روٹی پر اشعار

روٹی, روٹی پر اشعار

جلتا ہے کہ خورشید کی اک روٹی ہو تیار
لے شام سے تا صبح تنور شب مہتاب
ولی اللہ محب

اسے کھلونوں سے بڑھ کر ہے فکر روٹی کی
ہمارے دور کا بچہ جنم سے بوڑھا ہے
عبدالصمد تپشؔ

بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹی چٹنی جیسی ماں
یاد آتی ہے! چوکا باسن چمٹا پھکنی جیسی ماں
ندا فاضلی

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے
سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو
نظیر باقری

میں اک مزدور ہوں روٹی کی خاطر بوجھ اٹھاتا ہوں
مری قسمت ہے بار حکمرانی پشت پر رکھنا
احتشام الحق صدیقی

بیچ سڑک اک لاش پڑی تھی اور یہ لکھا تھا
بھوک میں زہریلی روٹی بھی میٹھی لگتی ہے
بیکل اتساہی

چھان مارے ھیں فلسفے سارے
دال روٹی ہی سب پہ بھاری ہے

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں