رہبر پر اشعار

رہبر پر اشعار
رہبر پر اشعار

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
علامہ اقبال

مجھے اے رہنما اب چھوڑ تنہا
میں خود کو آزمانا چاہتا ہوں
حیرت گونڈوی

دل کی راہیں جدا ہیں دنیا سے
کوئی بھی راہبر نہیں ہوتا
فرحت کانپوری

سینکڑوں ہی رہنما ہیں راستہ کوئی نہیں
آئنے چاروں طرف ہیں دیکھتا کوئی نہیں
امجد اسلام امجد

ترے کوچے کا رہنما چاہتا ہوں
مگر غیر کا نقش پا چاہتا ہوں
آسی غازیپوری

رہبر پر اشعار

راستے ہیں اجنبی اور رہنما کوئی نہیں
جاننے والا مجھےمیرے سوا کوئی نہیں
خورشید زمان

زمانہ معترف ہے اک ہمارے استقامت کا
نہ ہم سے قافلہ چُھوٹا نہ ہم نے رہنما بدلا
رہِ الفت میں گو ہم پر بڑا مشکل مقام آیا
نہ ہم منزل سے باز آئے نہ ہم نے راستہ بدلا

اس طرح رہبر نے لوٹا کارواں
اے فناؔ رہزن کو بھی صدمہ ہوا
فنا نظامی کانپوری

یقیناً رہبر منزل کہیں پر راستا بھولا
وگرنہ قافلے کے قافلے گم ہو نہیں سکتے
نثار اٹاوی

یہ رہبر آج بھی کتنے پرانے لگتے ہیں
کہ پیڑ دور سے رستہ دکھانے لگتے ہیں
اتل اجنبی

رہبر پر اشعار

رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
نامعلوم

خلوص نیت رہبر پہ منحصر ہے عظیمؔ
مقام عشق بہت دور بھی ہے پاس بھی ہے
عظیم مرتضی

ہم سے عابدؔ اپنے رہبر کو شکایت یہ رہی
آنکھ موندے ان کے پیچھے چلنے والے ہم نہیں
عابد ادیب

وہ حبیب ہو کہ رہبر وہ رقیب ہو کہ رہزن
جو دیار دل سے گزرے اسے ہم کلام کر لو
انور معظم

پہنچائے گا نہیں تو ٹھکانے لگائے گا
اب اس گلی میں غیر کو رہبر بنائیں گے
ناطق گلاوٹھی

رہبر پر اشعار

ہر ایک موڑ سے پوچھا ہے منزلوں کا پتہ
سفر تمام ہوا رہبر نہیں آئے
انجم انصاری

مجروحؔ قافلے کی مرے داستاں یہ ہے
رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ
مجروح سلطانپوری

اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں
رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم
فیض احمد فیض

جانتا ہوں کون کیا ہے آپ کیوں دیں مشورہ
میں لٹیروں سے بھی واقف اور رہبر آشنا
عباس علوی

منزل تو میرے اپنے ارادوں کے ساتھ ہے
رہبر ملے نہ اب کوئی نقش قدم ملے
نامعلوم

رہبر پر اشعار

خدا کے نام پہ کیا کیا فریب دیتے ہیں
زمانہ ساز یہ رہبر بھی میں بھی دنیا بھی
منصور عثمانی

لوٹا جو اس نے مجھ کو تو آباد بھی کیا
اک شخص رہزنی میں بھی رہبر لگا مجھے
اکبر علی خان عرشی زادہ

اے دوست محبت کے صدمے تنہا ہی اٹھانے پڑتے ہیں
رہبر تو فقط اس رستے میں دو گام سہارا دیتے ہیں
عبد الحمید عدم

ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا
وہ اتنی دور ہو گیا جتنا قریب تھا
انجم رہبر

کچھ دن سے زندگی مجھے پہچانتی نہیں
یوں دیکھتی ہے جیسے مجھے جانتی نہیں
انجم رہبر

تجھ کو دنیا کے ساتھ چلنا ہے
تو مرے ساتھ چل نہ پائے گا
انجم رہبر

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں