مضمون : راکھ

مضمون نگار : محمد عباس

راکھ

لمحوں میں زمانے راکھ ہو تے جاتے ہیں۔ صدیوں کی راکھ تہہ در تہہ جمتی جاتی ہے۔ خوشیوں کے کیسے کیسے میلے اجڑ گئے۔ کون کون سے ہنگامے تھے جو اس راکھ تلے آسودہ ہوئے، کیا رونقیں تھیں جو پس کر ظالم زمانے کی آنکھوں کا سرمہ بنیں، کن مسرتوں کے قلعے تھے جو زمیں بوس ہوئے ، خوابوں کے کتنے شیش محل تھے جو حقیقت کی لپٹ میں جل کر سیاہ ہوئے اور وصال کی مرادوں بھرے کس کس کے رانگلے پلنگ تھے جو وقت نے سواہ کر دیے۔ وقت کے اس عظیم انبار تلے جسے ماضی کہا جاتا ہے اور جو ہر مردہ لمحۂ حال کی راکھ سے بڑھتا چلا جاتاہے کتنی ہستیوں کے عظیم منصوبے دب گئے۔ کیا کیا عالمگیر نظریے تھے جو ایک نقطے میں سمٹتے گئے ، کس کس کی شان و شکوہ کے آسماں مرتبت مینار تھے جو رزقِ خاک ہوئے۔ زمانے کی اپنی کروٹ تلے کتنے زمانے دبتے چلے گئے۔ کیاخبر روایت، اقدار، تہذیب، ثقافت کے کتنے مظاہر وقت کی قربان گاہ پر قربان کر دیے گئے۔ جذبوں کا وہ کون سا رخ تھا، احساس کا کیسا ذائقہ تھا، سبھی محو ہوتے جاتے ہیں۔ کھربوں کھرب نفوس اس راکھ نے پھانک لیے اور ان کے جذبات پر فراموشی کی دھول جما کر زمانے کے دل سے کھُرچ دیے۔ ہر نفس عمر گزشتہ کی داستان سناتا ہے۔ تاریخ دان جب راکھ کے اس تودے میں سے حقائق کی تلاش میں نکلتا ہے تو شواہد اُدھم گُدھم ملتے ہیں۔ راکھ سے دوبارہ زمانے کو زندہ کرنا اس کی علمیت کی حدود سے باہر ہوتاہے۔ اسے جو سمجھ آتی ہے، جیسے گمان ہوتا ہے، گزشتہ زمانے کو سمیٹنے کی کوشش کرتا جاتا ہے، حقائق کی مجموعی پیش کش کی بجائے جس زاویے سے اسے نظر آتا ہے، اس کا عکس آئندہ زمانوںکو دکھا دیتاہے۔کل ماحول کی کیا زندہ صورت بنتی تھی ، وہ کیسے تھی یہ اس کے بس میں نہیں ہوتا۔اسے محدود سے حقائق کی صداقت سے غرض ہوتی ہے، ایک حقیقی واقعہ کے ساتھ کس کس کے جذبات جڑے ہوتے ہیں اور اس کے آگے پیچھے ان گنت واقعات کا کیسا جال پھیلا ہوتا ہے، اس سے وہ بے نیاز ہوتا ہے۔کیا ہوا، کیوں ہوا، کیسے ہوا بتا کر وہ دستبردار ہو جاتا ہے۔


راکھ کے ڈھیرپہ کیا شعلہ بیانی کرتے
ایک قصے کی بھلا کتنی کہانی کرتے


لیکن جب کوئی ناول نگار راکھ کے اس ڈھیر تک پہنچتا ہے تو اس کے فن کی معجز نمائی سے بیتے زمانے دوبارہ جنم لینے لگتے ہیں۔ وقت کے بے رحم پہیے نے جن چیزوں کو کچل دیا تھا ، وہ اپنے فن کے شیریں لمس سے انہیں دوبارہ زندہ کرنے لگتا ہے۔زمانہ جو میلوں،رونقوں اور ہنگاموں کا حاسد بنا اور انہیں برباد کر کے چھوڑا، اسی زمانے کی آنکھ پھر ان مناظر کو زندہ ہوتے دیکھتی ہے اور رشک کرنے لگتی ہے ۔ ناول نگار اس راکھ پر نظر جمائے ایسے جادو جگاتا ہے کہ مردہ لمحے اٹھ کر اپنے قدموں چلنے لگتے ہیں۔وہ محل مینارے، وہ گھر چوبارے، وہ چوک چبوترے، وہ گلیاں بازار جن کی گرد بھی وقت نے سنبھالی نہ تھی، اب فن کی نمود سے وقت کے ماتھے کا جھومر بن جاتے ہیں۔ ناول نگار تخیل کی کارفرمائی سے حقائق کے پاردیکھتا ہے ، واقعات کے پس پردہ بہتے جذبات کے سمندرکی طغیانی پر نظر رکھتا ہے، احساس کے مہکتے باغوں کی سیر کرتا ہے اور انہیں فن کے قرطاس پر یوں بکھیرتا ہے کہ راکھ سے امڈتے یہ الفاظ ہزار رنگ زندگی بن کر جھلکنے لگتے ہیں۔فن ایک ایسا منہ زور دھارا بن جاتاہے جس میں صدیوں کے صدہا ہیولے بہتے چلے جاتے ہیں۔ ناول نگار کا فن کسی ایسی سطح پر پہنچتا ہے تو ’’راکھ‘‘ جیسے ناول کا خیال سوجھتا ہے اور ناول نگار کا حوصلہ یہ سب سیمٹنے کا ہو تو ’’راکھ‘‘ جیسا ناول آغاز ہوتاہے۔


’’راکھ‘‘ کے ذکر کے ساتھ ’’بہائو‘‘ کا ذکر بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔ تارڑ صاحب نے اپنے ایک انٹرویو میں بھی کہا تھا کہ :
’’راکھ ، ’’بہائو‘‘ کا تسلسل ہے۔ ‘


’’راکھ‘‘ اور ’’بہائو‘‘ کی ظاہری مماثلتیں شعوری کوشش نظر آتی ہیں۔ راوی کا پانی ختم ہونے کا اعلان ناول کا ایک اضافی سا باب تھا۔ یہ اسے جوڑتا ہے ’’بہائو‘‘ کے ساتھ۔ دوسری طرف بہاولپور میں جہاں دریائے گھاگرا کے پرانے آثار ہیں ، وہاں ’’راکھ‘‘ کی پوری ٹیم کو بلاوجہ اٹھا کر لے جانا بھی محض اسی لیے ہے کہ ’’بہائو‘‘ کے ساتھ مماثلت بنائی جائے۔ تیسری کوشش مور کے ضمن میں کی گئی۔ مور جو ’’بہائو‘‘ کا ایک اہم کردار ہے، ’’راکھ‘‘ میں یوں ہی منہ اٹھاکے آ جاتا ہے۔ واضح نظر آتا ہے کہ ناول نگار اس عنصر کے ذریعے ’’راکھ‘‘ اور ’’بہائو‘‘ کو ملانا چاہتا ہے۔ لیکن نہ توبہاولپور میں رات کا جشن اور نہ ہی مور کی آمد ناول میں کوئی ضروری حیثیت رکھتے ہیں۔ مور تو اتنا غیر ضروری ہے کہ اسے دو دفعہ دکھانے کے بعد یوں ہی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ناول نگار اس سے کوئی کام لے ہی نہیں پا رہے تھے سو نوراں کی طرح اسے بھی مار دینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ یہ چیزیں دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ ناول نگار کے ذہن پر ابھی بھی ’’بہائو‘‘ سوار ہے اور وہ اس کے سحر سے نکل نہیں پا رہے ۔ دوسرے شاید یہ بھی ہے کہ انہیں ’’راکھ‘‘ کی بہت سی باتوں کی بے معنویت کا احساس ہے اور وہ اسے ’’بہائو‘‘ کے ساتھ جوڑ کر اس کی معنویت کے لیے ایک زاویہ بنانا چاہتے ہوں۔
غور سے دیکھا جائے تو ’’راکھ‘‘ اور ’’بہائو‘‘ میں بہت زیادہ فرق ہے۔’’بہائو‘‘ پر فن کی پابند نگاہ ہے۔ ’’راکھ‘‘ کو بہت کھلے ڈلے انداز میں شروع کیا گیا ہے۔ ’’بہائو‘‘ میں ہر لفظ احتیاط کا مظہر ہے جیسے دشمن کے علاقے چل رہے ہوں۔ ’’راکھ‘‘ اپنے ہی کھیتوں کی ٹہل قدمی کا تاثر ہے۔ ’’بہائو‘‘ نیزہ بازی کے گھوڑے سا نپا تلا دوڑتا ہے جسے بیانیہ پوری طرح رانوں تلے قابو میں رکھے ہے۔’’راکھ‘‘ میں رخشِ قلم دلکی چال سے چلتا جاتاہے جس کی باگیں سوار نے ڈھیلی چھوڑ رکھی ہیں۔ ’’بہائو‘‘ کسی ایسی کھلاڑی کی بیٹنگ ہے جو پہلی دفعہ ٹیسٹ میچ میں سنچری بنانے کے قریب ہو ، سنبھل سنبھل کر، ایک ایک گیند پر پوری طرح چوکس، پِچ، کریز، فیلڈر، بائولر، روشنی، امپائر، تماشائی سبھی پر پوری طرح نظر ، پورے بدن کی نسیں تنی ہوئیںاور ہر شاٹ کو مکمل ذمہ داری سے کھیلتا ہوا۔’’راکھ‘‘ اس کھلاڑی کی بیٹنگ ہے جو اپنے کیرئیر کی انتہا پر اور فارم کے عروج پرٹی ٹونٹی کھیل رہا ہے۔ تماشائیوں سے بے پروا، دھوپ سے بے نیاز، بائولر سے بے خطر، نظر صرف گیند کی نازک ادائوں پر ہے اور جب جیسے جی چاہتا ہے ، شاٹ کھیل لیتا ہے۔ چہرے پر مسکراہٹ، لبوں پر شرارت اور آنکھوں میں شوخی۔کھیل کا ہر لمحہ اس کے بدن کو فرحت دیتا ہے۔ انگ انگ میں مستی ناچ رہی ہے۔اسے معلوم ہے کہ وہ جلدی آئوٹ بھی ہو گیا تب بھی تماشائیوں کی نظر میں بھی اور سلیکٹرز کی نگاہ میں بھی اس کا مقام مستقل ہے۔ ’’بہائو‘‘ پہلے جملے سے پوری ذمہ داری کے ساتھ اس مرکزی نکتے کی طرف بڑھتا ہے جو ناول کا مرکز و محور ہے۔ ’’راکھ‘‘ کے پہلے بیسیوں صفحے صرف اس تیاری میں لگ جاتے ہیں کہ فلیش بیک میں جانا کب مناسب ہو گا۔ ’’بہائو‘‘ ماضی سے تعلق رکھتا ہے ، وہ زمانہ جو اَن دیکھا ہے، کہیں بھی چوک ہو سکتی ہے ، کسی بھی جگہ پائوں دھنس سکتا ہے، اس لیے ہر لفظ احتیاط سے لکھا گیا ہے۔ سنبھل کر ، پھونک پھونک کر اور گن گن کر۔ ’’راکھ‘‘ کھُلی آنکھوں دیکھے زمانے کی داستان ہے۔ اس میں تخیل کی رہنمائی کے لیے بہت کچھ موجودہے۔ مشاہدہ، مطالعہ، مذاکرات، میڈیا سبھی تخیل کے معاون ہیں، اس لیے تخیل کوآسانی ہے۔ نہ بھٹکنے کا ڈر ہے ، نہ پائوں رپٹنے کا ، نہ کہیں بیان غلط ہونے کا خوف ہے اور نہ ہی کوئی منظر بگڑ سکتا ہے۔ یہاں بیانیے نے کھل کر سانس لیا ہے۔ ’بہائو‘‘ کا ماحول کسی نے بھی حقیقت میں نہیں دیکھا۔ واقعات بھی تارڑ صاحب کی اپنی تخلیق ہیں۔ اس ناول کے عمل میں شریک ہونا قاری کے لیے امتحان ہوتا ہے۔ یہاں تخیل کو پوری طرح ناول نگار کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ اگر قاری کی تربیت اچھے ناولوں نے کر رکھی ہو تو ’’بہائو‘‘ لطف دیتا ہے ورنہ آدمی سرسری گزر جانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں’’راکھ‘‘ کا بیانیہ زود ہضم ہے، سامنے کے واقعات کو یا کم از کم تاریخ کے صفحات پر نقش واقعات اور حقیقی جگہوں کو پس منظر میں رکھنے سے قاری کو تخیل کے زور پر اس ماحول میں پہنچنا بالکل آسان لگتا ہے۔قاری اِن جانی پہچانی جگہوں پر رونما ہونے والے واقعات کو لطف سے پڑھتا جاتا ہے۔ یہ ناول قارئین کا وسیع حلقہ اسی لیے رکھتا ہے۔’’بہائو‘‘ کا بیانیہ زیادہ تر واقعات کے بیان پر انحصار کرتاہے۔ بیان ناول کے عمل کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ’’بہائو‘‘ نسبتاً مشکل ہے اور قاری کو ہر وقت اپنی آنکھ کھول کر متوجہ رہنا پڑتا ہے۔ جب کہ ’’راکھ‘‘ میں مکالمے آگے بڑھاتے ہیں۔ مکالموں کی وجہ سے ’’راکھ‘‘ میں دلچسپی زیادہ ہے اور اسے پڑھنا بھی آسان ہے۔ ’’بہائو‘‘ کا پلاٹ ایک نوجوان ایتھلیٹ لڑکی کے کسے ہوئے جسم کی طرح ہے جس نے ایک ایک لقمہ تول کر کھایا ہو اور ایک ایک قدم گِن کر ایکسر سائزکی ہو، جس کی چھاتیوں اور کولہوں کے متناسب کسائو اور سپاٹ پیٹ کو دیکھنے والی آنکھ میں جذبات کی دھیمی لَو جلنے لگے۔ ’’راکھ‘‘ کا پلاٹ ایک جوان بھرپور عورت کے جسم کی مانند ہے جس کا وزن اس کے اپنے جثے پر بھی بھاری لگتا ہو ، جس کی بے قابو چھاتیوں اور اتھرے کولہے اور گدرایا پیٹ دیکھنے والی نظر امڈتی شہوت کی شدت سے انگاروں پر لوٹنے لگے۔ ’’بہائو‘‘لکھتے وقت ناول نگار کا تخیل بیدار تھا اور سفر نامہ نگار کی آنکھ خوابیدہ۔ تخیل نے من مانی کی اور اجڑی بستی کے مناظر کو بھی فن کا ہفت رنگ گلزار بنا دیا۔کوئی منظر فالتو نہیں،نثر پوری طرح جچی تُلی ہے۔ ’’راکھ‘‘ میں ناول نگارسست ہے اور سفر نامہ نگار اس کے آگے آگے چلتا ہے۔ وہ سفرناموں میںہی دیکھی ہوئی جگہیں ناول نگاروں کو دکھاتا ہے اور ناول نگاراپنی نثر کی قوت کی بنا پر انہیں ناول کا حصہ بنا دیتا ہے۔ یہاں منظر کے منظر فالتو مل جائیں گے اور نثر کے حواس پر شاعری سے ملنے کاسودا سمایا ہو گا۔جملے کے جملے محض اس لیے ہیں کہ نثر میں غنائی آہنگ پیدا ہوورنہ بیانیے میں ان کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔’’بہائو‘‘ مارچ پاسٹ کرتا ایتھلیٹ ہے۔ لش پش کرتی یونیفارم میں۔پوری دنیا کے ناولوں کے درمیان چل رہا ہے، فنی اصولوں اور معیارات کا پورا خیال رکھتے ہوئے، ایک ایک قدم دوسروں کے ساتھ ملا کر رکھتا ہے اور ایک ایک حرکت نپی تلی ہے جب کہ ’’راکھ‘‘ گدڑی پہنے ایک مست ملنگ کی قلندری دھمال ہے۔ من و تو سے بے نیاز۔ اپنی ذات کے نہاں خانوں میں گُم ۔ بے پروا قدم کہاں پڑیں گے، یہ خبر نہیں۔پائوں پتھر پر پڑیں یا پانی پر، ایک جیسی دھول اٹھتی ہے۔ ’’بہائو‘‘ کا بیانیہ ایک ہی سمت میں چلتا ہے، نقطۂ آغاز سے نقطۂ اختتام تک۔ کہانی کا سفر ناول کے بیانیے کے ہمراہ آگے بڑھتا ہے جب کہ ’’راکھ‘‘ کا بیانیہ ماضی، حال دونوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے او ر کہانی کو پہلے نقطے سے آخری تک بتانے کی بجائے چومکھی لڑتا ہے۔ کہانی کا سفر کبھی کسی نقطے تک پہنچ جاتا ہے اور کبھی کسی اور جگہ پر۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ اس طرح کے بیانیے کو قابو میںرکھنا ناول نگار کا اصل امتحان ہوتا ہے ۔ پوری کہانی کو شروع سے آخر تک ذہن میں رکھ کر چلنا پڑتا ہے ورنہ ذرا سی بھول چوک سے واقعات کے تانے بانے میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ ’’بہائو‘‘ کا موضوع واضح ہے۔ جس زمانے کی کہانی ہے وہ زمانہ بھی یک سطحی معاشرتی طبقے کا ہے۔ اس کے مطاق اس کا بیانیہ بھی صراطِ مستقیم پر چلتا ہے۔ ۔واقعات کے ساتھ مسلسل آگے کا سفر قاری کو الجھاتا نہیں۔ اس کے برعکس ’’راکھ‘‘ کا موضوع پیچیدہ ہے۔ ایک ہی وقت میں چہار سو رونما ہونے والے واقعات کو گرفت میں لینے کی لپک ہے۔ تاریخ،معاشرت ،ثقافت، شہریات، (باقی بھی جتنے) کے ساتھ ساتھ مغربی پاکستان،مشرقی پاکستان کے سیاسی حالات تک اس کی رسائی ہے۔ یہ ناول جن پیچیدہ چیزوں کو گرفت میں لینا چاہ رہا ہے، وہ سیدھے سادے بیانیے کی گرفت میں لانا زیادہ طوالت کا متقاضی ہے۔ ’’راکھ‘‘ کی تعمیر ایسی ہے کہ ان سبھی چیزوں کو پکڑ لینے کے باوجود اختصار کی شعوری کوشش بھی نظر نہیں آتی اور کوئی پہلو تشنہ بھی نہیں رہ جاتا۔


’’راکھ‘‘ کی کہانی پاکستان کی کہانی ہے۔قیامِ پاکستان سے لے کر 1992تک کے تمام حالات اس کہانی کا پس منظر ہیں۔ کہانی 1947ء سے شروع ہوتی ہے جب مشاہد اور مردان کا خاندان گوالمنڈی سے اٹھ کر لکشمی مینشن آ جاتا ہے۔ یہاں مشاہد کا لڑکپن گزرتا ہے اور جوان ہوتے ہی مشاہد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ پہنچ جاتا ہے۔ وہاں سے ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر کے واپس وطن لوٹ آتا ہے۔ اس دوران اس کا چھوٹا بھائی مردان فوج میں بھرتی ہوتا ہے اور سقوطِ ڈھاکہ کا چشم دید گواہ بنتا ہے۔ وہاں قید سے بھاگتا ہے تو مہرالنساء نامی لڑکی کا ریپ ہونے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بچی ساتھ لے کر پاکستان آ جاتا ہے۔ شکست کا یہ زخم اس کی روح کا رستا ہوا ناسور ہے جو اسے عمر بھر چین نہیں لینے دیتا۔ ادھر مشاہد ناکتخدائی زندگی سے بیزار ہے اور سویڈن کی پاکستانی نژاد سیاہ فام لڑکی سے شادی کر لیتا ہے۔مشاہد کے دودوست ہیں، زاہد کالیا اور ڈاکٹر ارشد۔ ان دونوں کے ساتھ مشاہد کی زندگی گزر رہی ہے ۔ مردان کی لے پالک بچی شوبھا بڑی ہو کر میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔آخر پر چند ایک جذباتی صدموں کے ساتھ ناول کا انجام ہوجاتا ہے۔ناول کے بالکل آخر پر مردان ایک اندھی گولی کا شکار ہو جاتا ہے۔


ناول کے موضوعات بہت وسیع ہیں۔ تقسیمِ ہندوستان کے بعد لاہور کی ثقافتی زندگی کی تصویر کشی، فسادات کا احوال، عنفوانِ شباب کی جنسی زندگی ، انگلینڈ میں مقیم پاکستانی طالب علموں کا احوال ، پاکستان میں اقلیتوں کی زندگی کا رنگ سقوطِ ڈھاکہ ، ذوالفقار علی بھٹو کا عروج و زوال، ثقافتی جڑوں سے لاتعلقی، پاکستانی عوام کے وقتی ابال کا تذکرہ، کراچی کے لسانی و نسلی فسادات کے نتیجے میں عروس البلاد کی اجڑی مانگ کا نوحہ،بالائی علاقوں میں بڑھتی بنیاد پرستی، ادھیڑ عمرجوڑے کی جنسی نفسیات، سبھی اس ناول کا موضوع ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ناول ایک قدم آگے بڑھ کر عالمی سطح پر رونما ہونے والے تلاطم خیز واقعات کا احاطہ کرنے کی طرف بھی جست لگاتا ہے۔


یہ سبھی موضوعات ایک ناول میں سمونا مشکل لگتا ہے لیکن ناول کے پلاٹ نے یہ ممکن کر دکھایا ہے۔ ناول کا پلاٹ ناول کی کہانی سے زیادہ حسن رکھتا ہے۔وقت کے دورانیے کو تسلسل کی بجائے کہانی کی زمانی ترتیب کو توڑ کر من مانے ٹکڑوں کی شکل میں دکھانے سے تقریباً پچاس سال کی یہ کہانی ممکن ہوئی۔ ورنہ ناول جس قدر پہلو اپنے بطن میں سموئے ہوئے ہے، اس حساب سے ناول کی طوالت اِس سے تین گُنا ہوتی۔ تارڑ صاحب نے کہانی کو وہاں سے شروع کیا جہاں اختتام کے بالکل قریب ہے۔ وہاں سے گاہے گاہے کٹ کر کے واپس گزشتہ زمانوں کے قصے سناتے سناتے ،کبھی موجودہ لمحے میں، کبھی ماضی کی بھول بھلیوں میں چلتے ہوئے پوری کہانی کو بیان کرتے ہیں۔ واقعات کا انتخاب من مانا ہے اور بہت تھوڑے واقعات سے تارڑ صاحب نے پوری کہانی سناد ی ہے۔


پلاٹ کے حوالے سے دو باتیں کھلتی ہیں۔ اول تو پلاٹ کوپوری طرح بامعنی بنانے پر توجہ نہیں دی گئی۔ بہت سے واقعات ایسے ہیں جو پلاٹ میں نہ بھی ہوتے تو پلاٹ پر فرق نہ پڑتا۔ مثلاً زاہد کالیے کی دونوں پارٹیاں ناول میں بے معنی رہیں۔مشاہد اور مردان کا گائوں کا سفر اور ہلکی کا ذکر اضافی ہے۔نوراں والے حصے فالتو لگتے ہیں۔ نازنین اور عارفین کا پورا حصہ مکینیکل سا ہے۔بیرونِ ملک مسز حسین کا ملنا ایک اتفاق ہے اور ناول کو کوئی حسن نہیں دیتا۔ بکو اپنے جس بیٹے کو ساتھ لے کر آتا ہے، اس کے قتل کا ناول میں ذکر بے معنی ہے کہ وہ قتل ناول کے عمل کے باہر واقع ہو گا اور ناول کے اندر اس کا تذکرہ کرنابنتا ہی نہیں۔ناول میں ایک جگہ بہاولپور میں دعوت ہے۔جس طرح تمام کرداربہاولپورپہنچے، کسی اچھے ناول میں اگر سبھی مرکزی کردار یوںاکٹھے ہو جائیں تو بہت ہی اہم واقعہ رونما ہوتا ہے۔ لیکن یہاں تارڑ صاحب نے محض اپنی شعبدہ گری دکھانی تھی۔ جب سب اکٹھے ہو گئے تو اول تو دریائے گھاگرا کے کنارے پرانی معدوم بستی کے گھگھو گھوڑے نظر آئے اور دوسرے، آسمان سے آلوچوںکے شگوفے گرے۔جیسے یہ کوئی اتنا بڑا وقوعہ تھا جس کا نظارہ کرنے کے لیے زاہد کالیا اسلام آباد سے، ڈاکٹر ارشد بٹ خیلہ سے، مشاہد اور برگیتا لاہور سے او ر مردان اور شوبھا کراچی سے وہاں پہنچے۔ دوم، پلاٹ میں کچھ جگہیںایسی ہیں کہ باقاعدہ فلمی قسم کے اتفاقات نظر آتے ہیں۔ کامونکی کا چوڑھا ’بکو ساہ پکا‘بار بار گھوم کے ناول میں آ جاتا ہے جیسے پورے پاکستان میں ایک ہی چُوڑھا رہ گیا ہے۔یوں لگتا ہے کہ ڈڈو چارجر ہے جو کسی بھی کردار سے لگ کر اس کو بامعنی بنا دے گا۔ شوبھا ،جنرل’ صاحب کمال‘ کی بیٹی ہے یہ اتفاق بھی فلمی انداز رکھتا ہے ۔ حالانکہ صاحب کمال کی بیٹی ہو یا نہ ہو، شوبھا کی زندگی پر یا حتیٰ کہ ناول پر بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ناول کے آخر میں جب مشاہد شاہ عالمی مندر کے گرنے سے دھکا لگنے پر دور جا گرتا ہے ، ٹانگیں فریکچر ہو جاتی ہین اور فاطمہ اسے اٹھانے آتی ہے تو مشاہد کی اس کے ساتھ طویل خوابناک گفتگو بالکل بے محل ہے اور سستی انڈین فلموں کے بارہا دیکھے اس منظر کی یاد دلاتی ہے جب فلم کے آخر پر ہیرو کا با پ سینے پر گولی کھا کر گرتا ہے اوربرستی گولیوں کی بارش کے دوران بھی ہیرو کو طویل پند و نصائح کر نے لگتا ہے۔ مشاہد بھی اسی طرح کے رقت انگیز مکالمے ادا کرتا ہے ، جو بالکل بے موقع لگتے ہیں ۔ وہ پلاٹ میں ترتیب کی بجائے ناول کو دلچسپ بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ واقعات یا کردار منطقی نہ رہیں،انہیں پروا نہیں، بس دلچسپی قائم رہے۔ قاری کے لیے تحیر کا سامان پیدا ہوتا رہے ۔ اس کے لیے وہ کچھ بھی کرد یتے ہیں۔ شادی کی اتنی مدت بعد برگیتا کا مشاہد کو چھوڑ کر بکو ساہ پکے کے پاس چلے جانا ایسا ہی لایعنی عمل ہے جس کو صرف کردار میں ذرا پیچیدگی دکھانے کے لیے دکھایا گیا ورنہ برگیتا کے کردار میں بکو ساہ پکے کے لیے ایسی کوئی گنجائش پہلے دکھائی ہی نہیںگئی تھی۔


تارڑ صاحب نے اس ناول میںبہت سی ایسی چیزوں کا ذکر کیا ہے جو یکسر ناول کے باہر کی دنیا سے لی گئی ہیں۔ حقیقی دنیا کے کردار ناول میں لائے جا سکتے ہیں۔ اس میں ممانعت نہیں لیکن حقیقی دنیا کے کردار کو صرف مثال یا حوالے کے طور پر پیش کرنا عجیب لگتا ہے۔ مثلاً سمیع آہوجا پر ہونے والے ساواک کے تشدد کا ذکر۔ شروع میں براہِ راست، آخر پر ایک جگہ بالواسطہ۔ سلجوق دی آرکیٹیکٹ کا حوالہ دیا گیا جو ناول کی حد تک نامعلوم آدمی ہے ۔پھر لاہور کے متعلق کے کچھ بتاتے ہوئے ناول نگار کا رویہ پیشہ ور گائیڈ جیسا ہو جاتا ہے۔ ایک جگہ اندرون لاہور کی منظر کشی کرتے وقت قرۃ العین حیدر کے ساتھ مصنف کا اپنا مکالمہ درآتا ہے:


’’قرۃ العین حیدر اپنے رکھ رکھائو میںبہت محو اور بہت بظاہر بے پروا ایک گلی میں جھانکتی ہیں:’’ارے یہ تو بالکل لکھنئو کی طرح ہے۔‘‘
’’صرف ایک فرق کے ساتھ عینی آپا…‘‘
’’وہ کیا ؟‘‘ عینی آپا کی تیوری چڑھ جاتی ہے۔
’’لکھنئو۔ کب کا اجڑ چکا۔ لاہور آباد ہے۔ ‘‘
عینی آپا شاید ری ایکٹ کرنا چاہتی ہیں ، پھر اوپر تنگ بازار کے اوپر آسمان کے ایک مختصر ٹکڑے کو دیکھتی ہیں:’’مے بی یو آر رائٹ۔‘‘ص:316
آغا حشر کاشمیری کا ذکر آیا تو اس کے متعلق ایک ماہر گائیڈ کے رٹے رٹائے جملے دہرا دیے گئے۔
’’تو اب جیسا کہ آغا حشر کے ڈراموں میں بدلتا ہے تو منظر بدلتا ہے۔
یہ وہی آغا صاحب ہیں کہ اگر آپ چوک مزنگ سے چوبرجی کی جانب سفر کرتے ہیں، آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے اہلِ وطن بھی ایک بھگدڑ کے عالم میں سفر کرتے ہیں تو رکتی اور بمشکل بحال ہوتی ٹریفک کی غلیظ دلدل میں اپنے آپ کو شدید گرمی میں کوستے ، یعنی اگر گرمیوں کا موسم ہے تو جب آپ میانی صاحب قبرستان کی گزرتی قبروں کو دیکھتے ہیں تو وہیں ایک لوح پر موصوف کا نام دیکھتے ہیں۔ اورنقل کتبہ کتبہ باشد…
مزار پر انوار جناب آغا سید محمد شاہ صاحب
المعروف انڈین شیکسپئیر حضرت آغا کاشمیری
-28اپریل 1935ء۔‘‘ص:392


آگے کتبے پر لکھی پوری نظم بھی نقل کی گئی ہے۔ یہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ وہاں آغا صاحب کا ذکر کرنے کی بھی کوئی تُک نہ تھی۔ ایک اور جگہ تو یہ انداز بالکل عامیانہ ہو جاتا ہے۔ راوی کے بہائو کی بات چلی، ساتھ ہی مشاہد کو شاہ عالمی کی آگ کا منظر یا د آیا اور پھر کردار کی بجائے لاہور کا گائیڈ بولنے لگتا ہے:


’’جب بھی لاہور کا آسمان شفق رنگ ہوتا… اک دن رہیں بسنت میں…بسنت رات لاہور کی چھتیں۔ ممٹیاں اور برج ایک پر شور شدت کے ساتھ روشن تھیں۔شہر کے چار چوفیرے سرکلر روڈ پر گھومتے ہوئے کوٹھوں اورمکانوں پر نظر رکھتے ہوئے جب آپ سفر کرتے تھے تو ان پر ہزاروں سفید پتنگیں اور گڈے بے بسی سے شانے ہلاتے نظر آتے تھے۔ پرانی حویلیوں پر…ان کی چوڑی اور کچی چھتوں پر اداکار ، سیاست دان، سفارت کار…ڈھول اور روایتی کھانے اور ہا بو کاٹا… بے پروا… لاپروا…بو کاٹا… شاہ عالمی ، نیرو کا روم اور بسنت رات…۔‘‘ص:531
یہ بیان ناول کے بیانیے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا اور بالکل ایک الگ تھلگ ٹکڑے کے طور پر نظر آرہا ہے جو لاہور کے مداح ایک عالمی سیاح کے قلم سے بے ساختہ ٹپک پڑا ہے۔
ناول کے کردار دیکھے جائیں تو مشاہد ، مردان اور برگیتا مرکز میں ہیں۔ ذیلی کرداروں میں زاہد کالیا ، ڈاکٹر ارشد، شوبھا قابلِ ذکر ہیں۔ تارڑ صاحب کے پاس زندہ کرداروں کی ہمیشہ بہتات رہی ہے۔ کسی ناول میں ان کے کردار دہرائے نہیں جاتے۔ ہردفعہ نیا کردار لے کرآتے ہیں جس سے لگتا ہے کہ ان کا اپنی ارد گرد کی زندگی سے بہت گہرا تعلق ہے۔ ’’راکھ‘‘ میںبھی یہ کردار بہت سے ہیں۔ بیگم بابر، نازنین، عارفین، بشیر بیٹ مین ، صاحب کمال، سی ڈی حسین، بکو ساہ پکا، پاپا راڈنی، مشائلہ، خالد کوکی، بابو پٹیل، فاطمہ، کرسٹین، ارسلا، مسز برٹن، شوکت ہینڈ سم، رحمان گُل،اظہار الحق، دائود، مسٹر اینڈ مسز حسین، نوراں، بابا نذیر، سبھی اپنی اپنی جگہ منفرد کردار ہیں۔البتہ اس ناول میں کوئی کردار ایسا نہیں جو ابھر کر نمایاں ہوتا ہو اور سب کے درمیان نمایاں حیثیت حاصل کر لیتاہو۔ سبھی کردارو کو جوڑنے والی تار مشاہد کے پاس ہے لیکن وہ بڑا مجہول سا کردار ہے اور مصنف کے ہاتھ میں ایسی کٹھ پتلی کہ جب جی چاہے ، جدھر خواہش ہو، ادھر موڑ لیا جاتا ہے۔ یہ ایک محدود حد تک لبرل شخص ہے جو نظریاتی طور پر لبرل ہونے کی بجائے صرف اس لیے لبرل ہے کہ اسے لبرل ماحول میں رہنے کا موقع ملا۔انگلینڈ سے واپسی پر 1960ء میں ہوئی۔ اس کے بعد برگیتا سے شادی اندازاً 1987میں ہوئی(صفحہ 326سے 333تک دو شواہد ایسے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ انگلینڈ سے واپس آئے مشاہد کو دو سال ہو گئے ہیں ۔اس لحاظ سے برگیتا 1962ء میںپیدا ہوئی اور جب اس کی عمر پچیس سال ہوتی ہے تب مشاہد اسے پروپوز کرتا ہے۔)اس طویل دورانیے میں کوئی تفصیل نہیں ملتی کہ مشاہد کی زندگی کیسی گزری، اس کی جنسی زندگی کا رُخ کیسا رہا۔دسمبر1971ء میں مسز حسین اسے ملنے آئی جس کا غائبانہ تذکر ہ ہے اور دوسری دفعہ بھٹو کے قتل کے موقع پر وہ سوئزر لینڈ میں مسز حسین سے ملتا ہے۔ ان دو مواقع کے علاوہ مشاہد کی زندگی مکمل اندھیرے میں رہی ۔ناول کے شروع میں مشاہد کی جس جنسی زندگی کاذکر کیا گیا تھا ، وہ ستائیس برس کی مدت تک کہاں گزری؟اس کا ذکر تک نہیں۔ اگر وہ جنسی زندگی ارسلا یا کرسٹین تک ہی محدود تھے اور پاکستان میں ستائیس سال تک اس نے کوئی جنسی تعلق نہیں بنایا تو اس کی جنسی سرگرمیوں کے متعلق شروع کے دعوے تو بے بنیاد ہی رہے۔ پھر ستائیس سال بعد اچانک برگیتا سے شادی کا فیصلہ، بالکل پہلی نظر دیکھتے ہی، خود مشاہد نے یقینا نہیں کیا ہوگا بلکہ ناول نگار نے طے کی اوہ ایک جوان عیسائن کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر مسلمان کی شادی ایک چونکا دینے والی شادی بن سکتی تھی اور ناول میں تھوڑی حیرت ،تھوڑی دلچسپی کا سامان پیدا ہوسکتا تھا ورنہ مشاہد جو ستائیس سال سے کسی عورت کی طرف متوجہ ہوا ہی نہیں، کیسے ایک ہی لمحے میں شادی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ اس شادی کے بعد بھی مشاہد کی زندگی تقریباً ٹھُس ہے۔کوئی قابلِ ذکر بات نہیں۔ صرف چار چیزیں ہیں جو اسے دسمبر میں اپنی طرف بلاتی ہیں۔مجموعی طور پر مشاہد ایک ایسا کردار ہے جو کردار ہے ہی نہیں۔ محض ایک پرچھائیں ہے۔ یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ تارڑ صاحب کی اپنی آنکھ ہے جس کے ذریعے وہ ناول کے پورے عمل پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے جذبات میں گہرائی نہیں، اس کے احساسات نمائشی ہیں ۔ انگلینڈ میں نہر سویز پر حملے کی ویڈیو دیکھنے کے بعد ارسلا کے ساتھ بستر پر اس کی نامردی محض ایک فنکارانہ کرتب ہے ورنہ اس کی شخصیت میں نہ اس سے قبل اور نہ اس کے بعد عالمِ اسلام اور مسلم امہ کا اتنا درد نظر آتا ہے جو ایک سترہ سالہ نوجوان کو ایک بھڑکتی ہوئی عورت کے سامنے ٹھنڈا کر دے۔ آگے چل کر مسز حسین سے مکالمہ کرتے ہوئے سقوطِ ڈھاکہ کے متعلق کہتا ہے:’’مجھ ایسے بے شمار لوگ ہیں جن کے تن بدن پر یہ حوالہ کھُدا ہوا ہے۔ ‘‘ص:468


یہ بات محض ایک دعویٰ ہی ہے۔ اس جملے کے علاوہ نہ کہیں اس کی سقوطِ ڈھاکہ کے ساتھ جذباتی وابستگی نظر آتی ہے اور نہ ہی اس نے کبھی کسی قومی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔اس کے قومیت اور عالمی اسلامی برادری کے خیالات جو ناول میں ذرا کی ذرا دیر پیش ہوئے ، نمائشی ہیں۔
مردان کا کردار کسی حد تک منفرد رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔دسمبر1971ء میں مشرقی پاکستان پوسٹنگ کے دوران اس کی روح پر ایسا صدمہ گزرا کہ و ہ مرتے دم تک اس سے نجات نہ پا سکا۔ شکست کے فوراً بعد اس نے استعفیٰ دے دیا۔ آخر تک وہ زمین پر ہی سوتا رہا اور دسمبر کی شرمندگی سے پانی ہوتا رہا۔یہ کردار بھی پوری طرح پنپ نہیں سکا۔ 1971ء کے بعد 1992ء تک محض سکول میں بچے پڑھانے، شوبھا کی پرورش کرنے اور بڑے بھائی کے ساتھ ’’حیران پریشان‘‘ دو چار مکالموں کے علاوہ اس کی کوئی زندگی نہیں۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کا پورا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر رکھے وہ نامرد ہوچکا ہے۔ بنگال میں گزرے اس کے دن تارڑ صاحب نے فارمولے کے مطابق بتائے۔ بیگم بابر کے گھر کلب ٹائپ زندگی، کھلنا بیرکس کا واقعہ(جو اتنا مشہور ہے کہ اخباری لگتا ہے) ساتھی افسران کی قتل و غارت کے سوا اس میں کچھ بھی نہیں ، بنگال کے حقیقی رنگ نہیں۔ بنگال کا کوئی احساس نہیں۔ آخر پر مردان کا فرار ، پھر گرفتاری اور دوبارہ فرار اور اس کے بعد بنگلہ دیش جانا، شوبھا کو لینا اور واپس پاکستان آنا فلمی سا لگتا ہے ۔خاص طور پر یہ بات قابلِ غور ہے کہ مردان انڈیا سے فرار کے بعد واپس بنگلہ دیش کیوں گیا؟ اگر شوبھا نہ ملتی جس کے ملنے کی اسے خبر تک نہ تھی ، اندازہ تک نہ تھا، تو اس کے وہاں جانے کا جواز کیا تھا۔ اگر اسے مہرا لنسا سے محبت ہوتی (جس کا پہلے ذکر تک نہیں کیا گیا۔ زمانہ حال میں جوان شوبھا کو اس کے متعلق تو بتایا گیا لیکن فلیش بیک میں بنگال کے دنوں کی کہانی سناتے وقت اس مہرالنسا کا ذکر تک نہیں ہے )تو وہ سقوط کے وقت بھاگتے ہوئے 250کلومیٹر دور سندربن نہ پہنچتابلکہ مہر النسا کے گھر ہی جاتا۔ یوں لگتا ہے کہ تارڑ صاحب نے طے کیا ہوا تھا کہ ایک کردار ایسا رکھنا ہے جو پاکستان آرمی کے جنسی جرائم کا نتیجہ ہو اور پاکستان میں رہتا ہو تو وہ مردان کو خاص طور پر تکلف سے بنگلہ دیش لے گئے اور وہ نوزائیدہ بچی کو پاکستان لے آیا۔(اس بات کی وضاحت نہیں ملتی کہ وہ کس طرح کامیابی کے ساتھ بنگلہ دیش سے انڈیا، پھر انڈیا سے پاکستان تک اس نوزائیدہ بچی کولا پایا۔آخر اتنا طویل سفرپیدل طے کیا گیا، وہ بھی چوروں کی طرح چھُپ کر تو ایک ننھی کلی کے لیے زندہ رہنا کیسے ممکن ہوا۔ )پھر یہ بھی نہیں بتایا کہ لاہور میں اپنا گھر ہوتے ہوئے مردان علی نے اپنی رہائش مستقل طور پر کراچی کیوں رکھی؟ (شاید مصنف چاہتے ہوں گے کہ ناول میں کراچی کے حالات کا تذکرہ بھی آ جائے تو ناول کا کینوس ذرا وسیع ہو اور قاری کے لیے دلچسپی کا سامان زیادہ ہو۔مردان نے ان کی اس خواہش کا احترام کیا ہوگا ورنہ مردان نے تو کہیں بھی کراچی کے ساتھ کسی قلبی یا جذباتی تعلق کی بات ہی نہیں کی۔)یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ بیٹ مین بشیر کہاں سے آ گیا؟ بنگال میں تو اس کا ذکر تک نہیں ہوا۔ کراچی میں یہ اطاعت گزار کروبیاں کی طرح ان کا ملازم کیسے بنا ہوا ہے۔ آخر تک آتے آتے مردان ناول میں اس قدر بے معنی ہو گیا تھا کہ اس کا کوئی مصرف سمجھ نہ آ رہاتھا۔ آخر کار ایک اندھی گولی سے اس کا تمت بالخیر لکھنے میں عافیت سمجھی گئی۔ ہوتی آئی ہے کہ ناول نگار جس جگہ کردار کے حوالے سے مخمصے کا شکار ہو جائیں،اس کی کچھ سمجھ نہ آرہی ہو، تو اسے کسی حادثے کا شکار بنا کر ناول سے نکال دیتے ہیں۔


برگیتا کے کردار پر بھی محنت نہیں کی گئی۔ آئیڈیا اچھا تھا کہ کامونکی کے چوڑ ے کی بیٹی سویڈن میں پلے اور پھر مشاہد کے ساتھ اس کی شادی ہو لیکن صرف کردار کی بائیو گرافی ہی اہم نہیں ہوتی۔ اس کے اندر بھی اترنا پڑتا ہے۔ اور برگیتا کے اندر کیا ہے، اس کو سمجھنے کی ذرا کوشش نہیں کی گئی۔پورے ناول میں لبرل بیوی کے طور پر ساتھ رہی۔ ایک دفعہ اس نے غیر متوقع قدم اٹھایا لیکن فوراً واپس آ گئی۔ اس کردار کے کسی امکان کو نہیں دیکھا گیا۔ ناول نگار کا شاید یہی خیال تھا کہ وہ اپنے پس منظر کی بنا پر ہی دلچسپی کا سامان بن جائے گی سو اس پر مزید توجہ دی ہی نہیںگئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مشاہد علی کی بیوی، برگیتا، اپنے ماضی کو چھوڑ کر، کسی بھی قسم کی کرداری خوبی کی مالک نہیں۔
مرکزی کرداروں کے بعدزاہد کالیا سب سے جاندار ہے ۔ اس ناول کو پڑھنے والے اس کی ٹرانس میں آ جاتے ہیں۔ کھُلا ڈُلا ذہن، یار باش آدمی، دولت کی پروانہ کرنے والا اور گندھارا آرٹ کا سب سے بڑا سمگلر۔ اس کی بے ساختہ گفتگو لبھاتی ہے۔ سمگلنگ کے حوالے سے اس کا نظریہ اور جذبات قابلِ قدر لگتے ہیں۔ یہ دردِ دل رکھنے والا آدمی ہے۔تاریخ اور ثقافت کے متعلق اس کے خیالات بہت اعلیٰ ہیں۔اس کردار میں کسی قدر جاذبیت پیدا ہوجاتی ہے۔ لیکن شاید ناول نگار کے ذہن کے نہاں خانوں میں کہیں یہ خیال تھا کہ زاہد کالیا اپنے منفی کرتوتوں کی وجہ سے قارئین کے دِل میں وہ مقام حاصل نہیں کر پائے گا جو اس کا حق بنتا ہے تو آخر پر اسے مشرف بہ اسلام کر دیا گیا۔ خواہ مخواہ اسے صراطِ مستقیم کا مسافر ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ وہ مشاہد کو اپنی کوٹھیوں کے تہہ خانوں میںبھرے نوادرات دکھا کر کہتا ہے کہ وہ سمگلر ضرور ہے لیکن سمگلنگ نیک مقصد کے لیے کرتا ہے۔ وہ گندھارا آرٹ کو بیچ کر دنیا بھر کے نیلام گھروں سے مسلم آرٹ کے نمونے خریدتا رہتا ہے۔ مسلم آرٹ کا نمونہ جہاں سے ملا، جتنے کا ملا، اس نے خرید کر اپنے پاس رکھ لیا۔ یوں تارڑ صاحب نے اس کی عاقبت سنوارنے دی اور عمومی ذہنیت کے قاری اس کی حمیتِ دینی پر اش اش کر اٹھتے ہیں۔زاہد کالیے کو جدید زمانے کا سلطانہ ڈاکو بھی کہا جا سکتا ہے۔جب زاہد یہ سب کچھ بتا رہا ہوتا ہے تو اس سے خاصی ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔جب و ہ بچگانہ انداز میں ہچکی بھرتا مشاہد سے پوچھتا ہے:


’’یہ میری نجات ہے شاید…روزِ قیامت میں نے بھی تو جواب دینے ہیں، اپنی کرتوتوں کے… اپنی اس غیر قانونی زندگی کے… یہ میراجواب ہو گا…میں نے اس کا سامنا جو بکھرا ہوا تھا غیر مسلموں کے پاس تھا، جمع کیا ہے…آئندہ نسلوں کے لیے… مشاہدی میں بخشا جائوں گا ناں۔‘‘ص:554


تو جی چاتا ہے کہ اسے گلے سے لگا کر اس کے آنسو پونچھ کے کہیں:’’’’اب رلائے گا کیا؟‘‘
کالیا کے ساتھ قارئین اور مصنف کی ہمدردی اپنی جگہ لیکن کالیا کا یہ آخری عمل محض نمائشی ہے جسے مصنف نے صرف اس کا مثبت پہلو سامنے لانے کے لیے دکھایا ہے۔ کالیا نے درحقیقت ان نوادرات کی حفاظت کا بندوبست نہیں بلکہ انہیں برباد کرنے کا کام کیا ہے ۔کالیا سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ پاکستان سے زیادہ نوادرات کی ناقدری کہیں نہیں ہے اور پھر بھی وہ ان نوادرات کو یہاں لے آیا ہے۔ اوپر سے انہیں نہ کسی وقف کے سپرد کیا ، نہ اپنی ہی کوئی نمائش گاہ بنائی جہاں یہ محفوظ رہ سکیں۔رکھا بھی تو چھپا کر، کسی کو بتایا تک نہیں۔اب اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلنا ہے کہ جب کالیا مرے گا تو یہ سب نوادرات کسی بے قدرے کے ہاتھوں تباہ ہو جائیں گے۔ یہ زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہنے کے۔ کالیے کے دنیا سے منہ موڑتے ہی صفحۂ ہستی سے ناپید ہو جائیںگے جب کہ اگر یہ یورپ وغیرہ میں رہتے تو کسی میوزیم میں یا کسی شوقین کے گھر مدتوں محفوظ رہ سکتے تھے۔شاید تاقیامت۔ سو تارڑ صاحب نے کالیے کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی جو کوشش کی ہے، وہ صرف اسے ایک احمق اور عاقبت نا اندیش ثابت کرتی ہے۔


تارڑ صاحب کے لیے کسی کردار کا بیک گرائونڈ اہم ہوتا ہے۔ اور عام دنیا کے لوگوں سے جتنا وکھرا ہو، اتنا ہی انہیں متوجہ کرتا ہے۔ وہ اس بیک گرائونڈ کو پوری مہارت سے ناول میں بیان کرتے ہیں۔لیکن اس سے آگے جانے سے انہیں دلچسپی نہیںہوتی۔ کردار کی جذباتی زندگی جو اُس کا حال ہے، وہ پیش نہیں کر پاتے۔یوں کردار ایک ایسا آئینہ بن جاتا ہے جس کا زرنگار تو بہت عمدہ ہوتا ہے لیکن اس کے سامنے کوئی عکس نظر نہیں آتا۔ان چار کرداروں کے علاوہ جتنے کردار آئے ہیں، وہ محض نام کے کردار ہیں۔بیک گرائونڈ کے لحاظ سے وہ بہت شاندار لوگ ہیں لیکن اب اُن کا کوئی عمل نہیں اور ناول میں بھی وہ کوئی اہم کردار ادا نہیں کرتے۔ بیگم بابر اور ان کی دو بیٹیوں کا ہونا بے سود رہا۔ آخر بیگم کو مار کر اس کی بیٹیوں کو مزید ترس انگیز بنایا گیا لیکن وہ خود فوکس میں نہ آنے سے کسی قسم کا احساس بیدار کرنے سے قاصر رہیں۔ڈاکٹر ارشد اپنی جگہ ایک چپ کردار ہے جسے شاید صرف قادیانی مسئلہ اجاگر کرنے کے لیے ناول کے دھارے میں شامل کیا گیا ہے۔ (آخر قادیانی مسئلہ پر بھی خاص لبرل اور انسان دوست طبقے کی دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔)نوراں کا کردار بہت بے معنی رہا۔ پہلی دفعہ سامنے آئی تو اپنے ماضی پر رقت پیدا کرانے کے لیے۔ (وہی بیک گرائونڈ والا معاملہ)اس کے بعد اس کا کوئی مصرف نہ رہا۔ آخر 25سال بعد برگیتا سے شادی کے موضوع پر بات کرنے کے لیے کام آئی۔ یہ بات بھی نہ ہوتی تو کچھ فرق نہ پڑتا۔ آخر پر نوراں گمنام موت مر گئی۔ اس کا مرنا بھی بے مصرف رہا۔ رقت کیا، ترس بھی پیدا نہ کر سکا۔کُل من علیھا فانّ۔ خالد کوکی محض تفریح کی حد تک تھا، تفریح تک ہی محدود رہا۔ انگلینڈ کے بعد اس کا ایک ہی ذکر ہوا۔ جب اس کے گھر بھٹو دیکھا گیا۔ وہاں خالد کوکی کی جگہ الف، بے، جیم کوئی بھی ہو سکتا تھا۔بکو ساہ پکا، سی ڈی حسین اتفاقات کی ریل چلاتے رہے اور پوری کوشش کے باوجود حیران بھی نہ کر سکے۔ کوئی چھوٹے کردار تو ایسے ہیں کہ ناول نے انہیں یکسر نظر انداز کیے رکھا۔ ان میں خاص قابلِ ذکر مشاہد کی باجیاں ہیں جو صرف چُوڑھی بیوی جیسی بد نصیبی پر رونے کے کام آتی ہیں۔ درا صل ان کا رونا ، مشاہد کی لبرل سوچ دکھانے کے لیے ہے کہ اس نے اتنی مخالفت کے باوجود عیسائی لڑکی سے شادی کر لی۔ حالانکہ اِن باجیوں کے سامنے آئے بغیر ان کی غائبانہ مخالفت میں وہ طاقت ہی نہیں آ سکی جو یہ مقصد پورا کر سکتی۔ مشاہد کی امی ’آپا جی‘ بھی ایک غائب کردار رہیں اور ابا جی، چودھری اللہ داد بھی۔ بوڑھا جم کاربٹ جس کا ذکر ص:18پہ خاص طور پر کیا گیا ، دوبارہ نظر ہی نہ آیا۔ مردان کی بیرک سے ملحقہ بیرک میں جو دو بنگالی عورتیں آ کر چھپی تھیں، وہ ناول کے منظر سے معدوم ہی ہو گئیں۔ ان کا کہیں دوبارہ ذکر نہ ہوا۔ یوں لگتا ہے ناول ختم ہو گیا لیکن وہ دونوں ابھی بھی وہیں بیٹھی ہوئی ہوں گی۔ان سب کرداروں کو مدِ نظر رکھا جائے تو تارڑ صاحب کی کردار نگاری بہت کمزور نظر آتی ہے ۔تارڑ صاحب کردار تو منفرد طرز کے لے آتے ہیں لیکن انہیں ایک ناول کے مجموعی کُل کے اندر کس طرح متحرک دکھانا ہے او ر بامعنی بنانا ہے، اس طرف وہ توجہ نہیں دیتے۔ یوں وہ کردار اپنے طور پر دلچسپ ہوتا ہے، معنی خیز ہوتا ہے لیکن ناول کے اندر بالکل بے معنی ہوتا ہے۔
کردار نہ زندہ ہوئے اور نہ ہی ان کا کوئی بہترین مصرف نظر آیا۔ ایسے بے جان اور بے فائدہ کردار کسی ناول کو کیا اعتبار دے سکتے ہیں۔


اس ناول میں سوالات بہت سے اٹھائے گئے ہیں اور تاریخ اور پاکستانیت کے حوالے سے ایک متوازن نقطۂ نظر دیا گیا ہے۔ ناول نگار نے اس سوال کو کئی بار چھیڑ اہے کہ ہسٹری میں اینڈ رزلٹ کیانکلتا ہے اور خود ہی وضاحت کرتے ہیں کہ صفربرابر ہے صفر کے۔مرڈر شیل بریڈ مرڈر۔ اس کے علاوہ مستنصر نے Spur of the movementکا بھی خیال پیش کیا۔ تمام پاکستانی قوم لمحے کے ابال میں کوئی تاریخی قدم اٹھا لیتی ہے۔ اس کے بعد بھول جاتی ہے۔ یہیں تارڑ نے بتایا کہ ایک وہ تاریخ ہے جو ہمیں نرسری تک پڑھائی جاتی ہے اور ایک دوسری تاریخ ہے جس کے بارے میں ہمیں لاعلم رکھاجاتا ہے اور اگر کوئی اس تک پہنچنے کی کوشش کرے تو اسٹیبلشمنٹ اس کی مخالف ہوجاتی ہے۔ اسی وژن کے ساتھ کچھ ایسے جملے وسیع تر تجربے کے عکاس ہوتے ہیں۔


’’دسمبر تو ہم پاکستانیوں نے کتنی ڈھٹائی اور ریت میں سر چھپا کر برداشت کیا ہے۔‘‘ ص:59


’’سب لوگ جو کہتے ہیں، ہمیشہ سچ نہیں ہوتا۔‘‘ص:109


’’ہر انسان موجودہ ہوا او ر زمانے سے پرے ہونا چاہتا ہے۔‘‘ص:142


’’انسان کو مکمل تہذیب یافتہ کہلانے کے لیے کیا کیا بکھیڑے کرنے پڑتے ہیں۔‘‘ص:252


’’اپنے وطن میں ہم ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور دوسروں کی زمین کے لیے ہم ہتھیار اٹھا لیتے ہیں۔‘‘ص: 358


’’انسان صرف اس روز مکمل ہوتا ہے جب وہ اپنے کسی عزیز کی لاش دیکھتا ہے۔‘‘ص:363


’’انسان ایک قید میں ہے… اپنے مذہب اور وطن اور اخلاق کی قید میں ہے اور بے بس ہے، وہ کچھ بھی کرلے ، کہیں بھی چلا جائے ان سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتا۔‘‘ص:556


تارڑ صاحب زندگی کا وسیع تجربہ رکھنے کی وجہ سے انسانوں کی نفسیات سے خاصی آگاہی رکھتے ہیں۔ ایک ناول نگار نفسیات کو سمجھے بغیر ناول مکمل کر ہی نہیں سکتا۔ پورے ناول میںکرداروں کی نفسیات کا مطالعہ اپنی جگہ الگ تحقیق کا موضوع بنتا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی تارڑ صاحب نے ناول میں بعض جگہوں پر مختلف قسم کے لوگوں کی نفسیات بیان کی ہے۔شروع میں ہی شکاری کی نفسیات کو بہت عمدہ طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔ ناول میں ایک جگہ جنس کی نفسیات خوبصورتی سے دکھائی ہیں۔(ص:221۔ )ایک جگہ پر نودولتیوں کی ذہنیت کی عکاسی ان لفظوں میں کی ہے:
’’جو لوگ اپنے زورِ بازو سے شدید جدوجہد کے بعد اپنے طبقے سے نکلتے ہیں اور کوئی مقام حاصل کرتے ہیں وہ عام طور پر انسانی ہمدردی سے دور ہو جاتے ہیں۔ بہت سخت دل کے اور بدلہ لینے والے ہو جاتے ہیں۔ اگر معاشرے نے ان کے ساتھ رعایت نہیں کی تو وہ اب معاشرے کے ساتھ کوئی رعایت کیوں کریں…ایسے لوگ اپنے بچوںکی بہتر زندگی سے بھی حسد کرتے ہیں۔‘‘ص:108


مستنصر حسین کے سفرنامے ثبوت ہیں کہ وہ منظر لکھنے میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔ منظر وی جزئیات ایسی چابک دستی سے پیش کرتے ہیں کہ منظر خود بول پڑتا ہے۔ ایسے ہی کئی مناظر ’’راکھ‘‘ میں بھی نظرآتے ہیں جہاں منظر کے سامنے مبہوت آنکھ جھپکنا بھوج جاتی ہے۔ مثال کے طور پر:
’’بہت کچھ بدل چکا تھا لیکن ایک تاثر جوںکا توں تھا۔ حویلی کے کھڑکیوں روشن دانوں اور دروازوں میں سے اندر آنے والی روشنی کے آہستہ آہستہ تاریک ہوتے زاویے وہی تھے۔ عمارت کی گہری سرخی میں ایک نیم سیاہ کیفیت تھی۔ باہر دسمبر کی صبح تھی لیکن اندر شام ہورہی تھی۔ خواہشوں کا ایک اندھیرا ہمہ وقت اتر رہا تھا۔ ان دنوں جب حقیقت میں شام اترتی تھی تو شاید ادھر چوکھٹوں پر اور جھروکوںمیں اور رنگین شیشوںکے عقب میں دیے جلتے تھے۔ اینٹ اور گارے میں کاماسُترا کی تفسیر۔‘‘ص: 320


مناظر اور کیفیت کو ابھارنے کے لیے تارڑ صاحب تشبیہ کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کی تشبیہات بہت نادر ہوتی ہیں۔ وہ جو تشبیہ کا مقصد ہوتا ہے کہ بیان کی جانے والی چیز کی پوری کیفیت قاری تک منتقل ہو جائے اور وہ جو تشبیہ کی شرط ہوتی ہے کہ وہ بالکل اچھوتی ہو تو تارڑ صاحب کی تشبیہات ان دونوں پر پوری اترتی ہیں۔ذیل کی تشبیہات دیکھی جا سکتی ہیں کہ وہ کتنی نادر ہیں۔
’’کوئی نہ کوئی تجوری ایسے نظر آجاتی جیسے ڈوبنے سے پیشتر جہاز ترچھا ہو جاتا ہے۔‘‘ص:100


’’کنگن کی گولائی اس کی ہتھیلی میں بریل کی عبارت کی طرح منتقل ہوئی۔‘‘ص:107


’’کالیے نے برادرِ عزیز کو اٹھا کر اس کی نم تھوتھنی کے متعدد بوسے لیے اور پھر احتیاط سے کسی مِنگ ڈائنسٹی کے قدیم گلدان کی طرح احتیاط سے اسے زمین پر رکھ دیا۔‘‘ص:162


’’اپنی بیوی اور بچے کی تصویر میں کوئی ایسی روشنی تھی کہ اس کا چہرہ لَو دینے لگتا جیسے اندھیری شب میں وہ دیوار پر رکھے جلتے چراغوں پر جھک گیا ہو۔‘‘ص:250


ناول کے بالکل آغاز پرتارڑ صاحب نے چار چیزوں کا ذکر کیا ۔یہ پوری عبارت چونکا دینے والی ہے:
’’چار چیزیں ہیں جو ہر دسمبر میں مجھے بلاتی ہیں… ان میں سے ایک شکار ہے، قادر آباد کے آس پاس… اور وادیِ سوات کا ایک سلیٹی منظر ہے… اور کامران کی بارہ دری سے لگ کر بہتا ہوا دریائے راوی ہے… اور چوک چکلہ ہے۔‘‘ص:09


اس پہلے جملے سے قاری ٹرانس میں آ جاتا ہے کہ ان چاروں چیزوں کا ناول سے کوئی خاص تعلق ہو گا۔ ناول کا عمل جوں جوں آگے بڑھتا ہے ، یہ چیزیں ایک ایک کر کے سامنے آتی ہیں۔ پہلے ہم قادر آباد کے شکار کا حصہ بنتے ہیں۔اس کے بعد کامران کی بارہ دری دکھائی جاتی ہے ، پھر وادیِ سوات کا سلیٹی منطر سامنے آتا ہے اور ناول کے تقریباً درمیان میں پہنچ کر چوک چکلہ کی سیر کرائی جاتی ہے۔ جب ان چیزوں کا بیان ہو رہا ہوو تو یہ بہت دلچسپ لگتی ہیں۔ قاری ان میں کھو جاتا ہے ۔خاص طور پر وادیِ سوات کا سلیٹی منظر اور چوک چکلہ کی نوراں ، خواب کے سے منظر ہیں کہ جن کی کیفیت تا دیر قائم رہتی ہے۔ لیکن اگرناول کے پورے عمل کو سامنے رکھ کر دیکھا جاے تو یہ چار چیزیں اس قدر معنی خیز نہیں ہیں جس قدر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ناول نگار زورِ بیان کی بدولت انہیں معنویت عطاکرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ پھر بھی ناول سے بے تعلق رہتے ہیں۔یہاں یہ واضح کرناضروری ہے کہ دنیا کا ہر واقعہ ، ہر منظر، مکالمہ اپنے طور پر بامعنی ہوسکتا ہے لیکن جب وہ ناول کے اندر مذکور ہو گا تو پھر ضروری ہے کہ ناول کے مجموعی معنوی نظام کے ساتھ نامیاتی تعلق رکھتا ہو ورنہ ناول کی حد تک یہ بے معنی ہو جائے گا۔ یہی مسئلہ ’’راکھ‘‘ میں ان چار چیزوں کے ساتھ ہے۔ اپنی جگہ بہت دلچسپ ہیں لیکن ناول کے اندر ان کی دلچسپی نہیں، معنویت زیادہ ضروری ہے اور یہ معنویت مفقود ہے۔ یہ چیزیں اگر چار کی بجائے آٹھ ہوتیں تب بھی اس بیانیے میں ان کی گنجائش بن سکتی تھی اور اگر ان چار چیزوں کی بجائے کوئی اور چار چیزیں بھی ہوتیں تو بھی ناول کے عمل پر فرق نہ پڑتا۔ یوں لگتا ہے کہ تارڑ صاحب نے خاص طور پر سوچ کر چار مختلف چیزوں کا جوڑ طے کیا ہے تا کہ قاری چونک سکے اور خاص طور پر چوتھی چیز چوک چکلہ کہ چکلہ ایسا لفظ ہے جو کسی بھی پاکستانی کی دلچسپی کے گراف کو آسمان پر لے جا سکتا ہے۔ حالانکہ یہاں چوک چکلہ کی بجائے لال حویلی کہنا چاہیے تھا جہاں نوراں رہتی ہے۔ چوک چکلہ میں تو کچھ ایسا خاص نہ تھا۔ضروری تھا کہ اگر ان چار چیزوں کا اکٹھے ذکر کیا ہے تو پھر ان چار چیزوںکا آپس میں کوئی تعلق بھی ہوتا،خواہ مقاومت کا ہی سہی ۔ اور نہیں تو ناول کے مجموعی نظام کے ساتھ کوئی اٹوٹ تعلق ہوتا۔ لیکن نہ تو ان کا آپس میں کوئی تعلق بن سکا اور نہ ہی ناول کے نظام میں ان کی کوئی جڑت ہے۔ قادرآباد کے شکار کا منظرکشتی سے اترنے سے لے کر واپس جیپ میں بیٹھنے تک محض منظر ہی رہا۔وادیِ سواٹ کا سلیٹی منظر بھی فقط ایک تصویر ہے اور اس کی جگہ شمالی علاقہ جات کے کسی بھی رنگ کا کوئی بھی منظر رکھا جا سکتا ہے کہ وہاںقدرت نے اپنے تمام رنگ فیاضی سے عطا بھی کر رکھے ہیں اور دنیا میں واحد تارڑ صاحب ہی ہیں جو ان رنگوں کو اپنے قلم سے مصورکرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔کامران کی بارہ دری کسی حد تک ناول کے ساتھ معنویت رکھتی ہے لیکن وہ راوی کو(یا شاید مشاہدکو) ہر سال دسمبر میں ہی اپنی طرف کیوں بلاتی ہے۔ یہ نہیں کھلتا۔ چوتھی چیز چوک چکلہ میں بھی راوی کے لیے کیا کشش ہے اور وہ خاص دسمبر میں ہی کیوں؟ اگر یہ نوراں ہے تو وہ تو وہاں پورا سال ہی ہوتی ہے، کسی وقت بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ راوی صرف دسمبر میں ہی کیوںکھنچتا ہے۔ ناول کے آخر میں ان چاروں چیزوں کا ایک ایک دورہ پھر کیاجاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ استعمال سے پہلے اور استعمال سے بعد والا منظر ہے۔ ایک فارمولے کے تحت پہلی دفعہ چاروں مناظر میں زندگی کا بھرپور تاثر ہے اور دوسری دفعہ سب کچھ مِٹ رہا ہے، فنا ہو رہا ہے۔ نہ وہ شکار کا جذبہ ہے اور نہ کامران کی بارہ دری میںنہانے کے خیال سے جوش پیدا ہوتا ہے، وادیِ سوات میں بھی ہر سو لمبی چُپ ہے اور چوک چکلہ کی نوراں بھی مر چکی ہے۔چاروں چیزوں کا ایک فارمولہ قسم کا انجام ۔ کُل من علیھا فانّ۔ناول کے اندر ان کے ہونے کا جواز بھی کمزور ہے اور رخصتی کا انداز تو اس سے بھی زیادہ کمزور۔ ان چار چیزوں کی ناول سے بے تعلقی ناول کے مجموعی مقام و مرتبے پر اثر انداز ہوتی ہے۔
’’خوشی کا چار مرغابیوں سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘اس ناول کا ایک ایسا جملہ ہے جو ناول کے پورے عمل پر بھاری ہے۔ ناول کا عمل چلتا رہتا ہے اور بیک گرائونڈ میوزک کی طرح یہ جملہ ساتھ ساتھ سنائی دیتا رہتا ہے۔جملہ تخلیقی ہے، چونکا دینے والا ہے اور اردو ناقدین کو اس کی تشریح نے بہت کھپایا ہے۔کسی نے کہاچار مرغابیوں سے مراد مغربی پاکستان کے چار صوبوں سے ہے اور یہ علامتی طور پر سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بچ جانے والے چار صوبوں کا ذکر ہے اور مصنف یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ چار صوبے خوش نہیں رہ سکتے۔ یہ لوگ شیولر اور نیل سر کی معنویت کو بھی اخذز کر لاتے ہیں کہ شیولر پنجاب کو ظاہر کرتا ہے جو فوجی طاقت اور عدد ی اکثریت کی بنا پر ناپسند کیا جاتا ہے اور تین نیل سرباقی تین صوبے ہیں جنہیںان کے علاقائی ثقافتوں کے حوالے سے جمالیاتی طور پر حسین شمار کیا جاتا ہے۔ص:۵۵۔ کسی نے کہا کہ چار عناصر کے ساتھ تعلق ہے ۔ آدمی چار عناصر کی قید میں ہے اور کسی طرح خوش نہیں رہ سکتا۔ ایک ستم ظریف نے مرغابیوں کو بیویوں پر محمول کیا اور یوں شرح کی کہ چار بیویوں کے ساتھ آدمی خوش نہیںرہ سکتا۔ یہ سبھی شرحیں ایک ہی جیسی مضحکہ خیز ہیں کہ ناول کے اندر اس جملے کی وضاحت کہیں نہیں ہے۔ اگر ایسا کوئی جملہ علامتی ہو تو ناول کے اندر اس کا وضاحتی نظام موجود ہوتا ہے۔ ایسے اشارے ہوتے ہیں جو اس جملے کو علامت کی سطح تک لے کے جاتے ہیں۔ ’’راکھ‘‘ میں ناول نگار نے کہیں کوئی اشارہ نہیں دیا کہ یہ جملہ کس حوالے سے علامت کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ محض ایک جملہ ہے اور ناول نگار نے منفرد سا جان کر اسے بار بار استعمال کیا بلکہ جہاں جی چاہا ، استعمال کرتے رہے۔ بیس سے زیادہ مرتبہ اس کی تکرار ہوئی ۔اتنی زیادہ تکرار کہ اگر اس جملے کے کوئی معانی تھے بھی تو وہ بھی معدوم ہو گئے۔ میرے خیال میں ناول نگار اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ پوری طرح معنی آشکار ہوجانے سے جملوں کا حسن وہ نہیں رہتاجو بعض اوقات کسی بے معنی جملے کا ہو سکتا ہے۔ سو انہوں نے اس بے معنی جملے سے معنویت پیدا کرنے کی کوشش کی جس میں وہ خاصے کامیاب رہے ہیں۔آج کسی نے بھی ’’راکھ‘‘ پڑھ رکھا ہو تو اس کی زبان پر پہلا سوال یہی ہوتا ہے :


’’خوشی کا چار مرغابیوں سے کیا تعلق ہے؟‘‘
اس جملے کی وضاحت صرف دوجگہ ملتی ہے۔ایک جہاں مردان کہتا ہے کہ’’ خوشی کا تین مرغابیوں سے کوئی تعلق ہے؟‘‘(ص:۱۳۶) اور دوسری جگہ جہاں مشاہد کہتا ہے کہ :’’اگر مرغابیاں پانچ بھی ہوتیں تو ان کا خوشی سے کوئی تعلق نہ ہوتا؟‘‘یہاں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ خوشی کا چار سے کیا ، کسی بھی تعداد سے کوئی تعلق نہیں اور مرغابیوں کیا کسی بھی جانور سے یا مخلوق سے تعلق نہیں۔ سو یہ جملہ اگر یوں ہوتا کہ خوشی کا چھے چیتوں سے کوئی تعلق نہیں تو تب بھی اس کی بے معنویت اسی قدر معنی خیز ہوتی جتنی کہ اب ہے۔ اس جملے کی وضاحت میں بھی دوستوں نے بڑی بڑی شرحیں کرتی تھیں۔ جبکہ تارڑ صاحب شاید اس سوال کو ابھارنا چاہ رہے ہیں کہ ’’کیا خوشی کا کسی چیز سے تعلق ہے؟‘‘
اردو فکشن کی زبان پر شاعری کی زبان کا اثر خاصا گہرا ہے۔فکشن رائٹر شاعرانہ نثر کو اپنے لیے قابلِ فخر سمجھتے ہیں اور ستم ظریفی یہ کہ نقاد اس نثر کو تخلیقی نثر کہتے ہں گویا اگر شعوری طور پر نثر میں شاعری کے وسائل استعمال نہ کیے جائیں تو وہ نثر تخلیقی نہیں ہوتی۔اور اس نثر کا کوئی مقام و مرتبہ نہیں۔ جب کہ تشبیہ استعارے کے موتی ستارے لگے ہوں تو نثر کا بھائو چڑھ جاتا ہے۔


عام قاری بھی فکشن کی اصل روح کا اتنا لطف نہیں لیتے جتنا اس طرح کی شاعرانہ نثر کا۔ مصنفین کوشش کر کے رنگین زبان لکھتے ہیں جس کے لفظوں سے جلترنگ بجتے سنائی دیتے ہیں اور الفاظ کے گلدستوں سے تازگی کی مہک آنے لگتی ہے۔ قاری بھی اس زبان کے لطف میں فکشن پڑھتے چلے جاتے ہیں اور مڑ کر نہیں دیکھتے کہ لکھنے والا ان کے ساتھ کیا کھیل کھیل رہا ہے۔ تارڑ صاحب نے بھی اس ناول میں یہی کھیل رچایا ہے۔ نثر کو افسانوی نثر رکھنے کی بجائے شاعرانہ نثر بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ جو موضوعات ہیں، ان کا شاعری سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ تارڑ صاحب کو جہاں موقع ملا، وہاں شاعری کی کوشش ضرور کی۔ اور کچھ نہیں تو لفظوں کے آہنگ اور ردھم کے ذریعے شاعرانہ تاثر ضرور پیدا کیا۔ سیدھی نثر لکھنا مشکل ہووتا ہے کہ اس میں اگر ابلاغ کی کمی رہ جائے تو صرف مصنف ہی قصور وارٹھہرتاہے لیکن شاعرانہ نثر لکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ قاری کو سمجھ نہ آئے تو وہ اپنی ہی فہم کا قصور گردانتا ہے اور ابہام کی شکایت نہیں کرتا۔ سو جب لکھنے والے کے پاس کچھ نہ ہو تو وہ اس طرز کا سہارا لے لیتا ہے۔ تارڑ صاحب بھی ناول میں جا بجا نثر کے نام پر شاعری بکھیرتے ہیں اور شاعری بھی وہ جس کا تعلق محض آہنگ سے ہے۔ الفاظ کا آبشار سا بہا دیتے ہیں خواہ ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔


’’گلی کوچے… کوچے گلیاں
بدن میں سفر کی تھکان تھی، آنکھوں میں نیند بھری ہوئی لیکن ا س کے باوجود برگیتا میلے پر آئی ہوئی تھی اور شوقن میلے دی … اور میلے کے شوقین تھکتے نہیں۔ چلتے جاتے ہیں…
چار چیزیں ہیں۔
او ر کیا خوشی کا چار مرغابیوں سے واقعی کوئی تعلق نہیں…
اور اگر یہ ہم ہیں تو شگوفے کہاں ہیں… وَف وَف
کوچے گلیاں… گلی کوچے…
کوچہ داروغہ نزول…کوچہ خیمہ دوزاں… کوچہ دھوبیاں… ماشکیاں…سیٹھیاں… درزیاں… سید مٹھا بازار کے کوچے
مینوں دس خاں شہر لاہور اندر
کنے بوہے تے کنیاں باریاں نیں
تینوں دساں میں شہر لاہور اندر
لکھاں بوہے تے لکھاں باریاں نیں
اک کھولاں… اک کجّاں۔‘‘
الفاظ کا بے مہار دھارا ہے جو بہتا چلا آتا ہے جس کا واحد مقصد ایک شاعرانہ آہنگ قائم کرنا ہے اور کچھ نہیں۔اس کے بعد ایک ایسا اقتباس ہے جو ناول کا بیانیہ لگتا ہی نہیں بلکہ کوئی نثری نظم لگتا ہے۔


’’سرخ بادبانوں والی کشتیاں صحرا میں چل رہی تھیں۔ سورج غروب ہو چکا تھا لیکن اس کی کرنیں ابھی صحرا کی ریت میں جذب ہو کر منتظر تھیں کہ کب وہاں سے کوئی کشتی گزر ے تو وہ اس کے بادبانوں کو سرخ کریں، کب ایک بلیک بک قلانچ بھرے ، اپنے آپ کو زمین سے ، صحرا سے آزادکر کے فضا میں بلند کرے تو وہ اس کے پھرتیلے معجزہ بدن کو روشن کر دیں۔ ریڈ سیلز ان دے سَن سیٹ…
’’میں گھر پہنچ گئی ہوں…‘‘اسے وہ مہک آئی جو دادا کے خیمے میں عافیت اور ابدی خاموشی اور صحرائی سکون کی مہک تھی،
تم دونوں میری جانب چلنا شرو ع کر دو کہ میںنے تمہیں دیکھ لیا ہے۔
مجھے سفید بنچ کا آہنی وجود چبھ رہا ہے کیوں کہ میں بہت دیر سے انتظار میں تھی۔
تم دونوں کے لمبے سکارف قدموں میں الجھ الجھ کر ایسے آزاد ہوتے ہیں جیسے وہ جھاڑیوںمیں سے خوفزدہ ہو کر اڑان کرنے والے پرندے ہوں۔
پانی پر نظریں جمائے رکھو تو وہ تمہیں بہا کر لے جاتا ہے… دور تک
ان پانیوں پر جو کشتیاں تیرتی تھیں وہ صحرائوں کی ریت میں سے نکل کر آئی تھیں۔ اس کے دادا کے خیموں سے چھو کر آئی تھیں اور ان کے بادبان سرخ تھے۔اور ان کے پہلومیں ان کے حجم کے بڑے بڑے سفید شگوفے دریائے ٹرینٹ کی سطح پر تیرتے چلے جاتے تھے۔
’’میرے بیٹے میرے سامنے تلک لگاکر کھڑے ہو گئے۔ محبت کچھ بھی نہیں بدل سکی مشیل۔‘‘
اندر کوئی ہے؟
ہاں…!
کون…؟
ٹھہرا ہوا وقت… ایک کترن۔‘‘ص:461


قادر آباد کی جھیل پر بیٹھے ہوئے ماں کی یاد آتی ہے تو مشیل کی یادوں کاسلسلہ یوں چل پڑتا ہے۔
’’اب کیسی ہیں؟ یقینا کرم خوردہ…اور…بال تو ہوں گے…بہت عرصے بعد اس نے ماں کو یاد کیا تھا۔
صفیہ یہ مشاہد ہے۔یہ اچھا بچہ ہے۔ منٹو صاحب نے کہا تھا۔
آسمان صاف کیسے ہو سکتا ہے… اس کے چہرے پر راکھ کیوں نہیں ہے۔
دن کے وقت شاہ عالمی جلتا ہوا سنائی دیتا اور رات کو دکھائی دیتا
فلیٹ کی باون سیڑھیوں سے کے عین درمیان میں جا کر سمیعہ نے اس کا ہاتھ دبوچ کر کہاتھا:’’اوئے مجھ سے ڈرتے ہو؟‘‘
اوپر نیچے اور درمیان۔‘‘ص:513
پورے ناول میں یہ کیفیت عام ہے۔ بے موقع جگہ پر بے محل الفاظ در آتے ہیں۔ بار بار کسی پرانے واقعے کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اگر تو قاری کے لیے ناول پڑھنا نیا تجربہ ہو ، طویل کہانی اسے یاد نہ رہتی ہو تو اس کیلیے شاید یہ تکرار ایک سہولت ہے کہ پرانے واقعات کا اعادہ ہوتا رہتا ہے لیکن ناول کا باقاعدہ قاری ہزار صفحے کے ناول میں بھی چھوٹی چھوٹی جزئیات کو ذہن میں رکھ کر چلتا ہے۔ وہ بھول سکتا ہی نہیں ۔ اسے کوڑھ مغز شاگرد کی طرح بار بار پرانے واقعات رٹوائے جائیں گے تو وہ ناول سے بد دل ہو جائے گا۔تارڑ صاحب کا انداز آموختہ یاد کرانے والے استاد کی طرح ہوتا ہے کہ قاری کو تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد پرانے واقعات یاد دلائے جاتے رہیں تا کہ قاری بھول نہ جائے کہ کل ہم کہاں تھے۔جیسے قسط وار ڈراما میں ہر نئی قسط سے پہلے پرانی جھلکیاں دکھا دیتے ہیں تا کہ ناظرین کو بیک گرائونڈ یاد آ جائے۔


اردو ناول کا ایک مسئلہ مڈھ قدیم سے چلتا آرہا ہے ۔ درا صل یہاں کے خطے میں اندوزی کے لیے کتاب پڑھنا ایک بے معنی عمل ہے۔ مادی سوچ، مطالعہ کی عادت پر حاوی ہے۔ لوگ پڑھنے کے عمل میں بھی افادیت تلاش کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے نزدیک افادیت کا مطلب معلومات ہیں۔اگر کتاب سے معلومات ملتی ہیں تو کتاب پڑھی جا سکتی ہے خواہ کتنی ہی سطحی یا خراب کیوں نہ ہو۔جب کہ ناول اگر صرف ناول ہو تو اسے پڑھنے والے بہت کم لوگ ہوتے ہیں اور ان پڑھنے والوں سے بھی یہ سوال فردِ جرم عائد کرنے کے انداز میں پوچھا جاتا ہے :’’ کیوں پڑھتے ہو یہ ناول؟‘‘ اس لیے ہمارے ہاں مذہبی کتابیں، تاریخی ناول، سفر نامے، معلوماتِ عامہ کی کتابیں زیادہ بکتی ہیں کہ ان کا مطالعہ کرتے وقت افادیت کا احساس فرحت دیتا رہتا ہے۔ یہی اپروچ اردو ناول میں بھی ہے۔ اردو کے ہر بڑے ناول کی خواہش رہی ہے کہ قاری کو خارج کی دنیا کا خاطر خواہ علم دے دوں تا کہ وہ ناول کے مطالعے کو توضیعِ اوقات پر محمول نہ کرے۔ عینی آپا کے ناول ، عبداللہ حسین کے ناول اس امر کی بیّن مثال ہیں۔ ناول کے ماحول میں گنجائش ہی نہیں ہوتی اور یہ کسی نہ کسی صورت دھکیل کر کہانی کو ایسی سمت لے جائیں گے جہاں وہ واقعہ پیش آرہا ہو یا اس پر بحث ہو سکتی ہو۔ پلاٹ کے ربط کا ستیا ناس ہو جائے، کہانی بے ہنگم ہو جائے، تب بھی وہ ضرور بتایا جائے گا۔ اس کے مقابلے میں یورپ کے بڑ ے ناول جس موضوع پر شروع ہوتے ہیں، اسی پر مرتکز رہتے ہیں۔ اپنے دائرۂ کار سے باہر نکلتے ہی نہیں۔ جب کہ اردو ناول کی خواہش ہوتی ہے کہ ایک ہی کھاتے میں قاری کو بہت سے مصالحے فراہم کر دیے جائیں تا کہ قارئین کاوسیع تر حلقہ اسے پسند کرے۔ ’’راکھ ‘‘بھی اسی عمل کی مثال ہے۔ اس میں ناول نگار نے پوری امتِ مسلمہ کے دگرگوں سیاسی حالات اور خاص طور پر پاکستان کے سیاسی حالات کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ مسئلہ نہرسویز، فرانس اور الجزائر کا تنازعہ،سقوطِ ڈھاکہ،کراچی کے فسادات، مسئلہ فلسطین، بیروت کی تباہی ، بابری مسجد کی شہادت سبھی واقعات کو بے وجہ ناول کے اندر ٹھونسا گیا ہے۔ کرداروں کی ان واقعات کے ساتھ کوئی نفسیاتی وابستگی یا گہری جڑت ہر گز نہیں۔ محض گفتگو کی حدتک نمائشی گریہ طاری کیا گیا ہے اور قارئین کے لیے رقت کا سامان پیدا کیا گیا ہے۔ یہ خارجی حالات کسی خاص نقطۂ نظر کو پیش کرنے کے لیے ہیں اور نہ ہی یہ کوئی اتنے خفیہ واقعات ہیں کہ جنہیں طشت از بام کرنا کسی نئی فکر کو جنم دے سکتا ہے۔یہ واقعات بیسویں صدی کے نصف آخر کی ہیڈ لائنز ہیں اور کوئی بھی صاحبِ مطالعہ ان سے ناواقف نہیں ہو سکتا۔ ایسے واقعات کو محض رپورٹنگ یا اظہارِ تاسف کے لیے پیش کرنا ناول کے لیے کسی طرح بھی موزوں نہیں ٹھہرتا۔


سیاسی واقعات کو ناول میں پیش کرنا بہت ہی احتیاط کا کام ہوتا ہے ۔ اول تو پلاٹ ہی ایسا بنانا پڑتا ہے جس میں یہ واقعات ناگزیر طور پر در آئیں اور ایسے مربوط ہوں کہ ان کے غیر معمولی ہونے کا کسی کو احساس نہ ہو۔ کہانی کا لازمی حصہ ہوں۔ دوسرے کرداروں کی ان واقعات سے لازمی جڑت ہو۔ ان کی زندگی پر یہ واقعات گہرا اثر رکھتے ہوں اور ان کے ہونے نہ ہونے سے کرداروں کی باطنی زندگی میں تبدیلیاں رونما ہوں۔ تیسرے یہ واقعات جب رونما ہوں تو ناول کے باقی واقعات کو بامعنی بناتے ہوں۔ ان سے الگ تھلگ نظر نہ آئیں۔ ان شرائط پر ’’راکھ‘‘ میں پیش کیے گئے حالات بالکل پورے نہیں اترتے۔ یہاں تو جس بھی خارجی واقعہ کو پیش کیا گیا، محض اس لیے کہ ناول کو افادی بنایا جاسکے۔ تاریخ کے صفحات پر سامنے جگمگانے والے واقعات کو لے کر ان پر تھوڑی سی بحث کرا دی اور ذرا سا افسوس کا اظہار کردیا۔ لیکن درحقیقت یہ واقعات نہ توبامعنی بنتے ہیں اور نہ ناول کے کُل کا حصہ بنتے ہیں اور نہ ہی تاریخ یا سیاست کے حوالے سے کوئی نیافکری زاویہ اخذ ہوتا ہے۔یہ خارجی حالات ناول کا نامیاتی حصہ نہیں بلکہ اوپر سے ڈالے گئے ہیں ۔ جیسے بعض لاہوری کھانوں میں بہتا تیل کا دریا۔اس ناول کی حدتک تو یہی لگتا ہے کہ تارڑ صاحب بہت محدود سی سیاسی بصیرت رکھتے ہیں اور ان کے پاس ان موضوعات پر کہنے کے لیے کچھ خاص نظریہ یا فکر نہیں ہے۔ ان کا طریقہ کار ٹورسٹ گائیڈ کا سا ہے جوکسی نے سیاح کو کسی شہر کی مشہور مشہور جگہوں کے بارے میںمقبولِ عام نظریے بتا کر اپنا رزق کماتا ہے۔ تارڑ صاحب نے بھی تاریخ اور سیاست کو کسی گائیڈ کی طرح ہی دکھایا ہے۔ الجھے ، پیچیدہ سیاسی معاملات کوسمجھنے کی کوشش نہیںکی گئی اور محض چند مشہور واقعات کا ذکر کر کے ناول بنانے کی کوشش کی ۔نہر سویز۔الجزائر۔برلن کی تباہی وغیرہ۔ ایک جگہ توبہت ہی فضول طریقہ اپنایا گیا ۔مشاہد انگلستان میںچار سال رہا۔ سوچا کہ واپس جا کر کس کس کویاد کرو گے تو خیالات کا سلسلہ یوں چل پڑا:


’’ہاں کس کس کو یاد کرو گے مشاہد علی؟
نوجوان نسل کے کمروں کی دیواروں پر چسپاں پوسٹر…ایسے چہروں کے جو اُس بے سمت معاشرے میں ایک سمت رکھتے تھے…ہوچی منہ…مائوزے تنگ…اور چے…چے گویرا۔‘‘ص:253


بائیں بازو کی انقلابی تحریکوں کے ان نمایاںکرداروں کا نام لینے کی وجہ یہی تھی کہ ناول میں معاصرسیاسی حالات کا مصالحہ تیز ہو جائے ورنہ انگلستان کے پورے سفر میں ان لوگوں کا ذکر تک نہ چھِڑا۔ نہ ہی ایک پل احساس ہوا کہ مشاہد میں بائیں بازو کی کوئی سوچ پنپ رہی ہے۔ اب چار سال بعد جاتے جاتے ان کا ذکر کرنے کا مقصد محض یہی ہے کہ مصنف ان کا نام کیش کرانا چاہتے ہیں۔
عالمی واقعات تو ایک طرف، اپنے ہی ملک کے سیاسی واقعات جب ناول میں پیش ہوئے تو انتہائی عامیانہ طریقے سے ۔ مثلاً بھٹو صاحب کو جب پھانسی دی گئی تو ، (اس وقت مشاہد 38برس کا ہو چکا ہے۔ اور اب تک مشاہد کو یا ناول کے کسی بھی اور کردار کو بھٹو صاحب سے کوئی لگائو ظاہر نہیں ہوا۔)یکدم ہی ناول میںاس قتل کا ذکر آجاتاہے۔ بے جواز۔ بے موقع۔ اس پر مشاہد کی شعور کی رو میں چند تنبیہی قسم کے نمائشی جملے(’’اسے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ میں تمہاری مونچھوں سے اپنے بوٹوں کے تسمے بنائوں گا…کیا ضرورت تھی، کسی کی انا کو اس حد تک کچوکے دینے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘ص:462)اور جمہور پسند، عوام دوست جذبات دکھا دیے جاتے ہیں۔ جو نہ کبھی مشاہد کے پاس تھے اور نہ اس کے بعد کہیں نظر آتے ہیں۔مشاہد سیاسی یا سماجی کسی بھی نظریے کا آدمی ہی نہیں اور اس کے ناتواں کندھوں پر ناول نگار نے اتنا بھاری بوجھ لا ددیا۔جو ہماری پوری تاریخ بھی مِل کر نہیں اٹھا سکی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سطحی سے جملے کے علاوہ کوئی جملہ تک ایسا نہیں ہے جو بھٹو کے مرنے پر دکھ ظاہر کرتا ہوو۔ باقی ساری کی ساری رپورٹنگ ہے۔ اور اُس طرز کی تنبیہ ہے جو چھوٹے بچے کے سیڑھیوں سے گرنے پر ماں کی ہوتی ہے، ’کہا جو تھادیکھ کے پائوں رکھا کر،آنکھیں کھول کر چلتے نا،وغیرہ‘۔شاہ عالمی مندر کو مسمار کرنے کا عمل بھی اسی طرح کاواقعہ ہے۔ جیسے ’’اداس نسلیں ‘‘میںعبداللہ حسین بے تاب تھے کہ لاہور میں مسجد شہید گنج کے متعلق تنازعے کو ناول میں لایا جائے اور انہوں نے علی کو دہلی سے بلاوجہ اٹھایا اور کھینچ کر لاہور لے آئے تھے ، بالکل ایسے ہی تارڑ صاحب نے مذہبی جنونیوں کا شاہ عالمی مندر گرانے کا منظر دکھانا تھا تو مشاہد اور فاطمہ کو گھسیٹ کرا دھر لے گئے۔ یہ ناول کے آخری صفحات کے ٹھہرے ہوئے پانی کی سطح پر ڈرامائی اتھل پتھل پیدا کرنے کی ایک ناکام کوشش کے سوا کچھ بھی نہیں۔یہاں مشاہد کا ملبے تلے دب جانا بھی ناول کا حصہ نہیں۔ محض ایک بے وجہ حادثہ ہے اور ناول میں حادثے بامعنی نہیں ہوتے۔ اس حادثے کا مقصد سطحی قسم کی ہمدردی پیدا کرنا ہی ہے۔


خارجی حالات کو یوں ناول میں کھپانا آسان ہے۔ یہ ایک لحاظ سے ناول نگار کا عجز بھی ہوتا ہے۔ ناول دراصل انسان کے اندر کی دنیا کا ڈراما پیش کرتا ہے اور جب تک باطنی کشمکش پوری طرح مضبوط نہ ہو تب تک ناول بن ہی نہیں سکتا۔’’راکھ‘‘ میں کسی کردار کے اندر باطنی کشمکش ہے ہی نہیں ۔ جو بھی کردار ہے، ایک ہی جگہ پر رکا ہو اہے۔تارڑ صاحب اس امر سے بخوبی واقف ہوں گے کہ کرداروں کے باطن میں ایسی کوئی چیز نہیں جو دلچسپی کا باعث یا ناول کا موضوع بن سکے۔اس لیے وہ بار بار باہر کی دنیا میں کوئی ڈراما ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔اب المیہ یہ ہے کہ باہر کی دنیا میں ایسے ڈرامے تو کبھی کبھی وقوع پذیر ہوتے ہیں جو کسی بڑے ناول کا موضوع بھی بن سکیںاور قارئین کے ایک وسیع حلقے کو پسند بھی آسکیں۔ جب کہ انسان کے باطن میں ہر گھڑی ایساڈراما چل رہا ہوتا ہے جو بڑے سے بڑے ناول کا موضوع بن سکتا ہے اور پوری دنیا کے قارئین کو پسند بھی آ سکتا ہے ۔پرائڈ اینڈ پریجوڈائس، مادام بوواری، اولڈ گوریو، وغیرہ تواس کی پرانی مثالیں ہیں، عہدِ حاضر میں میلان کنڈیرا اس کی سب سے عمدہ مثال ہے۔ ہمارے ہاں ناول نگار اس وسیع ذخیرے کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ فن کا رُخ اس طرف نہیں موڑتے جہاں ناول کی اصل دنیا آباد ہے اور اس کے مقابلے میں خارج کی محدود سی دنیا میں رہتے ہیں۔خارج کی دنیا پر لکھنا آسان ہے ، سنی سنائی باتیں، اخباری تجزیے، خبریں پڑھ کر آسانی سے لکھا جا سکتا ہے۔ سہل پسند ناول نگار یہی راستہ اپناتے ہیں۔یہ طریقہ کمرشل مصنفین کا ہوتا ہے۔ دنیا بھر کے مقبولِ عام ادب میں کسی بڑے سیاسی واقعے یا شخصیت کا احاطہ کرتے کئی ناول مل جاتے ہیں۔ ’’راکھ‘‘ میںکوئی بھی ایسا منفرد واقعہ نہیں ۔ ان واقعات سے منسوب کوئی ایسا نقطہ نظر نہیں جو اپنے عہد میں اخبارات میں پیش نہ ہوا ہو۔ جب کہ باطن کی دنیا کو کھوجنامشکل ہوتا ہے۔ اس کے لیے اپنی ذات کی پنہاں گہرائیوں میں اترنا پڑتا ہے۔ ساتھ ساتھ دوسروں کی شخصیت کو بھی اندر تک سمجھنا پڑتا ہے۔ یہاں اپنے فن کے علاوہ کسی اور چیز کی مدد نہیں مل سکتی۔ داخلی دنیا کا مطالعہ ناول کے باقاعدہ قاری ہی کرسکتے ہیں۔ خارجی دنیا پر مبنی ناول ہر شخص گرم گرم حلوہ سمجھ کے ہڑپ کرسکتا ہے۔ اس لیے خارجی دنیا پر مبنی ناول اپنے زمانے میں بہت بکتے ہیں لیکن ان کی عمر بھی اتنی ہوتی ہے جتنی ان سیاسی واقعات کی تاریخ میں بازگشت ہوتی ہے۔ اور کوئی بھی سیاسی واقعہ خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، ایک مدت کے بعد اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔ جب کہ باطن کی دنیا کی اہمیت کبھی کم نہ ہو گی کہ انسان جہاں کا بھی ہو، جس زمانے کے بھی ہو، اس کی باطنی دنیا کے مسائل مستقل رہیں گے۔تارڑ صاحب نے ’’راکھ‘‘ لکھتے ہوئے سہل رستہ اپنایا ہے البتہ ایک بات دل خوش کُن ہے کہ ارون دھتی رائے “Ministry of Utmost Happiness”لکھ کر جن خصوصیات کی وجہ سے اس وقت عالم میں سرافراز ہے، وہ ہمارے تارڑ صاحب بہت مدت پہلے دکھا چکے ہیں۔


’’راکھ‘‘ میں تارڑ صاحب بہت غیر محتاط ہیں۔ ناول واقعات کی ایک ایسی درست ترتیب کا نام ہے جس میں منطقی طور پر کوئی جھول نہ ہو۔ واقعات اصل حقیقی دنیا میں واقع ہو سکتے ہیں یا نہیں، یہ سوال ہی نہیں اٹھتا، ناول کے اندر وہ کیسے آئے، یہ اہم ہوتا ہے۔ ناول کے ٹائم فریم ، محلِ وقوع اورمنطقی نظام کے اندر وہ واقعہ ہونا ممکن ہے یا نہیں،اس کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔اگر کوئی چیز اس نظام میں پوری طرح فٹ نہ بیٹھتی ہو تو وہ ناول کو معیار سے گرانے کا باعث بنتی ہے۔ تارڑ صاحب نے اس ناول کو لکھتے وقت اس طرف دھیان کم رکھا اور ناول میں بہت سی واقعاتی غلطیاں در آئیں۔مثلاً ناول کے شروع میں بتایا گیا کہ مشاہد نے قادر آباد پہنچنے کے لیے رات کے ڈیڑھ بجے بستر چھوڑا تھا:


’’آج سویرے وہ تقریباً ڈیڑھ بجے کے قریب لاہور سے چلا تھا۔‘‘ ص:16


اور اسی دن کی بابت چار صفحوں کے بعد لکھا ہے :
’’آج صبح دو بج کر سولہ منٹ پر جب وہ شیو کر رہا تھا تو یک دم اس کے منہ میں ایک چھوٹا سا پتھر کہیں سے لڑھکتا آیا اور اس نے اسے بیسن میں اگل دیا۔‘‘ ص: 21


اس کے بعد بھی دو دفعہ ذکر آیا ہے کہ دو بج کر سولہ منٹ پر اس نے شیو کی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ڈیڑھ بجے گھر سے نکل کر قادر آبادکی طرف جانے والا شخص چھیالیس منٹ بعد ابھی گھر میں شیو کر رہا ہو۔
کالیا کی پہلی دعوت کے دوران سی ڈی حسین اور صاحب کمال کی آپسی گفتگو میں سی ڈی حسین توہینِ رسالت کے ایک مجرم کے متعلق یوں بتاتا ہے:
’’میں ان چوُڑوں کے پورے خاندان کو جانتا ہوں۔ اس خبیث کا باپ انتہائی غلیظ اور ناپاک جسم والا شخص ہے۔ جوہڑوں کی گندگی اور کیچڑ میں اترکر گمشدہ چیزیں تلاش کرتا ہے ۔اس کا سانس بڑ اطویل اور مضبوط تھا اس لیے اسے بکو ساہ پکا بھی کہتے تھے…‘‘ ص:210


یہی معاملہ بہت آگے جا کر مشاہد کے گھر میں پہنچتا ہے ۔ برگیتا بتاتی ہے۔
’’ان کا ایک پوتا… جو میرا کیا لگتا ہے … شاید بھائی کا بیٹا… وہ اس کیس میں پکڑا گیا ہے جس کا اخباروں میںبہت ذکر ہے۔ بلاس فیمی کیس… ڈیڈی کہتے ہیں کہ ان کا پوت… یا میرا بھتیجا بالکل ان پڑھ ہے اور وہ کسی دیوار پر کچھ لکھ بھی نہیں سکتا۔‘‘ص:457


بکو کا بیٹا ،آگے چل کر بکو کا پوتا بن گیا اور ناول نگار بے خبر رہے۔ اس واقعہ کی صحت ایک اور لحاظ سے بھی مشکوک ہے۔ اس کے لیے پہلے ذرا کمیوں کی نفسیات دیکھنی پڑے گی۔یہ کمی لوگ تھانے کچہری کا کوئی کام خود نہیں کر سکتے۔ذرا سا مسئلہ ہو تب بھی اپنے رشتہ داروں اور شناسائوں میں ایسے حوالے تلاش کرتے ہیں جو کسی عہدے یا حیثیت پر ہوں۔ انہوں نے ہر کام انہی سے کہنا ہوتا ۔ خود کر ہی نہیں سکتے۔ اب ذرا ناول کے اس واقعے پر بات کرتے ہیں۔ دسمبر میں یہ واقعہ اتنا ہائی پروفائل ہے کہ جنرل لوگ آپس میں ڈسکس کر رہے ہیں اور اس لڑکے کو لٹکانے کی بات ہو رہی ہے۔ یعنی معاملہ یقینی موت تک آ چکا ہے اور بکو ساہ پکے نے ابھی تک برگیتا سے بات تک نہیں کی جو اپنی حیثیت کی وجہ سے ان کے لیے یسوع مسیح کا زمینی روپ ہے۔ اور وہ اس حالت میں بھی تقریباً ایک سال بعد اگلے دسمبر کے قریب برگیتا اور مشاہد کے پاس جاتے ہیں جو کہ یقین کرنے والی بات ہی نہیں۔ انہیں تو فوراً سے بھی پہلے برگیتا کے پاس پہنچنا چاہیے تھا۔ وہ اتنی دیر کیوں چپ رہے۔
صفحہ نمبر339پر 1962ء میں جب ابھی مردان ٹریننگ کے درمیان سے چھٹی پر آیا ہے اور برگیتا اسی دن پیدا ہوئی ہے، تب مشائلہ ایز برگ کو دیکھتے ہوئے مشاہد یہ سوچتا ہے کہ
’’کیا وقت کے کسی آئندہ لمحے میں …کیا یہ ممکن تھا کہ مشائلہ ایز برگ اسی گھر میںاسی صوفے پر اسی انداز میں براجمان ہوگی ااور کچھ زیادہ عرصہ بعد نہیں… یہی دو چار برس بعد …اور اس کے حسن کی جادو گری کا صرف شائبہ رہ جائے گا۔‘‘ ص:339


اگلے صفحے پر یہ استفسار کہ ’’کیا برگیتا اب چلنے لگی ہے؟‘‘ بھی دو چار برس کی گواہی دیتا ہے۔جب کہ صفحہ نمبر394سے کر 400تک مشائلہ اور برگیتا کا قصہ پڑھیں تو کھلتا ہے کہ برگیتا کے جوان ہونے کے بعد برگیتا بگڑگئی اور اسے دیکھ دیکھ کر مشائلہ بھی نشے کی عادی ہوئی تو یقینا یہ دو چار نہیں، بیس پچیس برس بعد کی بات ہے۔ (صفحہ نمبر396پر باقاعدہ پچیس برس مذکور بھی ہیں۔)


صفحہ نمبر 366پر کھلنا بیرکس میں پاکستانی فوجی مثلہ کر کے الٹے لٹکائے گئے۔ مردان نے یہ دیکھا۔ وہاں مذکور ہے کہ جنرل ٹِکا خان نے آرڈر دیا:’’ مجھے بنگالی نہیں، بنگال کی کی زمین چاہیے۔‘‘اس جگہ پر تاریخ یا دن نہیں بتایا گیا۔ البتہ صفحہ نمبر 377پر اس سے اگلے دن سب لوگ بیگم بابر کے گھر اکٹھے ہوتے ہیں۔ گپ شپ ہوتی ہے۔ یہ گفتگو چلتی چلتی جب صفحہ نمبر384پر آتی ہے تو بیانیہ میں لکھا ہے کہ یہ دسمبر تھا۔ یعنی بیانیے کے مطابق کھُلنا بیرکس والا واقعہ اور اس کے بعد کا قتلِ عام دسمبر میں ہو اتھا۔ لیکن دسمبر میں تو جنرل نیازی وہاں کا ایڈمنسٹریٹر تھا۔دوسری بات یہ کہ آخر تک ہمیںیہی معلوم ہے کہ مردان ڈھاکہ ہی رہا جہاں بیگم بابر وغیرہ بھی تھیں۔ جب کہ کھُلنا کا علاقہ تو ڈھاکہ سے تقریباً 230کلومیٹر دور ہے۔ اور آج بھی آٹھ گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ مردان وہاں پاکستانی فوجیوںکی لاشیں دیکھنے کہاں پہنچا ہوا تھا؟


مشاہد نے سویڈ میں ایک نظر برگیتا کو دیکھا اور شادی کا فیصلہ کر لیا۔ ص:396=400برگیتا سے شادی کر کے وہ واپس پاکستان لوٹ آیا۔ جب کہ ادھر نوراں کے ساتھ پاکستان میں اس موضوع پر باقاعدہ بحث ہوئی کہ برگیتا سے شادی کرے یا نہ کرے اس بحث کا موقع کیسے ملا؟


ڈاکٹر ارشد کو فی الفور بہاولپور پہنچنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے جذبات یہ ہیں:
’’اسے قطعی طور پر بہاولپور دیکھنے کی… یا چولستان میں رات بسر کرنے کی خواہش نہ تھی… بلکہ اس کے نزدیک یہ وقت کا ضیاع تھا۔ ایک ہی مقام تھا جہاں وقت کی قیمت پڑتی تھی…چار چیزوں میں سے ایک… دریائے سوات کے کنارے سلیٹی منظر ہیں، وے سائیڈ ہوٹل کے قریب۔‘‘ص:419


لیکن ان چار چیزوں میں سے ایک اور چیز بھی ہے جہاں وہ زیادہ شوق سے جایا کرتا ہے۔ قادر آباد کا شکار۔ ڈاکٹر ارشد یہ بات خود کیوں بھول گیا تھا۔
فاطمہ نے صفحہ نمبر 449پر بتایا کہ اسے نابینا ہوئے پندرہ برس گزر چکے ہیں۔ آگے اس نے کافی برا وقت گزارا۔ اندازاً ایک سال کر لیں۔ پھر اس نے قانون کی تعلیم حاصل کی۔تین سال یہ ہو گئے۔ اس کے بعد اس نے کافی مدت پریکٹس بھی کی جو جم گئی تھی۔ ایک سال یہ ہو گیا۔ پھر اس کا خاوند اسے یوگنڈا لے گیا۔ وہ بتاتی ہے کہ :’’وہیں میراسنجے پیدا ہوا۔‘‘یعنی نابینا ہونے کے تقریباً چھے سال بعد اورموجودہ وقت سے 9سال پہلے۔ لیکن صفحہ نمبر454پر وہ اپنی کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتی ہے کہ ’’سنی اور سنجے بی اے کرنے کے بعد پالیٹکس میں انوالو ہو گئے تھے۔‘‘ نو سال کا لڑکا سنجے بی اے کر کے سیاست میں بھی آ گیا، یہ کیسے ممکن ہے۔


ص:462سے 465تک بھٹو کے عدالتی قتل پر مشاہد متاسف ہے۔یقینی طور پر یہ تاسف 7اپریل 1979ء کے وقت ہے۔ یہ تو بیانیے سے ہی مصدق ہے کہ بات معطلی یا قید کی نہیں ہے۔ کیوں کہ قید کے بدترین حالات اور ہمالیہ نہیںرویا بھٹو کی موت کی دلالت کرتے ہیں۔تب جنرل ضیا الحق صدرِ پاکستان تھے۔ یہاں تارڑ صاحب نے لکھا ہے:
’’ضیا کی فی الحال کوئی حیثیت نہ تھی اور بھٹو کی تھی اوراس کے باوجود اس نے اس کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈالنے کا اہتمام کر لیا۔‘‘ص:463


اگر پاکستان میں صدر ہوتے وقت جنرل ضیاء کی کوئی حیثیت نہ تھی تو پھر حیثیت لفظ کے معانی دوبارہ متعین کرنے پڑیں گے۔
صفحہ نمبر495پر ایک ڈینش لڑکی مشاہد کے گھر آتی ہے اور برگیتا سے اس کی ملاقات ہوتی ہے۔’’وہ ہنسی۔ ایک جوان تئیس سالہ ہنسی اور بہت بے پروا ، بے باک ہنسی۔‘‘ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کرسٹین کی بیٹی ہے جس کے ساتھ مشاہد کے تعلقات رہے تھے۔برگیتا مشاہد کو بتاتی ہے کہ وہ تم جیسی تھی۔ یعنی وہ مشاہد کی بیٹی ہے۔ یہاں ٹائم فریم کا مسئلہ ہے۔ کرسٹین کے ساتھ مشاہد کے تعلقات 1956یا 1957میں رہے تھے۔اب جو لڑکی آئی ہے، یہ 1992میں آئی ہے۔ تو اگر یہ مشاہد کی بیٹی ہوتی تو اس کی عمر 35کے قریب ہوتی نہ کہ تئیس۔


ان تمام واقعاتی کمزوریوں سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ تارڑ صاحب نے لکھتے وقت پوری طرح احتیاط نہ کی اور وقت کے فریم کو حتمی طور پر متعین نہیں کیا تھا ۔واقعاتی غلطیاں تو کسی ناول کی سب سے بڑی خرابی ہوتی ہے۔ ان سے بچنا تو ناول نگار کا پہلا امتحان ہوتا ہے۔
واقعاتی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ اس ناول میں تارڑ صاحب زبان کے حوالے سے بھی خاصے غیر محتاط ہیں۔ انہوں نے شاعرانہ ردھم پر اتنی توجہ دی کہ زبان مجموعی طور پر کمزور ہوتی رہی۔ پورے ناول میں یہ احساس ہوتا رہتا ہے کہ لکھنے والے نے اس پر کڑی نظرِ ثانی نہیں کی۔ اگر کی جاتی تو اس کی زبان حد درجہ بہتر ہو سکتی تھی۔ ابھی موجودہ حالت میں ناول کی زبان بہت ڈھیلی ڈھالی ہے جس میں بہتری کی کافی گنجائش ہے ۔ کہیں تو اس طرح کے جملے آتے ہیں جن میں ایک آدھ لفظ کی ترتیب سے یا درست استعما ل سے جملے کا حسن بڑھ سکتا ہے۔
’’مردان نے منہ پر ہاتھ رکھ کر شرلاٹے بھرتی ہوئی ولیز جیپ میں چہرے پر سرد ہوا میں اور نہر کے کنارے دسمبر میں کہا۔‘‘ص:34


’’چودھری صاحب کا خاندان بھمبر کی ریت میں سے پائوں کوشش سے نکال نکال کر چلتے ۔‘‘ص:111


’’کالیا یقینا اپنے بدن میں حدت ہی حدت لہریں لیتی ہوئی وہسکی کی ترنگ میں تھا۔‘‘ ص:159


’’پتہ نہیں چلتا تھا کہ کہاں وہ نرم ملائمت ختم ہوتی ہے او ر کہاں ایک وحشت بھری گرم مہک شروع ہوتی ہے۔اور کہاں اس کے ہونٹ ایک گیلا راستہ بناتے ہوئے اوپر آتے ہیں اور اوپر جو ہونٹ کھلے ہیں جن میںگہری سانسوں کی نمی ہے اور ایک دلدل میں بدل جاتے ہیں …اور دلدل کوالگ الگ کرنا دشوار ہوتا ہے…اور ایک گہرا سنسناتا ہوا سناٹا تھا جو اس کے لُوں لُوںکو ایک رطوبت بھری بے چینی سے بھرتا تھا۔‘‘ص:220


’’وہ اس اصطبل نما سیاہ دھویں سے کالے سیاہ ہونے والے شہتیروں کی چھت والے قدیم شراب خانے میں داخل ہوئے۔‘‘ص:234


’’ایلوس ان سے نظریں نظاہر چراتا ہوا ایک شو کیس میں جھانک رہا تھا۔‘‘ص:256


’’چوپایہ اگر جنگل میں چلے اور بے شک وہ جنگل فوم کا ہو تو اس کے گھٹنوں پر نیلے نشان تو وجود میں آئیںگے۔‘‘
اور کہیں پورے کا پورا پیراگراف بے احتیاطی کا مظہر ہوتا ہے۔ تھوڑی سی توجہ سے یہ پیرا گراف بہتر ین ہو سکتے تھے لیکن انہیں توجہ نہ دی گئی۔
’’مشاہد علی کشتی کے کناروں کے اندر تک جھکا اور پھر بے حد احتیاط سے ہتھیلیوں کے حصار کے اندر لائٹر کے مدھم شعلے کو بند کر کے ایک سگریٹ سلگا لیا اور سگریٹ سلگاتے ہی وہ سیدھا ہوا اور اس نے اپنے آس پاس نہایت غور سے دیکھا اور ہر شکاری جو سگریٹ سلگاتا ہے وہ غیر شعوری طور پر ایسا ہی کرتا ہے۔اور وہاں جہاں تک وہ اس تاریکی میں گھلتی سفیدی میں دیکھ سکتا تھا ، وہاں دھند اور سرکنڈے تھے اور گلی سڑی گھاس کی بو تھی اور کوئی نہ تھا۔‘‘ص:11
اور کالفظ اتنی دفعہ آیا ہے کہ پڑھتے ہوئے آنکھوں میں اٹکنے لگتا ہے۔آگے ایک بیان کچھ یوں ہے۔
’’ان کی چرچ ویڈنگ اگرچہ دلی میں ہوئی لیکن اسی روز لاہور واپس…کچی آبادی جو کہ ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چلتی تھی اس کے قریب ایک پر آسائش گھر میں… بہت سختی سے کاربند اخلاقیات اور کسی بھی اور حقیقت یا سچ سے ناواقف لڑکی مشائلہ…‘‘ص:333


یہاں توجملہ مکمل تک نہیں ہوا۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ ’’بہائو‘‘ کی زبان پر جی جان سے محنت کرنے والے تارڑ صاحب ’’راکھ‘‘ تک آتے آتے زبان کے حسنِ استعمال سے منحرف ہو گئے ہیں اور زبان کے ظاہری حسن کو تاب دینے کو کافی سمجھ رہے ہیںوہ اس کا شاعرانہ آہنگ اور ترنم تو بنا رہے ہیں لیکن فصاحت کے اصولوں کو نظر انداز کر رہے ہیں
منظر نگاری کے دوران تارڑ صاحب کا ایک مخصوص انداز ہے ۔ وہ ہر منظر میں اپنا علم کھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔منظر میں کوئی عمومی چیز دیکھی ، پتھر، پرندہ، آئینہ، پانی، آسمان، دریا، پہاڑ کچھ بھی اور اس کے ساتھ منسوب کوئی شعر یا محاورہ انہیں آتا ہو تو اسے ضرور وہاں ٹانک دیںگے۔ اور پھر جتنی بار وہ چیز نظر آئے گی، تارڑ صاحب اس حوالہ جاتی شعر یا محاورے کو ضرور دہرائیںگے۔(وہی آموختہ والا معاملہ!!) بعض اوقات تو اس عام سی چیز پر ان کا وہ خاص شعر حاوی ہو جاتا ہے۔
کرسمس کا ذکر آتاہے تو بار بار شہر میونخ میں کرسمس ہے کا حوالہ دیتے ہیں۔کیوں کہ اردو شاعری میں اور کہیں کرسمس کا ایسا مشہور حوالہ نہیں ہے۔
راوی کا ذکر آیا تو مشہور محاورہ :’’جا نیں دھیے راوی، نہ کوئی آوی تے نہ کوئی جاوی‘‘ص:46


چاندنی کا ذکر آیا تو :’’راتیں چنیں دی چاننی تے پُونی ورگا کاں۔‘‘ص:121


پرند ے کو دیکھا تو منطق الطیر کے پرندے اور لِونگ سٹون سی گل یاد آ گیا۔ص:284


سریش کا ذکر آیا تو:’’پتھر نال جوڑنا سریش کہیا۔‘‘ص:312


لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس چیز کی منظر کشی کر رہے ہیں ، اس میں اُس درجے کی صفات ہو بھی سکتی ہیں؟ معمولی سی چیز پر بڑا سا شعر فِٹ کر دیتے ہیں ۔بس عام طور پرہر چیز کوالوہیت عطا کرنے کی کوشش کرتے ہیں (مجبوری ہے کہ اردو کے عام قارئین یہی پسند کرتے ہیں۔)اسے اپنے علم کے ذریعے ، اپنی لفاظی کی مدد سے یادگار منظر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پتھر ہے تو حجرِ اسود کے پائے کا بنا دیں گے، اونٹنی ہے تو قصویٰ سے ملا دیں گے، فاختہ ہے تو یوسف ؑ کو بچانے والی فاختہ ہو گی، مکڑی ہو گی تو غارِ ثور کے آگے جال تاننے والی نظر آئے گی، پانی ہے تو آبِ زمز م کا درجہ رکھتا ہو گا اور پہاڑ ہے تو کوہِ طور سے کم کا نہیں ہو گا۔
’’اس شیشہ گری کے ہال میں سے جہاں ہر شیشہ یہ کہتا ہے کہ اور کون ہے آئینوں میں ، بس تو یہ تو ہے۔شیشے کے جتنے زیادہ ٹکڑے ہوں گے ان میں اتنے ہی عکس ہوںگے اُس کے جو اپنے آپ کو حالتوں میں دیکھنا پسند کرتا ہے۔‘‘ص:320


منظر نگاری میں یہ عمل نقص شمار کیا جاتا ہے۔جو چیز جیسی ہے ، اسے اتنا ہی بیان کیا جانا آرٹ ہے۔اگر اس کی قدر کم کر کے یا بڑھا کے بیان کی گئی تو دونوں صورتوں میںفنکار کے بیان کا عجز ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پاس اُس چیز کے لیے مناسب لفظ نہیں ہیں۔اب ہر آئینہ وہ نہیں ہوتا جس میں کسی اور کا عکس نظر آئے ، ہر چلمن کے پار محبوبِ حقیقی جلوہ نما نہیں ہوتا، ہر محبوب رشکِ قمر نہیں ہوتا۔ ہر عاشق صورتِ مجنوں نہیں ہوتا۔ فرق دکھانا پڑتا ہے۔امتیاز قائم رکھنا پڑتا ہے۔


جادوئی حقیقت نگاری فکشن کی ایک تکنیک ہے۔ جب کسی حقیقت نگار بیانیے میں کوئی مافوق الفطرت عناصر در آئیں تو یہ جادوئی حقیقت نگاری کہلاتا ہے۔ لاطینی امریکی فکشن میں اس تکنیک کی پیش کش اور پوری دنیا میں لاطینی امریکی فکشن کی شہرت نے دنیا بھر کے فکشن نگاروں کو اس طرف متوجہ کیا۔ سبھی خطے کے نمایاں ادیبوںنے اس تکنیک کو اپنانے کی کوشش کی۔ امریکہ میں ٹونی موریسن، کینیڈا میںرابرٹ کروچ،سوئٹزر لینڈ میں رابرٹ پنجے،جنوبی افریقہ سے آندرے برنک،برطانیہ سے ڈی ایم تھامس ،افریقہ میں بن اوکڑی، جاپان میں مورا کامی اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔پاکستان میں مستنصر حسین تارڑ اس تکنیک کو عمدگی سے استعمال کرتے ہیں۔ ’’بہائو‘‘ میں مامن ماسا کا کردار، غزالِ شب میں شوکی جھوٹے کا کردار خس و خاشاک زمانے میں سانپوں کی فصل ، ایک رات میں بال سفید ہو جانا وغیرہ اور کہانیوں میں ’’جوہڑ میں ڈوب چکی لڑکی‘‘ اور’’ایک سنو ٹائیگر کی سرگزشت‘‘ جیسے فن پاروں میں انہوں نے اس تکنیک کو عمدگی سے استعمال کیا ہے۔’’راکھ‘‘ میںبھی انہوں نے یہ تکنیک استعمال کی ہے۔ یہاںان سے بات نہیں بنی۔ وادیِ سوات کے سلیٹی منظر میں وے سائیڈ ہوٹل کے پاس آلوچوںکے درختوں پر رات کو یک دم شگوفے کھِل جاتے ہیںجب کہ ابھی ان کا موسم نہیں آیا۔ یہ ایک جادوئی منظر تھا۔ کرداروں کے ساتھ ساتھ قاری بھی متحیر رہ جاتا ہے لیکن اس ایک دفعہ کی پیش کش کے بعد تارڑ صاحب نے اسے بازیچۂ اطفال بنا لیا او ر پورے ناول میں جہاں دل کرے، وہاں آلوچوں کا شگوفہ گرا دیتے ہیں۔ ملیر کینٹ میں مردان کے قدموں میں ایک شگوفہ آ گرتاہے، گرمیوںکی رات بہاولپور کے صحرا میں شگوفے ٹپکنے لگتے ہیں۔ شاہ عالمی کا مندر مسمار کرتے وقت مشاہد زخمی ہو کر گر جاتا ہے، وہاں بھی شگوفے کا تحفہ اسے وصول ہو جاتا ہے۔حتیٰ کہ فاطمہ کے خیالوںمیں جو تصویر بن رہی ہے، وہاں بھی دریائے ٹرینٹ میں کشتیوں جتنے بڑے بڑے سفید شگوفے سطح پر تیر رہے ہیں۔ سب سے مضحکہ خیز وہ جگہ ہے جہاں بابو پٹیل کے قدموں میںشگوفہ لوٹنے لگتا ہے۔یہ مسئلہ یوں ہے کہ ناول میں پہلی دفعہ بے وقت شگوفے کھلنے کا وقت 1991کا دسمبر ہے۔کیوں کہ اس وقت تمام کردار توقع کر رہے ہوتے ہیں کہ شگوفے ابھی چند ہفتوں بعد کھلیں گے اور جب شگوفے کھلتے ہیں تو ان پر ایسی ہی حیرت ہے جیسے پہلی دفعہ دیکھ رہے ہوں۔ اگر یہ شگوفے کھلنے کا عمل1991میں پہلی دفعہ ہوا تو پھر اس سے 34سال پہلے بابو کے قدموں میں کیسے پہنچ گیا۔جادو اپنی انتہا پر پہنچا ہوا ہے۔


کسی بھی انوکھی چیز کو ایک آدھ دفعہ استعمال کیا جائے تو حیرت ہوتی ہے۔حظ ملتا ہے۔ لیکن اس چیز کو کھلونا بنا یا جائے اور جہاں جی چاہے ، موقع محل دیکھے بغیر چلا دیا جائے توقاری بیزار ہونے لگتا ہے۔ اس ناول میں جا بجا شگوفے کا گرنا بھی ایسا ہی بیزار کن عمل ہے۔یوں لگتا ہے کہ مشاہد کنگھی کرے گا تو بالوں میںسے ایک شگوفہ نکل آ ئے گا۔ برگیتا بستر کی چادر جھاڑے گی تو دو چار شگوفے ٹپک پڑیں گے۔ شوبھا فوکسی کے اندر بیٹھے گی تو سیٹ پر شگوفہ کھِلا پڑا ہوگا۔تارڑ صاحب نے اس جادوئی حقیقت نگاری کو اس قدر ارزاں کرد یا کہ جادو کی بجائے محض شعبدے کی سطح پر اتر آیا ہے۔استعمال کی کثرت کے علاوہ جادوئی حقیقت نگارعمل کی کوئی معنویت بھی ہونی چاہیے ورنہ Ben Okriاور Murakamiکی طرح یہ تکنیک بے معانی ہو جاتی ہے۔اُن لوگوں کے ہاں بھی جادوئی حقیقت نگاری برائے جادوئی حقیقت نگاری ہی نظر آتی ہے۔ نہ موقع ہوتا ہے نہ اس کا کوئی مطلب ہوتا ہے۔ بس مافوق الفطرت عناصر لا کرسیدھے سادے بیانیے میں گھول دیے۔وہ لوگ اس تکنیک کو پبلسٹی سٹنٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔تارڑ صاحب کے ہاں وہ شدت پسندی تو نہیں لیکن اس جادوئی حقیقت نگار عنصر کی معنویت ان سے بھی پیدا نہ ہو سکی۔اس کے ساتھ ایک اور شعبدہ جو انہوں نے بلاوجہ دکھایا ہے۔’’راکھ‘‘ کے آخرمیں مشاہد لوگوں کی کوٹھی میں مور آ جاتا ہے۔بیانیے کی پوری کوشش ہے کہ یہ ’’بہائو‘‘ والا مور سمجھا جائے۔ ایک ناول سے دوسرے ناول میں کردار کا لے جانا ناول نگار کا عجز ہے۔ (جب تارڑ صاحب سے بیانیے میں بات نہیں بنتی تو وہ ضرور’’بہائو‘‘ سے رجوع کرتے ہیں۔ خس و خاشاک زمانے میں بھی انہوں نے ’’بہائو‘‘ کے کرداروں کو خوب رگیدا ہے۔)خیر یہ مور آیا اور ماشااللہ سے اس کا وجود ناول میں بے معنی ہی رہا۔پھر بے مصرف کردار کی طرح اسے مارد یا گیا۔ مرنے کے بعد پوری کوٹھی کے سات کمروں میں اس کے نشان ہیں۔ایک عام سے مور کو مرنے کے بعد ولایت کا درجہ دے دیا گیا۔ اور محض اسی پر اکتفا نہیں، لاہور میں مرنے والے مور کے پیروں کے نشان اسلام آباد کی کوٹھی میںبھی جا پہنچے۔ شعبدہ گری کا سلسلہ دور تک جاری رہا۔
مستنصر حسین تارڑ کی سب سے بڑی پہچان سفرنامہ نگاری ہے۔ ناول لکھنے سے پہلے وہ سفر نامہ نگاری میں اپنا نمایاں مقام حاصل کر چکے تھے۔ ناول کے علاوہ کچھ اور لکھنے میں عیب نہیں اور نہ ہی ناول نگار کو اس پہ نام رکھا جاسکتا ہے لیکن ناول لکھتے وقت اپنی دوسری شناختیں بھلانی پڑتی ہیں اور ناول کے اندر فنا ہونا پڑتا ہے۔ ناول کی صنف مصنف کی تمام شخصیت کی توقیف کا نام ہے۔ پورے کا پورا ناول مصنف کے ذاتی تجربے کا عکاس ہوتا ہے لیکن ناول کا تقاضاہوتا ہے کہ مصنف پوری طرح اپنے آپ کو فنا کر دے۔ ناول کے کردار ، واقعات ، مکالمے ، مناظر سبھی میں خود مصنف کی اپنی چھایا بھی نہیں ملنی چاہیے۔ناول جس قدر مصنف کی شخصیت سے بیگانہ ہو ، اسی قدر ناول اعلیٰ درجے کا ہوگا ۔ ’’راکھ‘‘ میں تارڑ صاحب اپنی سفرنامہ نگار کی حیثیت ایک طرف نہ رکھ سکے۔ ناول پڑھتے ہوئے یہی احساس ہوتا ہے کہ ہم ناول کی بجائے ایک سفرنامہ پڑھ رہے ہیں۔ بس فرق اتنا ہے کہ اس سفرنامے میں سفر کرنے والے لوگوں کے نام افسانوی ہیں۔ قادر آباد سے لاہو ر کا سفر،گائوں کا سفر۔ وادیِ سوات کا سفر۔ انگلینڈ کا سفر۔ ڈنمارک کا سفر۔برلن کا سفر۔سوئٹزر لینڈ کا سفر۔سویڈن کا سفر۔ بنگال کا سفر۔ بہاولپور کا سفر۔ کراچی کا سفر۔ان سبھی اسفار کو ملا کر ناول ترتیب دیا گیا ہے۔


سفرنامہ اور ناول لکھنے کی بنیادی ترکیب میں بہت فرق ہے۔سفرنامہ آسان صنف ہے۔کسی حد تک دیکھے ہوئے مقامات اور بیتے ہوئے واقعات کا بیان کرناہے۔ سفرنامہ نگار نے قاری کو معلومات دینی ہیں ۔ ان جانے مگر مشہور اور قابلِدید مقامات سے متعارف کرواناہوتا ہے۔ جگہ یا تو مارکیٹ ویلیو رکھتی ہو یا پھر اس کا بیان ایسا کرنا پڑتا ہے کہ اس کی مارکیٹ بن سکے۔ اسلوب ہلکا پھلکا رکھنا پڑتا ہے تا کہ پڑھنے والا محظوظ ہو سکے۔سفرنامے میں واقعات نے آگے جا کر اپنا اثر نہیں دکھانا ہوتا، سو جو مرضی دکھاتے جائیں ۔ اس کے برعکس ناول ایک بڑی سرگرمی ہے۔ بھاری ذمہ داری ہے۔ تمام زندگی میں دیکھی ، سنی اور دل پر گزری وارداتیں سبھی ملا کرا یک پیچیدہ ہیئت تشکیل دینی ہوتی ہے جس میں یہ سب چیزیںآپس میںنامیاتی تعلق قائم کر لیں اور مصنف کی شخصیت سے الگ ہو جائیں۔ واقعات کو ایسے گوندھنا پڑتا ہے کہ جو بات کہنی ہو،اس کا اظہار واقعات کی شکل میں خود بخود ہو جائے ۔ یہاں کسی منظر کی مارکیٹ ویلیو یا سیاحوں کے لیے کشش کی صلاحیت نہیں دیکھی جاتی۔عام سے عام اور معمولی ترین منظر بھی ہو تو اسے فنکارانہ خلاقی سے زندہ کر دینا ہوتا ہے۔ ناول سنجیدگی سے اپنے موضوع کی طرف بڑھتا ہے بے شک وہ مزاحیہ ناول ہو ۔ Catch-22, The Good Soldier, Tristram shandy, Don Quixotجیسے ناول مزاحیہ ہونے کے باوجود ناول کی روایت میںمعتبر نام ہیں۔ناول میں کوئی واقعہ آزاد نہیں ہوتا۔ ہر واقعے نے آگے جا کر کسی اور واقعہ کے ساتھ جڑنا ہوتا ہے۔یہاں واقعہ دکھاتے وقت آگے کی تمام منصوبہ بندی بھی ذہن میں رکھنی پڑتی ہے۔تارڑ صاحب ’’راکھ‘‘ میں یہ حدِ فاصل قائم نہ کر پائے۔ انہوں نے اپنی طرف سے ناول لکھنے کی کوشش کی مگر سفرنامہ لکھنے کی طویل مشق کی بنا پر بے دھیانی میں سفرنامہ ہی لکھتے رہے۔اسے ناول بنانے پر محنت نہ کی۔ فرق یہ ہے کہ یہاںکردار افسانوی اور سفرنامہ کسی ایک مقام کی بجائے بہت سے مقاما ت کا ہے۔تارڑ صاحب نے کہانی کو کسی مربوط انداز میں چلانے کی بجائے مختلف جگہوں کے سفرنامے دکھا دیے ہیں۔ اور ملکوں ملکوںگھومنے والا ناول کسی ایک جگہ کی بھی وہ تصویر کشی نہ کرسکا جو کسی ناول کی خاصیت ہوتی ہے۔ جہاں بھی گئے، وہاں کی کسی مشہور جگہ یا عمارت کا ہی ذکر کیا جس کی سیاحتی قدروقیمت بھی ہو۔ نوٹنگھم گئے تو رابن کاسل، سویڈن گئے تو دریائے یوٹا، سوئٹزر لینڈ گئے تو کاسینو پلاتز، بنگال گئے تو ناریل کے درخت اور بادبانی کشتیاں، کراچی میں صرف فسادات کے عفریت کا وحشیانہ رقص، سبھی جگہوں پر ان چیزوں کا ذکر کیا جو عالمی شہرت رکھتی ہے اور کسی بھی ٹورسٹ کو محکمہ سیاحت کے پمفلٹ سے معلوم ہو سکتے ہیں۔ ایسی جگہیں جہان سے سرسری گزرنے پر بھی نظر آ جاتی ہیں۔ ناول نگار کو تو ان گوشوں کو دیکھنا ہوتا ہے جو وہاں صدیوں سے رہنے والے لوگ بھی نہیں جانتے۔ناول نگار سے جو تقاضا ہوتا ہے کہ زندگی کے اصل رنگ دکھائے جو کسی علاقے کی سطح زمین سے نیچے کھِلے ہوتے ہیں ، چاردیواریوں کے پیچھے، لباسوں کے اندر اور ذہن کے نہاں گوشوں میں چھپے ہوتے ہیں، وہ تارڑ صاحب نہ کر سکے۔


سفرنامے اور ناول میں یہ فرق بنیادی ہے کہ سفرنامے میں آپ کوئی بھی واقعہ بتا سکتے ہیں ، بس شرط یہ ہے کہ واقعہ دلچسپ ہو۔ اس کی ہیئت بہت کھُلی ڈُلی اور آزاد ہوتی ہے۔ ناول میں بھی ہر قسم کا واقعہ شامل کیا جا سکتا ہے کہ لیکن شرط کڑی ہوتی ہے۔ واقعہ ناول کے مرکزی نظام کے ساتھ ربط رکھتا ہو۔ ناول کی فارم میں ڈھل کر آئے۔ تارڑ صاحب نے اس فرق کو قائم رکھے بغیر ’’راکھ‘‘ میں بیسیوں ایسے واقعات شامل کر دیے جو سفر نامے میں دلچسپ لگ سکتے تھے لیکن ناول کے اندر ان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ مثلاً لکشمی مینشن کے تمام واقعات … ان کا ناول میں ہونا ناگزیر نہیں۔ منٹو صاحب، گروچو مارکس اور ایوا گارڈنر کی جگہ کوئی بھی اور افراد ہو سکتے تھے۔ ناول کے لیے نہ تو ناگزیر ہیں اور نہ ناول پر اثر انداز ہوتے ہیں۔انہوں نے محض دلچسپی برقرار رکھی۔ ان واقعات کی جگہ کوئی اور دلچسپ واقعات ہوتے تب بھی کام چل سکتا تھا۔ گائوں جانے کا واقعہ بالکل بے مقصد ہے اور اس کے بعد ناول میں دوبارہ گائوں کا ذکر بھی نہ آیا، بلکہ جس جگہ ذکر ہوا، وہاں بھی گائوں تک جانے کا مرحلہ بیان کیا گیا، گائوں میں کیا بیتا، کیا کچھ ہوا، اس کا کوئی اشارہ تک نہیں۔واضح معلوم ہوتا ہے کہ اس دن گائوں بھیجنے کا مقصد ہندو /سکھ مہاجروں کی کٹی ہوئی ٹرین دکھانا تھا جو کامونکی سٹیشن پر کھڑی تھی۔(وہی کردار کو گھسیٹ کر خارجی واقعہ تک لے جانا۔)انگلینڈ کے تمام واقعات بھی محض دلچسپی کی شرط پوری کرتے ہیں۔ ناول کا حصہ نہیں بنتے۔ خالد کوکی مشاہد کو لڑکیاں رجھانے کی اتنی تربیت دی۔ استاد بنا دیا۔مشاہد چار سال میں صرف ایک کرسٹین سے تعلق بنا پایا اور ایک جوائے سے جو تھی ہی تھنگ فار جوائے فار ایور۔ پاکستان آ کر 30سال تک کسی عورت سے کوئی تعلق بنانے کا اشارہ تک نہیں۔انگلینڈ کے یہ سارے واقعات بھی بے معنی اور بے جواز ہیںاور ناول کی بجائے سفر نامے کا حصہ لگتے ہیں ۔ وادیِ سوات کے مناظر بھی سفرنامے کے مناظر ہی رہے۔ بہاولپور کی دعوت بالکل بے مقصد ہے۔ ناول میں اس کی جگہ تھی ہی نہیں۔ اس کے علاوہ بھی جس طرح کے مناظر ہیں، واقعات ہیں، ان پر زیادہ تر حاوی انداز سفرناموں کا ہے، ناول کا نہیں۔اس پر مستزاد زبان بھی وہی استعمال ہوتی ہے جو سفرنامے کے لیے حسن ہے اور ناول کے نامۂ اعمال میں سیاہی۔ شاعرانہ،غیر منطقی، اِدھر سے اُدھر شوخی کرتی ہوئی۔
مجموعی طور پر ’’راکھ‘‘ ایک ایسا ناول ہے جو ایک اعلیٰ درجے کا ناول نہیں کہا جا سکتا۔ یقینا یہ مستنصر حسین تارڑ کی لکھنے کی طویل مشق کا حاصل ہے ورنہ انہوں نے اس پر اتنی محنت نہیں کی جتنی ’’بہائو‘‘ پر کی گئی تھی۔ یہ ناول لکھتے ہوئے وہ ناول کے فن کے ساتھ پوری طرح سنجیدہ نہ تھے اور نہ ہی انہوں نے اپنے ناول کو پوری طرح خود سمجھنے کی کوشش کی۔ موضوع اوپر سطح پر تیرتے نظر آتے ہیں۔ واقعات کو صحیح طرح سے گوندھ کر ناول کا جزوِ لاینفک نہیں بنایا گیا۔کسی ایک لڑی میں پرونے کی بجائے بکھرے بکھرے واقعات ہیں جن میں بیسیوں واقعات کے بدل دینے یا حذف کردینے سے ناول کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔بہت کچھ اضافی ہے، بہت کچھ غیر ضروری ہے۔ زبان کا جو رنگ حاوی ہے، وہ نہ تو ناول کے موضوع کے لیے موزوں ہے اور نہ ہی تخلیقی احساس رکھتا ہے۔ ناول کے واقعات مل کر کوئی اہم نکتہ نہیں ابھرتے ، نہ ہی کسی ایک مرکزی نظام سے وابستہ ہیں۔ پورا ناول سفرنامہ کے انداز میںلکھا گیا ہے ۔ ہلکا پھلکا اور دلچسپ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ناول کی ہیئت کو سنبھالنے کی نہیں۔سو ان سب خرابیوں کے بعد یہ کہنے میں حرج نہیں ہونا چاہیے کہ ’’راکھ‘‘ ایک اچھے ناول کے پیمانے پر پورا نہیں اترتا اور ’’بہائو‘‘ کا مصنف ’’راکھ‘‘ تک آ کر ناول کے فن کے ساتھ بے گانہ ہو چکا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

کمنٹ کریں