لفظ ریختہ کی تاریخ

ریختہ لفظ کو اگر اردو لغت (ڈکشنری) میں دیکھا جائے تو ہمارے سامنے جو معنی آتے ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں: جھڑا ہوا، گرا ہوا، ٹوٹا پھوٹا یا شکست خوردہ۔ اسی طرح لفظ ریختہ کو “مختلف اجزاء کو ملا کر یا پھر جوڑ کر تیار کیا گیا، کسی چیز کا مکسچر” بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی مخلوط، آمیختہ یا آمیزہ وغیرہ اس کے مترادف الفاظ ہوسکتے ہیں

ریختہ کی اصطلاح

اردو زبان میں ہم ریختہ کی جو اصطلاح استعمال کرتے ہیں وہ مختلف زبانوں کا آمیزہ یا مکسچر کی اصطلاح ہے۔ یعنی اردو زبان جو کہ مختلف دیگر زبانوں کے ذریعے وجود میں آئی ہے، ریختہ کہلاتی ہے۔ ریختہ از خود فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو زبان کے ارتقاء پر نظر دوڑائی جائے تو ہمارے سامنے یہ حقیقت آتی ہے کہ اس کی تجسیم میں عربی، فارسی، ہندی، پنجابی، انگریزی، ترکی زبانوں کے ساتھ ساتھ دیگر کئی مقامی اور غیرمقامی زبانوں کا حصہ شامل ہے۔ زبانوں کی اسی آمیزش کے تحت اردو زبان کا نام ریختہ پڑا۔

ریختہ بطور صنف ِ سخن

اس کے علاوہ ریختہ کلاسیک اردو شاعری کے زمانے میں ایک صنفِ سخن سے بھی منسوب تھی۔ کسی شعر کا ایک مصرعہ یا ٹکڑا فارسی یا عربی زبان میں ہونا جبکہ دوسرا حصہ اردو یا ہندی زبان میں ہونا اس صنفِ سخن کی پہچان تھی۔ بعد ازاں اردو زبان خود اتنی ضخیم ہوگئی کہ اپنی بنیادی ہندوستانی زبانوں کے ساتھ ساتھ غیر ہندوستانی زبانوں جیسے عربی اور فارسی زبانوں کے الفاظ سے مزین ہونے کے سبب سب کچھ بیان کرنے کی قوت سے مالامال تھی سو اب الگ ٹکڑوں کی بجائے دیگر زبانوں کے لفظ اردو زبان میں بہ آسانی پرویا جانا ممکن تھا۔

یہی وجہ تھی کہ ریختہ الگ سے ایک صنفِ سخن کے طور پر معدوم ہوگئی۔ ریختہ بطور ایک صںف ِ سخن کے متعدد شعراء نے اپنے کلام میں استعمال کی، اس کی کئی مثالیں غالب اور اقبال کے ہاں مل جاتی ہیں۔ علامہ اقبال نے بہت سے ایسے اشعار کہے جن کا ایک مصرعہ فارسی زبان میں ہوتا ہے جبکہ دوسرا مصرعہ اردو میں ہوتا ہے۔ یہی ریختہ ہے۔

ریختہ بطور موسیقی / راگ

ریختہ بطور موسیقی اور راگ کے طور پر بھی استعمال کیا جانے والا لفظ ہے۔ جب ہم قدیم اردو زبان کی بات کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ امر آتا ہے کہ ہندوستان میں ہندی یا اردو زبانوں کے لیے جو بحور اور موسیقی کے راگ مختص تھے، وہ فارسی اور عربی علم ِ عروض اور علومِ موسیقی سے بہت مختلف تھے۔ یعنی یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہندوستانی بحریں اور طرح کی تھیں اور غیرہندوستانی بحریں اور انداز کی۔ ہندوستانی اور ہندوستانی علاقے میں بولی جانے والی زبانوں اور ان کے لہجوں کی شاعری کے لیے استعمال کیا جانے والا بحور کا پیمانہ پنگل کہلانا ہے جبکہ غیرہندوستانی زبانوں کی شاعری کے اوزان کے علم کو علم ِ عروض کہا جاتا ہے۔

جب شعراء نے فارسی، عربی اور دیگر زبانوں کو اردو اور ہندی زبانوں میں مکس کرنا شروع کیا تو ایسی شاعری کے لیے کون سے پیمانے استعمال کیے جاتے؟ علم ِ عروض اسعتمال کیا جاتا یا پنگل؟ تو اس صورتحال میں کنورژن کا کام کیا گیا یعنی دونوں زبانوں کے اوزان کے علوم کے ذریعے نئی بحریں تشکیل دی گئیں۔

میر تقی میر نے بہت سی نئی بحروں میں کلام کہا یعنی ان سے پہلے کسی نے ان بحروں میں کلام نہیں لکھا تھا۔ یہ بحریں ہندوستانیوں اور غیر ہندوستانیوں دونوں کے لیے نئی تھیں۔ آج کل جو علم ِ عروض انڈیا اور پاکستان میں رائج ہے ، وہ پنگل اور فارسی علم ِ عروض ہی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ تو ایسے اشعار کے لیے جو بحور استعمال کی گئیں، جو موسیقی کے ترنم اور لے مطابق کام کیا گیا، اسے بھی ریختہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو لغت میں ریختہ کا ایک مطلب موسیقی کا بھی ہے۔

مرکبات اور مثالیں

اس کے علاوہ لفظ ریختہ کو فعل کی صورت میں اور دیگر مرکبات کی صورت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مختلف مرکبات کی صورتوں میں یہ مختلف معنی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر مرکب “ریختہ کرنا” کے معنی ہیں برابر کرنا، ہموار کرنا یا مختلف چیزوں کو آپش میں مکس کر کے تعامل تیار کرنا یعنی مکسچر تیار کر لینا۔ اسی طرح ریختہ گو کا مطلب اردو بولنے والا انسان کے ہیں۔ ریختہ گوئی کا مطلب ہے اردو زبان میں اشعار کہنا۔ آبرووریختہ کا مطلب ہے ذلیل و خوار اور رسوا ہو جانا۔

ریختہ لفظ بطور اردو زبان کے معنوں کے، مختلف شعراء نے اپنے کلام میں استعمال کیا ہے۔ مثال کے طور پر مرزا غالب کا شعر ہے کہ

ریختہ کے تمہی استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

مرزا غالب

اسی طرح میر تقی میر کا ایک شعر ملاحظہ ہو جس میں میر نے لفظ ریختہ استعمال کیا ہے:

ریختہ کاہے کو تھا رتبۂ اعلیٰ پہ میر
جو زمیں نکلی اسے تا آسماں لے گیا

میر تقی میر

اور آخر میں ریختہ لفظ کی مزید بات کی جائے تو اس وقت انٹرنیٹ پر ایک بہت عمدہ اردو ہندی ویب سائٹ پائی جاتی ہے جہاں مختلف شعراء کے کلام کے ساتھ ساتھ نثری ادب بھی پڑھنے کو میسر ہے۔ اس ویب سائٹ کا نام بھی ریختہ ہے۔ ریختہ ویب سائٹ وزٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

شیئر کریں
ذیشان ساجد راولپنڈی، پاکستان سے تعلق رکھنے والے شاعر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سائنس فکشن اور دیگر موضوعات پر کام/مضامین بھی لکھتے ہیں۔

کمنٹ کریں