’’لاوا‘‘اور سوالوں سے جوجھتا افسانہ نگار : رحمان شاہی

مضمون نگار : ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی

, ’’لاوا‘‘اور سوالوں سے جوجھتا افسانہ نگار : رحمان شاہی

کہتے ہیں ایتھنز کے شمال میں واقع یونان کے شہر Thebes کے جوار میں Sphinx کا ڈیرہ تھا۔اس کا سر عورت کا اور جسم شیر کا تھا۔سفنکس راہ روک کر بیٹھی رہتی اور ہر آنے جانے والے سے زندگی کی بابت سوالات کر تی تھی۔یہ سوالات زندگی کے مراحل کے بارے میں ہوتے تھے۔سفنکس نے اعلان کر رکھا تھا کہ جو کوئی اُسے درست جواب نہ دے پائے گا،موت اُس کامقدر ہوگی۔ہوتا یوں تھا کہ جو بھی اُدھر سے گزرتا تھا اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا تھا۔


کہانی کا معاملہ کچھ ایسا ہی ہے ۔یہ ازل سے ہماری راہ روک کر کھڑی ہے ۔عورت کی طرح حسین مگر شیر کے جگر والی۔اور اس کے سوالات ایسے ہوتے ہیں کہ کوئی بھی ان کا ڈھنگ سے جواب نہیں دے پاتا۔کیونکہ کہانی کے مقابل ہونا در اصل زندگی کے مقابل ہوناہوتاہے،جن کے جواب نہیں سوجھتے۔میں سمجھتاہوں کہ جو افسانہ نگار ان سوالات کو بڑا مان کر انہی کا ہو جاتاہے۔۔۔تن من دھن سے۔۔۔اس کی کہانی نئی زندگی پا لیتی ہے۔اور جو oedipusکی طرح ان کے جواب دینے بیٹھ جاتاہے اس کی کہا نی خود کشی کر لیتی ہے۔رحمان شاہی کو اپنی باتوں کی تصویر بنانے سے زیادہ اس کی للک رہی ہے کہ کچھ سوال اٹھائیں جائیں۔موت اورزندگی کے سوال،مجبوری اور اختیاری کے سوال،محبت اور تہذیب کے سوال،کرپشن اور ایمانداری کے سوال،نئی قدروں اور پرانی قدروں کے سوال۔یہ سب سوالا ت مل کر ان کے افسانے اہم بنادیتے ہیں،اوران کی کہانیاں زندگی اور زندگی کے سوالات سے جُڑ کر توانا اور زندہ کہانیاں بن جاتی ہیں۔آئیے ان توانا کہانیوں میں اُٹھائے گئے چند سوالات سے روبرو ہوں اور رحمان شاہی کے حوصلے کی داد دیں۔


’’مٹھی بھر آسمان‘‘ کا جوگیا اور اس کی جوان بیوی ستبیااپنے بیمار بچے کے علاج کے لیے پریشان ہیں۔بہت دوڑ بھاگ کے باوجود جب کچھ پیسوں کا انتظام نہیں کرپاتے ہیں تو ایک عورت ٹوٹ جاتی ہے اور خود اپنی پاکیزگی کو گردھاری جیسے ہوس کار کالے بچھو کے حوالے کرنے کو بے بس ہوکر چیخ پڑتی ہے۔’’آج نہ روکو ۔۔۔ہمرا کے آج نہ روکو‘‘۔انسانی حمیت کو جھنجھوڑتی اِس کہانی کے آخر میں بے بس ہو کر جوگیا کا کلہاڑی اٹھائے گھر سے باہر نکل جانا ایک بڑا سوالیہ نشان پیدا کرتاہے۔اور یہ سوال قاری کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر تا ہے کہ کیایہی آخری علاج ہے؟کیا آزادی کے قبل سے آج تک گردھاری جیسے لوگ کمزوروں کی محنت اور عزت وناموس پر ایسے ہی ڈاکہ ڈالتے رہیں گے ؟کیا سماج کی اتنی ترقی کے بعد بھی نجات کی کوئی صورت نہیں مل سکی؟


رحمان شاہی کی کہانیوں میں یہ سوال بار بار اٹھتاہے کہ جس سماج کی بنیاد معاشی اور سماجی اونچ نیچ پر ہو ،جہاں بد اعمالی اور استحصال معمول بن جائے وہاں انسانی اقدار اور انسانی حقوق کی بات مذاق بن جاتی ہے۔’’آگ‘‘ ایک ایسے ہی سماج کی کہانی ہے جس کی صدیوں پرانی تہذیب اہنسا ،امن اور رواداری کی ضامن رہی ہے۔لیکن ظلم ،جبر اور سیاست نے تشدد اور دہشت گردی کی آگ جلا کر سب کچھ خس وخاشاک کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔کہانی کا مرکزی کردار جو فطرتاً دہشت گرد نہیں ہے ،مہاتما گاندھی کے نظریۂ عدم تشدد میں یقین رکھنے والا آدرش وادی جوان ہے اور جس کے سامنے اس کی پوری زندگی پڑی ہے ،اُسے عدم تحفظ اور تشدد کی آگ اپنی لپیٹ میں لے کر اُس کی فکر کو جلا ڈالتی ہے ۔وہ جن آدرشوں پر یقین رکھتا تھا انہی آدرشوں کی نفی کرنے لگتاہے اور مجبور ہوجاتاہے یہ کہنے پر کہ ــ’’ہر آدرش ہر سمئے کے لیے نہیں ہوتا‘‘۔یا اپنے دوست سے کہتاہے ’’جینا عبادت ہے لیکھک !اور عبادت میں خلل ڈالنے والوں پر ہتھیار اٹھانا جرم نہیںہے ‘‘۔نوجوانوں کی فکر میں یہ تبدیلی کیوں آرہی ہے؟رحمان شاہی نے یہ سوال اُٹھاکر نہ صر منفی افکار کی جڑیں تلاش کرنے کی سعی کی ہے بلکہ نکسلی سرگرمیوں اور دوسری دہشت کردانہ کاروائیوں کے اصل پس منظر سے سماج کو روشناس کرانے کی کوشش بھی کی ہے۔


رحمان شاہی کے نئے مجموعے’’لاوا‘‘ کی کم وبیش ساری کہانیاں کبھی بالراست انداز میں اور کبھی ڈھکے چھپے علامتی انداز میں قاری سے کوئی نہ کوئی سوال ضرور کر تی ہیں۔لاوا ،جاڑے کی دھوپ ،آگ،سلوگن،ویرانے کا سبز پرندہ وغیرہ میں جہاں راست بیانیہ اسلوب میں سوال پیدا کیا گیاہے وہیں گندی نالی،سانپ کا پھن پکڑنے والے،بچے لوگ،اور وہ روشنی جیسے افسانوں میں علامتی یا تشبیہی و استعاراتی بیانیہ سے ذہن کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔مثال کے طور پر ’’گندی نالی ‘‘ جو خالص علامتی افسانہ ہے ۔یہ افسانہ ہمارے اُس نظام یعنی ایڈمنسٹریشن پر سوال اُٹھاتاہے جس کی بنیاد مفادات اور مجرموں کی پشت پناہی پر رکھی گئی ہے۔اس ایڈمنسٹریشن کو ہمہ جہت ترقی ،حق و انصاف اور عوامی فلاح وبہبود سے کوئی مطلب نہیں رہا۔یہ ُا س گندی نالی کی طرح ہے جس کی سڑاند پورے معاشرے کو آلودہ کر رہی ہے ،اور جس کے کارندے نالی کے کیچڑ میں پھنسے کیڑوں کی صورت میں بجبجا رہے ہیں۔یہ کہانی ہمارے موجودہ سسٹم پر نہ صرف سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے بلکہ آئینہ بھی دکھاتی ہے۔


اسی ناقص سسٹم اور شائننگ انڈیا جیسے کھوکھلے نعروں پر ٹکی سیاست کے خلاف احتجاج کرتا ہوا افسانہ ’’سلوگن ‘‘ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتاہے۔یہاں دعویٰ تو ہے کہ ہم اکیسویں صدی کی روشنی میں قدم رکھ رہے ہیں مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ زندگی اٹھارویں صدی کے اندھیروں میں جینے پر مجبور ہے۔پانی،سفر،بجلی ،سرکاری کام کاج میں ایمانداری اور وقت کی پابندی جیسی بنیادی سہولیات سے معاشرہ خالی ہو چکا ہے۔ہر شخص عدم تحفظ کا شکار ہے ۔انجانے خوف اور فکر مندی کی تلخیوں نے ہر شخص سے خوشی اور لطف اندوزی کی صلاحیت چھین لی ہے۔ایسے میں حکومت کے سارے دعوے ’’ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے ‘‘یا ’’ہم پرگتی کی اور بڑھ رہے لیں‘‘وغیرہ بالکل اشتہاری اور کھوکھلے نعرے لگتے ہیں۔اس افسانے میں ٹرین کے مسافروں کی زبان سے رحمان شاہی نے عام آدمی کے دل میں اٹھنے والے سوالات اور بے چینیوں کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔مثلاً یہ مکالمے دیکھیے :


’’ آخر یہ سارے لوگ اتنے لا پروا ہ کیوں ہیں؟زندگی کا سارا نظام ٹھپ ۔سارے معاملات رُکے ہوئے۔پھر بھی ہاتھ
پہ ہاتھ دھرے رہنا ۔۔۔۔۔‘
مسافر کڑوی کسیلی بحث پر اُتر جاتے ہیں۔یہ سب عام آدمی ہیں۔لیکن اپنی عمر اور تجربات کی مناسبت سے ہو بڑے تیکھے اور
باوثوق لہجے میں گر دو پیش کے حالات پہ گفتگو کرتے ہیں۔
’’ آپ کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔دنگا ،فساد ،لوٹ ماراور مزدوروں کا سو شن ،آپ کو کچھ نہیں دکھائی دیتا۔بس نیتائوں نے
جو کچھ کہ دیا اسے ہی سچ سمجھ بیٹھے۔اُن کے جھوٹے وعدوں اور فریب نے ہمیں کہاں لا کھڑا کیا ہے،اس کی آپ کو ذرا بھی
سوجھ نہیں۔۔‘‘
اور ادھیڑ عمر کا آدمی جو حالات کو بدلنے پر زور دیتا ہے ،کہتا ہے
’’جس دیش کے پردھان منتری کا جنم پردھان منتری کے گھر میں ہو،وہاں پریورتن سمبھو نہیں ہو سکتا،سمجھے؟‘‘


کیا عام آدمی کی یہ سوچ اور اُس کے ذہن میں اُٹھنے والے سوالات حقیقت سے دور ہیں؟کیا ان میں فکر و دانش اور احتجاج نہیں ہے؟ایسے ہی سوالات سے اُن کے دماغ تھکے،حوصلے ٹوٹے،اور دل بجھے ہوتے ہیںتو لوہے کے کھمبے پر لگا سرکاری سلوگن’’ ملک ترقی کر رہا ہے ‘‘یا’’ہم پرگتی کی اور بڑھ رہے ہیں‘‘انہیں اپنے ساتھ مذاق محسوس ہوتاہے۔
ملک کے سیاسی منظرنامے کی عکاسی کرتا ہوا افسانہ ’’بچے لوگ ‘‘ بھی ایسے ہی سوالات سے جوجھتا نظر آتاہے ۔شیر اور چوہے کے ذریعہ کہانی کا تانا بانا تیار کرکے رحمان شاہی نے سیاسی دبنگوں اور دبے کچلے عوام کے درمیان رشتوں کی کمزوری کو درشایاہے۔بڑی بی کے ذریعہ بچوں کو شیر چوہے کی کہانی سنانا در اصل بچوں کے ذہن میں ایک سبق بٹھانا ہے کہ ’’مسلسل ظلم کا شکار ہونے سے اچھا ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے مر جانا ہے‘‘۔


رحمان شاہی کے افسانوں میں فسادات اور فسادات کی دہشت بھی ایک اہم موضوع ہے ۔ایسے افسانے خصوصاً فرقہ وارانہ فسادات کے تناظر میں اُٹھنے والے سوالات کو بنیاد بنا کر لکھے گئے ہیں مثلاً لاوا،سانپ کا پھن پکڑنے والا،دھوپ کا سائبان اور دُش چکروغیرہ۔اِن افسانوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں فسادات کو عقلی اور منطقی نقطۂ نگاہ سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ان میں مذہب پرستی یا بنیاد پرستی کی جہت کہیں بھی نمایاں نہیں ہو پاتی۔مثلاً ’’لاوا‘‘ میں اُن نوجوانوں کے کرب کو پیش کیا گیا ہے جن کے معصوم ذہن پر فسادات کی وجہ سے ایسے نقوش مرتسم ہو جاتے ہیں جوان کی نارمل زندگی چھین لیتے ہیں۔انو ایک ایسا ہی نوعمر جوان ہے جس نے بچپن میںفسادیوں کے ہاتھوں اپنے ابوً کا قتل ہوتے دیکھاہے۔اس حادثے کی تصویر وں نے جو دلخراش اثرات اس کے ذہن پر مرتب کیے ہیں ،اُن کا نتیجہ ہے کہ وہ انسان تو انسان چوزے کو ذبح ہوتے دیکھنا بھی برداشت نہیں کر پاتااور ہر قاتل یا ظالم کو اپنے ابو کا قاتل سمجھتاہے۔رحمان شاہی نے اس افسانے کے ذریعہ بڑا اہم سوال اٹھایاہے کہ آزادی کے بعد ہزاروں فسادات ہوئے اور ہر قتل و غارت گری میں انو کی طرح لاکھوں نوجوان نارمل زندگی سے محروم ہو گئے۔یہ نوجوان اعلیٰ طبقہ کے انسان نہیں،عام اور غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کی وحشت ،تشنجی حالت اور ذہنی کر ب کا ذمہ دار کون ہے؟اِسی طرح ’’سانپ کا پھن پکڑنے والے‘‘ کہانی عام اور امن پسند انسانوں میں فرقہ پرستی اور عناد کا زہر بونے والوں کے اندر گھس کر زہر کا تریاق تلاش کرتی ہے۔

یعنی کج فکر سیاست دانوں کے ذریعہ فرقہ واریت کا زہر گھول کر ملک و قوم کو فساد و دہشت کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کو فطرتاً امن پسند انسان جس طرح ناکام کرتے ہیں،وہ نہ صرف زہریلی سیاست کے خلاف احتجاج ہے بلکہ عام انسان اور اس کی مثبت فکر کی تلاش بھی۔’’دھوپ کا سائبان‘‘بھی ایسے ہی عام حقیقی کردار اور انسان دوست سروکار کی نمائندہ کہانی ہے،جس میں فرقہ وارانہ فسادات کے ماحول میں دو غیر مسلم لڑکیوں کو ان کے گھر تک پہنچانے کی اور کہانی کار کی اپنی جان جوکھم میں ڈال کر امن پسندی اور مثبت فکرکی بقا کو درشایا گیاہے۔’دُش چکر‘ بھی فسادات کی کہانی ہے ،مگر الگ جہت کی عکاسی کرتی ہے کہ اس میں موجودہ دور کی ایک اہم سازش کا نقاب اُٹھانے کی کوشش کی گئی ہے ،جس کا سہارا لے کر انتظامیہ فسادات کا ماحول پیدا کرتی ہے اور ’نقلی انکائونٹر ‘ کے ذریعہ اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالتی ہے۔ فسادات پر لکھی کہانیوں سے پتہ چلتاہے کہ رحمان شاہی بنیادی طورپر مثبت نقطۂ نظر کے حامل ہیں اور عام انسان کو اپنی طرح مثبت اور امن پسند تصور کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اِس موضوع پر ہر افسانہ اپنے بطن میں انسان کے حقیقی کردار کی تلاش کرتے ہوئے اس کے مثبت اور انسان دوست سروکاروں کو ڈھونڈتاہے۔


رحمان شاہی طنزیہ انداز بھی خوب اپناتے ہیں۔کج فکر سیاست دانوں ،زہریلی ذہنیت رکھنے والوں اور مسلمانوں کے جذبٔہ حب الوطنی پر شک کرنے والوں پہ نہ صرف وہ ہنستے ہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں اُن کی نام نہاد وطن پرستی ،سماج دوستی اور ترقی پہ طنز کے تیر بھی چلاتے ہیں،مثلاً:
’’یہ سالا دنگا ادھر پاسی خانہ میں کیوں نہیں ہوتا‘‘
سرکاری نظام ٹھپ ،حادثات کی بھر مار ،خدشات اور خطرات کے بیچ جیتا معاشرہ مگر ٹیوب لائٹ کی روشنی میں لگا ہوا یہ سلوگن
’’ہم پرگتی کی اور بڑھ رہے ہیں‘‘
بے قصور شیخو بابا کو دہشت گردوں کا سرغنہ کہ کر جیل میں ڈال دیا گیا تو اُن کی آواز سنائی دیتی ہے
’’میرے ہم وطنو کو کہنا۔۔۔۔۔۔۔کہنااِس ملک سے صرف گوروں کی واپسی ہوئی ہے ‘‘
طنز کی تلخی سے بھرے ان جملوں میں کیسی سچائی ہے ،اِسے بہ آسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔


رحمان شاہی کے افسانوں میںموضوعات کا تنوع قابل توجہ ہے۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے مشاہدے کی دنیا وسیع ہے اور ان کی عقابی نگاہ زندگی میں ربط اور بے ربطی دونوں کو اندر اور باہر سے دیکھ لیتی ہے۔ان کے شعور کی حقیقت پسندی اکثرو بیشتر زندگی کے رنگ و آہنگ ،افسانہ و افسوں ،تغیرات اور امکانات،سادگی و پرکاری کا اندازہ لگا لیتی ہے اور واقعات کے انتخاب میں اپنی فکر کی گرمی داخل کرکے نئی جان ڈال دیتی ہے۔ان کی گرفت زندگی اور فن دونوں پر ہے اور ان کا نصب العین دونوں کو ایک میں سمو نے کی قوت عطا کرتاہے ۔اس لیے موضوعات کا تنوع نہ تو انہیں بے راہ روکر تاہے اور نہ اظہار فن میں رکاوٹ بنتاہے۔


زبان وبیان پر رحمان شاہی کی گرفت مضبوط ہے ،وہ چھوٹے چھوٹے جملوں بلکہ زیادہ تر مکالموں کے سہارے کرداروں کے ذہنی کوائف بیان کرتے ہیں۔ان کی زبان اور خیال میں ایک نامیاتی رشتہ ہے ۔یعنی ان کا اسلوب خیال میں اس طرح داخل ہے جیسے پھول میں رنگ ۔وہ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اس کے لیے مناسب الفاظ،مناسب لہجہ اور مناسب پیرایہ اختیار کرتے ہیں۔اس لیے عام طورپر بناوٹ ،تکلف یا تصنع کا احساس نہیں ہوتا۔
مختصر یہ کہ ایک حسا س اور سنجیدہ قاری کو رحمان شاہی کے افسانوں میں وہ ساری دلچسپیاں ملتی ہیں جن کے لیے وہ افسانے پڑھتا ہے اوروہ سارے سوالات ملتے ہیں جن سے اس کا ذہن جوجھتا رہتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیئر کریں
ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی بھارت میں اردو فکشن کی تنقید کا ایک سنجیدہ اور معتبر نام ہے۔ان کی پیدائش یکم اپریل ۱۹۷۲ء کو گیا (بہار) میں ایک عالم دین مولانا عبدالبر اعظمی کے گھر میں ہوئی۔انہوں نے ابتدائی تعلیم والد گرامی سے ہی حاصل کی ،اس کے بعد مگدھ یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔جون ۲۰۰۳ء میں ان کا تقرر شعبٔہ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی میں ہوا،جہاں ابھی وہ بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسرتدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کے مضامین ملک و بیرون ملک کے موقر رسائل و جرائد میں شایع ہوتے رہے ہیں اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے درمیان توجہ اور انہماک سے پڑھے جاتے رہے ہیں۔ان کی اب تک چھ کتابیں (۱)ضیائے اشرفیہ،۱۹۹۰ء(۲)اسلام کا معاشرتی نظام،۱۹۹۲ء(اردو کے نثری اسالیب،۱۹۹۹ء(۴)فرات،مطالعہ ومحاسبہ،۲۰۰۴ء(۵)اردو ناول کے اسالیب،۲۰۰۶ء(۶)اور جہان فکشن،۲۰۰۸ء شایع ہو چکی ہیں۔ان میں اردو ناول کے اسالیب اور جہان فکشن کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ،بالخصوص اردو ناول کے اسالیب کو اترپردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی سے اول انعامات سے او ر جہان فکشن کو بہار اردو اکادمی کے اول انعام سے نوازا گیا۔پروفیسر وہاب اشرفی نے ’’تاریخ ادب اردو‘‘ میں اول الذکر کتاب کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ ’’کم ازکم میری نگاہ سے ایسا تحقیقی اور تنقیدی کام نہیں گذرا۔یہ تحقیقی و تنقیدی اعتبار سے نئے جہات سے مملوہے‘‘۔ڈاکٹر اعظمی اردو کی قومی اور بین الاقوامی مجلسوں ،سیمیناروں اور جلسوں میں شرکت کرکے بھی اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔

کمنٹ کریں