نہ اس پر زہر اثر کرتا نہ گولی،روس کا ایک چمتکاری بابا جو محل تک پہنچ گیا

Dr Zubair Farooq زبیر فاروق
Dr Zubair Farooq زبیر فاروق

افسانہ نگار : ڈاکٹر زبیر فاروق

یہ کہانی روس کے ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جسے لوگ سنکی ، پاگل ،جادوگر، بابا، مہاتما کہتے تھے کچھ اسے جرمنی کا جاسوس بھی کہتے تھے ۔کچھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے اندر زبردست روحانی طاقت تھی وہ سامنے والے کے حواس پہ قابض ہو کر اسے ہپناٹائز کر دیتا تھا ۔لمحے بھر میں مقابل کا دماغ اپنے قابو میں کر لیتا تھا ۔ اسکا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا ۔ اسکا پچپن سے ہی کسی کام میں دل نہیں لگتا تھا ۔پھر شادی ہوئی بچے ہوئے وہ چور بن گیا اور عدالت میں پیش کیا گیا ۔ عدالت نے اسے سزا بھی دی مگر انوکھی کی سزا ۔ عدالت اسے کہتی ہے سزا کے طور پہ وہ مقدس مقامات کی پپدل زیارت کرے ۔ اسے پانچ سو کلو میٹر سے زیادہ پیدل چلنے کی سزا سنائی گئی پھر وہ ایک ایسے مقام پہ پہنچتا ہے جہاں سے اسکی قسمت کھل جاتی ہے اور وہ شاہی خاندان کا ایک حصہ بن جاتا ہے ۔یہاں تک کہ اسکی مرضی کے خلاف شاہی خاندان کوئی فیصلہ نہیں لیتا۔اسے سائنائڈ دیا گیا پھر بھی وہ نہیں مرا اسے تین تین گولیاں ماری گئیں پھر بھی نہیں مرا بلکہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔اسکے بعد اسے بری طرح مارا گیا اور آخر کار اسے ندی کے برفیلے پانی میں لے جاکر ڈبو دیا گیا ۔تب جاکر کہیں اسکا دم نکلا ۔لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر وہ زندہ ہوتا تو دوسری جنگ عظیم نہ ہوتی ۔یہ ساری باتیں ایک شخص کی ذات سے وابسطہ ہیں اور اسکی موت کی کہانی بھی عجیب ہے ۔

میڈ مانک کے نام سے یہ شخص آج بھی مشہور ہے ۔ اس کا نام تھا گیری گوری راس پوتین۔اس کی پوری زندگی بیحد دلچسپ ، بیحد ڈراونی اور پر اسرار ہے ۔جب1879 میں مہاتما گاندھی کی پیدائش ہوئی تھی اسی سال راس پوتین بھی پیدا ہوا تھا ۔

ادھر پوری دنیا میں انیسویں صدی کے اواخر میں انتشار پھیلا ہوا تھا ۔ ایک ملک دوسرے ملک پہ تسلط حاصل کرنے کے لئے جنگ کر رہا تھا ۔ایسے حالات میں سائبریا کے دور دراز کے گاوں میں راس پوتین نے بچپن سے جوانی کی منزلیں طئے کیں ۔

سائبریا کے ایک علاقے میں جہاں دنیا میں سب سے زیادہ ٹھنڈ پڑتی ہے تو یہ ایک کسان کے گھر میں پیدا ہوا تھا ۔راس پوتین نو بھائی بہن تھا ۔ لیکن چار بھائی بہنوں کی مختلف بیماریوں کی وجہ سے موت واقع ہو گئی ۔راس پوتین عام بچوں سے مختلف تھا اسے بھائی بہن اور ماں باپ سے زیادہ لگاؤ نہیں تھا ۔ لوگوں سے بہت کم گفتگو کیا کرتا تنہائی پسند تھا اور اس نے کبھی کوئی دوست نہیں بنایا وہ ہمیشہ اکیلا رہتا تھا ۔خود سے ہی باتیں کیا کرتا ۔جنگل میں جاکر جانوروں سے باتیں کیا کرتا کبھی آسمان کی طرف سر اٹھا کر یوں بدبداتا کہ گویا خدا سے مکالمہ کر رہا ہو۔

اسکا دل کبھی بھی کسی کام میں نہیں لگا نہ پڑھنے لکھنے میں نہ کھیلنے کودنے میں ۔ نہ کبھی اسکول گیا نہ کبھی کھیتی کے کام میں دلچسپی لی ۔اصطبل میں لگایا گیا تو وہ وہاں گھوڑوں سے باتیں کرنے لگا ۔

اسکی اس قسم کی حرکتوں کو دیکھ کر لوگ اسے پاگل کہنے لگے ۔ ماں باپ تشویش میں مبتلا ہو گئے کہ میرے بچے کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے ۔ تھوڑا بڑا ہوا تو والدین نے شادی کر دی کہ شاید گھر داری کے بوجھ سے سنبھل جائے ۔شادی کے بعد تین بچے ہوئے تینوں کی موت ہو گئی پھر تین بچے اور ہوئے ۔لیکن تین بچوں کی موت سے اسکا دل اچاٹ ہو گیا ۔بے دلی کا شکار ہوکر ادھر ادھر بھٹکنے لگا اسی دوران اسے شراب کی لت لگ گئی ۔شراب کے لئے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ چوریاں کرنے لگا ۔اور چوریاں کرتے کرتے اسے چوری کی بھی لت لگ گئی ۔ چوری کے جرم میں اسے پکڑا گیا اور عدالت میں پیش کیا گیا ۔اسکے وکیل نے رحم کی اپیل کی اور اسکی ذہنی حالت بتائی ۔عدالت نے اس کی ذہنی حالت کے مدنظر رحم برتا اور اسے سزا دینے کے بجائے یہ کہا کہ تم پیدل مذہبی مقامات کے زیارت کے سفر پر نکلو ۔۵۲۳کلو میٹر کے فاصلے پر ایک چرچ تھا عدالت نے راس پوتین کو حکم دیا کہ اس چرچ تک وہ پیدل سفر کرکے جائے یہی تمہاری سزا ہے ۔عدالت کی اس سزا نے اسکی زندگی ہی بدل دی ۔

سفر سے پہلے اس نے اپنے گھر جاکر والوں سے ملاقات کی۔زاد راہ لی اور تن تنہا ۵۲۳ کلو میٹر کے سفر پہ نکل پڑا ۔اس مقدس سفر نے اسے بہت کچھ سکھایا ۔چلتے چلتے کوئی شخص ملتا اور وہ اسے کھانا دیتا تو کھا لیتا ۔ کسی گاؤں میں گاؤں والے کچھ دے دیتے تو اپنی بھوک مٹا لیتا۔ جہاں جگہ ملتی سو جاتا ۔دن و رات گزرتے رہے اسکا حلیہ بھی بدلتا رہا ۔ سر اور داڑھی کے بال بڑھتے گئے ۔لیکن وہ پیدل چلتا رہا ۔اس سفر میں اسکا سابقہ مختلف لوگوں سے پڑا جس میں پادری سے لے کر چور اچکے ، پاگل سے لے کر ذہین ، مسخروں سے لے کر سنجیدہ لوگ شامل تھے ۔غرض اسکے تجربے میں مختلف قسم کی شخصیتیں آتی رہیں اور انسانوں کو سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا رہا ۔

اسی سفر کے دوران وہ ایک مونسٹری میں گیا اور چند دنوں کے اندر مونک بن گیا وہ پادریوں کی باتوں کو غور سے سنتا رہتا مگر انہیں تسلیم نہیں کرتا ۔پھر اس نے آگے کا سفر طئے کیا ۔ جو شخص ملتا اسے وہ بائبل اور اچھی باتوں کا سبق دیتا ۔لوگ اسکی باتوں سے متاثر ہوتے اسے بابا کی شکل میں دیکھتے جو اسکی باتوں سے انحراف کرتے اسے پاگل اور سنکی سمجھتے ۔سفر کرتے کرتے بالآخر اس صوبے میں جا پہنچا جہاں وہ چرچ قائم تھا اور عدالت کے حکم کے مطابق اسے اسی چرچ میں جانا تھا ۔چرچ پہنچنے کے بعد وہ وہاں کے فادر کی شاگردی اختیار کرتا ہے ۔وہ ان سے بائبل کی تعلیم حاصل کرتا ہے اور مذہبی باریکوں کو سمجھتا ہے ۔اور اپنی زندگی خدا کے حوالے کر دیتا ہے ۔کچھ دن کے بعد اس چرچ کے فادر اسے کہتے ہیں کہ اب تمہارا سفر اختتام پذیر ہوا اور اب تم نئی منزلوں کی جانب کوچ کر سکتے ہو۔ پادری نے راس پوتین کو مشورہ دیا کہ سینٹ پیٹرس برگ جاو کیونکہ تمہاری آگے کی زندگی وہیں گزرے گی ۔۵۲۳ کلو میٹر کے اس سفر نے خود راسپوتین کو بھی یہ احساس دلا دیا کہ اس کے اندر کوئی خاص روحانی قوت پوشیدہ ہے ۔

بچپن سے ہی راس پوتین نحیف و نزار تھا اسکی بینائی کمزور تھی ۔لیکن حیرت انگیز طور پہ اسکی کمزوری اور آنکھوں کی روشنی بہتر ہو گئی ۔ خود راس پوتین نے غور کیا کہ وہ کسی شخص کے تعلق سے کوئی پیشنگوئی کر دیتا ہے تو وہ حقیقت کا روپ اختیار کر لیتی ہے ۔اسکی وجہ سے اسے اپنے شخصیت کے غیر معمولی ہونے کا گہرا احساس ہونے لگا ۔

کوئی بیمار کوئی پریشان کوئی معاشی تنگی کا شکار اس کے پاس آتا تو وہ ایسے لوگوں کو انکی تکلیفوں سے نجات پانے کی دعا دیتا اور پر اسرار طریقے سے ان لوگوں کی مصیبتیں دور ہو جاتیں ۔اس طرح لوگوں کے درمیان راسپوتین کی شخصیت کا اسرار گہرا ہونے لگا ۔ عام لوگوں میں یہ رائے بننے لگی کہ اسکی شخصیت میں معجزے پوشیدہ ہیں اور وہ روحانی سطح پہ ایک غیر معمولی ا نسان ہے ۔اسکی شہرت دھیرے دھیرے پھیلنے لگی ۔

جب راسپوتین سینٹ پیٹرس برگ پہنچا اس وقت بیسویں صدی کی شروعات ہو چکی تھی ۔ دنیا ابھی تک جنگوں کے جال میں جکڑی ہوئی تھی ۔تباہی انتشار اور زخموں سے انسانیت کراہ رہی تھی ۔۱۹۰۵ میں روس اور جاپان کے درمیان بھی ایک تباہ کن جنگ ہوئی تھی ۔روس کے پاس تعداد میں فوج اور اسلحے جاپان سے بہت زیادہ تھے اور بظاہر جاپان کے مقابلے میں اسے طاقت ور سمجھا جاتا تھا لیکن اسے جنگ میں اسے شرمناک ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔اس ہار نے عوام مین غم و غصہ کی لہر دوڑا دی ۔ فوج سکشت خوردہ ہوکر غم میں مبتلا ہو گئی ۔ اس غصے کا رخ روس کے بادشاہ ژار کی طرف مڑ گیا ۔ اس وقت راجہ نکولس ثانی کی حکومت تھی اور اسکی بیگم کا نام الیکزینڈرا تھا جو کہ جرمن اصل تھی ۔اسی درمیان راس پوتین سینٹ پیٹرس برگ میں ایک روحان شخصیت کے طور پہ مشہور ہونے لگا تھا۔

راسپوتین کی زندگی کی کہانی میں اب ایک نیا موڑ آتا ہے ۔ اس موڑ کا سبب شاہی خاندان کے اکلوتے چشم و چراغ کی عجیب و غریب بیماری تھی ۔شہزادہ الیکسی کی اس بیماری کا نام ہیمو فیلیا تھا ۔اس بیماری کی خطرناک بات یہ تھی کہ کسی وجہ سے جسم کا کوئی حصہ کٹ جائے اور خون بہنے لگے تو خون کا بہاؤ نہیں رکتا ۔ اس بیماری کا مختلف ڈاکٹروں اور حکیموں سے ہر طرح کا علاج کرایا گیا لیکن شہزادے کو کوئی افاقہ نہیں ہوا اسکی زندگہ ہمہ وقت خطرے سے دوچار تھی ۔اسی دوران شاہی محل میں کسی نے الیکزینڈرا کو راس پوتین کے بارے میں بتایا ۔

بادشاہ اور ملکہ چونکہ علاج کرا کر تھک چکے تھے تو انہوں نے راس پوتین کو بھی آزمانے کا فیصلہ کیا ۔ راس پوتین کو محل میں بلایا گیا ۔راس پوتین شاہی محل میں جا پہنچتا ۔وہاں جانے کے بعد اسے شہزادے سے ملایا گیا اور بیماری کی بابت تفصیل سے بتایا گیا ۔

راس پوتین نے نہ شہزادے کی نبض دیکھی نہ کوئی اور جانچ کی ۔ شہزادے کو دو تین دنوں سے تیز بخار آ رہا تھا ۔راس پوتین نے اپنا ہاتھ شہزادے کی پیشانی پہ رکھا اور الیکزینڈرا کو کہا کہ شہزادے کو کوئی بیماری نہیں ہے یہ دو تین دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا ۔یہ اتفاق تھا یا کچھ اور کہ اگلی صبح شہزادے کی طبیعت بالکل ٹھیک ہو چکی تھی ۔اسکا بخار ہی نہیں اترتا بلکہ اسکی مہلک بیماری بھی دھیرے دھیرے ٹھیک ہونے لگی تھی ۔ شہزادہ چند دنوں میں رو بہ صحت ہو گیا ۔ اس واقعے نے الیگزینڈرا پہ گہرا اثر ڈالا اسے لگنے لگا کہ شہزادے کو نئی زندگی راس پوتین نے دی ہے ۔

راس پوتین کو محل میں شاہی دعوت دی گئی ۔مہارانی الیکزینڈرا راسپوتین کی پیروکار بن چکی تھی ۔اب محل میں راس پوتین کا بار بار آنا جانا ہونے لگا اس دوران راسپوتین چند پیشن گوئیاں کرتا ہے اور وہ تمام پیشن گوئیاں سچ ثابت ہو جاتی ہیں ۔یہاں تک کہ وہ جنگی مشورے دینے لگا ۔ اور جہاں جہاں اس نے جنگی چالیں بتائیں وہاں وہاں جیت ہوئی ۔ان تمام واقعوں نے راس پوتین کا قد محل میں بہت زیادہ بڑھا دیا اور اب وہ محل میں ہی رہنے لگا ۔

دھیرے دھیرے وہ مہارانی کے بہت قریب آ گیا ۔کہا جاتا ہےراس پوتین عورتوں کا رسیا تھا اور ہپنوٹائز میں ماہر تھا ۔ عورتوں کو ہپنوٹائز کرکے اپنی گرفت میں لے لیتا ۔ مشہور ہے کہ محل میں اس کے اطراف ہمہ وقت برہنہ عورتیں رہا کرتی تھیں ۔یہاں تک کہا جاتا ہے کہ راس پوتین نے ہپنوٹائز کے عمل سے اپنی بہنوں کے دماغ پہ بھی قابو کرکے ان کے ساتھ جنسی عمل کیا تھا ۔ مہارانی کو اس نے پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا ۔ اب محل میں اسکی دخل اندازی بہت بڑھ گئی تھی ۔جو بھی اہم فیصلے لئے جاتے ان میں راس پوتین کی رائے ضرور لی جاتی ۔اس طرح وہ نکولس شاہی خاندان کا سب سے بڑا صلاح کار بن گیا ۔اس کے اشارے پہ مجلس وزراء میں کون ہوگا کون فوج کے اہم عہدوں پہ ہوگا کس ملک کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے یہ سارے فیصلے راس پوتین کرنے لگا ۔شروعات میں سب کچھ ٹھیک رہا اسکی باتیں بھی صحیع ثابت ہوتی رہیں ۔ لیکن جب جاپان اور روس کی جنگ ہوئی اور روس کی بری طرح ہار ہوئی تو عوام میں غم و غصہ کی لہر پھیل گئ ۔ عوام کا غصہ اس بات پہ تھا کہ دنیا کی طاقتور فوج ہونے کے باوجود اتنی شرمناک ہار ہوئی اور شاہی خاندان ایک بابا کےکہنے پہ عمل کر رہا ہے ۔

یہ غصہ دنوں دن بڑھتا ہی جا رہا تھا عوام نے سینٹ پٹرس برگ کے شاہی محل پہ دھاوا بولنے کا پلان بنا لیا ۔ یہ خبر محل تک پہنچی ۔ بادشاہ نکولس نے سپاہیوں کو عوام پہ گولی چلانے کا حکم دے دیا ۔بے شمار لوگ مارے گئے ۔اس دن کو خونی سنڈے کے نام سے روس میں آج بھی یاد کیا جاتا ہے ۔

فوری طور پہ اس بغاوت کو کچل دیا گیا تھا مگر شاہی خاندان میں اس واقعے سے ایک خوف کی لہر دوڑ گئی تھی ۔اس دوران راس پوتین کے ساتھ شاہی خاندان کا رشتہ پہلے ہی کی طرح برقرار رہا ۔وہ لگاتار شاہی خاندان کا صلاح کار بنا رہا ۔

لیکن جیسے جیسے وقت گزرا اور حالات بےقابو ہونے لگے ۔ادھر کامیو نزم اور لیلن کے نظریات نے بھی روس میں پنجے گاڑنے شروع کر دئے ۔اسی بیچ راس پوتین کے اشارے پہ چند وزراء کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ۔ ان ہٹائے جانے والوں میں بادشاہ نکولس ثانی کا بھتیجہ جس کا نام فلیکس یوسوپوف تھا کے کچھ قریبی لوگ بھی شامل تھے ۔فلیکس ان لوگوں میں سے تھا جو نکولس کو گدی سے اتار کر خود بادشاہ بننا چاہتے تھے ۔نکولس کو محسوس ہوا کہ جب تک راس پوتین یہاں ہے اسی کے صلاح مشورے پہ عمل کیا جاتا رہے گا ۔وہ راس پوتین کو اپنی راہ کا ایک پتھر سمجھنے لگا ۔اس نے راس پوتین کو راستے سے ہٹانے کے لئے ایک گہری سازش رچی ۔یہ سازش تیس دسمبر کو رچی گئی ۔شہزادے فیلیکس نے اپنی بیوی آئڈن کی جانب سے راسپوتین کو ایک پیغام بھیجوایا کہ اس سے ملنا چاہتی ہے اور اسے اپنے محل میں بلایا ۔راس پوتین دیر رات گئے محل میں داخل ہوا ۔شہزادے فیلیکس نے اسے کیک میں سائنائڈ ڈال کر کھلایا ۔راس پوتین پہ سائنائڈ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ وہ پورا کیک کھانے کے بعد بھی بالکل نارمل رہا ۔سازش میں شامل سبھی لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے ۔شہزادہ فلیکس اسے زندہ دیکھ کر شدید غصے میں آ گیا ۔طیش کے عالم میں پسٹل نکال کر پہلی گولی چلا دی ، گولی سیدھے پیٹ میں لگی ۔راس پوتین نیچے گرا مگر پھر اٹھ کھڑا ہوا ۔یکے بعد دیگرے تین گولیاں ماری گئیں مگر اسکے باوجود راس پوتین نہیں مرا اور شہزادے کو پکڑ لیا ۔وہاں موجود لوگ راس پوتین کو پکڑ لیتے ہیں اور بری طرح سے پٹائی کرتے ہیں جب انہیں یہ لگتا ہے کہ راس پوتین کی موت واقع ہو چکی ہے تو اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر قریب کی ایک ندی جس کا پانی بیحد برفیلا تھا اس میں پھینک دیتے ہیں۔

اگلی صبح راس پوتین کی موت کی خبر پورے روس میں پھیل گئی ۔کیونکہ وہ شاہی خاندان کا بیحد قریبی اور طاقت ور شخص تھا ۔راس پوتین کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ حیرت انگیز بات سامنے آئی کہ راس پوتین کی موت کا سبب نہ تو سائنائڈ تھا نہ ہی وہ گولیوں سے مرا نہ چوٹوں سے بلکہ اسکی موت پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی اور اسکے پھیپھڑوں میں پانی جمع ہوا تھا ۔

اس موت کو لے کر اس زمانے میں کافی ہنگامہ ہوا ۔ چونکہ یہ معاملہ شاہی خاندان سے جڑا ہوا تھا اس لئے اس سارے معاملے کو دبا دیا گیا ۔شاہی خاندان نے راس پوتین کو اپنے خاندانی قبرستان میں دفن کروایا ۔

۱۹۱۷ میں کمیونزم انقلاب آنے کی وجہ سے شہزادہ فلیکس نے خوفزدہ ہوکر اپنے ملک سے بھاگ کر دوسرے ملک میں پناہ لی ۔ وہاں وہ طویل عمر تک رہتا ہے اور اسی سال کی عمر میں موت شہزادے فلیکس کی موت ہوئی ۔جب کہ ۱۹۱۸ میں بادشاہ نکولس اور ان کے پورے خاندان کا خاتمہ انقلابیوں نے شاہی محل میں کر دیا ۔

شیئر کریں
ڈاکٹر زبیر فاروق متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر ہیں۔ انہوں نے ڈو میڈیکل کالج کراچی سے تعلیم حاصل کی اور اس دوران اردو زبان سیکھی۔ اب تک ڈاکٹر زبیر فاروق کے چالیس سے زائد شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔

کمنٹ کریں