راجدیو کی اَمرائی(مکمل ناول)

راجدیو کی امرائی
راجدیو کی امرائی

قسط نمبر : 1

٭ رات ، خواب ماں کے


’’آج میں تمھیں ایک کہانی سناتی ہوں۔‘‘ رات کھانا کھانے کے بعدماں بچوں کے بستر میں تھیں۔
’’چپلون تعلقہ سے دس کلومیٹر اونچائی پر’شیتر پرشورام‘ نام کے ایک چھوٹے سے گائو ں میں ایک برہمن بھکشو’ پنڈ ت رام داس جوشی‘کا گھر تھا ۔‘‘
’’یہ تو ہماراگائو ں ہے!‘‘ چھوٹے نے پوچھا۔
’’بیچ میں بولے تو کہانی ختم۔ ہاں گاؤں۔ گاؤں کیا تھا ،بغیچہ سا تھا۔تقریباََ پچاس ساٹھ گھر ہو ںگے۔ رام داس کے گھر پرگھاس کا چھپر تھا۔ پہاڑی پر آباد گائوں کے گھر الگ الگ سطح پر تھے ۔اکثر گھروں میں بڑی غریبی تھی ۔ رام داس جوشی اپنی مفلسی سے تنگ تھا ۔
’’چاہتا ہوں بیٹا لکشمن پڑھ لکھ کر کوئی اور کام کرے۔ پنڈتائی نہ کرے ۔مجھ سے اب دور جانا بھی نہیں ہو تا۔‘‘پنڈت نے بیوی سے کہا،’’میںخود تو اسکولی پڑھائی پڑھ نہیں پا یا ۔چھوٹے سے گائوں میں پنڈتائی چلے بھی تو کتنی !‘‘
’’کہنا کیا چاہتے ہو ؟‘‘پنڈتائن سمجھ گئی ،’’کس بات کی تمہید باندھ رہے ہو !‘‘
’’نہیں ،کچھ بھی تو نہیں ۔‘‘
آج آپ کااندازکچھ الگ سا ہے !‘‘پنڈتائن سمجھ گئیں کہ ہو نہ ہو یہ کسی بات کاتمہیدی لہجہ ہے ۔
’’کلکتے سے چھٹی پر بھولا رام کا لڑکا گاؤں آیا ہے نا!‘‘
’’ہاں ہاں!‘‘
’’وہ لکشمن کو کلکتہ بلا رہا ہے۔ ‘‘پنڈتائن ان کا اور بیٹے کا چہرہ تک رہی تھی ۔کچھ لمحوں کے بعد وہ اپنی جگہ سے اُٹھی او ر بیٹے کا کان اینٹھا۔
۔۔’’کیوں رے ! با با کے ساتھ مل کر سب کچھ طے کر چکا ہے نا !!سچ سچ بول !!کون ہے جو تجھے بلا رہا ہے ؟‘‘
’’ چندربولتا تھا ،میرے ساتھ چل۔ میں کام پر لگا تا ہو ں۔کلکتے میں ۔وہاں ریلوے کلرک کی نوکری کا اشتہار لگا ہے ۔تُو تومیٹرک پڑھا ہوا ہے ۔‘‘لکشمن ماں کا ہاتھ اپنے کان سے ہٹاتے ہوئے بولا ۔’’با با نے تو فوراََاجازت دے دی لیکن تجھے ماں ،تجھ کو منا نا تو بڑا کام تھا نا!‘‘پنڈتائن کی آنکھیں چھلچھلا گئیں ۔
بس یہیں سے ان کے پر یوار کے دن پھر گئے ۔لکشمن دھیرے دھیرے ترقی کرتے ہو ئے مغربی ریلوے کا چیف بن گیا اور کئی جگہ تبادلہ ہو تے ہوئے ممبئی میں بس گیا ۔ وہ وہاں کے گنجان آبادی والے گرگائوں علاقے میں رہتا تھا ۔لکشمن نے کئی بار اپنے ماں باپ کو ممبئی بلانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی جگہ چھوڑنے کو تیار نہ تھے ۔ وقت تیزی سے گزرتا رہا۔
لکشمن کے دو بیٹے تھے ۔بڑا بیٹا راگھوممبئی کے گرینڈ میڈیکل کالج سے ایم۔ بی۔ بی۔ ایس۔تھا۔ پڑھائی کے درمیان اس کی شادی ایک رئیس پلمبنگ ٹھیکیداراوربزنس مین ،جس کے ہاتھ میںسات آٹھ چھوٹے کانٹریکٹر تھے،کی پڑھی لکھی بیٹی سے کر دی گئی تھی۔
لکشمن کا دوسرا بیٹابھاویش بائیس سال کالاابالی سا لڑکاتھا۔ چہرے پر چیچک کے گڑھے گورے رنگ میں بھی نمایاں تھے۔
’’آپ کے پڑوس کے گھر میں انکم ٹیکس آفس کے کلرک رہتے ہیں۔‘‘، کسی نے خیال دلایا، ’’ان کی ایک بیس اکیس سال کی اونچے قد کی لڑکی ہے۔ جب سترہ سال کی تھی، روٹی بناتے وقت پھونکنی سے لکڑی کے چولھے میں پھونکا۔ چنگاری اُڑی ۔ بایاںپیر جھلس گیا۔ چال میں ہلکا سا فرق ہے۔ یوں دیکھنے میں پیر کا عیب پتہ نہیں چلتا۔ساتویں کلاس پڑھی ہوئی ہے۔ چاہو تواپنے بھاویش کے لیے مانگ لو۔‘‘

سرسوتی دلہن بن کر لکشمن کے گھر آ گئی۔
ملک کی تقسیم نے بڑا نقصان کیا ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد کے دنوں میں جوخون بہا، وہ ناحق ہی بہا ۔بڑے شہروں میں ملک بھر سے کام دھندوں کے لیے آئے ہو ئے لوگ ذات پات بھیدبھائو کے چکروں سے دور میل ملاپ سے رہتے تھے۔ اس وقت ہر مذہب، ذات اور صوبے کا مقصد آزاد ی ہی تھا۔پھر دھرم، ذات اورصوبوںمیں کیوں بٹ گیاتھا۔ مجھے لگتا ہے، ساری لڑائی وزیرِ اعظم بننے کی تھی۔ اتنا اچھا نقشہ تھا ہمارا۔ کلاسیکی گلوکار وسنت رائو دیشپانڈے ، راہُل دیشپانڈے لاہور کے تھے لیکن ۱۹۴۸کے ہندومسلم دنگوںنے لکشمن کو ایسا جھٹکا دیا کہ اس نے اپنا فلیٹ اونے پونے داموںمیں فروخت کرکے کوکن لوٹنے کا منصوبہ بنا لیا۔نوکری سے رٹائرمینٹ لے کرشیترپرشورام اپنے آبائی گائوں میں جا بسا۔
’’اَہو!گھاس کے چھپر والے گھر کو ٹین کی چھت ڈال دیتے ہیں نا!‘‘ماں باپ کے انتقال کے بعد لکشمن کی بیوی نے التجا کی۔
’’اس چھت میں تو میرے بچپن کی یادیں بھری پڑی ہیں۔‘‘ لکشمن کا دل تڑپا لیکن اس نے بیوی کی خواہش پوری کردی۔
چپلون ایک ہرابھرا شہر ہے نا!چاروں طرف کاجو ،آم ،کٹھل،انناس کے باغوںاور چاول کے کھیتوں میں ہمیشہ ہریالی ر ہتی ہے ۔لکشمن نے اپنے پرووِڈینٹ فنڈکے پیسوں سے اپنے ڈاکٹربیٹے کے لیے یہاں ڈسپینسری کھول دی ۔ڈاکٹر راگھو کی ڈسپینسری کے پاس ہی لکشمن نے چھوٹے بیٹے بھاویش کو کیمیسٹ کی دکان کھول کردی تھی ۔بھاویش نے بارہویں کے بعد فارمیسی کا ڈپلومہ کیا تھا ۔ڈاکٹر نسخہ لکھ کر بھائی کی دوکان پر بھیجتا ۔دونوں سکھ کی زندگی گزارتے ۔
بھاویش صبح سویرے چپلون اپنی دوکان پر جاتا۔ رات کو گھر لوٹتا۔ دوستوں میں گپیں لڑاتا۔ سگریٹ پھونکتا۔ پورے گاؤں کا چکر لگاتا۔ اس کی بیوی کھانا بناتی،گھر اور بچے سنبھالتی ۔ لکشمن اور اس کی بیوی پرشورام گائوں میں کھیتی کی دیکھ بھال کر تے اور اس زندگی کا مزہ لیتے۔ گائوں میں ایسی عورتیں مل جاتی تھیں جو چھاچھ پانے کے لیے ان کے گھر کی بالائی سے مکھن نکال دیتی تھیں ۔کھانے اور کپڑے کے بدلے گھر اور کھیت کا کام کر دیتی تھیں ۔ وہ کبھی کبھی بڑے بیٹے کے پاس چپلون آتے تو گھی ،لڈو‘ بڑیاں وغیرہ لاتے۔ کچھ سال بہت خوشی اور اطمینان سے گزر گئے ۔پھر لکشمن کو ذیابیطِس کی بیماری ہو گئی۔ ڈاکٹربیٹے نے علاج کیا مگر بیماری بڑھنے سے بائیں ہاتھ میں گینگرین ہو گیا تھا۔ بائیں ہاتھ کو کہنی کے اُوپر سے کاٹ دینا پڑا تھا۔ آستین میں ان کا جھولتا ہاتھ دیکھ کر گاؤں کے لوگ پریشان ہو تے تھے اس لیے لکشمن نے ایک نقلی ہاتھ لگوا لیا اور ہمیشہ پورے آستین کے کوٹ پہننے لگا۔
ڈاکٹر راگھوکا ایک بیٹا تھا جیون۔ چار سال کی عمر میں اسے دماغ کی ٹی۔ بی۔ Meningitis ہو گئی۔ آٹھ سال کی عمر میں مر گیا ۔ڈاکٹر راگھو کو اپنے چھوٹے بھائی بھاویش سے بڑی محبت تھی۔ لکشمن نے اپنے آخری دنوں میں ڈاکٹر راگھو سے وعدہ لیا کہ وہ چھوٹے بھا ئی کا خیال رکھے گا ۔
’’کمی ہو ئی تو مدد کروں گا ۔‘‘ اس نے کہا تھا۔
ڈاکٹر راگھو کے ہاتھ میں بڑی شفا تھی۔بیماری کو وہ جھٹ سے پہچان لیتے تھے ۔ ضرورت پڑنے پرمریض کو فوراََٹیکسی سے اسپتال پہنچنے کی صلاح دیتے ۔ کبھی کبھی اپنی گاڑی سے اس کے ساتھ بھی چلے جاتے۔
لکشمن کے انتقال کے بعد ان کی کھیتی اور جائیداد دونوں بھائیوں میں بٹ گئی۔ ماں نے سو نا اور چاندی دو نوں میں برابربانٹ دیا۔ ڈاکٹر راگھو سے بھاویش دس سال چھوٹا تھا ۔چھبیس سال کی عمر میں پیسہ آیا ۔سیٹھ بن گیا ۔ بڑے بھائی کا دبائو بھی نہ کے برابر رہ گیا ۔جیسے چاہوں جیوں،کچھ بھی کرو ں،والا رویہ آگیا ۔
اسپتال کے پاس ہی ایک بنگلہ بک رہا تھا۔ ڈاکٹر راگھو نے اسے خرید لیا۔ اب وہ چھوٹے بھائی کی دوکان سے کچھ دور ہو گیا تھا۔
بھاویش صبح پچاس سگریٹ لا تا ، شام تک ختم ہو جا تیں ۔مزاج کا نرم تھا ۔
’’کوئی مدد چاہیے تو کہنا ۔‘‘ جس نے میٹھی بات کی ، تعریف کی،خود کہتا،
’’لڑکی کی شادی ہے۔ دو سو روپیوں کی ضرورت ہے۔ لوٹا دوںگا ۔‘‘
’’سیٹھ بھینس خریدنی ہے ۔تھوڑا مدد کرونا سیٹھ ۔‘‘
’’ضرورت ہے لے لو۔جب بھی مرضی ہولو ٹا دینا ۔‘‘
بھاویش رتناگری ضلع تعلیمی بورڈکا ممبربنا ۔ پھر الیکشن میں کھڑاہونے لگا۔ کبھی جیتا کبھی ہا

را ۔ایک بار کاؤنسلر بنا ۔دوائوں کی دوکان پر دھیان کم رہنے لگا۔سیاست کے چکر میں دو دو چار چار دن رتناگری جاکر رہتا ۔نوکر دوائیں بیچتے اور پیسے جیب میں ڈال لیتے ۔
’’آج اتنا ہی بِکری ہو اشیٹھ ۔‘‘
مریض چٹھی لا تے تو نوکر کہتے ، ’’چار آٹھ دن بعد ملے گا۔‘‘جبکہ دوکان میں مال بھرا رہتا۔کبھی کبھی سال بھرسے کوئی دوا ختم ہوئی ہوتی۔لیکن سیٹھ کو خبر تک نہ ہوتی۔
’’دھیرے دھیرے دوکان پر گراہکوں کی کمی ہو تی چلی گئی ہے ،بھائی! ‘‘ مال سے خالی خالی دوکان اور مریضوں کی کمی سے پریشان ہوکر بھاویش بڑے بھائی سے ملنے گیا۔
’’میں ان کوتیرے پاس کیوں بھیجوں؟ تیرے پاس مال نہیں ملتا ۔ تیرے آدمی گراہک کو دوسری جگہ بھیجتے ہیںاور وہاں سے کمیشن کھاتے ہیں۔‘‘ بھائی بھڑک کر بولا۔ بھاویش چپ چاپ گھر لوٹ آیا۔ وہ بڑے بھائی کا ادب کر تا تھا اور پھر نوکروں پر کتنا بھروسا تھا اسے !
٭ ہیرے کی انگوٹھی
’’تیری ہیرے کی انگوٹھی دے دے۔ ‘‘گھر پہنچتے ہی بھاویش سرسوتی کے پاس گیا اور بولا۔ وہ آٹا گوندھ رہی تھی ۔اٹھ کھڑی ہو ئی ۔ماتھے کی سرخ بِندی چہرے کی سرخی سے میل کھانے لگی۔ آٹے کی لوئیاں انگلیوں کے پوروں سے جھڑنے لگیں ۔اسے خبر نہیں ہو ئی وہ توشوہر کا منہ تک رہی تھی ۔چند لمحوں میں اس نے اپنے آپ کو سنبھالا۔ آٹے کے پیڑے بنائے۔ پُھلکے سینکے۔کھانے کی تھالیاں سجائیں اور پیڑھوں کے سامنے رکھ دیں۔
’’ہیرے کی انگوٹھی دے دے۔‘‘ بھاویش نے دوبارہ بات شروع کی۔
’’نہیں۔‘‘
’’نہیں دوںگی۔‘‘
’’نہیں دوگی ؟‘‘
’’بالکل نہیں۔ وہ میرا ستری دھن ہے۔‘‘
’’نہیں دی تو خود کشی کر لوں گا ۔‘‘
’’تمھارے باباکا ہی ہے ۔میرا کیا جا تا ہے !‘‘
سرسوتی نے ہاتھ کاروٹی کا ٹکڑا پلیٹ میں رکھ دیا۔ گود میں بیٹھے پانچ اور دو سال کے بیٹوں راج دیو اورکرن کو پاس کے پیڑھے پر بٹھا یا اور یہ کہتی ہو ئی اٹھ کھڑی ہو ئی ،
’’کھانے کی تھالی پر سے نہیں اٹھتے!‘‘، بھاویش نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ بٹھا دیا ۔
وہ ایک دم چپ تھی۔’’آج بھی ہمیشہ کی طرح میں تجھ سے زیور مانگنے آگیانا!‘‘ وہ شرمندہ تھا۔
’’دس سال اس طرح نکل گئے ۔نوّے تو لے سونا بھی چلا گیا ۔بس یہ ایک ہیرے کی انگوٹھی رہ گئی ہے ، بڑوں کی آخری نشانی ۔اسے لے جا ئو ۔اس کا جو کر نا ہو ، سو کرو مگر میرے گھر میں کوئی مانگنے نہ آئے کہہ دینا ہے ۔‘‘
’’ باپ کی آخری چیز بیچنا نہیں چاہتا ۔‘‘ وہ جذباتی ہو گیا تھا ،’’میں کچھ کر تا ہو ں۔۔۔۔تو ایسا کر۔۔۔بیٹے کے ساتھ بھیا کے پاس یہ انگوٹھی بھیج دے کہ ،’’پانچ ہزار دے دو۔‘‘،لکھ دے کہ،’ ’پیسے جمع ہو گئے تو انگوٹھی واپس لے لو ںگی۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ سرسوتی شانت تھی۔
گھر میں ایک پرانا ایماندار نو کر تھا ۔سرسوتی نے اس سے کہا ،’’راج دیو کو ساتھ لے جا، اس کی تھیلی میں میری ہیرے کی انگوٹھی اورچٹھی رکھی ہے۔ ڈاکٹرصاحب کو دینا ۔‘‘
’’ بہو کو دے دو ۔‘‘ ڈاکٹر راگھونے چٹھی پڑھ کر پانچ ہزار روپے نوکرکے ہاتھ میں دے دیے، ’’ پہلے میرے سامنے گن لو۔لو پہلے تاک (چھانچھ) پی لو۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔
’’مال لینے بمبئی جا تا ہوں۔ ‘‘ دروازے میں کھڑے نوکر سے پیسے لے کر بھاویش نے سرسوتی سے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔
ممبئی کے گنجان علاقے گِر گائو ں میں دواؤں کی بڑی بڑی دوکانیں تھیں ۔یہیں بھاویش کو ایک دوست ملا ۔’’اچھا ہو ا یار تو یہیں مل گیا ۔میں نے پانچ ہزار تجھ سے لیے تھے، یاد ہے یا نہیں؟ لے اب لوٹا رہا ہو ں۔‘‘
بھاویش کو کچھ کچھ یاد آیا،یہ شخص چپلون میں زمین کا سودا کر نے آیا تھا ۔پیسے کم پڑگئے

تھے ۔ممبئی جا کر لو ٹا نے کا وعدہ کر کے گیا تھا۔پھر نہ لوٹا نہ کوئی چٹھی بھیجی ۔
۔۔۔۔۔۔۔
’’لے انگوٹھی چھڑالے۔‘‘بھاویش نے گھر لوٹ کر پانچ ہزار روپے سرسوتی کے ہاتھ میں رکھ دیے ۔
سرسوتی کو اتنی خوشی ہو ئی تھی کہ وہ یہ پو چھنا بھی بھول گئی کہ ’’یہ پیسے آئے کہا ں سے؟‘‘سیدھے رسوئی میں گئی۔ سوجی کا حلوہ بنا یا ۔بولی ،’’ہمارے اچھے دن آگئے ۔‘‘
دوکان پھر سے چلنے لگی ۔ڈاکٹر بھائی مریض بھیجنے لگے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
’’اب حالات سدھر گئے ہیںلیکن تم بھی محسوس کر تے ہو گے کہ دوکان میں تمھارا دھیان نہیں ہے ۔‘‘ ایک دن سرسوتی نے شوہر کا موڈ دیکھ کر کہا۔
ـٌٌ ’’کیوںکیا ہوا؟‘‘
’’جلدی سامان لا نے نہیں جا تے۔ نو کروں پر دوکان چھوڑکر دوستوں میں گپ شپ کرتے رہتے ہو۔‘‘ وہ مسکرایا۔
’’سچ کہا ہے بز رگوں نے۔عورت کبھی مطمئن نہیں ہو سکتی، کچھ بھی کر لو ۔‘‘ بھاویش اس کی مسکراہٹ میں پگھل گیا ۔
’’ یہ سچ نہیں ہے۔‘‘، سر سوتی کا دل کِھل گیا ، ’’تم بھی جا نتے ہو ۔‘‘شوہر ہنسنے لگا ۔
’’اچھا !کہو کیا کہنا چاہتی ہو ؟‘‘بھا ویش نے بیوی کے گلابی چہرے پر گرآئی لٹوں کو دونوں ہا تھوں کی ہتھیلیوں سے ہٹا یا ۔
’’آپ کی انگریز ی اور حساب بہترین ہیں ۔ٹیوشن کلا سوںکا فیشن چلا ہے ۔بھائی صاحب سے بات کر لیجیے ۔اس جھنجھٹ سے نکل جائیے ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔
’’بھئی ،تم کو جو کام کر نا ہو تم کرو ۔‘‘ بڑے بھائی نے جواب دے دیا اوربھاویش کو بھی لگا ،صحیح ہے ۔بھیا کا گھر بڑا ہے۔پیسے والے ہیں۔ دل بڑا ہے لیکن اپنے پریوار کا خیال رکھنا میراہی فرض ہے ۔دوکان بند کی۔ پرشورام شیتر گاؤ ںکے گھر پر تالہ لگایا ۔ چپلون میں تین کمروں کا گھر چھبیس روپے کرائے پر لیا۔پیچھے کا کمرا خوابگاہ تھا۔ درمیان میں باورچی خانہ تھا۔سامنے کے حصے میں کلاس چلتی۔آج جیساٹیوشن اور کلاسیس کا زمانہ نہیں تھا۔ فیس بہت کم تھی۔ پانچ روپے مہینہ۔بھاویش کے پڑھانے کا ڈھنگ دیکھ کر دھیرے دھیرے پچیس بچے جمع ہو گئے ۔اگلے سال ایسی دو بیچ اور تیار ہو گئیں ۔ کلاسیں بہت چلتی تھیں۔ بہت نام ہو گیا تھا ۔بھاویش نے بہت محنت کی مگر دل میں کچھ تھا ،جو کھٹکتا رہا ۔ایک دن انھیںاچانک خون کی قے شروع ہو ئی ۔بھائی نے اپنے اسپتال میں ایڈمٹ کرالیا ۔دوست احباب پوچھنے آئے ۔
’’برین تھرامبوسس Brain Thrombosis ہو گیا ۔‘‘ڈاکٹر راگھونے کہا ۔
’’وہ کیا ہو تا ہے ۔؟‘‘
’’اوکے ۔‘‘ گاؤں والوںکی سمجھ کو سمجھتے ہو ئے ڈاکٹر راگھونے ٹالا ،’’دل کا دورہ پڑگیا ہے۔‘‘
ڈاکٹر راگھوکے لیے اس بیماری کو ہر ایک کو سمجھانا مشکل ہو گیا تو اسے دل کا دورہ کہہ دیا۔ اس پر بھی لو گو ں کی تسلی نہیں ہوئی تو بولے ۔’’زہر کھالیا ہے ۔‘‘
’’زہر کھا لیا ہے !‘‘لو گو ں نے کہنا شروع کر دیا ۔
’’نہیں نہیں ۔‘‘کسی نے کہا ’’شراب پینے سے جگر خراب ہو گیا ہو گا !‘‘ڈاکٹر راگھو اس کا منہ دیکھنے لگے ۔
بھاویش اسپتال سے گھر آگیا تھا۔بڑے بیٹے راج دیو کے دسویں کے سہ ماہی امتحان چل رہے تھے ۔بیماری کے چلتے کلاس میں پڑھانے کے لیے ایک نوجوان ٹیچر رکھا گیا تھا ۔ٹیچر طلباء کے حساب کے پیپر ہاتھ میں لیے بھاویش سے کچھ دیر گفتگوکرتا رہا۔ پچھلے کئی دنوں سے وہ رسوئی میں ایک کھاٹ پر پڑارہتا تھا ۔ٹیچر کے اٹھ کرجانے کے بعددوپہر کا کھاناکھا کر بھاویش نیم واآنکھوںسے چھت کو گھور رہا تھا۔
’’بابا! مجھے ایک حساب کا سوال۔۔۔۔۔‘‘ کچھ دیر بعد راج دیو ان کی پائینتی آکر بیٹھ گیا ۔
’’بیٹا نیند آرہی ہے ۔تم باہر جائو ۔تھوڑی دیر کھیل لو ۔تازہ دم ہو جا ئوگے ۔بعد میں دیکھیں گے ۔‘‘
شام کے پانچ بجے جب راج دیو کھیل کے میدان سے لوٹ کرگھر پہنچا تو دیکھا کچھ

لوگ باہر کھڑے تھے۔ اندر گیا ۔
’’دیو تیرے با با نہیں رہے۔‘‘ سرسوتی نے کہا ۔اس وقت چھوٹا ویراس کی کمر پر ٹنگا ہو اتھا اور منجھلا کرن اس کے پلو سے اپنی آنکھیں رگڑ رہا تھا۔
بھاویش کو اسپتال سے گھر لاکررات کے گیارہ بجے انتم سنسکار کے لیے لے جا یاگیا۔ بڑے بیٹے کے علاوہ بچوں کوشمشان بھومی نہیں لے گئے تھے ۔
اگلے دن ڈاکٹر راگھو بھاویش کے گھر آئے ۔دونوں چھوٹے بچے سہمے ہو ئے ماں کو چپکے بیٹھے تھے ۔راج دیو پاس بیٹھا اپنے بڑے پاپا کی خشک اورسرخ آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
’’اب یہاں اکیلے نہیں رہنا ہے ۔تینوں میرے بنگلے میں ہی رہوگے۔ میں پڑھائوںگا ۔‘‘ڈاکٹر راگھو نے بچوں کو سینے سے لگا لیا ۔
سرسوتی اپنے بچوں کے ساتھ چھوٹے سے گھر سے بڑے بنگلے میں آگئی۔ بنگلے کے نچلے حصے میں کھانا بنتا تھا ۔سو نے کے کمرے اوپر تھے ۔تیرہ دن خاموشی سے گزر گئے ۔
’’بازار سے سبزی لے آئو ۔‘‘بھاویش کے تیرہویں کے بعدکا کی نے سرسوتی سے کہا ، ’’اوروہ رہاگیہوں کا ڈبہ ۔صاف کر کے پسوالینا ۔‘‘
سرسوتی کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔
’’چکّی تو جانتی ہو کہا ں ہے ؟تم ہی جاتی تھیں نا پسوانے اپنے گھر میں ؟‘‘
’’نوکرہے ۔۔۔مگر کچھ کام تو چاہیے نا تمھیںبھی !کھلاتی ہوں۔بچوں کو پڑھاتی ہوں۔‘‘وہ جیٹھانی کا چہرہ دیکھنے لگی ۔جو بنی سنوری ،لمبے سے سونے کی دو کٹو ریوں والے منگل سوتر میں انگلیاں پھنسائے پھنسائے بول رہی تھیں۔
’’تم نے شوہرکو زیور دیا۔اس لیے یہ حال ہوا ۔احساس ہے ؟‘‘سرسوتی چپ چاپ سنتی رہی۔ بچوں کوبھی آنکھوں کے اشارے سے چپ کراتی رہی۔
اگلے دن جیٹھانی نے اپنی بات صاف کی۔اس بار ان کی آواز میں نرمی تھی،
’’سبزی لانا، گیہوں، چاول، موٹا اناج چکی سے آٹا پِسوا کر لانا، بیسن، روے کے لڈو، چوُڑا چکلی، شام کا ناشتہ تیار کرنا بھی تمھارا کام ہے۔ تمھارے بچے ہیں۔ شام کو ناشتے میں کھائیں گے۔ پھر ڈاکٹر کے مہمان بھی آتے ر ہتے ہیں۔‘‘ جیٹھانی کی بات سن کر سرسوتی نے سرہلایا اور اسے ہمیشہ نبھایا۔ پرشورام شیتر سے خریداری کے لیے چپلون جانا پڑتا تھا۔
دال ، بھاکری یعنی چاول کی روٹی،گیہوں کی چپاتی ۔ جوار، باجرے کی روٹی یا پوری، دو قسم کی سبزیاں، اصلی گھی، چٹنی، پاپڑ اور کبھی کبھی ڈھوکلابھی کھانے میں شامل ہوتا۔ پورا کھانا بنانے کے لیے، صاف صفائی کرنے کے لیے، کپڑے دھونے کے لیے صبح صبح کام والیاں آ جاتی تھیں۔ سلاد سرسوتی تیار کرتی۔ سب کو کھانا پروسنے، چائے، ناشتہ دینے، سامان کا خیال رکھنے کی ذمہ داری ہمیشہ اسی نے اٹھائی۔
جیٹھانی کی سہیلیاں کبھی کبھی رمی کھیلنے آتیں۔ ناشتہ وغیرہ کا بندوبست سرسوتی کرتیں۔
سرسوتی ساتویں پڑھی ہوئی تھی۔ اس کی مراٹھی بہت اچھی تھی۔ فرصت کے وقت مہابھارت، رامائن، گیانیشوری، داس بودھ جیسی پوتھیاں پڑھتی ۔ اس کی تحریر بہت خوبصورت تھی۔سرسوتی مالا کا جاپ کرتی۔ کبھی کبھار عورتوں کی بھجن منڈلی میں بھی جاتی۔ مندر بھی جایا کرتی۔ ورت رکھتی۔ ورت توجیٹھانی بھی رکھتی تھی۔ کہتی،’’ جتنا کم کھاؤ گے اتنی لمبی عمر پاؤگے۔‘‘ جیٹھانی بھگوان کو زیادہ نہیں مانتی تھی۔ وہ پوجا پاٹ نہیں کرتی تھی۔سرسوتی ہمیشہ نو واری ساڑی پہنتی۔جیٹھانی تیوہاروں کے علاوہ ہمیشہ پانچ واری ساڑی پہنتی۔ عام طور پر وہ ناک میں ہیرے کے لونگ پہنتی ۔ تیوہار میں موتی کی نتھ پہنتی۔سرسوتی کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن، گلے میں چین اور کانوں میں بُندے ہمیشہ رہتے تھے۔ بھاویش کے بعداس نے کانچ کی چوڑیاں پہننا چھوڑ دیاتھا۔ سب اٹھا کر رکھ دیا۔
سرسوتی بادام یا زعفران کا شربت بناتی یا چینی کا گرم میٹھاسوکھے میوے ڈالا ہوا دودھ مہمانوں کو پلاتی۔ ڈاکٹر راگھو بھتیجوں کے لیے ڈھیر سارے پٹاخے خرید لاتے۔ پورا پریوار دوستوں کے ساتھ انھیں جلاتے ہوئے دیوالی مناتا۔
شوہرکی وفات کے بعد سرسوتی نے پروگراموں میں جانا بہت کم کر دیا تھا۔ سالگرہ اور دوسرے تیوہاروں جیسے ہلدی، کم کم جن میں ماتھے پر ٹیکا لگایا جاتا ہے، میں نہیں جاتی تھی۔
کوکن میں ہولی کا تیوہار کم منایا جاتا ہے۔ گھر میں دیوالی اور چَتُرتھی ہی منائی جاتی تھی، چھوٹے بڑے تیوہاروں میں اور خاص طور پرایکا دشی، چترتھی تیوہاروں کے علاوہ سوموار کو بھی دونوںعورتیںورت رکھتی تھیں۔

’’ماں تم پندرہ دن کھاتی ہو ۔ پندرہ دن بھوکی رہتی ہو۔‘‘لڑکے مذاق کرتے۔
ڈاکٹر راگھو کی بیوی بہت زندہ دل تھیں۔ چپلون میں کوئی ڈرامہ کمپنی آتی تو وہ ضرور دیکھنے جاتیں۔ دونوں میاں بیوی ہر سال ہندوستان کے کسی نہ کسی کونے میں گھومنے جاتے۔ ڈاکٹرکو کار سے گھومنا پسند تھا۔ ڈرائیور بھی ساتھ لے جاتے۔ چپلون کے آخری دنوں میں انھوںنے یوروپ کا ٹور کیا تھا۔ بچے انہیں بڑے پاپا کہتے اور ان کی بیوی کو کاکی۔
کاکی گھر والوں کے ساتھ کوئینا ڈیم دیکھنے کا پروگرام بناتیں۔پہاڑ میں ٹربائن دکھانے کے لیے اسکول والے بھی ٹرپ لے جاتے۔یہ جگہ چپلون سے تیس کلومیٹر دور ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس سال راج دیونے میٹرک پاس کر لیا ۔اس وقت میٹرک گیارہویں کی ہو تی تھی ۔
’’مارکس ٹھیک ہیں ۔پینسٹھ فی صد !‘‘نمبردیکھ کربڑے پا پا خوش ہو ئے۔ سرسوتی سے بولے ۔
’’بیٹے کو کالج بھیجنا ہے ۔‘‘انھوں نے راج دیو کا کند ھا تھپتھپایا ۔
’’دیکھو بیٹا! چپلون میں کوئی کالج نہیں ہے ۔آگے کی پڑھائی کے لیے لوگ ممبئی یا پونا جاتے ہیں ۔ ‘‘ بڑے پا پانے بھتیجے کو کس کر سینے سے لگا لیا ،’’تمھیںپونا جاناہوگا۔‘‘
’’جی بڑے پاپا!‘‘
’’پو نا پہنچ کر اس پتے پر میرے دوست سے جاکر ملو۔‘‘ انھوں نے اس کے ہاتھ میں ایک وزٹنگ کارڈدیاتھا، ’’فرگُسن کالج میں تمھارا ایڈمشن ہو جائے گا ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔
ایک گدّا ، کپڑے سے بندھی ہوئی ایک سائیکل اور ایک ٹرنک کے ساتھ راجدیو کو سِٹی ٹرانسپورٹ کی بس میں بٹھا دیا گیا ۔ اسٹینڈ کے باہر پانچ چھ آٹو رکشہ کھڑی ہوئی تھیں۔ کچھ اِکّے بھی تھے۔ان دنوں پونامیں رکشہ نئی نئی آئی ہوئی تھی ۔بس سے اتر کر راجدیو نے اِکّا لیا اور تلک روڈآ گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن بڑے پا پا کے وہ ڈاکٹر دوست انکل، راجدیوکوفرگُسن کالج لے گئے ۔ فرسٹ کلاس ہوتے ہوئے بھی نمبر زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں اسے ایڈمیشن نہیں مل پایا لیکن ’سر پرشورام بھاؤ کالج‘ میں مل گیا ۔یہ کالج ایس پی کالج کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دو دن راجدیو ان کے گھر میں مہمان رہا ۔ انکل بہت میٹھی باتیں کر تے تھے ۔انھوںنے کالج اور ہاسٹل کی سال بھر کی فیس جمع کرادی اورراجدیوہاسٹل چلا گیا۔ اب کالج کی زندگی شروع ہوگئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔
’’مجھے ساینس کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے ۔آرٹس میں جا نا چاہتا ہوں ۔ ‘‘، مہینے بھر بعد راجدیونے بڑے پا پا کو خط لکھا ۔
آٹھ دن تک بڑے پا پا کے خط کے جواب کا انتظار کیاپھر بے چین ہو گیا ۔پی سی او
جا کر فون لگا یا ۔ان دنوں چپلون میں مشکل سے بیس پچیس فون ہوں گے ۔
’’بڑے پا پا مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آتا ۔‘‘
’’میں پو نا آتا ہوں ۔‘‘وہ شاید اس کا خط پڑھ چکے تھے ۔
’’تمھیںگھر کی یادآتی ہو گی ۔‘‘بڑے پاپا نے راجدیوکوسینے سے لگا لیا۔سر پر ہاتھ پھیرتے ہو ئے بولے ’’فیس بھری ہے ۔ساینس پڑھ لو ۔کلاس لگا دیتا ہوں ۔‘‘
راجدیوکالج کے پاس ہی تین جگہ ٹیوشن پر جا نے لگا ۔حساب کے لیے، فزکس ،کیمسٹری کے لیے اور انگلش سدھارنے کے لیے۔ کالج میں پریکٹیکل ہوتے۔ صبح جلدی جانا پڑتا۔کالج میں پڑھانے کا طریقہ الگ تھا اورٹیوشن کااور۔ پہلے سال فیل ہوتے ہوتے بچا۔انگریزی اچھی جانتا تھا۔ مگروہ شہر کے ماڈرن بچوں کے سامنے اپنے آپ کو کم تر سمجھتا تھا۔بڑے پاپا کے مل کر جانے کے بعدراجدیوکچھ سکون سے پڑھنے لگاتھا۔
امتحان کے بعد وہ چپلون چلا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔
’’اگلا سال انٹر ساینس کاہے ۔‘‘
’’فز کس کا پیپر سب سے اچھا کیا ہے ۔‘‘ بڑے پا پا کے پو چھنے پرراج نے کہا ،
’’باقی پیپروں کے بارے میں ۔۔۔۔‘‘وہ ذرا جھجکا پھر بولا ،’’نمبر کیسے آئیں گے پتا نہیں۔لیکن فیل نہیں ہوئوں گا۔‘‘
بڑے پا پا راج دیو کا بہت خیال رکھتے تھے ۔چھٹیوں میں وہ اسے اپنے ساتھ اسپتال

لے جا تے ۔اسپتال چلانے کے مختلف طریقے بتاتے ۔
’’اسٹاف سے نرمی سے پیش آنا چاہیے۔چھوٹی غلطی پر زیادہ ڈانٹو گے تو بڑی غلطی کریں گے ۔‘‘
’’جی بڑے پا پا ۔‘‘
’’تم بڑے اچھے ڈاکٹر بنو گے ۔‘‘
’’جی بڑے پا پا !میں آپ جیسا ہی بننا چاہتا ہوں ۔‘‘
’’ا س اسپتال کو تم چلائو گے۔۔۔دیکھنا ۔‘‘انھوں نے راجدیو کا ہاتھ تھام لیا اور آپریشن تھیٹر کی طرف لے گئے ۔
اس دن راجدیو اسپتال کے مریضوں کو پوچھ رہا تھا۔
’’کیسے ہو بھائی؟ کل ڈسچارج ہو جائے گا۔ ٹھیک سے کھانا پینا۔ تھوڑا گھومنا پھرنا بھی۔‘‘
’’ ڈاکٹر صاحب نے گھر بلا یا ہے ۔‘‘، تبھی وارڈبوائے آیا اور بو لا ۔
راجدیوبڑے پا پا کے کمرے میں گیا ۔کا کی بھی وہیںبیٹھی ہو ئی تھیں۔
’’بیٹھو ‘‘وہ بو لے ۔
’’تم نے کہا تھا فزکس کا پیپر سب سے اچھا لکھا ہے !۔۔۔تمہیں توفزکس میںتیس مارکس ملے ہیں۔ باقی سبجیکٹس میں نام کو پاس ہو گئے ہو ۔‘‘
انھوں نے پڑھنے والے چشمے کے اوپر سے اسے دیکھا ۔وہ سہم گیا۔ ان کے ہاتھ میں اس کا رزلٹ تھا ۔
’’ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟میں دوبارہ جانچ کے لیے عرضی دوںگا۔ بس تھوڑے پیسے بھرنے ہو ںگے۔‘‘ راج دیو نے ان کے ہاتھ سے رزلٹ لے کر کہا ۔
’’ یو نیورسٹی نے جھوٹ لکھا ہے کیا ؟تجھے جان بوجھ کر فیل کر ے گی!!پچھلے سال بھی خراب کیا تھا ۔ تجھے نہیں پڑھائوںگا ۔منجھلے کو پڑھائو ںگا۔وہ اچھی طرح پڑھتا ہے۔ اسے اسکالر شپ کے پیسے بھی ملتے ہیں ۔‘‘
بڑے پا پا بغیر رکے بھڑ کتے رہے ۔’’اِس کو پڑھائوںگا نہیں ۔‘‘ انھوں نے راجدیو سے نظریں ہٹائیں ۔وہ جیسے اپنے آپ سے بول رہے تھے۔
’’جو کرنا ہے کر۔ تو اپنا سوچ لے ۔‘‘وہ پلٹ کربو لے تھے ۔ان کی آواز میں غصہ نہیں تھا، دکھ تھا ۔
کاکی اتنی دیر چپ بیٹھی تھیں ۔ اچانک اپنی جگہ سے اٹھیں ۔ پھر شیلف سے سو روپے کا نوٹ لاکرراجدیو کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ اور بولیں، ’’بھاگ جا ۔‘‘
وہ ان کا چہرا دیکھنے لگا۔
’’سو روپے دے رہی ہو ں ۔پو نا میں دوست ہیں ۔ تیری پہچان ہے ۔‘‘ ان کی آواز میں غصہ تھا ، ’’پندرہ دن بعد آکر بول کہ کیا کرنا چاہتا ہے۔ ویلڈر ،پینٹر بن یا کار پینٹر ی کر،کچھ بھی کر۔کم سے کم ٹیکنیکل ایجوکیشن تو لے لے ۔ روزی روٹی تو چلے گی ۔‘‘ ، ان کی گردن ذراسی اکڑ گئی ، ’’پورے خاندان میں، میںہی اکیلی تھی ۔ما ئیکے میں ،سسرال میں۔ شادی کے بعد بی اے کیا۔۔۔گھر بار سنبھالتے ہوئے ۔‘‘
’’واڈیا کا لج جا ۔‘‘بڑے پا پا فکر مند تھے ،بیوی کی بات کاٹ کر بولے ’’اِدھر اُدھر کہیں بھی جا ئو۔۔۔کورس ڈھونڈنے ۔۔۔‘‘ وہ ذرا رکے۔ ’’کو ئی مقصد تو ہو نا چاہیے پڑھائی کا ۔
پڑھا دیا ۔پڑھ لیا بس ہوا ۔‘‘
’’۔۔۔میں نے بی اے سنسکرت جیسے سبجیکٹ میں ۔۔۔‘‘ کا کی پھر شروع ہو گئی تھیں ۔
راجدیو وہا ں سے اٹھ گیا ۔دروازے سے باہر آتے ہی سرسوتی نے بیٹے کاہاتھ تھام لیا اور جلدی جلدی اپنے کمرے میں لے گئی اور بولی،
’’بیٹا سن! ‘‘ ماں نے اس کی آنکھوں،چہرے اور بالوں پر اپنے کھردرے ہاتھوں کو پھیرا، ’’نیلی آنکھیں، گورا رنگ،بھوری مونچھیں، درمیانہ قد، موٹی موٹی بھویں‘‘ انھوں نے راجدیو کے کندھوں کو دبایا، ’’ آئینہ دیکھ۔ قسم سے آدھے آستین کے ہلکے رنگوں والے شرٹ اور گہرے رنگ کی پتلون میں میرا بیٹا راجدیو مردانہ خوبصورتی کا نمونہ لگتا ہے۔ ہے نا!‘‘ انھوں نے اپنی الماری کا دروازہ کھول کربیٹے کو اس کے قد آدم آئینے میں بھر لیا۔
’’یہ تو قدرت نے تجھے دیا ہے۔ ہے نا! تیرے بابا اور میرے ذریعے۔ ہے نا!‘‘
راجدیوچپ تھا۔ ماں کیا بول رہی ہیں! شایداس پریشانی کے ماحول سے اسے صدمہ ہو گیا ہے۔

’’تجھے بھی کچھ کرنا ہے۔ ہمارے لیے۔‘‘
وہ بے بسی سے انھیں دیکھ رہا تھا۔
’’سن بیٹا ، توکیسے بھی کر کے بی ۔اے جتنا تو پڑھ ہی لے ۔‘‘اس نے راج دیوکے دونوں کندھوں پر اپنا بوجھ ڈالتے ہو ئے کہا، ’’کاکی سے ایک کلاس زیادہ تو پڑھناہی ہو گا تجھے ۔‘‘
’’سرسوتی ۔۔۔ی۔۔۔ی ۔۔‘‘ کا کی کی دہاڑتی ہو ئی آواز آئی ۔ماں رسوئی میں چلی گئیں۔ راج دیوکر سی پر بیٹھ گیا اور گہری سوچ میں ڈوب گیا ۔
٭ توُ راجدیو، تومیرا سپوت
ماں نے گہری سانس لی۔ زانو پر سر رکھے سوتے ہو ئے دونوں چھوٹے بیٹوں کا سر چٹائی پر سرکادیا۔
’’ماں ماں آپ یہ کہانی ہمیںکتنی بار سنائیں گی! کوئی دوسری کہانی کیوں نہیں سناتیں!‘‘ بڑے بیٹے نے اٹھ کرچھوٹے بھائیوں پر رضائی ڈالی اور پیتل کے لوٹے میں پانی لاکر ماں کے ہاتھ میں دیتے ہوئے پوچھا۔
’’کیوں کہ ۔۔کیوں کہ۔۔۔میرے پاس ایک ہی کہانی ہے۔‘‘ ماں نے لوٹا اٹھا کر تھوڑا پانی حلق میں انڈیلا اور بولیں۔
’’ہماری اپنی کہانی۔۔!‘‘ بیٹے نے جیسے اس کی بات پوری کی۔
’’ہاں ہماری اپنی کہانی۔۔۔اور توُ توُ راجدیو، میرا بڑا سپوت ۔۔۔تُوراجدیو، بھاویش جوشی جی اور سرسوتی ماں کا بیٹا۔۔۔ان کے سپنوں کوجی رہا ہے۔‘‘
’’ہاںمیں راجدیو، بھاویش جوشی جی اور سرسوتی ماں کا بیٹا۔۔۔آپ کے سپنوں کوجی رہا ہوں۔‘‘
’’ایسا کورس کرکہ ایک سال بھی بیکارنہ جا ئے! ایکسٹرنل امتحان میں بیٹھ۔ کچھ بھی کر،ڈگری کر۔ کا کی کہتی ہیں، وہ پریوار میں پہلی بی۔اے۔ہیں۔ تو ڈاکٹر نہیں بن سکا لیکن بی اے کرکے ان سے آگے نکل جا ۔۔۔ تیرے پِتا، بھاویش جوشی جی کا نام روشن ہو جائے۔‘‘سرسوتی ماں کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
٭ میں راجدیو
میں راجدیو، ماں کی کہانی کا کردار، پو نا میں اپنے بچپن کے دوست موہن کے روم پر ٹھہرا تھا۔ وہی موہن جس کے ساتھ بچپن میں فلم دیکھی اور استاد سے مار کھائی۔ اس وقت موہن جرمن اسپیشل مضمون سے بی اے کر رہا تھا۔ اور جرمنی جانے کا ارادہ ہی نہیں جنون سا رکھتا تھا۔ میںپونا میںکالج کالج گھومتا رہا۔’ریفریجریشن اینڈ ایر کنڈیش نِنگ ‘کورس ڈیڑھ سال کا تھا ۔ اگر یہاں داخلہ لیا تومیں اگلے سال کالج نہیں جا سکتا تھا۔پتاکِیا، کراڈ میں ایگری کلچر کالج تھا ،اس کے بارے میں سوچنے لگا۔پھر سوچا دسویں کی بنیاد پر پولی ٹیکنک سے کوئی ڈپلوما کورس کر لوں لیکن اس کے لیے میتھس اچھا چاہیے اورمیرا حساب خراب تھا ۔
’’یونیورسٹی روڈ پر ’ایگری کلچر کالج‘ کے کمپاؤنڈ میں تکنیکی تربیت Small Scale Technical training centre کے دفتر میں جاکر دیکھوں! کیا کیا کورس ہیں وہاں!‘‘میں نے سوچا ۔
وہاں سرکار کے ذریعے چلائے جا نے والے کورس کئی تھے ۔آئیل ایکسٹریکشن یعنی تیل نکالنے کا ایک کورس تھا،جس پر اسٹائی پینڈ ملتا تھا۔دو دن جا کر دیکھا۔ ایک اور کورس وہاںچلتا تھا، ’سائینٹفک گلاس اپلائینسیس بلوئنگ ‘کا۔ اس کابھی پتا کیا۔یہ ایک سال کا کورس تھا۔ شیشے کی خالی ٹیوب گرم کر کے گھماکر، بِیکر ،ٹیسٹ ٹیوب انجکشن کے سرنج جیسے ساینٹی فک انسٹرومینٹس بنا نے کا یہ کورس ایک سال کا تھا۔ان دنوں جن طلباکو میٹرک میں نمبرکم ملتے تھے، وہی اس میں جا تے تھے۔ مجھے یہ کورس پسند آیا۔ سال ضایع نہیں جائے گا۔یہاںکانچ کے کھلونے بنا نے اور ٹارچ کے بلب بنا نے کے کورس بھی تھے ۔ان کورسوں پرسرکار سے بیس روپئے اسٹائی پینڈ ملتاتھاکہ غریب اورکم نمبر پانے والے سیکھیں۔کھا نا ول میں اڑتیس روپے میں دو وقت کا پیٹ بھر کھا نا ملتا تھا۔ سوچا صبح اخبار گھر گھر ڈالنے کا کام کروں گا ۔دس روپے تو مل ہی جائیںگے ۔آٹھ روپے بڑے پا پا سے بھیجنے کے لیے کہو ںگا۔
سپرینٹینڈنٹ دلوی سرکے پاس گیا ۔وہ وہاں کے ریٹائرڈ پروفیسربھی تھے ۔ان دنوں طلباء سپرینٹینڈنٹ صاحب کے پاس نہیں جا تے تھے ۔دسویں پاس کیے ہوئے طالب علموں سے

میرا حوصلہ کہیں زیادہ بڑھا ہوا جو تھا۔
’’ٹھہرو! کھڑے رہو۔‘‘ مجھے کر سی کی جانب ہاتھ بڑھاتا دیکھ کر سفید فرینچ کٹ داڑھی والے سپرینٹینڈنٹ نے پوچھا، ’’کیا کام ہے؟ ‘‘
’’مجھے گلاس بلوئنگ کورس میں داخلہ لینا ہے ۔‘‘
’’میٹرک پاس ؟‘‘
’’فرسٹ کلاس سر ۔‘‘
’’تو عرضی دو۔مل جا ئے گا۔ ۱۶؍ اگست سے کالج کھلے گا۔پہلے دن سے ہی جوائن کر نا ہو گا۔نوچھٹی ۔اوکے !‘‘
’’کالج کے کھلنے سے پہلے مجھے کوکن جا نا ہے ۔میرے بابا نہیں ہیں ۔بڑے پا پا کو بتانے جا نا ہوگا کہ یہاں داخلہ لے رہاہوں۔’’میں بہت خوش ہو گیا تھا ۔
’’اپنا کوالفی کیشن بتا ئو ‘‘سپرنٹنڈنٹ نے اچا نک سوال کیا ۔
’’انٹر ساینس میں ایک سبجیکٹ میں فیل ہو ںسر ۔‘‘
’’پھر تمھیں ایڈمیشن نہیں ملے گا ۔‘‘
’’کیو ں سر !آپ دسویں والوں کو لیتے ہیں ۔ میں تو زیادہ پڑھا ہو ا ہو ں۔‘‘
’’ہاںاسی لیے نہیں ملے گا ۔‘‘
’’کیوں سر ؟‘‘مجھ کو ان کے اچانک پلٹنے سے تعجب ہو ا ۔
’’تم سیکھ کر چھوڑ دوگے ۔‘‘
’’نہیں سر۔ ‘‘
’’یہاں ایک سا ل سیکھنے کے بعد نوکری کرنی پڑتی ہے۔ کرنی ہی چاہیے۔ یہ گورنمنٹ کورس ہے۔ نو جوانوں کے روزگار کے لیے ہے۔ تم انٹر ساینس ہو تو آگے ضرور پڑھوگے۔ ایک سیٹ کا نقصان ہو گا یعنی ایک نوجوان کے مستقبل کا ،اس لیے ہائیر کوالی فکیشن اورزیادہ قابلیت والوں کوہم ایڈمیشن نہیں دیتے ۔‘‘
اُس دن موہن کے چھوٹے سے کمرے میں ایک آنے کی بھیل سامنے رکھے ہو ئے میں جی بھر کر رویا ۔
’’یاد ہیں گروجی کے تھپڑ!۔۔۔اچھا پڑوس کے گھر جامن کے درخت پر کیسے چڑھتے تھے یاد ہے؟ بتا تو اب بھی گھٹنے پر نشان باقی ہے یا نہیں۔ اپنی کاکی کی آواز سن کرشاخ سے کتنی زور سے گرپڑا تھاتو، یاد ہے؟‘‘ وہ مجھے بہلا رہا تھا۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس سسکیاں لیتا رہا۔ وہ سنجیدہ ہو گیا۔
’’تو چپلون لوٹ جا ۔بڑے پا پا کو بول ،یہاں آکر کھٹ پٹ کریں ۔ان کی بڑی پہچان ہے نا !‘‘، آخرموہن نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا، ’’چُٹکیوں میں ہو جائے گایار! بس ایک فون کرنے کی دیر ہے۔ سچ میں، ہو جائے گا یار!‘‘
بس چھ روپے کی ایس ۔ٹی کی ٹکٹ لی اور بڑے پا پا کے دربار میں حاضر ۔
’’اسی کورس میں جا نا ہے ؟ٹھان لیا ہے؟ ‘‘ کا کی نے پو چھا ۔
’’ہا ں، یہی کورس کر نا ہے۔پلیز آپ اپنے ڈاکٹر دوست سے کہیے ،سفارش کرے۔‘‘ میں نے بڑے پا پا سے کہا۔
’’ جو کر ناہے تو خودکر۔ دوست کو نہیں بولوںگا کہ بیٹے کو نلیاںپھونکنے جا نا ہے۔‘‘بڑے پا پا کی سانس پھول رہی تھی ۔ ماحول میں ایک منٹ خاموشی رہی پھر کا کی بولیں۔
’’ایک ’ لاک میکنگ‘کا کورس تھا نا !گودریج کمپنی میں نوکری ملے گی ۔‘‘
’’وہ ڈیڑھ سال کا ہے کاکی۔‘‘
’’ کیمپس انٹرویو میں سیلیکٹ ہو جا ئوگے۔ نوکری لگ جائے گی۔‘‘
میں نے ماں کی طرف دیکھا۔ وہ دروازے کے پاس چور بنی، نظرجھکائے دائیں پیر کے انگوٹھے کے ناخن سے زمین کرید رہی تھیں۔میں نے سیدھے کا کی کی طرف دیکھا اور بو لا، ’’جاب نہیں کر نا ہے۔۔۔۔پڑھنا ہے۔‘‘
رات میںمیری نیند اڑی ہو ئی تھی ۔سوچتے سوچتے خیال آیا ،
’’دلوی کو ملنا ہوگا۔ کچھ کرنا ہوگا۔‘‘ رات بھر سپنے میں نت نئے آئیڈیا آتے رہے۔
اگلے دن میںپونا میں سپرن ٹینڈینٹ دلوی کے سامنے کھڑا تھا۔
’’نہیں بولا نا ، تو نہیں۔‘‘دلوی نے اپنی سفید گھنی بھویں اچکاکر کہا۔
’’میں آپ کو یہی بتانے آیا ہوں کہ میرے انکل چپلون میں ڈاکٹر ہیں۔ اِن دنوںاُس

طرف کوئینا ڈیم کا کام چل رہا ہے۔۔۔‘‘ میں بغیر رُکے بولتا رہاتھا ۔دلوی نے سر ہلایا، ’’اسی کے پاس انڈسٹریل ایریا میں انکل کی زمین ہے۔ ان کے پاس پیسہ ہے۔ میںانسٹیٹیوٹ کے اِس سال کے دس اسٹوڈنٹس کی batchبُک کرتا ہو ں۔ وہاں اپنی انڈسٹری کھولوںگا۔ انہیں نوکری دوں گا۔ مجھے صرف کام سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کیسا بنا نا ہے، سیکھنا ہے۔ کسی سے کام لینا ہو تو کام کر نا آنا چاہیے نا! مال تیار کیسے ہوتاہے جا ننا چاہیے نا! اس لیے آپ مجھے پارٹ ٹائم کورس دے دیجیے۔ وِداؤٹ سٹائی پینڈ۔ میں ہی فیس بھروں گا۔‘‘
’’کوئنا ؟ کوئنا کے بارے میں کیا جانتے ہو؟‘‘ انھوں نے اچانک سوال داغا۔
’’کوئنا چھوٹا علاقہ ہے۔ چپلون سے ۱۷ کلومیٹر کا پہاڑ چڑھنے پر کوئنا نگرہے۔ وہاں بندبنایاگیا ہے۔ ستارا سے دس کلو میٹر کی دوری پرنیچے پوپھلی گاؤں میں ٹربائن لگائے گئے تھے۔ بجلی کا پانی واششٹی ندی میں چھوڑا گیا ہے۔ اس لیے چپلون میںپانی کی کمی نہیں۔‘‘ مجھے جو یاد آگیا، میں نے کہہ دیا۔
’’سرٹیفیکیٹ لا ئے گا کیا گھر سے ؟‘‘مجھے لگا دلوی سر میری بات پر کچھ کچھ یقین کر نے لگے تھے ۔
’’کیسا سرٹیفیکیٹ ؟‘‘
’’کہ جگہ ہے ورکشاپ کی ! لائے گا کیا ؟‘‘
’’ہاں‘‘ میں نے خود اعتمادی کے ساتھ کہا۔
روم پر لوٹ کر میں نے خود اپنے ہاتھ سے بڑے پا پا کی طرف سے لکھا ،
’’ میرے بھتیجے کو گلاس بلوئنگ کی ٹرینگ دیجیے ۔دس آدمی دیجیے،میں کوئنا انڈسٹریل ایریا میں ساینٹیفک instruments کی فیکٹری کھولنا چاہتا ہوں۔‘‘
پھر میں نے بڑے پا پا کے دستخط کیے اور خط دلوی سر کو دے آ یا ۔
میں روز چھوٹی صنعت کے تربیتی مرکز، ’لگھوادیوگ تنترنیکیتن ‘کے چکّر اس وقت لگاتا جب سپریٹینڈنٹ کے آنے کا وقت ہو تا ۔تاکہ ان کی نظر مجھ پر پڑتی رہے اور انھیں یاد آتا رہے کہ میں منتظرہوں۔ انھیںمجھے جواب دینا ہے۔
آٹھویں دن میں سپرین ٹینڈنٹ دلوی کو اپنا چہرا دکھاکر لوٹ رہا تھا کہ چپراسی نے مجھے اندر جا نے کا اشارہ کیا ۔میں پھر ایک بار سپرین ٹینڈنٹ کے سامنے ایک انجانے خوف کے ساتھ کھڑا تھا۔
’’ابھی تم پارٹ ٹائم کورس جوائن کر لو۔ روز دو گھنٹے پریکٹس کرو۔ اگر کوئی لڑکا بیچ میں چھوڑ کر چلا گیا تو تمھیں فل ٹائم کورس میں جگہ مل جائے گی ۔‘‘
ایک ماہ بعدمیں سائیکل سے کالج جانے لگا۔
بڑے پاپا کو خاندانی شوگر کی بیماری تھی۔ بلڈ پریشر کی بھی شکایت تھی۔ چھٹیوں میں پونا سے گھر آتا تو بڑے پاپا اکثرکہتے، ’’ مریض کو پونا لے جانا ہے۔‘‘ ستارا میں آدھا کلو پیڑے خرید لیتے۔ پونا تک ختم کر دیتے۔ میں ان دنوں سترہ اٹھارہ سال کا تھا۔
رات کے بارہ بج رہے تھے۔ بڑے پاپا ایک ایمرجینسی کیس دیکھ کر لوٹ رہے تھے۔ سیدھے رسوئی میں چلے گئے۔ چینی مٹی کی برنی کا ڈھکن کھولا۔ بیسن کا ایک لڈو نکالا۔ پیڑھے پر بیٹھ کر خوب مزے لے کر کھایا۔ ہاتھ میں پکڑا ہوا برنی کا ڈھکن زمین پر گرپڑا۔ آواز سن کر میں دوڑ کر رسوئی میں چلا گیا۔ اپنی زبان کو دانتوں میں دبا کر انھوں نے مجھے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ اور برنی سے ایک لڈو نکال کر میرے ہاتھ میں رکھ دیا۔ ڈھکن لگا کر جب وہ اوپر پہنچے تو اپنی خوابگاہ کے دروازے میںانھیں بایاں ہاتھ کمر پر رکھے غراتی ہوئی کاکی نظر آئیں۔ بڑے پاپا کا ہاتھ پکڑ کر بولیں ، ’’اچھا تو یہ بھی کرتے ہو؟‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں