روحزن : ایک تنقیدی جائزہ

مضمون نگار : محمد عباس

, روحزن : ایک تنقیدی جائزہ

یہ کتاب اسرار کی کہانی پر مبنی ہے۔ اسرار اور حنا کی محبت کا قصہ ناول کا بنیادی ستون ہے۔ اسرار کی حنا کے ساتھ ملاقات سے پہلے کے تجربات اس قصے کی لطف انگیزی کو ابھارنے میں معاون کردار ادا کرتے ہیں۔اس ناول کا پہلا بڑا نقص یہ ہے کہ یہ مرکزی قصہ بھی ایک بے معنی سی کہانی ہے۔ اسرار فلمی انداز میں (ایسی سینکڑوں ہندی فلموں کے نام گنوائے جاسکتے ہیں جن میں ہیرو اور ہیروئن کی پہلی ملاقات اور اندھا پیار اسی سے ملتی جلتی سچویشن میں ہوا ہے،ایک اور جگہ تو پورا فلمی منظر بنا ہوا ہے جب اسرار بازار میں حنا کی توقع میں لڑکیوں کو گھور رہا ہے اور کچھ دیر بعد حنااس کی موجودگی سے بے خبر اس کے قریب سے گزر جاتی ہے۔اور اُس جگہ جا کر تو کہانی بالکل 90کی دہائی کی انڈین لو اسٹوری کی طرح ہو جاتی ہے جب حنا کو اس کی سہیلی کہتی ہے ، تمہیں پیار ہو گیا ہے۔)حنا سے ملتا ہے ۔ فلمی انداز میں باغوں ، پارکوں ، ہوٹلوں میں محبت پروان چڑھتی ہے اور جب محبت کا پودا ثمر آور ہونے لگا ہوتا ہے،(اس کولاژ کے بیک گرائونڈ میں گانے کی کمی ہے بس) رحمن عباس اس کہانی کو المیہ رنگ دینے کے لیے اپنے مصنفیانہ اختیارانہ استعمال کرتے ہوئے ان دونوں کو حادثاتی موت کا شکار بنا دیتے ہیں۔ المیہ بنانے کی اُن کیخواہش اپنی جگہ لیکن انہیں یہ نہیں معلوم کہ المیے کا بیج کہانی کے اندر واقعات اور حالات کے ناگزیر نتیجے سے پھوٹتا ہے نہ کہ کرداروں کو کسی اتفا قی موت کا انجام دینے سے۔ المیہ تب ہی بنتا ہے جب آدمی کے پاس حالات سے لڑنے کی قدرت تو موجود ہو لیکن اپنی کسی خامی یا کوتاہی کے سبب آدمی واقعات کی ستم ظریفی کا شکار بنتا جائے۔ حادثات، وبائیں، قدرتی آفات المیہ نہیں، تاسف کا احساس پیدا کرتے ہیں۔المیے میں عظمت ہے اور تاسف میں بے چارگی ہے۔ المیے کے لیے حالات کا ناقابلِ حل تانا بانا تیار کرنا پڑتا ہے جو کہ بہت مشکل کام ہے اور حقیقی معنی میں فنکار کا خونِ جگر طلب کرتا ہے جب کہ قدرت کی اس اندھی طاقت کے سامنے فنا ہونے والے دس ہزار لوگوں کے ساتھ اسرار اور حنا کی موت شامل ہو کرالمیے کی بجائے مرگِ انبوہ جشنِ دارد کا احساس دلاتی ہے ۔ اگر فاضل ناول نگار کا مقصود ان دونوں کی موت کوپر اثر بنانا ہی تھا تو غالب سے درس سیکھ لیتے کہ جس نے اپنی موت کی المیاتی شان برقرار رکھنے کے لیے وبائے عام میں مرنا گوارانہ کیا تھا۔پوری کہانی کو تعمیر کر کے ، اسرار اور حنا کے ساتھ قاری کو قلبی طور پر وابستہ کرنے کے بعد بھی انہیں یقین نہ تھا کہ اکیلے ان کی موت سے کوئی المیہ پیدا ہوسکتا ہے، سو انہوں نے اِن دو پر اکتفا کرنے کی بجائے ہزاروں لوگ مروا دیے لیکن المیہ پھر بھی نہ بن سکا۔ اسرار اور حنا کو یوں سیلاب کی نذر کر دینا اتنی طویل کہانی کو لکھ کر دریا برد کرنے کے مترادف ہے۔ ناول کی بنیادی کہانی ہی کمزور ہے، تو جو عمارت بنی ہے، وہ بھی تو ایسی ہی ہو گی۔


مجموعی طور پر یہ ناول پھوہڑ پن کا شاہکار ہے۔ ناول نگار نے اپنی طرف سے بہت سی چیزیں اکٹھی کر کے بھان متی کا ناول جوڑا ہے لیکن اس سے ناول کی مرکزی کہانی مزید کڈھب ہو گئی ہے۔ رحمٰن عباس کو افسانوی ادب کی مختلف تکنیکیں استعمال کرنے کا شوق بہت زیادہ ہے۔ ’’نخلستان کی تلاش ‘‘ میں انہوں نے شعور کی رو کااستعمال کرنے کی ناکام کوشش کی تھی، اب اسی ناکامی کو دہرانے کے لیے انہوں نے ’’روحزن ‘‘ میں بھی یہی تکنیک جا بجا استعمال کی ہے۔ انہوں نے شعور کی رو کو بیان کرنے کے لیے اکثر خواب کا سہارا لیا ہے۔ جب وہ خواب کو بیان کرتے ہیں تو ان کی زبان سے ذرا بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ خواب کی زندگی یا سپنے کی نگری ہے۔ بس سیدھے سپاٹ انداز میں کسی منظر کا بیان ہے اور پھر خوابوں کے اندر جو کچھ دکھایا گیا ہے، اس سب کا ناول سے کچھ بھی تعلق نہیں ہے۔ خاص طور پراسرار کے پہلے دو خواب اور پھر کنڈکٹرکا خواب جس میں منٹو کا تذکرہ ملتا ہے، بالکل اپنے سیاق و سباق سے الگ ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری تکنیک Magical Realismہے۔ اس میں بھی ان کا درک اتناہے کہ Magical Realismکی بنیاد تک کا انہیں نہیں معلوم اور محض ممبا دیوی اور راکشش کے تذکرے سے اپنا شوق پورا کرتے ہیں ۔ اس پر مستزاد، ان دونوں چیزوں کا ناول کے مرکزی ڈھانچے سے کوئی تعلق وہ ثابت نہیں کر سکے۔ یہ چیزیں ناول کے اندر الگ سے بھری ہوئی لگتی ہیں۔


ناول کی بنیاد کہانی پر ہوتی ہے۔ جس ناول کی کہانی منفرد ہو، اسی کو دوام نصیب ہوتا ہے۔ کوئی بھی فلسفہ، عصری صورت حال، سماجیات، نفسیات، اساطیر، وجودیت، سر رئیلزم، جدیدیت، مابعدجدیدیت وغیرہم ناول کو صحیح معنی میں ناول نہیں بنا سکتے۔ ناول وہی ناول بنتا ہے جس کی کہانی منفرد ہو۔کہانی وہی منفرد ہوتی ہے جو نئی بھی ہو اور پلاٹ کے لحاظ سے کَسی ہوئی بھی ہو۔ جس میں کچھ بھی اضافی نہ ہو، ہر چیز کسی مقصد کسی ضرورت کے تحت ہو۔ وہ فلسفے، نظریات جو کہانی کے بطن سے جنم لیتے ہیں اور ناول کی تہہ میں خفتہ رہتے ہیں، وہی پسند خاطر ہوتے ہیں ۔ جو فلسفے اور نظریات کہانی کے ساتھ شیر و شکرنہ ہوں اور چکنائی کی طرح ناول کی سطح پر تیرتے نظر آئیں ، ان سے جی اوب جاتا ہے۔ ایسا ناول صحیح معنی میں ناول بن ہی نہیں پاتا۔ رحمٰن عباس کے اس ناول کی کہانی میں ذرا بھی جان نہیں ہے۔ بہت ڈھیلی ڈھالی کہانی ہے جس میں بہت کچھ غیر ضروری موجود ہے اور بہت کچھ موجود ہی نہیں ہے جو اشد ضروری تھا۔ ناول نگار کو احساس ہی نہیں کہ ناول کے اندر جو کچھ بیان ہو گا، جس بھی نظریے کی حمایت کی جائے، وہ کہانی کے ذریعے کی جائے گی نہ کہ وردۃ السعادۃ یا عمر دراز مولا بخش کی کتابوں کا نام لے کرمصنف خود مائیک پکڑ کر کھڑا ہو جائیں۔ کہانی کا فن اس بات کا متقاضی ہے کہ صرف ان چیزوں کا ذکر کیا جائے جن کی کوئی معنویت ہو، وہ واقعات بیان کیے جائیں جو بعد میں اپنی معنویت ثابت کر سکیںلیکن اس ناول میں بارہ مصالحوں کے بعد کچھ ایسے مصالحوں کا چھڑکائو بھی کر دیا گیا ہے جو قطعاً غیر ضروری تھے۔ ایک چھوٹی سی مثال تو وہاں ہے جب اسرار ممبئی میں پہلی صبح فجر کی اذان سنتا ہے۔ ناول نگار نے وہاں مؤذن کا کچھ تعارف دیا ہے اورساتھ اس کے استاد کا تفصیلی تعارف بھی دیا ہے۔جس مؤذن کی ناول میں کوئی اہمیت نہیں، اس کا تذکرہ کیا معنی رکھتا ہے اور پھر اس کے استاد پر اس سے بھی زیادہ الفاظ کا ضیاع کس قدر نادانی ہے۔ اس چھوٹی مثال کے علاوہ رحمٰن عباس صاحب نے بہت زیادہ غیرضروری چیزیں شامل کی ہوئی ہیں۔ ممبا دیوی والے تمام حصے، عمر دراز مولا بخش کی کتاب سے اقتباسات، منٹو کے متعلق خواب، بمبئی کے دھماکوں ، فسادات کے متعلق تبصرے، شیطان کے مذہب کا بار بار تعارف، Fall Equinoxکا بار بارلاحاصل تذکرہ سبھی ناول کی اصل کہانی سے باہر ہیں اور ان کا ناول کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔ ممبا دیوی تو شاید ممبئی کے ماحول کو دکھانے کے لیے یا ممبا بُکس (publisher)کو خوش کرنے کے لیے لے آئی گئی ہے۔صاف لگتا ہے کہ یہ سب چیزیں ناول کے اندر بعد میں اضافہ کی گئی ہیں۔ کہانی کے ابتدائی ڈھانچے میں یہ چیزیں نہیں تھیں۔ ناول نگار نے انہیں باہر سے ٹھونسا ہے اور اس عمل سے ناول پر کیا گزری ہے، ناول نگار یہ نہیں دیکھ پائے۔ شیطان کے پیروکاروں والا گروہ جب پیش ہوتا ہے تو گروہ کی اپنی کاروائیوں پر کوئی خاص نظر نہیں کی گئی۔محض اتنا بتایا گیا کہ ایمل نے یوسف کو کیسے پھنسایا۔ آگے یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ایمل نے اتنی محنت کے بعد یوسف سے کیا حاصل کِیا۔ کیا محض یوسف کو گھر والوں سے الگ کرنا ہی اس کا ملجا و ماویٰ تھا؟ اوراگر اس کا کوئی گہرا مقصد تھا تو وہ ناول کے اندر مذکور کیوں نہیں کیا گیا اور اگر اس کا کوئی گہرا مقصد نہیں تھا تو پھر یوسف کا یہ سارا قصہ سنایا ہی کیوں گیا۔اتنی محنت سے اس کا قصہ تعمیر کرنے کے بعد، یوسف 1997سے 2004تک اس گروہ کے لیے کیا کر رہا ہے، وہ نہیں بتایا گیا حالانکہ وہ ناول کے عمل کو بہت دلچسپ بھی اور معنی خیز بھی بنا سکتا تھا۔انہوں نے محض روزنامہ ’امت ‘کی تجزیاتی رپورٹ سے اپنے ناول کا مواد اخذ کرنے پر ہی اکتفا کیا ہے جو یقینا ایک صحافیانہ تحریر ہو گی ۔جہاں یہ رپورٹ ختم ہو گئی، وہاں رحمٰن عباس کا تخیل اور علم دونوں خاموش ہو گئے اوروہیں اس گروہ کا تذکرہ بھی معدوم ہو گیا۔ رحمٰن عباس شیطان کے پجاریوں کے متعلق اپنے علم کو فن کی دنیا میں نہیں لا سکے۔
٭٭٭


ناول کے کردار ناول نگار کے فنی عجز کا اظہار ہیں۔اسرار میٹرک کے امتحان کے بعد ممبئی آیا ہے۔ عمرپندرہ سے اٹھارہ سال ہوگی لیکن کہیں بھی اس کی عمر اتنی کم ہونے کااحساس نہیں ہوا بلکہ یوں لگتا ہے کہ اس کی عمر تیس پینتیس سال ہے۔ اتنی گہری سوچ اور اتنے پختہ اور دیرپا تفکرات اس عمر کے لڑکے کو زیب نہیں دیتے۔کسی ایک جگہ بھی اس کی کم عمری کا احساس بھی نہیں دلایا گیا۔پھر اس کے طرزِ عمل میں جو تبدیلیاں آتی ہیں، ان کی کوئی خاص وجہ بھی نہیں بتائی جاتی۔ مثال کے طور پر اس نے پہلی بار جب شانتی سے سیکس نہیں کیا تو اس کی آخر کیا وجہ تھی۔ اور اگر اس کی کوئی خاص وجہ تھی تو پھر دوسری بار شانتی کے ساتھ رغبت سے سیکس کرنے میں کون سی خاص الخاص وجہ تھی جو پہلی خاص وجہ کو بھی کاٹ گئی۔


حنا کا کردار ایک عام لڑکی کا ہے۔ کہیں بھی پوری طرح ابھر کر سامنے نہیں آتی۔ بس ایک فرسٹ ائیر کی لڑکی کا غالب کے اشعار پڑھنا،اس کے نقطۂ نظر سے منٹو، بیدی،کرشن چندر، عصمت چغتائی وغیرہ کا تذکرہ کرنا؛ ص:۲۲۷(حالانکہ آگے چل کر وہ خود بتاتی ہے کہ اس نے اردو ادب پڑھا ہی نہیں) وغیرہ کے علاوہ یہ لڑکی عنفوانِ شباب میں قدم رکھنے والی کسی بھی عام لڑکی سے الگ نہیں جو اول اول جسمانی محبت سے جھجکتی ہے اور بالآخر کچھ دن کی محنت کے بعد اس کے پرزور اصرار پر سرِ تسلیم خم کرد یتی ہے۔”Password”چینل کے پروگرام میں بلند اقبال صاحب نے فرمایا ہے کہ اسرار اور حنا کا پس منظر بہت بڑا ہے۔ دونوں کی زندگی میں نا آسودگی ہے۔ دونوں کی زندگی میں خواہشات اور نفس کے متعلق بہت سے سوالات ہیں۔ حالانکہ نا آسودگی کا مرحلہ سیکس کی انتہائوں سے گزر جانے کے بعد جنم لیتا ہے۔ پندرہ سولہ سال کی عمر میں سیکس کے نام سے بھی نا آشنا لڑکی نا آسودگی کا شکار کیسے ہو سکتی ہے۔ وہ تو بس لاعلمی کا شکار ہے۔


اس لڑکی کا کردار ابھارنے کے لیے اس کے باپ کی کہانی سنائی گئی جو ناول کا جزو نہیں بن سکی اور آخر پر ادھوری رہتی ہے۔ یوسف کی عمر ابو راشد سے ملتے وقت ستاون سال(بمبئی ڈاک یارڈ کے بلاسٹ کے وقت اس کی عمر چار سال تھی اور یہ بلاسٹ 1944میں ہوا تھا، مطلب یوسف کی پیدائش 1940ء میں ہوئی اور یوسف ابو راشد سے بمبئی حملوں سے بارہ سال پہلے یعنی 1997میں ملا ہے) ہے اور ناول کے واقعات کے وقت چونسٹھ سال کا تھا لیکن ناول میں کہیں بھی اس کی اتنی عمر کا احساس نہیں دلایا گیا۔اس کی بیوی کی عمر بھی لگ بھگ اتنی ہونی چاہیے لیکن ان دونوں کی جنسی فتوحات سے وہ اتنی عمر کے لگتے نہیں۔


شانتی کا کردار ناول کے اندر جواز نہیں رکھتا اور ناول نگار سے صحیح پیش بھی نہیں کیا گیا۔ پہلی دفعہ جب وہ اسرار سے ملتی ہے تو اسرار اس سے سیکس نہیں کرتا۔ اس ’کمال ‘ کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔ دوسری دفعہ وہ جب ملتا ہے تو بہت چائو سے اس کا بدن چکھتا ہے۔ تب یہ نہیں واضح کیا گیا کہ اب کی بار رغبت کے کیا اسباب ہیں۔ تیسری دفعہ جب اسرار شانتی کے پاس جاتا ہے تو باہر اس کی’ سینئر ‘مادھوری سے ہماری ملاقات ہوتی ہے لیکن شانتی اور اسرار کی ملاقات بیانیے کا حصہ نہیں بنتی۔ یعنی یہ باور کرایا گیا کہ اب ان کا تعلق گاہک اور طوائف کاروزمرہ کا تعلق بن چکا ہے۔ مگر چوتھی اور آخری بار اس کا ذکر اسرار کے خواب میں آتا ہے،’’اسی گڑھے کے کچھ فاصلے پر شانتی کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک پلیٹ تھی جو فرش پر گر گئی تھی۔ فرش پر سندور اور ہلدی کم کم بکھرا ہوا تھا۔‘‘ اور ہمیں یہ نہیں سمجھ آتی کہ شانتی جو محض ایک جسم فروش کی حیثیت سے پیش ہوئی ہے، اس کی اتنی اہمیت کب سے ہو گئی کہ اسرار کے لاشعور میں وہ ایک متوقع بیوی کے روپ میں نظر آئے۔


ناول کے کرداروں کے متعلق دو بیانات بہت اہم ہیں،پہلا خود رحمٰن عباس کا ہے۔Passwordچینل پر پروگرام میں کہتے ہیں کہ اس ناول کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں مرکزی کردار اسرار سے بڑھ کر مزید کردار بھی ہیں۔ یہاں وہ یوسف اور داریوس کے کردار کیمثال دیتے ہیں۔جب کہ درحقیقت داریوس تو ناول کے اندر محض دو صفحے کے لیے آتا ہے اور وہ بھی ودی کی زبانی۔ اسے تو کردار کہا ہی نہیں جا سکتا۔ رہی بات یوسف کی تو یوسف کا کردار بظاہر بہت سی جگہ گھیرتا ہے، لیکن ہے وہ بھی پھسپھسا۔ سنسنی خیزی کے تحت بیانیے کو جنسی تلذذ پہنچانے کے سوایوسف کا ناول میں کوئی کام نہیں ہے۔ یوسف اتنے بڑے گروہ میں شامل ہو جاتا ہے۔سات سال کی مدت تک وہ ان کے ساتھ رہتا ہے اور اس دوران وہ کوئی کام کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ دوسرا بیان جناب نظام صدیقی صاحب کا ہے۔ یو ٹیوب پر ایک ویڈیومیں ان کابیان مشتہر ہے۔ فرماتے ہیں:’ان (اسرار اور حنا)کی موت کی وجہ سے اخلاقی مسئلہ بلندیوں کی معراج پر پہنچ جاتاہے۔ ‘ حالانکہ موت کی وجہ اخلاقی نہیں ، فرشتوں کی مہربانی ہے۔ اس سے تو ایک ہی حلسامنے آتا ہے کہ بارشوں پر قابو پا لینا چاہیے تا کہ سیلاب آنے کے اندیشے نہ رہیں اور اس طرح کے محبت کرنے والے جوڑوں کی موت نہ واقع ہو سکے۔پھر آگے نظام صاحب کہتے ہیں:’’ان کرداروں کے ساتھ المیہ پیش آتا ہے۔ اگر یہ کردار زندہ ہوتے تو جس طرح ان کی باطنی نشوونما ،ذہنی نشوونما، جذباتی نشوونما، روحانی نشوونما، ہو رہی تھی،ہو سکتا ہے کہ یہ آدمی کی پوری اختلاوٹ(قسم لے لیں جو یہ لفظ سننے میں سمجھ آیا ہو)ٹوٹل فلاورنگ آف دی سبجیکٹ کی طرف راغب ہو جاتے۔ (انگلش ترکیب کے استعمال پر انہیں داد سے خوب نوازنا چاہیے۔)ان کے اندر وہ تاکساری (اس لفظ پر بھی قسم ہے۔ )عناصر موجود تھے لیکن اس کو المیے میں بدل کے شدتِ تاثر بہت پیدا کر دی۔ کہ اس طرح کی سچویشن آگے نہ آئیں۔اس طرح کی چیزیں نہ آئیں۔یہ کردار جو ہیں ، ان کو پوری طرح کھلنے کھلانے کا موقع دیا جاتا تو یہ اپنی شخصیت کی پوری بالیدگی اور توانائی پر پہنچ جاتے۔ اور ایک نئی شخصیت کے طور پر رونما ہوتے۔‘‘ میراسوال یہ ہے کہ ان سب باتوں کا کیا تعلق ہے۔ کیا اسرار اور حنا کو کسی بھی دنیاوی طاقت نے روکا ہے؟ کیا یہ سب دکھا کر ہم آئندہ کسی قدرت آفت کو روک سکتے ہیں۔ کیا رحمٰن عباس صاحب کا ناول پڑھ کر سیلاب آنا بند ہوجائیںگے اور شرم کھا کر انسانوں کو ڈبونا چھوڑ دیں گے؟اگر واقعے کی وجہ انسانی ہے ہی نہیں تو پھر اس ساری لفاظی کا کیا مقصد ہے۔
٭٭٭


ناول نگار بے مایہ تنکے کو نیزے کے طورپر استعمال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔معمولی سی بات، عام سے واقعے سے وہ بڑے بڑے نتائج اخذ کرتے ہیں۔ واقعہ اپنی اصل میں اتنا غیر اہم ہے کہ شاید زندگی میں روز ایسے واقعات ہوتے ہوں لیکن اُس سے نتیجہ اتنا بڑا اخذ کرتے ہیں جو غیر معمولی واقعات کا ثمر ہونا چاہیے۔مثال کے طور پر اسرار گائوں گیااور وہاں محمد علی کے گھر سے عام انداز میں ہو کر آیا۔ محمد علی کی ماں کے متعلق نازیبا باتیں سنیں ، پھر مس جمیلہ سے حسبِ معمول جسم کی گرمی دور کر کے واپس آیا۔ یہاں رحمٰن عباس ایک باب ختم کر تے ہیں اور اگلا شروع کرتے ہیں اور سنسنی خیز قسم کے جملے لکھتے ہیں۔جن سے محسوس ہوتا ہے کہ اگر ناول نگار اس قدر بلند آہنگ الفاظ کاشوریدہ سر دریا بہانے پر مجبور ہو گیا ہے تو پہاڑ کا سینہ چیر کے رکھ دینے والا وقوعہ بھی ہوا ہو گا جب کہ ناول میں واقعہ کے نام پہ ہوا کچھ بھی نہیں۔ ایک روم میٹ کی ماں کے متعلق سنے ہوئے الفاظ آدمی کی نفسیات پر اتنا گہرا اثرکیسے بپا کر سکتے ہیں کہ اس قدر بھاری بھاری الفاظ لڑھکانے کی ضرورت پیش آ جائے۔


ناول میں شعوری طور پر سستے انداز میں سنسنی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ناول میں دو جگہ انہوں نے پیکٹ اور پارسل تبدیل کرنے کا منظر ایسی صراحت سے لکھا ہے کہ خیال آتا ہے ، کوئی کرائم سین چل رہا ہے۔ صفحہ نمبر۱۱۵ اور ۱۵۱ پر اس طرح کے مناظر ہیں کہ ’گاڈ فادر‘ یا’ فرنچ کنکشن‘ جیسے فلموں سے مستعار لیے لگتے ہیں، مثلاً:
’’ایمل نے دکاندار سے ملاقات کی ۔ آدھے گھنٹے بعد ایک اور کار آکر وہاں رکی۔ کالے چہرے والا ایک موٹا آدمی اس کار سے نمودارہوا ۔ ایمل اپنی کار سے باہر نکلی۔ اس کے ہاتھ میں ایک گلابی رنگ کی تھیلی تھی۔ موٹا آدمی اس کی طرف بڑھا۔ ایمل نے تھیلی موٹے آدمی کو دی۔ موٹا آدمی دوبارہ اپنی کار میں گیا۔ ایک چھوٹا سا پیکٹ جومراٹھی اخبارمیں لپٹا ہوا تھا، اس نے نکالا اور ایمل کے سپرد کیا۔‘‘ص:۱۵۱


اس منظرکے بعد ہمیں پورا یقین ہوجاتا ہے کہ اس پیکٹ میں کچھ گڑ بڑ ہے جس کا علم آگے جا کر ہو جائے گا لیکن رحمٰن عباس بھی اس مجمع باز کی طرح ہیں جو آخر تک وہ راز نہیں بتاتا جس کے تجسس میں اس نے مجمع وہاں اکٹھا کیا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ناول اسی طرح کے بیسیوں غیر ضروری بیانات سے بھرا ہوا ہے جو سنسنی تو پیدا کرتے ہیں لیکن سنسنی کو منطقی انجام تک نہیں پہنچاتے۔ان کی یہ سنسنی محض ہوائی فائر ہی ہوتی ہے۔ اس کا اندازہ ہمیں پورے ناول میں ہوتا رہتا ہے ، مثلاً جب وہ بمبئی کی سڑکوں کی سیر کرتے کرتے اس طرح کے جملے لکھ مارتے ہیں:


’’آج وہ جہاں کھڑے ہوکر تاج کو دیکھ رہے تھے، ٹھیک اسی مقام سے پانچ سال بعد ہندوستان اور دنیا کا میڈیاتاج ہوٹل پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی رپورٹنگ کرنے والا تھا۔‘‘ص:۴۷
’’بارہ سال بعد اسی کھڑکی سے اجمل ابو قصاب کے ساتھی ابو مسلم شعیب نے گیٹ وے آف انڈیا اور سیاہ سیال سمندر پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی تھی۔ ‘‘ ص:۱۴۶
اس طرح کے جملے لکھ کر رحمٰن عباس قاری کے دماغ میں سنسنی کا ایک عنصر پیدا کردیتے ہیں اور قاری اس بات کا منتظر رہتا ہے کہ اب یہ جملے آگے چل کر با معنی بنیں گے ۔ لیکن اس کی یہ توقع خام ہی رہتی ہے اور رحمٰن عباس پورے ناول میں ان واقعات کی طرف پلٹ کر نہیں دیتے۔پھر ان کا تذکرہ بھی جس تبصرہ جاتی انداز میں ہے، اس سے ان واقعات کی کوئی معنویت اخذ ہونے کی بجائے ان کے ساتھ ایک لاتعلقی کا سااحساس پیدا ہوتاہے۔جیسے کوئی ایسا آدمی تبصرہ کررہا ہوجس کا واقعے سے کوئی قلبی یا جذباتی تعلق نہ ہو۔اس سے ان واقعات کیمعنویت ماند پڑ جاتی ہے۔ سنسنی پیدا کرنے کا یہی جذبہ ناول میں جنسی واقعات کو بلا ضرورت دکھانے میں ہے۔ رحمٰن عباس جب بھی سمجھتے ہیں کہ قاری بور ہو رہا ہو گا، اسرار کو مِس جمیلہ سے ملوانے لے جاتے ہیں۔


جنس کے بار بار تذکرے اپنی جگہ لیکن مسئلہ یہ آڑے آتا ہے کہ ناول نگار کو جنس کے مناظر پیش کرنے کے لیے مناسب زبان ہی نہیں معلوم۔ ذرا درج ذیل جملے ملاحظہ کیجیے :
’’اس مہک نے یوسف کے خون کے بہائو کو تیز کیا اور اس کی روح ایک پرکیف ترنگ کے لیے آمادہ ہوئی۔ یوسف دوبارہ حوضِ بہشت میں تھا جہاں روح اتصالِ حقیقی کی تفہیم کے لیے متسکن ہوتی ہے۔‘‘ ص:۱۵۹۔
’’ایک نفس گیر حالت میں وہ مستغرق رہی۔ کچھ دیر بعد اس نے سوچا:’نفس کشی سے بہتر نفس سے لطف کشید کرنا ہے۔‘ دوسری طرف یوسف کی کایا کلپ زندگی اور ودی کی آبِ رواں سی بدمست زندگی سے بھی ایک نئی تعبیر وہ دریافت کر چکی تھی۔‘‘ص:۲۲۷
جس جنسی تجربے کے لیییہ جناتی زبان لانی پڑی وہ یقینا لذت کی بجائے اذیت کا سبب بنا ہو گا۔


ناول میں تاریخ کے زبردستی دخول کی وجہ سے جہاں ناول کا ازالۂ بکر ہوا ہے، وہاں رحمٰن عباس صاحب تاریخی حوالے سے غلطیاں بھی کر گئے۔ اسرار جب ممبئی اترا تو بیانیہ بتاتا ہے کہ اس سے پانچ سال بعد تاج ہوٹل پر دہشت گرد حملہ ہوا۔ اس حساب سے اسرار 2004ء میں ممبئی پہنچا۔ اسی سال 22ستمبر کو Fall Equinoxکے موقع پر بدھ والے دن اسرار اور حنا ملتے ہیں۔ 22ستمبر 2004ء کو کیلنڈر کے مطابق بدھ کا دن ہی بنتا ہے۔ اس کے بعد جب اگلے سال 25جولائی کا ذکر آتا ہے تو جمعہ کا دن بتایا گیا ہے جب کہ کیلنڈر کے مطابق اس تاریخ کو سوموار تھی۔ اس سے اگلے روز26جولائی2005ء کو ناول کے اندر ہفتہ کا دن ہے جب کہ اصل کیلنڈر پر اس تاریخ کو منگل کا دن بنتا ہے۔ ایک اور جگہ یوسف کے متعلق بتایا گیا کہ وہ تاج پر فائرنگ سے بارہ سال پہلے تاج پر پہنچا تھا۔ یعنی 1997ء کو ۔ اس سے تین سال بعد اس کی بیٹی میٹرک کرتی ے اور کالج پہنچتی ہے، یعنی2000ء کو۔ حنا جب اسرار سے ملی تو سالِ اول میں تھی۔اسرار 2004ء میں بمبئی آیا تھا تو پھریہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اسرار سے 2004ء میں مل سکے یا اسرار اس سے 2000ء میں مل سکے۔


رحمٰن عباس اتنے غیر محتاط ہیں کہ اپنا لکھا ہوا بھی بھول جاتے ہیں۔ اسرار اور حنا کی پہلی ملاقات 22ستمبر 2004ء کو ہوئی۔ وہاں انہوں نے لکھا:’’اس خوشبو کو نو ماہ تین ہفتے اور چند روز بعد وہ دوبارہ اس شدت سے محسوس کرنے والا تھا۔ اس روز حنا کو اپنے اس احساس میں شامل کرتے ہوئے وہ کہنے والا تھا۔’ تیرے بدن کی خوشبو بارش کی بوندوں کی خوشبو کی طرح ہے۔ ‘ وہ دن اسرار اور حنا کی زندگی کا آخری دن تھا۔(ص:129)پھر ان دونوں کی آخری ملاقات 26جولائی کو ہوئی۔ اس کو دس مہینے اور چار دن بنتے ہیں۔ اس کے علاوہکچھ باتیں ایسی ہیں جن کی وضاحت رحمٰن عباس ناول کے اندر نہیں کرتے۔ حنا حاجی علی کی درگاہ پر بدھ کے دن کیوں آئی تھی؟ اس نے کہا بھی تھا کہ اس کی کوئی وجہ ہے، لیکن پورے ناول میں وہ وجہ بتائی نہیں گئی۔ شاید Fall Equinoxکی وجہ سے رحمٰن عباس نے اس دن کو یادگار بنانے کے لیے حنا کو وہاں لا کھڑا کیا ورنہ حِنا نے تو ہفتے کو ہی آنا تھا۔
کہانی کا ایک بیزار کن پہلو بار بار ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد ی کے واقعات کا غیر ضروری تذکرہ ہے۔ یہ سستی قسم کی سنسنی پھیلانے کی ایک ناکام کوشش کے سوا کچھ بھی نہیں ورنہ ایک پریم کہانی میں اس طرح کے جملے اور ان کا تذکرہ کہانی کے نازک مزاج کو نقصان پہنچاتے ہیں۔بالکل ایسے لگتا ہے جیسے فارمولا فلموں میں عوام کو محظوظ کرنے کے لیے کچھ ایکشن مناظر بھی ڈال دیے جاتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے لو اسٹوری میں اجمل قصاب ،سیریل بلاسٹ ،ایودھیا اوربابری مسجد سب کو گھسیٹا ہوا ہے ورنہ ان چیزوں کا کہانی سے براہِ راست تو کیا، دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے ناول کے اصل پہلو کو خراب کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔
٭٭٭


ناول نگار بیانیے میںبہت ٹھوکر کھاتے ہیں۔ جملے کے جملے غیر متعلق لکھتے چلے جاتے ہیں۔ کئی جگہ ایسے لکھا ہے کہ بیانیہ اسرار کے نقطۂ نظر سے چل رہا ہے اور ساتھ ہی حنا کی اندرونی کیفیات بتانی شروع کر دیں۔ خواب کے بیانیے کا انہیں ذرا سلیقہ نہیں ۔ ناول میں چھ سات جگہ خواب کی ٹکنیک استعمال ہوئی ہے۔ مگر ہر جگہ بہت ہی بھونڈے انداز میں برتی گئی ہے۔ ایک تو ان کے کردار بیٹھے بٹھائے فلسفیانہ سے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ ٹرین پر بیٹھے ، صوفے پر نیم دراز، سب دوستوں کی موجودگی میں لیٹے ہوئے ان کے کردار خواب دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ دوسرے انہیں عام واقعہ کی زبان اور خواب کی زبان کے فرق کا ذرا بھی احساس نہیں۔ ہر جگہ ایک ہی واضح اور سپاٹ زبان ملتی ہے۔ پھر یہ خواب نہ تو ناول کی معنویت میں اضافہ کرتے ہیں ، نہ ہی ناول کے لیے ناگزیر ہیں، لگتا ہے انہوں نے محض شوقیہ یہ خواب ناول کے اندر میں ڈال دیے ہیں۔بیانیے کی مندرجہ بالا خامی ایک خواب میں یوں اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔ حنا خواب دیکھ رہی ہے۔آگے یوں بیان ہے:


’’وہ بھول گئی تھی کہ اسرار اس کا ساتھی ہے۔ اس مقام کی یہ خوبی تھی کہ یہاں شئے جب سامنے ظاہر ہوتی ہے ، تبھی اس سے متعلق یادداشت ذہن میں اجاگر ہوتی ہے ورنہ ہماری یادداشت فراموشی میں بدل جاتی ہے۔ یہاں ہر شے کی اپنی یادداشت تھی لیکن یادداشت اور شئے ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم نہیں تھے۔اس نے دیکھا اسرار بھی برہنہ ہے۔ حنا کو دیکھتے ہی اسرار کو بھی یاد آیا کہ یہ تو اس کی ساتھی ہے جو کئی دنوں سے اس کی نظروں سے غائب تھی۔‘‘ص:۳۰۰


خواب حنا کا ہے ۔ پہلے(غالباً) ہمہ دان راوی صاحب نے مداخلت کی پھر بھی کام نہیں چلا تو آخر پر اسرار کے نقطۂ نظر سے بیانیہ آگے بڑھا اور اس پورے منظر میں کہیں بھی یہ نظر نہیں آتا کہ خواب ہے۔ سوچی سمجھی ملاقات لگ رہی ہے۔ صفحہ ۲۶۱پر اسرار کے تصور میں حنا آئی ہے اور اس تصور میں حنا کی دلی کیفیات تفصیل سے بتائی گئی ہیں۔ بھلا تصور اسرار کا ہے تو پھر وہ حنا کی کیفیاتِ قلبی سے کیسے واقف ہو سکتا ہے۔ ایک اور جگہ ودی اپنا پہلا جنسی تجربہ سنا رہی ہے اور وہاں بیانیہ بدل کر یوں آگے بڑھتا ہے:


’’ودی نے اونچی آواز میں داریوس کو بتایا کہ یہاں کسی بھی وقت کہرہ چھا تا ہے اور بارش ہوجاتی ہے۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ اس کے باوجود داریوس کا دل دھڑک رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے گہرا دھواں تھا اور اس دھویں میں جھرنے کا پانی اس کے ڈر میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔عین اسی وقت اسے ودی کی بتائی ہوئی وہ بات یاد آئی کہ یہاں اژدھے ہوا کرتے تھے۔ اب اس کی آنکھوں کے سامنے اژدھے تھے جو اسے چاٹ رہے تھے۔‘‘ص:۲۲۰
اسرار اور حنا کی پہلی ملاقات حنا کے نقطۂ نظر سے جہاں لکھی گئی ہے، وہاں ناول نگار نے یہ جملے بھی تحریر فرمائے ہیں:


’’حنا کی نظریں اسرار کی آنکھوں سے ٹکرائیں۔ اسرار کی آنکھوں کا رنگ اسے مبہوت کر گیا۔ اسرار کی آنکھوں کا رنگ اس کے پردادا کی آنکھوں سے مشابہت رکھتا تھا۔ اس کے پردادا کے پردادا خراسان کے جنوب میں ’دشتِ ترمذی‘ میں حکیم تھے……‘‘ص:۲۳۲


حیرت ہے کہ حنا کو اسرار کے پردادا کی آنکھوں کا رنگ اور پردادا کے پردادا کا پیشہ کیسے معلوم ہوا۔ پردادا کو تو خود اسرار نے بھی نہیں دیکھا ہوا۔ اور اگر مصنف ہی بتا رہے ہیں تو پھر آخر ان معلومات سے وہ ہمیں کیا بتانا چاہ رہے تھے؟ایک اورمثال اُس جگہ ہے جہاں فلیش بیک میں شانتی کی کہانی بتائی جا رہی ہے۔ اس کی سہیلیاں اسے اپنے جنسی تجربات بتاتی ہیں اور رحمٰن عباس صاحب اس فلیش بیک میں اسرار کا تذکرہ لے آتے ہیں:
’’عمرمیں تین چار سال بڑی لڑکیوں نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا تھا۔ ان میں سے بیشتر باتیں وہی تھیں جو جمیلہ مِس نے دسویںجماعت کی سائنس کی کتاب سے تین سال پہلے اسرار کو سمجھائی تھیں۔‘‘ص:۹۷


حالانکہ شانتی کے جس دور کی بات ہو رہی ہے، اس وقت اسرار ابھی دودھ پیتا بچہ ہو گا۔
بیانیے کی یہ تبدیلی اگر کوئی اچھا تاثر دے تب بھی بات ہے۔ یہ صرف اسے خراب کرتی ہے اور ناول نگار کہیں بھی اس خرابی کا احساس نہیں کرپاتے۔اس کے متوازی ناول نگار خواب کے بیان میں بھی جا بجا ٹھوکریں کھاتے ہیں۔جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ ان کا کردار کہیں بھی خواب دیکھ سکتا ہے۔ اس خواب کو دکھانے میں وہ اتنی مشکل توجیہ بناتے ہیں کہ آدمی کو خواب دیکھنے والے کردار کی بے بسی پہ ترس آنے لگتا ہے۔ ایک جگہ حنا صوفے پر لیٹی ہے اور اس کی آنکھ لگ گئی ہے۔ اب ناول نگار اسے خواب اس طرح دکھاتے ہیں:


’’بہت دیرتک اس کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں تھا۔ اس کا دماغ پرسکون تھا اور اس کے ذہن میں ایک دبیز اندھیرا چھایا تھا۔ اس اندھیرے میں نیند کا خمار پنہاں ہوتا ہے جو روح کے بوجھ کو بڑی آہستگی سے اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ جب روح لطافت سے معمور ہوتی ہے تب تحت الشعور کروٹ لیتا ہے۔بالکل ایسا ہی ہوا۔ جب اس کا تحت الشعور بیدار ہوا تو اس نے بڑا عجیب و غریب منظر دیکھا۔‘‘ص:۲۴۵
دوسری جگہ اسرار چلتی ٹرین میں سو گیا ہے ۔ یہاں خواب ایسے دکھایا گیا ہے:


’’ایک گھنٹہ وہ نیند کے گہرے دھویں میں اپنے جسمانی اور ذہنی وجود سے کٹ کر سوتا رہا۔ گہری نیند کے بعد رفتہ رفتہ اس کے تحت الشعور میں کچھ منطقے اپنے کیمیائی مادوں کے سبب از خود متحرک ہوئے ۔ اس تحرک میں سرمئی ، جامنی اور نیم گلابی رنگ ذات کے خوابیدہ دریچوں کی شکلوں کے اظہار کے لیے وسیلے تلاش کرنے لگے۔ ذات کی گہرائی میں مدفون روح کے خلفشار اور روح کے تجربات کی بے شمار صورتیں ہوتی ہیں، جن کی توضیح ،تفہیم اور تفسیر پر مکمل دسترس نفسیات کے ماہر خلاق اور کہنہ مشق افراد کو ہوتی ہے۔ ذات بار بار ان صورتوں کو خوابوں میں بدلنے کے عمل میں ملوث ہوتی ہے کیوں کہ ذات کی بہت ساری خلش اور روح کی اداسی کا سبب ان صورتوں کی معنی آفرینی سے محرومی ہوتی ہے۔ اسرار نے ایک خواب دیکھا……‘‘ص:۱۰۱


فرائیڈ کے لیے بھی یہ انکشاف بدرجہ غایت حیران کن ہو گا کہ خواب تحت الشعور کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔تحت الشعور کو اتنا رگڑا دینے کے بعد جو خواب دکھایا گیا وہ بھی اپنی جگہ ایک بہت بڑا رگڑا ہے۔ اتنی ترتیب سے خواب دیکھا گیا ہے گویا فرصت میں بیٹھ کے ترتیب وار کہانی لکھی گئی ہے۔ صفحہ نمبر ۳۰۰پر خواب کے ایک حصے میں ناول نگار آدم و حوا کی اسطورہ کو علامتی شکل میں خود بیان کرنے لگے ہیں۔ اس سب کی وجہ جہاں تک میں سمجھا ہوں، شاید ناول نگار کو کسی نے بتایا ہو، یا انہوں نے کہیں سے پڑھا ہو کہ ناول کے اندر کچھ منظر خواب کے دکھائے جائیں تو اچھا تاثر پڑتا ہے اور وہ یہ سوچے بغیر کہ انہیں خواب کو قرطاس پہ اتارنا آتا بھی ہے یا نہیں،یہ دیکھے بغیر کہ موقع خواب کے لیے مناسب ہے بھی یا نہیں، ہر چند لمحوں کے بعد بلاضرورت خواب پہ خواب پھینکتے چلے جاتے ہیں۔
رحمٰن عباس اکثر تو سیدھا اور صاف جملہ لکھنے میں بھی ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر درج ذیل جملہ ملاحظہ کیجیے:


’’یہ ایک جان لیوا سوال تھا۔ یہ سوال اس کے دل میں ایسے ابھرتا جیسے کوئی شارک سمندر کی سطح پر ابھرتی ہے۔سوال کے بوجھ تلے وہ اپنی روح کو ڈوبتے ہوئے محسوس کرتا۔‘‘ص:۱۱۷۔(سوال شارک کی طرح ابھر رہا ہے تو اس کے بوجھ تلے دبنے کا تلازمہ کہاں سے آیا؟)
پھر ان کے کچھ جملے ایسے سطحی ہوتے ہیں جیسے کسی درجہ دوم کے صحافی نے درج فرمائے ہوں۔یہ جملے انہوں نے اپنی طرف سے بہت اہم مواقع پر نثر کے جوہر دکھانے کے لیے لکھے ہیں:
۱۔ کشتی میں بیٹھ کر رتنا گیری ساحل پر صدیوں پہلے تعمیر کردہ قلعے کو دیکھنا مس جمیلہ کے لیے بیش قیمت تجربہ تھا۔ ص:۵۱
۲۔ ان کے علاوہ بھورے رنگ کے بے شمار پرندے تھے، جن کے پھدکنے اور شور مچانے سے ماحول میں ایک دل پذیری پیدا ہو گئی تھی۔
ص:۵۳
۳۔ممبا دیوی نے آگ،خون اور مذہبی عصبیت کا ننگا ناچ دیکھا تھا۔ص:۸۷
۴۔ اس احساس نے اس کے جذبات کی رو کو، شعور کی رو میں بدل دیا۔ص:۹۶
۵۔ اس بوسے میں ایک دردِ مشترک کا اعتراف تھا۔ یہ درد ایک وجودی خلش پیدا کرتا تھا۔ ص:۱۳۱
۶۔خانۂ دل میں نادیدہ زخم رِستا رہے تو روح محزون ہو جاتی ہے۔ص: ۱۳۱
۷۔بھولنا سکون دیتا ہے۔ معاف کرنے سے شانتی ملتی ہے۔ ص:۱۳۱۔(پورا جملہ ہی ایک شاہکار جملہ ہے اور اتنا انوکھا ہے کہ کسی کو سوجھ ہی نہیں سکتا۔)
۸۔ زندگی موت سے زیادہ پر کشش ہے۔ ص:۲۲۷(یہ بھی ندرت کی انتہا ہے۔)
کیا ہی خوبصورت جملے ہیں، ان کی معنویت کتنی گہری ہے۔یوں لگتا ہے کہ مصنف نے کائنات، خدا اور انسان کے رشتے کی تفہیم میں نئے زاویے پیدا کرد یے ہیں۔اسی طرح ناول میں کچھ سوال بھی اٹھائے گئے ہیں۔ ایسے سوالات جن سے کائنات کا نظام تہہ و بالا ہونے لگا ہے۔ ان سوالوں کی گہرائی ناپنا بھی بہت مشکل ہے۔پوری ایک مہم تشکیل دی جائے تو شاید کوئی امکان نظر آئے۔
۱۔مزہ، مذی میں کیوں بدلتا ہے؟ص:۱۰۶
۲۔آدمی بے وفائی کیوں کرتا ہے؟ص:۱۱۶
٭٭٭


آخر میں ناول کے ابواب کے عنوانات پر بات ہو جائے۔یہ رحمٰن عباس صاحب نے بانی کی غزل کے مصرعے اٹھا کر ترتیب دیے ہیں لیکن پانچویں باب کے سوا کسی کابھی عنوان ، اس باب سے تعلق نہیں رکھتا۔ بس ایسے لگتا ہے کہ بھرتی کے لیے ابواب کے عنوانات رکھ دیے ہیں۔اگر اچھے اور مناسب عنوان نہیں رکھے جارہے تھے، تو عنوان کے بغیر بھی باب بنائے جاسکتے تھے ، کیا ضروری تھا عنوان رکھنا۔ اور اگر رکھنے ہی تھے تو کیا ضروری تھا بانی کی اسی غزل سے عنوان رکھنا، بے شک عنوان باب کے مطابق ہو یا نہ ہو۔ اس لاپرواہی کی صورت میں ناول ادھر سے بھی کمزور ہے۔ جب عنوان ہی اپنے باب کے مطابق نہیں تو ناول نگار کی مہارت پر یہیں سوال اٹھ جاتا ہے۔


کہانی بہت ہی کمزور اور روایتی ۔ پلاٹ اتنا ڈھیلا کہ سوڈیڑھ سو صفحات حذف بھی کر دیے جائیں تو ناول پہ فرق نہ پڑے۔ کردار نگاری فن کے درجے سے بہت پیچھے۔ تخیل بہت ہی پست۔زبان بھی گھِسی ہوئی اور بعض اوقات فصاحت اور بلاغت کے درجے سے گری ہوئی۔ واضح طور پر یہ ایک خراب ناول ہے جس پر لکھتے وقت ذرا بھی محنت نہیں کی گئی۔

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

کمنٹ کریں