور اب بے یقینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور واپسی کے لیے سوچ رہے ہیں ، لیکن کیا یہ اب ممکن ہے ؟ اسی سوچ کے ساتھ وہ ہندوستان لوٹ آئیں۔اپنے سارے خاندان کو چھوڑ کر تن تنہا چلی آئیں ۔

                اس افسانے کی کرافٹ میں قرۃ العین حیدر نے خود کلامی کی تکنیک کو برتا ہے  اور اپنی علمیت کو بھی افسانے میں سمویا ہے ۔

                افسانہ  ’’ لندن لیٹر ‘‘  بھی اپنی ایک مضبوط انفرادیت رکھتا ہے ۔ اس افسانے کو اُنھوں نے رپورتاژ کے اسلوب میں لکھا ہے اور ڈاکیو منٹری کی تکنیک کو برتا ہے ۔  واقعات اور حالات ایک کے بعد ایک کسی فلم کی طرح آتے ہیں اور اپنا تاثر قائم کرتے ہیں ۔ اس افسانے میں اُنھوں نے مختلف تہذیبوں کی سیر کرائی ہے اور اس کا کینوس بر صغیر سے بلند ہوکر ساری دنیا کو لپیٹ لیتا ہے ۔ قرۃالعین حیدر کے افسانوں میں ایک اور شاہ کار افسانہ ’’ جلا وطن ‘‘  ہے ۔ جنگ ِ آزادی کے دوران ہی ہندووں اور مسلمانوں کے اتحاد میں جو دراڑیں پیدا  ہو گئی تھیں ، اور جو تقسیم ِ وطن کے بعد بھی یہیں رہ گئے تھے ،اُن پر کیا بیتی تھی اور آج تک بھی کیا بیت رہی ہے ۔ یہ افسانہ اُس کی تاریخ بھی ہے ۔اس افسانے کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر سہیل بیابانی لکھتے ہیں :

’’  ہندوستان میں جو مسلمان رہ گئے تھے ۔اُن کی حالت بڑی عجیب تھی ۔ قرۃ العین حیدر نے اس المیے پر بڑی جرأتمندی کے ساتھ روشنی ڈالی ہے ۔ خصوصاً   ’’  جلاوطن  ‘‘  میں اس مسلے کو اُٹھایا گیا ہے ۔ یہ مسلہ ’’ آگ کے دریا ‘‘  میں اُس کے تمام پہلووں اور تفصیلات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ ’’ جلا وطن ‘‘  میں اسے چند پہلووں تک محدود رکھا گیا ہے ۔ ‘‘  ( ۲۲  )

                اس افسانے میں پہلے اُنھوں نے اپنے کرداروں کا تعارف کروایا اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ اُن کی سوچ، اُن کے عمل اور رد عمل  میں کس طرح تبدیلیاں آتی ہیں اُسے بیان کیا ہے ۔ حالانکہ یہ وہ  زمانہ تھا جب لکھنو جیسے بڑے شہروں میں مشترکہ تہذیب پوری طرح باقی تھی ۔ افسانے کے چند اقتباسات ملاحطہ فرمائیں :

’’  وسط شہر میں مہاجنوں ، ساہوکاروں اور زمینداروں کی اونچی اونچی حویلیاں تھیں ۔ یہ لوگ سرکاری فنڈوں میں ہزاروں روپیہ چندہ دیتے ، اسکول کھلواتے ، مجرے اور مشاعرے ، دنگل کرواتے ، جلسے جلوس اور سر پھٹول بھی ان ہی کی سرپرستی میں منعقد ہوتے ۔ ہندو مسلمانوں کا معاشرہ بالکل ایک تھا ، وہی تیج تہوار ،  میلے ٹھیلے ، محرم ، بالے میاں کی برات ، پھر اس سے اونچی سطح پر وہی مقدمے بازیاں ، موکل، گواہ ، پیش کار ، سمن ، عدالتیں اور صاحب لوگوں کے لیے ڈالیاں ۔ ‘‘  ( ۲۳)

’’  ہندو مسلمانوں میں سماجی سطح پر کوئی واضح فرق نہ تھا ۔ خصوصاً دیہاتوں اور قصبہ جات میں عورتیں زیادہ تر ساڑیاں اور ڈھیلے پائجامے پہنتیں ، اودھ کے بہت پرانے خاندانوں میں بیگمات اب تک لہنگے پہنتیں، بن بیاہی لڑکیاں ہندو اور مسلمان دونوں ساڑیوں کے بجائے کھڑے پائچوں کا پائجامہ پہنتیں ، ہندوں کے یہاں اسے  ’اِجار         ‘ کہا جاتا ۔ ‘‘  ( ۲۴ )
*******

’’  زبان اور محاورے ایک ہی تھے ۔ مسلمان بچے برسات کی دعا مانگنے منہ نیلا پیلا کیے گلی گلی ٹین بجاتے پھرتے ، اور چلاتے ، ’’  برسو رام دھڑاکے سے ، بڑھیا مر گئی فاقے سے ‘‘  گڑیوں کی بارات نکلتی تو وظیفہ کیا جاتا ، ’’  ہاتھی گھوڑا پالکی ، جئے کنہیا لال کی ‘‘  ذہنی اور نفسیاتی پس منظر چونکہ یکساں تھا لہذا غیر شعوری طور پر  Imagery  بھی ایک ہی تھی ۔ جس میں رادھا اور سیتا اور پنگھٹ کی گوپیوں کا عمل دخل تھا ۔ مسلمان پردہ دار عورتیں جنھوں نے ساری عمر کسی ہندو سے بات نہ کی تھی ، رات کو جب ڈھولک لے کر بیٹھتیں تو لہک لہک کر الاپتیں ، ’’  بھری گگری موری دھرکائی شام  ‘’  کرشن کنہیا کے اس تصور سے اُن لوگوں کے اسلام پر کوئی حرف نہ آتا تھا ۔ یہ سب چیزیں اُس تمدن کی مظہر تھیں جنھیں صدیوں میں مسلمانوں کی تہذیبی ہمہ گیری اور وسعت ِ نظر اور ایک رچے ہوئے جمالیاتی حِس نے جنم دیا تھا ۔ یہ گیت اور کجریاں اور خیال،  یہ محاورے یہ زبان ان سب کی بڑی پیاری اور دل آویز مشترکہ میراث تھی ۔ یہ معاشرہ جس کا دائرہ مرزا پور  اور جون پور سے لے کر لکنو اور دلّی تک پھیلا ہوا تھا ۔ ایک مکمل اور واضح تصویر تھا ۔ جس میں آٹھ سو سال کے تہذینی ارتقاء نے بڑے گمبھیر اور بڑے خوب صورت رنگ بھرے تھے ۔ ‘‘  ( ۲۵ )

                صدیوں سے صدیوں تک ہندوستان اسی گنگا جمنی تہذیب کی پرورش کرتا رہا اور آپسی اتحاد و اتفاق کا درس دیتا رہا ، لیکن جب اس مشترکہ تہذیب کا بکھراو شروع ہوا  تو نفرتوں نے جنم لینا شروع کیا۔ اس میں گندی سیاست اور سیاست دانوں کا بھی ہاتھ تھا ۔ معاشی ضروریات نے بھی آنکھیں دکھائیں ۔ مسلمانوں کو ملازمتوں سے محروم کیا جانے لگا ۔ جس نے اُن کے مزاج میں بھی تبدیلی پیدا کردی اور پھر ملک تقسیم ہوگیا اور مشترکہ تہذیب کے تانے بانے بکھر گئے ۔ عدم اعتمادکا پارہ صفر درجے پر آکر ٹک گیا ۔ افسانہ  ’’ جلاوطن ‘‘  کے صفحات میں یہ نقشہ بھی اُبھر کر سامنے آگیا:

’’  ڈاکٹر آفتاب رائے ابھی تک ہسٹری ڈپارٹمنٹ میں موجود تھے ۔ ایک روز ایک لکچر کے دوران میں ان سے بھی کچھ تکرار ہو گئی ۔ ایک ہندو طالب علم نے کہا ، ’’  آزادی کا مطلب ڈاکٹر صاحب مکمل سوراج ہے ۔ ہند کی دھرتی کو پھر سے شد ھ کرنا ہے ۔ ساری  اُن قوموں کے اثر سے آزاد ہونا ہے جنھوں نے باہر سے آکر حملہ کیا ۔ یہی تلک جی نے کہا تھا ۔ جی ہاں ۔۔! ‘‘

اس پریڈ میں شیواجی کے اوپر گفتگو ہورہی تھی ۔ لہذا خانہ جنگی نا گزیر تھی ۔ شام تک ساری یونیورسٹی میں خبر پھیل گئی کہ آفتاب رائے کی کلاس میں  ہندو مسلم فساد ہو گیا ۔ ‘‘  (  ۲۶ )

                آفتاب رائے کا کردار اس افسانے میں نہایت اہم ہے ۔ وہ ایک وسیع النظر سوچ کا مالک ہے ۔ غیر جانب دار مزاج کا حامل ہے ۔ مشترکہ تہذیب کا دلدادہ ہے ۔ پورے افسانے میں یہ کردار بار بار آتا ہے اور افسانے کو آگے بڑھاتا ہے ۔ اصل میں یہ کردار قرۃ العین حیدر کی نظریات کا مبلغ ہے یعنی ماوتھ پیس ہے ۔

                ہر دور میں نوجوان طبقہ اپنے جوش اور ولولے کے باعث انقلابی ثابت ہوا ہے اگر راہنماصحیح ہوتو انقلاب کامیاب ہوا ، اور راہنما کی فکر مثبت  نہ ہو تو اُن کا استحصال ہوا ہے ۔ بیسویں صدی میں جب عوامی سیاست کا جنم ہوا تو نوجوانوں  کے استحصال کی زیادہ مثالیں سامنے آئی۔ قرۃ العین حیدر نے اپنے اس افسانے میں اس کی بھی نشادہی کی ہے کہ کس طرح مہیلا ودّیا لیہ لکھنو اور لکھنو مسلم اسکول کو کانگریس اور مسلم لیگ نے استعمال کیا ۔ ملک کی اکثریت کو تو یہیں رہنا تھا ، لیکن ان سے متاثر مسلمانوں نے پاکستان کا مطالبہ کیا ، کیونکہ اُن کو یہ کہہ کر اعتماد میں لیا گیا تھا کہ وہاں اُنھیں اچھی ملازمتیں ملیں گی ۔ کھیم وتی رائے زادہ اور کشوری بچپن کی سہلیاں تھیں لیکن جونہی اُن کے قدم ان تعلیمی اداروں میں پہنچے اُن کے راستے الگ الگ ہو گئے اور اُن کا اتحادٹوٹ گیا ۔ یہ تعلیمی ادارے سیاست کے اکھاڑے بن گئے ۔ تقسیم ملک کے بعد کشوری اپنے والدین کے ساتھ یہیں پر رہ جاتی ہے لیکن اُس کا بھائی اصغر عباس پاکستان چلا جاتا ہے اور وہاں فوج میں میجر کے عہدے پر فائز ہوجاتا ہے ۔ اُس کا یہ عمل کشوری اور اُس کے والدین کو مشکوک کر جاتا ہے ۔ قرۃ العین حیدر نے اس خاندان کی مشکلات کو بھی اپنے افسانے کا حصہ بنایا ہے ۔

تکنیک اور اسلوب کے لحاظ سے قرۃ العین حیدر نے اس افسانے میں بھی خود کلامی اور شعور کی رو کا استعمال کیا ہے ۔ کرداروں کے ذہن میں عدم اعتماد اور غیر محفوظیت کے باعث پیدا ہونے والے زندگی کے نشیب و فراز کو واضح کیا ہے۔ کشوری ان مساعد حالات سے جوجھتی ہے جو ملک کے تقسیم سے پہلے بھی تھے اور بعد میں بھیسامنے آتے ہیں ۔ ان کرداروں میں حقیقی رنگ دکھائی دیتا ہے جو سیاست کی مار جھیلتے رہے اور اپنی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے ۔ ان میں پچھتاوا بھی ہے اور اپنے فیصلے پر استقامت سے جمے رہنے کا اطمینان بھی ہے ۔

                اس روشنی میں قرۃالعین حیدر کا یہ افسانے مشترکہ تہذیب کے زوال کا آئینہ بھی ہے اور اردو کا ایک اہم افسانہ بھی ہے ۔

                قرۃ العین حیدر کے تیسرے مجموعے کا عنوان ’’  پت جھڑ کی آواز ‘‘ ہے ۔ یہ مجموعہ بھی اُن کے فن کے ارتقائی سفر کے اگلے پڑاؤ کی نشاندہی کرتا ہے ۔ اس مجموعے کا پہلا افسانہ  ’’  ڈالن والا ‘‘ ہے ۔

                ڈالن والا ایک بستی ہے ۔ قرۃ العین حیدر نے اس بستی میں رہنے والے مختلف طبقوں کی معاشرتی ، تہذیبی زندگی کو پیش کیا ہے ۔ اس افسانے کی خوبی اس میں استعمال ہونے والی تکنیک ہے ۔ بقول ڈاکٹر سہیل بیابانی اس تکنیک کو سب سے پہلے احمد علی نے برتا تھا ۔ اس میں جدا جدا پانچ افراد کی کہانیاں شامل ہیں ۔ ان کرداروں کا تعارف ڈاکٹر سہیل بیابانی اس طرح کرواتے ہیں :

’’  زہرہ ڈربی ، ڈائنا بیکٹ، مس زبیدہ صدیقی ، پیٹر رابرٹ  اور فقیرا ، ان پانچ کرداروں کے علاوہ دو اپن مشترکہ کردار ہیں ۔ جو تقریباً تمام کہانیوں کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں ایک خود قرۃ العین حیدر جو واحد متکلم کے طور پر افسانہ بیان کرتی جاتی ہیں ۔ وہ ڈالن والا کی خبر رساں ایجنسی ہیں ۔ اُنھیں ڈالن والا کے اندر باہر سب کا علم ہے ۔ دوسرا کردار سائمن کا ہے ، جو ہماری ہمدردی کا مستحق ہے ۔ ایک لحاظ سے ریشم اور نیگس کو بھی بشری کردار بنا کر پیش کیا ہے ۔ ریشم ( بلّی ) اور نیگس  (کتا ) دونوں کو قرۃ العین حیدر نے انسانوں کی طرح سوچتے ہوئے پیش کیا ہے ۔ ‘‘  ( ۲۷ )

                 ان پانچ افراد  میں زبیدہ صدیقی کا کردار نفسیاتی اور پیچیدہ ہے ۔ وہ غیر مسلم لوگوں کو پسند نہیں کرتی، مضمون سائنس میں پی۔ ایچ ڈی کرتی ہے۔ محمود نامی ایک نوجوان سے اُس کا رشتہ بھی طئے ہاجاتا ہے لیکن محمود زبیدہ  صدیقی بھتیجی سے شادی کرلیتاہے ۔ زبیدہ صدیقی جو غیر مسلم افراد کو پسند نہیں کرتی ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ وہ ایک ہندو پروفیسر اُتپل سے کورٹ میرج کرلیتی ہے ۔ اس افسانے کی دوسری کہانی مس ڈربی کی ہے ۔ جو ایک سرکس میں موٹر سائکل پر بیٹھ کر موت کے کنویں میں نیچے اوپر ہوتی ہے ۔ ایک دن اسی موت کے کنویں میں حادثے کا شکار ہوجاتی ہے ۔ اُسے دواخانہ میں شریک کیا جاتا ہے تاکہ اُس کا علاج ہو سکے لیکن وہ ایک دن وہاں سے چپ چاپ فرار ہوجاتی ہے اور قاری سوچتا رہ جاتا ہے کہ وہ آخر کیوں فرار ہوئی ؟ سرکس کی تماشہ بننے والی زندگی سے یا حادثوںکے خوف سے ؟  تیسری کہانی کا کردار ہیں ڈائنا جارج بیکٹ ہے ۔ بیکٹ  کا کام ایک سمینا ( تھیٹر ) میں ٹکٹ فروخت کرنا ، ڈربی کے بعد وہ موت کے کنویں کی مسافر بن جاتی ہے اور آخر ایک دن حاثے کا شکار ہوکر اپنے دونوں پیروں کو کھو بیٹھتی ہے ۔ اب سامنے آتے ہیں  مسٹر پیٹر رابرٹ جو کبھی مسلمان تھے اور اُن کا نام سردار خان تھا ۔نیگس اور ریشم ( کتا اور بلی ) بھی افسانے میں اُبھرتے ہیں ۔ نیگس الکٹرک شاک سے مرجاتا ہے ،اور ریشم اپنی تنہائیوں کو انسانوں کی طرح سوچتی ہے ۔ ایہ افسانہ انگریزی افسانوں کی طرح ہے ۔ اس میںہندوستانی رنگ کے لیے قرۃ العین حیدر نے توہم پرستی کے جُز کو شامل کردیا ہے ۔

                افسانہ ’’ یاد کی دھنک چلے ‘‘  اپنے عنوان ہی سے اشارہ کرتا ہے کہ یہ ایک نوسٹالجک افسانہ ہے ۔ اس افسانے کی مرکزی کردار گریسی نامی ایک خاتون ہے افسانے کی کہانی ہندوستان کی آزادی سے پہلے سے شروع ہوکر تقسیم ہند پر ختم ہوجاتی ہے تو افسانہ ’’ کارمن ‘‘  بھی ایک عورت کے اطراف ہی گردش کرتا ہے ۔ جس میں اُس کی مفلسی اور پریشانیوں کا اظہار کیا گیا ہے ۔ یہ افسانہ بتاتا ہے کہ مفلسی، بے چارگی ، عدم مساوات، طبقاتی فرق صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ مغربی ممالک بھی اس سے بچے ہوئے نہیں ہیں ۔

                اس مجموعے کا ٹائٹل افسانہ ’’  پت جھڑ کی آواز ‘‘  میں قرہالعین حیدر پھر ایک بار فن کی بلندیوں پر نظر آتی ہیں ۔ حالانکہ  اس افسانے کا موضوع، پلاٹ اور کردار اُن کے مخصوص مزاج سے بالکل مختلف ہے ۔ یہ افسانہ اُنھوں نے چیلنج کے نتیجے میں لکھا تھا کہ وہ متوسط طبقے پر افسانہ نہیں لکھ سکتیں ۔ یہ اس قدر پسند کیا گیا کہ اس پر اُنھیں 1967؁ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔خود اُنھوں نے اس افسانے کے لکھنے کی وجہ تسمیہ یوں بیان کی ہے :

’’  مجھ سے ضیاء محی ا لدین نے کہا تھا کہ آپ اس طرح نہیں لکھ سکتیں ۔ میں نے کہا ، اچھا میں لکھتی ہوں تو یہ مجھ سے ضیاء محی الدین نے کہا تھا اور شاید سلمیٰ صدیقی نے کہ تم اس طرح نہیں لکھ سکتیں ۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر شخص دوسرے شخص کی طرح لکھے ۔ ہر ایک کا اپنا اپنا انفرادی اسٹائل ہو تا ہے ۔ ہمارے یہاں  یہ بھی ایک چیز ہے کہ آپ فلاں کی طرح نہیں لکھتیں ۔ کیوں لکھیں  ہم فلاں کی طرح ؟ ہم فلاں کی طرح نہیں ہیں ۔ ہماری اپنی کوئی شخصیت ہے ۔ ہمارا اپنا

 System value   ہے ۔ ہمارا اپنا  Approach  ہے ۔ اپنا قلم ہے ۔ تو ہم فلاں کی طرح کیوں لکھیں ۔ ‘‘  (۲۸) 

                اور اس چیلنج کے جواب میں اُنھوں نے وہ افسانہ لکھ کر ثابت کردیا کہ وہ ہر طرح کے افسانے لکھ سکتی ہیں اور بہت بہتر افسانے لکھ سکتی ہیں ۔

                اس افسانے کا پلاٹ اس طرح ہے کہ تنویر فاطمہ ایک متو سط گھرانے کی نہایت خوبصورت لرکی ہے ۔ ابھی وہ اسکول ہی میں پڑھتی ہے کہ اُس کے لیے رشتے آنا شروع ہوجاتے ہیں ، لیکن اُس کی خوب صورتی کے باعث اُس کے والدین سوچتے ہیں کہ وہ اُس کی شادی کسی دولت مند گھرانے میں کریں گے ۔ چنانچہ وہ ہر آنے والے ایسے رشتے سے انکار کر دیتے ہیں ۔

                اسکول کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد وہ علی گڑھ گرلز کالج میں داخلہ لیتی ہے ۔ یہ وہ زمانہ ہے جب دوسرے جنگ ِ عظیم ختم ہو چکی ہے ۔ اس کالج میں مسلم لڑکیوں کے ساتھ ہی ساتھ دیگر مذاہب کی لڑکیاں بھی پڑھتی ہیں ۔ ایک روز تنویر فاطمہ اپنی سہیلیوں سرلا اور پر بھا کے ساتھ ایک کروڑ پتی لڑکی دلجیت کور کے گھر پارٹی میں جاتی ہے ۔ جہاں اُس کی ملاقات میجرخشوقت سنگھ کے ساتھ ہوتی ہے ۔ اُن کی دوستی پروان چڑھتی ہے ۔ وہ شادی کا آفر دیتا ہے لیکن تنویر فاطمہ انکار کر دیتی ہے کہ وہ ایک سید گھرانے کی لڑکی ہے اور کسی دولت مند مسلم گھرانے کے لڑکے ہی سے شادی کرے گی ۔ اس کے بعد اُس کی زندگی میں ایک اور شخص فاروق آتا ہے ۔ وہ پہلے ہی سے شادی شدہ ہے اور بچوں کا باپ بھی ہے ۔ وہ تنویر فاطمہ کو ہیرے جواہرات اور سونا چاندی سے بھر دیتا ہے لیکن ہر بار شادی کی بات ٹال جاتا ہے ۔ اسی دوران ملک تقسیم ہوجاتا ہے اور وہ اُسے پاکستان ہجرت کرنے کا مشورہ دیتا ہے ۔ وہ پاکستان اپنے والدین کے ساتھ چلی جاتی ہے ۔ فاروق وعدہ کرتاہے کہ وہ بھی وہاں پہنچ جائے گا لیکن نہیں پہنچتا ۔ مجبوراً وہ پنجاب کے ایک کالج میں ملازمت کر لیتی ہے ۔کچھ عرصہ بعد فاروق پاکستان پہنچتا ہے ۔ ملاقاتوں کا سلسلہ پھر شروع ہوتا ہے لیکن وہ اب بھی شادی سے انکار کرتا ہے اور آخر میں تنویر فاطمہ کو ایک متوسط خاندان کے فرد ہی سے شادی کرنا پڑتی ہے جس کی بیوی کا انتقال ہو چکا ہے ۔

                یہ افسانہ ناقدین نے بیحد پسند کیا کیونکہ اس افسانے کی زبان عام فہم ہے ۔ کردار پوری طرح  زمین سے جڑے ہوئے ہیں ۔ قرۃ العین حیدر نے اس افسانے کے ذریعے کچھ سوالات بھی اُٹھائے ہیں کہ اپنی لرکی کی خوب صورتی سے متاثر ہوکر والدین کو خوش فہمیوںمیں مبتلا نہیں ہونا چاہیے ۔ ضرورت سے زیادہ سختی عموماً اولاد کو ضدی اور باغی بنا دیتی ہے ۔ اس افسانے کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے عظیم الشان صدیقی لکھتے ہیں :

 ’’  پت جھڑ کی آواز ‘‘  میں افسانے کے تمام عناصر موجود ہیں ۔ جو موضوع یا مرکزی خیال ، قصہ پن ، واقعات و کردار کے مابین داخلی و خارجی ربط و توازن ، جزئیات کے انتخاب اور منطقی انجام تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس میں ایک تخلیق کار کے ذاتی تجربے اور مشاہدے کے حوالے کے  علاوہ  غور و فکر کی آنچ بھی موجود ہے ۔ جس نے اُس کے وحدت تاثر میں اس طرح اضافہ کر دیا ہے کہ یہ افسانہ تنویر فاطمہ کی کہانی تک محدود نہیں رہتا ، بلکہ متوسط طبقے کی لڑکیوں کے بارے میں اس عام خیال کا آئینہ دار بن جاتا ہے کہ وہ گھر کے گھٹن بھرے ماحول سے نکل کر جب کالج کی کھلی فضاء میں پہنچتی ہیں تو جلد ہی بے راہ رو ہوجاتی ہیں ۔ جس کا نتیجہ اعلیٰ تعلیم کے باوجود نا خوش گوار انجام کی قناعت پسندی کی صورت میں بر آمد ہوتا ہے ۔ ‘‘   (۲۹ )

 ’’  پت جھڑ کی آواز ‘‘  میں افسانے کے تمام عناصر موجود ہیں ۔ جو موضوع یا مرکزی خیال ، قصہ پن ، واقعات و کردار کے مابین داخلی و خارجی ربط و توازن ، جزئیات کے انتخاب اور منطقی انجام تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس میں ایک تخلیق کار کے ذاتی تجربے اور مشاہدے کے حوالے کے  علاوہ  غور و فکر کی آنچ بھی موجود ہے ۔ جس نے اُس کے وحدت تاثر میں اس طرح اضافہ کر دیا ہے کہ یہ افسانہ تنویر فاطمہ کی کہانی تک محدود نہیں رہتا ، بلکہ متوسط طبقے کی لڑکیوں کے بارے میں اس عام خیال کا آئینہ دار بن جاتا ہے کہ وہ گھر کے گھٹن بھرے ماحول سے نکل کر جب کالج کی کھلی فضاء میں پہنچتی ہیں تو جلد ہی بے راہ رو ہوجاتی ہیں ۔ جس کا نتیجہ اعلیٰ تعلیم کے باوجود نا خوش گوار انجام کی قناعت پسندی کی صورت میں بر آمد ہوتا ہے ۔ ‘‘   (۲۹ )

                قرۃ العین حیدر کے تیسرے مجموعے کا آخری افسانہ ’’  ہاوسنگ سوسائٹی ‘‘ ہے ۔ یہ ایک نہایت طویل افسانہ ہے ۔ اُن کے دیگر افسانوں میں یہ افسانہ اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ خود اس افسانے کے باہر بیٹھ کر صرف کیمرے کی آنکھ سے اس سوسائٹی کو دیکھ رہی ہیں ۔ پورا افسانہ ایک منہ زور بیانیہ کی گرفت میں ہے ۔ اور حقیقت کے پردے ایک کے بعد ایک اُٹھتے جاتے ہیں ۔

                ’’ ہاو سنگ سوسائٹی ‘‘ یہ ایک جدید قسم کی کالونی ہے ۔ جو کراچی کے قلب میں واقع ہے ۔  یہاں عالیشان بنگلے ہیں ۔ جن کی بناوٹ اور سجاوٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ جن میں  دولت مند خاندان، بڑے تاجر اور ا علیٰ حکام آباد ہیں ۔

                قرۃ العین حیدر کے اکثر ا فسانوں میں تقسیم ہند کا المیہ ضرور آتا ہے ، لیکن اس افسانے میں اُنھوں نے نئی اور پرانی قدروں کے تصادم کو اپنا موضوع بنایا ہے ۔یہ افسانے اُن نئے دولتیوں کا طنزیہ احوال ہے ، جنھیں پہنچتے ہی پاکستان راس آگیا اور دولت کے کمانے کے بے شمار ذریعے ہاتھ آگئے ۔ دولت کی فراوانی نے اُن کی ہوس کو اور بھی ہوا دی ، وہ اخلاق و کردار کی ساری خوبیوں کو بھول کر خود غرـضیوں پر اُتر آئے۔ خود کو خاندانی رئیس ظاہر کرنے کی خاطر پارٹیوں کا اہتمام ، شراب و شباب کا انتظام ،  ملٹری کے آفیسروں اور سیاست دانوں کی چاپلوسی، فیشن اور گلیمر ان کی زندگی کا مقصد ہوکر رہ گیا ہے ۔  وہ سب ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں ۔ اسی کالونی میں ایک بالکل ہی نیا دولتیہ جمشید بھی رہتا ہے ۔ جو ظاہری ٹھاٹھ باٹ ہی کو اصل زندگی سمجھتا ہے ۔

                قرۃ العین حیدر کا کمال یہی ہے کہ ان نئے دولت مند افراد کی زندگیوں پر سے اُنھوں نے ایسا پردہ اُٹھایا کہ وہ ساری گھناونی حقیقتیں سامنے آگئیں  جن پر دبیز پردے پڑھے ہوئے تھے ۔ اس افسانے کا اہم کردار جمشید ہے جو ایک نیا دولتیہ ہے جس نے اپنی غربت کو ختم کرنے کے لیے ہر جائز و نا جائز طریقے کو استعمال کیا ہے ۔ دولت کے حصول کے ساتھ ہی اُس کے مزاج میں تبدیلیاںآتی ہیں ۔ اب اُس کے نزدیک اعلیٰ انسانی قدروں کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔ اُسے اپنے رشتہ داروں کا بھی لحاظ نہیں ہے ۔ وہ اپنے ماضی سے کچھ سیکھنے کے بجائے انتقام لینا چاہتا ہے ۔ وہ دولت ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے ۔ جمشید کے علاوہ اس افسانے میں دو اور اہم کردار ہیں ۔ ایک ہیں منظور النساء اور دوسرا کردار ہے بسنتی بیگم  ( ثریا حسین ) کا ۔ منظور النسا، جمشید کی چچازاد بہن ہے جس کی پرورش شہر اور شہری تہذیب سے دور ہوئی ہے ۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ ایک دیہات میں رہتی ہے ۔ جمشید کودیہاتی زندگی بالکل پسند نہیں ۔ وہ شہر کی فیشن پرست زندگی کا دلدادہ ہے ۔ وہ خاندانی دباو میں آکر اُس سے شادی تو کرلیتا ہے لیکن کبھی اُسے اُس کا حق نہیں دیتا اور اپنی رنگین زندگی ہی میں مست رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ اُسے طلاق بھی دے دیتا ہے۔ منظور النساء اس کے بعد بھی کسی دوسرے مرد کی صورت نہیں دیکھتی اُس کے دل میں ہمیشہ جمشید ہی بسا رہتا

 یہاں تک کہ ایک دن وہ اس دنیا سے رخصت ہوجاتی ہے ۔ اس کے برخلاف بسنتی بیگم کا کردار جو زندگی کے نامساعد حالات سے لڑنا جانتی ہے ۔ جب وہ صرف تیرا برس کی تھی اُسے نواب بھورے کے آدمی اُٹھالے جاتے ہیں ۔وہ ہمت نہیں ہارتی، اپنی تعلیم کسی طرح مکمل کرتی ہے اپنے حق کے لیے لڑتی ہے ۔ وہ ترقی پسند خیالات کی حامل ہے ۔ اُس کی ملاقات ایک انقلابی شخص آنند موہن گھوش سے ہوتی ہے اور وہ بھی انقلابی بن جاتی ہے ۔ وقت بدلتا ہے ۔ وہ کراچی پہنچتی ہے اور ثریا حسین بن جاتی ہے ، اور دیکھتے ہی دیکھتے ہاو سنگ سوسائٹی کی پارٹیوں کی جان بن جاتی ہے ۔ جمشید جو گلیمر اور دکھاوے کی زندگی کا دلدادہ ہے ۔ اعلیٰ سوسائٹی میں اپنی شہرت کی خاطر اُس کی بنائی ہوئی ایک  پینٹگ کو  نہایت مہنگے داموں میں خریدتا ہے ۔ اور اپنی کمپنی میں ملازمت بھی دیتا ہے ، بلکہ اُس پر اپنی نوازشوں کی برسات بھی کرتا ہے ۔ ثریا حسین اپنے ایک پرانے انقلابی ساتھی سلمان مرزا سے محبت بھی کرنے لگتی ہے لیکن اب وہ ایسے مردوں کو جو خصوصاً فیشن اور گلمیر کے شوقین ہوتے ہیں اُن کے مزاج کو اچھی طرح سمجھ چکی ہے اور سلمان کی محبت کو بھی بھول جاتی ہے اور خود بھی گلمیر کی زندگی کا ایک حصہ بن کر رہ جاتی ہے ۔ 

                قرۃالعین حیدر کے افسانوں کا چوتھا اور آخری مجموعہ  ’’  روشنی کی رفتار  ‘‘  ہے جو 1982  ؁ ء میں  ایجوکیشنل بک ہاوس نئی دہلی سے شائع ہوا تھا ۔  اس مجموعے میں وہ افسانے بھی شامل ہیں جن کا اسلوب داستانوی ہے ۔ یہاں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ آخر قرۃ العین حیدر کا  ادبی قد دیگر اہم افسانہ نگاروں سے بلند کیوں ہے ؟  اس کی ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ اُن کے معاصرین  کے کردار اور زمین بر صغیر تک ہی محدود ہے ۔ کسی نے اگر آگے بڑھ کر نئی دنیا  کی طرف دیکھا بھی تو اُس میں مشرقی تہدیب  ہی کی جھلک نظر آتی ہے ۔ قرۃ العین حیدر کے افسانے دنیا کے دیگر ممالک کی زمین سے بھی تعلق رکھتے ہیں  اور اُسی پس منظر کے ساتھ ہوتے ہیں ۔

                  مضمون کی طوالت کے سبب  اس مجموعے کے چند افسانوں کاجائٹہ لیتے ہیں ۔

                افسانہ ’’  ملفوظات حاجی گل با با بیکتاشی  ‘‘  تصّوف مزاج افسانہ ہے ۔ قرۃ العین حیدر کا کمال یہ ہے کہ وہ جس موضوع کو بھی اُٹھاتی ہیں اُس کا حق ادا کر دیتی ہیں ۔ وہ نے صرف افسانے کی ضرورت کے مطابق ماحول کوتیار کرتی ہیں بلکہ زبان و بیان کے بھی وہ جوہر دکھاتی ہیں کہ قاری دم بخود رہ جاتا ہے ۔  چنانچہ اس افسانے کی زبان ہی ملاحظہ فر مائیں۔ تصوف کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ جہاں زماں و مکاں بھی ایک ہی سیدھ میں آجاتے ہیں ، اور دہلی سے کوہ ِ ارادت تک پھیلا ہوا سلسلہ ایک دوسرے کے بالکل قریب آجاتا ہے ۔ بزرگان ِ دین جن سے متعلق عام انسانوں کا نظریہ ہے کہ وہ اپنی عبادتوں سے سلوک کے اُن مقامات پر پہنچ جاتے ہیں جہاں اُن پر سب کچھ ظاہر ہونے لگتا ہے ۔ اُن کی دعائیں مقدرات کو بھی بدل سکتی ہے ۔ لیکن یہاں قرۃ العین حیدر بتاتی ہیں کہ وہ بھی کتنے مجبور و بے بس ہوتے ہیں ۔ کائنات کا مالک و مختار وہی ہے جس نے اسے بنایا ہے ۔

                افسانے کی راویہ ( قرۃ العین حیدر )  حاجی سلیم بیکتاشی کے ارشادات سن کر قطعی متاثر نہیں ہوتی بلکہ اُنھیں ہسپانیہ کے حاجی یوسف بیکتاشی کی بے بسی کا واقعہ سناتی ہے ۔ اس واقعہ میں طنز و عبرت دونوں موجود  ہیں ۔ دونوں کا یہ مکالمہ ملاحظہ فرمائیں ‘

 ’’  ہم بیکتاشی محض دعا نہیں کرتے خانم ، تم نماز پڑھتی ہو ، سیدھی سادی نماز ۔ ہم نماز پڑھنے کو دار ِ منصور پر چڑھنا کہتے ہیں ۔ میں روز دار ِ منصور پر چڑھتا ہوں اور فنا ہوتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں ۔ چونکہ تم ایسا کبھی نہ کروگی ، تمھیں کچھ معلوم نہ ہوگا ۔ میں روز آنہ خواہشات کو باندھتا ہوں اور قناعت کو کھولتا ہوں ۔ خدا صابر ہے کیونکہ حّی القیوم ہے ۔ ‘‘

                تب میں نے زرا بے دلی سے کہا ، ’’ آفندم ۔۔۔ آپ کو ہسپانیہ کے حاجی یوسف بیکتاشی کا نام یاد ہے ۔ پندرھویں صدی عیسوی میں وہ علیہ الرحمتہ اندلس میں موجود تھے ۔ جب مسلمانوں پر قہر ٹوٹا ، اُن کا اور اُن کے مریدوں کا صبر ورضا کسی کام نہ آیا ۔ ‘‘

                حاجی سلیم نے میری بات کا مطلق نوٹس نہ لیا اور کہتے رہے ، ’’  میں انوار ِ الہی کی روشنی میں سفر کرتا ہوں ، میں ننانوے اسمائے الہی کی روشنی میں چلتا ہوں ۔ ہو ؔ جو برنگ ِ سرخ ہے۔ احد سبز اور عزیز جو سیاہ ہے اور ودود جس کی ذات میں روشنی نہیں ۔۔۔ ! ‘‘  حاجی سلیم بیکتاشی کی گفتگو ختم ہوئی ۔ ‘‘   ( ۳۰ )

                اس افسانے سے متعلق ڈاکٹر سہیل بیابانی لکھتے ہیں :

’’  اس افسانے میں قرۃ العین حیدر نے مختلف مقامات کو اس طرح یکجا کردیا جیسے وہ اکثر ’’  وقت ‘‘  کے سلسلے میں کرتی ہیں ۔ جہاں وہ وقت کے آزاد اور غیر معینہ بہاو کو قابو میں کرتی ہیں وہاں افسانے کی رفتار میں ایک فطری پن پیدا ہوجاتا ہے ۔ اور افسانہ ایک محدود وقت میں بندھنے کے بجائے ماضی اور مستقبل کی لامحدود بساط پر پھیل جاتا ہے ، ’’ ملفوظات حاجی گل با با بیکتاشی ‘‘  میں اُنھوں نے ’زماں ‘کے ساتھ ساتھ ’ مکاں ‘  کو بھی اسی انداز سے پیش کیا ہے ۔ ‘‘ (۳۱)

                افسانہ ’’  سینٹ فلورا آف جارجیا کے اعترافات ‘‘  یہ ایک داستانی اسلوب میں لکھا گیا افسانہ ہے ۔ داستان کے ساتھ فینٹسی کا ہونا بھی ضروری ہے جو اس افسانے میں موجود ہے اور نہایت عمدہ طریقے سے استعمال ہوئی ہے ۔ ایک بات اور یہ داستان نہ تو عجم کی کسی شہزادی کی ہے اور نہ عرب کے کسی تاجر کی  یہ داستان ہے بلکہ یہ ایک بازنطینی لڑکی اور اور ایک فادر گریگری کی داستان ہے  ۔ باز نطینی لڑکی جس کانام سینٹ فلورا ہے ۔ جس نے زندگی کے پچیس برس ایک  خانقاہ میں کسی قیدی کی طرح گزارے تھے اور بعد مرگ اُسی خانقاہ کے تہہ خانے میں اُس کا تابوت رکھ دیا گیا تھا ۔ موت کے بعد ایک فرشتے کے باعث اُسے ایک سال کی زندگی مل جاتی ہے ۔ زندہ ہونے کے بعد وہ ایک اور تابوت کو اپنے سامنے دیکھتی ہے جس میں فادر گریگری کا پنجر تھا وہ اُس  فرشتے سے اُس کی بھی سفارش کرتی ہے اور اُسے بھی ایک سال کی زندگی مل جاتی ہے ۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو اپنی اپنی کہانی سناتے ہیں ۔ فلورا بتاتی ہے کہ موت سے پہلی عین جوانی میں اُس پر ایک عجمی عاشق ہوگیا تھا ۔ دونوں ایک دوسرے کو بے حد چاہنے لگے تھے اور چاہتے تھے کہ ایک ہوجائیں ۔ جو اُن کے مقدر میں نہیں تھا ۔ اسی لیے دونوں فرار ہونے کا منصوبہ بناتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اُس کے باپ کو معلوم ہوجاتا ہے ۔ وہ ایک ضدی شخص تھا ۔ اُس نے دونوں کو الگ الگ کرنے کی خاطر فلورا کو دمشق کی ایک خانقاہ کی تارک الدنیا ضعیفہ کے سپرد کردیا ۔ اس خانقاہ میں  اُس نے پورے پچیس برس گزارے اور دیگر راہباوں کی طرح اپنا سارا وقت عبادت میںبسر کیا ۔ اتفاق سے گرجستان کی شہزادی تنکا تناتن کی نظریں اُس پر پڑیں اور اُس کی خواہش پر وہ جارجیا کی ایک نئی خانقاہ کی راہبہ بنادی گئی ۔ موت کے آخری لمحے تک وہ وہیں رہی اور عبادت میں مصروف رہی ۔ اُس کی عبادتوں اور خدا ترسی کے باعث لوگوں کا اُس پر اعتقاد بڑھتا گیا ۔ وہ بھی خدمت ِ خلق کے لیے ہمیشہ تیار رہتی۔ ایک بار چھوت کی بیماری میں مبتلا ایک شخص اُس کے پاس آیا اُس نے اُس کی خوب خدمت کی ۔وہ تو اچھا ہوگیا لیکن یہ بیماری اُسے لگ گئی اور وہ اسی مرض کی وجہ سے مر گئی تھی ۔ اُس وقت اُس کی عمر صرف ۴۵ برس تھی ۔

                گریگری بتاتا ہے کہ ساڑھے تیرا سو سال پہلے اُس کا انتقال ہوا تھا ۔ وہ شروع ہی سے مطالعے کا شوقین تھا ۔ اُس کی تعلیم قرطاجنہ کے مدرسے میں ہوئی تھی ۔ اس کے بعد وہ روما پہنچا اور پھر وہاں سے ایتھینز گیا ، قسطنطنیہ میں وقت گزارا اور وہاں سے بحر ہ اسود کے راستے گرجستان چلا آیا ۔ اور یہاں ایک پہاڑی غار میں رہنے لگا ۔ ایک دن پیر میں چوٹ لگی اور اُسی کے باعث زندگی کا خاتمہ ہوگیا ۔

                جس سال اُنھیں ایک سال کی دوبارہ زندگی ملی وہ سن  1975 ؁ء کا سال تھا ۔  دونوں زندگی کے اس اکلوتے برس کو مختلف مصروفیتوں میں گزارتے ہیں ۔ فلورہ عمدہ لباسوں کی شوقین ہوجاتی ہے ۔ اُس کے چہرے پر عجب طرح کی معصومیت تھی جیسے ناکام معشوقہ انتظار کے لمحات کاٹ رہی ہو ۔ اُس کے اندر دوبارہ عشق انگڑائیاں لینے لگتا ہے ۔ جبکہ گریگری زندگی کے اس ایک برس کو عیش و عشرت میں گزارتا ہے ۔ایک روز فلورہ اُسے ایک جنسی میگزین کی ورق گردانی کرتے ہوئے دیکھ لیتی ہے ۔ یہاں جنسی ضرورت کی طرف قرۃ العین حیدر نے اشارہ کیا ہے کہ دوبارہ ملنے والی زندگی جس کی معیاد صرف ایک برس ہے پھر بھی انسان اس نفسانی خواہش سے نہیں بچ سکتا ۔

                افسانے کے کلائمکس پر فلورا ایک دکان سے گاون اور گریگری ایک کتاب چراتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں ۔ وہ دن اُن کو ملنے والی زندگی کا آخری دن ہوتا ہے ۔دونوں اپنے چہروں سے ماسک اُتار لیتے ہیں ۔ اس دلچسپ فینٹسی کو قرہ العین حیدر نے نہایت کامیابی کے ساتھ کاغذ پر اُتارا ہے ۔

                قرۃ العین حیدر کے داستانی مزاج افسانوں میں افسانہ ’’  آئینہ فروش شہر کوراں ‘‘ کا بھی شمار ہوتا ہے ۔ وہ ایک ایسی ادیبہ ہیں جو انسانی جبلت اور صفات کو پرکھنے کی خاطر صرف حال ہی پر نظریں نہیں دوڑاتیں بلکہ اُن کی سوچ پر کئی زمانے اپنی تاریخ کے  اوراق کھولتے جاتے ہیں ۔ اور اُنھیں اُن میں وہ انسان نظر آتا ہے جس کی بربریت پر خدائے قدوس کوعذاب نازل کرنے پڑے ۔۔ اس افسانے میں اُنھوں نے توریت، انجیل اور قرآن کے حوالوں سے اُن عذابوں کو بیان کیا ہے۔حال کا انسان بھی ماضی کے انسان سے مختلف نہیں ۔ اُس کے وحشی کارنامہ بھی اُن کے ذہن کا حصہ ہیں ۔ اس افسانے کے لیے اُنھوں نے بیانیہ اسلوب استعمال کیا اور صحیفوں کی مانند زبان کو برتا ۔ ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں :

’’  الغیاث، الغیاث ، مہلائیل بن شیث بن آدم کے انتقال کے بعد لوگ ان کی زیارت کے لیے آتے رہے ۔ فرزندان ِ مہلائیل نے ابلیس کے کہنے پر اپنے والد کا بت بنا کر برقعہ اُس پر ڈالا اور لوگ اُس کی زیارت کرنے لگے، اور عالم میں بن پرستی پھیلی ۔ پھر اس قوم میں ادریس پیدا ہوئے ، پڑھانے کی کورت سے لقب اُن کا ادریس ہوا ، علم ِ نجوم ان کے معجزات میں سے تھے ، اور آپ درزی کا کام کرتے تھے ۔ قوم ان کی پھر بت پرستی پر راغب ہوئی ۔بعد چار سو سال کے نوح آئے کہ اپنی قوم کی حالت پر نوحہ بہت کرتے تھے ۔ اور جب بُڑھیا کے تنور سے گرم پانی نکلا اور طوفان  اُٹھا۔

                اور قوم عاد اور ہود پیغمبر اور ساتویں زمین پر ایک ہوا ہیکہ نام اس کا ریح العقیم ہے ۔ ستّر ہزار زنجیروں سے اس کو باندھ رکھا گیا ، اور ستّر ہزار فرشتے اس پر محافظ ہیں ۔جب روز ِ قیامت وہ ہوا چھوڑی جاوے گیپہاڑوں کو مانند ابریشم کے اُڑا دیوے گی ، اسی ہوا نے ظالم قوم ِ عاد کو برباد کیا ۔

                بعدئہ صالح پیغمبر کو قوم ِ ثمود پر ۔۔۔ بعد اُس کے فرشتوں نے شہرستان ِ لوط کا قصد کیا ۔ حضرت ابراہیم نے کہا ، میں بھی تمہارے ساتھ چلوں ؟ اُنھوں نے کہا ، ہمارے ساتھ مت آئیو ۔۔۔ ہم اس شہر کے لوگوں کو ہلاک کرنے جاتے ہیں عذاب کو دیکھنے کی تم میں طاقت نہ ہو گی ۔ ‘‘  (۳۲ )

                اس چوتھے مجموعے میں افسانہ ’’  حسب نسب ،  جن بولو تارا تارا ، اور ، کہرے کے پیچھے ‘‘ کرداری افسانے ہیں ۔ ان افسانوں کے مرکزی کردار یعنی افسانہ ’’ حسب نسب ‘’ کی چھمی بیگم، افسانہ ’’ جن بولو تارا ‘‘  کے دلارے چاچا  اور افسانہ ’’  کہرے کے پیچھے ‘‘  کی کتھرائین  میں ایک ہی بات مشترک ہے کہ ان کی زندگیاں کسی نہ کسی المیے کی شکار ہوئیں ۔ اس کے باوجود اُن میں زندگی کا حوصلہ تھا ،خواہشات تھیں ۔ وہ اُن کی تکمیل بھی چاہتے تھے لیکن انسانی زندگیاں مقدرات کے طابع ہوتی ہیں ۔ 

                ان افسانوں کے علاوہ بھی قرہ العین حیدر کے پاس اور بھی بہت سارے اہم افسانے ہیں ۔ جن پر آئیندہ کبھی کسی مضمون میں گفتگو ہوگی ۔                قرہ العین حیدر نے ادب کی دنیا میں اپنا نام محض اپنے خاندانی وقار کے باعث نہیں پایا بلکہ اُنھوں نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں سے اپنے نام کو روشن کیا۔ ہماری تنقید نے اُن کی ناولوں پر تو سیر حاصل بحثیں کی ہیں لیکن اُن کے افسانوں کا جس طرح جائزہ لینا چاہیے تھا نہیں لیا ، بلکہ اُن پر انگریزی، فرانسیسی ادیبوں سے استعفادے کا الزام عائد کیا ، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ وہ آج بھی ادب کے آسمان پر کسی آفتاب کے مانند جلوہ گر ہیں ۔
*******

حوالے جات
( ۱ ) افسانہ ۔ اودھ کی شام ۔ مجموعہ ۔ ستاروں سے آگے ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص۔ ۱۵۱ ۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۔ ۲۰۰۴ ؁ ء
( ۲ ) افسانہ ۔ ہم لوگ ۔ مجموعہ ۔ سراروں سے آگے ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔ ۱۲۲ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۲۰۰۴ ؁ ء
( ۳ ) کتاب ۔ قرۃ العین حیدر کا فن ۔ ڈاکٹر عبدالمغنی ۔ ص ۔ ۴۹ ۔ ماڈرن پبلیشنگ ہاوس دہلی ۔ ۱۹۹۴ ؁ ء
(۴ ) کتاب ۔ اردو افسانہ ۔ روایت اور مسائل ۔ مرتبہ ۔ڈاکٹر گوپی چند نارنگ ۔ مـمون ۔ قرۃ العین حیدر : جدید افسانے کا نقطہ آغاز ۔محمود ہاشمی ۔
ص۔ ۴۳۷ تا ۴۳۸ ۔ ایجو کیشنل پبلیشنگ ہاوس دہلی ۔۱۹۸۱ ؁ ء
( ۵ ) افسانہ ۔ ستاروں سے آگے ۔مجموعہ ۔ ستاروں سے آگے ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص۔۵ ۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۔ ۲۰۰۴ ؁ ء
(۶ ) کتاب ۔ اردو افسانہ ۔ روایت اور مسائل ۔ مرتبہ ۔ڈاکٹر گوپی چند نارنگ ۔ مـمون ۔ قرۃ العین حیدر : جدید افسانے کا نقطہ آغاز ۔محمود ہاشمی ۔
ص۔ ۴۴۰ ۔ ایجو کیشنل پبلیشنگ ہاوس دہلی ۔۱۹۸۱ ؁ ء
( ۷ ) افسانہ ۔ جب طوفان گزر چکا ۔ مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔ ۵ ۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
( ۸ ) کتاب ۔ قرۃ العین حیدر ایک مطائعہ ۔ ڈاکٹر قمر رئیس ۔ مضمون ۔ قرۃ العین حیدر ایک مطالعہ ۔ ص۔ ۴۰ ۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۲ ؁ء
( ۹ ) افسانہ ۔ میں نے لاکھوں کے بول سہے ۔ مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔
۵۶۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء

( ۱۰ ) افسانہ ۔ میں نے لاکھوں کے بول سہے ۔ مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔ ۷۰۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
(۱۱ ) افسانہ ۔ برف باری سے پہلے۔ مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔ ۹۲۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
(۱۲ ) افسانہ ۔ برف باری سے پہلے۔ مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔۹۸۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
( ۱۳ ) افسانہ ۔ برف باری سے پہلے۔ مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔۱۰۷۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
(۱۴ ) افسانہ ۔ برف باری سے پہلے۔ مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔۱۳۰ ۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
( ۱۵ ) افسانہ ۔ کیکٹس لینڈ ۔ ۔ مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔۱۳۱۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
(۱۶ ) افسانہ ۔ کیکٹس لینڈ ۔ ۔ مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔۱۳۲۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
( ۱۷ ) افسانہ ۔ کیکٹس لینڈ ۔ ۔ مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔۱۵۵۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
(۱۸ ) افسانہ ۔ کیکٹس لینڈ ۔ ۔ مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔۱۵۵ تا ۱۵۶۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
( ۱۹ ) افسانہ ۔ یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر ۔مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔۱۷۷۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
(۲۰ ) افسانہ ۔ یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر ۔مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔۱۷۵۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
(۲۱ ) افسانہ ۔ یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر ۔مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔۱۸۲۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
( ۲۲ ) کتاب ۔ قرۃ العین حیدر کی افسانہ نگاری ۔ ڈاکٹر سہیل بیابانی ۔ ص۔ ۷۱ ۔ ایجو کیشنل پبلیشنگ ہاوس دہلی ۔۱۹۸۱ ؁ ء
(۲۳ ) افسانہ ۔ جلا وطن ۔ ۔مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔۲۸۷ تا ۲۸۸ ۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
(۲۴ ) افسانہ ۔ لندن لیٹر ۔ مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔۲۹۹۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
(۲۵ ) افسانہ ۔ جلا وطن ۔ مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔۲۹۹ تا ۳۰۰ ۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
(۲۶ ) افسانہ ۔ جلا وطن ۔ مجموعہ ۔ شیشے کا گھر ۔ قرۃ العین حیدر ۔ ص ۔۳۱۲۔ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۸ ؁ ء
(۲۷ ) کتاب ۔ قرۃ العین کی افسانہ نگاری ۔ ڈاکٹر سہیل بیا بانی ۔ ص ۔ ۷۸ ۔ ایجو کیشنل پبلیشنگ ہاوس دہلی ۔۱۹۸۱ ؁ ء
(۲۸ ) رسالہ ۔ قومی زبان ۔ قرۃ العین حیدر نمبر ۔ قرۃ العین حیدر سے گفتگو ۔ ص ۔ ۱۷۲ ۔ پٹنہ سن اشاعت ۲۰۰۸ ؁ ء
( ۲۹ ) کتاب ۔ قرۃ العین حیدر ایک مطالعہ ۔ ڈاکٹر عظیم الشان صدیقی ۔ ص ۔ ۱۱۵ ۔ اذردو ساہتیہ اکادمی گجرات ۔ ۲۰۰۸ ؁ ء
( ۳۰ ) افسانہ ۔ ملفوظات حاجی گک با با بیکتاشی ۔ مجموعہ ۔ روشنی کی رفتار ۔ ص ۔ ۲۴ ۔ ایجو کیشنل پبلیشنگ ہاوں دہلی ۔ ۲۰۰۰ ؁ ء
( ۳۱ ) کتاب ۔ قرۃ العین کی افسانہ نگاری ۔ ڈاکٹر سہیل بیا بانی ۔ ص ۔۱۰۳ ۔ ایجو کیشنل پبلیشنگ ہاوس دہلی ۔۱۹۹۸ ؁ ء
( ۳۲ ) افسانہ ۔ آئینہ فروش شہر کوراں۔ قرۃ العین حیدر ۔مشمولہ کتاب ۔ قرۃ العین حیدر کی افسانہ نگاری ۔از ڈاکٹر سہیل بیابانی ص۔ ۱۰۱ ۔ ایجو کیشنل پبلیشنگ ہاوس دہلی ۔۱۹۹۸ ؁ ء
٭٭٭

شیئر کریں

کمنٹ کریں