رفیع رضا ایک طاقتور شاعر

رفیع رضا فرحت عباس شاہ rafi raza farhat abbas shah poetry

رفیع رضا غیر معمولی شعری صلاحیتوں سے بھرا ہوا ایک انتہاٸی حساس شاعر ھے ۔ ایسا شاعر جس کے اواٸل میں ہی تخلیقی تیور دیکھ کر کمتر درجے کے تخلیقی شاعر لرز اٹھے اور اس کی خداداد تخلیقی قوت سے خوفزدہ ہو کر اس پر چاروں سمت سے حملہ آور ہوگٸے۔ شروع شروع میں انہوں نے اسے ذاتی لڑاٸیوں میں الجھایا لیکن اس کے جوابی حملوں سے گھبرا کے اسے کمال مکاری سے ہر سوچنے والے کی طرح اسکے اندر بھی پاٸی جانے والی تشکیک کو زریعہ بنا کے اسےخدا اور مذاہب کے خلاف بولنے پر لگانے میں کامیاب ہوگٸے۔

رفیع رضا اپنے بےقابو غصے کے باعث اپنی تشکیک کی علمی طور پر تشفی کرنے اور سچاٸی کی تلاش کے سفر پر نکلنے کی بجاے خدا کے انکار اور توہین مذہب جیسی دلآزاری جیسے غیر شاعرانہ کاموں پر لگ گیا جس کی باعث ایک طرف سے اسے گالیاں پڑنا شروع ہوگٸیں تو دوسری طرف سے حوصلہ افزاٸی شروع ہوگٸی۔

اس تمام تر دو طرفہ دباو کے باوجود رفیع کے اندر بیٹھا طاقتور شاعر زندہ رہا اور قدم قدم پر شاعر رفیع رضا کو خود اس پر اور اس کے باشعور قاری پر آشکار کرتا رہا ۔

وُھی دِکھاتا ھے منظر نئے زمانوں کا
جو آئینہ ذرا تِرچھا وجود رکھتا ھے

وہ منہ سے کچھ کہتا رہا لیکن اس کی شاعری میں جگہ جگہ خدا سے مکالمے اور شکوے کے علاوہ خدا کو ماننے والوں کی فرعونیت ، ظلم اور بے انصافی کے خلاف صداے احتجاج بلند ہوتی رہی ۔

لوگوں نے اُس بہشت کے چکّر میں یہ زمین
دوزخ بنائی اور یہیں خاک ھو گئے

.

دُھائی دُوں بھی تو آخر، مَیں کِس خُدا کی دُوں؟
کہ سب شریکِ خُدا ھیں ، خُدا کے ھوتے ھُوئے

.

پاؤں جمتے نہیں پہلے ھی خُداوند مِرے
یہ زمین اور گُھمانے کی ضرورت نہیں ھے

رفیع رضا کی شاعری میں اقرار کو حسن قرار دٸیے جانے کا خیال اور انکار کے قبیح ہونے پر اصرار پوری قوت سے ملتا ھے ۔ لیکن وہ اقرار کی جس منزل کی تلاش میں ھے اس کا راستہ اسے ساٸینس اور منطق کی بنیاد پر چاہٸیے نہ کہ مذہب کے بتاٸے گٸے قرینے سے ۔ یہاں سب سے بڑا مسٸلہ یہ ھے کہ ساٸنسی تھیوریوں کی اپنی بنیاد مفروضوں پر قاٸم ھے تو وہ حقیقت مطلق تک کیسے پہنچ سکتی ھے۔

ساٸنس اپنی تمام تر ترقی کے باوجود اس سوال کا جواب نہیں دے سکی کہ اتنی بڑی کاٸنات وجود میں کیسے آگٸی اور کاٸناتی توازن کا نظام کیسے جاری و ساری ہوگیا ۔ یعنی ساٸنسی اجتماعی شعور کی بے بسی دیکھیے کہ بگ بینگ اور ڈارون کے نظریہ ارتقاء جیسے مفروضوں پر قاٸم ھے جبکہ ساٸنس کی آڑ میں دبکے بیٹھے پناہگیر تصور خدا کی حقیقت تک پہچنے کی بجاے اسے انسانی مفروضہ قرار دے کر رد کردینے کے درپۓ ہیں ۔ یہی المیہ رفیع رضا کو کہیں اندر سے بے چین رکھے ہوے ہے ۔

جوڑتا رہتا ہوں ٹُوٹی ہوئی آوازوں کو
شور اتنا ہے،،، سُنائی نہیں دیتا سائیں
.
تُو بُلاتا ہے مگر،بیچ میں رستہ تو لگا
کوئی جاتا بھی دکھائی نہیں دیتا سائیں
.
باہر اک دشت بتاتا ہے کہ آزاد ہوں مَیں
کوئی اندر سے، رہائی نہیں دیتا سائیں
کسی منظر سے نکل آتی ہے حیرت تیری
تُو مُجھے، پُوری جُدائی نہیں دیتا سائیں
یہ جو آنکھیں مَیں کسی پھول پہ رکھ دیتا ھُون
مُجھے کُچھ اور سُجھائی نہیں دیتا سائیں

جداٸی ، نارساٸی اور راٸیگانی اس کی شاعری کے بنیادی موضوع ہیں ۔
وطن سے جداٸی کے دکھ نے نارساٸی اور بے بسی کے احساس سے مل کر اسے جس کرب کا شکار کیا، ایک کبھی نہ مندمل ہو پانے والے زخم کی طرح منہ چھپا کے چھپا کے اس کی شاعری میں در آتا ھے ۔

دیکھئے آپ کی مرضی پہ نہیں رھنا ھے
یہ جگہ چھوڑ بھی جاؤں تو، یہِیں رھنا ھے
۔
مانا، لہو چراغ کا ضائع نہیں گیا
لیکن اُفق پہ صبح کے آثآر کیوں نہیں

اب رنجِ رائیگاں بھی نہیں ھے ھمارے پاس
ایسا خلا سیاہ ستاروں میں عام ھے

اگرچہ وہ ہر طرح کے خیالات حتی کہ مطالعے سے حاصل کیے گٸے خیالات کو بھی براہ راست شعر بنانے پر قادر ھے لیکن اس کے ہاں ذہنی فشار اور بے کلی نے ایسے ایسے شعر کا روپ دھارا کہ یہ کیفیت اور شدت کسی اور شاعر کے ہاں نہیں ملتی ۔

پڑی ھے لاش، بچاؤ کرانے والے کی
جو لڑ رھے تھے وُہ اب صُلح کرنے والے ھیں

رفیع رضا بنیادی طور معاشعرتی بے انصافی اور انسانی ابتری پر نوحہ کناں شاعر ھے ۔ اسے انسانوں کا مذاہب ، فرقوں ، گروہوں اور طبقوں میں تقسیم ہوکر ایک دوسرے کے لیے عذاب کھڑے کرنا تکلیف دیتا ھے

کُچھ نہ کُچھ بیچ میں رھتا ھے فصیلوں کی طرح
لوگ تقسیم ھیں ماضی کے قبیلوں کی طرح
عرضیاں پھاڑتے جاتے ھو اپیلوں کی طرح
جِرح کرتے ھو مخالف کے وکیلوں کی طرح
ھم سے برتاؤ کیا تُم نے۔۔۔ ذلیلوں کی طرح
یعنی شیخوں کی طرح اور کفیلوں کی طرح
مرنے والوں کو بھی آرام کہاں مِلتا ھے
لوگ لاشوں پہ جھپٹ پڑتے ھیں چِیلوں کی طرح
کیسے تصویرِ سخن پر تری تصویر جَڑُوں
لفظ کُھب جائیں نہ تصویر میں کِیلوں کی طرح
تُم تو ایسے ھو کہ ماتم بھی نہیں کر سکتے
دل بَھر آئے بھی تو روتے ھو بخیلوں کی طرح
وقت کی تیز ھوا جسم بھی ڈھا دیتی ھے
تُم بھی ڈھے جاو گے ان ریت کے ٹیلوں کی طرح
اب بھی آواز کی مہکار سے بھر جاتا ھُوں
ھائے کیا ھونٹ تھے خوشبو کی سبیلوں کی طرح
کچھ پرندے ھیں مِرے ساتھ ارادوں جیسے
کُچھ ستارے ھیں چمک دار وسیلوں کی طرح
یہ حوالے تمھیں آئیندہ بھی کام آئیں گے
پیش کرتا ھُوں جو اشعار ، دلیلوں کی طرح

ہر غور فکر کرنے والے کی طرح کاٸناتی وسعتیں اور ان میں کارفرما نظام اسے سوچنے پر مجبور کرتا ھے لیکن نارساٸی اسے اسیری کے شدید احساس میں لپٹت لیتی ھے ۔

زندانِ دو جہان کی ۔۔۔۔ وُسعت میں قید ھُوں
کِس کو خبر مَیں کس کی محبّت میں قید ھُوں
پنجرے سمیت اُڑنا بھی مُشکل نہیں مُجھے
مَیں تو ذرا بدن کی مُروّت میں قید ھُوں
صدیوں سے مَیں اَسیرِ خلا تھا ، رِہا ھُوا
اب کہکشاں کے جُرمِ بغاوت میں قید ھُوں
اللہ کرے کہ قیدی پرندوں کی خیر ھو
مَیں بھی یہاں پروں کی ضرورت میں قید ھُوں
آدھا اِدھر پڑا ھُوں بدن کے نشیب میں
آدھا مَیں لامکاں کی عمارت میں قید ھُوں
چیخیں ھیں یہ مری کہ مرے قہقہے ھیں یہ
دھشت میں قید ھُوں کہ مَیں وحشت میں قید ھُوں
گِننے میں کیا ثواب ، نہ گِننے میں کیا گناہ
کب سے نگاہِ یار کی غفلت میں قید ھُوں
لگتا ھے جیسے رنگ و مَہک ھے ترا بدن
لگتا نہیں کہ جسم کی شہوت میں قید ھُوں
اِس زاوئیے سے دیکھنا ممکن نہیں ابھی
صُورت میں قید ھُوں نہ مَیں سِیرت میں قید ھُوں
دیکھ اے اسیرِ وقت تُو ضائع نہ کر مُجھے
مَیں بھی پلک جھپکنے کی ساعت میں قید ھُوں
اسی تناظر میں ایک اور غزل دیکھٸیے ۔
دیکھئے آپ کی مرضی پہ نہیں رھنا ھے
یہ جگہ چھوڑ بھی جاؤں تو، یہِیں رھنا ھے
لوگ آ جاتے ھیں اور ساتھ میں بس جاتے ھیں
اب جو رھنا ھے تو بس اپنے تئیں رھنا ھے
ایسی اک سمت میں ھونا ھے جو پہلے نہیں ھو
دُور رھنا ھے کسی کے نہ قریں رھنا ھے
ساری بدصورتی انکار نے لے جانی ھے
اور اقرار کے لمحوں نے حسیں رھنا ھے
جتنے دن مَیں نے تِری بات نہیں کرنی ھے
اُتنے دِن لاوہ کوئی ،زیرِ زمیں رھنا ھے
اُٹھ کے جاتے ھوئے درویشوں کو روکو لوگو
ورنہ اِس دیس میں دُکھ، تخت نَشِیں رھنا ھے
میرا کیا ھے تِرا نقصان ھے اے حیرتِ کُل
نہ گُماں رھنا ھے باقی نہ یقِیں رھنا ھے
دِل ھے میرا کوئی کعبہ تو نہیں ھے کہ جہاں
وھم رھنے کی طرح کوئی مَکِیں رھنا ھے
کُنجِ یاراں میں اُسی شانہِؑ حیرت کے قریب
اب جو رھنا ھے تو بس ھم نے وھیں رھنا ھے
فرق ھے عشق و محبّت کے سفر میں سائیں
کہیں رُکنا ھے ھمیں، اور کہِیں رھنا ھے
تابِ نظّارہ ترے پیروں سے مدّھم تو نہیں
بس یہ ضِد ھے کہ مجھے تابِ جبیں رھنا ھے
میری مجبوری ھے مَیں زیرِ زمیں جاؤں گا
اُس کی مجبوری اُسے عرش نشیں رھنا ھے

ایک اور غزل دیکھٸیے جس میں رفیع دنیا بھر کے فلسفیانہ سوالات و مساٸل اور مباحث کو اپنی تخلیقی قوت سے پچھاڑتا ھوا عقل پر قلبی واردات کی فضیلت ثابت کرتا ھے ۔ شکوے کی تلخی اور اندوہ کےغیر واضح رکھے گٸے حقاٸق پر کیے گٸے ماتم سے لبریز ہر شعر عقیدوں میں ملفوف کی گٸی تسلی کی حقیقت اور بے یقینی کی کشمکش سے پیدا ہونے والے المیے کا بین ھے۔

ایسا بین جو دل و دماغ کو کہیں بہت اندر سے جھنجھوڑتا ھے ۔ کلاسیکی شاعری کی عظمت گزشتہ کے ملبے تلے دبے شاعر پتہ نہیں میر و غالب کی چھاوں میں اپنے احساس کمتری کو کب تک چھپاتے رہیں گے ۔ ہمیں آج کے قدآور شاعر کا اعتراف کرنا ہوگا ۔ ہم رفیع رضا کے ہوتے ہوے بھی کب تک جھوٹ بولتے رہیں گے کہ اب بڑا شاعر نہیں رہا یا یہ کہ اب بڑی شاعری نہیں ہورہی ۔ اگر کسی کو میری بات پر اعتراض ھے تو اس غزل کے سامنے کوٸی غزل لا کے رکھے ۔

کہیں ضرور کوئی ماورائے دُنیا ھے
وُھی جگہ ھے جہاں انتہائے دُنیا ھے
تمام عُمر لگائی ھے یہ سمجھنے میں
کوئی تو وجہ ھے کچھ تو بِنائے دُنیا ھے
وُہ مِحوِ شمس و قمر ھے کہ محوِ خواب و خیال
خُدائے خلق ھے یا وُہ خُدائے دُنیا ھے
تو پھر وُہ منزلِ دُنیا ھے کتنی دُوری پر
اگر زمین ھماری ، سرائے دُنیا ھے
پچاس سال لگے مجھ کو یہ سمجھنے میں
عطا نہیں جو ھُوا، وُہ عطائے دُنیا ھے
کبھی وُہ کہہ نہیں سکتا خود اپنی خلقت سے
نکل بہشت سے تُجھ کو سزائے دُنیا ھے
مَیں لا تعلقِ دُنیا بھی ھو نہیں سکتا
ٹِکا ھُوا مِرے سَر پر بھی پائے دُنیا ھے
مَیں رُو برُو ھُوں کسی بحرِ بےکرانی کے
نہ دستِ مُوسٰی ھے نا ھی عصائے دُنیا ھے
جہانِ ریگِ رواں ھے ھمارے دِل کے قریب
تمھارے گھر کی طرف آبنائے دُنیا ھے
ھم ایک دُوسرے تک بھی پہنچ نہیں پاتے
ھمارے بیچ میں حائل خلائے دُنیا ھے
نہیں نہیں مِرے آنسو ترے لئے تو نہیں
تُو کیا سمجھتی ھے سب کچھ برائے دُنیا ھے
عجب طرح کی یہ خلقت ھے مذھبی خلقت
ھَوس بہشت کی ھے اور گدائے دُنیا ھے
ستم گرو ! گُلِ حیرت نہ ڈھونڈنے والو
فنائے عشق و محبّت فنائے دُنیا ھے

ایسے شعر لکھنے والے سے یقیناً یہ توقع رکھی جاسکتی ھے کہ وہ خود غور و فکر کے مراحل سے گزر کر حقیقت مطلق تک پہنچ سکتا ھے اور ازلی و ابدی سچاٸیوں کا کھوج لگا سکتا ھے بشرطیکہ وہ ان انسانوں کے ردعمل سے نکل آٸے جن کے خلاف نبرد آزما ھے۔

غالب اور میر کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے والا انبیاء کی عزت نہ کرے یہ آسانی سے ہضم ہونے والی بات نہیں ۔ خدا جو بھی ھے یا نہیں ھے وہ دنیا کے ہر کمزور ، بے بس اور مظلوم کا سہارا ھے ۔ ظالم طبقہ ہم سے یہ آخری سہارا بھی چھین لینا چاہتا ھے ۔ میں پر امید ہوں ایک دن رفیع رضا اس بات کو ضرور سمجھے گا اور اس معاملے میں ظالم کا ساتھ چھوڑ کے ہم بے کسوں اور مظلوموں کے ساتھ آکھڑا ہوگا۔ کیونکہ وہ ہم میں سے ھے ان میں سے نہیں۔

نوٹ: یہ تجزیاتی مضمون معروف شاعر فرحت عباس شاہ کی تخلیق ہے۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں