رات کی رانی مصفنہ رابعہ الرباء

تجزیہ : راشد جاوید احمد

, رات کی رانی مصفنہ رابعہ الرباء

خوبصورت سرورق اور خوبصورت نام والا یہ افسانوں کا مجموعہ کچھ برس پہلے شائع ہوا لیکن شومئی قسمت سے مجھے پڑھنے کو ابھی میسر ہوا۔ اس پر بہت سے اہل قلم نے بہت کچھ لکھا ہوگا۔ کتاب کے مطالعے کے بعد میں نے سوچا کہ اب اتنے عرصے بعد میں اس پر کیا لکھوں لیکن اس مجموعے کے افسانوں نے لکھنے کی انگیخت” مٹھی “نہیں ہونے دی۔
۔ خیر ” رات کی رانی ” کی تلاوت مکمل ہوئی۔ مجموعی طور پر سب کہانیاں اچھی ہیں بلکہ بہت اچھی بھی کہہ سکتا ہوں کہ ان میں روایتی عورتوں والے ، بانجھ عورتوں، نر پیدا نہ کرنے والی عورتوں، چھ بہنوں کے اکیلے بھائی والے قصے نہیں جو “زیب انساء” اور “حور ” جیسے پرچوں کے زمانوں سے اب تک لکھے جا رہے ہیں۔ موجود ہیں ایسے مسائل لیکن ان پر بہت صفحات کالے ہو چکے ہیں اور کچھ خواتین اب بھی کالے کر رہی ہیں۔


ان کہانیوں میں لکھنے والے کے ارد گرد، آس پاس جو کچھ بیت رہا ہے انکی عکاسی ہے اور ایک سمجھ دار افسانہ نگار ایسا ہی کرتا ہے۔ رابعہ الربا نے اپنے ارد گرد جیتی جاگتی زندگی کو پیش کیا ہے جہاں کمزوریاں اور کجیاں دونوں موجود ہیں۔ ان کی کہانیوں میں اس دور کے مسائل اور عورت کو درپیش مشکلات کے بارے میں معاشرے کے دوہرے معیار زندگی کی تصویر کشی ہے۔اس افسانوی مجموعے میں کہانی نویس نے عورتوں کے حقوق کا کوئی پلے کارڈ نہیں اٹھا رکھا جیسا کہ اکثر مرد و خواتین کے لکھے نثر پاروں میں نظر آتا ہے۔ نہ ہی انہوں نے مرد کو ہر برائی اور تباہی کے لیے مورد الزام گردانا ہے۔ یہ کہانیاں عورت کو مرکزی کردار مانتے ہوئے اس کے ساتھ جڑے معاشرے کی سچی اور کھری تصویریں ہیں۔ معاشرے کی اٹھان مین مرد اور عورت اہم ترین جزو ہیں اور ان کے آپسی تعلق کا توازن ہی معاشرے کا توازن اور اس کا بگاڑ ہی معاشرے کا بگاڑ ہے۔


کہانیوں کے کرداروں کی نفسیات، انکے احساسات اور جن کیفیات سے وہ گزرتے ہیں ان کا بیان بہت خوبصورتی سے پڑھنے کو ملا ہے اور یہ سب کردار اسی معاشرے میں زندہ ہیں، ماورائی نہیں۔ کہیں کہیں ڈکشن میں افسانوی رنگ کا غلبہ زیادہ ہے۔
ان افسانوں میں، معاشرتی اونچ نیچ کا ذکر ہے اور اسکی وجہ سے در آنے والی نا امیدیوں کا بیان ہے (افسانہ: راج مہر ) –مادیت پرستی کے اس دور میں آپسی پیداواری تجارتی قسم کے رشتے بھی عورت کی نفسیات پر گہرے نقوش چھوڑتے ہیں ، ان افسانوں میں اس پہلو کی کمی محسوس ہوئی ہے۔ عورت کی نفسیات کی گرہیں لفظوں، جملوں اور تخلیقی انداز میں خوب اچھی طرح سے کھولنے کی کوشش کی گئی ہے اور افسانہ نگار کی محنت کی چغلی کھاتی نظر آتی ہے۔ یہ محنت، شعوری کوشش نہیں بلکہ مشاہدے کی محنت ہے، دیکھنے، سمجھنے، ہضم کرنے اور پھر تخلیق کرنے کی محنت۔


عورت جن فرسودہ روایات، جمود پرستی، وراثتی جبر کے علاوہ شوہر یا مرد کے اضافی جبر کی شکار ہے اسکی بہت اچھی تشریح کی ہے افسانہ نگار نے۔ ان کہانیوں میں زبان سلیس اور سادہ ہے اور جیتے جاگتے کرداروں کی نفسیات، جذبات اور حسیات کی تفصیل کے باوجود افسانوں میں ” مختصر افسانہ” والی بات نمایاں ہے جو مجھے ذاتی طور پر بہت پسند ہے۔ کہیں کہیں تجرید اور علامت بھی در آئی ہے لیکن اس میں جو نیا پن اور تازگی ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ شعوری کوشش نہیں۔ کہانیوں میں کہیں کہیں بایئوگرافی بھی جھلکتی ہے، ہو سکتا ہے میری نظر کا دھوکہ ہو لیکن لکھنے والا اپنی کہانیوں سے الگ کیسے رہ سکتا ہے۔ یہ صرف عورت پر ہی صاد نہیں ، میرے خیال میں تو اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مرد ، عورت کے دکھ کو موضوع بنائے اور عورت اپنی ذات سے نکل کر سیاسی، سماجی اور عصری حقائق کو اپنی کہانیوں میں پیش کرے تاکہ معاشرہ بگڑے توازن کو بحال کر سکے۔
“سماج۔ گرھیں۔ راج مہر۔ فال۔ چا چا قیدو۔ گلشن۔ ثمار۔ واہ رے ماں۔ عمدہ کہانیاں ہیں۔ ” پپی” میں شاعری کچھ زیادہ ہے، اسے نثری نظم ہونا چاہیئے تھا


“ذرا پاس آ جایئے۔ ادبی خدمات اور بلا عنوان” بہت ہی عمدہ افسانے ہیں۔ عام طور پر کتاب کے نام کی کہانی بھی مجموعے میں شامل ہوتی ہے،( ضروری نہیں)، میرے خیال میں ” بلا عنوان” کا نام رات کی رانی ہونا چاہیئے۔

شیئر کریں
راشد جاوید احمد کا تعلق علامہ اقبال ٹاون لاہورسے ہے۔یہ ریٹائرڈ بنک ایگزیکٹو ہیں ۔افسانہ نگار۔ ڈرامہ نگار۔ کاپی رائٹر۔ بلاگر ہیں ، پین سلپس میگزین کے نام سے ہفتہ وار اردو/پنجابی ای میگزین بھی شائع کرتے ہیں ۔

کمنٹ کریں