سرشار اور فنِ ناول نگاری

مضمون نگار : محمد عباس

, سرشار اور فنِ ناول نگاری

ہم جس ماحول میں جی رہے ہوں، اس سے شناسائی اپنے تمام حواس کی بدولت حاصل کرتے ہیں۔مثلاً دن کے وقت ہم پرانی انار کلی سے گزر رہے ہیں، ایک دنیا ہے کہ ہمارے آگے پیچھے رواں ہے۔ ہمارے ارد گرد ہر کوئی تیز رفتاری سے چل رہا ہے۔سامنے سے کوئی ماہ رو اپنے حسن کا جلوہ عام کیے چلی آرہی ہے۔ اس کے ساتھ ایک موٹی سی عورت تھل تھل کرتی آ رہی ہے، شاید دونوں ماں بیٹی ہیں۔ہمارے پیچھے سے کسی سائیکل والے نے مسلسل گھنٹی بجانے کے بعد تنگ آ کر سائیکل ہماری ٹانگوں میں گھسٹیر دی ہے، شکر ہے کہ اس اندھے کی عین وقت پر بریک لگ گئی۔ ریڑھی والے اپنا سودا بیچنے کے لیے جانے کس کس ادا سے آواز لگا رہے ہیں، گویا صدا سے راہگیروں کا دل لبھا رہے ہوں۔ہوٹلوں کے بیرے راستہ روک روک کر ہمیں اپنے ہوٹل کی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔دائیں بائیںہوٹلوں سے کہیں کٹا کٹ تو کہیں شوں شٹک کی آوازیں آ رہی ہیں۔ گزرتے رکشوں کی پھٹپھٹاہٹ کانوں کے پردے پھاڑے دے رہی ہے۔سبھی مسجدوں میں اکٹھے اذان شروع ہو گئی ہے جس سے کسی مٔوذن کی سمجھ نہیں آ رہی۔اوپر بجلی کی تاروں پرجو کوے بیٹھے ہیں،ان کی بیٹ سے بچنا ہے، نیچے گٹر کا پانی پھیلا ہے ، دھیان اس طرف بھی ہے کہ کہیں کسی گاڑی کی بدولت ہم کیچڑ کیچڑ نہ ہو جائیں، برائلر چوزوں کی باقیاتِ غیر مفیدہ سے لدا ٹرک گزر رہا ہے جس سے آتی بساند نے ہمارے قدموں کی رفتار تیز کر دی ہے، آگے ایک رکشے والے کا خراب سائیلنسر بھٹہ خشت کی طرح دھواں خارج کر رہا ہے۔اور تیز چلنا پڑے گا، تیز ، تیز، اور تیز…ہمارے ارد گرد کی دنیا بھی اسی وحشت خیز تیز رفتاری سے دوڑی جا رہی ہے…مگر اس کے باوجود یہ نظارے یہ آوازیں ، یہ خوشبوئیں،یہ دھکے ٹھڈے …یہ بھی ساتھ ساتھ جاری ہیں اور بیک وقت ہی ہمارے تجربے میں آ رہے ہیں۔ یہ وہ تمثالیں ہیں جو صرف چند سیکنڈ میں مختلف حواس نے ہمارے ذہن کی طرف ارسال کیں۔یہ ہمہ جانب توجہ، یہ ہمہ مصروف حسیت ۔یہی ہمارا حسی تجربہ ہے،جس کی بدولت ہم انا رکلی میں چند گھڑی کھڑے ہو کر اس بازار سے جس قدر واقف ہو جاتے ہیں، لاہور کے بارے میں لکھی گئی اردو ، انگریزی کی درجنوں کتابیں پڑھ کر بھی اتنی آگاہی نہیں ہوتی۔ اسی لیے حسی تجربہ بہر حال ہمارے کتابی علم سے مقدم ہے۔ہم کبھی اپنے ارد گرد کو جاننے کے لیے علوم ِ مروجہ یا علماء کی کتب کی اعانت نہیں لیتے۔ ہم اپنے ماحول کو تجربہ کرتے ہیںاور پھر اس تجربے کی روشنی میںاس کی تفہیم کے درجے تک پہنچتے ہیں۔ بغیر اپنے تجربے کے دنیا میں کبھی کوئی علم کی رتی نہیں پا سکا۔جن حضرات نے اپنی کوڑھ مغزی کے تیشے سے کتابوں کے پہاڑ کھودا کیے اور علم کی جوئے شیر رواں کرنا چاہی، ان کے ہاتھ آخر کار جہل کا مردہ چوہا ہی آیا کہ علم تک رسائی کے لیے وہ تجربے کی شرط پوری نہ کر سکے تھے۔یہی فرق ہے تجربے اور علم میں۔


علم کو بانٹا جا سکتا ہے تجربے کو نہیں۔تجربہ دوسروں تک نہیں پہنچ سکتا،دوسروں کو تجربے تک پہنچنا پڑتا ہے۔جب لوگوں کو تجربے تک لے جانا مقصود ہوتوآرٹ اور ادب کام آتے ہیں۔ یوں ادب میں تجربہ ہی اہم ہے، اسی لیے ادب کی تفہیم اتنی ضروری نہیں جتنا کہ اس کو تجربہ کرنا لازم ہےاور اس کے لیے صرف مصنف کا تجربے کو پیش کر دینا ہی کافی نہیں، قاری کو بھی اس تجربے سے اس کی تمام حسیات سمیت گزرنا پڑتا ہے ۔کسی ایک ادب پارے کو محسوس کرنے کے لیے زندگی کے وسیع تجربات کے ساتھ ساتھ ادب کا ہمہ گیر تجربہ بھیقاری کا معاون ہوتا ہے۔ان دونوں طرح کے تجربات سے محروم قاری ادب سے لطف نہیں لے سکتا، اس لیے اس پر تنقیدی و تحقیقی مضامین لکھنا شروع کر دیتا ہے۔ فارمولے بنانے لگتا ہے۔موضوعاتی مطالعے شروع کر دے گا۔ عصری صورت حال، طبقاتی کشمکش، نفسیاتی الجھنیں، سیاسی مسائل، تاریخی شعور، وغیرہ کے عارضی پیمانے پر ادب جیسی آفاقی چیز کو ناپنا شروع کر دیتا ہے۔


صاحب !ادب پڑھنے اور الجبرے کے فارمولوں کے جبری رٹائو میں بس اک حیاتیاتی عنصر کا فرق ہے ، اوریہی مصیبت ہے ہمارے ناقدین کی جو ادب پڑھتے ہی صرف اس لیے ہیں کہ اس پرتنقیدی مضامین لکھ کر بہ حیثیتِ نقاد ، دنیائے ادب میں استناد کی مسندِ عالیہ پر براج سکیں۔ ادب کو پڑھنے کی بجائے پرکھنے لگتے ہیں اور ادب پارے کو تجربہ کرنے کی بجائے اپنے علم ِ فاضلہ سے اس کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کی راہ اپنا لیتے ہیں۔اور یوں اپنی عالمانہ آراء کے غبارسے فن پارے کا سورج گہنانےکی کوشش میں جٹ جاتے ہیں۔


’’ فسانہ ء آزاد‘‘ بھی ایک ایسا ہی فن پارہ ہے جس پر یاروں نے بہت آوازے کسے، بہت سے نعرہ باز نقادوں نے اس کے پلاٹ پر خاصی بحث کی اور ’’ فسانہ‘‘ کے حسن کو دیکھنے کی بجائے اس میں حسنِ ترتیب کی تلاش میں رہےاور جب پایا کہ اس میں ایسی کسی چیز کے آثار نہیں ملتے تو قوس لمن الملک بجا دیا کہ یہ ناول فنی اصولوں پر پورا نہیں اترتا ، گویا ناول نہیں پڑھ رہے ، کسی پاجی صورت شخص کا دیا زیور کسوٹی پر پرکھ رہے ہیں۔ ذیل میں ’’فسانہ ء آزاد‘‘ کے پلاٹ پر ہونے والے انہی اعتراضات کا جائزہ لیا جائے گا۔ سب سے پہلے تو ان سب حضرات کے اعتراضات اکٹھے ملاحظہ کر لیں، بعد میں ان پر بات کی جائے گی ۔
کشن پرشاد کول کی رائے ملاحظہ کیجیے:


’’پہلا نقص تو ’’فسانہء آزاد‘‘ کا یہ ہے کہ اس کا پلاٹ ڈھیلا ڈھالا اور کچھ بے ہنگم سا ہے ۔ اکثر ایسے سین اور تذکرے شامل کر دیے گئے ہیں کہ جن کا قصے سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر ایک ہی سین یا کیفیت کو جزوی تفریق کے ساتھ ایک بار نہیں ،بار بار دہرایا گیا ہے جس سے قصے کا طول و عرض شیطان کی آنت ہو گیا ہے۔ اگر ’’فسانہء آزاد‘‘ ایک جلد میں شائع ہو تا تو ڈھنگ کی چیز ہوتی۔‘‘٭۱


پریم پال اشک کا بیان ہے:
…اس افسانے کا کوئی پلاٹ نہیں، لیکن واقعات میں کہیں بھی تسلسل نہیں جس سے افسانے میں ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔اس افسانے میں کئی باب ایسے ہیں جن میں منطقی ترتیب نہیں اور نہ ہی اس میں واقعات کا تسلسل ہے۔اس سے ناقابلِ برداشت حد تک الجھن پیدا ہو جاتی ہے کہ اس میں فضول ، فالتو اور بے ربط واقعات کی فراوانی ہے۔ ان واقعات کا افسانے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، نہ ہی اس میں جدا گانہ طور پر دلکشی یا حسن برقرار رہتا ہے…اگرچہ سرشار نے ’’فسانہء آزاد‘‘ سے شہرت حاصل کی لیکن اس کے پلاٹ پر نظر ڈالی جائے تو وہ ہمیں کم و بیش غیر مسلسل اور بے ربط نظر آئے گا۔ اس کی کوئی بھی کڑی آپس میں جڑتی ہوئی نہیں ملے گی‘‘٭۲


علی عباس حسینی یوں رقم طراز ہیں:
’’پلاٹ بنانے میں وہ زیادہ عرق ریزی نہیں کرتے تھے، بلکہ لکھتے وقت فکر کرتے تھے اور جس جس طرح پلاٹ بنتا جاتا تھا، نبھاتے چلے جاتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی تصنیفات کی سیرتوں میں استقلال نہیں ہے اور بے ربطی و عدم تسلسل کے عیب کا یہی باعث ہے‘‘٭۳


سہیل بخاری کا تجزیہ کچھ اس طرح ہے:
’’سرشار بہت عجلت پسند، بے پرواہ اور لا ابالی انسان تھے۔ انہوں نے جو کچھ لکھا، نہایت عجلت میں لکھا اور پھر اس پر کبھی نظر ثانی کرنے کی زحمت بھی نہ کی۔ ان کی کتابیں اسی وارفتہ مزاجی کا شکار ہیں۔ ان کا پلاٹ عام طور پر کمزور رہتا ہے ، وہ محنت سے گھبراتے ہیں، اس لیے پلاٹ کا کوئی نظام قائم نہیں کرتے۔ ان کی نظر صرف افرادِ قصہ پر رہتی ہے اور اسی سے رفتہ رفتہ پلاٹ بنتا چلا جاتا ہے۔ وہ ایک بار لکھ چکنے کے بعد دوبارہ دیکھنا پسند نہیں کرتے، اس لیے واقعات میں بے ربطی اور عدم تسلسل کا نقص بھی آ جاتا ہے۔‘‘٭۴


عظیم الشان صدیقی کا فرمانا ہے :
’’ جامِ سرشار کے علاوہ سرشار کے دوسرے ناولوں میں پلاٹ کا کوئی واضح تصور نہیں ملتا بلکہ وہ سب ڈھیلے پلاٹ کے اصول پر ترتیب دیے گئے ہیں اور ان کے واقعات میں منطقی ربط یا تسلسل کا خیال نہیں رکھا گیا۔‘‘٭۵


ڈاکٹر سلیم اختر اپنے مخصوص پروفیسرانہ استغناء اور شانِ معلمی سے خطاب فرماتے ہیں:
’’ رتن ناتھ سرشار کا فسانہ ء آزاد ناول کی تکنیک سے باہر کی چیز ہے۔ نہ پلاٹ ہے اور نہ واقعات ہیں۔ ربط اور تسلسل بھی نہیں ملتا بلکہ بعض ضمنی واقعات تو ایسے ہیں کہ ان کا مرکزی قصے سے (اگر اسے قصہ ہی سمجھا جائے)کوئی تعلق ہی نہیں۔اس لیے ان کے نکال دینے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘٭۶


گنجے کو ناخن ملنا تو خیر پھر بھی اتنا مضر نہیں کہ خود اپنا ہی سر’’ خراشے ‘‘گا،کسی کااس میں کیا جاتا ہے لیکن خدا ہمارے ناقدین کو انگریزی تنقید کی کتابوں سے نہ نوازے۔ بے چارے اپنے دماغ سے توہاتھ دھو ہی بیٹھتے ہیں، دوسروں کا بھیجا بھی فرائی کرنے لگتے ہیں۔ دو چار کتابیں پڑھی نہیں کہ لگے بلند بانگ ادبی فتاویٰ جات اور پر شور تنقیدی محاکموں سے دنیائے ادب میں تھرتھلی مچانے۔ سب فنکار بے چارے اپنا دامن اور پگڑی بچانے کی فکر میں دبلے ہوے جاتے ہیں لیکن یہ ہیں کہ کسی کو بھی رعایت دینے کو تیار نہیں ۔ بس ہر دم کاٹھ کا گز ہاتھ میں لیے سب کا قد ناپنے کو مستعد ۔کسی نے ذرا ’’اینکی پھینکی‘‘ کی نہیں کہ فوراً اس کے قدو قامت کے سر ہو گئے۔ ایک اور دردِ سر یہ بھی ہے کہ تنقید کے اس نقار خانے میں جس دھن پر نقارہ بجنا شروع ہو گیا ، بس پھر اسی طرز پر دھما دھم ہوتی جائے گی۔ اب یہاں نہ تو فنکار کی طوطی جیسی منمناتی ہوئی آواز پر کوئی کان دھرے گا اور نہ کسی نئی طرزِ فغاں کی ایجاد پر کوئی توجہ دے گا۔


اسی ’’فسانہء آزاد‘‘ کو ہی لے لیجیے، اس کے پلاٹ کے بارے میں سب سے پہلے جس نے بھی اظہار ِ خیال کیا ہو گا، یہی کہا ہو گا کہ صاحب اس کے پلاٹ میں ربط نہیں ہے، ڈھیلا پن ہے، بنت میں پھوہڑ پن ہے گویا کہ بندش میں سستی ہے، کسی ضمنی واقعے کے بیان کو رنگین بنانے کی خاطر اصل قصے سے گریز بہت کیا گیا ہے،واقعات کا تسلسل نہیں، رطب و یابس کی بھرمار ہے، کوئی بھی کڑی آپس میں جڑتی نہیں ہے۔ یہ سب بجا ہے۔ ان میں سے کسی بات کی تردید نہیں کی جا سکتی لیکن ’’فسانہء آزاد‘‘ کے پلاٹ کے متعلق یہ بات تو ایک بچہ بھی بتا سکتا ہے اور جہاں تک میری ناقص رائے کا تعلق ہے تو یہ بات اب کسی طرح انکشاف کی ذیل میں نہیں آتی کہ ’’فسانہء آزاد‘‘ کا پلاٹ ناقص ہے۔اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ اس بے ترتیبی کا مقصد کیا ہے؟بلکہ مقصد سے تو خود مصنف کا منشاء بھی شامل ہونے کا شبہ ہوتا ہے، کہنا یہ چاہیے کہ اس بے ترتیبی کا تفاعل کیا ہے۔کسی نقاد نے یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کی کہ آخر اس بے ترتیبی نے کام کیا کیا ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ بھان متی کے کنبے سے متشابہہ اس ناول کی بطور ناول اہمیت میں ابھی تک کوئی کمی نہیں آئی اور ابھی بھی ہمارے ناول کی روایت میں ایک شاندار مسند پر متمکن ہے، آخر کوئی تو ایسی وجہ ہے کہ ہزار بے ربطی کے باوجود یہ ناول ابھی تک زندہ و پائندہ ہے ورنہ جس طرح اس خامی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، اتنی واضح خامی کے ساتھ کوئی ناول دو دن بھی ادب کے زود فراموش بازار میں نہیں چل سکتا، تو پھر اس میں ایسی کیا خاصیت ہے کہ جواس کے پلاٹ کی کج روی کے باوجود بھی اس کی فنی عظمت کا گراف گرنے نہیں دیتی۔ پلاٹ جو ناول کا بنیادی ڈھانچہ ہے، اگر وہی نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ناول ہی نہیں ، اور اگر اس کمزوری کے بعد بھی ’’فسانہ ء آزاد‘‘ ایک بڑا ناول ہے تو صاف ظاہر ہے کہ پلاٹ میں جو اس نقص کی نشاندہی کی جاتی ہے، یہ اس کا نقص نہ ہو گا۔بظاہر خامی نظر آنے کے باوجود یہ اس کی خامی نہیں ہو گی۔


اب میں ہر گز یہ نہیں کہوں گا کہ سرشار نے اس بے ترتیبی کو جان بوجھ کے اپنایا تھا، یا وہ ہیئت کا کوئی تجربہ کر رہے تھے، یا ان کے ذہن میں اس کی بابت کچھ مضمرات تھے، نہیں ایسی بات ہر گز نہیں۔ سرشار کو تو’’ فسانہ ء آزاد‘‘کوایک مربوط پلاٹ پر تعمیر کرنے کا خیال تک بھی نہ آیا تھا۔ لیکن یہ الگ بات کہ ان کا فنی شعورشاید اس امر سے آگاہ ہوگا کہ یہ بے ربطی ہی ان کے مقاصد کے لیے مفید ہے اور جو کچھ وہ کہنا چاہتے ہیں اس کے لیے یہی طریقہ مستحسن ہو گا، اسی لیے انہوں نے اس روش کو جاری رکھا ورنہ وہ مغربی متون سے آگاہ تھے، لا محالہ ان کا ذہن اس کو ترتیب دینے کی طرف جاتا، شروع میں نہ سہی، بعد میں تو وہ اس کا اہتمام کر سکتے تھے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ بے ترتیبی آخر تک نظر آتی ہے۔


انہوں نے جان لیا تھا کہ اس فسانہ کا حسن اس کی یہی بے ترتیبی ہے،ع دنیا تیرا حسن یہی بد صورتی ہے۔ میں خود بھی جب ’’فسانہء آزاد‘‘ کو مربوط شکل میں تصور کروں تودل ہول اٹھتا ہے، بھلا اتنا بڑا ناول اور صرف ایک سیدھی لکیر پر چلتا جائے، (غالب ہوتے تو پکار اٹھتے، ہے ہے زندگی اجیرن ہو جائے گی)ناول نہ ہوا، ہماری جامعات کا کوئی پروفیسر ہو گیا جو شروع سے آخر تک ایک ہی گائیڈ سے نوٹس لکھواتا رہے۔اگر اِس میں کوئی واضح ترتیب ہوتی تو پھر اس کا سب سے بڑا فائدہ ہمارے پروفیسروں کو ہوتاجو ناول پڑھنے اور پڑھانے کی بجائے اس کی کہانی کا خلاصہ خود بھی پڑھتے اور مستقبل کے پروفیسروں کو بھی پڑھاتے۔ اب پروفیسر حضرات کے لیے اس شکل میں’’فسانہ‘‘ کی سب سے بڑی دقت یہی ہے کہ ا س کاخلاصہ نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹر احسن فاروقی نے یہی تو رونا رویا ہے۔


’’فسانہ ء آزاد ایک جنگل کا جنگل ہے جس میں ہر طرح کی پیداوار بکھری پڑی ہے۔ اس میں مختلف قسم کے درخت کہیں اکا دکا، کہیں گچھوں میں ، کہیں قطاروں میں ایسے نظر آتے ہیںکہ جن میں کوئی ترتیب یا عدم ترتیب کا اندازہ مشکل ہے… اگر اس فسانے کو مختصر کر کے قریب دو سو صفحوں کی کتاب بنانے کی کوشش کی جائے تو وہ مشکلات سامنے آئیں گی کہ پریشان ہو کر ارادہ ترک کر دینا ہو گا۔ یا تو اس جنگل کی صفائی کے لیے اسے پورا کا پورا جلا ہی دینا ہو گا، اور یا اس کو اسی طرح رکھنا پڑے گا ، جیسا کہ وہ ہے۔‘‘٭۷


خیر یہ بھی شکر کا مقام ہے کہ آج تک کسی نے ان کے پہلے مشورے پر عمل نہیں کیا۔
اس ناول کا اصل مزہ تو تب ہے، جب اسے پورا پڑھا جائے۔ دو تین لوگوں نے اس کی تلخیص بھی کر کے چھپوائی مگر اس کے باوجود انڈیا اور پاکستان کی مارکیٹ میں اس کا اپنی اصل شکل میں دستیاب ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اب بھی اس کو پوری شکل میں پڑھا جا رہا ہے اور یہ کہ اس کی تلخیص میں مولوی مدن کی سی بات نہیں پیدا ہو سکتی۔’’فسانہ ء اآزاد‘‘ کی تو خوبی ہی یہ ہے کہ اس میں زندگی اپنے اصل پھیلائو کے ساتھ نظر آتی ہے ،اسی بے ہنگم طور سے جیسی کہ یہ بذاتِ خود ہے۔ اب پتا نہیں کیوں ہمارے ناقدین کو اس کی یہ خوبی اتنی قابلِ داد لگتی ہی نہیں اور وہ جھٹ پلاٹ کا ماتم شروع کر دیتے ہیں۔ یہ توبالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی سادہ لوح پیسا ٹاور کو دیکھ کر پکار اٹھا تھاکہ ’’ ٹیڑھا سامینار ہے اور مشہور کتنا ہے۔‘‘


پریم پال اشک صاحب نے پلاٹ کے متعلق ایک اور خوبصورت بیان دیا ہے ، میں نہیں چاہتا کہ آپ اس سے محروم رہ جائیں ، دوسرے میں خود بھی اسے نقل کرنے میں مسرت محسوس کروں گا تا کہ یہ جان لوں کہ اس طرح کے فاضلانہ جملے لکھ کر دل کوکس قدر تسکین ہوتی ہے:


’’فسانہ ء آزاد ‘‘سرشار کا شاہکار ضرور ہے لیکن پلاٹ کے نقطہ نظر سے یہ نہایت کمزور اور ناقص ہے، پلاٹ میں suspenseتو ہے لیکن کلائمیکس نہیں۔ ساراقصہ سپاٹ ہے ، اگر قصہ چلتا ہے تو کرداروں کا سہارا لے کر ، واقعات کے بل پر نہیں، کیونکہ اس میں افسانے کے متعلق اہم واقعات ہیں ہی بہت کم۔علاوہ ازیں اگر ہم ’’فسانہء آزاد‘‘ کے tempoپر نظر ڈالیں تو وہ بھی کمزور نظر آئے گا۔ ایک چھوٹا سا پلاٹ ہے جس میں یہی بتایا گیا ہے کہ ایک آوارہ گرد ہیرو ایک حسین لڑکی سے عشق کرنے لگتا ہے اور اس کے اکسانے پر وہ ترکی جاتا ہے تا کہ روس کے خلاف جنگ کرکے اپنے مسلمان بھائیوں کی خدمت کرے۔آخر فتح یاب ہو کر واپس لوٹتاہے اور ہیروئن سے اس کی شادی ہو جاتی ہے ۔صرف یہی ہے اس کا پلاٹ۔ جو صرف چار سطروں میں کھپایا جا سکتا تھا جس کے لیے بڑی تقطیع کے سوا تین ہزار صفحات صرف کیے گئے۔‘‘٭۸


ٹھیک ہے صاحب ، آپ بڑے لوگ ہیں، اب آپ سے بحث تو نہیں کی جا سکتی۔ لیکن چند مثالیں ضرور دینا چاہوں گا۔
۱۔ ایک لڑکی اپنے شوہر سے نا آسودگی محسوس کرنے پر، کسی دوسرے مرد سے ناجائز تعلقات بنا لیتی ہے اور پھر آخر کار اس ناجائز تعلق کے ثمرے میں تباہ و برباد ہو کے مرتی ہے۔(مادام بوواری)
۲۔ایک شخص کو اس کا سوتیلا بیٹا قتل کر دیتا ہے،بعد ازاں سوتیلا بیٹا تو خود کشی کر لیتا ہے اوراس کے سگے بیٹے کو اس قتل کامجرم ٹھہرا کر سزا دے دی جاتی ہے جبکہ اس کا دوسرا سگا بیٹا پاگل ہو جاتا ہے۔(کرامازوف برادران)
۳۔ایک بادشاہ ایک ملک پر حملہ کرتا ہے اور اس کو فتح کرتا چلا جاتا ہے، لیکن ایک مقام پر اس کی شکست کا آغاز ہوتا ہے تو انجامِ کار ساری فوج مروا کر اسے اس ملک سے بھاگنا پڑتا ہے۔(جنگ اور امن)


بس صاحب، زیادہ مثالیں دے کر آپ کا قیمتی وقت ضائع نہیں کروں گا ۔بس اتنا کہنا ہے کہ جس چیز کو آپ نے پلاٹ کہا ہے، اس حساب سے مذکورہ بالا تینوں کہانیاں دنیا کے تین بڑے ناولوں کے پلاٹ بنتے ہیں، ان کا پلاٹ دو سطروں سے آگے نہیں بڑھتااور آپ کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ان چھوٹے چھوٹے پلاٹوں پر ہزاروں صفحات خواہ مخواہ کالے کیے گئے ہیں۔ناول کو سمجھنے اور دسویں جماعت کے پرچے میں اس کا خلاصہ لکھنے میں بڑا فرق ہے۔ ممکن ہے کہ یہ بات ذرا وزن رکھتی ہو لیکن بودی دلیل اس کا سارا اثر کھو دیتی ہے۔غلط د لیل تومبنی بر حق نظریے کا تیل نکال دیتی ہے۔


پلاٹ کا تصور ہر فنکار کا اپنا ہوتا ہے، ہم کسی ایک فنکار کے پیمانے پر دوسرے فنکار کو پرکھ نہیں سکتے۔ ہردوسرے فنکار کے لیے پیمانہ بھی نیا بنانا پڑے گا۔ سرشار کے ساتھ بھی مشکل یہی ہے کہ اس کے سمجھنے کے لیے کوئی خاص ایسا پیمانہ نہیں وضع کیا گیا جو اس کی تفہیم میں مدد دے سکتا۔ اس کو سمجھنے کے لیے پلاٹ کے بنے بنائے مغربی معیار کو کسوٹی بنایا گیا اور اسے ڈکنز، دوستو فسکی،ٹالسٹائی اور فلابئیر جیسے فنکاروں کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھا گیا۔ ایسے میں بھلا یہ ہمارے ناقدین کے معیار پر پورا کیسے اترتا۔ یا پھر اگر کسی نے سرشار کو بہت رعایت دی تو اسے ناول اور داستان کی درمیانی شکل سمجھا گیااور پھر داستان اورناول کے بنے بنائے پیمانوں میں اسے ناپنے کی کوشش کی جاتی رہی جس کے نتیجے میں یہ محسوس کر کے ہمارے نقاد خود بھی شرمسار ہوتے رہے اور سرشار کو بھی شرمسار کرتے رہے کہ سرشار تو کسی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ بس کیا کہا جا سکتا ہے سوائے اس کے کہ یہ لوگ دودھ کو تھرما میٹر سے ماپنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس پر نہیں سوچا کہ اس نے واقعی ناول یا داستان لکھی بھی یا محض داستان کی ڈگر سے ہٹ کر راہ ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی۔ اگر ہم اس طرح سوچتے تو شاید اس طریقِ کار تک پہنچ جاتے جسے اپنا کر سرشار نے آخر کارناول کا اندازِ اظہار پا لیا تھا۔خود سرشار اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:


’’اردو زبان میں جو کتبِ قصص پیشتر کی ہیں وہ پرانے جغرافیے اور دقیانوسی خیالات اور ان امور پر مبنی ہیں جن کا عدم وجود برابر ہے۔اور حسبِ عادت محال اور حسبِ عقل غیر ممکن ہیں…زمانہ حال کے اردو ناول نویسوں کو اس امر کا خیال چاہیے کہ ملک کے خیالاتِ جدید کو اس خوبصورتی سے قلم بند کریں کہ تصویر کھینچ دیں۔ طغیانِ قلم سے بچیں۔ بس یہ معلوم ہو کہ مصنف کوئی چشمُِ دید واقعہ بیان کر رہا ہے جسے سٹیج پر کوئی چابک دست کاملِ فن ایکٹر یا ایکٹریس اپنے سین کے گھوڑے کی باگ کو یوں قابو میں رکھے جیسے استاد شہسوار اصل گھوڑے کی باگ جہاں چاہے وہاں موڑے۔‘‘٭۹


وہ تو چاہتے تھے کہ اس غیر حقیقی انداز کی قصہ گوئی کو ترک کر کے نیا انداز تلاشا جائے، ایسے میں انہیں حقیقی زندگی پیش کرنے کے لیے کوئی نیا اسلوب نہ سوجھا تو فوری طور پرانہوں نے اس پرانے اندازِ بیان کو ہی لے کر اس سے اپنا مقصد حاصل کرنا شروع کر دیامگر کافی مدت بعد احساس ہوا کہ اگر انہوں نے موضوع بدل دیا ہے تو اب اسلوب اور اندازِ بیان بھی بدلنے پڑیں گے، یہ ایک فنکار کا رویہ ہے جومحض تجربے کے لیے نئی ہیئت نہیں بنا رہا بلکہ اپنے باطن کے اظہار کی خواہش ،گردوپیش کی بدلتی دنیا اوراپنے موضوع کے تقاضے اسے لاشعوری طور پر نئی ہیئت کی طرف جانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ یہ اور بات کہ ’’فسانۂ آزاد‘‘ کی آخری جلد تک پرانے داستانوی اسلوب کی بھر پور جھلک ملتی ہے، مگر اس سے زیادہ اہم وہ کوشش ہے جو سرشار اس قدیم بیانیے سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اب وہ داستانوی اندازِ بیان بوڑھے کی لاٹھی بن چکا تھا جو بوڑھے کے مرنے کے بعد صرف چولہے میں جھونکنے کے کام ہی آ سکتی ہے۔سرشار کو بہت دیر سے اپنی اس تحریر کو کہانی کی شکل میں بُننے کا خیال آیا، ورنہ پہلی جلد کے خاتمے تک تو ان کے ذہن میں پورے’’ فسانہء آزاد‘‘ کی ترتیب کا صرف ایک مرکزی نکتہ تھا کہ آزاد مختلف جگہوں کی سیریں کریں گے اور جو رسم بری لگی اس کے خلاف اظہارِ خیال کریں گے۔ اس سے ہٹ کر ’’فسانہ‘‘ کے لیے کسی پلاٹ کی تعمیر انہوںنے نہیں کی تھی۔پہلی جلد کے خاتمے کے بعد ۱۸۸۰ء کے ایک خط میں وہ اپنے اس ناول کے پلاٹ کا بیان یوں کرتے ہیں۔
’’میاں آزاد کا ہر شہر و دیار میں جانا، وہاں کی بری بری رسموں پر جھلاناناول کا عمدہ پلاٹ ہے۔‘‘٭۱۰


’’فسانہء آزاد‘‘ میں وہ ترتیب جس میں نقص کی بنا پر ہم اسے ملامتے ہیں، وہ تو سرشار نے شروع ہی بہت بعد میں کی تھی۔ یہ ترتیب تودراصل محض اس بیانیے کو سہارا دینے کے لیے ا ستعمال کی گئی ہے جو’’فسانہ‘‘ کا مقصدہے۔ہم تو اپنے ہی انچی ٹیپ لیے سرشار کے پلاٹ کی لمبائی ناپنے میں لگے ہیں، یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ وہ خود اپنے پلاٹ کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ ان کا پلاٹ مربوط نہیں، یہ تو وہ خود بھی مانتے ہیں لیکن اس سے ان کے ’’فسانہ‘‘ پر مثبت اثر ہوا کہ منفی، یہ اصل مسئلہ ہے جس پر سوچنا چاہیے۔
سرشار نے تواردو ناول کے آغاز کے ساتھ ہی اپنے فن کی زبانی یہ دکھا دیا تھا کہ ناول زندگی کے سمندر میں لہریں لیتے ہوے ہی لکھا جا سکتا ہے۔ صرف سطح کے مشاہدے سے اس کی تھارپانا ممکن نہیں۔ اس کے لیے وسیع مطالعہ کے ساتھ ساتھ بہت جاندار مشاہدہ بھی ضروری ہے۔ اس نے تو کر کے دکھا دیاہے کہ اگر ناول کو زندگی کا آئینہ ٹھہرایا جاتا ہے تو اس میں زندگی کو دکھانا کیسے ممکن ہے۔ سرشار کا حال اس مصرع کا سا ہے؛
ع افسانہ سنا ڈالا، تصویر دکھا ڈالی


سرشار اپنے اندر ابلتے خیالات کے لیے ایک نئی فارم کی تلاش میں تھا اور یہ حقیقت ہے کہ ایک سرشار ہی کیا،اس عہد میں پورا اردو ادب ہی اپنے اظہار کے لیے نئی ہیئتوں کی تلاش میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کی بیشتر نثری اصناف کا جنم ان کے معاصرین کے ہاں ہی ہوتا ہے۔ناول گو کہ مولوی صاحب کے ہاں جنم لے چکا تھا، لیکن اس روایت کے باقاعدہ آغاز کے لیے جس مضبوط بنیاد کی ضرورت تھی، اردو ابھی اس کی متلاشی تھی۔ یہ بنیاد سرشار نے فراہم کی، جس نے ایک طویل فنی تجربے اور مسلسل جانکاہ ریاضت کے بعد اردو میں کہانی کہنے کے اس نئے انداز کے امکانات واضح کیے۔ وہ اردو میں اظہار کے نئے امکانات کی دریافت چاہتے تھے۔اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ ایک نئے سفر پر نکلتے اور لگے بندھے سانچوں سے آزاد ہو کر ایک نئی ہیئت تک پہنچنے کی کوشش کرتے۔ یہاں میں کوشش کا لفظ قصداً استعمال کر رہا ہوں، سرشار کا سارا فن اسی کوشش سے عبارت ہے۔ وہ تو کسی اور ہی دھن میں تھا، یہاں اس کے ہاں وہ عصری روح کام کر کر رہی تھی جس نے غالب کو خطوط کی طرف مائل کیا تھا٭۱۱یہاں اس کے عہد کا وہ تقاضا کارفرما تھا جس نے اردو میں کتنی ہی اصناف کا امکان دریافت کیا۔وہ اظہار کے لیے کسی ہموار رہگزر کے متلاشی رہے، اسی لیے ان کے آخری ناولوں میں پلاٹ کی ترتیب دیکھنے میں آتی ہے جس کا اعتراف اشک صاحب بھی کرتے ہیں۔
’’جب ہم ان کی دیگرتصانیف کا جائزہ لیتے ہیں تو ان سب کے پلاٹ منجھے ہوے ملتے ہیں ۔ ان سب میں تسلسل بھی ہے اور ٹھہرائو بھی۔ پلاٹ کا ٹیمپو یعنی رفتار بھی نہ سست ہے نہ تیز ، یوں کہہ لیجیے کہ متوازن ہے۔‘‘٭۱۲


اگر ایسی بات ہے تو پھر ان کے باقی ناولوں کو وہ مقام کیوں نہیں حاصل ہوا جو اس بے ربط ناول کو ملا ہوا ہے؟ ثابت ہوا کہ پلاٹ میں ربط کا ہونا ایک اضافی قدر ہے اور ناول کا فن چیزے دیگر است۔
اب کچھ دیگر اساتذہ کرام کے بیانات بھی دیکھتے چلتے ہیں ۔سیدوقار عظیم اپنی مخصوص تنقیدی بصیرت سے کام لیتے ہوے یوں فتویٰ دیتے ہیں:
’’ پلاٹ جسے کہانی میں بنیادی حیثیت حاصل ہے ، اس ضخیم کتاب میں ناپید ہے۔ نہ اس کا کوئی آغاز ہے ،نہ انجام۔ نہ کوئی بنیادی مسئلہ یا موضوع اور اس لیے لازمی طور پر نہ کوئی الجھن، نہ کشمکش ، نہ اشتیاق ،نہ پڑھنے والے کے دل میں یہ سوال کہ دیکھیں اب کیا ہو ۔ کہانی میں کسی بنیادی مسٔلے کا فقدان اور آغاز ،ارتقاء اور انجام کے ساتھ ساتھ کسی قسم کی الجھن، اشتیاق اور اضطراب کی عدم موجودگی کہانی کو کہانی نہیں بننے دیتی۔‘‘٭۱۳


ان کا بیان پڑھ کر ہنسی آتی ہے ، پھر جب نگاہ ’’غلام باغ‘‘ پر پڑتی ہے تو اس ہنسی میں خوشی کا بھی عنصر شامل ہو جاتا ہے۔اللہ کا شکر ہے کہ مرزا صاحب نے وقار عظیم صاحب کے عہدِ زریں میں یہ ناول نہ لکھا ورنہ صاحبِ ذیشان کے تنقیدی کمرۂ جماعت میں شریر طالب علم کی طرح مرغا بنے ہوتے یا پھر ان گستاخ ہاتھوں پہ حضرت مولا بخش کے وار سہہ رہے ہوتے جنہوں نے ناول لکھتے وقت درسِ عظیمیہ کو فراموش کر دیا ہے ۔جس طرح مرزا صاحب نے پلاٹ کے پرانے تصورکے ساتھ بلاتکار کیا ہے اور جس طرح ہر ہر قدم پہ قاری کی امیدوں کا قلعہ زمیں بوس کیا ہے،اس سے اُن کی شانِ معلمی کیوں نہ جلال میں آتی؟ آخر ان جیسے عظیم استاد کا اپنا ایک وقار ہوتا ہے جس کے سامنے کسی کوڑھ مغز متعلم کو بے جا لن ترانی کی جرأت نہیں ہونی چاہیے ،بہ صورتِ دیگر ادب کے سکول سے تخلیق کی ڈگری پر سرخ روشنائی سے دستخط کر کے خارج بھی کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر شمع افروز زیدی کا ایک بیان بھی سننے کے قابل ہے، موصوفہ اچھی بھلی اپنے مقالے(اردو ناول میں طنزو مزاح)کی متعین کردہ صراطِ مستقیم پہ لائق محققین کی طرح چلی جا رہی تھیں کہ سرشار کے فن پہ بھی بیان دینے لگیں:


’’ غدر کے بعد جب مغربی تہذیب نے اپنے آنچل کا سایہ یہاں کی تہذیب پر ڈالنا شروع کر دیا تو سماج دو طبقوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک طبقہ اپنے ماضی کی روایات سے دست کش نہیں ہوناچاہتا تھا اور دوسرا تبدیلی کا خواہاں تھا مگر اس حد تک کہ اس کی اخلاقیات اور مذہب پر آنچ نہ آئے۔ اس پس منظر میں’’ فسانہ ء آزاد‘‘ کی تخلیق ہوئی۔ چونکہ سرشار کے سامنے اس تقسیم کا کوئی واضح تصور نہ تھا۔ اس لیے اکثر وہ بھی ماضی کی یاد سے کبھی کبھی تڑپ اٹھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ناول کے واقعات میں منطقی ربط اور تسلسل کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔‘‘٭۱۴


موصوفہ نے اردو ناول میں طنزو مزاح پر کام تو کیا مگر جہاں سے اردو ناول میں مزاح کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے ،اسی کو نہ جان سکیں۔ پہلی بات تویہی دیکھیں کہ انہوں نے کس عالمانہ شان سے اس عہد میں سماج کے دو طبقات کی حتمی تقسیم کر دی گویا طبقہء ابن الوقتاں کاوجود ہی نہ تھا۔ وہ جو لوگ ٹوڈی بچے، کالے انگریز اور صاحب بہادرکے نام سے جانے گئے، جنہوں نے مغرب کی پیروی ِ مطلق کوشعارِ زندگی بنایا ہوا تھا، وہ طبقہ کدھر گیا؟ ظاہر ہے کہ یہ اسی طرح کا سطحی نتیجہ ہے جو ہمارے مقالہ نگار اپنے مفروضہ کو درست ثابت کرنے کے لیے حیلہ ء سکالری کے طور پر روا رکھتے ہیں۔ اس قول کا دوسرا حصہ تو انتہائی قابلِ غور ہے۔ اس جملے کی بناوٹ ہی خراب ہے۔سمجھ نہیں آ تا کہ سماجی تقسیم کے تصور کی عدم موجودگی اور ماضی کی یاد ناول کے واقعات میں منطقی ربط اور تسلسل کی کمی کا باعث کیسے بن سکتے ہیں۔ اس بیان میں تو بذاتِ خود منطقی ربط نہیں ہے، سماجی تقسیم کی عدم موجودگی اورماضی کی یادکا آپس میں ناجائز سمبندھ تک بھی نظر نہیں آتا۔ یوں لگتا ہے کہ اس پورے بیان کا مقصد ہی مزاح پیدا کرنا ہے، تا کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ طنزو مزاح پہ مبنی مقالہ ہے اور اس میں مزاح کی ذرا بھی چاشنی نہیں۔ ان کا کام خواہ جیسا بھی ہے، اسلوب کو موضوع کے مطابق ڈھالنے کے حوالے سے ایک خاص مقام کا حامل ضرور رہے گا۔


ایسا نہیں کہ سرشار پلاٹ کے انگریزی تصور سے ناواقف تھے، کم از کم اپنے عہد میں معاصر مغربی فکشن کا جتنا مطالعہ وہ رکھتے تھے، اتنا تو آج بھی معاصر ادب کے بارے میں ہماری یونیورسٹیز کے پروفیسروں میں شاذ ہی دیکھنے میں آتا ہے۔سر وانتیس کا کام ان کی نظر سے گزر چکا ہے، چارلس ڈکنز تک وہ رسائی رکھتے ہیں، بی ڈبلیو ایم رینالڈز تک کے ناول انہوں نے پڑھ رکھے تھے۔ فیروز مکر جی’’ فسانہ ء آزاد‘‘ پر مغربی متون کے اثرات کا مطالعہ کرتے ہوے اس نتیجے پر پہنچتی ہیں۔


’’فسانہ ء آزاد‘‘ ایک ایسی کتاب ہے جو داستانوں، ’’ڈان کوئکزوٹ‘‘’’پک وک پیپرز‘‘ اور رینالڈز کے انداز میں لکھے ہوے سنسنی خیز ناولوں سے لیے ہوے متعدد مختلف عناصر سے مل کر وجود میں آئی ہے اور ان سار ے عناصر کو …مصنف نے یکجا کر دیا ہے۔‘‘ ٭۱۵
لیکن اس تصور سے آگہی کے باوجود سرشار اس کو نہیں اپناتے، وجہ یہ کہ وہ جو مواد استعمال کرنا چاہ رہے ہیں ، اس کے لیے یہ طریق ِ کار انہیں کشش نہیں کرتا ، اس کے لیے وہ کسی ایسے طریق کی کھوج میں نکلتے ہیںجو ان کی اس مشرقی دنیا اور اس کے تصورات کو کہانی کی شکل میں گوندھ سکے۔ وہ مغربی تصور سے آگاہ تو ہیں مگر اس سے ہٹ کر اپنی تہذیب کے لیے اپنی ہی ہیئت کی تلاش میں رہے، انہیں ناول کو اپنے تہذیبی رشتوں کے قریب لانے کی فکر تھی، وہ ان ناقدین کے ہاتھ کس طرح آئیں جو Problems Of Dostoevsky’s Poetics پڑھ کر اپنے مقامی ناول نگاروں کو جانچنے لگتے ہیں۔ ان کا سروکار اپنے ارد گرد پائی جانے والی زندگی سے تھا، اور وہ اس کے لیے فارم بھی ایسی ہی دریافت کرنے کی دھن میں تھے جو اسے ،جیسی کہ یہ ہے،اسی طرح پیش کر دے۔


جو لوگ ’’فسانہء آزاد‘‘ کو بے ترتیب قرار دے کر اس کی بے ربطی کو ہدفِ طعن بناتے ہیں، ان سے عرض ہے کہ ذرا ایک نقشہ تو بنا دیں کہ ناول کے لیے کون سی فارم اور کس طرح کا پلاٹ معیاری ہے، تا کہ سب دیکھ سکیں کہ دنیا کے کتنے اچھے ناول ان کے معیار پر پورے اترتے ہیں۔ یہ لوگ بھی خوب ہیں کہ اگر اس میں کوئی ترتیب ہوتی، کوئی منطقی ربط ہوتا، پلاٹ تڑاقے کی انگیا کی طرح کسا کسایا ہوتا تو ان حضرات کو بڑامرغوب گزرتا، اب جب کہ ایسا نہیں ہے تو یہ جھلا کر سرشار پر پاگل اوئے کی آوازیں کسنے لگتے ہیں۔


پہاڑوں یا دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں کو بخوبی تجربہ ہے کہ پگدنڈی کس طرح بنتی ہے، جس راستے سے کوئی شخص سب سے پہلے گزر جائے، بعد میں آنے والے اس راستے سے گزرتے ہیں اور یوں وہ پگڈنڈی بنتی چلی جاتی ہے۔ ہماری پنجابی میں ضرب المثل ہے جس کا مطلب کچھ اس طرح ہے کہ آگے چلنے والے راستہ بناتے ہیں اور پیچھے چلنے والے ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں، تو سرشار وہ سب سے آگے چلنے والا ہے جس کے پیچھے چلنا ہی ہمارے ہاںناول کی پگڈنڈی پکی کرتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس ناول میں فنی اصولوں کی پیروی نہیں کی گئی، ارے صاحب وہ آرٹ ہی کیا جو اصولوں پر چلتا ہو، آخر ناول اور سائیکل میں فرق ہوتا ہے۔اصولوں پر مشین چلتی ہے، آرٹ نہیں ۔ مشین طے شدہ راستے پر چلے تو یہ اس کی کامیابی ہے اور اگر آرٹ چلے تو یہ اس کی توہین ہے۔ نقشہ آرکیٹیکٹ بناتا ہے، آرٹسٹ نہیں۔ ناول نگاری اور نقشہ نویسی میں بعدِ قطبین ہے۔ سرشار اصولوں پر تو اس وقت چلتے جب ان کے سامنے اپنی زبان میں کچھ ناولوں کے نمونے ہوتے اور وہ ان کے ساتھ پیمانہ رکھ کر انچ انچ ناپ کر چلتے ۔وہی بات کہ انہیں تو پگڈنڈی بنانی تھی۔ان کو تو ایک ہی لگن تھی ، اردو میں کہانی کی نئی راہ کھوجنے کی، وہ تو داستان سے اپنی راہ الگ کرنے نکلے تھے،’’ فسانہ ء آزاد‘‘ کی پہلی جلد گواہ ہے کہ انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کس طرف جا رہے ہیں، بس اینڈے بینڈے کبھی ادھر ، کبھی ادھر۔ جیسے ایک طے شدہ راستے سے ہٹ کرچلنے والا شخص کسی نئے راستے کی تلاش میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہو۔ آرٹ کی اس بھول بھلیاں میں کافی عرصہ گھومتے رہنے کے بعد انہیں ہلکا سا اشارہ ملتا ہے کہ ایک راہ ہے جو دور تک سیدھی ہے، انہوں نے بھی اس پر چلنے کی ٹھان لی، کمر باندھی ،آزاد کی لگام کھینچی، خوجی کو ہمرکاب لیا اور اس راستے پر چل دیے۔لیجیے دوسری جلد سے ’’فسانہء آزاد‘‘ کا با قاعدہ آغاز ہو گیا۔ چل میرے خامے بسم اللہ۔ یوں وہ روز بسم اللہ کرتے رہے، اور روزقلم کا یہ فرسِ ختلی خرام بگٹٹ بھاگتا رہا۔ راستہ قدموں تلے بچھتا رہا، اور پھر ایک دن احساس ہوا کہ منزل آ پہنچی۔ بس روک دیا قلم۔


اس مجنونانہ سفرِ اشتیاق کو کوئی جو بھی نام دے، سرشار نے اپنی ضرب المثل بے ترتیبی سے وہ کمال کر دکھایا ہے کہ بڑے بڑے ترتیب دان ہانپ کر رہ جائیں، ٹھیک ہے صاحب آپ کی نازکیِ طبع پر یہ بے ربطی گراں گزرتی ہے تو گزرتی رہے، سرشار نے تو اس بے ربطی کو بھی ایک ترتیب دے دی ہے۔
ع عیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے
سرشار کی توجہ الگ چیز پر ہے۔ وہ ایک آزاد ذہن کا مالک ہے ، ویسے ہی بے فکرے جیسے لکھنٔو کے دورِ عروج میں گلی گلی پائے جاتے تھے۔بلکہ بے فکری کے حوالے سے ،لکھنٔو کی اس ہنگامہ جُو تہذیب کا کوئی نمائندہ ہماری ادبی تاریخ میں ہو سکتاہے تو بلا شک و شبہ وہ سرشار ہی ہے ۔ اس نے زندگی کو کتابوں میں نہیں پڑھا۔ اس نے، عقلیت، مذہب، سیاست، وجودیت، مارکسزم، سوشلزم، ژونگ، فرائیڈ،جدیدیت،مابعد جدیدیت کے طفیل زندگی کی بصیرت حاصل نہیں کی بلکہ صرف اپنے حواسِ خمسہ کی بدولت اس زندگی کا جی بھر کے سواد لیا ہے جو اس کے چاروں طرف رنگ بکھیرتی ، خوشبوئیں چھلکاتی،ذائقہ لٹاتی موجود تھی۔سرشار زندگی کے ان ذائقوں کو اپنے اندر اتارے ہوئے تھا اور اس کے اندر کا فنکار اس سارے سواد کو فن میں ڈھالنے کو اتاولا ہو رہا تھا۔اس نے لکھنٔو کی اُس زمانے کی معاشرت کو ہزار رنگ سے جیا تھا، اس نے ہر قسم کے اشخاص سے لگائو رکھا تھا؛ عورتوں کی بولی، بیگمات کا محاورہ،دیہاتیوں کا اجڈ پن،مہریوں کی تیزی، ڈومنیوں کی طراری،کٹنیوں کی چال بازیاں، میموں کا رکھ رکھائو،چوروں کی گفتار، ڈاکوئوں کا لہجہ،افیمیوں کا انداز،نوابوں کی خو بو،شہزادوں کے طور اطوار،شعرا کی زبان دانی، چانڈو بازوں کی ہلڑ بازی، سپاہیوں کی جواں مردی، شرفا کی شائستگی، جنٹل مینوں کا وقار،حاکموں کا دبدبہ، علما کی بلاغت، مہاجنوں کے رویے، جنرلوں کی اکڑ فوں، گنواروں کی حماقتیں ،بے فکروں کی پھبتیاں، شہدوں کے آوازے سب کے انداز انہوں نے دیکھے تھے۔ ان کے فنکارانہ ذہن میں نوابین، رئوسا، بیگمات، بادشاہ، شاہزادے، جنٹل مین، جنرل،جوہری، صراف، تھانے دار، کانسٹیبل، چودھری، ٹھاکر، پارسی، کپتان،انگریز، وکیل، جیلر، نیچریے، گریجویٹ، سکول کے طلباء،مکتب کے مولوی، میونسپل کمشنر، بیرسٹر،شاعر، شکاری،مصاحب، مہریاں،علما، فضلا، پروفیسر، افیمی، چانڈو باز، پتنگ باز، بانکے، پہلوان، کشتی گیر، بنوٹیے، پتے باز، چور ، اٹھائی گیرے، پیر فقیر، حلوائی،عامل، مداری،پنواڑی، سائیس،سرکس والے ،تھیٹر والے،کہار، مشعلچی،نائی، نانبائی، داروغہ،سپاہی، کمہار، کسان، نجومی، رمال، بھانڈ، تمباکو فروش،قلفی والے، باغبان، بنئے، بھنگی، ڈاکو، لٹیرے، عیسائی، خوش نویس،اخبار والے،مجاور، سیاح،سٹیشن ماسٹر، پھیری والے، ٹکٹ بابو، آتش باز، بہروپیے، تماش بین، گندھی، مسخرے، ڈومنیاں، مہاجن، بھٹیارے، ملاح، اپنے ہر رنگ اور ہر ادا کے ساتھ موجود ہیں۔اس کے پاس لفظوں کا بے پناہ ذخیرہ ہے، وہ جو صرف گھوڑے کے لیے سولہ الفاظ ٭۱۶ استعمال کر جاتا ہے، وہ جو صرف بنوٹ کے دائو لکھنے پر آئیں تو دسیوں دائو بیان کر جاتے ہیں٭۱۷حتیٰ کہ ایک جگہ کہاروں کی ذیلی ذاتیں گننے پر آئے توکتنی ہی ذاتیں گنوا دیں٭۱۸ایسے شخص کے لیے یہ مرحلہ کب آسان ہے کہ وہ اس مواد کو شکل دے پائے۔ اس نے تو قلم کی باگ اٹھائی ،ایڑ لگائی، کڑکڑاتے ہوے نکل اٹھا۔ مواد کوئی حساب سے ہو تو بندہ ترتیب بھی دے پائے، اتنا مواد بھلا سوچنے کی مہلت کب دیتا ہے۔اس نے خود اپنی اس خوبی اور اس معذوری کی بابت لکھا ہے کہ


’’میں نے زندگی کو دیکھاہے اور میں زندگی کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک دکھا سکتا ہوں، لیکن مجھ میں اتنی بصیرت نہیں ہے کہ خارجی واقعات اس کی گرمی سے پگھل جائیں۔ مجھے اپنی شخصیت اور خام مواد پر اتنا قابو حاصل نہیں ہے کہ میں زندگی کو مربوط بنا سکوں۔‘‘٭۱۹


سرشار ،رسوا کی طرح صرف ایک بالا خانے سے پورے لکھنٔو کو دیکھنے اور دکھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو کیاہے؟ کہ اس میں سرِ بازار کھڑے ہو کر اس پورے شہر کو اپنی انگلیوں سے چھو کر دیکھنے کا حوصلہ موجود ہے اور پھر اِس احساس کو اِسی ہزار رنگ کیفیت کے ساتھ کاغذ پر منتقل کرنے کی مہارت بھی حاصل ہے ۔اس کے ہاں ربط نہیں ،گہما گہمی ہے، ضبط نہیں ، شور شرابا ہے؛ ترتیب نہیں ،ہلا گلا ہے؛مکتب کی گھٹی گھٹی فضا نہیں، نخاس کی کشادگی ہے۔ مسجد کا سا پر تقدس ماحول نہیں، مے خانے کا سا ہمہما ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس نے لکھا نہیں ، بس لکھنٔو کو اٹھا کر ’’فسانہء آزاد‘‘ کے صفحات میں سجا دیا ہے۔اب اگر آج ڈیڑھ سو سال بعد کوئی شخص انیسویں صدی کے نصف آخر کے لکھنٔو کا تصور کرنا چاہے تو صرف وہی تصویریں ابھرتی ہیں جو سرشار دکھا گیا ہے اور یہی اس کا کمال ہے۔ جس بے ترتیبی کو لوگ کوستے ہیں، اس بے ترتیبی سے ہی سرشار کا کمالِ فن واضح ہوتاہے۔جس طرح کی بے ساختگی اوربہائو ’’فسانہء آزاد‘‘ میں چھلک رہے ہیں، ایسی بے ساختگی اردو کا کوئی اور ناول پیش کر کے تو دکھائے۔ وہ جو بڑی روانی سے’’ لبِ روڈِ ڈینیوب‘‘ ،’’فوق البھڑک‘‘ ،’’روڈِ عظیم‘‘ جیسی نامانوس تراکیب استعمال کرتا چلا جاتا ہے،ایسی روانی تو صرف زبان کے سہارے پھدکتے ہوے ناولوں میں بھی نہیں۔ ترتیب اور ربط سے ’’علی پور کا ایلی‘‘ اور’’آگ کا دریا‘‘ جیسے خشک بیانیے جنم لیتے ہیں، بے ترتیبی سے ’’فسانہء آزاد‘‘ جیسا افسانوی جیون سانس لیتا ہے۔


ابدال بیلا کا ناول’’دروازہ کھلتا ہے‘‘ ۱۸۰۰ صفحے کا ناول ہے ، اس میں ترتیب اپنی انتہا پر ہے، ایک بہت بڑی مشین کی مانند جس کے سامنے انسان ایک ان پڑھ ڈافر کی طرح مبہوت رہ جاتا ہے مگر کہیں کسی ایک بھی صفحے پر ناول ناول نہ بن سکا۔ ہر ہر صفحے پر یوں لگتا ہے کہ جیسے بیلا صاحب ادھ گلی بوٹی چبانے کی سعیِ ناکام میں لگے ہیں۔ چچوڑتے ہیں،بھنبھوڑتے ہیں، کھینچتے ہیں،مسلتے ہیں، لیکن گوشت ہے کہ اترنے کا نام ہی نہیں لیتا۔انہوں نے اس کمال ترتیب سے ۱۸۰۰ صفحے لکھے،…مگر کیا کمایا ؟ اور یہ بھی وضاحت کرتا چلوں کہ یہاں اس کتاب کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ اس سے زیادہ بری مثال مجھے مل نہیں سکی۔بے چارہ قاری جب اس فضول تحریر کے بحرِ بے کراں میں بے دست و پا ابواب کی منہ زور لہروں کے ساتھ بہتا بہتا کنارے لگتا ہے تو سکھ کا سانس لیتا ہے، جان بچی سو لاکھوں پائے۔ڈیڑھ دو سو سال کے زمانے پر محیط اس تحریر میں ایک لمحے کو بھی دھڑکن نصیب نہیں ہوئی۔جبکہ ہمارے اس ’’فسانۂ آزاد‘‘ کے فنی معجزے کی بنیاد یہی بے ترتیبی ہے کہ آزاد نامی ایک نکتے سے شروع ہو کر یہ ناول پھیلتے پھیلتے پوری معاصر زندگی کو محیطنے کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔اس میں زندگی کی وہ وسعت نظر آتی ہے جس کی پیش کش ناول کا اصل آرٹ قرار پاتا ہے۔اردو میں ناول کس طرح صحیح معنی میں ناول بن سکتا ہے، یہ گُر ہمارے ادیبوں کو سرشار سے سیکھنا چاہیے تھا لیکن افسوس ’’فسانہء آزاد‘‘ طاق پر دھرا رہا اور یاروں نے ناول کے فن پر مغربی ناقدین اور ناول نگاروں کی بحثیں پڑھ پڑھ کر پلاٹ ، کردار اور منظرنگاری کے ملغوبے بنا بنا کر ناول کی تخلیق کی میکانکی کوششیں کرنی شروع کر دیں۔ گویا ناول بھی اچار گوشت ہے جسے ریسیپی کی مدد سے بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ناولوں میں زندگی کے متعلق ہر قسم کی بحث نظر آ جاتی ہے، لیکن خود بے چاری زندگی نظر نہیں آتی۔عبداللہ حسین، قرۃ العین حیدر، عزیز احمد ،انتظار حسین،احسن فاروقی ناول کے نام پر ٹوکرا بھر کتابیں دے گئے لیکن ایک ایسا کردار نہ دے سکے جسے ناول پڑھتے وقت قاری اپنی انگلیوں سے چھو کر محسوس بھی کر سکے۔وجہ اس کی یہی ہے کہ ان لوگوں کے ذہن پرناول کا پلاٹ حاوی ہوتا ہے اور یہ اپنی تخلیق میںخدائے لم یزل کی طرح کارفرما، کرداروں سے ان کی رضا پوچھے بنا ہی ، انہیں اپنے پلاٹ کی گزر گاہ پررولتے رہتے ہیں، خود ہی اس کی قسمت کے خدابن بیٹھتے ہیں، صرف اس لیے کہ اس میں ترتیب پیدا ہو سکے۔ ٹھیک ہے صاحب ! ترتیب بھی ضروری ہے اور اگرحضرت ای ایم فورسٹر نے کہہ دیا ہے تو پھر تو یہ ہمارے لیے بہت ہی مقدم ٹھہرتی ہے، لیکن ایسی ترتیب کس کام کی جس میں حسن نہ ہو۔ انتظار حسین نے غالب کے خطوط پر بہ حیثیتِ ناول بات کرتے ہوے کہا ہے کہ


’’ہاں یہ صحیح ہے کہ اس بیان(’’غالب کے خطوط ناول کی ابتدائی شکل ہے‘‘) کے ارد گرد جھاڑ پہاڑ بہت ہے، ویسے تھوڑا بہت جھاڑ پہاڑ تو ناولوں میں بالعموم ہوتا ہے، خاص طور پر ان ناولوں میں جنہیں بڑا درجہ دیا گیا ہے۔ ناول لکھتے لکھتے تاریخ کے فلسفے پر بحث شروع کردی۔ یا براہِ راست فلسفہ بگھارنا شروع کر دیا۔ مگر کیا کیا جائے، دودھ دینے والی گائے کی چار لاتیں بھی سہارنی پڑتی ہیں۔ بڑے ناول نگاروں کی اس لت سے بھی نباہ کرنا پڑتا ہے۔ خود ناول کی فارم عالی ظرف ہے۔ ایسے جھاڑ پہاڑ کو بھی سنگوا لیتی ہے۔‘‘٭۲۰


پلاٹ پلاٹ کُوکنے والے ان لوگوں کے ناولوں میں صرف ترتیب رہ جاتی ہے اور ’’فسانہء آزاد‘‘ کی بے ترتیبی میں ترتیب کے علاوہ بہت کچھ ہے۔ہمارے یہ ناول نگار تو لگتا ہے زندگی کے سیلاب پر ترتیب کے بند باندھ دیتے ہیں ، سرشار سے سبق نہیں لیتے کہ کس ہنر سے مختلف تصویریں جمع کر کے، ارژنگ کی طرح سے ایک ناول تخلیق کر لیا، جو ایک بار اٹھتا ہے تو لگتا ہے کہ زمیں کی ساری حدیں پھلانگ ہی تو جائے گا۔پلاٹ منصوبہ بندی کی ذیل میں آ جاتا ہے اور آرٹ کبھی منصوبہ بندی سے تخلیق نہیں ہوتا۔ آرٹسٹ تو اپنے فن کی ہمراہی میں چل نکلتا ہے ، جہاں اس کا سفراسے لے جائے۔


اور پھر یہ دیکھنا بھی لازم ہے کہ سرشار کو ورثے میں کس قسم کے نثری بیانیے کی روایت مل رہی ہے۔ سرشار سے قبل جو روایت تھی اس میں داستان کو بیان کرنے کا ایک اور راستہ بھی تھا،جو صرف ایک آدھ لحاظ سے داستان سے جدا ٹھہرتا تھا، اسے ’’فسانہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس میں اور داستان میں بہت تھوڑا فرق ہوتا تھا۔ فیروز مکر جی نے دونوں کا تقابل کرتے ہوے لکھا ہے کہ


’’فسانہ کی صنف کا کئی لحاظ سے ’’داستان‘‘ سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔’’ فسانہ‘‘ کو ادب میں شمار کیا جاتا تھا۔ اس کے موضوعات اور اس کی خصوصیات اگرچہ داستان کے موضوعات اور خصوصیات سے ملتی جلتی ہیں مگر اسے وہ انتہائی تہذیب یافتہ اور نفاست پسند افراد تصنیف کرتے تھے جن کا اٹھنا بیٹھنا صرف طبقۂ امرا میں تھا۔ اس نوع کی سب سے مشہور مثال رجب علی بیگ سرور کے’’ فسانہء عجائب‘‘ کی ہے ۔…فسانہ، داستان سے صرف دو پہلوئوں سے مختلف ہے :اولاً اپنی نفاست اور شائستگی میں اور دوسرے اپنے نسبتاَ اختصار میں مگر اس کے عنصر اور اجزاء ایک جیسے ہیں۔ دونوں میں ایک تنہا ہیرو ہے جو ایک مکمل انسان ہے اور جسے بچپن ہی سے وہ تمام خوبیاں ودیعت ہوئی ہیں جو انتہائی پسندیدہ شخصیتوں میںہوتی ہیں…کہانی میں وہ تمام مہمیں شامل ہوتی ہیں جو ہیرو کو اپنی منزل تک پہنچنے اور شہزادی کو حاصل کرنے میں اسے سر کرنی پڑتی ہیں۔ان مہموں میں اسے مافوق الفطرت اور عام انسانی دشواریوں دونوں ہی سے نپٹنا پڑتا ہے ۔ فسانہ مرصع نثر میں بیان کیا جاتا ہے…اور داستان کے مقابلے میں فسانہ میں یہ اسلوب نسبتاً زیادہ تسلسل اور وضع داری کے ساتھ نبھایا گیا ہے۔‘‘ ٭۲۱


جہاں تک میں اس بات کو سمجھا ہوں ، داستان اور فسانے میں سنانے اور لکھنے کا فرق ہے ۔ جو قصہ بازاروں میں بیٹھ کر، حقے اور قہوے کے چلتے دوروں کے درمیان سنایا جاتا وہ داستان اور جو گھر میں بیٹھ کر پڑھے لکھے قاری کے لیے لکھا جاتا وہ فسانہ کہلاتا، اس کے مطابق تو’’ باغ و بہار‘‘، ’’ آرائش محفل‘‘، ’’بیتال پچیسی‘‘، ’’عجائب ا لقصص‘‘، وغیرہ سبھی فسانے ہی قرار پاتے ہیں۔فسانے میں اس بات کا خیال تو رکھا جاتا تھا کہ اس میں داستان کی سی بے ربطی اور طوالت نہ در آئے لیکن عملی نمونوں سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ یہ کوشش کس قدر کامیاب ہوتی تھی۔ سرشار نے یہی روایت ورثے میں پائی تھی اور اسی کو انہوں نے آگے بڑھایابلکہ اپنے فنی شعور سے کام لے کر اس روایت کو اتنا آگے لے گئے کہ کہانی کہنے کے جدید فن تک پہنچ گئے۔ صاف عیاں ہے کہ سرشار کے اس پہلے ناول کا سلسلہ اردو ہی کی قدیم نثری روایات سے قائم ہے،نہ کہ مغرب سے درآمدہ ناول سے ۔یہ ضرور ہے کہ سرشار انگریزی ناول کی حقیقت نگارانہ اندازسے متاثر ہیں، لیکن فسانہ لکھتے وقت وہ مغربی طرز کا تتبع نہیں کرتے۔ان کے ہاںکہانی اردو کے افسانوی ادب کی روایت کے ساتھ اپنا رشتہ برقرار رکھتی ہے،اور وہ اسی روایت میں کہانی کہنے کی نئی طرز کے موجد ہیں۔


عام طور پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ناول لکھنٔو کی تہذیب کو پیش کرتاہے، تو اس پرایک عرض ہے کہ لکھنٔو کی تہذیب سے یہ ناول اتنا تعلق نہیں رکھتا۔تہذیب تو کسی معاشرے کی فکری و فلسفیانہ بُعد کا نام ہے۔ اِس ناول کا سروکار لکھنٔو کی عام زندگی کے مختلف مظاہر سے ہے، اُس کی فکری گہرائی سے اِس کومطلب نہیں۔ ہم اپنی آسانی کے لیے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ناول لکھنٔو کی تہذیب کا نہیں تمدن کا مطالعہ کرتا ہے۔اس میں وہ گہرائی نہیں جو تہذیبی مطالعہ کے لیے ضروری ہوتی ہے، اس میں تو صرف سطح کا مطالعہ نظر آتا ہے۔کسی بڑے تہذیبی مظہر کا اس میں ذکر تک نہیں ملتا، کوئی بڑا کردار اس میں سامنے نہیں آتا جسے ہم لکھنٔو کی تہذیب کا نمائندہ کہہ سکیں، لکھنٔو کی تاریخ کا کوئی بڑا واقعہ اس میں نہیں۔پھر یہ تہذیبی مطالعہ کیسے ٹھہرائے گا۔ یہاں تو صرف عام ظاہری سطح مد نظر ہے۔ تہذیبی مطالعہ کے خواہش مند شاید اس ناول سے مایوس ہی ہوتے ہوں۔ یہاں اگر نواب نظر بھی آئیں گے تو وہ نواب جو نوابی بگاڑ کی انتہا پر کھڑے ہیں، نواب نہیں بلکہ نوابوں کامسخاکہ۔ شاہی دور کی پرانی زندگی کا کوئی رخ نہیں ملتا، بلکہ کسی ایک بھی کردار کو اس گزرے دور کی زندگی کا احساس ستاتا تک نہیں، بس ایک لے دے کے میاں خوجی ہیں ، جنہیں پرانا وقت آوازیں دیتا ہے اور وہ پکار اٹھتے ہیں کہ ’’ہم معمولی آدمی نہیں، شاہی میں کمیدانی کیا کیے ہیں۔ دگلے والی پلٹن کے رسالدار رہے ہیں‘‘ بس اس کے بعد اک لمبی چپ…۔ڈاکٹر گوہر نوشاہی نے ’’فسانہ‘‘ میں لکھنٔو کی تہذیبی زندگی کے حوالے سے یوں لکھا ہے:


’’مذہبی توہمات کا تذکرہ…محفلوں کے تکلفات…وضع داریاں…ظاہر پرستیاں… کھوکھلے ، بے روح جسموں کی کہانیاں اور ملمع کئے ہوے جسموں کے آشوب ’’فسانہء آزاد‘‘ کا موضوع ہیں اور ان کی زندہ اور غیر فانی پیش کش سرشار کا فن ہے…آزاد (سرشار؟)سے بڑھ کر لکھنٔوی تہذیب کا عمیق نفسیاتی مطالعہ کسی نے نہیں کیا۔ ’’فسانہء آزاد‘‘ لکھنٔوی تہذیب و معاشرت کی ایک نادر روزگار اور لافانی دستاویز ہے۔‘‘٭۲۲


اس بیان کے دو حصے ہیں۔’نادرِ روزگار اور لافانی‘ وغیرہ تو پروفیسرانہ دعویٰ ہے جو استاد حضرات ہر اس فن پارے کے متعلق مشہور کر دیتے ہیں جونصاب میں شامل ہو۔البتہ پہلے حصے پر یوں بحث ہو سکتی ہے کہ ’’فسانہء آزاد‘‘ میں کہیں بھی کھوکھلے، بے روح جسموں کی کہانیاں اور ملمع کیے ہوے جسموں کے آشوب جیسی چیزوں کو موضوع نہیں بنایا گیا ، بلکہ یہ تو سرشار کے دور کا محاورہ ہی نہیں ، نہ ہی اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ سرشار نے فرائیڈ یا سارتر میں سے کسی کا بالاستیعاب مطالعہ فرمایا ہوا تھا۔باقی مذہبی توہمات کا تذکرہ،محفلوں کے تکلفات،وضع داریاں،ظاہر پرستیاں، ان سب کا ذکر اور ان کی تضحیک ضرور ملتی ہے لیکن ایک تہذیبی مظہر، معاشرتی عمل یا ثقافتی عنصر کے طور پر کہیں بھی ان کا مطالعہ یا تجزیہ نہیں ملتا۔تہذیبی مطالعہ تو رسوا نے کیا ہے کہ لکھنٔوکے ایک تہذیبی مظہر طوائف کو پوری تہذیب کی علامت بنا دیا ہے۔ یہاں سرشار کی پٹاری میں کوئی ایسا شیش ناگ نہیں ہے جو علامت کا پھن لہراتا جھوم رہا ہو ۔ ہاں لے دے کے ایک حضرت خوجی ہیں جو نقادوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور وہ اپنی ٹکیاں لگانے کی خاطر خوجی کا پلیتھن نکال دیتے ہیں۔ بھلا کہاں خوجی جیسا مرنجان مرنج آدمی اور کہاں لکھنٔو کی تہذیب جو مثنوی اور مرثیے جیسی شاعری کی خالق ہے، ڈراما شروع کر رہی ہے، ریختی لکھ رہی ہے، گریہ کو زندگی میں بنیادی مقام دیتی ہے، حتیٰ کہ عام روز مرہ زبان کو آرٹ کے درجے پہ پہنچا چکی ہے۔ یہ سب بار خوجی بے چارے کے ناتواں کندھے نہیں اٹھا سکتے، اس کے لیے تو کوئی کوہ پیکر کردار اور فلک بوس ناول چاہیے۔ یہ ناول کہیں بھی تہذیبی مطالعے کی راہ پہ نہیں نکلتا، اسی لیے اس میں وہ ظاہری ترتیب نہیں جو تہذیبی مظاہر کوباہم منظم اور مربوط کر سکے۔یہ ناول تو اس صوفیانہ روایت کا ثمر ہے جس نے غزل جیسی ریزہ خیالی کو پروان چڑھایا ، جس نے پابند نظم میں چھوٹی چھوٹی تصویریں جو ڑ کے اسے ایک کل کی شکل عطا کی۔ یہاں نظم کو کسی ایک موضوع کے ساتھ ظاہری طور پرمنظم کرنے کا مغربی انداز نہیں پایا جاتا تھا، بلکہ نظم اس روحانی تجربے کی احساس پہ وحدت کی لڑی میں پروئی جاتی تھی جو اس پوری تہذیب کا ورثہ تھا۔…یہ وہ تہذیب ہے جہاں چھوٹے سے چھوٹا جزو بھی نکما نہیں سمجھا جاتا اور کم مایہ قطرے کو بھی دریا کی پہنائی کا حامل گردانا جاتا تھا۔ یہاں باغ میں یک ذرۂ زمیں بھی بیکار نہیں شمار کیا جاتا، یہاں اجزاء کو اجزاء کی حیثیت سے نہیں، بلکہ مربوط شکل میں کل کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور اجزاء کے ہونے کی مصلحت بھی کل کو مدنظر رکھتے ہوے سمجھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔٭ ۲۳ اس تہذیب کے پروان کردہ فن پارے کوجس میں جزو اور کل باہم دیگر کوئی الگ حیثیت نہیں رکھتے، اس کے اجزاء کے لحاظ سے پرکھنا اور پھر اسی بنیاد پہ کوئی حکم لگانا صرف انہی کا مقدر ہے جو فن پاروں کو اپنے تہذیبی عمل سے آزاد سمجھتے ہیں۔ ایسے میں تہذیبی مطالعے کا مندرجہ بالا دعویٰ ذرا بھی مناسب نہیں ٹھہرتا۔ یہ مطالعہ نہیں ، خود ایک تہذیبی مظہر ہے۔


در اصل سرشار اس عام رویے کا ردِ عمل ہیں جس کے تحت لکھنٔو میں وہاں کے ہر تہذیبی عمل کو جی بھر کے سراہا جاتا تھا، سرشار نے ایک لحاظ سے اس رویے کے حامل لوگوں کو آئینہ دکھایا ہے کہ اگر آپ کی تہذیب یہ ہے تو اس میںیہ جو لوگ اور رویے ہیں ، آپ ان کے دفاع کے لیے کیا جواز لائیں گے۔ ثناء خوانِ تقدیسِ لکھنٔو کہاں ہیں۔یہ ضرور ہے کہ اس میں عوامی زندگی کو بعض جگہوں پر بہت بگاڑ دیا گیا ہے، لیکن وہ کہا جاتاہے ناںکہ گہری نیند سونے والوں کو جگانے کے لیے دھماکہ بھی بہت اونچا ہونا چاہیے، سرشار نے بھی لکھنٔوی تہذیب کے ثناء خوانوں کے سامنے لکھنٔو کی شکل بگاڑ کی انتہا پر پیش کی، کہ شاید اسی طرح ان کو کچھ قابلِ اعتراض گوشے نظر آئیں۔ اس موضوع پر ،پریم پال اشک ایک معتدل سی رائے رکھتے ہیں:


’’اگرچہ اس میں ہماری سماجی زندگی کا کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا گیا اور ہندوستانیوں کا کوئی طبقہ ایسا نہیں جس کی عکاسی اس میں نہ کی گئی ہو اور جس سے مصنف نے کردار نہ لیا ہو لیکن اسے زیادہ موزوں طور پر لکھنٔوی سوسائٹی کے پس منظر پر مبنی ناول کہا جا سکتا ہے۔ لکھنٔوی سوسائٹی کی اس سے بہتر عکاسی اردو ادب میں اب تک نہیں کی گئی ہے۔‘‘٭۲۴


کون کہہ سکتا ہے کہ سرشار سا با کمال اب اردو کو نصیب ہو گا بھی کہ نہیں جس کے ہاں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ زندگی کس کس زاویے سے آ کرغیر محسوس انداز میں ناول کا حصہ بنتی چلی گئی ہے۔کشن پرشاد کول نے گو کہ لکھنٔو کی پرانی سوسائٹی کے متعلق اپنی رائے دی ہے، لیکن اگر اس میں پرانی سوسائٹی کی بجائے معاصر سوسائٹی کہا جائے تو بات درست ہو سکتی ہے۔


’’وہ تو لکھنٔو کی پرانی سو سائٹی کی مصوری کے لیے پیدا ہوے تھے اور اپنا خاص طرز لے کر آئے تھے ۔ شبہ نہیں کہ اس نقاشی کو اپنے طرز میں خوب ہی نبھایا ہے بلکہ اعجاز دکھایا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جس سوسائٹی میں انہوں نے جنم لیا، جس تہذیب و تمدن میں ان کی نشوو نما ہوئی جس میں وہ پھلے پھولے وہ اس کی رگ و ریشہ سے واقف تھے۔ اس میں رچ بس گئے تھے اور اس کی مصوری کے لیے ان کا طرزِ ادا اور اندازِ بیان بھی موزوں اور مناسب تھا۔’’ فسانہ ء آزاد‘‘ کا بہت بڑا حصہ لکھنٔو کی پرانی سوسائٹی کی نقاشی میں صرف ہوا ہے، وہ صرف خوب ہی نہیں بلکہ بہت خوب ہے۔‘‘٭۲۵


زندگی کا کون سا رنگ ہے جس سے یہ ناول محروم ہو ، جیسے فن کار نے فن کے طلسم سے لکھنٔو کی زندگی منقش کر دی ہے۔ شادی بیاہ کی رسومات، بٹیر بازیاں، ماتم کی رسومات، محفلوں کی رنگارنگی، صحبتوں کی رونق، چانڈو خانے کے ہنگامے،عدالتوں کے ہجوم،مصافِ جنگ کی نقشہ گری، قافلوں کی متحرک تصویریں، کمیٹی کے اجلاس، بازاروں کے جمگھٹے، مدرسوں میں بچوں کے مجمعے، ڈاکوئوں کے گروہ، طوائفوں کے اڈے، ڈومنیوں کے طائفے، میلوں کی بھیڑ، محرم کا عرس، کانسٹیبلوں کی دوڑ(چھاپہ)، سپاہیوں کا دھاوا ، بیگمات کا ہنسی ٹھٹھا، بھٹیار خانوں کی چہل پہل،باغوں میں ہجومِ مہ وشاں، پتنگ بازوں کے مقابلے، تیراکوں کی کرتب بازیاں، بانکوں کا بانکپن،مشاعروں کی ہائو ہو، ریل کا پر شور سفر،سرائے کے مسافر،غرض اجتماعی تصویروں کا ایک دریا ہے کہ امڈا چلا جاتا ہے، ایک سیل ہے کہ رکتا نظرنہیں آتا ۔ اس کے بعد دیگر ناولوں کو دیکھیے تو افسوس ہوتا ہے کہ ’’فسانہء آزاد‘‘ جیسی روایت ملنے کے بعد بھی اس طرح کے ناول کیسے جنم لیتے رہے گویا کسی ا لٹرا ماڈرن شہر کی بیبیوں میں شٹل کاک سے بدن چھپانے کی ریت چل نکلی ہو۔ہمارے ناول نگاروںنے سرشار سے کچھ فیض اٹھایا ہی نہیں ورنہ ان کے ہاں ناول دربارِ مصر کے غلاموں کی طرح اپنی مرضی سے سانس لینے کو ترستے نظر نہ آئیں۔’’فسانہء آزاد‘‘ میں تو بہت بڑے ناول کے پیش رو ہونے کی صورت دکھائی دیتی ہے اور یہ ریت پتا نہیں آگے چل کر کس طرح احساس سے بھرپور ، زندگی سے معمور ، ناول کے جنم کا باعث بنتی، مگر ہم نے اپنا نقصان یوںکیا کہ سرشار سے ناول نگاری کا درس لینے کی بجائے انگریزی ناول کی تقلید شروع کر دی۔ اور تقلید کی روش کب کوئی فنکار پیدا کر سکی ہے۔ناول کا فن ِ نبرد پیشہ تو سرشار جیسے مرد کا ہی طلب گار ہے جو پوری زندگی کو اپنے جلو میں لے کر چل سکے اور قاری کے لیے ایک نیا جہاں تخلیق کر دے۔ مگر اس کے لیے کھل کر جینا شرط ہے، میدانِ زیست میں کدکڑے لگانا ضروری ہے، زندگی کا ہر ذائقہ چکھنا لازم ہے تب جا کے ایسا ناول لکھا جا سکتا ہے۔ اپنی سٹڈی میں بیٹھ کے منوں وزنی کتابیں چاٹ کے ناول کے فنپر طول طویل بحث تو کی جا سکتی ہیں، ناول کو ناول نہیں بنایا جا سکتا ۔ ناول کو ہم نے فارمی مرغا سمجھا ہواہے جسے فلسفہ ، نفسیات ، تاریخ،سماجیات ،وجودیت اور پتا نہیں ’’یت‘‘اور ’’یات‘‘ کے لاحقے والے کون کون سے نظریات کی زود ہضم اور زود اثر خوراک دے کر پروان چڑھایا جاتا ہے لیکن اس کا نتیجہ یہ کہ مرغا اتنا ’’گولڑہ‘‘ ہو جاتا ہے کہ اپنی مرضی سے چل پھر بھی نہیں سکتا… صرف تنقید کے دڑبے میں پڑا ہانپتا اپنے مقدر کی چھری کا منتظر رہتا ہے۔ ناول نگاری اور مرغ بانی میں کچھ تو امتیاز روا رکھنا چاہیے۔


ایک ناول نگار اورایک انجینئر میںیہی تو فرق ہے کہ ناول نگار کو کسی اکیڈمی میں ناول لکھنے کے فارمولے نہیں سکھائے جاتے، وہ تو اپنا ساراآرٹ زندگی کی گود میں سیکھتا ہے۔ناول تو ایسا ہو جسے پڑھ کر قاری کے علم میں اضافہ ہو یا نہ ہو ، زندگی کا ایک نیا تجربہ ضرور ہو اور ایسا ناول لکھنے کے لیے ہمیں پلٹ کر سرشار کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنا پڑے گا۔ڈاکٹر احسن فاروقی صاحب نے بجا طور پر لکھا ہے :
’’اگر کوئی سرشار کے سکھائے ہوے سبق کو بھول جائے تو نہ وہ جان دار کردارنگاری سے لطف اندوز ہو سکے گا اور نہ ہی ایسی کردار نگاری کر سکے گا۔ ناول سے سچا ذوق حاصل کرنے والے کے لیے اور سچے مذاق کا ناول لکھنے والے کے لیے پہلے سرشار کے پیر چھو لینا ضروری ہیں۔‘‘٭۲۶
٭٭٭

حوالہ جات

۱ کشن پرشاد کول،مضمون بہ عنوان ’’سرشار کا شاہکار‘‘ مشمولہ ،’’نقدِ سرشار‘‘،ص:۱۸۹
۲ پریم پال اشک، ’’رتن ناتھ سرشار‘‘،مکتبہ جدید،نئی دہلی،۲۰۰۴،ص:۱۰۲
۳ علی عباس حسینی،’’اردو ناول کی تنقید‘‘ ،لاہور اکیڈمی، لاہور،۱۹۶۴،اول،ص:۲۶۰۔۲۵۹
۴ سہیل بخاری،ڈاکٹر،’’اردو ناول نگاری‘‘، مکتبہ جدید، لاہور،۱۹۶۰،اول،ص:۶۴
۵ عظیم الشان صدیقی ،’’اردو ناول ،آغاز و ارتقاء ‘‘،ایجو کیشنل پبلشنگ ہائوس ، دہلی،ص:۲۸۰
۶ سلیم اختر ، ڈاکٹر، ’’اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ‘‘،سنگِ میل،لاہور، ۲۰۰۵، ص:۴۰۷
۷ احسن فاروقی، ڈاکٹر،’’اردو ناول کی تنقیدی تاریخ‘‘،لاہور اکیڈمی، ۱۹۵۱، ص:۹۱۔۹۰
۸ پریم پال اشک، ’’رتن ناتھ سرشار‘‘،مکتبہ جدید،نئی دہلی،۲۰۰۴،ص:۵۴۔۵۵
۹ رتن ناتھ سرشار،مضمون بہ عنوان’’ناول نگاری‘‘، مشمولہ: ’’نقدِ سرشار‘‘، مرتبہ: تبسم کاشمیری، سنگ میل ،جنوری، ۱۹۶۸ء، ص:۲۶۷
۱۰ بہ حوالہ فیروز مکرجی،’’لکھنٔو اور سرشار کی دنیا‘‘، ترجمہ :مسعود الحق، آج ،کراچی،۲۰۰۰ء،ص:۱۰۳
۱۱ پریم پال اشک، ’’رتن ناتھ سرشار‘‘،مکتبہ جدید،نئی دہلی،۲۰۰۴، ص:۵۳
۱۲ انتظار حسین نے غالب کی خطوط نگاری کے بارے میں یوں لکھا ہے۔
’’جدید زندگی کے جس ابھرتے ہوے نقشے نے غالب پر سحر کیا تھا، یہ وہی نقشہ ہے جس کے زیرِ اثر یورپ میں حقیقت نگاری کا اسلوب پروان چڑھا تھا اور ناول کی فارم نکھری تھی۔ اس اثر میں اگر غالب کا قلم بھی اسی راہ پر چل نکلا تو تعجب نہ کرنا چاہیے ۔ ممکن ہے غالب کو لکھتے وقت اس کا پورا احساس نہ ہو کہ وہ کیا کر رہاہے آخر تخلیقی عمل اپنا سارا بھید تو لکھنے والے کو بھی نہیں بتاتا اور ناول کی فارم سے تو ویسے بھی غالب کی کوئی شناسائی نہیں تھی۔اصل میں غالب کے قلم نے غالب کو اطلاع دیے بغیر ہی ناول لکھنا شروع کر دیا تھا۔ وسعت کی تلاش میں یہ قلم کہاں سے کہاں نکل گیا …رہے غالب کے مداحین تو ان میں سے اکثروں کے سامنے بس یورپ کی انیسویں صدی کی ناول نگاری کے نمونے تھے۔ اس سے انہوں نے یہ جانا تھا کہ ناول وہ ہوتا ہے جس کی ایک ترشی ترشائی شکل ہوتی ہے، کچھ کردار تعمیر کیے جاتے ہیں۔ ان کے گرد ایک مربوط کہانی بنی جاتی ہے مگر بیسویں صدی نے تو گویا ناول کی ساری فارم ہی کو توڑ پھوڑ کے رکھ دیا۔ مگر غالب کے یہاں اگر ناول کی کوئی ترشی ترشائی شکل نظر نہیں آتی تو اس کی وجہ دوسری ہے۔ وہ تو اپنے تجربے کے اظہار کے لیے ایک نئی فارم کی تلاش میں نکلا ہوا تھا، جو بھی فارم وہ دریافت کرتا، وہ ڈھلی ڈھلائی شکل میں تو وارد نہیں ہو سکتی تھی۔غالب کو ناول کی فارم سے کوئی شناسائی نہیں تھی مگر جس تجربے سے اسے شناسائی ہوئی تھی اور اس کے اثر میں اندازِ نظر اور طرزٍ احساس میں جو تبدیلی آئی تھی اس نے اس کے قلم کو اظہار کے اس راستے پہ ڈال دیا تھا جو ناول کی طرف جاتا ہے۔‘‘(’’نظریے سے آگے‘‘ص:۱۹)
۱۳ وقار عظیم، ’’ داستان سے افسانے تک‘‘، الوقارپبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۰۲، ص:۶۷
۱۴ شمع افروز زیدی،ڈاکٹر،’’ اردو ناول میں طنزو مزاح‘‘، پروگریسو بکس، لاہور، ۱۹۸۸، ص:۱۸۳
۱۵ فیروز مکرجی ،’’لکھنٔو اور سرشار کی دنیا‘‘، ترجمہ :مسعود الحق، آج ،کراچی،۲۰۰۰ء، ص:۱۱۰
۱۶ کمیت، شبدیز، فرس، توسن، سمند، رہوار، اشہب، مرکب، اسپ ،عربی، گلگوں،سرنگ، رخش، ادہم، ویلا، کیپ
۱۷ لکڑی کا اٹھاناتھاکہ برس پڑے۔ سر، طمانچہ، باہرہ، پالٹ، کڑک، جنیوا، انی، مونڈھا، مسروہی، اتنے ہاتھ لگائے کہ افسر کے رخ چھوٹ گئے…آزاد نے جھپٹ کر اس پھرتی سے کیلی کی کہ تلوار ان کے ہاتھ میں آ گئی ۔(جلد سوم ص:۱۲۹۳)…یا پھر میاںخوجی سے بھی سنتے جائیں۔’’پہلاآیا تو اس کو پٹخنی دی، (دوسرے کو ) قلاجنگ کے پیچ پر اڑایا۔ بس جناب پھر تو پہلوان بلا کی طرح آیا۔ ہاتھ ہلاتے ہی غلام نے زمین پر منہ کے بھل گرایا، وہ مارا مگر سنبھلا اور اس زور سے گردن پکڑی کہ توبہ ہی بھلی۔ میں نے پیچ کیا تو گردن چھوٹ گئی اور پہلوان کی کمر ٹوٹ گئی۔ پھر جھپٹا، میں نے دستی کی اور دن سے پیٹھ پر ، آنٹی دی اورتڑ سے زمین پر لایا۔ سواری کس دی‘‘(جلد سوم ص:۱۴۶۱)
۱۸ تمام ہندوستان کے کہار جمع تھے۔ڈیریا، گڑیا، پسکونا، کبوٹ ،تراہے،رواتی، بوٹ ، بھوٹر، بیٹھا، کھروا، ودیتا‘‘(جلد سوم۔ص:۱۶۸۰)
۱۹ بہ حوالہ ’’نقد ِ سرشار‘‘ ص:۲۰۹
۲۰ انتظار حسین،’’نظریے سے آگے‘‘ ،سنگِ میل پبلیکیثنز، لاہور، ۲۰۰۴،ص:۲۵۔۲۴
۲۱ فیروز مکرجی ،’’لکھنٔو اور سرشار کی دنیا‘‘، ترجمہ :مسعود الحق، آج کراچی،۲۰۰۰ء، ص:۹۰۔۸۹
۲۲ گوہر نوشاہی، ڈاکٹر، مضمون بہ عنوان’’لکھنٔوی تہذیب اورفسانہء آزاد‘‘،مشمولہ ’’نقدِ سرشار‘‘،ص:۲۲۲
۲۳ جزو اور کل کے باہمی تعلق کے حوالے سے مزید تفصیل کے لیے جیلانی کامران کا مضمون ’’غالب کی تہذیبی شخصیت ‘‘ ملاحظہ کیجیے۔
۲۴ پریم پال اشک۔ ’’رتن ناتھ سرشار‘‘،مکتبہ جدید،نئی دہلی،۲۰۰۴،ص:۹۰
۲۵ کشن پرشاد کول،مضمون بہ عنوان ’’سرشار کا شاہکار‘‘ مشمولہ ،’’نقدِ سرشار‘‘،ص:۱۹۰
۲۶ احسن فاروقی، ڈاکٹر،’’اردو ناول کی تنقیدی تاریخ‘‘لاہور اکیڈمی، ۱۹۵۱، ص:۱۲۸
٭٭٭٭

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

کمنٹ کریں