لِواِن ریلیشن سے پرے

افسانہ نگار : ڈاکٹرپرویز شہریار

, لِواِن ریلیشن سے پرے

بھوک کی جبلت نے اُن دونوں کوایک کروڑ بیس لاکھ کی گنجان آبادی والے شہر میں ایک چھت کے نیچے ایک ہی کمرے کے اندر بلکہ ایک ہی بستر پر سونے کے لیے مجبور کردیا تھا۔
بھوک چاہے ناف کے اُوپر کی ہو یا ناف کے نیچے کی—– بھوک تو بھوک ہوتی ہے، جب لگتی ہے تو آدمی باغی ہو جاتا ہے۔تہذیب و ثقافت کا سوال تو بہت بعد میں آتا ہے۔آگ چاہے پیٹ کی ہو یا جسم کی،اُسے بجھانا ہی سب سے اولیں فرض ہو جا تا ہے۔
پھر یہ کہ جہاں انسانوں کی اتنی بڑی آبادی بستی ہو ،وہاں کون کس کی پرواہ کرتا ہے۔لوک لاج کے لیے اپنا سماج ہونا لازم ہے۔


لیکن جہاں انسانی آبادی کی ہر سو بھیڑ ہو، جہاں روزانہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ باگ ترک ِ وطن کر کے تلاشِ معاش میں بڑے شہروں میں ہجرت کر کے آتے ہوں اور آکر یہیں بس جاتے ہوں، جہاں کامگاروں کا ہر دم ریلا رواں رہتا ہو، جہاں بے روزگاروں کاہر وقت ایک اژدہام سا لگا رہتا ہو اور جہاں بازار واد کسی دیو ہیکل اژدر کی طرح اپنا جبڑا پھاڑے کھڑا ہو، وہاں موجود لوگوں کے جم عفیر میں ٹھہرکرسوچنے کے لیے بھلا دماغ کس کے پاس ہوتا ہے۔ کہتے ہیں —– بھیڑ کے صرف پاؤں ہوتے ہیں،آنکھیں اور دماغ نہیں ہوتے اور نہ ہی اُس کے پاس سننے والے کان ہوتے ہیں۔
ایسے ماحول میںاعظم گڑھ سے وارد ہوئے موٹے بھدے پاؤں والے سیاہ فام شمبھو ناتھ چودھری اور نازک اندام پدمجا جوسیف جو کہ کیرل کے ایک کیتھولک کرسچن فیملی سے تعلق رکھتی تھی،اُن کا ایک چھت کے نیچے ایک ہی کمرے میں ایک ہی بستر پر سونا بہت زیادہ اچنبھے کی بات بھی نہیں تھی۔
صارف سماج میں ہر چیز بکاؤ ہوتی ہے۔


چنانچہ ،جس شہر میں ہر سامان کا مول بھاؤ ہوتا ہو وہاں اگر ایک نو عمر کھلنڈرے مرد کو کسی بھرپور عورت کے ساتھ گزر بسر کرنا پڑے تو بھلا اس میں کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا؟
کہتے ہیں، ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔
پدمجا کو بھی دُنیا بھر کے مردوں کی اوچھی نظروں سے خود کو بچانے کے لیے فوری طور پر ایک بوائے فرینڈ کی ضرورت تھی، جس کی مضبوط بانہوں اور چوڑے چکلے سینے کو وہ بوقت ِ ضرورت اپنے تحفظ کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کر سکے۔دوسری طرف گاؤںسے آئے ہوئے اکھڑنوجوان شمبھو کو بھی ایک ایسی گرل فرینڈ درکار تھی جسے دیکھ کے دوست یار اس کی قسمت پر رشک کر یں۔البتہ یہ بات اپنی جگہ مسلم تھی کہ پدمجا شمبھو سے عمر میں پانچ سات سال بڑی تھی۔ لیکن جیسا کہ لوگ اکثر مذاق میںکہتے ہیں ،لڑکیوں کی عمر پچیس سال کے بعد اُوپر کو تجاوز کرنا بند کر دیتی ہے۔پدمجا بھی دیکھنے میں شمبھو کے لیے حصہ بقدر جُسّہ ہی لگتی تھی۔لہٰذا پدمجا اپنی قسمت پر نازاں تھی کہ شمبھو جیسا چھہ فٹہ گبرو جوان اسے اپنے نصیب سے مل گیا تھا۔


اوّل اوّل شمبھو کا حال یہ تھا کہ بستر پر ننگے پاؤں ایسے دھسڑ کے چڑھتا کہ بس معلوم ہوتا جیسے پل بھر میں نئی چادر کو مسک کر رکھ دے گا۔ مگر پدمجا خوش تھی کہ وحشی گھوڑے بھی انسانی محبت کے آگے اپنا سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ اس نے شمبھو کو سدھانے کا کام روز ِ اوّل سے ہی شروع کر دیا تھا۔حتیٰ کہ جب کبھی وہ اپنی پسینے سے تر بنیائن اور جُرابیں کرسی کے بیک ریسٹ پر بے خیالی میں رکھ دیتا توپدمجا اس کی سرزنش شروع کر دیتی تھی۔ دھیرے دھیرے وہ اپنی جرابیں ہر رو زدھونے لگا تھا۔ جس روز اس کی جرابیں نہیں دُھلتیں، پدمجااُسے کمرے میں داخل ہونے نہیں دیتی تھی۔ اگر کسی مجبوری میں بہانے بنا کر وہ گھس بھی آتا تو وہ روم فریشنرلے کر چاروںطرف اسپرے کرنے لگتی تھی۔
اُسے آج بھی وہ دن یاد آرہے تھے ۔ جب ویلن ٹائن ڈے پر اُس نے رات کے گیارہ بجے پدمجا کو زرد رنگ کے گلاب کے پھولوں کا ایک گچھا پیش کیا تھا۔ اُس روز پدمجا کی نائیٹ شفٹ تھی۔ راک لینڈ ہوسپیٹل کے تھرڈ فلورکا وارڈ خالی اور سنسان تھا۔سیکوریٹی گارڈ نے اسے آنے سے نہیں روکا تھا، کیوںکہ وہ سبھی جانتے تھے کہ شمبھو ناتھ چودھری اس اسپتال کا اسسٹنٹ ویلفیئر آفیسر تھا۔شمبھو نے دلّی کے کسی پرائیویٹ انسٹی چیوٹ سے ہوسپیٹل ایڈمنسٹریشن میں ڈپلوما کیا تھااور ڈگری ملتے ہی راک لینڈ ہوسپیٹل جوائن کر لیا تھا۔یہ اُس کی پہلی نوکری تھی۔ پہلی تنخواہ اور پدمجا جیسی حسین و جمیل لڑکی سے قربت بھی شاید پہلی پہلی ہی تھی۔ ورنہ اُس کے قریب جاتے ہوئے اس کا دل اتنے زوروں سے بھلا کیوںکر دھڑکتا۔اُدھرپدمجا کی زندگی میں ایسی جسارت اس سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کی تھی۔اگر پہلے کبھی کسی نے کی ہوتی تو اپنے حُسن اور جوانی کے زعم میں پدمجا نے اُس کی حجامت بنا دی ہوتی ۔ لیکن عمر کے تقاضے نے اسے اندر سے ایک دم روک لیا تھا—— پہلے تو اس کا جی چاہا کہ اسے خوب ڈانٹ پلائے۔ لیکن دوسرے ہی لحظ اس نے چور نگاہوں سے کاریڈور کے دونوں اطراف دیکھا جب اُسے یقین ہو گیا کہ وہاں کوئی بھی نہیں ہے۔ وہ دونوں تنہا ہیں ۔ تو اس نے اپنی خشمگیں نظریں اُٹھا کر شمبھو کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کی تھی، جیسے بازار میں کوئی چیز خرید و فروخت کے عمل سے پہلے دیکھی جاتی ہے۔تبھی شمبھو کی آنکھوں میں ایک کمسن لڑکے کی ازلی معصومیت دیکھ کے اس کا کلیجہ کٹ سا گیا تھا۔ اُس کا جی چاہا کہ اُسے اپنے سینے سے لگا لے اور اتنا پیار دے کہ وہ اس کے رس میں ڈوب کے عورت کے قرب کو پالے ،ماں کی ممتا کوبھول جائے—– لیکن وہ ایسا نہیں کر سکی ۔شمبھو کا تاڑ جیساایستادہ قد دیکھ کے وہ اپنا دل مسوس کے رہ گئی اور پھولوں کا گچھا اس کے ہاتھوں سے چپکے سے لے لیا تھا۔


’’اب تم جاؤ، تھینک یو!گاڈ بلیس یو‘‘
شمبھو واپس جانے کے لیے جیسے ہی مڑا تو معاً اسے کچھ یاد آگیا……. چلتے چلتے اس نے کہا تھا۔’’ ہیپی ویلن ٹائن ڈے ، میڈم!‘‘
’’ مگر اب تو ڈے نہیں ہے،نائیٹ ہو گئی ہے؟‘‘ پدمجا نے شوخی سے شرارت بھرے انداز میں کہا توشمبھو نے اچانک حوصلہ پا کر کہا۔
’’ ہیپی ویلن ٹائن نائیٹ ،میڈم‘‘ اور قدرے تذبذب کے عالم میں اپنی غلطی درست کرتا ہوا وہاں سے جلد از جلد روانہ ہو گیا تھا۔
ادھر پدمجا نے کہا،’’ویل، گڈ نائیٹ‘‘ اور شمبھو کے جاتے ہی وہ ہنس ہنس کر دوہری ہو گئی تھی۔ شمبھو کے مضحکہ خیز انداز کو دیکھ کے اسے اتنی ہنسی آئی ، اتنی ہنسی آئی کہ پیٹ میں بل پڑ گیا تھا۔ہنستے ہنستے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔خاص طور سے اس وقت جب اس نے ہوا میں اپنا دایاں ہاتھ لہراتے ہوئے کن انکھیوں سے دیکھ کے معنی خیز انداز سے مسکرایا تھا۔
’’ یو ناٹی بوائے… میں تجھے چھوڑوں گی نہیں، دیکھنا… ‘‘ پدمجا نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا تھا۔تب تک شمبھو خوشی سے پاگل ہوتا ہوا یہ جا وہ جا ہو گیا تھا۔ شمبھو جب پدمجا کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا تو اُس نے زیر لب آہستہ سے کہا تھا—— ’’میں تیرا خون پی جاؤںگی۔‘‘
وقت پنکھ لگا کر اُڑ جاتاہے۔صرف ،دل کو جو اچھے لگتے ہیں، وہ واقعات یاد رہ جاتے ہیں۔
اس واقعے کے تین سال بعد پدمجا کا نیو یارک کے لیے ویزا لگ گیا تھا ۔ وہ ایک ہائی فائی زندگی کی تلاش میں ہندوستان کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہنے والی تھی۔ وہاں ایک خوشحال مستقبل اس کا انتظار کر رہا تھا۔سوتے جاگتے ہر پل اس کے دل و دماغ پر نیویارک کی تیزرفتار زندگی دستک دے رہی تھی۔جیسے جیسے متعینہ وقت قریب آرہا تھا۔ اُس کی دنیا بدلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔اس نے خوب ساری شاپنگ کی تھی۔پرانی چیزیں پرائی معلوم ہونے لگی تھیں۔
ادھر شمبھو کچھ کھویا کھویا سا رہنے لگا تھا۔
اِس بات کا پدمجا کو بھی ملال تھاکہ شمبھو کچھ کھویا کھویا سا رہنے لگا تھا۔ لیکن جلد ہی اُس نے اِن فروعی باتوں کو اپنے ذہن سے جھٹک دیا تھا۔اُسے لگا تھا کہ جب ایک ساتھ اتنے دن اکٹھے گزارے ہیں تو بچھڑتے وقت انسان کو ٹھوڑا بہت تواحساس ہوتا ہی ہے۔
اُس وقت پدمجا کو بھولے بسرے سارے واقعات یاد آنے لگے ۔


شمبھو نے ڈاکٹر راجیش شرما کو کس بُر ی طرح سے پیٹا تھا جب وہ ورکنگ ویمنس ہوسٹل میں رہتی تھی۔ایک شام ڈاکٹر راجیش نے اس کے منع کرنے کے باوجود ڈرنک کے نشے میں زبردستی کسی ریو پارٹی میں لے جانے کی کوشش کی تھی۔ اس آپادھاپی میں اس کی کلائی میں موچ آگئی تھی۔پدمجا نے اپنی کلائی پر دیکھا۔ چوڑیوں کے ٹوٹنے سے اس کی کلائی سے خون بہہ نکلا تھا، جس کے زخم کا نشان اب بھی اس کی کلائی پر موجود تھا۔شمبھو کو جب یہ باتیں معلوم ہوئیں تو اس نے ڈاکٹر راجیش کو پب سے نکال کر اُس کی خوب پٹائی کر دی تھی۔یہاں تک کہ ڈاکٹر راجیش کو پدمجا سے بالآخر معافی مانگنی پڑی تھی۔
یہ بات آئی گئی ہو گئی تھی۔ لیکن پدمجا کو شمبھو نے کبھی یہ ظاہر نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ پدمجا سے پیار بھی کرتا ہے۔
اُس واقعے کے بعد شمبھو اور پدمجا نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ویمنس ہوسٹل میں اکیلی رہنا ٹھیک نہیں ہے۔کیونکہ ممکن تھا کہ ڈاکٹر راجیش خود نہ آئے مگر کسی دوسرے آدمی کے ذریعے اُسے چوٹ پہنچا سکتا تھا۔اس کے ساتھ ہی ان دونوں نے قطب انسٹی ٹیوشنل ایریا سے اپنے تمام سازوسامان اُٹھا کر قریب کے ہی مغلوں کے وقت کے ایک قدیم گاؤں کاٹھ واڑیہ سرائے میں شفٹ کر گئے تھے۔کہنے کو تو یہ گاؤں تھااوریہاں مٹی کے گھروں اور دکانوں میں لالٹینیں جلا کرتی تھیں۔ان کے آنگن میں بھینسیں بندھا کرتی تھیں۔ مرد مال بردار ٹرکیں چلایا کرتے تھے اور عورتیںدیواروں پر یہاں وہاں اُپلے تھوپاکر تی تھیں۔ لیکن آج یہاں کی زمینیںسونا اُگل رہی تھیں۔تنگ سے تنگ گلیوں میں بھی کئی کئی منزلہ عمارتیں بن کر کھڑی ہوگئی تھیں۔آس پاس ملٹی نیشنل کمپنیوں کے آجانے سے کرائے کے فلیٹ کافی مہنگے ہوگئے تھے۔
پدمجا نے شمبھو کو سمجھایا تھا۔’’ ہم اپنے عزیزوں کو پیچھے چھوڑ کے پیسے کمانے کی خاطر اس شہر میں آئے ہیں، پیسے گنوانے کے لیے نہیں؟‘‘ اس لیے کرائے پر پیسے پھینکنے کے بجائے وہ دونوں ایک ہی کمرے میس گزارا کر سکتے ہیں۔ویسے بھی انھیں دن بھر اسپتال میں رہنا تھا۔صرف سونے اور رین بسیرے کے لیے الگ الگ فلیٹ لینا کوئی عقلمندی نہیں تھی۔اس پر شمبھو نے سمجھایا تھا۔’’ اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے مگر لوگ کیا ہماری اس حالت میں ایک ساتھ ایک ہی کمرے کے فلیٹ میں رہنے کی رضامندی دے دیںگے؟مجھے تو نہیں لگتا کہ یہ گاؤں والے اس بات کی اجازت دیں گے۔ان کے پاس دولت ضرور آگئی ہے لیکن اپنی سوچ میں یہ آج بھی روڑھی وادی ہی ہیں۔‘‘
بے وقوف مت بنو۔ اُنھیں کیسے پتہ چلے گا کہ ہم دونوں کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟‘‘
’’ہاں!یاد آیا۔ امریکہ میں…‘‘شمبھو نے جلدسے اپنے خیال کا اظہار کیا۔’’سنا ہے کہ ایک ہی دفتر میں یا مختلف دفتروں ں کام کرنے والے کولیگ اکثر فلیٹ بھی آپس میں شیئر کر لیتے ہیں۔‘‘
’’اِکزیکٹلی!‘‘ پدمجا نے اس کی بات کو سراہتے ہوئے شمبھو سے دریافت کیا۔
’’تم نے لِو اِن ریلیشن تو سنا ہی ہوگا؟‘‘
’’مطلب؟‘‘
’’ مطلب یہ کہ ہم میچیئور ہیں۔ہم وہ سب کچھ کریں گے ،…سوائے بچہ پیدا کرنے کے، جس سے اُنھیں ہمارے بارے میںغیر شادی شدہ ہونے کا کوئی شک نہ ہو۔ پدمجا نے بچہ والا فقرہ بہت دھیرے سے ادا کیا تھا ۔ایسے جیسے خود اُسے اپنی باتوں پر اعتماد نہ ہو۔
’’اگر کوئی پوچھے گا کہ آپ نے منگل سوتر نہیں پہن رکھاہے۔آپ نے سیندور بھی نہیں لگا رکھا ہے، تو پھر…؟‘‘ شمبھو نے اپنا خدشہ ظا ہر کردیا تھا۔ کچھ اس طرح کہ گویا پدمجا کا دل کا بھید جاننے کے لیے کہا ہو جیسے۔
’’کوئی نہیں ہم کہہ دیں گے۔ ہماری ابھی انگیجمنٹ ہو رکھی ہے۔‘‘ کچھ توقف کے بعد وہ بولی۔’’ویسے بھی کرسچن ان فالتو کی باتوں میں یقین نہیں رکھتے ہیں۔‘‘ اس طرح پدمجا نے اپنی بات حتمی طور پر ویہیں ختم کر دی تھی۔
پدمجا کو وہ بھی دن یاد آرہے تھے ، جب شروع شروع میں انھوں نے قسطوں پر گیس اسٹو، واشنگ مشین اور ایئر کنڈیشنر وغیرہ خریدے تھے۔ابتدا میں کچھ دنوں تک چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر آپس میں تکرار ہو جایا کرتی تھی۔ مثلاً مہلے نہانے کے لیے کون جائے گا اورپہلے واش روم جائے گا۔اس طرح کی باتوں میں خوب لڑائیاں ہوا کرتی تھیں۔ پدمجا کو لگتا کہ شمبھو واش روم سے جلدی نکلتا ہی نہیں ہے جبکہ شمبھو کو لگتا کہ باتھ روم میں جاکر سو جاتی ہے۔


چھوٹے سے کمرے میں ڈبل بیڈ کے درمیان ساگوان کا ڈھائی فٹ کاچوبی پارٹیشن لگایاگیا تھا۔جس پر مغل آرٹ کے طرز پر نقاشی کی گئی تھی۔ رات بھر شمبھو کے خراٹوں سے تنگ آکر پدمجا نے نوز اوپینر لا کر دے دی تھی، جسے شمبھو روز رات کو سوتے وقت پابندی سے اپنی ناک کے نتھنوں میں لگا لیا کرتا تھا۔ صبح سویرے دودھ اور بریڈ کے لیے کوئی بھی اُٹنا نہیں چاہتا تھا۔ایک دوسرے کوبستر سے دھکیلتے کہ وہ جائے اور دروازہ کھول کے دودھ لے لے۔
لیکن گزرتے وقت کے ساتھ سب کچھ ممول پر آگیا تھا۔ ایک دوسرے کی عادات و اطوار سے وہ دونوں مانوس ہو گئے تھے۔ بلکہ کبھی کبھی تو مہلے آپ پہلے آپ والی صورت حال پیدا ہوجایاکرتی تھی۔ایک دودھ بریڈ لاتا تو دوسرا اخبار اُٹھا لاتا —— ایک بیڈ ٹی تیار کرتا تو دوسرا ٹوسٹ تیار کرتا– — حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے سے سہارے کے اس قدرعادی ہو چکے تھے کہ ایک دوسرے کی عدم موجودگی میس اکثر پریشان ہو جا یا کرتے تھے۔یوں سمجھ لیجیے کہ بس انھیں ایک دوسرے کی عادت سی ہو گئی تھی۔ وہ ایک دوسرے کا اس حد تک خیال رکھنے لگے تھے کہ گویا ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو گئے تھے۔ اگر کوئی تھوڑی دیر کے لیے بھی نظروں سے اوجھل ہوتا تو موبائیل کی طرف ہاتھ خود بخود بڑھ جاتے تھے۔
سوچ کی لہروں پر ابھرتے ڈوبتے، اچانک ایک خیال اس کے ذہن میں آیا تو پدتنہائی میں بھی مجا شرما سی گئی۔
پہلے پہل پارٹیشن پروہ دونوں دستک دے کر لائٹ آف کرنے کی التجا کیاکرتے تھے۔ سونے سے پہلے گڈ نائٹ اور ضبح جاگتے ہی گڈ مارننگ کہا کرتے تھے۔ لیکن——-جب شمبھو کو ایک بار وائرل فیور ہوا تو اُس کی تیمارداری کی خاطر سب سے پہلے پارٹیشن کھول کر ہٹایا گیا۔ اب وہ ایک دوسرے کی سرحد میں آزادانہ ھوم پھر سکتے تھے۔بلا روک ٹوک کوئی بھی کسی طرف آمد و رفت کر سکتا تھا۔ اس سے دلوں میں قربت کا احساس پیدا ہوا تو پھر ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام بھی آنے لگے۔ کبھی کسی کا سر دکھتا تو اس کا مساج بھی ہونے لگا۔یہ انسانی فطرت کا تقاضہ بھی یہی تھا کیونکہ وہ دونوں اسی انسانی خدمت کے پروفیشن سے وابستہ تھے۔پھر نہ جانے کب ایک نئی شروعات ہوگئی، سوتے وقت شب خوابی کے لباس میں ایک دوسرے کے ہاتھ پر بوسہ دے دینے لگے۔جو صبح پہلے گتا اُس کی ڈیوٹی تہی کہ وہ بیڈ ٹی بستر پر لا کے سرو کرے گا۔ایسا کرنے پر اُسے انعام کے طور پرایک نرم گرم ہیگ سے شکریہ ادا کیا جانے لگا۔اس کا پورا پورا فائدا پدمجا کو مل رہا تھا کیونکہ شمبھو اس لالچ میں صبح سویرے اُٹھنے لگا تھااور پدمجا کو بستر پر ہی گرم گرم چائے ملنے لگی تھی۔


غرض یہ کہ ابتدا میں جانے انجانے میں ہلکی سی انگلی بھی مس ہو جاتی تودل کی دھڑکنیں تیز ہو جایا کرتی تھیں۔لیکن چند ماہ کے اندر ہی اُن کے درمیان محبت کے فرشتے نے اپنے نرم ملائم پنکھ پھیلانے شروع کر دئیے اور ردیکھتے ہی دیکھتے اُن کے دل کی لگی نے اپنی سحرانگیزی اس قدر بڑھا دی تھی کہ اب اُن میں سے چند گھنٹوں کے بھی اگرکوئی دور ہوتا تواُن کے دل ڈوبنے لگتے تھے۔
ان تین برسوں کے ابتدائی دور میں ایک دو بار ایسا بھی ہوا کہ تھا کہ ان کے سارے اصول و ضوابط جو کبھی اُنھوں نے اپنے لیے بنائے تھے وہ سب کے سب دھرے کے دھرے رہ گئے۔کرسمس کے موعے پر شمپین کے سرور نے کبھی اُنھیں ایک دوجے میں مدعم کردیا تو کبھی ہولی کے موقعے پر بھنگ اور رنگ نے مل کر ساری حدیں پھلانگ دی تھیں۔لیکن ہر بار ہوتا یہ تھا کہ پدمجا چونکہ خود ہی نرس تھی چنانچہ کوھی نہ کوئی پریوینتو ادویہ لے لیا کرتی تھی۔
وقت گزتا گیا اور وہ ایک دوسرے کے قریب سے قریب تر آتے چلے گئے۔
باہری دُنیا کے ٹیمٹیشن اور ایمبیشن نے اُنھیں رفتہ رفتہ کب اس کھیل کا عادی بنا دیا ۔ یہ اھیں پتہ بھی نہیں چلا۔
کہتے ہیں محبت اپنا پہلا وار اتنی آہستگ سے کرتی ہے کہ گھائل ہونہ والے شخص کو پتہ ہی نہیں چلتا ہے اور جب پتہ چلتا ہے تو اتنی دیر ہو چکی ہوتی ہے کہ وہاں سے واپسی نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو جاتی ہے۔
شمبھو کو جب سے معلوم ہوا تھاکہ پدمجا جوسیف کا نیو یارک جانے کے لیے ویزا آگیا تھا۔ وہ بہت غمگین ہو رہا تھااورایک کشمکش کے عالم میں ڈوبا ہوا تھا۔ اُسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس طرح سے ری ایکٹ کرے۔زندگی میں پیار ہی سب کچھ نہیں ہوتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی قوتِ عمل اور اپنی فہم و فراست سے بہتر زندگی کے سامان پیدا کرے۔پدمجا کی محنت رنگ لائی تھی۔وہ اُسے چھوڑ کے امریکہ جا نا چاہتی تھی۔ اِدھر شمبھو بھی اس کی ترقی میں مخل ہونا نہیں چاہتا تھا۔اُس نے جب بھی اپنے دل کو ٹٹولا ہر بار اس نے پایا کہ وہ پدمجا کے بغیر رہ نہیں سکتا ہے۔
پدمجا کی فلائیٹ کو اب صرف تین دن رہ گئے تھے۔


بستر میں جانے سے پہلے شب خوابی کے گلابی لباس میں پدمجا بیٹھی ہوئی یوں ہی سی میگزین اُٹھا کر بے دِلی سے اس کی ورق گردانی کر رہی تھی۔شمبھو نے دیکھ لیا——- وہ اپنے جذبات کو چھپانے کے لیے میگزین کا سہارا لے رہی تھی۔ شمبھو نے دوبارہ اُس کی طرف دیکھا۔ بچھڑنے کے کرب کے احساس سے بوجھل فضا میں بھی وہ بہت بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ اس کے چہرے کے نور سے معلوم ہوتا تھا جیسے اس کے سینے میں کسی اینجل کا دل دھڑک رہا ہو۔ معصومیت، حلیمیت،شفقت اور بچے کو اپنی شیریں لوریوں سے سلا دینے والی ممتا کے جذبوں سے اس کا سینہ بھرا بھرا سا لگ رہا تھا۔تبھی پدمجا نے شمبھو کے روہانسا چہرے کی جانب سمندر سی گہری محبت بھری نظروں سے دیکھا اورکھڑی ہو کر عیسو مسیح کی طرح اپنی دونوں بانہیں پھیلا دیں۔اپنی آنکھوں کے اشارے سے اسے اپنے قریب بلایا۔ پھر اُس کے اُترے ہوئے چہرے کو اپنے سینے سے لگا کر اپنے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں سے ذھارس بندھانے کی خاطر تھپتھپاتی رہی…… کچھ دیر تک وہ ایک دوجے کے دل کی دھڑکنوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے کہ آخر وہ کس کے نام سے دھڑک رہے ہیں۔ تبھی شمبھو نے نائیٹ بلب کی ملگنجی روشنی میں اپنے گالوں پر دو گرم گرم آنسوؤں کے قطروں کو محسوس کیا—– پدمجا کی آنکھوں سے نکلے یہ اشک ندامت در اصل آنسو نہیں تھے بلکہ خالص سونے کے سیّال قطرے تھے جو ابھی ابھی دل کی بھٹی سے سچّی محبت کی آنچ میں تپ کر نکلے تھے۔
پدمجااُس رات شمبھو کی اُنگلی تھام کے اُسے ایک ایسے حسیں اور جواں اقلیم کی سیر پر لے گئی کہ جہاں سچّی چاہت رکھنے والے مرد اور عورت کے جوڑے کو ہی داخل ہونے کی اجازت ملتی ہے اور وہاں داخل ہونے کے بعد کہتے ہیں کہ پھر زندگی اور موت کا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔
صبح ہوئی۔
شمبھو کے دل کاتمام غبار نکل چکا تھا۔
آج، ناجانے کیوں صبح بے حد خوبصورت معلوم ہو رہی تھی۔
شمبھو نے حسب ِ دستور بیڈ ٹی لے جا کر تپائی پر رکھی اور پدمجا کے ماتھے کو یکایک جذبات سے مغلوب ہو کر آہستہ سے چوم لیا۔سوئی ہوئی حالت میں آج وہ شمبھو کو بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔ ایک انگڑائی کے ساتھ وہ اُٹھ بیٹھی۔شمبھو نے ایک گلاس پانی کے ساتھ اپنی ہتھیلی پر مانع حمل گولیاں رکھ کر پدمجا کی طرف بڑھا دی۔
تبھی پدمجا نے لپک کر شمبھو کو اپنے گلے سے لگا لیا اور پوری قطعیت کے ساتھ یہ اعلان کیا—–
’’اب مجھے پری وینٹوپلس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اتنا کہتے ہی اس نے اپنے سرہانے سے نیو یارک کا ویزا نکالا اور اسے فوراً پرزہ پرزہ کرکے ڈسٹ بِن میں ڈال دیااورایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔’’ اب میں نیو یارک نہیں جاؤںگی۔‘‘ اتنا سنتے ہی شمبھو کی بانچھیں پوری طرح کھل گئیں۔ اس کے مغموم چہرے پر گویا خوشی کی ایک لہر سی دوڑ گئی اور وہ شادمانی سے جھوم اُٹھا۔
پدمجا نے شمبھو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا،’’اسٹوپِڈ! مجھے پیسہ ….. نہیں ‘‘ اتنا کہہ کے اُس نے شمبھو کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ ثبت کر دئیے اور ایک طویل وقفے کے بعد اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا،’’پیار چاہیے،…پیار!‘‘
٭٭٭
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں