راکھ میں دبی چنگاری

افسانہ نگار : زین العابدین خاں

, راکھ میں دبی چنگاری

کُلہاڑی سے کاٹ کے اُس کا سر الگ کیا۔دونوں ٹانگیں الگ کیا اور بہتے ہوئے نہر میں پھینک دیا۔تین حصوں میں لاش بہتی ہوئی آگے چلی گئی ۔رات میں گیدڑوں نے کھایا اور دِن میں کُتوں نے کھا یا۔
ظفر خاں جب اسکول سے گھر آیا تو اُس کی آنکھوں کو یقین نہیں آیا ۔اُس کے بھائی اسمعیل خاں کی لاش کو اُن کا گھوڑا اپنی پیٹھ پہ لیے کھڑا تھا۔گھوڑے کے پیٹھ پہ اُس کے بھائی کا خون چاروں طرف بہہ رہا تھا ،سفید گھوڑا اور لال لال خون کی لکیریں ۔اب تو گھوڑوں کا زمانہ رہا نہیں ورنہ گھوڑا اتنا وفادار جانور ہے کہ اپنے مالک کو اگر وہ مر بھی جائے تو نہیں چھوڑتا ہے اور یہاں تو اسمعیل خاں کو گائوں والوں نے مار کر اُسی کے گھوڑے کی پیٹھ پہ لاد دیا تھا تاکہ وہ اُن کی لاش لے کر گھر چلا جائے اور ہوا بھی یہی گھوڑا دھیرے دھیرے چل کے اُن کی لاش کو اپنی پیٹھ پہ لیے سیدھے گھر آگیا اور گھر میں کہرام مچ گیا ۔
ظفر خاں کی عمر اُس وقت ۲۰سال تھی ۔بارھویں جماعت میں پڑھ رہا تھا ،اُس نے اپنی بھائی کی لاش کو اُتارا اور گھر کے لوگوں کو بولا جب تک میں نہ آجائوں میرے بھائی کی لاش کو ایسے ہی رہنے دینا ،کفن دفن یا غُسل نہ دینا،میں دیکھتا ہوں اُن حرام کے پلّو کو جس نے میرے بھائی کا قتل کیا ہے اور اُن کی لاش کو گھر پہ چھوڑدیا ہے۔وہ انتقام کی آگ میں جلتا ہوا گھوڑے کی پیٹھ پہ بیٹھا اور گھوڑے کو سر پٹ دوڑا دیا۔گھوڑا ٹھیک اُس گائوں میںگیا جہاں ظفر خاں کو قتل کیا گیا تھا۔


پوربی اتر پردیش گائوں میں ہندئوں اور مسلمانوں کے گائوں بٹے ہوئے ہیں۔جنگلی جانور جیسے ہرن ،نیل گائے یا بارہ سنگھا کو ہندو نہیں مارتے اور یہ جانور اِن کے گائوں کے کھیتوں میں آزادی سے جیتے ہیں لیکن اگر یہی جانور بھول بھٹک کے مسلمانوں کے گائوں کے طرف آگئے تو کئی بندوقیں نکل جاتی ہیں اور اُسے گھیر کر مار دیتے ہیں۔یہ جانور اسلام میں حلال ضرور ہیں لیکن ان بے زبان جانوروں کو مارنا کوئی فرض نہیں لیکن ایسا ہوتا ہے ۔ان مسلمانوں کو خاص کر بڑے زمینداروں کو جن میں اکثریت پٹھانوں کی ہے وہ دور دور تک شکار کے لیے جاتے ہیں۔ اُنھیں گائوں سے کوئی لینا دینا نہیں کہ یہ گائوں ہندئوں کا ہے یا مسلمانوں کا ،اُنھیں بس شکار چاہیے۔اب ہندوستانی سر کار نے جنگلی جانوروں کے شکار پہ با لکل پابندی لگا رکھی ہے لیکن مسلمان لوگ اپنے علاقے میں شکار سے باز نہیں آتے ہیںاور جب ہندو علاقے میں جاتے ہیں تو ان پہ حملہ ہوتا ہے ،ان کی بندوقیں چھین لی جاتی ہے۔
اسمعیل خاں کا قتل بھی ہندئوں کے گائوں میں ہوا تھا۔اُن کا مارا ہوا زخمی ہرن گائوں میں گھُس گیا اور پھر گائوں والوں نے اسمعیل خاں کو گولی مار کر اُن کی لاش کو اُن کے ہی گھوڑے کے پیٹھ پہ باند ھ دیااور گھوڑا اُن کی لاش کو لے کر اُن کے گھر آگیا تھا۔


ظفر خاں اُس گائوں میں گھوڑے پہ بیٹھے پہنچا تو شام ڈھل رہی تھی ،لوگ کھیتوں سے گھر لوٹ رہے تھے۔ اُس نے بُلند آواز میں چلّا کے کہا ،
ــــ’’ میں اسمعیل خاں کا چھوٹا بھائی ظفر خاں ہوں جس کی ماں نے دودھ پلایا ہے وہ سامنے آجائے۔‘‘
اُس کو اس حال میں دیکھ کر کچھ لوگ بھاگے لیکن کچھ نوجوان سامنے آگئے اور بولے ’’اگر تم بھی ہمارے گائوں میں ہرن ،نیل گائے یا بارہ سنگھا ماروگے تو تمہاری بھی لاش اِسی گھوڑے پہ ڈال کے تمہارے گھر پہنچے گی ، سالے مسلمان اناج سے پیٹ نہیں بھرتا ہے کیا؟‘‘
اِس کے جواب میں ظفر خاں نے اپنی بندوق سے فائر کرنا شروع کردیا ۔اب وہ گھوڑے سے اُتر گیا تھا اورلوگوں کو دوڑا دوڑا کے گولی ما رہا تھا ۔اُس نے نو لاشیں زمین پہ گرادیں ۔لاشوں کو گِنا اور چلّا کے بولا ’’آئو آئو دیکھو تماشہ، تم نے ایک لاش گرائی اور ہم نے نو مار دیے۔‘‘ پورے گائوں میں بھگ دڑ مچ گئی لوگ گھروں میں چھپ گئے۔
اِن نو لاشوں کو گرانے کے بعد وہ اپنے گھر پہنچا اُس کے بھائی اسمعیل خان کی لاش کے پاس کہا ’’بھیا میں نے تمہارے قتل کا بدلہ لے لیا ۔ابھی تو نو ہی آدمی مارا ہوں ہو سکتا ہے کہ آگے چل کے مجھے نوّے آدمی مارنا پڑے۔ بھیا مجھے معاف کرنا میں تمہارے جنازے میں شامل نہیں ہو سکتا ۔‘‘ پھر وہ بندوق اپنی ماں کے حوالے کر کے گھوڑے کی پیٹھ پہ بیٹھ گیا اور رات کے اندھیرے میں گُم ہو گیا۔
وہ اپنے گھوڑے کو دوبارہ دوڑاتے ہوئے جب چالیس میل آگے چلا گیا تو اُسے ایک ریلوے اسٹیشن ملا۔وہ وہی اپنے گھوڑے کو چھوڑ دیا اور پھر ٹرین پکڑ کر کلکتہ چلا گیا ۔راہ فرار چاہے جتنا بھی اختیار کرو ،گناہ انسان کا پیچھا کرتا ہے ۔ایک ساتھ نو قتل کے بعد پولیس کے لیے یہ ایک چیلنج ہو گیا تھا کہ ظفر خاں کو کس طرح گرفتار کیا جائے۔ ایک بغیر سوار کا سفید گھوڑا جب ریلوے اسٹیشن سے گھر کی طرف روانہ ہوا تو پولیس کو اتنا تو پتہ چل ہی گیا کہ اس کے بعد وہ پورب کی طرف کس ٹرین سے بھاگ گیا ۔یو پی ،بہار اور بنگال کی پولیس ایک ساتھ حرکت میں آگئی ۔ہر طرف وائر لیس کا میسیج پھیل گیا اور ظفر خاں کو ہاوڑا اسٹیشن پہ گرفتار کر لیا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔
ظفر خاں کے جیل جانے کے بعد کورٹ کچہری کا معاملہ شروع ہوا ۔ایک طرف ظفر خاں کے وکیل اس کو ضمانت پہ چھڑانا چاہتے تھے اور دوسرے طرف سرکاری وکیل اس کی پھانسی کے مانگ پہ اڑے ہوئے تھے ۔تاریخ پہ تاریخ پڑتی گئی اور ظفر خاں پانچ سال تک جیل میں سڑتا رہا ۔اس بیچ ظفر خاں پہ فالج کا حملہ ہوا اور اس کا بایاں حصہ مفلوج ہو گیا ۔بایاں ہاتھ سکڑ کے مُڑ گیا اور کسی کام کے لائق نہیں رہا۔ جیل کے ڈاکٹروں نے اس پہ دھیان نہیں دیا ۔اب وہ صرف ایک ہاتھ کا ہو کے رہ گیا،سارا کام داہنے ہاتھ سے کرنے لگا۔


جب چھٹا سال شروع ہوا تو ظفر خاں کے وکیل نے ان کی حالت دیکھ کر کیس کو پلٹ دیا اور پولیس کے ایف آئی آر کو سرے سے غلظ
قرار دے ڈالا کیونکہ ایک ہاتھ کا آدمی گھوڑے کی پیٹھ پہ بیٹھ کر گھوڑا دوڑا کر اپنے بندوق سے دوڑا دوڑا کے نو آدمیوں کا قتل کردے یہ ممکن ہی نہیں ۔جج نے عدالت میں معائنہ کیا بلکہ ایک دوسرے آدمی سے کورٹ میں ان کے بائیں طرف وار کیا ۔پائوں تو چلا لیکن ہاتھ میں حرکت نہیں ہوئی ۔جج نے اس کے کپڑے اُتر واکر اُس کے بائیں ہاتھ کا جائزہ لیا،وہ سوکھ چکا تھا اور مُڑکے سینہ پہ سمٹ گیا تھا۔
جج نے ظفر خاں جو اب فالج زدہ تھا اِ س کی وجہ سے رہا کر دیااور چھ سال کے بعد اپنے گائوں آگیا۔عدالت نے چھوڑ دیا ،ظفر خاں آزاد ہوگیا لیکن دشمن زندہ تھے ۔ اب مقتولوں کے خاندان کے لوگ اپنی چھری تیز کرنے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورٹ نے سزا نہیں دی تو کیا ہوا ہم اس کی بوٹی بوٹی کاٹ کے دم لے گیں۔
ظفر خاں گھر لوٹا تو اس کا پورا خاندان خوشی سے ناچ اٹھا۔ماں نے فوراًاس کی شادی کر دی۔اس کی بیوی کلثوم جب گھر آئی تو گھر کا سارا ماحول بدل چکا تھا ۔ایک طرف تو ظفر خان کو اپنی جان کا خطرہ تھا اور دوسری طرف ایک جوان اور خوبصورت بیوی کلثوم اس کی خدمت میں لگ گئی۔اب وہ دن رات گھر ہی میں رہتا۔وہ ایک بڑا زمیندار تھا۔کھیتوں اور باغوں کی نگرانی کے لیے اسے جانا تھا لیکن اس کے دشمن چپّہ چپّہ پہ گھوم رہے تھے۔کبھی کبھی وہ گھر سے نکلتا تو اپنی ریوالور کو اچھی طرح لوڈ کرکے نکلتا۔وہ گھوڑے پہ بیٹھ جاتا ،لگام کو منہ سے پکڑتا اور داہنے ہاتھ کے طرف پستول لٹکا لیتا ۔اس کے دشمن آتے اور گھر کے سامنے اسے للکار کے جاتے۔بھائی کے قبر کے بغل میں اپنی قبر کھدوالے ،جس دن ہتّھے چڑھ گیا اس دن تمہاری لاشوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرے گیں اور ایک ایک ٹکڑے کو چیل کوّے کو کھلائے گیں اور جو بچ جائے گا اسے ایک گٹھری میں باندھ کر تمہاری ماں اور بیوی کے حوالے کردے گیں۔
ظفر خاں صبر کرتا ،غلطی اس سے ہوگئی تھی ۔اب وہ اپنے جیسے لوگوں کو اکٹھا کرنے لگا اور پچاس ساٹھ آدمیوں کا پورا ایک گروپ بن گیا اور اِدھر اُدھر رات کے اندھیرے میں اپنے دشمنوں پہ حملہ کرنے لگا ۔وہ ان کا قتل نہیں کرتا بلکہ ہاتھ پائوں توڑ دیتا۔وہ کبھی کسی کا کچھ نہیں لیتا لیکن اس کے ساتھی لوٹ مار کرتے ۔اب ظفر خاں ایک زمیندار سے ڈاکو کہلانے لگا۔وہ گھوڑے کی پیٹھ پہ بیٹھ جاتا ۔منہ سے اس کا لگام پکڑتا اور داہنے ہاتھ میں ریوالور لہراتا۔اب اس کے گروہ کی تعداد اَسّی(۸۰) ڈکیتوں کی ہو گئی۔جب کہیں پہ دن میں نکل جاتا تو رات میں لوگ اتنا ڈر جاتے کہ گھر چھوڑ کر بھاگ جاتے ۔ظفر خاں کی اس نئی شکل سے پورا علاقہ گھبرانے لگا۔اب اس کے ساتھی کہیں بھی کسی گائوں
میں ہرن کا شکار کرتے تھے ،کوئی آواز اٹھانے والا نہیں تھا ۔اب پورا علاقہ اس کے ظلم و جبر سے گھبرانے لگا تھا۔اب وہ اپنی زمینداری اور باغوں کی خود دیکھ ریکھ کرتا۔


اسی طرح چھ سالوں میںکلثوم سے اس کے دو بیٹے ہو گئے۔گھر گرہستی آباد ہو گئی ۔دشمنوں کا ڈر ختم ہو گیا ۔کئی لوگوں کے اس کے گروپ نے ہاتھ پائوں توڑ دیے ۔ایک دن اچانک جب وہ اپنے ایک آموں کے باغ میں گیا تو دیکھا کہ ایک نو خیز لڑکی اس کے ایک آم کے پیڑپہ چڑھ کے آم توڑ رہی تھی اور نیچے گرارہی تھی ،وہ وہاں جا کے کھڑا ہوگیا ۔لڑکی نے اسے دیکھا لیکن وہ اپنے کام میں مشغول رہی ۔وہ
گھوڑے سے اتر گیا اوربولا ’’اے لڑکی ! نیچے اُتر یہ پیڑ تیرے باپ کا ہے کیا؟ ‘‘
’’میرے باپ کا تو نہیں ہے ،ظفر خاں کا ہے۔‘‘
’’اگر اسے معلوم ہوا تو؟ــ‘‘
’’کیا کرے گاوہ تو دنیا کو لوٹتا ہے ،میں نے دو چار آم توڑ لیے تو کیا ہوا؟‘‘
’’کیا تو جانتی ہے کہ میں کون ہوں؟‘‘ ــظفر خاں نے کہا۔
ــ’’مجھے جاننے کی ضرورت نہیں ،ہوگا کوئی بھی ۔‘‘ لڑکی نے کہا۔
’’میں ہی ظفر ہوں،یہ میرا گھوڑا اور یہ میری پستول ‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کسی بچہ کی طرح اپنا پستول ہوا میں لہرادیا۔وہ لڑکی اسے دیکھ کر اور اس کی پستول کو دیکھ کر اتنا ڈر گئی کہ آم کے پیڑ سے دھیرے دھیرے اترنے کے بجائے وہ سیدھے زمین پہ کود گئی اور پھر زمین پہ چوٹ سے کراہنے لگی ۔ظفر خان نے اپنے آدمیوں کو بلوایا اور اسے ڈاکٹر کے پاس بھجوایا۔اس بیچ میں وہ اس لڑکی سے اتنا شرمندہ ہوا کہ اس سے اور اس کے باپ اسحاق میاں سے معافی بھی مانگا۔وہ لڑکی تو چلی گئی لیکن اس کی خوبصورتی سے خود ظفر خاں زیادہ زخمی ہوگئے۔جب وہ پیڑ سے زمین پہ کودی اور زمین پہ درد سے تڑپنے لگی ،اس کا سینہ ،اس کے بال سب بکھر گئے اور جمپر اتنا اوپر اٹھا کہ پیٹ ننگا ہوگیا۔ویسے اس لڑکی کا نام زرینہ تھا اور اسحاق میاں کی یہ تیسری بیٹی تھی ۔اسحاق بنجارہ قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور کسی زمانہ میں یہ لوگ ایران سے ہندوستان آکے بس گئے تھے ۔ان کے بچوں کے سارے نقوش ایرانی ہیں۔ایران کی اپنی خوبصورتی ۔لمبا گھاگرا ،اوپر ایک چولی ،گیسو نہ ہوئے دو لٹکتے ہوئے کالے کالے سانپ ،دوپٹہ سیدھے پیچھے کی طرف لٹکتا ہوا اور سینہ کا ابھار کسی گنبد کی طرح۔اِن کی بنجارن لڑکیاںتو ایسے گھومتی ہیں جیسے جنگلوں کے سانپ۔
زرینہ سے زیادہ زخمی ظفر خاں ہوگئے۔اسے ڈاکٹر کے پاس جاکے دیکھ کر آئے اور اس کے باپ کے ہاتھ پہ دس ہزار رکھ دیے تاکہ وہ اس کا اچھی طرح علاج کرائے۔زرینہ کے ٹھیک ہونے میں تین مہینے لگ گئے اور اس بیچ ظفر خاں اس کے گھر ہمیشہ جاتے رہے ۔حُسن جب کسی کے دل میں اُترتا ہے تو ایک نقشہ کی طرح چڑھ جاتا ہے۔


اب تک تو سب ٹھیک تھا لیکن ظفر خاں نے جب اپنی ماں سے اس لڑکی سے شادی کی بات کہی تو گھر میں ایک بھو نچال آگیا ۔کلثوم کا رو رو کے برا حال ہو گیا۔وہ کہتی ــ’’دو لڑکوں کا باپ اب دوسری شادی کرنے چلا ہے ۔مجھ میں کیا کمی ہے ،وہ بھی بنجارن سے،یہ لوگ شیعہ ہوتے ہیں توبہ!توبہ!‘‘لیکن ظفر خاں کا مقابلہ کون کرے ۔نہ ماں کچھ بول پارہی تھی اور نہ کلثوم ۔قریب و جوار کے لوگ ظفر خاں کو رحم دل جلّاد کہتے تھے ۔یہ دونوں متضاد لفظ ایک ساتھ ملا دیے تھے۔آخر کار ظفر خاں کے آگے اسحاق میاں اور زرینہ سرنگوں ہوگئے اور وہ دلہن بن کے ظفر خاں کی حویلی میں آگئی ۔
مثل مشہور ہے کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں رکھی جاسکتی وہی حال یہاں ہوا ۔کلثوم کے دو بیٹے تھے ۔ایک کی عمر دس سال اور دوسرے کی عمر آٹھ سال تھی۔زرینہ تو نئی نئی تھی اور ظفر خاں کی منظور نظر تھی ۔جب بھی فرصت ملتی وہ اس کے پاس آ کے بیٹھتے ،اس کے ساتھ سوتے اور کھانا بھی وہی کھلاتی ۔کلثوم کی بغاوت ظفر خاں سے اسے دور لیتی چلی گئی اور وہ گھر میں الگ تھلگ پڑتی گئی۔وقت گزرنے لگا کلثوم کے زخم بھرنے لگے لیکن اس کا درجہ کم ہوگیا ۔ ویسے زرینہ کلثوم کو خوش رکھنے کی بہت کوشش کرتی رہی لیکن سب بے سود کیونکہ کلثوم اس سلطنت سے بے دخل ہوچکی تھی ۔اس جھگڑے اور نفرت کا اثر دھیرے دھیرے کلثوم کے دونوں بیٹوں پہ پڑنے لگااور وہ بھی اپنے باپ سے
کترانے لگے ۔
اس بیچ ظفر خاں سیاست میں بھی حصہ لینے لگے۔الیکشن کے دوران بڑے بڑے لیڈر اُن سے ملنے آتے۔کبھی کبھی وہ کسی امیدوار کے لیے چنائو میں نکل جاتے ۔سیاست میں آنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ پولیس بھی اُن کی عزت کرنے لگی ۔اُن کو دیکھ کر لوگ کہتے کہ آج کل غنڈوں کا راج ملک میں ہے۔وہ الیکشن میں مشغول اور ہفتوں گھر سے باہر رہنے لگے۔اُن کی غیر حاضری میں اُن دونوں عورتوں میں بات چیت بھی بند ہوگئی ۔ظفر خاں کی ماں کیا کرتی وہ دِن بھر عبادت میں مشغول رہتی۔
جب ظفر خاں گھر آتے کلثوم اور زرینہ آپس میں ایسے رہنے لگتیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں لیکن دونوں کے دل کے اندر سب کچھ ٹوٹ چکا تھا۔
وقت نے کروٹ بدلی اور زرینہ کو بھی ایک کے بعد ایک دو لڑکے ہو گئے ۔اب اُس گھر میں ظفر خاں کے چار جاں نشین ہو گئے۔زمین کافی تھی اگر چار حصّے ہوتے بھی تو چاروں ہی مال دار ہوتے ۔
ظفر خاں کچھ دنوں کے بعد الیکشن جیت کر اپنے گائوں کے سر پنچ ہو گئے ۔گھر پہ لوگوں کی بھیڑ لگنے لگی ۔اب اُنھیں غریب لوگوں میں گرام پنچایت کی زمین بانٹنی تھی ۔ زرینہ کے والد خانہ بدوش تھے ۔یہ پورا قبیلہ گائوں کی زمین پر زبردستی قبضہ جمائے ہوئے تھا ۔ظفر خاں نے جو زمین جِس کے قبضہ میں تھی اُس کے نام کردیے ۔اِس اسکیم کا فائدہ زرینہ کے والد اسحاق میاں کو بھی مِلالیکن کلثوم اُن کی پہلی بیوی بغاوت پہ اُتر گئی ۔اُس زمین میں وہ اپنے باپ کے لیے بھی حصّہ مانگنے لگی جو ایک قِسم سے ناجائز بات تھی اور ظفر خاں نے نہیں دیااور کلثوم سے صاف کہہ دیا کہ یہ گائوں سماج کی زمین صرف اُن لوگوں کے لیے ہیں جن کے پاس زمین نہیں ہے،تمہارے باپ کے پاس زمین
ہے۔


گھر کے اِس تنائو میں بارہ سال گزر گئے ۔کلثوم سے پیدا ہوئے بیٹے اب اپنے باپ سے بات چیت بھی بند کر چکے تھے ۔جب کہ ظفر خاںاپنے سارے بچوں کو ایک نظر سے دیکھتے اور سب کا خرچ اُٹھاتے لیکن اِن دو عورتوں کے بیچ صلح کبھی نہیں ہوئی ۔
ظفر خاں کا باہر کی دُنیا میں بڑا نام تھا ،بڑی عزت تھی لیکن گھر میں زرینہ ہی اُس کی دیکھ ریکھ کرتی ۔عمر کے ساتھ ظفر خاں بوڑھے ہونے لگے اور کلثوم بھی ۔
ایک دن کلثوم نے ظفر خاں کے سامنے ایک تجویز رکھی کہ کیوں نہ اپنی زندگی میں ہی زمین اور باغ کا بٹوارہ کردیں تاکہ آپ کے مرنے کے بعد ان لڑکوں میں خون خرابہ نہ ہو ۔ظفر خاں کو یہ تجویزاچھی لگی اور انہوں نے اپنی زمین اور باغ کے برابر چار حِصّہ کر دیے لیکن اُن کے چاروں اولاد اِس سے مطمئن نہیں ہوئے ۔سب کو لگا اُن کو کم ملا ہے ،الزام تراش یہاں تک بڑھی کہ ہم کو پتھریلی زمین ملی اِس میں تو کچھ پیدا ہی نہیں ہوتا یا جو آم کا پیڑ ملا ہے اُس کے آم کھٹے ہیں۔اس تنائو کے بعد کلثوم نے ظفر خاں سے کہا ،
’’ آپ چار حصّہ کرنے کے بجائے پوری جائیداد کے صرف دو حصّہ کیجیے ،ایک میرے نام اور دوسرا زرینہ آپ کی دوسری بیوی کے نام۔‘‘ انہوں نے پہلے والے بٹوارہ کو کینسل کر کے دوبارہ پوری جائیداد کے صرف دو حصّہ کر دیے ۔
اب اس دوسری بار کے بٹوارہ کے بعد بھی کلثوم کے دونوں بیٹے مطمئن نہیں ہوئے اور نکتہ چینی پہ اتر گئے کہ چھوٹی امّی زرینہ کو آپ نے اچھی زمین دی جس میں فصل اچھی پیدا ہوتی ہے۔
کلثوم کے دونوں بیٹوں کی فریاد سننے کے لیے انہوں نے دوسرے دن شام کے وقت نہر کے کنارے اُس زمین کے پاس بُلایا تاکہ دوبارہ زمین کی پیمائش کر دی جائے ۔کلثوم کے دونوں بیٹے وہاں سے اُٹھ کے اپنی ماں کے پاس چلے گئے ۔ رات کا وقت تھا کلثوم نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا،
’’پہلے زمانہ میں مرد دو دو ،تین تین شادیاں کرتے تھے کیونکہ اُن دنوں جنگیں ہوتی تھی ۔ایک ایک جنگ میں ہزاروں عورتیں بیوہ ہوتی تھی ،اُن کے پاس بچے بھی ہوتے تھے لیکن تمہارا باپ تو کنواری عورت لایا اور تمہارے پیٹ پہ لات مار کر آدھی جائیداد چھین لیا ۔میں یہ زخم بہت دنوں سے کسی سانپ کی طرح اپنے سینہ میں لیے بیٹھی ہوں ۔میں یہی اتنے دنوں سے سوچتی رہی کہ آخر مجھ میں کیا کمی تھی کہ تمہارا باپ ایک دوسری کنواری بیاہ لایا ،تم دونوں اِس کا ضرور بدلہ لو تب میرے اندر کا زہر زائل ہوگا ۔
دوسرے دن جب ظفر خاں اپنے بیٹوں کے ساتھ نہر کے کنارے پہنچے تو کلثوم کے دونوں بیٹوں کو ماں کی بات یاد آئی ۔دونوںنے ایک ساتھ اپنے باپ پہ حملہ کر دیے اور جب اُن کی جان نکل گئی تو اُن کی لاش کو کلہاڑی سے کاٹ کر بہتی نہر میں ڈال دیا ۔
*****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں