سرخ گوشت

تحریر: ڈاکٹر یونس خان

, سرخ گوشت

عنوان دیکھ کر اگر آپ کو سعادت حسن منٹو کی یاد آجائے تو یہ مت سمجھئے گا کہ یہ بھی منٹو صاحب کا کوئی ناقابلِ اشاعت قسم کا افسانہ ہے۔ وہ گوشت کوئی اور تھا جس کا افسانہ نگاروں میں چرچا رہا۔ یہ تو معصوم سا، ہلکا پھلکا بس ایک سائنسی نوعیت کا مضمون ہے، وہ بھی سرخ گوشت کے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب چاہے وہ “ٹھنڈا” ہو یا گرم۔
حکیموں اور ویدوں نے تو چھوٹے اور بڑے گوشت کی اقسام کی بنیاد ڈالی مگر یہ اپنی سائنس گوشت کو دو منفرد اقسام میں تقسیم کرتی ہے؛


1۔ سرخ گوشت
2۔ سفید گوشت
سرخ گوشت میں ممالیہ مثلاً گائے، بھینس، دنبہ، بکرے وغیرہ کا گوشت شامل ہے (نوٹ: یہ “وغیرہ” سے مراد گدھا مت سمجھ لیجئے گا)۔ ویسے عوام تو گائے بھینس کے گوشت کو بڑا گوشت اور بکرے یا دنبے کو چھوٹا گوشت سمجھتے ہیں۔ اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے قصائی بھائی کٹے (بھینس کے بچے) کے گوشت کو چھوٹا گوشت کہہ کر بڑی کامیابی سے بیوقوف بنا ڈالتے ہیں۔
سفید گوشت مچھلی، مرغی اور دیگر پرندوں میں ہوتا ہے۔ گوجرانوالا کے دوستوں کے لئے معصوم سے چڑے کا گوشت بھی۔


گوشت کا سرخ رنگ شرم و حیا کی زیادتی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک خاص قسم کی پروٹین، مائیوگلوبین (Myoglobin)، کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ خون کی ہیموگلوبین کی مانند ہے اور اسی کی طرح آکسیجن اور آئرن کو اپنے ساتھ باندھے رکھتی ہے۔
مچھلی اور پرندے کے گوشت میں اس کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے اس کی رنگت سفیدی مائل ہوتی ہے جبکہ گائے یا بکرے وغیرہ میں اس کی مقدار خاصی زیادہ ہوتی ہے، جس کی بنا پر ان جانوروں کا گوشت سرخی مائل ہوتا ہے۔


اگر فائدے اور نقصانات کے ترازو سے سرخ و سفید گوشت کا موازنہ کیا جائے تو عوام یہ سمجھتے ہیں کہ سرخ گوشت بہت نقصان دہ اور سفید گوشت بہت فائدہ مند ہے۔ یہ بات کافی حد تک درست ہے، لیکن اگر سرخ گوشت کا بھی استعمال ٹھیک طریقے سے کیا جائے تو اس کے خاصے فوائد ہیں تاہم اس کے نقصانات سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔


ویسے بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیز جو گوشت کی تجارت سے وابستہ ہیں، پروسیسڈ میٹ کے حق میں زمین آسمان کے قلابے ملاتی نظر آتی ہیں، مگر ہم پوری ذمہ داری سے آپ کو بتا رہے ہیں کہ پروسیسڈ میٹ کی بجائے تازہ گوشت بہت بہتر ہوتا ہے۔
ایک صحتمند انسان دن بھر میں زیادہ سے زیادہ 90 گرام تک سرخ گوشت استعمال کر سکتا ہے۔ اس مقدار سے زیادہ کبھی بھی استعمال نہ کیا جائے، ورنہ آپ ہاسپٹل والوں کی معقول آمدنی کا باعث بن جائیں گے اور صحت بیچاری الگ خراب رہے گی۔


سرخ گوشت کے فوائد



⁦▪️⁩سرخ گوشت پروٹین سے بھر پور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں فیٹ fat ، وٹامن بی، آئرن، سیلینئیم اور زنک پایا جاتا ہے۔ شاید یہی فوائد ہیں جن کی بنا پر مہاتما گاندھی اپنے لڑکپن میں چھپ چھپ کر گوشت کھایا کرتے تھے۔ (یہ بات انہوں نے خود اپنی کتاب میں لکھی ہے)
⁦▪️⁩آئرن خون کے سرخ خلیوں میں موجود ہیموگلوبین کا لازمی جزو ہے، جس کا کام آکسیجن کی ترسیل ہے۔ اگر اس کی کمی ہو جائے تو انسان اینیمیا کا شکار ہو جاتا ہے۔ آئرن کی کمی عموماً بچوں، بوڑھوں اور حاملہ خواتین میں ہوتی ہے۔
⁦▪️⁩زنک جسم کے مدافعتی ںظام کی صحت کے لئے بہت اہم ہے۔ یہ بھی سرخ گوشت سے حاصل ہوتا ہے۔
⁦▪️⁩جو لوگ مہنگے مہنگے فوڈ سپلیمینٹس لیتے ہیں، وہ جان لیں کہ وٹامن بی 3، B6 اور B12 سرخ گوشت میں بہترین مقدار میں پایا جاتا ہے۔ بی 6 مدافعتی نظام کیلئے اور بی 12 اعصابی نظام کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔
⁦▪️⁩سرخ گوشت میں بہت بڑی مقدار میں ایل کارنیٹین (L-Carnitine) پایا جاتا ہے۔ اس کا کردار فیٹ میٹابولزم میں بہت کلیدی ہے۔ کئی کمپنیاں اپنے فوڈ سپلیمینٹس میں ایل کارنیٹین کی موجودگی کی تشہیر یوں کرتی ہیں جیسے یہ کوئی نادر و نایاب شے ہو۔
⁦▪️⁩اگر آپ بڑھاپے کو خود سے دور رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے خوشخبری ہے۔ سرخ گوشت میں ایک اہم ترین اینٹی آکسیڈنٹ پایا جاتا ہے جس کا نام گلوٹاتھائیون Glutathione ہے۔ یہ بڑھاپے اور بیماریوں کو روکتا ہے۔ جسم کو چست اور توانا رکھتا ہے۔ جلد، بال اور ناخن صحتمند اور لچکدار رہتے ہیں۔
⁦▪️⁩سدا جوان رہنے کے خواہشمند قارئین کے لئے ایک اور اچھی خبر۔ سرخ گوشت میں کارنوسین carnosine پایا جاتا ⁦ہے، جو مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے اور جسم میں سوزش کو کم کرتا اور اس طرح بڑھاپے کو دور بھگاتا ہے۔


سرخ گوشت کے نقصانات


سرخ گوشت کے تمام نقصانات اعتدال سے تجاوز کرنے کا نتیجہ ہیں۔ اگر اس کی متوازن مقدار لی جائے تو صحتمند انسان کو کوئی نقصان نہیں۔
⁦▪️⁩سرخ گوشت کا سب سے بڑا نقصان دل اور شریانوں ⁦کی بیماریاں ہیں جن میں اس کا کردار بہت اہم ہے۔ چونکہ یہ کولیسٹرول اور saturated fat سے بھرا ہوتا ہے، اس لئے اس کی “ضرورت سے زائد” مقدار شریانوں اور دل کی صحت کے لئے بہت مضر ہے۔ مگر گھبرائیے نہیں، آپ ورزش کر کے اس نقصان سے صاف بچ سکتے ہیں۔
⁦▪️⁩ہاورڈ یونیورسٹی کی سنہ 2011 میں کی گئی ایک تحقیق سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ جو لوگ روزانہ 110 گرام یا زائد سرخ گوشت استعمال کرتے ہیں، ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ کیا یہ بری خبر ہے؟ نہیں جناب، اس خبر کے اندر ایک اچھی خبر یہ ہے کہ کم گوشت کھانے سے ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ باقی نہیں رہتا۔
⁦▪️⁩سرخ گوشت کا اہم تعلق بڑی آنت کے کینسر سے بھی سامنے آیا ہے۔ زیادہ سرخ گوشت کھانے والے اس مہلک بیماری میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں۔ جی ہاں، صرف وہی جو زیادہ گوشت کھاتے ہیں۔


حرفِ آخر


ثابت ہوا کہ سرخ گوشت برا ہے، مگر اتنا بھی برا نہیں جتنا اس بیچارے کو بدنام کر دیا گیا ہے۔
اگر اس کی مقدار 120 گرام روزانہ لی جائے تو اس کے نقصانات یقینی ہیں۔
90 گرام روزانہ لینے والے نقصان سے فاصلے پر رہتے ہیں مگر 70 گرام روزانہ لینے والے اس کے فوائد سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ روزانہ لینا ممکن نہ ہو تو ہفتے میں دو یا تین مرتبہ ضرور استعمال کریں۔
دل یا گردے کے مریض اور بلڈ پریشر یا ذیابیطس میں مبتلا افراد اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔ (اور دواؤں کو بڑوں کی پہنچ سے دور رکھیں)
(یہ آرٹیکل معروف سائنسی جریدے “گلوبل سائنس” کے نومبر 2019 کے شمارے میں شائع ہوا)

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں